No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
آج پھر اس کے روپ کو سجا سنوار کر اسے شہزادی کی طرح تیار کیا گیا تھا مگر اب کی بار کسی نامحرم کے لئے نہیں بلکہ اسے اپنے محرم کے لیے سجایا گیا تھا،، بیوٹیشن نے جب نوف کو مکمل تیار کردیا تو گھونگھٹ ڈالنے سے پہلے وہ خاموشی سے اپنے سجے ہوئے روپ کو آئینے میں دیکھنے لگی۔۔۔ اتنی محنت اور مہارت سے میک اپ کرنے کے بعد بیوٹیشن کو سختی سے تاکید کی گئی تھی کہ وہ برائیٹ کا چہرہ مکمل طور پر گھونگھٹ کی نظر کردے اور یہ تاکید کرنے والا کوئی دوسرا نہیں بلکہ افراہیم تھا جو آج قانونی اور شرعی طور پر اس کا حق دار بن چکا تھا
چند دن پہلے جب اسے روحیل کے لئے تیار کیا جارہا تھا تب نوف کو اپنا آپ کسی لاش کی مانند محسوس ہورہا تھا،، اب کی بار اس کے کیا محسوسات تھے وہ اپنی فیلیگز سے یکسر انجان تھی بس وہ خاموش بیٹھی ہوئی اپنے آس پاس لوگوں کی فرمائشیں سن رہی تھی جو اس کو دیکھنے کے طلبگار تھے مگر نازنین خوبصورتی سے ہر ایک کو ٹال رہی تھی،، جب نکاح نامہ اس کے سامنے رکھا گیا تب نکاح نامے پر سائن کرتے ہوئے وہ رخشی، قیوم اور ازلان کو یاد کر کے بےتحاشہ روئی تھی اپنی زندگی کی ڈور کسی دوسرے کے ہاتھوں میں دیتے ہوئے اس کی سسکیاں نکلنے لگی تھی لیکن یہ فیصلہ اس نے بھوکے بھیڑیوں سے اپنی عزت محفوظ رکھنے کے لئے کیا تھا۔۔۔
نوف کے بہت زیادہ رونے پر نازنین اسے افراہیم کے کمرے میں بٹھاکر جاچکی تھی۔۔۔ اب اس کو اپنے گھونگھٹ سے الجھن ہونے لگی تھی اس کا پورا وجود بیٹھے بیٹھے دکھنے لگا تھا اس لئے وہ دوپٹے کو اپنے چہرے سے اوپر کرکے بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگا کر آرام دہ انداز میں بیٹھ گئی۔۔۔ نہ جانے کب اس کی آنکھ لگ گئی نوف کو احساس بھی نہیں ہوا۔۔۔
جب اسے اپنے ہاتھ پر کسی مردانہ ہاتھ کا لمس محسوس ہوا تو اچانک نوف کی آنکھ کھلی افراہیم کو اپنے بےحد قریب بیٹھا دیکھ کر وہ جلدی سے اٹھ بیٹھی،، افراہیم مہبوت سا، پلکیں جھپکائے بنا یک ٹک اسے دیکھے جارہا تھا جس کی وجہ سے نوف مزید سمٹ کر بیٹھ گئی۔۔۔ افراہیم کی نظروں کی تپش اپنے چہرے پر محسوس کرکے نوف نے دوبارہ اپنے چہرے کو دوپٹے سے چھپانا چاہا تو افراہیم نے نوف کو ایسا کرنے سے روک دیا
“مجھ سے پردہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے آج کے دن تمہیں میرے لیے ہی سجایا گیا ہے اور میں مکمل حق رکھتا ہوں تمہارے اس روپ کو دیکھنے کا”
وہ نوف کے دونوں ہاتھ پکڑ دوپٹے سے ہٹا کر نیچے کرتا ہوا بولا۔۔۔ افراہیم کی نظریں ابھی بھی اس کے چہرے کا مکمل طواف کررہی تھی جس کی وجہ سے نوف کو اپنی پلکیں اٹھانا مشکل مرحلہ لگنے لگا۔۔۔ افراہیم اس کی تھوڑی کے نیچے انگلی رکھ کر اس کا چہرہ اوپر کرتا ہوا دوبارہ بولا
“میرا دل گواہی دے رہا ہے کہ تم بہت خوبصورت ہو،، اور آج تمہارے چہرے سے نظریں ہٹانا مشکل مرحلہ لگ رہا ہے، میں وہ لفظ تلاش نہیں کر پارہا جس سے تمہارے اس روپ کی تعریف کرسکوں،، میری طرف سے یہ محبت کا خراج قبول کرو”
جذبوں سے گوندھی ہوئی افراہیم کی آواز نوف کے کانوں سے ٹکرائی جس کے بعد افراہیم نے نوف کی پیشانی پر اپنے ہونٹ رکھے تو وہ اپنی پوری جان سے لرز اٹھی۔۔۔ احتجاجا نوف نے افراہیم کے سینے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے ہٹانا چاہا مگر افراہیم اس کے احتجاج کی پرواہ کیے بغیر نوف کی کمر پر اپنے دونوں بازوؤں کو لپیٹ کر نوف کے اوپر جھکتا ہوا اسے بیڈ پر لٹا چکا تھا
“افرا۔۔۔۔
نوف افراہیم کی حرکت پر ڈرتی ہوئی اسے پکرانے لگی مگر اس سے پہلے افراہیم اس کے ہونٹوں پر اپنی انگلی رکھ کر نوف کو چپ کروا چکا تھا
“تم چند گھنٹے پہلے اپنے جملہ حقوق میرے نام کرچکی ہوں، اب تمہاری نہیں چلے گی اور آج تو بالکل بھی نہیں”
افراہیم نے نوف کو باور کرواتے ہوئے اس کے گلے سے نگینوں سے جڑا نیکلیس اتار کر سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا ساتھ ہی وہ نوف کی گردن پر جھ چکا تھا
افراہیم کے ہونٹوں کا محبت کا بھرا لمس اپنی گردن پر جگہ جگہ محسوس کرکے نوف کا دل بری طرح کانپنے لگا،، اس کی کمر پر لپٹا ہوا افراہیم کا ہاتھ اب نوف کے پیٹ پر سراہیت کررہا تھا۔۔۔ آہستہ سے نوف کے منہ سے سسکی نکلی تو،، افراہیم اٹھ کر نوف کا چہرہ دیکھنے لگا۔۔۔ نوف افراہیم کو دیکھ کر گھبراہٹ کے مارے نفی میں سر ہلانے لگی
“یمنہ افراہیم آج افراہیم عباد تم پر اپنا رنگ چڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے مطلب محبت کا رنگ۔۔۔ اور تم بالکل بھی اعتراض نہیں کرو گی”
افراہیم کا لہجہ نرم ہونے کے باوجود اس کا انداز ایسا تھا نوف اسے کچھ بھی بول نہیں پائی
افراہیم اس کی تھوڑی پر اپنے ہونٹ رکھتا ہوا سر پر ٹکا ہوا نوف کا دوپٹہ اتار چکا تھا۔۔۔۔ نوف بےبسی کے عالم میں اپنی آنکھیں بند کرچکی تھی وہی افراہیم مدہوشی کے عالم میں نوف کے ہونٹوں پر اپنا انگوٹھا رگڑ کر اس کی لپ اسٹک صاف کرتا ہوا، باری باری اس کے دونوں گالوں کو چومنے لگا تب نوف کو اپنے دونوں گال جلتے ہوئے محسوس ہوئے
دس سال پہلے یہ مغرور شخص بہت بےدردی سے اسکے انہی گالوں پر جابجا تپھڑ مار کر انہیں سرخ کرچکا تھا۔۔۔ تب نوف نے اس شخص کی بےحسی کی انتہا دیکھی تھی اور آج یہی شخص اپنی دیوانگی کی انتہا دکھا رہا تھا تو نوف سے برداشت کرنا مشکل ہوگیا
“افراہیم ہٹ جائے میں کہتی ہوں پیچھے ہٹ جاۓ”
نوف تڑپ کر تیز آواز میں بولی تو افراہیم کو پیچھے ہٹنا پڑا۔۔۔ ایک سحر کی سی کیفیت جو افراہیم کے اوپر طاری تھی وہ نوف کے آنسو دیکھ کر کہیں غائب ہوچکی تھی۔۔۔ نوف اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی اٹھ کر بیڈ پر بیٹھی تو افراہیم بیڈ سے اٹھتا ہوا بولا
“واٹ ربش،، تم رو کیوں رہی ہو،،، ظاہر کیا کرنا چاہتی ہو تم مجھ پر۔۔۔۔ شادی ہوئی ہے ناں آج ہماری یا پھر میں یوں ہی بناء شادی کے زبردستی تمہارے ساتھ۔۔۔۔
افراہیم کو اس وقت نوف کا رونا انتہائی برا لگا تھا وہ بگڑے ہوئے موڈ کے ساتھ نوف سے پوچھنے لگا
“اور اس شادی سے پہلے ایک شرط رکھی تھی میں نے،،، آپ وہ کیوں بھول رہے ہیں”
نوف بولتی ہوئی خود بھی بیڈ سے اٹھ کر گھڑی ہوگئی اس کی بات سن کر افراہیم کو ہنسی آنے لگی
“تم کیا بچی ہو جو ایسی شرط رکھ کر یہ توقع کررہی ہو کہ میں اس فضول سی شرط کو سیریس لےکر تمہارے پاس نہیں آؤں گا،، شادی کی ہے میں نے تم سے کوئی مذاق نہیں ہوتا ہے کسی سے رشتہ جوڑنا،، اب آگے سے میرے سامنے کوئی بھی بےوقوفی والی بات مت کرنا،، میں آج کا دن بلکل بھی برباد نہیں کرنا چاہتا تمہاری کسی بےوقوفی کی باتوں کی وجہ سے”
افراہیم نے بولتے ہوئے دوبارہ نوف کی جانب اپنے قدم بڑھائے تو نوف تیزی سے پیچھے ہوئی
“وہی رک جائیں افراہیم اگر آپ میرے قریب آئے تو اچھا نہیں ہوگا آپ سے شادی میں نے صرف آنٹی کی وجہ سے کی ہے اور ایک محفوظ پناہ گاہ کی وجہ سے۔۔۔ اگر آپ میرے لئے اس گھر کو محفوظ نہیں رہنے دیں گے تو پھر میرے یہاں رہنے کا کوئی جواز نہیں بنتا اگر آپ نے میرے ساتھ زبردستی کی تھی تو میں اسی وقت یہاں سے چلی جاؤ گی۔۔۔ اگر آپ کو اپنی ویڈینگ نائٹ انجوائے کرنا ہے تو میری طرف سے اجازت ہے آپ شوق سے دوسری شادی کرسکتے ہیں”
نوف افراہیم کو بولتی ہوئی رکی نہیں تھی بلکہ کمرے سے باہر نکل گئی یہ دیکھے بغیر کہ افراہیم کو اس کی بات سن کر کتنا غصہ آیا تھا
ڈائیننگ ہال مکمل طور پر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا مہمان کافی دیر پہلے جاچکے تھے۔۔۔ نازنین اور بیلا اپنے اپنے کمروں میں موجود تھیں،، نوف افراہیم کے کمرے سے نکل کر اپنے کمرے میں جانے کا ارادہ کررہی تھی تب اچانک ہی گپ اندھیرا چھا گیا گھر کی ساری لائٹس بند ہونے کی وجہ سے اسے کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا لیکن کوریڈور میں موجود لمبے چوڑے ہیولے کو دیکھ کر نوف ڈر گئی۔۔۔ افراہیم کا قد بھی اچھا نکلتا ہوا تھا مگر یہ افراہیم ہرگز نہیں تھا اس سے پہلے نوف کچھ بولتی وہ آگے بڑھ کر جلدی سے نوف کا منہ بند کرچکا تھا۔۔۔ ازلان اس وقت اندھیرے کی وجہ سے اس لڑکی کو پہچان نہیں پایا تھا مگر اسے اتنا اندازہ تھا کہ یہ بیلا ہرگز نہیں ہے۔۔۔ اس سے پہلے وہ لڑکی شور مچاتی ازلان اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اس کا منہ بند کرچکا تھا،، اس کے مچلتے ہوۓ وجود کو بےہوش کرنا اس لیے ضروری ہوگیا تھا کہ اچانک ایک کمرے کا دروازہ کھلا
“یمنہ یہ کیا حرکت ہے فورا روم میں واپس آؤ”
افراہیم کی آواز سن کر ازلان اس یمنہ نامی لڑکی کے بےہوش وجود کو اٹھائیں دائیں جانب کمرے میں چلا آیا، افراہیم کے قدموں کی چاپ اسے اسی کمرے میں آنے کا پتہ دے رہی تھی ازلان نے بےہوش وجود کو جلدی سے بیڈ پر ڈال کر،، افراہیم کے دروازہ کھولنے سے پہلے خود بیڈ کے نیچے چھپ گیا تب تک لائٹ بھی آچکی تھی جو اس کے کہنے پر چند سیکنڈ کے لیے بند کی تھی لیکن بےحد غلط ٹائم پر
“اس طرح اگر تمہیں مما نے یا پھر بیلا نے اس کمرے میں دیکھا تو وہ دونوں کیا سوچیں گے،، یہ بچگانہ حرکتیں بند کرو اور واپس اپنے کمرے میں چلو۔۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں تم سو نہیں رہی ہو بلکہ جاگ رہی ہو”
بیڈ کے نیچے چھپے ہوئے ازلان کو افراہیم کی آواز سنائی دی ساتھ ہی وہ بولتا ہوا بیڈ کی جانب بڑھ رہا تھا۔۔۔ افراہیم کی آواز ازلان پہلے ہی پہچان چکا تھا اور یمنہ نامی یہ لڑکی یقینا اس کی بیوی تھی جس سے آج افراہیم کی شادی ہوئی تھی آج دوپہر والی بیلا کی بات ازلان کو یاد آئی
“یمنہ سنا نہیں تم نے، میں کیا بکواس کررہا ہو اٹھو فورا یا پھر میں تمہیں اٹھاکر واپس کمرے میں لے جاؤ”
افراہیم کو اس وقت اپنی بیوی کی ہٹ دھرمی پر بے تحاشا غصہ آرہا تھا مگر وہ ضبط کرتا ہوا بولا،، وہ افراہیم کو دیکھ کر سوتی ہوئی بن گئی تھی مگر افراہیم جانتا تھا کہ وہ جاگی ہوئی ہے جبھی افراہیم نے اس کو خود اٹھانے کی دھمکی دی تھی۔۔۔ اور چند سیکنڈ ہی افراہیم نے اس کے اٹھنے کا انتظار کیا تھا اور پھر خود اسے اپنے بازوؤں میں اٹھا کر اپنے کمرے میں لے جاچکا تھا
ازلان لمبی سانس خارج کرتا ہوا بیڈ کے نیچے سے باہر نکلا، آج کا دن اس کے لئے ذرا اچھا ثابت نہیں ہوا تھا کیونکہ چند گھنٹے پہلے وہ کس کرب سے گزرا تھا یہ وہی جانتا تھا۔۔ شام میں جب وہ اپنے اپارٹمنٹ میں موجود اپنے لیپ ٹاپ پر ورک کررہا تھا تب اس کے پاس مبشر کا فون آیا۔۔۔ کمشنر امان اللہ کے کہنے پر مبشر نے نوف کو ڈھونڈنے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔۔۔ بقول مبشر کے آج ایک انیس سال کی لڑکی کی لاوارث لاش ملی ہے جس کا آدھا چہرہ بری طرح جھلسا ہوا تھا کیوکہ اس لڑکی کے نقش کافی حد تک نوف کی تصویر سے ملتے ہیں اسلیے شناخت کے لیے ازلان کو آنے کے لیے کہا گیا تھا
اس خبر کے سنتے ہی ازلان کو لگا اس کے ادھے جسم سے جان نکل چکی ہے،،، نوف کو لےکر وہ ایسی خبر کی توقع تو کر ہی نہیں سکتا تھا،، نہ ہی اپنی بہن کے لیے ایسا برا سوچ سکتا تھا۔۔۔ اسے معلوم نہیں کیسے وہ کار ڈرائیو کرتا ہوا سرد خانے تک پہنچا تھا
اس کے لیے کتنا مشکل عمل تھا،، اس لڑکی کی مسخ شدہ لاش کو دیکھنا۔۔۔ مضبوط دل رکھنے کے باوجود اس وقت ازلان کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔۔۔ مبشر نے اس کو حوصلہ دیا تو وہ خدا کا شکر ادا کرکے، نوف کی سلامتی کی دعا کرنے لگا
واپس گھر پہنچا تو ایک عجیب بےنام سی اداسی نے اس کو گھیرے میں لیا۔۔۔ اس کا دل ہر چیز سے اوچاٹ ہونے لگا۔۔ تب اس نے بیلا کو کال ملائی،، دنیا میں اس کے پاس کون رشتہ بچا تھا ایک بہن جو نہ جانے اس وقت کہاں تھی۔۔ ایک بیلا جس سے ازلان نے اپنے دل کی پوری رضامندی سے رشتہ بنایا تھا شاید اس کے فوری طور پر مگر خفیہ نکاح کرنے کی وجہ یہی تھی وہ اپنے اور بیلا کے رشتے میں کسی قسم کی روک ٹوک یا بدمزگی نہیں چاہتا تھا۔۔۔ مگر اس وقت شاید بیلا بزی تھی جبھی اس کی کال ریسیو نہیں کررہی تھی لیکن جب بیلا کی اس کے پاس کال آنے لگی تو وہ فوری طور پر کال ریسیو نہیں کرسکا۔۔۔ بیلا کا میسج پڑھ کر ازلان کو اندازہ ہوگیا کہ صرف اسے ہی نہیں اس وقت بیلا کو بھی اس کی ضرورت تھی۔۔۔ ازلان نے دو سے تین بار اس کا نمبر ٹرائی کیا تھا جو کہ مسلسل بند تھا،، جانا تو اسے آج ویسے بھی بیلا کے پاس تھا کیوکہ اپنے دوسرے کاموں کی وجہ سے وہ بیلا سے صحیح سے بات چیت نہیں کر پارہا تھا۔۔۔ اس لیے وہ یہاں چلا آیا
“بیلا اٹھو دیکھو تمہیں ضرورت تھی ناں میری۔۔۔ میں آگیا ہوں تمہارے پاس آنکھیں کھولو”
اس وقت وہ کافی ہیوی کپڑے پہنے اور میک اپ کیے بےخبر سو رہی تھی ازلان اس کے گال پر ہاتھ رکھتا ہوا آہستہ آواز میں بولا
“ازلان”
بیلا نے آنکھیں کھولیں تو اپنے قریب ازلان کو بیڈ پر بیٹھے دیکھا۔۔۔ بیلا نے فورا اٹھ کر ازلان کے سینے میں منہ چھپا کر رونا شروع کردیا
“شش خاموش ہوجاؤ بیلا،، میں آگیا ہوں ناں تمہارے پاس، مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے”
بیلا کا میسج پڑھتے ہی وہ سمجھ گیا تھا کہ وہ ذہنی طور پر ڈسٹرب ہے۔۔۔ اس لیے ازلان اس کے رونے پر حیرت زدہ یا پریشان نہیں ہوا وہ اپنا ایک ہاتھ بیلا کے سر پر رکھے دوسرے ہاتھ سے اس کے گرد حصار باندھ کر اپنائیت بھرے لہجے میں پوچھنے لگا۔۔۔ بیلا آنسوؤں سے تر چہرہ لئے ازلان کو دیکھتی ہوئی بولی
“وہ مجھے بول رہا تھا وہ دوبارہ پاکستان آۓ گا،،، وہ پھر سے میرے ساتھ وہی سب کچھ۔۔۔
بیلا روتی ہوئی ازلان کو بتانے لگی ہے اس کی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ ازلان نے سختی سے اس کو جھنجھوڑا
“اب تمہارے ساتھ کوئی بھی کچھ غلط نہیں کرسکتا،، کچھ کرنا تو دور کوئی چھو نہیں سکتا کوئی تمہیں۔۔۔ تمہاری طرف جس کی بھی بری نظر اٹھی تو میں آنکھیں نکال ڈالوں گا اس کی”
ازلان جان چکا تھا بیلا کس کی بات کررہی تھی۔۔۔ اسے اصفر نامی بےغیرت انسان پر شدید غصہ آنے لگا تھا۔۔۔۔ ازلان بیلا کو ایک بار پھر اپنے حصار میں لےچکا تھا
“مجھے جب جب وہ منظر آج بھی یاد آتا ہے تو میں رات میں سو نہیں پاتی ہوں،، اگر سو جاؤ تو وہ سب خواب میں نظر آتا ہے۔۔۔ مم مجھے بہت تکلیف ہوئی تھی اس وقت۔۔۔ ابھی بھی بہت تکلیف ہوتی ہے وہ سب کچھ سوچتے ہوئے ازلان اس نے میرے ساتھ بہت برا کیا”
بیلا روتی ہوئی ازلان سے وہ باتیں شیئر کرنے لگی جو اس نے آج تک کبھی کسی سے شیئر نہیں کی تھی۔۔۔ ازلان کا چہرہ ضبط سے سرخ ہوچکا تھا وہ بیلا کے سنہری بالوں پر ہونٹ رکھتا ہوا اس کی کمر سہلانے لگا
“وہ سب ایک بھیانک خواب تھا،، مت ذہن میں لایا کرو ان باتوں کو جو صرف تمہیں اذیت میں مبتلا کرے۔۔۔۔ صرف اور صرف میرے اور اپنے متعلق سوچا کرو ہمارے نئے رشتے کے بارے میں، ایک شوہر کے لیے یہ احساس بہت اطمینان بخش ہوتا ہے کہ اس کی بیوی اس کی غیرموجودگی میں بھی اپنے محرم کو یاد کرے اسی کو سوچے”
ازلان اسے اپنے حصار میں لیے آہستہ آواز میں بولا تو بیلا حیرت سے ازلان کے سینے سے سر اٹھاکر اسے دیکھنے لگی
“تم۔۔۔۔ اس وقت سچ میں میرے کمرے میں موجود ہو، مطلب تم یہاں تک آۓ کیسے وہ بھی اتنی رات میں”
ازلان کی باتیں سن کر وہ مکمل اپنے حواسوں میں آتی ہوئی ازلان کو اپنے کمرے میں دیکھ کر شدید قسم کی حیرت میں مبتلا تھی اسکے حیران کن فیس ایکسپریشن دیکھ کر ازلان مسکرایا
“بہت جلدی خیال آگیا تمہیں کہ میں اس وقت تمہارے کمرے میں موجود ہو۔۔۔ ویسے بھی آج آنا تو مجھے لازمی تھا، میری نئی نویلی بیوی آج دوپہر میں مجھ سے شکوہ جو کرکے گئی تھی کہ کل رات میں نے اس کو کال نہیں کی، اس سے خوبصورت رشتہ بنایا تو کوئی پیار بھرا جملہ نہیں بولا۔۔۔ نہ ہی نئے رشتے کو لےکر اپنی فیلیگز شئیر کی۔۔۔ اور مجھے تمہارے اندر اس رشتے کو لےکر کچھ احساس تو لازمی بیدار کرنے چاہیے۔۔۔ سمجھو میں آج رات یہ سارے شکوے دور کرنے کے لئے آیا ہوں”
ازلان بولتا ہوا بیلا کو اپنے حصار میں لےکر بیڈ پر لیٹ گیا تو بیلا ازلان کی بےباکی پر ایک دم ہڑبڑا اٹھی۔۔۔ ازلان بیڈ پر لیٹا ہوا اپنے سینے پر جھکی ہوئی بیلا کا چہرا غور سے دیکھنے لگا
“وہ سب کچھ تو آج دوپہر میں میرے منہ سے ایسے ہی نکل گیا تھا تم نے بلاوجہ میں اتنا سیریس لےلیا میری باتوں کو”
بیلا ازلان کے خاموشی سے دیکھنے پر کنفیوز ہوکر بولتی ہوئی اس کے اوپر سے اٹھنے لگی تو ازلان نے فورا اس کا بازو پکڑا
“اس وقت تمہاری خود کی بھی بھلائی اسی میں ہے کے تم بھی مجھے اس وقت سیریس لو اور اسی طرح میرے قریب رہو، اب دوبارہ اٹھنے کی ضرورت نہیں ہے”
ازلان سنجیدگی سے بیلا کا چہرہ دیکھتا ہوا اس سے بولا تو بیلا نے دوبارہ اس کے سینے سے اٹھنے کا ارادہ ترک کردیا
“ہمارے نکاح کے فورا بعد اتنی جلدی کیوں چلی گئی تھی مجھے واپس تو کمرے میں آنے دیتی”
ازلان بیلا کے چہرے کے ایک ایک نقش کو انگلیوں سے چھوکر محسوس کرنے کے ساتھ غور سے اس کا چہرہ دیکھتا ہوا بیلا سے پوچھنے لگا
“فورا واپس نہیں گئی تھی پورے آدھے گھنٹے تمہارا ویٹ کیا تھا مگر تم دوسرے روم میں آدھے گھنٹے سے اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے باتوں میں مصروف تھے”
بیلا ازلان کے شکوے پر اس کو جتاتی ہوئی بولی جس پر ازلان اپنی مسکراہٹ روکتا ہوا بولا
“ہاں یہ بات بھی صحیح ہے مجھے اپنے دوستوں سے معذرت کرتے ہوۓ اسی وقت ان کے پاس سے اٹھ جانا چاہیے تھا،، کہ یار میرا ابھی ابھی نکاح ہوا ہے تو ذرا میں اپنی بیوی کو دو تین پیار بھرے جملے بول کر، ساتھ ہی اس کی ڈھیر ساری تعریف کرکے تم لوگوں کے پاس آتا ہوں”
ازلان کے بولنے پر بیلا آنکھیں دکھاتی ہوئی اسے گھور کر بولی
“اف کتنا بےتکا بول رہے ہو تم ازلان خاموش ہوجاؤ”
بیلا کے ٹوکنے پر ازلان نے اپنے کندھے پر رکھا ہوا بیلا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام لیا
“کل اچانک تم نے مجھ سے نکاح کرنے کا فیصلہ کرلیا مجھے ابھی تک حیرت ہورہی ہے تمہارے اس جلد بازی والے اقدام پر”
بیلا ازلان کو دیکھتی ہوئی وہی بولنے لگی جو وہ کل سے سوچ رہی تھی
“یہ فیصلہ اتنا اچانک بھی نہیں کیا ایسا کرنے کا تو پہلے سے ہی سوچا ہوا تھا۔۔۔ ایک لڑکی سے دس سال پہلے وعدہ جو کیا تھا ہمیشہ اس کا ساتھ نبھانے کا”
ازلان دھیمے لہجے میں بیلا کو دیکھتا ہوا بولا تو بیلا خاموشی سے ازلان کو دیکھنے لگی
“بس میرا دل کل خوش اس بات پر ہوا جب تم نے فٹافٹ بغیر کوئی ڈرامے کیے نکاح کرنے پر راضی ہوگئی”
ازلان نے اس کا تھاما ہوا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگایا تو بیلا ایک دم جھینپ گئی اور اپنا ہاتھ چھڑواتی ہوئی اٹھ بیٹھی پھر ایک دم بولی
“اور اگر میں کل نکاح سے انکار کردیتی تو”
وہ ازلان سے یونہی پوچھ بیٹھی، لیکن وہ انکار کر بھی کیسے سکتی تھی ایک پل کے لیے اس کا دل نہیں مانا کہ وہ اپنے لیے کسی غلط شخص کا انتخاب کررہی ہے۔۔۔ بس اسے گلٹ اس بات کا تھا کہ یہ نکاح اس نے افراہیم اور نازنین کی غیر موجودگی میں انہیں بتائے بغیر کیا ہے مگر اسے اندازہ تھا کہ نازنین اس کے اس انتخاب پر بالکل خفا نہیں ہوگی
“تو مجھے ایک خوبصورت لڑکی کے ہاتھ سے نکلنے کا غم کئی سال تک رہتا ہے”
ازلان خود بھی بیڈ پر بیٹھ کر اسے جواب دیتا ہوا بولا۔۔۔ بیلا کو اپنے حصار میں لےکر بیڈ پر لٹایا اور اس پر جھکتا ہوا بیلا کو سنجیدگی سے دیکھنے لگا جس پر بیلا کا دل بہت زور سے ڈھڑکنے لگا
“تمہیں کل اس لیے کال نہیں کرسکا تھا کیوکہ میں کل بہت زیادہ بزی تھا ویسے بھی بیچ میں کئی دن ایسے آتے ہیں کہ جب میرے اوپر کام کا لوڈ زیادہ ہوجاتا ہے پھر میں اپنے خود کے لئے بھی وقت نہیں نکال پاتا۔۔۔ یہ بات تمہیں آج اس لئے بتارہا ہوں تاکہ تم آئندہ مجھے کال نہ کرنے کا طعنے نہیں دے سکو اور اب باری ہے تم سے ہمارے نکاح کی فیلیگز شیئر کرنے کی، میں تم سے نکاح کرکے نہ صرف بہت زیادہ خوش ہوں بلکہ بےحد مطمئن بھی ہوں کیوکہ مجھے ایسا لگتا ہے میں نے تم سے رشتہ جوڑ کر اپنے لئے درست فیصلہ کیا ہے،، تم سے زیادہ اچھی لڑکی میری زندگی میں اب تک نہیں آئی اور نہ ہی آئے گی تم ایک ایسی لڑکی ہو جس کے ساتھ میں اپنی آنے والی زندگی خوش اور مطمئن ہوکر گزاروں گا اس بات کا مجھے پورا یقین ہے”
ازلان نے بولتے ہوئے نہ صرف اس کو اپنی فیلیگز بتائی بلکہ اس کی پیشانی پر محبت کی مہر ثبت کرکے اسے پیار بھرا مان بھی بخشا،، بیلا سانس روکے نہ صرف اس کو اپنے اتنے قریب دیکھ رہی تھی بلکہ اپنے لیے اس کی فیلیگز بھی سن رہی تھی
“مجھے میری ہی نظروں میں اتنی ویلیو دینے کے لیے شکریہ”
بیلا آئستہ آواز میں ازلان کو دیکھتی ہوئی بولی تو وہ مسکرا کر بیلا کے بالوں میں انگلیاں پھنساتا ہوا بولا
“تمہیں کال نہ کرنے کی وجہ بتادی، اپنے اور تمہارے رشتے کو لےکر اپنی فیلیگز تم سے شئیر کرلیں۔۔ اب میں یہاں سے جانے سے پہلے تمہارے اندر ہمارے قائم ہونے والے رشتے کو لےکر کچھ احساسات جگانا چاہتا ہو”
ازلان بیلا کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا سنجیدگی سے بولا پھر اس کے ہونٹوں کی طرف جھکنے لگا ویسے ہی بیلا اپنے چہرے کا رخ دوسری سمت کرتی ہوئی بولی
“بدتمیزی مت کرو ازلان فورا پیچھے ہٹ جاؤ،،، جب سے تم آئے ہو کسی نہ کسی طریقے سے احساسات ہی جگا رہے ہو اب بس کرو پلیز”
جو وہ کرنے والا تھا بیلا کو سوچ کر گھبراہٹ ہونے لگی اس لئے اپنے چہرے کا رخ پھیرتی ہوئی اذلان سے بولی
“بیلا میری جان ذرا آہستہ بولو،، تیز آواز میں بات کرکے کیوں اپنے بھائی کے خوبصورت لمحات میں خلل پیدا کررہی ہو،، ویسے ہی اس بے چارے کی بیوی پہلے ہی اس سے روٹھی ہوئی ہے”
ازلان بیلا کو ٹوکتا ہوا شرافت کا مظاہرہ کرکے خود بھی اٹھ چکا تھا
“کیا کیا کیا یمنہ خفا ہے بھائی سے مگر کیوں اور یہ تمہیں کیسے معلوم”
بیلا بھی اس کی بات سن کر آئستہ آواز میں بولتی ہوئی بیڈ سے اٹھ کر بیٹھ گئی
“اب اس کے خفا ہونے کی وجہ تو نہیں معلوم البتہ تمہارا بھائی اپنی شریک حیات کو مناتا ہوا واپس کمرے میں لےگیا تھا تھوڑی دیر پہلے، خیر چھوڑو یہ تو ان دونوں میاں بیوی کی آپس کی بات ہے۔۔ تم یہ رکھو اپنے پاس یہ میرے اپارٹمنٹ کی ڈوبلیکیٹ چابی ہے اب تم سو جاؤ میں چلتا ہوں”
ازلان بیلا کو چابی تھماتا ہوا کلائی پر بنی ہوئی واچ میں ٹائم دیکھنے لگا
“اور یہ ازلان سے آبان بننے کا کیا چکر ہے وہ تو بتاتے جاؤ”
سب سے اہم سوال جو بیلا کے دماغ میں شروع دن سے گلبلا رہا تھا وہ یہ بات پوچھنا ہی بھول گئی تھی۔۔۔ بیلا کی بات سن کر ازلان بیلا کے شولڈرز پر اپنے دونوں ہاتھ ٹکا کر بیلا سے خود پوچھے لگا
“تمہیں کیا لگتا ہے ایسا کیوں کروں گا میں”
وہ بیلا سے پوچھنے کے ساتھ ہی اسے جانچتی ہوئی نظروں سے دیکھنے لگا
“اگر تم میرے لیے یونیورسٹی میں سر عتیق کی جگہ آئے ہو تو نام بدلنے کی کیا وجہ تھی”
بیلا ناسمجھنے والے انداز میں ازلان کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی
“یا اللہ میری بیوی کو ساری زندگی ایسے ہی خوش فہم رکھنا،، بہت ہی زیادہ کوئی فارغ انسان سمجھ لیا ہے تم نے مجھے جو میں صرف تمہارے لئے یونیورسٹی اپنا نام بدل کر آؤں گا”
ازلان اس کے سر پر پیار سے چپت لگاتا ہوا باہر کی طرف جانے لگا مگر پلٹ کر دیکھا تو بیلا غصے میں ازلان کو گھور رہی تھی
“مذاق کررہا ہوں یار،، تمہارے لیے ہی تمہاری یونیورسٹی آیا ہوں اب اتنی محبت سے میری طرف مت دیکھو مجھے واپس جانا ہے، اگر گلاب خان جاگ گیا تو مسئلہ ہوجائے گا۔۔۔ اب جاکر بیڈ پر لیٹو اور اپنی آنکھیں بند کرلو تمہیں اب سونے سے پہلے صرف میرے بارے میں سوچنا ہے یاد ہے ناں”
وہ یہاں سے جاتے وقت اپنی بیوی کو ناراض بھی نہیں کرسکتا تھا اس لئے یونیورسٹی والی بات بیلا کا دل رکھنے کے لیے بولتا ہوا اس کے کمرے سے باہر نکل گیا
“یہ گلاب خان کتنا بدتمیز آدمی ہے ڈیوٹی کے ٹائم پر سو رہا ہے کل کو کوئی اور چلا آئے ہمارے گھر پر، میں بھائی کو بتاؤں گی صبح”
بیلا خود سے بولتی ہوئی واپس بیڈ پر لیٹ گئی وہ جانتی تھی ازلان اس کو کچھ نہیں بھی بول کر جاتا وہ سونے سے پہلے وہ اسی کو سوچتی مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی اس کا شوہر بچارے گلاب خان کو یہاں آنے سے پہلے ایسا گلاب سونگا چکا ہے جس کی وجہ سے گلاب خان تھوڑی دیر کے لئے دنیا کے غم و فکر سے بیگانہ ہوکر سوچکا تھا
جاری ہے
