No Download Link
Rate this Novel
Episode 28
“کمینے انسان تو نے ہاتھ کیوں اٹھایا مجھ پر”
گل غصے میں چیختی ہوئی شیرنی کی طرح عدنان پر جھپٹی مگر اس سے پہلے عدنان اس کی دونوں کھلائیاں پکڑ کر پلنک پر دھکا دیتا ہوا کمرے سے باہر نکل کر کمرے کا دروازہ بند کر چکا تھا
“کھول دروازہ عدی نہیں تو میں تجھے مار ڈالوں گی آج”
گل دروازہ بجاتی ہوئی چیخ کر بولی
“تیرے یہ سارے پر پرزے کلیم اپنی جوتیوں سے نکالے گا بڑی آئی مجھے جان سے مارنے والی، اماں میں بتارہا ہوں اگر تم نے اسے ہمدردی میں کھانا یا پانی دیا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا بند کمرے میں سڑنے دو اسے کل تک، کل شام کو ہی کلیم سے اس کا نکاح پڑھوا کر دفعہ کرو اس منحوس کو گھر سے”
عدنان تالے کی چابی جیب میں رکھتا ہوا غزل کو بولتا ہوا گھر سے باہر نکل چکا تھا جبکہ گل عدنان کو گالیوں سے نوازتی ہوئی الماری سے اپنے کپڑے نکالنے لگی، کل ہی عدنان اس کا فیکٹری میں جانا بند کرچکا تھا اور اس کی ساری تنجواہ بھی اس سے لے چکا تھا مگر اپنی تنخواہ میں سے وہ ہر ماہ ہزار کا نوٹ اپنے پاس رکھ لیا کرتی جس کا عدنان اور غزل دونوں کو ہی علم نہیں تھا۔۔۔ اپنے پیسے اور کپڑے بیگ میں ڈالنے کے بعد وہ الماری کی دراز سے ایک پرچہ نکلالنے لگی جس پر ازلان کا موبائل نمبر بہت پہلے اس نے رخشی کے موبائل سے اپنے موبائل کے علاوہ ایک پرچے پر لکھ کر اپنے پاس محفوظ کرلیا تھا۔ِ۔۔۔ اس کا موبائل اس وقت عدنان کے پاس تھا ورنہ وہ اس وقت گھر پر پولیس کو بلوا چکی ہوتی مگر گھر سے باہر نکلنے کا اب ایک ہی راستہ تھا
“اماں کمرے کا دروازہ کھول دو تمہیں خدا کا واسطہ ہے مجھ پر ترس کھاؤ میں عدی کی طرح ہی تمہاری سگی اولاد ہو،،، کلیم نے آج مجھے خود بتایا ہے کہ عدی اس سے جوئے میں رقم ہار چکا ہے جس کے بدلے عدی نے اس کلیم سے میرا سودا کردیا۔۔۔۔ اماں مجھے میرا قصور بتادو، پر بیٹی ہونے کی اتنی بڑی سزا مجھے مت دو، اگر کلیم سے تم نے میرا نکاح پڑھوا دیا تو میں کچھ کھا کر اپنی جان دے دوگی میں قسم کھا رہی ہو۔۔۔ خدا کا واسطہ ہے اپنی عزت کے لیے مجھے قربان مت کرو خدارا یہ دروازہ کھول دو”
گل رونے کے ساتھ کمرے کا دروازہ بجاتی ہوئی غزل کو عدنان کی سچائی بتانے لگی جو آج صبح ہی اسے کلیم سے معلوم ہوئی تھی۔۔۔ باہر سے تالا توڑنے کی آواز پر وہ جلدی سے آنسو صاف کرتی ہوئی پلنگ سے اٹھی
“بتا مجھے تو نکاح نہیں کرے گی تو پھر کیا کرے گی”
غزل پریشان ہوکر گل سے پوچھنے لگی
“فی الحال عدی کے آنے سے پہلے مجھے یہاں سے جانے دو پھر میں کچھ بہتر سوچ لو گی اپنے لیے”
گل پلنگ پر رکھا ہوا بیگ اٹھا کر جلدی سے بولی اور چادر اوڑھنے لگی۔۔۔ سوچ تو وہ پہلے ہی چکی تھی اسے کیا کرنا ہے کہاں جانا ہے مگر وہ فی الحال غزل کو بتانے کا ارادہ بالکل نہیں رکھتی تھی
“بےحیا تو نے گھر سے بھاگنے کے لیۓ یہ تالا توڑوایا تھا مجھ سے”
غزل کے غصہ کرنے پر گل نے اپنے ہاتھ جوڑ دیے
“خدا کا واسطہ ہے اماں تم خود بھی کلیم کو جانتی ہو وہ کیسا آدمی ہے دوسری بیوی کو تو اس نے خود جلا کر مار ڈالا تھا یہ بات پورا محلہ جانتا ہے، مجھ پر رحم کھاؤ مجھے یہاں سے جانے دو، میں تم سے جلدی رابطہ کروں گی”
گل جلدی سے بولتی ہوئی تیزی سے گھر کی دہلیز عبور کر گئی۔۔۔ غزل جانتے بوجھتے کہ اس کی بیٹی غلط قدم اٹھا رہی۔۔۔۔ اور اپنی قسمت پر آنسو بہانے لگی کاش اس نے عدنان کی تربیت اچھی کی ہوتی تو آج اس کو یہ دن نہیں دیکھنا پڑتا
وہ اس وقت شدید غصے میں بالکنی میں آکر کھڑی ہوگئی تھی چند گھنٹے پہلے ازلان اس سے رومینٹک گفتگو کرکے اس کو بلش کرنے پر مجبور کررہا تھا یہاں تک کہ بیلا سے شرم کے مارے کھانا تک صحیح نہیں کھایا گیا تھا مگر جب پڑھائی کا دور شروع ہوا تب تک ازلان ایک سخت گیر استاد کا روپ اختیار کرچکا تھا۔۔۔ اور پھر بیلا کو محسوس ہوا جیسے ازلان آہستہ آہستہ استاد سے ایک جلاد بنتا جارہا ہے
آج تک اسے پڑھائی کے دوران اتنا کسی نے نہیں ڈانٹا جتنا دو گھنٹے پہلے ازلان اس کو بری طرح ڈانٹ چکا تھا،، پڑھائی ختم کرنے کے بعد اسے ازلان کی شکل دیکھنے کا دل نہیں چاہ رہا تھا تبھی بیلا بگڑے ہوئے موڈ کے ساتھ بالکنی میں آکر کھڑی ہوگئی
“بیلا میری جان تم یہاں آکر کھڑی ہوگئی ہو اور میں اپنی اکلوتی بیوی کو بیڈروم میں تلاش کررہا تھا اپنے شوہر کے ہاتھ کی بنی ہوئی کافی پی کر پیارے سے انداز میں بتاؤ کہ کافی کیسی لگی، کیوکہ میں بہت زبردست کافی بناتا ہوں ایسا میں خود نہیں کہتا بلکہ میرے سارے دوست کہتے ہیں”
ازلان دو مگ ہاتھ میں اٹھائے بالکنی میں آتا ہوا فریش موڈ میں بولا تو بیلا خونخوار نظروں سے اسے گھورتی ہوئی بولی
“اگر تم چاہتے ہو کہ یہ کافی کے مگ میں تمہارے سر پر نہ توڑو تو چپ کر کے واپس چلے جاؤ یہاں سے اور خبردار جو آئندہ تم نے مجھے احمق، نکمی، ڈفر، نالائق یا پھر کم عقل بولا تو”
بیلا اس پر آیا ہوا غصہ مشکل سے ہی کنٹرول کر پارہی تھی لیکن ازلان کے چہرے کی مسکراہٹ نمودار دیکھ کر وہ بری طرح تلملا گئی
“پڑھائی کے دوران جیسی تم لگتی ہو وہی تو بولو گا ناں تمہیں، اگر تم چاہ رہی ہو تمہارے نالائق پن پر میں تمہیں میرا جانو، گڈا، بچہ، یا شونا کہہ کر پکارو تو ایسا ممکن نہیں ہے میری جان چلو اب سارا غصہ تھوک دو، جلدی سے کافی پیو اور پیاری سی اسمائل دو”
ازلان کافی کا مگ بیلا کو پکڑ کر اسے پیار سے بہلاتا ہوا بولا
“تم صرف مجھے یہ بتاؤ ازلان کہ آگے زندگی میں تم میرے ساتھ ایک اسٹرک ٹیچر کی طرح بی ہیو کرنا چاہتے ہو یا پھر نارمل ہسبنڈ بن کر”
بیلا کافی کا مگ پکڑنے کے بعد سیریس ہوکر ازلان سے پوچھنے لگی
“فل الحال تو میں یہ کافی ختم کرنے کے بعد میں ایک رومانٹک ہسبنڈ بن کر پوری رات گزارنا پسند کروں گا۔۔۔ اب تم مجھے بتاؤ آج رات کے لیے سوفٹ رومینس ٹھیک رہے گا یا پھر اپنی دیوانگی، جنوں ساری شدتیں ہی آج تم پر ظاہر کر ڈالو”
ازلان اس کو چوائس دیتا ہوا خود بھاپ اڑتی ہوئی کافی کا سپ لینے لگا جبکہ بیلا گھورتی ہوئی اس کو بولی
“ایسی کوئی کہانی نہیں ہورہی ہے جس طرح تھوڑی دیر پہلے تم مجھے ڈانٹ رہے تھے اس کے بعد تو مجھے تمہاری شکل دیکھنے کا دل نہیں چاہ رہا”
بیلا غصہ کے ساتھ ساتھ حیران ہوتی ہوئی بولی سامنے کھڑا اس کا شوہر پل پل اپنے موڈ کو کیسے اتنی جلدی تبدیل کرسکتا تھا جبکہ ازلان بیلا کی بات سن کر کافی کا گھونٹ بھرتا ہوا اس کے قریب آیا
“رئیلی میری شکل دیکھنے کا دل نہیں چاہ رہا تمہیں”
ازلان اپنا اور بیلا کا مگ سائیڈ دیوار پر رکھتا ہوا بیلا سے سیریس ہوکر پوچھنے لگا
“ہاں نہیں چاہ رہا، تم اتنے قریب کیو آگئے ہو دور رہو مجھ سے”
بیلا اس کے چہرے کے سنجیدہ تاثرات دیکھتی ہوئی بولی تو ازلان اس کے بالوں میں اپنی انگلیاں پھنسا کر بیلا کا چہرہ اوپر کرتا ہوا اس کے گلابی ہونٹوں پر جھکا
کافی کا ذائقہ اپنے منہ گھلتا ہوا محسوس ہوا تو بیلا پیچھے ہوئی۔۔ بالکونی میں کھڑے ہوکر اسے ازلان سے اس بےباکی کی ہرگز توقع نہیں تھی چاروں طرف اپنی نظر دوڑا کر بیلا نے ازلان کے دیکھے بغیر اپنی پلکیں جھکالیں
“غصہ ختم ہوا یا ابھی بھی میری شکل دیکھنے کا دل نہیں چاہ رہا”
ازلان بیلا کی جھکی پلکیں دیکھ کر اس سے پوچھنے لگا کیوکہ بیلا کے ماتھے پر موجود شکنیں وہ اپنی بےباکی سے دور کرچکا تھا۔۔۔ اس کی بات پر بیلا کی ذرا سی پلکیں اٹھی ازلان اسی کو دیکھ رہا تھا
“کافی ختم کرکے بیڈ روم میں آجانا”
ازلان اپنا کافی کا مگ لےکر بیلا کو بولتا ہوا خود روم میں چلا گیا
کافی کیسی تھی اس کا ذائقہ کیسا تھا بیلا کو گھبراہٹ میں کچھ محسوس نہیں ہوا۔۔۔ کافی کا خالی مگ وہ وہی ٹیرس پر چھوڑ کر گھبراتی ہوئی بیڈ روم میں آئی جہاں ازلان اس کا منتظر تھا بیلا کو بیڈ روم میں آتا دیکھ کر وہ بیڈ سے اٹھ کر چلتا ہوا بیلا کے قریب آیا کیوکہ بیڈ روم کے دروازے پر بیلا کے قدم جم گئے تھے گھبراہٹ اس کے چہرے پر عیاں تھی
“بیلا میری جان ایسے نروس ہوگی تو پھر بات کیسے آگے بڑھے گی ہاں”
ازلان نرمی سے اس کے گرد اپنے دونوں بازو حائل کرکے سنجیدگی سے اس کا چہرہ دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“کیا یہ سب ضروری ہے تم شرافت سے سو نہیں سکتے”
بیلا ازلان کی باہوں میں موجود آنے والے وقت کا سوچ کر گھبراتی ہوئی اس سے بولی
“پچھلی دو راتوں سے شرافت سے ہی تو سو رہا تھا وہ بھی صوفے پر،، جب اپنی خود کی بیوی اتنے قریب ہو تو کوئی گدھا ہی ہوگا جو اس سے بلاجواز دوری رکھے گا”
ازلان بیلا کے ہونٹوں کو دیکھتا ہوا اپنی بات مکمل کرکے اس کے ہونٹوں پر جھکنے لگا تو بیلا اپنا سر پیچھے کرتی ہوئی بولی
“ابھی باقاعدہ طور پر رخصتی نہیں ہوئی ہے ازلان”
بیلا کی بات کر ازلان نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں بیلا کے بالوں میں پھنسائی جبکہ دوسرا ہاتھ اسکی کمر کے گرد لپیٹ کر بیلا کو خود سے نزدیک کرتا ہوا بولا
“تم اس وقت میرے گھر میں میرے پاس موجود ہو مطلب رخصتی ہوچکی ہے اب صرف تمہاری فیملی کو ہمارے رشتے کے بارے میں آگاہ کرنا رہ گیا ہے جو میں ایک دو دن میں کردو گا،، اس کے بعد میں تمہیں اپنے پاس سے کہیں بھی جانے نہیں دو گا”
ازلان بیلا سے بولتا ہوا اس کے ہونٹوں پر جھک کر خود کو سیراب کرنے لگا جب بیلا کو محسوس ہوا کہ وہ اب سانس نہیں لے پائے گی تو وہ ازلان کو خود سے دور کرتی ہوئی پیچھے دیوار سے جالگی اور بگڑا ہوا تنفس بحال کرنے لگی،، ازلان مدہوشی کے عالم میں اس کو دیکھتا ہوا دوبارہ اس کے قریب آیا اور بیلا کی گردن پر جھک گیا بیلا ابھی سنبھل نہیں پائی تھی ازلان کو دوبارہ اپنے قریب دیکھ کر اس کے ہوش اڑ گئے
ازلان کے دونوں ہاتھ بیلا کے دائیں بائیں جانب دیوار پر ٹکے ہوئے تھے بیلا جانتی تھی کہ وہ اس کے حصار سے چاہے بھی تو نکل نہیں پائے گی، نہ ہی ازلان اسے اس وقت ایسا کرنے دے گا مگر جب ازلان کے جذبات میں شدت در آئی تو بیلا ایک بار پر ازلان کو پیچھے ہٹاتی ہوئی خود اپنا رخ شرم کے مارے دیوار کی جانب کر گئی
روانی سے تیز چلتی ہوئی سانسیں بھی بحال بھی نہیں ہو پائی تھی کہ اسے اپنی پشت پر بےحد قریب ازلان کی موجودگی کا احساس ہوا۔۔۔ ازلان کمر سے اس کے بالوں کو ہٹاکر کندھے سے آگے کرتا ہوا اس کے کندھے پر اپنے ہونٹ رکھ چکا تھا
“ازلان”
بیلا نروس ہوکر بےساختہ ازلان کو پکار بیٹھی
“ہہہہم بولو”
جذبات کی شدت سے چور آواز بیلا کو اپنے بےحد قریب سے آئی، ساتھ ہی اسے ازلان کی انگلیاں اپنی کمر پر رقص کرتی ہوئی بیلا کو محسوس ہوا آج وہ اپنی جان سے جائے گی
“تم مجھے بہت زیادہ ڈسٹرب کرچکے ہو اور اب تو مجھے تم سے ڈر بھی لگ رہا ہے”
بیلا کا رخ ابھی بھی دیوار کی طرف تھا وہ آنکھیں بند کئے ہوئے ازلان سے بولی تو ازلان کی انگلیوں کی حرکت بند ہوئی وہ بیلا کے دونوں ہاتھوں کی کلائیاں پکڑ کر دیوار سے لگاتا ہوا آدھے انچ کا فاصلہ بھی ختم کرچکا تھا بیلا کی پشت مکمل طور پر ازلان کے سینے سے چپکی ہوئی تھی بیلا کی ہارٹ بیٹ مزید تیز ہوگئی
“پھر اپنے ڈر کا علاج بتادو مجھے مگر اتنے قریب آنے کے بعد اب دور جانے کی بات مت کرنا ورنہ میں تم سے بھی زیادہ بری طرح ڈسٹرب ہوجاؤ گا”
بیلا کو مدھوش ہوتی ازلان کی آواز سنائی دی، ساتھ ہی وہ بیلا کے کان کی لو چومنے لگا۔۔۔ بیلا نے اپنے ہونٹ آپس میں پیوسٹ کرتے ہوۓ زور سے آنکھیں بند کرلیں
ازلان بیلا کی کلائیوں کو اپنی گرفت سے آزاد کرکے اسکے دونوں بازوؤں پر اپنے ہاتھ پھیرتا ہوا اس کے کندھوں تک لایا،، اب ازلان کے ہونٹ بیلا کی کمر کو چھو رہے تھے۔۔۔ ازلان کی قربت اور بڑھتی ہوئی بےباکی پر بیلا کی جان پر بن آئی تھی ازلان نے بیلا کا رخ اپنی جانب کیا،، تو بیلا کا ڈرا ہوا اور گھبرایا ہوا چہرا دیکھ کر ازلان جان گیا وہ کیا محسوس کررہی تھی
“آج ہر طرح کا ڈر اور خوف اپنے دل و دماغ سے نکال دو، صرف یہ یاد رکھو کہ میں تم سے پیار کرتا ہوں تمہیں کسی بھی قسم کی تکلیف نہیں دے سکتا نہ ہی تکلیف میں دیکھ سکتا ہوں”
ازلان بیلا کا چہرا تھام کر اس کی بند آنکھوں کو دیکھ کر بولا تو بیلا آئستگی سے اپنی آنکھیں کھول کر اسے دیکھنے لگی
“آج میری دسترس میں تم صرف میری محبت کو محسوس کروگی کسی قسم کی تکلیف نہیں۔۔۔ آئی پرامس”
ازلان نے بولتے ہوئے، بیلا کے کندھے پر ٹکے ہوۓ اس کے دوپٹے کو ہاتھ میں پکڑا جو آدھے سے زیادہ فرش پر موجود تھا
“ازلان کیا کررہے ہو”
وہ دوپٹے کو بیلا کی آنکھوں پر باندھنے لگا تب بیلا اس سے پوچھنے لگی
ازلان بیلا کے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے بازوؤں میں اٹھاتا ہوا بیڈ پر لاکر لٹا چکا تھا، اپنے وجود پر جب اسے ازلان کے وجود کا دباؤ محسوس ہوا تب وہ بری طرح گھبرا گئی،،
“خود کو یہ سوچ کر نارمل رکھو اس وقت تمہارے قریب کوئی دوسرا نہیں بلکہ تمہارا شوہر ہے”
ازلان اس کے چہرے کے تاثرات سے اس کی کیفیت کا اندازہ لگا چکا تھا تبھی بیلا سے بولا
تھوڑی دیر بعد اسے اپنی شرٹ کندھے سے سرکتی ہوئی محسوس ہوئی، شرم کے باوجود بیلا نے باندھے ہوۓ دوپٹے کو اپنی آنکھوں سے ہٹانا چاہا تو ازلان نے بناء کچھ بولے بیلا کا ہاتھ پکڑ کر اسے ایسا کرنے سے روک دیا اور اس کی گردن پر جھکتا ہوا اپنی محبت کی چھاپ چھوڑنے لگا وہ بیلا کو مکمل طور پر اپنے حصار میں لئے اسے محبت سے اپنی شدتوں کا احساس دلانے لگا اس کا ہر عمل ہر انداز نرمی اختیار کئے ہوۓ تھا جس کے بعد بیلا کے چہرے پر گھبراہٹ کی بجاۓ شرم و حیا کے رنگ تھے ازلان اپنے اور اسکے رشتے کو مان بخشا ہوا اپنا اور اس کا رشتہ مکمل کرچکا تھا
“اماں کیوں کیا تم نے ایسا، کیا اسے گھر سے فرار ہونے دیا۔۔۔ شام میں جب کلیم اسے بیاہنے کے لیے آئے گا تو میں کیا جواب دوں گا اس کلیم کو”
رات بھر دوستوں کے پاس گزارنے کے بعد جب دوسرے دن عدنان گھر پہنچا تو گل کو کمرے میں موجود نہ پاکر وہ غزل پر بری طرح بھڑگ گیا
“کلیم سے جوئے میں رقم تو ہارا ہے تو تیرا نقصان گل کیوں پورا کرے گی،، عدی تجھے بالکل شرم نہیں آئی اپنی جان بچانے کے لیے اپنی چھوٹی بہن کا سودا کرتے ہوئے”
غزل دکھ بھرے لہجے میں عدنان سے پوچھنے لگی
“سودا ہی تو کیا تھا کون سا ایسا غضب کردیا تھا، کوئی بناء نکاح پڑواۓ تو کلیم کے حوالے نہیں کررہا تھا میں اس کو۔۔۔ اور تم نے جو اس کو گھر سے بھگاکر اپنے اور میرے منہ پر کالک مل دی ہے اس کا کیا”
عدنان بدتمیزی چیختا ہوا غزل سے بولا
“کالک تو میں نے اپنے منہ پر اسی دن مل لی تھی جب تجھے تیری غلطیوں پر ٹوکنے یا روکنے کی بجائے میں تیری حمایت میں بولتی تھی،، گل بھی میری اولاد ہے وہ کیو کلیم سے شادی کی صورت تیرے کرموں کی سزا بھکتے”
غزل کی باتیں عدنان کے غصےکو مزید ہوا دینے لگی
“میرے کرموں کی سزا وہ بےشک نہ بھکتے مگر گھر کی دہلیز پار کرکے جو اس نے میری عزت کی دھجیاں اڑائی ہیں اس کی سزا اب میں اسکو اپنے ان ہاتھوں سے اس کی جان لےکر دوں گا”
عدنان غزل سے بولتا ہوا غصے میں گھر سے باہر نکلا،،، وہ جانتا تھا گل یقینا یہاں سے بھاگ کر ازلان کے پاس گئی ہوگی ازلان کس شہر میں تھا وہ جانتا تھا لیکن ازلان کے گھر کا پتہ اس کو معلوم نہیں تھا مگر وہ کسی نہ کسی طریقے سے گھر کا پتہ بھی معلوم کرلیتا فی الحال اسے خود یہاں سے فرار ہونا تھا کیونکہ کلیم کے ہاتھ اگر وہ لگ جاتا تو کلیم یقینا اس کے ساتھ بہت برا پیش آتا
جاری ہے
