Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 38

“بیلا اب چپ ہو جاؤ اللہ کا شکر ادا کرو کہ ازلان بالکل ٹھیک ہے تھوڑی دیر میں اس کو ہوش آجائے گا”
اسپتال کے روم میں بیلا کو روتا ہوا دیکھ کر افراہیم بیلا کے برابر میں کرسی پر بیٹھتا ہوا بولا تو بیلا آنسو صاف کرتی ہوئی آنکھیں بند کر کے اللہ کا شکر ادا کرنے لگی آج اسے دو مرتبہ محسوس ہوا تھا کہ وہ جی نہیں پائے گی ایک بار تب جب عدنان کی غلیظ نیت کو دیکھ کر وہ اس کا ارادہ بھونپ چکی تھی اور دوسری بار تب جب ازلان کو گولی لگی تھی۔۔۔۔ افراہیم خود بھی بیلا کو دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کررہا تھا کہ اوپر والے نے اس کی بہن کی عزت اور جان کو محفوظ رکھا تھا اور ازلان نے اس کی زندگی بچاکر افراہیم کو اپنا قرض دار بنالیا تھا

“بھائی مما اور بھابھی۔۔۔”
ازلان کی طرف سے اطمینان ہونے کے بعد بیلا افراہیم سے نازنین اور نوف کے بارے میں پوچھنے لگی

“نوری بتارہی تھی کہ مما سو چکی ہیں انہیں کچھ بھی نہیں معلوم بےفکر رہو”
افراہیم یہاں سے آنے سے پہلے نازنین کو سکون آور دوائیں دے کر آیا تاکہ وہ بناء پریشانی کے آرام سے سوتی رہے

“اور بھابھی وہ اکیلی پریشان ہورہی ہوگیں”
بیلا بولتی ہوئی افراہیم کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی

“اسی کی فکر ہورہی ہے، میں ایسا کرتا ہوں اسے گھر چھوڑ کر تمہارے پاس آتا ہوں”
افراہیم بولتا ہوا کرسی سے اٹھا

نوف کی کنڈیشن ایسی نہیں تھی کہ افراہیم اسے ازلان کے فلیٹ میں اکیلا رہنے دیتا وہ نوف کو ازلان کے بارے میں بتائے بغیر اسے اپنے گھر لانا چاہتا تھا تاکہ اسے نوف کی طرف سے آطمینان رہے۔۔۔ ڈاکٹر سے اذلان کی کنڈیشن جاننے کے بعد وہ خود بھی ریلیکس ہوگیا تھا جبکہ ازلان کی وجہ سے ہاسپٹل میں کافی سکیورٹی تھی وہ باآسانی بیلا کو ہسپتال میں چھوڑ کر نوف کو لینے نکل گیا


اتنے دنوں سے وہ نوف کا سامنا کرنے کی اور اس سے بات کرنے کی ہمت نہیں کر پارہا تھا لیکن آج اسے نوف کا سامنا کرنے کے لیے اذلان کے فلیٹ میں آنا پڑا وہ جانتا تھا نوف اس سے خفا ہوکر اگر ازلان کے پاس گئی تھی اور یہ بھی کے نوف کو اس سے ڈھیر سارے شکوے لاحق ہوگے مگر اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ نوف کو بہت پیار سے منالے گا اور اسے راضی کرکے اپنے ساتھ لے جائے گا لیکن جب اس نے ازلان کے فلیٹ کا دروازہ کھلا دیکھا تو ‏اسے نوف کی لاپرواہی پر غصہ آنے لگا

“نوف”
لیکن جو افراہیم فلیٹ کے اندر داخل ہوا وہاں بکھرا ہوا سامان دیکھ کر افراہیم کو کسی انہونی کا خدشہ ہوا وہ نوف کو پکارتا ہوا سارے کمرے دیکھ چکا تھا مگر وہ کہیں بھی نہیں نوف کا فرش پر پڑا ہوا دوپٹہ اٹھاتے ہوۓ افراہیم کا دل برے خیالات سے ڈرنے لگا شاید آج رات اس کے لیے امتحان کی رات تھی یا پھر اس کی آزمائش ابھی ختم نہیں ہوئی تھی

“روحیل اگر یہ تمہاری کمینی حرکت ہوئی تو میں تمہیں جان سے مار ڈالوں گا”
آفراہیم دل ہی دل میں روحیل کو مخاطب کرتا ہوا فلیٹ سے باہر نکل گیا۔۔۔

ایک ہفتے پہلے ہی اسے معلوم ہوا کہ حرا روحیل سے خلع لے چکی تھی اور دو دن پہلے اس نے روحیل کو محبوب خان کے ساتھ دیکھا تھا جو روبی کا ایک خاص آدمی تھا بہت ممکن تھا کہ روحیل نے اپنا بدلہ لینے کے لیے نوف کو روبی کے حوالے کیا ہو کیوکہ افراہیم روحیل کی بدلہ لینے والی فطرت سے اچھی طرح واقف تھا


دو گھنٹے تک اسے بیسمنٹ میں دوسری لڑکیوں کے ساتھ رکھنے کے بعد ایک عورت وہاں آکر نوف کو اوپر والے کمرے میں لے گئی بکھرے بال بغیر دوپٹے کے بدحال سی حالت میں وہ اپنے آپ کو زبردستی گھسٹتی ہوئی اس عورت کے ساتھ چل رہی تھی یہ کمرہ محبوب خان تھا جسے دیکھ کر نوف کا دل خوف سے بری طرح تھرانے لگا۔۔۔ ہاتھ میں جام کا گلاس پکڑے محبوب خان صوفے پر بیٹھا ہوا تھا نوف کو دیکھ کر مسکرانے لگا

“آخر محبوب خان نے اپنی تتلی کو پکڑلیا کیا سوچا تھا تم نے میری رانی کے یہاں سے فرار ہونے کے بعد ہم تمہیں بھول جائیں گے یہاں جو لڑکی ایک بار آجائے پھر مرنے کے بعد ہی اس کا اس جگہ سے پیچھا چھوٹتا ہے۔۔۔ روحیل کی مدد سے تم دوبارہ ہمارے ہاتھ لگ گئی ہو، شکر کرو کہ روبی ابھی تک نواب رستم کے گھر میں موجود ہے اس سے ابھی تمہارا سامنا نہیں ہوا ورنہ وہ یہاں پہنچ کر تمہاری یہ نازک چمڑی کتنی پوری طرح ادھیڑے گی اس کا تم اندازہ نہیں لگا سکتی۔۔۔ تھوڑی دیر کے لئے تم اس محبوب خان کا دل خوش کردو پھر محبوب خان تمہیں روبی کے عذاب سے بچالے گا، وہاں دور کیوں کھڑی ہو یہاں آؤ میرے پاس”
لمبا تڑنگا سیاہ مائل رنگت کا محبوب خان نوف کی طرف بڑھنے لگا تو نوف خوف زدہ ہوکر بولی

“میں کسی دوسری کی بیوی ہو خدا کے لیے چھوڑ دو مجھے، میرے وجود میں ایک اور زندگی سانس کے رہی ہے مجھ پر رحم کرو”
محبوب خان کی غلیظ نگاہؤں کو جانچنے کے باوجود نوف اس سے رحم کی بھیگ مانگنے لگی اس سے پہلے کہ وہ نوف کو اپنے غلیظ ہاتھوں سے چھوتا کمرے کا دروازہ بجنے لگا

“یہاں پولیس کی ریڈ پڑگئی ہے انسپیکٹر رمیض کا نمبر بند جارہا ہے اور تھانے کا ایس ایچ او بھی کال نہیں اٹھا رہا ہے۔۔ روبی دو منٹ پہلے ہی یہاں پہنچی تھی مگر پولیس اس کی بات نہیں سن رہی ہے وہ لوگ گھر کی تلاشی لینے کے لیے بضد ہیں”
ملازمہ کمرے میں آتی ہوئی محبوب خان کو یہ بری خبر سنانے لگی جو نوف کے لئے اچھی خبر ثابت ہوئی تھی

“جبھی میں نے روبی سے بولا تھا اس نئے ایس ایچ او کا منہ بند کرنے کے لیے اس کے منہ میں پیسوں بھردو، رونہ وہ ہمارے ساتھ ذرا کوپریٹ نہیں کرے گا۔۔۔ اسے دوسری لڑکیوں کے ساتھ نیچے بیسمنٹ میں بند کردو میں ہی کچھ کرتا ہوں”
محبوب خان ملازمہ کو بولتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا ملازمہ نوف کو ہاتھ پکڑ کر اسے بیسمینٹ کی طرف لے جانے لگی۔۔۔ یہی ایک اچھا موقع نوف کے ہاتھ آیا تھا اس نے اچانک ہی اپنا ہاتھ چھڑا کر ملازمہ کو پیچھے دھکا دیا ملازمہ اپنے فربی سراپے کو لےکر پیچھے گری تو نوف نے کوریڈور سے باہر کی طرف بھاگنا شروع کردیا


“آپ ذرا تمیز سے بات کریں آپ جانتے نہیں ہیں کہ میری پہنچ کہاں تک ہے میری ایک کال پر اس انسپیکٹر کا دو گھنٹے کے اندر ٹرانسفر ہوسکتا ہے اور آپ کو بھی ذرا سنبھل کر رہنا چاہیے”
پولیس کے ساتھ کھڑے ہوئے افراہیم کو محبوب خان دھمکی دیتا ہوا بولا تو افراہیم نے آگے بڑھ کر محبوب خان کا گریبان پکڑلیا

“مجھے دھمکیاں دینے سے بہتر یہی ہے کہ تم سیدھی شرافت سے یہ بتادو کہ میری بیوی کہاں ہے ورنہ میں تمہیں سنبھلنے کا موقع بھی نہیں دوں گا”
افراہیم غصے میں محبوب خان کا گریبان پکڑتا ہوا بولا

“ہم لوگ شریف اور عزت دار لوگ ہیں ہمیں کیا معلوم کہ تمہاری بیوی کہاں پر ہے شرافت سے اسے چھوڑ دو ورنہ تم جانتے نہیں ہو ہمارا اثر و رسوخ کہاں تک ہے”
روبی بیچ میں آکر افراہیم کو دھمکی دیتی ہوئے لیکن اندر سے وہ پولیس کو دیکھ کر ڈر گئی تھی شاید اب کی بار اس نے غلطی کی تھی نوف پر ہاتھ ڈال کر

“میڈم جی آپ کا اثرو رسوخ جہاں تک ہو جب آپ کو آپ کے گروہ کے ساتھ میڈیا کے سامنے ایکسپوز کیا جائے گا تو آپ کے جتنے بھی باپ ہیں وہ سب آپ پر سے شفقت کا ہاتھ ہٹالیں گے آپ کی بہتری اسی میں ہے کہ آپ ہمہیں عزت سے اپنے بنگلے کی تلاشی لینے دیں”
انسپکٹر روبی کو دیکھتا ہوا بولا

“افراہیم”
نوف کے آواز پر افراہیم فورا پلٹ کر اسے دیکھنے لگا جو کوریڈور سے بھاگتی ہوئی اسی کے پاس آرہی تھی افراہیم خود بھی تیزی سے نوف کی طرف بڑھا اور نوف کو اپنے حصار میں لےلیا

“شکر ہے آپ یہاں آگئے اگر آپ یہاں نہیں آتے تو نہ جانے کیا ہوجاتا”
نوف افراہیم کے گرد اپنے بازو باندھتی ہوئی افراہیم کو محسوس کرتی ہوئی بولی۔۔۔ اس کی زندگی میں بےشک جتنی بھی آزمائش لکھی ہو لیکن ہر بار کی طرح آج بھی اس کے محافظ نے اسے بچالیا تھا

“ایسا ممکن نہیں تھا جو میں یہاں تک نہیں پہنچتا میری اپنی زندگی داؤ پر لگی تھی آج۔۔۔ نہ ہی تمہیں کھونے کا حوصلہ ہے نہ ہی تم سے دوری برداشت کرنے کی ہمت، ہمہیں یہاں سے چلنا چاہیے نوف یہاں پر رکھنا مناسب نہیں”
افراہیم نوف کو اپنے حصار میں لئے بولا نوف کو اپنی آنکھوں کے سامنے سلامت دیکھ کر وہ پرسکون تھا۔۔۔ وہ نوف کو یہاں سے لےکر نکلنا چاہتا تھا کیونکہ تھوڑی دیر میں ہی مڈیا کے نمائندے یہاں پہنچ جاتے

“افراہیم نیچے بیسمنٹ میں ان لوگوں نے بہت سی لڑکیوں کو قید کر رکھا ہے جن نے یہ لوگ زبردستی غلط کام کرواۓ گے”
نوف وہاں پر موجود پولیس کو دیکھ کر افراہیم کو بتانے لگی تاکہ ان لڑکیوں کی آزادی کی کوئی سبیل بن پائے


“ازلان”
ازلان کو جیسے ہی ہوش آیا بیلا صوفے سے اٹھ کر ازلان کو پکارتی ہوئی اس تک پہنچی

“تم ٹھیک ہو ناں بیلا”
اپنی خود کی حالت کو نظر انداز کرتا ہوا وہ بیلا کی فکر کرتا ہوا اس سے اسی کے بارے میں پوچھنے لگا

“مجھے کچھ نہیں ہوا ہے لیکن اگر تمہیں کچھ ہوجاتا تو میں زندہ نہیں رہ پاتی”
بیلا ازلان کا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگاتی ہوئی بولی آنسو خودبخود بیلا کی آنکھوں سے بہنے لگے

“بیلا میری جان اس طرح مت رؤ تمہارے آنسو دیکھ کر سچ میں تمہارے شوہر کی جان پر بن آئے گی پلیز رحم کھاؤ اپنے شوہر پر اور اپنی ان پیاری پیاری آنکھوں پر”
ازلان بیلا کو اور زیادہ افسردہ یا پریشان نہیں دیکھ سکتا تھا اس لئے بولا تو بیلا اپنے ہونٹوں سے ازلان کا ہاتھ اٹھاتی ہوئی اسے گھورنے لگی

“تم نے خود اتنے دنوں سے بڑا رحم کیا ہوا ہے ناں مجھ پر ایک بار بھی تمہیں میرا خیال نہیں آیا مجھے اپنے گھر سے نکلتے ہوئے۔۔۔ تمہیں اندازہ ہے ناں کہ میں تمہاری محبت اور توجہ کسی دوسرے کے ساتھ شیئر نہیں کرسکتی”
بیلا اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کرتی ہوئی ازلان سے شکوہ کرنے لگی

“گھر سے اس لیے نکالا تھا تاکہ میں جلد سے جلد تمہیں واپس اپنے گھر لے آؤں مگر تمہارے پاس آنے میں اتنے دن اس لیے لگ گئے کیوکہ کچھ آفیشلی میٹرز تھے جنہیں دیکھنا بےحد ضروری تھا باقی رہی بات تمہاری محبت کی تو وہ میں اب میں خود بھی کسی دوسرے سے شیئر نہیں کرنے دوں گا تمہیں”
ازلان بیلا کا چہرہ دیکھتا ہوا اس سے بولا

“آفیشلی میٹرز کی وجہ سے اتنے دن لگا دیئے میرے گھر آنے میں جبکہ دوسروں کے سامنے اپنی شادی کی خبریں پھیلاتے پھر رہے ہو”
ایک شکوہ ختم ہوا تو بیلا نے دوسرا شکوہ فورا ازلان کے سامنے رکھا جس پر ازلان نے بیلا کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا ناسمجھی میں بیلا نے ازلان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تو ازلان نے بیلا کا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگالیا

“کوئی جھوٹی خبر نہیں پھلائی شادی کی تو ہے تم سے،، تم نہیں ہو میری بیوی میری جان اور ویسے بھی میں چاہتا تھا یہ خبر سنتے ہی تم دوڑ کر میرے پاس چلی آؤ اور اب میں واپس تمہیں تمہارے گھر نہیں جانے دوں گا”
ازلان آہستہ آواز میں ہاسپٹل کے بیڈ پر لیٹا ہوا بیلا سے بولا

“بہت اچھا لگے گا ناں ایسے اپنے گھر کی بجائے اس ہاسپیٹل سے میں تمہارے ساتھ رخصت ہوکر تمہارے پاس آجاؤں”
بیلا ازلان کی انوکھی سی بات پر اسے آنکھیں دکھاتی ہوئے بولی

“مجھے اچھا لگے گا آنٹی اور افراہیم سے میں بات کرلوں گا ویسے بھی تمہارے بھائی کی شکل دیکھ کر مجھے محسوس ہورہا ہے وہ کافی مس کررہا ہے اپنی بیوی کو،، ظاہری سی بات ہے اگر نوف اس کے ساتھ جاۓ گی تو پھر تمہیں میرے پاس ہی آنا چاہیے”
ازلان بیلا کے اعتراض کو رد کرتا ہوا بولا۔۔۔ بیلا ابھی بھی پلکیں جھپکاۓ بناء ازلان کو گھورتی ہوئے دیکھ رہی تھی جبکہ ازلان کے اسمائل دینے پر بھی بیلا نے اس کو گھورنا نہیں چھوڑا

“اتنی دور کیوں گھور رہی ہو ذرا قریب آؤ تو تمہاری گھورنے کا صحیح علاج کرتا ہوں میں”
ازلان اپنی مسکراہٹ سے چھپاتا ہوا بیلا سے بولا

“اگر تم زخمی حالت میں بیڈ پر نہیں لیٹے ہوئے ہوتے تو تمہارا علاج میں کر ڈالتی عون بن کر کیوں پریشان کرتے رہے تم مجھے”
بیلا کو نیا شکوہ یاد آیا تو ازلان کو آنکھیں دکھاتی ہوئی بولی

“عون بن کر تمہیں پریشان کہا کرتا تھا میری جان صرف تمہاری نیڈ کے وقت تمہاری مرضی پر تم سے بات کیا کرتا تھا، اور یہی وجہ تھی کہ تم کسی دوسرے کو میرے علاوہ اپنا دوست نہ بناسکو، اندر سے میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ میرے علاوہ تمہارا کوئی دوست نہ بنے”
بیلا حیرت سے ازلان کا اپنے لیے حساس انداز دیکھ رہی تھی ازلان مسکرا کر اپنی انگلی کے اشارے سے بیلا کو قریب آنے کا بولنے لگا۔۔۔ بیلا ازلان کے قریب آکر اس پر جھکتی ہوئی اپنا چہرہ ازلان کے چہرے کے قریب لائی

“میری نکمی اسٹوڈنٹ کو فزکس کا پیپر مل گیا تھا، اب تو میں تواقع کرسکتا ہوں کہ تم فزکس میں اچھے نمبر لے آؤ گی”
ازلان بیلا کا چہرہ قریب سے دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا کیوکہ جس دن فزکس کا پیپر تھا ازلان نے آدھے گھنٹے پہلے سارے سوالات اسے واٹس آپ کیے تھے

“آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے میجر صاحب کہ ان سوالات پر نظر ڈالے بناء ہی میرا فزکس کا ہی نہیں باقی سارے پیپرز بھی بہت اچھے ہوۓ ہیں جس کا اندازہ آپ کو میرا رزلٹ دیکھ کر بخوبی ہوجائے گا”
بیلا طنزیہ لہجے میں ازلان کو جتاتی ہوئی بولی جس پر وہ بےساختہ ہنس دیا

“نکمی تو تم تب بھی رہوگی،،، مجھے اس بات پر مکمل یقین ہے، رومینس کا جو تھوڑا بہت سبق میں نے تم کو سکھایا تھا وہ چند دنوں میں تم بالکل بھول گئی ہوگی”
ازلان کی بات سن کر بیلا بلش کرتی ہوئی پیچھے ہٹنے لگی تبھی ازلان نے ایک ہاتھ سے اس کا چہرہ تھام کر بیلا کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے قید کرلیا ازلان تشنگی مٹارہا تھا تب ہسپتال کے روم کا دروازہ بجنے لگا جس پر بیلا پیچھے ہٹی

“بھائی”
بیلا کے دروازہ کھولتے ہی نوف آنسو پونچھتی ہوئی ازلان کی صرف بڑھی اس کے پیچھے ہی افراہیم بھی کمرے میں چلا آیا کیوکہ وہ نوف کو ازلان کی طرف سے بالکل بھی مطمئن نہیں کر پایا تھا نوف کے پریشان ہونے اور رونے پر وہ نوف کو ہسپٹل میں ازلان کے پاس لے آیا


ایسا ممکن نہیں تھا کہ نوف ازلان کو زخمی حالت میں دیکھ کر اس کے پاس نہ رکتی، ازلان کے ہاسپٹل سے ڈسچارج ہونے کے بعد وہ بیلا اور ازلان کے ساتھ اس کے فلیٹ میں آچکی تھی اس دن والے واقعے کے بعد سے نوف اور افراہیم کے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی ایسا نہیں تھا کہ اب افراہیم نوف سے بات چیت کرنے سے کترا رہا تھا وہ آفس کے بعد روز ازلان کے پاس آکر ڈیڑھ دو گھنٹے اس کے پاس بیٹھتا مگر نوف اس وقت یا تو خود کو کچن میں مصروف کرلیتی یا پھر دوسرے بیڈروم میں چلی جاتی

اسی دوران ازلان خود کو اچھے سے ری کور کرچکا تھا اور آج اسے اپنے چیک اپ کے لیے اسپتال جانا تھا جس پر کل شام افراہیم ازلان کو ہسپتال لے جانے کی ہامی بھر چکا تھا ازلان بیلا کے ساتھ ہسپتال جانے کے لیے تیار تھی،، اس وقت نوف گھر میں اکیلی تھی تھوڑی دیر پہلے ہی اس کی فون پر نازنین سے بات ہوئی تھی گھر کی ڈور بیل بجنے پر جب نوف نے دروازہ کھولا تو اپنے سامنے دروازے پر افراہیم کو کھڑا پایا ایک پل کے لئے دونوں کی نظریں ایک دوسرے سے ملی وہ دونوں ہی ایک دوسرے کو دیکھنے لگے

“کیسی ہو”
افراہیم فلیٹ میں داخل ہوتا ہوا نوف سے پوچھنے لگا

“ٹھیک ہوں، بھائی اور بیلا کہا ہیں”
افراہیم کو مختصر سا جواب دینے کے ساتھ ہی اندر آنے کا راستہ دیتی ہوئی وہ افراہیم سے ازلان اور بیلا کا پوچھنے لگی

“مطلب وہ دونوں گھر پر موجود نہیں ہیں مگر آج تو ازلان کو چیک اپ کے لیے جانا تھا میرے ساتھ”
افراہیم مڑ کر حیرت سے نوف کو دیکھتا ہوا اسے پوچھنے لگا

“مگر ان دونوں کو تو ہسپتال کے لئے گھر سے نکلے ہوئے ایک سے سوا گھنٹہ گزر چکا ہے میں سمجھی کہ وہ دونوں اب آپ کے ساتھ واپس آگئے ہوگے”
نوف کنفیوز ہوتی ہوئی افراہیم کو بتانے لگی

“ازلان کو میرے ساتھ ہی جانا تھا اور اس نے مجھے شام چھ بجے کا ٹائم دیا تھا”
افراہیم کلائی پر بندھی ہوئی واچ میں ٹائم دیکھتا ہوا بولا جو اس وقت چھ بجا رہی تھی مگر ساتھ ہی وہ ازلان کا پلان بھی سمجھ چکا تھا مگر نوف افراہیم کی بات سن کر پریشان ہوچکی تھی

“تو بھائی اتنے پہلے سے کیوں نکل گئے آپ بھائی کو کال کرکے ان سے پوچھیں ذرا، مجھے تو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا”
نوف پریشان چہرہ لیے افراہیم کو دیکھتی ہوئی بولی تو افراہیم نوف کو دیکھ کر مسکراہٹ چھپا گیا

“اس میں نہ سمجھ آنے والی کونسی بات ہے سمپل سے بات ہے وہ ہم دونوں کی ڈیٹ کا انتظام کرکے تبھی بیلا کو اپنے ساتھ لےکر گیا ہے”
افراہیم نوف کے قریب آتا ہوا سنجیدگی سے اس کو بتانے لگا مگر اس کی آنکھیں مسکرا رہی تھی

“ایسی فضول حرکتیں کرنے والے انسان نہیں ہے میرے بھائی” افراہیم کی بات پر نوف ناگواری سے بولتی ہوئی اپنے کمرے میں جانے لگی تو افراہیم نے نوف کی نازک سی کلائی پکڑلی

“اس پوری دنیا میں فضول سی حرکتیں کرنے والا انسان صرف ایک ہی ہے اور اتفاق سے وہ تمہاری قسمت میں لکھا جا چکا ہے کیوں سچ بول رہا ہوں میں”
افراہیم نوف کی کلائی پکڑے اس کی آنکھوں میں جھانکتا ہوا نوف سے پوچھنے لگا

“میں خود سے آپ کے بارے میں کیا کہہ سکتی ہوں آپ کو اپنے بارے میں مجھ سے زیادہ معلوم ہوگا”
نوف کے بولنے کی دیر تھی افراہیم نوف کی کمر پر اپنا بازو حائل کرتا ہوا اس کے ہونٹوں پر جھک گیا

“یہ کیا فضول حرکت ہے”
نوف افراہیم کو پیچھے ہٹاتی ہوئی ناگواری بولی تو افراہیم مسکرا کر نوف کے پیشانی کے بل دیکھنے لگا

“فضول انسان تو فضول حرکتیں ہی نہیں کرے گا”
افراہیم بولتا ہوا ایک بار پھر اس کے ہونٹوں پر جھکنے لگا مگر نوف اب کی بار اس کا ارادہ بھانپ کر افراہیم کو پیچھے دھکیلتی ہوئی بیڈ روم میں چلی آئی افراہیم مسکرا کر نفی میں سر ہلاتے ہوئے نوف کے پیچھے بیڈروم میں پہنچا اور بیڈروم کا دروازہ لاک کرنے لگا جس پر نوف سوالیہ نظروں سے افراہیم کو دیکھنے لگی

“ایسے کیا دیکھ رہی ہوں دروازہ اس لیے بند کررہا ہوں تاکہ اگر تمہارا بھائی جلدی واپس آگیا تو وہ سمجھ جائے کہ ہم دونوں ابھی بزی ہیں”
افراہیم نوف کو دیکھتا ہوا مزید فضول گوئی سے گویا ہوا

“اگر میرا بھائی واپس آئے گا تو ایک عدد ان کی بیوی بھی ان کے ساتھ ہوگی۔۔۔ جو میں آپ کو یاد دلادو کے رشتے میں آپ ہی کی بہن ہے”
نوف افراہیم کو بولتی ہوئی اسے شرم دلانے لگی مگر وہ بےشرمی سے مسکراتا ہوا نوف کے قریب آیا

“مجھے شرم دلانے کی بجائے تمہیں خود شرم آنی چاہیے پچھلے دو ہفتوں سے تم ان دونوں میاں بیوی کے بیچ کباب میں ہڈی بنی ہوئی ہو۔۔۔ واپس اب تمہیں میرے ساتھ گھر بھی جانا ہے یا پھر اپنے بھائی کے گھر ہی ڈیرہ جماۓ رکھنا ہے”
افراہیم دوبارہ نوف کے قریب آتا ہوا اس سے پوچھنے لگا

“بوجھ نہیں ہوں میں اپنے بھائی پر”
نوف افراہیم کو دیکھ کر جتاتی ہوئی بولی

“بھائی کے پاس آتے ہی اور زیادہ زبان چلنے لگی ہے تمہاری” افراہیم نے بولنے کے ساتھ اچانک نوف کو اپنے بازوؤں میں اٹھالیا

“کیا ہوگیا افراہیم آپ کو، یہ کیا کررہے ہیں آپ”
افراہیم کی اچانک حرکت پر نوف ایک دم بوکھلاتی ہوئی بولی

“اپنا بوجھ اٹھا رہا ہوں ڈیئر وائف”
افراہیم نوف کو بولتا ہوا اسے بیڈ کے پاس لٹا چکا تھا نوف نے اٹھنے کی کوشش کی تو افراہیم اس کو کندھوں سے تھامتا ہوا دوبارہ بیڈ پر لٹاکر اس کے اوپر جھکا

“پلیز افراہیم پیچھے ہٹیں”
اپنی گردن پر افراہیم کی سانسوں کی گرمائش محسوس کرتی ہوئی نوف افراہیم سے بولی

“جتنا ناراض ہونا ہے یا غصہ کرنا ہے میں سب برداشت کرلو گا مگر پلیز گھر چلو یہ دوری بالکل برداشت نہیں ہورہی ہے مجھ سے”
افراہیم نوف پر جھکا اس کا چہرہ دیکھتا ہوا اب کی بار بےحد سنجیدگی سے بولا

“میرے سامنے مظلوموں جیسی شکل بنانے کی ضرورت نہیں ہے میں آپ کے مزاج سے اچھی طرح واقف ہوچکی ہوں ابھی آپ جتنا نرم پڑ رہے ہیں چند گھنٹے بعد کسی بھی بات پر گرم ہوسکتے ہیں آپ کا کوئی بھروسہ نہیں”
نوف نے سوچ رکھا تھا کہ وہ اتنی جلدی نہیں مانے گی ابھی وہ جتنا اچھا بن رہا تھا اسے تھوڑی ہی دیر لگتی کسی بات پر غصہ آنے میں

“پکا اب میں غصے میں بالکل گرم نہیں ہوگا بلکہ اب میرا گرم ہونا تمہیں شرم دلایا کرے گا”
افراہیم نے بولتے ہوئے نوف کے گال پر اپنے ہونٹ رکھے

“آپ سدھرنے والی شے بالکل نہیں ہیں”
نوف افراہیم کی ذومعنی بات پر اسے گھورتی ہوئی بولی جس پر افراہیم مسکراہٹ چھپائے بغیر نوف کو دیکھنے لگا مگر پھر سنجیدگی سے بولا

“تمہاری دوری نے بالکل سدھار دیا ہے مجھے اور یہ احساس بھی دلایا ہے کہ تم میرے لیے بہت زیادہ معنی رکھتی ہو”
افراہیم نوف کا چہرہ دیکھتا ہوا اعتراف کرنے لگا

“تو پھر یہ کیوں بولا تھا کہ آپ مجھے اپنے دل میں بسا سکتے ہیں تو پھر نکال دے سکتے ہیں”
نوف افراہیم سے پرانی بات کا شکوہ کرتی ہوئی بولی

“اگر تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہیں اپنے دل سے نکال سکتا ہوں تو پھر اس دل میں جھانک کر دیکھ لو صرف اپنے آپ کو پاؤ گی”
افراہیم کے بولنے پر نوف خاموش ہوگئی کیوکہ افراہیم کے لہجے میں سچائی تھی

“ویسے اگر میں بابا بننے والا ہوں تو یہ خبر تمہیں سب سے پہلے مجھے سنانی چاہیے تھی”
اب کی بار افراہیم نوف سے شکوہ کرتا ہوا بولا کیوکہ یہ شکوہ تو اس کا بنتا تھا

“میں نے اسی ٹائم آنٹی کو کال کی تھی جب آپ آفس سے واپس آکر ان کے روم میں موجود ہوتے ہیں”
نوف افراہیم کو آنکھیں دکھاتی ہوئی بولی تو افراہیم کے ماتھے پر ہلکا سا بل نمدار ہوا

“فورا آنکھیں نیچے کرو اپنی”
افراہیم روعب دار لہجے میں بولا تو نوف غصے میں اسے دیکھنے لگی نوف کو غصے میں دیکھ کر افراہیم مظلومیت سے بولا

“اگر اس وقت مجھے تمہاری آنکھوں میں ڈوبنے کا دل چاہ گیا پھر مسلئہ ہوجاۓ گا یار”
افراہیم کے بولنے پر نوف مسکرانے لگی تو افراہیم بھی مسکرا کر اس کی پیشانی پر محبت بھرا لمس چھوڑ کر پیچھے ہوا کیوکہ باہر سے آتی آوازیں ازلان اور بیلا کے آنے کا پتہ دے رہی تھی

The End……….❣️❣️❣️