Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1


“صبح بخیر ڈاکٹر ماہین”
55 سالہ نرس زلیخا ڈاکٹر ماہین کے کمرے میں آتی ہوئی بولی، ڈاکٹر ماہین تھوڑی دیر پہلے اسپتال میں آئی تھی

“آپ کی تو کل رات کی ڈیوٹی تھی ابھی تک آپ یہی موجود ہیں، گھر نہیں گئیں اپنے”
ڈاکٹر ماہین زلیخا کی عمر کی وجہ سے ہمیشہ اسے عزت سے بات کرتی تھی، ساتھ ہی وہ اپنا کوٹ بھی پہننے لگی تاکہ وارڈ کا چکر لگا سکے تب زلیخا اسے بتانے لگی

“کل رات ایمرجنسی میں ایک بچی کو لایا گیا تھا جس کی وجہ سے ڈاکٹر ہدایت نے مجھے آن ڈیوٹی رہنے کو کہا”
زلیخا اس معصوم بچی کا تصور ذہن میں لا کر افسردگی سے ماہین کو بتانے لگی

“کیوں کیا کوئی زیادہ ہی اسپیشل کیس تھا جو آپ کو ہدایت صاحب نے یہاں رکنے کی ہدایت دی”
ماہین اپنا موبائل اٹھا کر مسکراتی ہوئی زلیخا سے پوچھنے لگی

“صرف 9 سال کی عمر ہے اُس بچی کی جس کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا پھر اُس کا گلا دبا کر اُس کو مارنے کی کوشش کی گئی۔۔۔ خوف کے مارے وہ بچی کل بری طرح چیخ رہی تھی۔۔۔۔ اُس بچی کے ساتھ زیادتی کرنے والا شاید کوئی جانور ہی ہوگا جس نے بڑی بےدردی سے اس کم سن بچی کے ساتھ،،، چیخیں نہیں سنی جارہی تھی مجھ سے اس بچی کی، کل رات بہت مشکل ہے اسے کنٹرول میں کرکے نیند کا انجکشن دیا گیا تھا”
زلیخا کی بات سن کر ڈاکٹر ماہین کا دل افسردہ ہونے لگا ایسا نہیں تھا کہ زندگی میں پہلا ایسا کیس اُس کے سامنے آیا تھا مگر جب بھی زیادتی کی ہوئی عورت یا بچی کو اسپتال میں لایا جاتا ہے وہ یونہی افسردہ ہو جاتی

“خدا غارت کرے ایسے درندوں کو جو معصوم بچیوں تک کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہوئے ایک بار بھی نہیں سوچتے کہ یہی عمل کل کو اُن کی بہنوں بیٹیوں کے ساتھ کوئی دوسرا کرے تو وہ خود کیسا محسوس کریں گے۔۔۔ اور دوسرا ہمارا قانونی نظام،، ایسے بھیڑیوں کی تو کوئی پکڑائی نہیں ہوتی کھلے عام دندناتے پھرتے ہیں”
ڈاکٹر ماہین سر جھٹک کر بولی اور ٹیبل پر رکھی ہوئی فائل دیکھنے لگی جو کہ روم نمبر 11 کی پیشنٹ کی تھی جس کو کل رات اسپتال میں بری حالت میں لایا گیا تھا

“مگر اِس موقع واردات پر اُس لڑکے کو پکڑ لیا گیا ہے جس نے اُس بچی کے ساتھ اتنا بےرحمانہ سلوک کیا تھا، ظفر بتا رہا تھا وہ خود بھی زیادہ بڑا نہیں ہے کم عمر ہے اس لڑکے کی”
زلیخا کی بات سن کر ڈاکٹر ماہین نے فائل سے سر اٹھا کر زلیخا کو دیکھا

“کم عمر ہو یا زیادہ عمر ہو، وہ مرد ہو یا پھر لڑکا ایسے ذلیل انسان کو سولی پر لٹکا دینا چاہیے”
ڈاکٹر ماہین فائل کو ٹیبل پر رکھ کر زلیخا کو دیکھتی ہوئی بولی ویسے ہی روم کا دروازہ کھلا وارڈ بوائے روم کے اندر داخل ہوتا ہوا بولا

“روم نمبر 11 کے پیشنٹ کی حالت بگڑ رہی ہے ڈاکٹر ہدایت نے فوری طور پر آپ کو روم نمبر 11 میں آنے کو کہا ہے”
جیسے ہی وارڈ بوائے نے ڈاکٹر ہدایت کا پیغام ڈاکٹر ماہین کو دیا ویسے ہی ڈاکٹر ماہین اور زلیخا دونوں روم نمبر 11 میں جانے کے لیے تیار ہوگئیں


“چھوڑ دو پلیز مجھے چھوڑ دو،، میں نہیں بولوں گی کسی کو کچھ نہیں بتاو گی، مجھے مت مارنا مجھے درد ہو رہا ہے بہت درد ہو رہا ہے”
نو سالہ بچی جوکہ اس وقت دو نرسیز اور ایک وارڈ بوائے کے قابو میں نہیں آرہی تھی اور ہذیانی انداز میں چیختے ہوئے وہ اسپتال کے کمرے کی کھلی کھڑکی کو مسلسل دیکھ رہی تھی، اُس وقت ڈاکٹر ماہین اور زلیخا بھی روم میں پہنچ گئی تھی

“یااللہ میری بچی۔۔۔۔ دیکھیں کیا حشر کر دیا اُس ظالم نے میری چھوٹی سی معصوم بچی کا”
زار و قطار ہوئی عورت پر ڈاکٹر ماہین کی نظر پڑی اُس عورت کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو اور آہیں بتا رہے تھے کہ وہ عورت اُس بچی کی ماں تھی اُس کے ساتھ ہی ڈھلکے ہوئے شانوں اور شکستہ انداز میں اُس عورت کو تسلی دیتا ہوا شخص یقیناً اس بچی کا باپ ہوگا جس بچی کو کل رات زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جبکہ کمرے کے ایک کونے میں 17 سے 18 سال کا لڑکا بھی موجود تھا جو اپنے آنسوؤں کو ضبط کیا ہوا اور دونوں مٹھیوں کو بھیجے ہوئے روتی ہوئی اُس بچی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ دونوں کی شکلوں میں مماثلت سے ڈاکٹر ماہین نے اندازہ لگایا کہ وہ اُس بچی کا بھائی ہوگا جوکہ ایک دم سے کمرے سے باہر نکل گیا

“پلیز آپ دونوں بھی روم سے باہر جائے پیشنٹ کو ہم سنبھالیں گے”
ڈاکٹر ماہین ان دونوں کے پاس آتی ہوئی آہستہ سے بولی جبکہ زلیخا سرنچ میں انجکشن بھر رہی تھی۔۔۔ ڈاکٹر ماہین کے بولنے پر وہ آدمی روتی ہوئی اپنی بیوی کو لے کر کمرے سے باہر نکل گیا


“اور کتنا راستہ رہتا ہے عباد”
ڈیڑھ گھنٹہ کی فلائٹ کے بعد مسلسل پانچ گھنٹے سے گاڑی کا سفر کرتی ہوئی نازنین اب تھک چکی تھی تبھی بےذار ہوتی ہوئی ڈرائیور کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھے ہوئے اپنے شوہر سے پوچھنے لگی

“یہ بات تم تین بار پوچھ چکی ہو نازنین ابھی بتایا تو ہے کہ مزید ایک گھنٹہ لگے گا۔۔۔ کرنا کیا ہے تمہیں بنگلے میں پہنچ کر آرام ہی کروں گی، اصل خواری تو میری ہے جسے اس لمبے سفر کے بعد مین ہیڈ کوارٹر میں جاکر آج ہی جوائننگ دینا ہے”
عباد خود بھی اس طویل سفر سے بیزار ہوچکا تھا اس لئے چڑتا ہوا نازنین سے بولا

“معلوم نہیں آرام کرنا ہے کہ گھر کی صفائی کروانی ہے، پتہ نہیں گھر صاف ستھرا ملے گا بھی یا نہیں”
نازنین جوکہ کافی صفائی پسند واقع تھی آہستہ سے بڑبڑاتی ہوئی بولی مگر اس کی بڑبڑاہٹ عباد سن کر کار ڈرائیو کرتے ہوئے قیوم سے پوچھنے لگا

“ہاں بھئی کیا نام ہے تمہارا گھر کی صفائی وغیرہ کروائی تھی، شاید میری فون پر تمہی سے بات ہوئی تھی پرسوں”
عباد اکیس گریڈ کا افسر تھا اس کی پوسٹنگ چند دنوں پہلے ہارڈ ایریا میں ہوچکی تھی آج ہی وہ بائی آئیر گلگت پہنچا تھا اور آج ہی اسے ڈیوٹی جوائن کرنا تھی کیونکہ گورنمنٹ کی طرف سے اُسے رہائش کے لیے سرکاری بنگلہ ملا تھا اسی لیے وہ اپنے ہمراہ نازنین اور دونوں بچوں کو بھی ساتھ لےکر آیا تھا

“جی صاحب پرسوں صفدر صاحب نے میری ہی آپ سے بات کروائی تھی۔۔۔ قیوم نام ہے میرا صاحب، میری گھر والی نے خادمہ سے کہہ کر رات میں ہی بنگلے کی صفائی ستھرائی کروا دی تھی۔۔۔ بستر پر صاف ستھری چادر اُس نے خود ہی بچھادی تھی، کھانے کا آپ جب بھی بولیں گے وہ میں اپنی گھر والی سے بنوا دوں گا”
قیوم کی ڈیوٹی اس سرکاری بنگلے میں پوسٹگ ہونے والے افسران کی ڈرائیوری کے ساتھ چھوٹے موٹے کام انجام دینا تھی۔۔۔ وہ عباد کو پوری تفصیل سے مکمل بات بتانے کے ساتھ ساتھ اپنا نام بھی یاد دلاتا ہوا بولا جوکہ شاید اس کے برابر میں بیٹھا ہوا یہ مغرور 21 گریڈ کا افسر دو بار پوچھنے کے بعد بھی بھول چکا تھا

“تو تم شادی شدہ ہو بچے وغیرہ ہیں تمہارے قیوم۔۔۔ میں تمہاری بیوی سے ملنا چاہوں گی ویسے کوارٹر کہاں پر ہے تمہارا”
نازنین بور ہونے کی وجہ سے ڈرائیونگ کرتے ہوئے قیوم سے پوچھنے لگی جس پر عباد نے باقاعدہ مڑ کر اس کو آنکھیں دکھائی جبکہ ڈرائیو کرتا ہوا قیوم مہذب انداز میں نازنین کو اپنی فیملی کے بارے میں بتانے لگا

“جی بیگم صاحبہ میں شادی شدہ ہوں ماشاءاللہ میرے بھی دو بچے ہیں، رخشی کو میں شام میں آپ کے پاس بھیج دوں گا اور میرا سرونٹ کوارٹر آپ کے بنگلے کی دیوار کے ساتھ ہی موجود ہے”
قیوم جس نے عباد کے چہرے پر چھائی ناگواری کا نوٹس نہیں لیا تھا ڈرائیونگ کرتا ہوا سادگی سے اپنے صاحب کی بیوی کو بتانے لگا

“کتنی بار کہا ہے نوکروں سے یوں فضول قسم کے سوالات مت پوچھا کرو”
قیوم کی بات مکمل ہونے پر عباد انگریزی میں نازنین کو ڈانٹتا ہوا بولا جس پر وہ خاموش ہوگئی قیوم کو انگریزی تو نہیں آتی تھی مگر وہ سمجھ گیا تھا کہ اس کا صاحب اپنی بیوی سے غصے میں مخاطب تھا اس لئے وہ خود بھی خاموشی سے ڈرائیونگ کرنے لگا جبکہ عباد کے تیز لہجے کی وجہ سے اس سفر کو انجوائے کرتی ہوئی 9 سال کی بیلا عباد کو دیکھنے لگی

“پلیز بابا ڈونٹ ڈو ڈیٹ آپ مما پر غصہ مت کریں”
سنہری بالوں میں دو پونیاں باندھے، ٹیڈی بیئر کو اپنی گود میں بٹھائے بیلا عباد کو دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔ گھر میں وہ سب سے چھوٹی تھی عباد ،نازنین، افراہیم سمیت سب کی لاڈلی بھی۔۔۔ جو پورے راستے اپنے ٹیڈی بیئر کے ساتھ سفر انجوائے کرتی ہوئی آرہی تھی

“نو ڈارلنگ یور بابا واث ناٹ گیٹنگ ایگری ہی واس ایکسپلینگ ٹو مما (نو ڈارلنگ آپ کے بابا غصہ نہیں کر رہے تھے مما کو سمجھا رہے تھے”)

عباد فوراً نرم لہجے میں اپنی نو سالہ بیٹی کو دیکھتا ہوا بولا۔۔ ایک نظر نازنین کو دیکھ کر ونڈوں سے باہر دیکھنے لگا۔۔۔ ویسے تو وہ اپنی بیوی سے بہت پیار کرتا تھا مگر اسے اپنی بیوی کی بےجا رحم دلی اور ملازموں سے ہمدردی کرنے والی عادت سے سخت چڑ تھی

“کتنا زیادہ بول رہے ہیں آپ سب لوگ، انسان سکون سے سو بھی نہیں سکتا”
افراہیم جوکہ سارے راستے سوتا ہوا آیا تھا نیند میں خلل ہونے کے باعث بیزار ہوتا ہوا بولا

“افی اب جاگ جاؤ آدھے گھنٹے بعد ہم پہنچنے والے ہیں”
نازنین اور بیلا کے ساتھ پیچھے بیٹھے ہوئے 17 سالہ بیٹے کی بیزاری کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے عباد اس سے بولا تو افراہیم مکمل بیدار ہوتا ہوا سیدھا ہوکر بیٹھ گیا۔۔۔ اب گاڑی میں موجود تمام افراد خاموشی سے سرکاری بنگلے میں پہنچنے کا انتظار کر رہے تھے


“تمہیں کتنی بار کہا ہے گل کے میرے کمرے میں آکر میری کتابوں کو ہاتھ مت لگایا کرو، سمجھ میں نہیں آتا تمہیں”
ازلان جیسے ہی اپنے کمرے میں داخل ہوا میز پر رکھی ہوئی اپنی کتابوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتی ہوئی اپنی چچازاد پر بگڑتا ہوا بولا

“ارے بھئی ان کتابوں میں کونسا خزانے کا نقشہ چھپا ہوا ہے جو تم یوں منہ بگاڑ رہے ہو باگڑ بلے”
گُل میز سے دوسری کتاب اٹھا کر پلنگ پر بیٹھتی ہوئی بولی، اُسے اپنے اس نک چڑے کزن کو عجیب ناموں سے پکارنے میں بڑا مزا آتا تھا

“یہ تم جیسے اٙن پڑھ لوگوں کی سوچ ہے جو کتابوں میں علم کی بجائے خزانے ڈھونڈتے ہیں،، واپس رکھو میری کتاب اور خبردار جو تم نے آئندہ مجھے الٹے سیدھے نام سے پکارا”
ازلان گُل کی بات کے جواب میں طنز کرتا ہوا بولا کیونکہ وہ 7جماعتں پڑھنے کے بعد تعلیم کو خیرباد کہہ چکی تھی ساتھ ہی ازلان کو گُل کا یوں بے تکلف ہونا زہر لگتا تھا جو یو بےدھڑک ہوکر اس کے کمرے میں آکر اُس کی چیزوں میں گھستی تھی

“ہا، بات تو تم ایسے کر رہے ہو جیسے اتنا پڑھ لکھ کر تمہیں کہیں کا افسر لگنا ہے، ہمارے باپ دادا نے ساری زندگی اِن افسران کی چاکری میں گزار دی ہے تمہیں بھی زیادہ اونچی اڑان اڑنے کی ضرورت نہیں ہے، کل کلاں کو تمہیں بھی وہی سب کچھ کرنا ہے جو ہمارے بڑوں نے کیا ہے”
گل ازلان کے طنز کر جلتی ہوئی بولی اور اس کی کتاب کو پلنگ پر پٹختی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی

“اس میں اونچی اڑان اڑنے والی کونسی بات ہے، جو جیسی سوچ رکھتا ہے جس کا جیسا معیار ہوتا ہے وہ ویسے ہی خواب دیکھتا ہے مگر تم نہیں سمجھو گی کیونکہ تعلیم بھی اُسی انسان کو سنوارتی ہے جو اس کی اہمیت کو جانتا ہو”
اذلان گُل سے بولتا ہوا پلنگ پر رکھی ہوئی اپنی کتاب اٹھا کر واپس میز پر رکھنے لگا۔۔۔۔ وہ بچپن سے ہی الگ طبیعت کا مالک تھا الگ سوچ رکھنے والا، 17 سالہ اذلان فرسٹ ایئر کا اسٹوڈنٹ تھا

“خواب دیکھنے پر پابندی نہیں ہوتی ہے باگڑ بلے، سیدھی سی بات ہے ہم غریب لوگ تو اپنے لیول کے خواب دیکھتے ہیں تم اپنا لیول اونچا کرکے زیادہ مہنگے خواب دیکھ لو مگر ان مہنگے خوابوں کو دیکھنے کے لیئے سونا تمہیں اِس بوسیدہ پلنگ پر ہی پڑے گا”
گل گہرا طنز کرتی ہوئی ازلان کو دیکھ کر ہنستی ہوئی بولی

“جو اپنی خواہشات کی تکمیل کرنا جانتے ہوں اور جن کو اپنے اوپر مکمل بھروسا ہو وہ اپنے خوابوں کو حاصل کرنے کے لیے کانٹوں سے گزر کر اپنی منزل پر پہنچنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔۔۔۔ اب تم میرا زیادہ دماغ مت کھاؤ تمہیں چچی بلا رہی ہیں، جاؤ جاکر بکریوں کو چارہ ڈالو”
ازلان ابھی خود بھی مارکیٹ سے جاکر کھانے پینے کا کافی سامان لے کر آیا تھا کیوکہ آج رات رخشی کو کھانا صاحب لوگوں کی فرمائش کے مطابق بنانا تھا۔۔۔ گُل اذلان کی باتیں سن کر آنکھیں گھماتی ہوئی اُس کے کمرے سے نکل گئی جبکے ازلان اپنے سیلن ذدہ کمرے کا دروازہ بند کرنے لگا کیونکہ اُسے اپنے کل کے ٹیسٹ کی تیاری کرنا تھی


“کھانا بھجوا دیا تھا عباد صاحب کے بنگلے پر” قیوم تھوڑی دیر پہلے گھر میں داخل ہوا تھا ہاتھ منہ دھو کر کمرے میں بچھے دسترخوان پر بیٹھتا ہوا رخشی سے پوچھنے لگا

“ہاں نثار دے آیا تھا، بتا رہا تھا کہ نیا افسر اپنی بیوی بچوں کے ساتھ آیا ہے ویسے کیسی ہے نئے افسر کی بیوی اور بچے کتنے بڑے ہیں ان لوگوں کے”
ْقیوم کے پوچھنے پر ٹرے میں کھانا لاتی ہوئی رخشی اپنے شوہر سے عباد کی بیوی اور بچوں کے بارے میں پوچھنے لگی

“کیسا ہونا ہے افسر کی بیوی کو، جیسے صاحب لوگوں کی بیویاں ہوتی ہیں پڑھی لکھی اور خوبصورت ویسی ہی ہے۔۔۔ اتفاق سے عباد صاحب کے بچے اپنے ازلان اور نوف کہ ہم عمر ہیں۔۔۔۔ خیر ہمیں کیا لینا دینا ان لوگوں سے یا اُن کے بچوں سے۔۔۔۔ بس نثار کو اچھی طرح سمجھا دینا کہ عباد صاحب کو کوئی شکایت کا موقع نہ دے بہت مشکل سے اسکے لیے صفدر صاحب کی منت سماجت کرنے کے بعد اس نوکری کا بندوبست کیا ہے”
قیوم چنگیر سے روٹی نکالتا ہوا سامنے بیٹھی اپنی بیوی سے بولنے لگا جوکہ پلاسٹک کے جگ سے اسٹیل کے گلاس میں اس کے لیے پانی بھر رہی تھی

“شکایت کا موقع نہ دے نثار، اچھا لطیفہ سنایا تم نے۔۔۔۔ تمہارا چھوٹا بھائی کوئی ایک جگہ ٹک کر نوکری کرلے تو بڑی بات ہے آج بھی میں نے ازلان کو مارکیٹ بھیج کر گوشت اور سبزی منگوائی تاکہ رات میں افسر لوگوں کا کھانا تیار ہوسکے کیونکہ تمہارا بھائی تو تھڑے پر بیٹھا ہوا اپنے ناکارہ دوستوں کے ساتھ پتے کھیلنے میں مصروف تھا۔۔۔ اور اُس کی بیوی کو اس عمر میں بھی سُرخی پاؤڈر لگا کر آئینے کے سامنے کھڑے رہنے سے فرصت ہی کہاں ملتی ہے جو عدنان اور گُل پر نظر رکھ سکے”
رخشی سر جھٹک کر اپنے دیور کے ساتھ ساتھ اُس کی بیوی غزل کے بھی کرتوت اپنے شوہر کو بتانے لگی جسے سن کر قیوم کے ماتھے پر بل پڑے

“تمہیں نثار اور غزل کے بچوں میں کون سے گُھن نظر آنے لگے اِس سے بہتر یہ ہے کہ تم اپنے بچوں پر نظر رکھو”
نثار اور غزل کی لاابالی طبیعت کو نظر انداز کرکے قیوم الٹا رخشی سے بولا تو رخشی کھانے سے ہاتھ روک کر شوہر کو جتاتی ہوئی بولی

“قیوم صاحب تمہیں اپنے بچوں میں کون سے گُھن نظر آنے لگے ہیں جو تم اپنے چھوٹے بھائی کے بچوں کا میرے بچوں سے مقابلہ کر رہے ہو۔۔۔ عدنان کو دیکھا ہے بالکل اپنے باپ کے نقش قدم پر چل رہا ہے کس طرح کے لڑکوں میں اٹھنا بیٹھنا شروع کر دیا ہے اس نے اور وہ گُل کتنی کم عمری میں کیسے فراٹے بھر کے زبان چلاتی پھرتی ہے،، نہ اسے بڑوں کا ادب کرنا آتا ہے نہ ہی کسی کا لحاظ کرتی ہے۔۔۔ میری نوف اس سے عمر میں دو سال چھوٹی ہونے کے باوجود کیسے سیدھی سادی سی ہے اور میرا ازلان وہ تو اپنی کتابوں سے مجال ہے جو نظریں اٹھا کر کسی کو دیکھ لے”
رخشی آخر میں فخریہ انداز میں گردن اکڑا کر اپنے بچوں کی تعریف کرنے کے بعد آرام سے کھانا کھانے لگی جبکہ قیوم اپنا کھانا چھوڑ کر سامنے بیٹھی ہوئی بیوی کو گھورتا ہوا بولا

“اری نیک بخت مان لیا اس پورے علاقے میں تمہارے بچوں کے جیسے کسی دوسرے کی اولاد نہیں ہے، جاؤ اب بادام کا حلوہ لے آؤ جو تم نے صبح بنایا تھا”
قیوم اپنی بیوی کے سامنے ہار مانتا ہوا بولا کیونکہ وہ جانتا تھا اس کی بیوی اپنے اولاد کے بارے میں بالکل سچ بول رہی ہے

“دوپہر میں کھا لیا تھا تم نے وہ حلوہ میں نے ازلاان کے لیے بچا کر رکھا ہے”
رخشی کھانے کے جھوٹے برتن اٹھا کر کچن کا رخ کرتی ہوئی بولی

“یہ بھی صحیح ہے بادام کا شربت بھی روز روز بیٹے کو بناکر دو اور حلوہ بھی بیٹا ہی کھائے”
قیوم شکر ادا کرنے کے بعد دسترخوان سے اٹھ کر بڑبڑاتا ہوا بولا

“تو پڑھ لکھ کر بڑا افسر بھی اسی کو بننا ہے”
کچن سے آتی ہوئی رخشی کی آواز پر قیوم ہنستا ہوا بستر پر سونے کے غرض سے لیٹ گیا کیونکہ صبح آٹھ بجے اسے عباد کو افس چھوڑ کر آنا تھا


جاری ہے