No Download Link
Rate this Novel
Episode 21
“یہ کیا کیا ہے تم دونوں نے مل کر میرے ساتھ، میں پوچھتی ہوں تیری ہمت کیسے ہوئی عدی کے تو اس کلیم کے ساتھ میرا رشتہ جوڑ آیا، جو پہلے سے ہی اپنی دو بیویاں کھا چکا ہے۔۔۔ بتا کتنے پیسے مانگے اس سے تو نے میرے بدلے”
غزل اور عدنان دونوں صحن میں بیٹھے ہوۓ تھے تب گل ان دونوں کے پاس آتی ہوئی غصے میں بولی
“دیکھ رہی ہو اماں کیسے گز بھر کی زبان چل رہی ہے اس کی، ابے کیا تجھے بیاہ نہیں رچانا کسی سے یا پھر اسی دہلیز پر بڑھیا ہوکر ساری زندگی ہمارا خون چوستی رہے گی تو”
عدنان غزل سے گل کی شکایت کرتا ہوا خود بھی گل پر غصے نکلاتا ہوا بولا
“اس کلیم سے بیاہ نہیں رچانا ہے مجھے، جو پہلے ہی دو بیویاں ڈکار چکا ہے اور تجھے کب سے میرے بیاہ کی فکر ہونے لگی کبھی تو نے یہ بھی خیال کیا ہے جو تو صبح شام ڈنگروں کی طرح یہاں بیٹھ کر کھانا ٹھونستا ہے یہ پیسا کہاں سے آتے ہیں”
گل غصے میں بھری ہوئی دانت پیس کر عدنان سے بولی جسے گھر بار کی سرے سے ہی فکر نہیں تھی۔۔ اپنے جواری نشئی دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے کے بعد وہ دو دو دنوں بعد گھر آکر غزل کو اپنی شکل دکھاتا تھا
“توبہ میرے مالک دو پیسے کیا کماکر لانے لگی کیسے منہ بھر کر طعنے نکال رہی ہے میرے عدی پر،، اری اگر تیرے بھائی نے تیرے بیاہ کا سوچا ہے تو بھلا ہی سوچا ہوگا کلیم کے علاوہ کون تجھ جیسی چلتی پھرتی قینچی کو منہ لگاۓ گا”
غزل سے گل کی زبان برداشت نہیں ہوئی تو وہ بھی اس پر چڑھائی کرتی ہوئی بولی
“بس اماں تمہارے ہی منہ کھولنے کی کمی رہ گئی تھی اگر تم نے اس ذلیل انسان کا ساتھ دیا ناں تو سن لو کان کھول کر،، بھاگ جاؤ گی میں اس گھر سے اور تم دونوں میری فکر کرنا چھوڑ دو جس سے میرا باپ مجھے منسوب کر کے گیا تھا وہی اپنائے گا مجھے”
گل باری باری ان دونوں کو دیکھتی ہوئی بولی
“ہاہاہا دیکھو تو بلی کو خواب میں کیسے چھچھڑے نظر آرہے ہیں اماں۔۔۔ ارے اس پڑھاکو نے پہلے کبھی تجھے منہ نہیں لگایا وہ اب تجھے کیا اپنائے گا۔۔۔ اگر تو اس ازلان سے امید لگا کر کلیم سے انکار کرے گی تو یاد رکھ۔۔ نہ تو ادھر کی رہے گی نہ ہی ادھر کی”
عدنان ہنستا ہوا گل کی ساری خوش فہمیاں دور کرتا ہوا اس سے بولا تو غزل بھی تنک کر بولی
“اری منحوس ماری تو اب بھی اس مجرم کے خواب دیکھ رہی ہے جو سزا کاٹ کر آیا اور کیسے اس نے ہمارے ہی سامنے عدی کو روئی کی طرح دھوند کر رکھ دیا تھا۔۔۔ دیکھ گل اس ازلان کا خیال اپنے دل و دماغ سے نکال دے اور کلیم کے لیے ہامی بھرلے کیوکہ میں تیری شادی اس اذلان سے تو ہرگز نہیں ہونے دوں گی”
غزل گل کو دیکھ کر اپنا فیصلہ سناتی ہوئی بولی
“تم دونوں بھی میری ایک بات یاد رکھنا اگر تم دونوں نے مجھے کلیم سے شادی کرنے پر مجبور کیا تو میں سچ میں یہ گھر چھوڑ کر بھاگ جاؤں گی”
گل ان دونوں ماں بیٹے کو دھمکی دیتی ہوئے خود کمرے میں چلی گئی
“دیکھ رہی ہو اماں کیسے بار بار گھر چھوڑ کر بھاگنے کی دھمکی دے رہی ہے وہ بھی ہمارے منہ پر، اس کا پہلی فرصت میں فیکٹری جانا بند کرو اور ہفتے بھر میں اسے کلیم کے ساتھ رخصت کرو اس سے پہلے یہ واقعی گھر چھوڑ کر بھاگ جائے اور ہماری بچی کچی عزت مٹی میں ملادے”
عدنان آہستہ آواز میں غزل سے بولتا ہوا گھر سے باہر نکل گیا تاکہ کلیم کو ہفتے بعد برات لے کر آنے کا بول سکے۔۔۔ جوا کھیلتے ہوئے وہ جتنی بڑی رقم ہار چکا تھا گل کا کلیم کے ہاتھوں سودا کرنے کے سوا اور کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا تھا ورنہ کلیم جیسا آدمی جو اپنی دو بیویوں کو جان سے مار چکا تھا ناجانے عدنان کا کیا حشر کرتا
“تم بھی سوچ رہی ہوگی آؤٹ سائیڈر جتنے بھی لوگ آئے سبھی تمہیں منہ دکھائی دے کر چلے گئے اور سسرال کے سربراہ نے ابھی تک خالی خولی تعریفوں پر ہی ٹرخایا ہوا ہے” رات کے ڈنر کے بعد جب افراہیم نوف اور بیلا نازنین کے کمرے میں موجود تھے۔۔ نازنین لاکر میں سے ایک ڈائمنڈ کا سیٹ نکال کر نوف کے پاس آتی ہوئی اس سے مخاطب ہوئی
“میں ایسا کچھ بھی نہیں سوچ رہی ہوں آپ کے خلوص اور محبت کے آگے تو باقی تمام یہ دنیاوی چیزوں بےمعنی لگتی ہیں مجھے”
نوف نازنین کو دیکھتی ہوئی بولی وہ کل سے ہی نازنین کو بہت خوش اور مطمئن دیکھ رہی تھی جو چھوٹی چھوٹی باتوں کا اس سے پوچھ رہی تھی اور اس کا خیال رکھ رہی تھی
“اور میرے خلوص اور محبت کی تو کل رات سے ہی ایسی کی تیسی ہورہی ہے”
اپنے بےحد قریب صوفے پر بیٹھے ہوئے افراہیم کا جملہ نوف کے کانوں سے ٹکرایا۔۔۔ وہ آج سارا دن ہی نوف کو نظر نہیں آیا تھا، تھوڑی دیر پہلے کھانے کی ٹیبل پر نوف نے اس کو دیکھا تھا اور جب وہ نازنین کے کمرے میں آکر صوفے پر بیٹھی تو افراہیم بھی اس کے ساتھ صوفے پر بالکل قریب جڑ کر بیٹھ گیا بالکل ایسے کہ نوف کا بازو افراہیم کے بازو کو چھونے لگا۔۔۔ نوف غیر محسوس طریقے سے افراہیم سے تھوڑا دور ہوئی تو افراہیم مزید پھیل کر بیٹھ گیا،، اب افراہیم کی تھائی نوف کی تھائی سے مسلسل ٹچ ہورہی تھی
“تم کیا آئستہ آواز میں اپنی بیوی سے سرگوشیاں کررہے ہو سائیڈ میں ہوکر بیٹھو ذرا”
نازنین نوف کے پاس آتی ہوئی افراہیم سے بولی
“جو حکم آپ کا”
افراہیم نازنین کو بولتا ہوا شرافت سے تھوڑا دور سرک کر بیٹھ گیا تاکہ نوف کے برابر میں نازنین بھی بیٹھ سکے جبکہ بیلا اس وقت کمرے میں موجود ہوکر بھی ذہنی طور پر وہاں نہیں تھی وہ عجیب سی کشمکش میں مبتلا تھی اسے اذلان کی بات ماننی چاہیے تھی یا کہ رد کردینی چاہیے تھی کیونکہ آخر میں ازلان نے اعتبار والی بات بولی تھی
“آنٹی یہ تو بہت قیمتی لگ رہا ہے میں اسے کیسے قبول کرسکتی ہوں”
نازنین نے ڈبہ کھول کر نوف کی طرف بڑھایا اس میں جگمگاتا ہوا ہیرے کا ہار دیکھ کر نوف ایک دم بولی
“یہ کیا بات کردی بیٹا تم نے، میری افی کی دلہن ہو تم مطلب اس گھر کی بہو۔۔۔۔ جو تمہاری اس گھر میں اہمیت ہے اس کے آگے یہ تحفہ بہت حقیر ہے۔۔۔ یہ نیکلیس اگر تم ابھی پہنوں گی تو میں سمجھوں گی تم نے میرے دیا ہوا تحفہ دل سے قبول کیا”
نازنین نے بڑے پیار سے اور مان سے نوف کو دیکھ کر کہا تو نوف نے آگے ہاتھ بڑھا کر ڈبے میں سے نیکلس نکال لیا
“کیا میں کچھ ہیلپ کردو تمہاری”
افراہیم نوف کے ہاتھ سے نیکلس لیتا ہوا بولا تو نوف کی پلکیں خود بخود جھک گئی وہ نوف کو نیکلس پہنانے لگا تو نازنین کے ہونٹوں پر مسکراہٹ در آئی،، نوف کے چہرے کا رخ نازنین کی طرف تھا جبکہ اس کی پشت افراہیم کی طرف تھی جو نیکلس کا لاک بند کرنے کے ساتھ مسلسل اپنی انگلیوں سے اس کی گردن کو چھو رہا تھا
“کیا آپ نے لاک چیک نہیں کیا تھا مما یہ لاک تو لگ ہی نہیں رہا اور تم یہ لمبی لمبی زلفیں تو سائیڈ میں کرو اپنی”
افراہیم بولتا ہوا نوف کے بالوں کو کندھے سے آگے کرنے لگا اب افراہیم کے ایک ہاتھ کی انگلیاں آئستہ آئستہ نوف کی کمر کو چھونے لگیں افراہیم کی طرف پشت کیے وہ سانس روکے ہوۓ بالکل سیدھی ہوکر بیٹھی ہوئی ضبط کرنے کے علاوہ وہ کچھ کر بھی نہیں سکتی تھی۔۔۔ وہ نازنین کی موجودگی کا احساس کرتی ہوئی خاموش تھی
“ماشاءاللہ ماشاءاللہ دیکھو کتنی پیاری لگ رہی ہے میری بہو”
نازنین اپنا خریدا ہوا نیکلس نوف کے گلے میں دیکھ کر خوشی سے بولی اور نوف کا ماتھا چومنے لگی
“کہیں بہو آنے کی خوشی میں آپ کو اپنا بیٹا تو پرانا نہیں لگنے لگا”
نوف کا رخ ابھی تک نازنین کی طرف رخ تھا اسے اپنی پشت سے افراہیم کی آواز سنائی دی
“ایسا ہوسکتا ہے بھلا میرے بیٹے میں تو میری جان بستی ہے”
نازنین نوف کے پیچھے بیٹھے ہوئے افراہیم سے بولی۔۔ اس سے پہلے نوف سیدھی ہوکر بیٹھتی اچانک افراہیم کا سینہ مکمل طور پر نوف کو اپنی کمر پر جھکتا ہوا محسوس ہوا
“پھر جلدی سے مجھے بھی ویسے ہی پیار کریں جیسے آپ نے اپنی بہو کو کیا تھا”
آفراہیم نوف کو درمیان سے ہٹائے بغیر نازنین کے قریب اپنا چہرہ لے آیا تو نازنین اس کی بچوں جیسی فرمائش پر ہنستی ہوئی افراہیم کے ماتھے پر بھی بوسہ دینے لگی۔۔۔ نوف افراہیم کی حرکتوں پر اندر ہی اندر غصہ آرہا تھا وہ کافی دیر سے بہانے بہانے سے اس کو ٹچ کیے جارہا تھا افراہیم سیدھا ہوکر بیٹھ گیا تو نوف خود بھی سیدھی ہوتی ہوئی غصے بھری نظروں سے افراہیم کو دیکھنے لگی مگر افراہیم کے چہرے کے تاثرات بتارہے تھے نوف کے غصے کی پروا کسے تھی
“میں کل سے تم دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر بہت خوش ہوں اللہ پاک تم دونوں کی جوڑی ہمیشہ سلامت رکھے”
نازنین افراہیم اور نوف کو ایک ساتھ بیٹھا دیکھ کر دعا دینے لگی
“آپ نے یمنہ کو تحفہ دیا اور پیار بھی دیا اور دعا بھی دی،، بھئی یمنہ اب تمہاری باری ہے تمہیں بھی کچھ اسپیشل سے مما کو دینا چاہیے جس سے مما بھی خوش ہو جائیں”
افراہیم کے یوں اچانک بولنے پر نوف ایک دم گھبرا گئی
“جی کیوں نہیں جو آنٹی بولیں”
نوف کو کچھ سمجھ میں نہیں آیا وہ کیا بولے،، اس کے پاس ایسا نازنین کو یا کسی کو بھی دینے کے لیے کیا تھا مگر نازنین کے خلوص کو دیکھتی ہوئی وہ ایک دم بول گئی
“مجھے بھلا اپنے بچوں سے کیا چائیے ہوگا میں تو تم تینوں کو خوش دیکھ کر خوش ہوں، بس اوپر والے سے میری دعا ہے جیسے اس نے مجھے اتنی پیاری سی بہو دی ہے ویسے ہی جلدی سے مجھے دادی بھی بنادے”
نازنین کی بات ختم ہوتے ہی نوف کو اتنی زور کا پھندہ لگا جس سے وہ بری طرح کھانسنے لگی نوف کے کھانسنے پر بیڈ پر بیلا بھی ہوش کی دنیا میں آئی
“ارے یمنہ بیٹا یہ کیا ہوگیا اچانک”
نازنین نوف کو دیکھ کر پریشانی سے پوچھنے لگی
“لگتا ہے زور کا جھٹکا کافی زور سے لگ گیا ہے”
افراہیم کھانستی ہوئی نوف کی کمر سہلاتا ہوا بولا
“میں پانی لےکر آتی ہوں بھابھی آپ کے لئے”
بیلا ایک دم بیڈ سے اٹھتی ہوئی بولی تو نوف نفی میں سر ہلا کر کھانستی ہوئی صوفے سے اٹھ کر روم سے باہر نکل گئی
“یہ بھابھی کہاں چلی گئیں”
بیلا افراہیم کو دیکھ کر پوچھنے لگی
“شرما گئی ہوگی بےچاری مما کی دعا سن کر”
افراہیم کے شرارت سے بولنے پر پاس بیٹھی نازنین نے زور سے افراہیم کے بازو پر اپنا ہاتھ مارا
“جیسے میں جانتی نہیں ہوں تم کیا بلاوانا چاہ رہے تھے مجھ سے”
نازنین کے بولنے پر افراہیم مسکرا کر بیلا کو اشارے سے اپنے پاس بلانے لگا
“خاموش کیو بیٹھی ہوئی تھی اتنی دیر سے، کیا سوچ رہی ہو”
بیلا نوف کی جگہ پر آکر بیٹھی تو افراہیم بیلا سے پوچھنے لگا وہ اتنی دیر سے بیلا کی غائب دماغی کو نوٹ کرچکا تھا
“سمجھ میں نہیں آرہا ہے جو سوچ رہی ہو آپ دونوں سے شئیر کرو کہ نہیں”
بیلا کا دل چاہا وہ نازنین اور افراہیم کے سامنے اپنے اور ازلان کے نکاح کا بتادے
“بیٹا ایسی کیا بات ہے بولو ناں”
قریب بیٹھی ہوئی نازنین پیار سے بیلا سے پوچھنے لگی جبکہ افراہیم اس کے بولنے کا انتظار کرنے لگا
“کل یونیورسٹی کے سارے اسٹوڈنٹس مری کے ٹرپ پر جارہے ہیں تو میں نے سوچا اگر میں بھی ان سب کے ساتھ چلی جاتی” ابھی بیلا کا بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کے نازنین بول پڑی
“ارے نہیں بیٹا تم پہلے کبھی اکیلی کہیں نہیں گئں تو اب کیسے جاؤں گی”
نازنین پریشان ہوکر بیلا کو سمجھانے لگی تو افراہیم بول پڑا
“ایک منٹ مما مجھے بات کرنے دیں، بیلا کیا تم جانا چاہتی ہو”
افراہیم بیلا کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا تو بیلا نے اثبات میں سر ہلا کر فورا جھکالیا
“ٹھیک ہے تم چلی جاؤ ساتھ ہی اپنا خیال رکھنا اور ڈھیر سارا انجواۓ کرنا”
نازنین کے کچھ بولنے پر افراہیم اس کو آنکھوں کے اشارے سے روکتا ہوا بیلا سے بولا تو بیلا سر اٹھا کر افراہیم کو دیکھنے لگی
“تھینک یو بھائی”
وہ بغیر مسکراۓ افراہیم کو دیکھ کر بولی کیونکہ اسے اندر سے ایسے جھوٹ بول کر کوئی خوشی نہیں ہوئی تھی نازنین کو شب بخیر کہتی ہوئی بیلا وہاں سے چلی گئی
“وہ کیسے رہے گی افی ہم دونوں سے دور وہ تو پہلے کبھی بھی اس طرح کہیں نہیں گئی”
نازنین افراہیم کے اجازت دینے پر پریشان ہوتی ہوئی بولی تو اس افراہیم نازنین کا ہاتھ تھام کر بولا
“ہم سے دور جاکر وہ کیوں نہیں رہ سکتی مما، اسی کے گروپ کی دوسری لڑکیاں بھی ہوگیں بیلا کے ساتھ۔۔۔ آپ بھی تو چاہتی ہیں کہ وہ دوسری لڑکیوں کی طرح سب میں گھلے ملے تو پھر اس کو جانے دیں اور آپ بھی ریسٹ کریں میں چلتا ہوں اب”
افراہیم نازنین کو بولتا ہوا اپنے روم میں جانے کے لئے اٹھ گیا
“شرم تو بالکل نہیں آتی آپ کو اپنی مما کے سامنے ایسی فضول حرکتیں کرتے ہوئے”
افراہیم کے کمرے میں آتے ہی نوف اس کو دیکھ کر بیڈ سے اٹھتی ہوئی بولی
“ایک پرسنٹ بھی نہیں آتی اور اب تم اچھی طرح یہ بات سمجھ جاؤ کہ میں کتنا بےشرم آدمی ہوں، میرے ساتھ اگر رہنا ہے تو سیدھے طریقے سے رہنا پڑے گا”
افراہیم نوف کو جواب دیتا ہوا وارڈروب سے اپنے کپڑے نکالنے لگا تب نوف کو ڈنر والا سین یاد آیا
آج ڈنر کے وقت افراہیم نے اسے اپنے برابر والی کرسی اس کے بیٹھنے کے لیے کھسکائی تھی مگر نوف جان بوجھ کر دوسری کرسی پر جاکر بیٹھی یہ بات اور تو کسی نے محسوس نہیں کی تھی مگر افراہیم سوچ چکا تھا وہ اس کا بدلہ کمرے میں نہیں بلکہ سب کے سامنے لے گا
“کہاں جارہی ہو”
نوف کو کمرے سے جاتا ہوا دیکھ کر افراہیم اس سے پوچھنے لگا
“آنٹی کو میڈیسن دینے ان کے سونے کے بعد ہی میں سوتی ہوں”
نوف افراہیم کو دیکھتی ہوئی بتانے لگی بےشک اب اس کی حیثیت اس گھر میں پہلی والی نہیں تھی مگر نازنین کے کاموں کو اس نے اپنی ذمہ داری سمجھ لیا تھا
“مما کو میڈیسن میں دے چکا ہوں اور وہ سونے کے لئے لیٹ چکی ہیں، تم بھی ڈریس چینج کرو اور سونے کی تیاری کرو”
افراہیم نوف کو دیکھتا ہوا بولا تو نوف چینج کرنے سے پہلے آئینے کے سامنے کھڑی ہوکر اپنے گلے میں پہنا ہوا نیکلس اتارنے لگی جس کا لاک اس سے نہیں کھل رہا تھا افراہیم نوف کے پاس آنے لگا
“مجھے آپ کی مدد کی ضرورت نہیں ہے پلیز افراہیم”
نوف آئینے میں سے افراہیم کو دیکھتی ہوئی بولی تب بھی افراہیم اس کی بات کو نظر انداز کرتا ہوا نوف کے قریب آکر اسکو دونوں بازوؤں سے پکڑ کر نوف کا رخ اپنی طرف کر چکا تھا
“کیا وجہ ہے تمہارے اس بی ہیویئر کی بتاؤ مجھے”
افراہیم غصہ کنٹرول کرتا ہوا نوف سے پوچھنے لگا اس کے چہرے کے تاثرات بالکل سیریس تھے
“آپ بات کو بلاوجہ میں بڑھا رہے ہیں”
نوف افراہیم کے ماتھے پر شکنیں دیکھ کر اس سے بولی
“غلط، بات کو میں نہیں بڑھا رہا بلکہ تمہارا یہ رویہ ہمارے اس نئے رشتے کو خراب کررہا ہے۔۔۔ میں وجہ جاننا چاہتا ہوں تم مجھے ناپسند کرتی ہو تو کیو؟؟ ہمارا رشتہ جڑنے کے باوجود تم خوش نہیں،، کیا وجہ ہے جواب دو مجھے یمنہ”
افراہیم بغیر اس کا بازو چھوڑے دوبارہ نوف سے بولا اب کی بار اس کا لہجہ تھوڑا سخت تھا وہ خاموشی سے افراہیم کا چہرہ دیکھنے لگی وہ اسے کیا بتاتی۔۔۔۔ بچپن سے وہ اس کے ساتھ کیا سلوک کرتا آیا تھا اگر وہ جان جاتا ہے کہ اس کی بیوی اس کے ملازم کی بیٹی ہے تب افراہیم کا اس کے ساتھ کیسا سلوک ہوتا
“میں آپ کو ناپسند نہیں کرتی ہوں بس یوں اچانک سے ہمارا رشتہ جڑ گیا ہے تو یہ سب کچھ میں فوری طور پر قبول نہیں کر پارہی ہو، یہ بات آپ کو بھی سمجھنا چاہیے پلیز مجھے تھوڑا سا ٹائم دیں”
افراہیم کو غصے میں دیکھ کر نوف نرم پڑتی ہوئی بات بناکر بولی
“یہی وجہ ہے یا پھر کچھ اور،،، مجھے بالکل سچ سننا ہے”
افراہیم کے ہاتھوں کی گرفت اس کے بازو پر ہلکی ہوئی تھی مگر لہجہ اب بھی ویسا ہی تھا
“اور بھلا کیا وجہ ہو سکتی ہے پلیز افراہیم مجھے نیند آرہی ہے اور چینج بھی کرنا ہے”
نوف اس کی باتوں سے بچنے کی خاطر خود بھی نظریں چراتی ہوئی بولی تو افراہیم نوف کا رخ موڑ کر اس کی پشت اپنی طرف کرتا ہوا نیکلس کا لاک کھولنے لگا۔۔۔
نوف آئینے سے افراہیم کا چہرہ دیکھنے لگی جو ابھی بھی سنجیدہ تھا، اس کے بعد نوف چینج کرنے چلی گئی واپس آئی تو افراہیم لائٹ بند کرکے بیڈ پر لیٹا ہوا تھا۔۔۔ نوف کو اس کی صبح والی حرکت یاد آئی تو نوف کو افراہیم کے پاس لیٹتے ہوئے ڈر لگنے لگا وہ تکیہ اٹھا کر صوفے پر آگئی
“جس طرح تم وہاں گئی ہو اسی طرح شرافت سے واپس بیڈ پر آکر لیٹو”
ابھی نوف نے صوفے پر تکیہ اور اپنا دوپٹہ رکھا ہی تھا اسے افراہیم کی آواز سنائی دی
“افراہیم آپ کو نیند میں ہوش نہیں ہوتا کہ آپ کے ہاتھ کہاں جارہے ہیں پلیز میں بغیر کسی ٹینشن کی سکون سے سونا چاہتی ہوں”
نوف جھنجھنلاتی ہوئی بولی وہ سارے دن سے ایک بار بھی کمر سیدھی کرنے کے لیے نہیں لیٹی تھی اور اب وہ سکون سے سونا چاہتی تھی
“تم واپس بیڈ پر آرہی ہو یا چاہتی ہو کہ ابھی کوئی بہت بڑا ہنگامہ ہوجائے”
افراہیم اس کی بات کو اگنور کرتا ہوا سخت لہجے میں پوچھنے لگا جس پر نوف کو رونا آنے لگا وہ تکیے اور دوپٹے کو ہاتھ میں دباتی ہوئی بیڈ کے پاس آئی اور زور سے تکیہ کو بیڈ پر پٹختی ہوئی دوپٹہ سائیڈ پر رکھ کر غصے میں بیڈ پر لیٹ گئی
“غصہ اور دھمکی دونوں اپنی صحت کے مطابق کرنا اور دینا چاہیے۔۔۔ ورنہ نتائج خطرناک نکل سکتے ہیں”
نوف کو افراہیم کی آواز سنائی دی مگر اب کی بار اس کی آواز میں سختی نہیں تھی
“آپ مجھے سونے دیں گے یا نہیں”
افراہیم کی بات پر نوف بےبسی سے بولی جیسے اس نے اپنے آپ کو رونے سے باز رکھا ہو
“سو جاؤ ڈیئر وائف لیکن اپنے ذہن میں یہ بات بٹھا کر کے میں آدمی ہوں تھوڑا سرپھرا قسم کا۔۔۔ شادی کے بعد یہ ٹائم دینے والی لاجک میری سمجھ سے بالاتر ہے اس لئے جلد سے جلد اپنے دماغ میں یہ بات بٹھالو کہ ہماری شادی ہوچکی ہے اور شادی کے بعد جو ہونا ہے وہ تو تمھارے ٹائم لینے کے بعد بھی ہونا ہے،، اس بات کے لئے میں تمہارا ایٹیٹیوڈ بالکل بھی برداشت نہیں کروں گا اور ہاں میں نیند میں اپنے ہاتھوں پاؤں کی کچھ خاص گرانٹی نہیں دے سکتا کیونکہ اب تم میری بیوی بن چکی ہو تو اپنا بچاؤ تمہیں خود کرنا پڑے گا گڈ نائٹ”
افراہیم نوف کو بولتا ہوا سونے کی کوشش کرنے لگا مگر اس کی باتیں سن کر نوف کو معلوم تھا اب اس کی نائٹ گڈ نہیں ہوسکتی اور مشکل ہی تھا کہ اب افراہیم کے برابر میں لیٹ کر اس کو نیند آجاۓ
شام کو بیلا نے یونیورسٹی سے واپس آکر اس کے زہن سے یہ وہم دور کردیا تھا کہ کل رات گھر میں کو کوئی دوسرا موجود تھا بیلا نے اسے یقین دلایا تھا کہ وہ سب اس کا وہم تھا،، گلاب خان کے ہوتے ہوئے گھر میں کوئی نہیں آسکتا مگر تب بھی نوف اندر ہی اندر ڈر گئی تھی نہیں تو وہ اس وقت لازمی افراہیم کے سونے کے بعد اپنے کمرے میں چلی جاتی
جاری ہے
