No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
“اچھا کیا جو تم یہاں چلے آئے تمہیں اتنے سالوں بعد پاکستان میں دیکھ کر بہت خوشی ہورہی ہے، اگر تم ہم سے ملے بغیر واپس شارجہ چلے جاتے تو پھر میں تم سے بہت خفا ہوتی”
نازنین سامنے صوفے پر بیٹھے ہوئے اپنی نند کے بیٹے سے بولی جو آج کل شارجہ سے پاکستان آیا ہوا تھا اور یہاں گلگت میں خاص طور پر ان سے ملنے کے لیے ان کے پاس آیا تھا
“ایسا ہوسکتا ہے ممانی کے میں پاکستان آؤ، آپ سے اور عباد ماموں سے ملے بغیر چلا جاؤ۔۔۔ مجھے تو خود آپ سب کو دیکھ کر اتنی خوشی ہو رہی ہے خاص کر بیلا کو دیکھ کر پورے چار سال بعد دیکھ رہا ہوں کتنی بڑی ہوگئی ہے یہ ماشاللہ”
چھٹی کی وجہ سے ہال میں عباد نازنین افراہیم اور بیلا سب ہی موجود تھے، اصفر تھوڑی دیر پہلے ہی گلگت پہنچا تھا بیلا کو دیکھ کر آخری جملہ بولا سب کے ساتھ وہ بھی اصفر کو اسمائل دے کر خاموش ہوگئی،، جب سے ازلان نے اس سے دوستی ختم کی تھی وہ بالکل خاموش سی ہوگئی تھی
“فہمیدہ اور ذاکر بھائی کا آنا نہیں ہوا پاکستان کافی سالوں سے، دو سال پہلے جب میں شارجہ آیا تھا تب فہمیدہ بول رہی تھی کہ وہ جلد پاکستان چکر لگائے گی”
عباد اپنے بھانجے کی آمد کی وجہ سے اچھے موڈ میں تھا تبھی اس سے اپنی بہن کے بارے میں پوچھنے لگا
“امی کا تو دو سالوں سے پاکستان آنے کا پروگرام بن رہا تھا مگر ڈیڈی کی وجہ سے ہر بار پوسٹ بانڈ ہوجاتا ہے کیوکہ ڈیڈی اپنا سارا بزنس وہی شارجہ میں سیٹل کرچکے ہیں اور امی کے کے بغیر اکیلے ان کا گزارا نہیں ہوتا”
اصفر کی بات سن کر وہاں موجود افراد مسکرا دیئے
“مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ تم چھوٹی عمر سے ذاکر بھائی کا بزنس کو سنبھالنے میں ان کا بازو بنے رہے جو اولاد اپنے باپ کے نقش قدم پر چلتی ہے وہی آگے زندگی میں کامیاب رہتی ہے کاش کے یہ بات ہمارا بیٹا افی بھی سمجھ جائے”
عباد کے بولنے پر جہاں اس کی بات پر اصفر اور نازنین مسکرائے تھے وہی افراہیم کے منہ کا زاویہ بگڑ گیا تھا۔۔۔ عباد کی خواہش تھی کہ وہ اپنے بیٹے کو اسکے مستقبل میں اپنی طرف بڑا افسر بنا دیکھے جبکہ افراہیم کا انٹرسٹ جاب کی بجائے بزنس میں تھا
“ارے بیلا تم کہاں جارہی ہو”
بیلا کو وہاں سے جاتا ہوا دیکھ کر اصفر اس سے پوچھنے لگا
“بیٹا آپ کے اصفر بھائی آپ سے ملنے آئے ہیں اور آپ ایسے ہی یہاں سے جارہی ہیں”
عباد بھی نرمی سے بیلا کو ٹوکتا ہوا بولا اس نے بھی محسوس کیا تھا پورے ہفتے سے بیلا خاموش خاموش تھی، جس کی وجہ عباد اچھی طرح جانتا تھا مگر عباد نہیں چاہتا تھا اس کی بیٹی قیوم کے بیٹے سے دوستی رکھے اور ان چھوٹے لوگوں کو منہ لگائے اس لیے اس نے بیلا کو اس رات کافی زیادہ ڈانٹا تھا
“پلیز آپ سب میرے یہاں سے اٹھنے کا مائند مت کریں میرا یہاں بیٹھنے کا دل نہیں چاہ رہا”
بیلا ان سب کی طرف دیکھ کر بولتی ہوئی اپنے کمرے میں جاچکی تھی اصفر اور افراہیم اپنی باتوں میں مشغول ہوگئے مگر عباد بیلا کے رویے کو محسوس کرکے شکایتی نظروں سے نازنین کو دیکھنے لگا کیوکہ کہیں نہ کہیں اس کی بیٹی میں بالکل نازنین جیسی عادتیں پیدا ہورہی تھی جو اسے سخت ناپسند تھی
“آپ سب لوگ چائے پیئے میں نثار کو رات کے کھانے کا مینو بتا دیتی ہوں”
نازنین عباد سے نظریں چرا کر اصفر کو دیکھ کر مسکراتی ہوئی بولی اور اٹھ کر کچن میں چلی گئی
پورا ہفتہ گزر چکا تھا اسے بیلا سے بات کیے ہوئے بیلا سے بات نہ کرکے وہ خود بھی اچھا محسوس نہیں کررہا تھا شاید سنہری بالوں والی اس چھوٹی سی لڑکی کا دل دکھا کر ازلان اب خود بھی پچھتا رہا تھا جب بیلا ازلان کو منانے دوسرے دن اس کے چھوٹے سے کواٹر میں آئی تب ازلان کو اسے اپنے گھر میں دیکھر کر بہت حیرت ہوئی تھی شاید دو ماہ کی ازلان سے دوستی میں وہ اس سے کافی اٹیچ ہوچکی تھی جبھی وہ عباد کے رویہ کی اس سے معافی چاہتی تھی مگر اس وقت ازلان بھی کیا کرتا وہ خود عباد کے ہتک امیز رویہ کی وجہ سے کافی غصے میں تھا جبھی بیلا کو ڈاٹتا ہوا اسے اپنے کوارٹر سے نکل جانے کو کہہ چکا تھا مگر اب وہ اندر ہی اندر خود بھی برا محسوس کررہا تھا اسے یوں بیلا کا معصوم سا ننھا سا دل نہیں توڑنا چاہیے تھا
“میں نوٹ کررہی ہو باگڑ بلے تم چند دنوں سے کافی خاموش خاموش سے ہو،، کیا میں تمہاری اس خاموشی کی وجہ پوچھ سکتی ہو”
گل ازلان کے کمرے میں آتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی
“وجہ جان کر تمہیں کیا کرنا ہے، پورے محلے میں ڈھنڈورا پیٹنے کے علاوہ۔۔۔ اپنا کام کرو گل جاؤ میرے کمرے سے”
ازلان کو اس کی ٹوہ لینے کی عادت سے سخت چڑ تھی جبھی وہ اکتاۓ ہوئے انداز میں بولتا ہوا پلنگ سے اٹھا
“اگر میں تمہارے کمرے سے چلی گئی تو پھر تمہاری اس خاموشی کا علاج کون کرے گا میں جانتی ہوں تمہارا یہ دل یوں بےسبب اداس نہیں ہے”
گل ازلان کے سامنے آکر اپنی چھوٹی آنکھوں سے اس کی آنکھوں میں جھانکتی ہوئی بولی
“میری خاموشی کا، میری اداسی کا یا پھر میری کسی بھی کیفیت کا علاج تم نہیں کرسکتی،، یہ بات ہمیشہ کے لیے اپنے دماغ میں فیڈ کرلو”
ازلان چڑتا ہوا گل کا چہرہ دیکھ کر بولا جس پر گل بغیر برا مانے زور سے ہنس پڑی
“باگڑ بلے تم جتنا بھی چڑ لو خار کھاؤ یا غصہ کرلو، لوٹ کر تمہیں میرے پاس ہی آنا ہے میں نے پہلے ہی کہا تھا۔۔۔ بات اگر دل لگی کی ہے تو ٹھیک ہے مگر اس کو اپنے دل سے مت لگانا اب دیکھو ناں چند دنوں میں ہی وہ فتنہ تمہیں بھول کر اپنے نئے آنے والے کزن کے ساتھ مصروف ہوگئی ہے۔۔۔ اونچے اونچے طرز کے خواب دیکھو ضرور مگر اڑنے کی کوشش بےکار ہے”
گل کی باتوں کا مفہوم سمجھ کر ازلان نے گل کو غصے میں دیکھر کر اپنے دانت پیسے
“تم جب بھی منہ کھولتی ہو صرف اور صرف بکواس ہی کرتی ہو گل۔۔۔ میں صرف اور صرف تمہارا وجود اس گھر میں ابو کی وجہ سے برداشت کرتا ہوں اور جو تم نے ہمارے مستقبل کو لےکر سوچ لیا ہے یا جن باتوں پر تم خوش ہوتی ہو تو سن لو میں ایسا کچھ نہیں چاہتا نہ ایسا کبھی ہوگا، کھلی آنکھوں سے جو تم اپنے اور میرے بارے میں خواب دیکھ رہی ہو تو میں ایسا نہیں ہونے دو گا اس لیے خود بھی ہوش کے ناخن لو۔۔۔ اور آخری بات میں نے کس سے دل لگایا ہے یا کس نے مجھ سے دل لگی کی ہے اس کا تعلق تمہاری ذات سے نہیں ہے اس لیے تم ان باتوں کی ٹوہ لینا بند کرو اور اپنے کام سے کام رکھو”
ازلان اس کو غصے میں اچھی طرح سناتا ہوا اپنے کمرے سے نکل گیا
“وہ لڑکی نہیں ایک فتنہ ہے اور میں کبھی بھی اس کو تمہارے ساتھ نہیں دیکھ سکتی”
گل جان بوجھ کر تیز آواز میں بولی تاکہ ازلان تک اس کی آواز چلی جاۓ، اسے پروا نہیں تھی کہ رخشی اس کے بارے میں کیا سوچے گی
تھوڑی دیر پہلے رخشی گھر کا سودا لینے کے لیے باہر نکلی تھی باہر کا دروازہ ابھی تک کھلا ہوا تھا جبکہ نوف صحن میں کھڑی ہوئی دھلے ہوۓ کپڑے تار سے اتار کر انہیں تہہ کرتی ہوئی تخت پر رکھ رہی تھی تب اس کی نظر باہر سامنے سے آتے افراہیم پر پڑی جس کو دیکھ کر نوف بےساختہ پلکیں جھکا گئی یقینا وہ اپنے گھر کی طرف جارہا تھا نوف نے ذرا سی نظریں اٹھاکر دیکھا وہ نوف کی طرف دیکھے بغیر مین گیٹ سے اپنے گھر کے اندر داخل ہوچکا تھا شاید اس نے دور سے کواٹر میں کھڑی نوف پر نظر ڈالنا بھی ضروری نہیں سمجھا تھا
نوف کا دل شدت سے چاہا افراہیم اس کو دیکھے اس سے بات کرے اس سے دوستی کرلے جیسے اور لوگوں کو وہ اچھی لگتی ہے ایسے وہ افراہیم کو بھی اچھی لگنے لگ جاۓ۔۔۔۔ اپنی اس مانگی ہوئی دعا پر وہ خود ہی ہنس دی بھلا ایسا کہاں ممکن ہوسکتا تھا وہ ایک مغرور طبعیت کا لڑکا بھلا کہاں اس کو دیکھنا پسند کرے گا دوستی کرنا تو دور کی بات۔۔۔۔ نوف اپنی سوچوں میں گم سارے کپڑے تہہ کرچکی تھی تبھی دروازے کا دوسرا پٹ کھلا اور عدنان گھر کے اندر داخل ہوا
“کیا بات ہے میری گلابو بڑی دلجمی سے کپڑوں کی تہہ لگا رہی ہے”
عدنان کی آواز پر نوف ایک دم ہوش میں آئی وہ اس کے گلابی رنگ کی قمیض پر جملا کستا ہوا گھر میں آکر اندر سے گھر کا دروازہ بند کرچکا تھا جس پر نوف کا رنگ فق ہوا وہ اپنا تخت پر پڑا ہوا دوپٹہ پھیلا کر اوڑھنے لگی
“ارے میری ننھی سی جان اس چھوٹی سی عمر میں یہ دوپٹہ لینے کا تکلف کیو کرتی ہے تو، ابھی تو تجھے اس کی صحیح سے ضرورت بھی نہیں ہے”
عدنان نوف کے پاس آکر اس کا دوپٹہ کھینچتا ہوا بولا ساتھ ہی وہ اس کے سراپے کو غلیظ نگاہوں سے دیکھنے لگا
“پلیز مجھے میرا دوپٹہ دے دیں عدنان بھائی”
اسے قران کی تعلیم لینے کے ساتھ ہی دوپٹہ لینے کی عادت ہوگئی تھی اور اس وقت تو اسکو عدنان کی گندی نگاہیں اپنے جسم پر چبھتی ہوئی محسوس ہورہی تھی نوف بےبسی سے عدنان سے فریاد کرتی ہوئی بولی
“بھائی نہیں پگلی سائیں، تیرے سر کا سائیں”
عدنان باقاعدہ نوف کے قریب آکر اس کا منہ دبوچتا ہوا بولا جس پر نوف ڈر کے مارے رونے لگی اور عدنان اس کو روتا ہوا دیکھ کر زور سے ہنسنے لگا
“ارے ارے میری ننھی سی گڑیا دیکھو تو کیسے ڈر رہی ہے اپنے ہونے والے خصم سے، چل چپ ہوجا شاباش ابھی تو میں تجھے صرف یہ بتانے آیا ہو جب تک میں اس حرا** سے اپنے منہ پر پڑنے والے تپھر کا بدلہ نہ لےلو تب تک میں تیرے ساتھ۔۔۔ ہاں، ہاں سمجھ رہی ہے ناں میری بات، اس سالے کتے سے بدلہ لینے کے بعد ہی میں تیرے ساتھ”
عدنان نوف کا منہ دبوچے ہوۓ غلیظ گفتگو کرکے اپنی بات ادھوری چھوڑ کر پاگلوں کی طرح زور سے ہنسنے لگا اس کے شکنجے میں روتی ہوئی نوف عدنان سے بری طرح خوفزدہ ہوچکی تھی تب عدنان اس کو چھوڑتا ہوا گھر سے باہر نکل گیا جس کے بعد نوف زمین پر بیٹھ کر زور سے رونے لگی جبڑے کی طرف سے اس کا منہ بری طرح سرخ ہوچکا تھا۔۔۔ یہ انتخاب تھا اسکے ابو جی کا اس کے لیے جس کی شکل دیکھ کر نوف کو ابھی سے اس سے کراہیت محسوس ہوتی تھی
“بیلا مجھے تم سے بات کرنا تھی”
ازلان ٹیوشن دینے کے بعد اپنے کسی کام سے مارکیٹ آیا تھا تب اسے ایک بیکری پر بیلا دکھائی دی ازلان بیکری کے اندر آتا ہوا بیلا سے بولا، اس وقت بیلا اکیلی نہیں تھی اس کے ساتھ ایک چوبیس سالہ لڑکا بھی موجودہ جسے ازلان بیلا کے ساتھ پہلے بھی تین سے چار مرتبہ دیکھ چکا تھا۔۔۔۔ بیلا کے ساتھ وہ لڑکا بھی ازلان کی طرف متوجہ ہو کر غور سے اس کو دیکھنے لگا
“اب کیا بات کرنا ہے تمہیں مجھ سے دوستی تو تم ختم کر چکے ہو اسی دن”
بیلا ناراض لہجے میں ازلان کو دیکھتی ہوئی بولی اس سے پہلے ازلان کچھ بولتا اصفر ایک دم بول پڑا
“سوئیٹی بات تو سن لو اس کی وہ کیا کہنا چاہ رہا ہے”
اصفر بیلا کو غصے کرتا دیکھر کر بولا تو ازلان چونک کر اسے دیکھنے لگا
“ہاۓ میرا نام اصفر ہے میں بیلا کا فرسٹ کزن ہو اور بیلا مجھے تمہاری اور اپنی فرینڈ شپ کے بارے میں بتاچکی ہے”
اصفر اپنا تعارف کروانے کے ساتھ مصحافہ کرتا ہوا ازلان سے بولا
“اس دن میں غصے میں تھا اس لئے زیادہ ہی بول گیا میں اپنے روئیے کی معافی چاہتا ہوں تم سے”
اصفر سے ہاتھ ملانے کے بعد ازلان بیلا کو دیکھتا ہوا بولا۔۔۔ ازلان کو محسوس ہورہا تھا اس کے اندر ہفتے بھر سے اداسی اور بےچینی بیلا سے دوستی کرکے ختم ہوجاۓ گی اس نیت سے اس کے قدم بیلا کی طرف اٹھے تھے
“میرے ساتھ ہر کوئی ایسا کرتا ہے اصفر بھائی میں نے آپ کو فلزا کا بھی بتایا تھا ناں وہ جو میری اسکول کی فرینڈ تھی،، اس نے خود پہلے مجھے اتنا بیسٹ فرینڈ بنایا اور چند دنوں بعد اس نے مجھ سے فرینڈ شپ ختم کرکے پھر دانین کو اپنا بیسٹ فرینڈ بنالیا اس کے بعد یشعر میرا فرینڈ بنا پر اس نے بھی اپنا اسکول چینج کرلیا۔۔۔ پھر میں نے سوچا میں اپنی ایج اے بڑا کوئی فرینڈ بناؤ گی جو فرینڈ شپ کا مطلب سمجھے میں نے تبھی اسے اپنا فرینڈ بنایا لیکن آپ کو معلوم ہے اس دن اس نے مجھے کتنا ہرٹ کیا میں تو بابا کی رویہ کی معافی مانگنے اس کے پاس گئی تھی”
بیلا اپنی ساری دل کی بھڑاس نکالتی ہوئی اصفر کو بتارہی تھی ازلان خاموشی سے بیلا کو دیکھ رہا تھا اسے اندازہ نہیں تھا یہ چھوتی سی لڑکی اس کی دوستی کو لے کر کس قدر حساس ہوچکی ہے
“ارے سوئٹی چھوڑو تم فلزا اور یشعر کو، جو لوٹ کے تمہارے پاس واپس نہیں آسکتے وہ تمہارے بیسٹ فرینڈ کبھی بھی نہیں بن سکتے لیکن ازلان کو تمہاری دوستی کی قدر تھی جبھی وہ تمہارے پاس آیا ہے لیکن اس نے جو تم پر غصہ کیا ہے اس کی سزا ہم دونوں مل کر اس کو دیں گے لیکن اس سے پہلے میں ازلان کی کھچائی کرلیتا ہوں کیونکہ اس نے میری پیاری سی کزن کو ہرٹ کیا ہے”
اصفر بیلا سے بولتا ہوا خاموش کھڑے ازلان کو دیکھتا ہوا بولا
“دکھنے میں تو تم اچھے خاصے سمجھدار لڑکے لگتے ہو، کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ گرلز پر غصہ نہیں کیا جاتا اور پھر اگر گرل بیلا کے جیسی پیاری اور کیوٹ سی ہو تب تو اس پر غصہ کرنا بالکل غلط ہے میری کزن کو ہرٹ کرکے غلطی تو تم کرچکے ہو اب تمہیں پینلٹی کے طور پر ہم دونوں کو آئس کریم کھلانے پڑے گی”
اصفر اپنی مسکراہٹ چھپاتا ہوا مصنوعی غصہ دکھا کر ازلان کو ڈانٹ رہا تھا اس کی آخری بات پر ازلان مسکرایا
“میں آپ کی ساری باتوں سے ایگری کرتا ہوں اور آخری والی بات کو بھی ہرجانے کے طور پر ماننے کے لئے تیار ہوں لیکن میں بیلا کے منہ سے سننا چاہوں گا کے وہ مجھ سے خفا نہیں ہے”
وہ اصفر کو بولتا ہوا آخری جملہ بیلا کو دیکھ کر بولا
“میں تم سے خفا نہیں ہوں لیکن آج کے بعد اگر تم مجھے فلزا یا یعشر کی طرح بھولے تو میں تم سے بہت برا خفا ہوگی” بیلا کی بات پر ازلان مسکرایا اور سچے دل سے وعدہ کیا کہ وہ اس کو اور اسکی دوستی کو تاعمر یاد رکھے گا
جاری ہے
