No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
ازلان دن میں اس کو ہوٹل کے روم میں چھوڑ کر گیا تھا اور اب رات ہونے کو آئی تھی مگر ازلان ابھی تک لوٹ کر واپس نہیں آیا تھا، بیلا کو ازلان پر غصہ آنے لگا تھا آخر وہ اسے اپنے ساتھ یہاں لایا ہی کیوں تھا۔۔۔ دوپہر میں اس کے پاس افراہیم کی کال آگئی تھی تھوڑی دیر پہلے ہی اس کی نازنین اور یمنہ سے بھی بات ہوئی تھی وہ ان سب کو اپنی طرف سے مطمئن کرچکی تھی۔۔ وہ ازلان کے کہنے پر ہوٹل کے کمرے سے باہر نہیں نکلی تھی مگر اب وہ ٹی وی دیکھتے دیکھتے بور ہوچکی تھی اپنا موبائل استعمال کر کے اکتا چکی تھی تبھی کمرے کا دروازہ کھلا
“یہ کوئی ٹائم ہے تمہارے واپس آنے کا ازلان حد ہوتی ہے کہاں تھے تم اتنی دیر سے”
ازلان کے کمرے میں داخل ہوتے ہی بیلا اس پر چڑھ دوڑی جس پر ازلان کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی کیوکہ اس کا انداز بالکل بیویوں والا تھا
“بیلا میری جان، میں نے تمہیں بتایا تھا ناں مجھے واپس لوٹتے ہوۓ شام ہوجائے گی”
بیلا کا موڈ دیکھ کر وہ اندازہ لگا چکا کہ لازمی وہ اس وقت شدید قسم کی بوریت کا شکار ہورہی تھی جبھی ازلان بیلا کو دیکھ کر بڑے پیار سے بولا اور ہاتھ میں موجود لیپ ٹاپ اس نے ٹیبل پر رکھ دیا۔۔۔ بیلا نے نوٹ کیا یہ وہ لیپ ٹاپ نہیں تھا جو ازلان پلین میں یوز کررہا تھا بلکے ہوٹل کے کمرے سے باہر نکلتے وقت اس کے ہاتھ بالکل خالی تھے
“شام کا مطلب یہ نہیں ہوتا تم رات کے دس بجے واپس آرہے ہو، ویسے تم تھے کہاں پر اتنی دیر سے”
بیلا کمر پر اپنے دونوں ہاتھ رکھتی ہوئی ازلان کے سامنے کھڑی ہوکر اس سے سوال کرنے لگی تو ازلان نے بیلا کی کمر سے اس کے دونوں ہاتھ اٹھا کر اپنے ہاتھ رکھتے ہوئے بیلا کو خود سے قریب کیا
“ضروری کام تھا نائٹ کلب میں وہی پر موجود تھا میں، جیسے ہی فارغ ہوا فوراً تمہارے پاس آگیا”
ازلان جتنے پیار بھرے انداز میں بیلا کو بنانے لگا وہ مشکوک بھری نظروں سے ازلان کو دیکھنے لگی
“تم پاکستانی مردوں کے ساتھ یہی مسلئہ ہے کہیں دوسرے ملک میں جاکر ایسی جگہیں دیکھتے ہو فورا منہ اٹھا کر وہی پہنچ جاتے ہو لازمی تم بھی فحاش قسم کا بیلی ڈانس دیکھ کر آرہے ہوگے۔۔۔۔ آخر ملتا کیا ہے تم مردوں کو یوں کسی غیر لڑکی کی عریاں کمر کو دیکھ کر”
بیلا غصے میں ازلان کے ہاتھ اپنی کمر سے ہٹاتی ہوئی بولی، وہ نہ جانے بات کو کہاں سے کہاں لے جاچکی تھی مگر ازلان کو بیلا کی بات نے غصہ نہیں دلایا وہ زور سے ہنس پڑا
“مردوں کو دوسری لڑکیوں کی عریاں کمر کو دیکھ کر وہ سکھ ملتا ہے جو اپنی خود کی بیوی کی کمر دیکھ کر بےچارے مرد کو نصیب نہیں ہوتا کیوکہ شادی کہ چند ماہ بعد ہی بیوی کی کمر، کمر کی بجاۓ کمرا بن جاتی ہے، اب مرد بےچارہ کیا کرے۔۔۔ ویسے اگر تم بےلی ڈانس سیکھ لو اور اپنی کمر کا سائز بالکل اسی طرح فٹ رکھو تو میں وعدہ کرتا ہو ساری زندگی تمھارا ہی بیلی ڈانس دیکھو گا”
ازلان نے بولتے ہوۓ دوبارہ بیلا کو کمر سے پکڑا، وہ شرارت سے بولتا ہوا بیلا کے غصے والے تاثرات کو انجوۓ کرنے لگا
“میرا بیلی ڈانس دیکھنا ہے تمہیں۔۔ ٹہرو تم ابھی تمہیں اپنا ڈانس انجوۓ کرواتی ہو”
بیلا نے اپنے دونوں نازک ہاتھوں سے ازلان کی گردن زور سے دبائی تو ازلان بیلا کو مضبوطی سے کمر سے پکڑ کر خود سے مذید قریب کرلی
“بیوہ ہونے کا شوق چڑھا ہوا ہے، یار کیا کررہی ہو مار ڈالو گی کیا”
وہ بیلا کو کمر کو پکڑتا ہوا جان بوجھ کر پیچھے صوفے پر گرا تو بیلا بھی اس کے ساتھ ازلان کے اوپر جاگری
“میرے علاوہ کسی دوسری لڑکی پر نظر ڈالو گے تو میں واقعی مار ڈالو گی تمہیں”
بیلا اس کی گردن سے اپنے ہاتھ ہٹاتی ہوئی اٹھنے لگی تو ازلان نے اسکی کمر پر اپنے دونوں بازو لپیٹے اسے اٹھنے نہیں دیا
“کیا تمہیں لگتا ہے میں تمہارے علاوہ کسی دوسری لڑکی کی طرف مائل ہوسکتا ہوں، ایسی سوچ بھی اپنے دماغ میں کبھی مت لانا کیونکہ ازلان کو اس کی زندگی میں صرف ایک ہی لڑکی اپنی طرف متوجہ کرسکی ہے جسے ازلان نے اتنے سالوں بعد ڈھونڈا اور فورا ہی اسے اپنا بنالیا۔۔۔۔ مجھے نہیں معلوم تمہیں مجھ سے کتنی وفا کی امید ہے لیکن یہ میرا وعدہ ہے کہ جب تک اللہ پاک نے میری زندگی رکھی ہے تب تک میں تم سے وفا نبھاؤں گا”
ازلان بیلا کو دیکھتا ہوا سنجیدگی سے بولا تو بیلا کو فورا اس کی بات پر یقین آگیا جس کا ثبوت دیتے ہوئے وہ اپنا سر ازلان کے سینے پر رکھ چکی تھی ازلان نے عادت کے مطابق اس کی سنہری بالوں پر اپنے ہونٹ رکھے
“اتنا بڑا وعدہ دیا ہے تمہیں، اب تو میری خاطر بیلی ڈانس سیکھو گی ناں میرا بڑا ارمان ہے بیلا کا بیلی ڈانس دیکھنے کا”
بیلا سکون سے اس کے سینے پر سر رکھی ہوئی تھی ازلان کی بات سن کر وہ اپنا سر ازلان کے سینے سے اٹھا کر اس کو گھورنے لگی جو بیلا کو ہی دیکھ کر شرارت سے مسکرا رہا تھا
“بس بےشرموں والی حرکتیں کرنا، شوہروں والی حرکتیں نہیں آتی تمہیں”
بیلا گھورتی ہوئی ازلان سے بولی شوہروں والی حرکتوں سے مراد بیلا نے عباد کا خاکہ ذہن میں لیا تھا وہ نازنین سے مزاق کے وقت مزاق کرتا تھا ورنہ مبحت میں کی شکل میں بھی سنجیدگی طاری رہتی
“شوہر والی حرکتوں پر آگیا تو تم اوپر سے نیچے تک سرخ ہوجاؤ گی، ویسے تمہیں اتنے قریب دیکھ کر سوچ رہا ہوں شوہر والے روپ کی ایک جھلک دکھا ہی دو” ازلان بولتا ہوا بیلا کے بالوں میں انگلیاں پھنسا کر اس کے ہونٹوں کے قریب اپنے ہونٹ لایا تبھی دروازہ بجنے لگا
“شٹ یار اس ویٹر کو ابھی کھانا لے کر آنا تھا”
ازلان نے بولتے ہوئے اپنی گرفت سے بیلا کو آزاد کیا تو بیلا جلدی سے ازلان کے اوپر سے اٹھی اور شکر کا سانس لینے لگی، وہ شوہر والی حرکتوں سے مراد نہ جانے کیا سوچے بیٹھا تھا
ازلان صوفے سے اٹھ کر کمرے کا دروازہ کھولنے لگا تو کمرے کا دروازہ کھلتے ہی زوردار مکا ازلان کے منہ پر آنے والے نے اچانک مارا۔۔۔ جس سے ازلان پیچھے کمرے کی طرف گر پڑا،، بیلا روم کے اندر آنے والے لمبے چوڑے اور کالے سے آدمی کو دیکھ کر ڈر گئی جوکہ مزید ازلان کو مارنے کے لیے اس پر جھپٹنے لگا تھا مگر ازلان ذہنی طور پر مکمل تیار ہوچکا تھا،، اس لیے اپنی طرف بڑھتے ہوۓ آدمی کو دیکھ کر زوردار لات اس کے منہ پر مار کر خود بھی فارم میں آگیا اور کھڑا ہوکر مکمل داؤ پیچ آزماتا ہوا اس کا مقابلہ کرنے لگا بلکہ اس آدمی کو مارنے کے ساتھ وہ مسلسل بیلا کو کمرے سے باہر جانے کا کہہ رہا تھا
مگر بیلا خوف کے مارے وہی کھڑی ہوئی ازلان کو اپنا بچاؤ کرتے ہوئے اس آدمی کے ساتھ مقابلہ کرتے دیکھ رہی تھی،، ازلان اس طرح اس آدمی کے ساتھ مقابلہ کررہا تھا جیسے اس نے مار پیٹ کی مکمل ٹریننگ حاصل کی ہو۔۔۔۔ مگر بیلا کی سانس ایک پل کے لیے تب رکی جب اس آدمی نے نہ جانے کہاں سے چاقو نکال کر ازلان پر وار کرنا چاہا مگر دو بار وار خالی جانے کے بعد تیسری بار ازلان نے اس کے ہاتھ پر لات مارتا ہوا چاقو دور پھینک چکا تھا
ازلان کے مکا مارنے پر وہ آدمی شیشے کی ٹیبل کے پاس آکر گرا، اور ٹیبل پر رکھے ہوئے لیپ ٹاپ کی طرف لپکا،، اس سے پہلے وہ آدمی لیپ ٹاپ کھڑکی سے باہر پھینکتا ازلان نے پھرتی سے لیپ ٹاپ اس سے چھین کر اپنی لات اونچی کر کے ہوا میں گھمائی جو اس آدمی کے سر پر لگی اور وہ آدمی دور جاگرا
“بیلا کمرے سے باہر نکل جاؤ سمجھ میں نہیں آرہا تمہیں”
وہ لیپ ٹاپ بیڈ پر اچھل کر غصے میں چیختا ہوا بیلا سے مخاطب ہوا مگر اس کی نظریں بیلا کی بجائے اس آدمی پر جمی ہوئی تھی جو اچھی خاصی مار کھانے کے باوجود بھی ڈھیٹ بنا ہوا ایک بار پھر لیپ ٹاپ کی طرف بڑھنے لگا
“بیلا کمرے سے باہر جاؤ”
وہ ایک بار پھر اس آدمی کو قابو کرتے ہوئے بیلا سے چیخ کر بولا لیکن بیلا خاموش وہی کھڑی ہوئی اس آدمی کو دیکھنے لگی جو بیڈ پر پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا جبکہ اس کے دونوں ہاتھ پیچھے کمر پر ازلان نے اپنے گھٹنے کے نیچے دبائے ہوئے تھے۔۔۔ ازلان نے ایک ہاتھ سے اس کے بال پکڑے ہوئے تھے جبکے دوسرا ہاتھ سے اس آدمی کی تھوڑی کے نیچے والے حصے کو مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا
“ازلان چھوڑ دو اس کو”
بیلا خوفزدہ ہوکر اس آدمی کو دیکھتی ہوئی ازلان سے بولی
“جاؤ یہاں سے”
ازلان ایک بار پھر غصے کی شدت سے چیختا ہوا بولا جس پر بیلا نفی میں سر ہلانے لگی۔۔۔
ازلان نے اس آدمی کو مہلت ہی بیلا کی وجہ سے دی ہوئی تھی مگر اب اور نہیں دے سکتا تھا، اس لئے اس کی گردن موڑنے پر جہاں ازلان نے اس آدمی کی بےجان ٹوٹی ہوئی گردن چھوڑی وہی بیلا نے زور سے چیخ مار کر دونوں ہاتھوں میں اپنا چہرہ چھپالیا
ازلان غصے میں بیڈ سے اٹھ کر بیلا کی طرف بڑھا اس کے چہرے سے دونوں ہاتھ ہٹاکر مزید غصے میں چیختا ہوا بولا
“میں بار بار تمہیں عربی یا فارسی زبان میں کمرے سے جانے کے لئے کہہ رہا تھا بات کیوں نہیں مان رہی تھی تم میری۔۔۔ جانتی ہو اگر آج یہ آدمی اس لیپ ٹاپ کو توڑ دیتا یا ضائع کر دیتا تو میری کہی دنوں کی محنت پر پانی پھر جاتا۔۔۔۔ جانتی ہو تمہاری وجہ سے میرا کتنا بڑا لاس ہوجاتا کچھ اندازہ ہے تمہیں”
ازلان غصے میں بیلا کو اور بھی باتیں سناتا مگر اس کو شاکڈ کی کیفیت میں دیکھ کر خاموش ہوگیا
“وہ مر چکا ہے ازلان۔۔۔ اس کو مار دیا تم نے،، بیچارے کی گردن ہی توڑ ڈالی وہ صرف تم سے لیپ ٹاپ ہی تو حاصل کرنا چاہتا تھا جو تمہارا اپنا تھا بھی نہیں۔۔۔ دے دیتے تم اس کو یہ لیپ ٹاپ تمہارے پاس اپنا لیپ ٹاپ بھی تو تھا۔۔۔۔ یااللہ اب کیا ہوگا یہ تو مرڈر ہوچکا ہے تم سے، اب ہم دونوں کیا کریں گے”
بیلا بری طرح گھبرائی ہوئی تھی ازلان کے غصے اور ساری باتوں کو نظرانداز کرتی ہوئی اس سے بولی
“تمہیں اب کچھ نہیں کرنا صرف اپنا منہ بند کرکے صوفے پر بیٹھ جانا ہے۔۔۔ بالکل نارمل ہوجاؤ میں تھوڑی دیر میں سب کلیئر کر دیتا ہوں اوکے”
ازلان بیلا کی گھبرائی ہوئی حالت کو دیکھ کر اس پر غصہ بھلائے نارمل لہجے میں بولا
“نارمل ہو جاؤں۔۔۔۔ کیسے؟؟ کسی کا مرڈر کرکے تم نارمل رہ سکتے ہو میں ہرگز نہیں۔۔۔ ہم تو اس وقت پاکستان میں بھی موجود نہیں ہیں اور یہاں کا قانون بہت سخت ہے تم جانتے ہو ناں۔۔۔ ایسا کرتے ہیں ہم پولیس کو خود انفارم کرکے سچ بتا دیتے ہیں کہ یہ موٹے کالے سے بھائی صاحب ہمارے روم میں گُھس کر بلاوجہ میں مار پیٹ کر رہے تھے بس ہم نے اپنے بچاؤ کے لئے ان کی ذرا سی گردن پکڑی تھی جو ناجانے کیسے خود بخود ٹوٹ گئی”
بیلا بولتی ہوئی بیڈ پر پڑی ہوئی اس آدمی کی لاش کو دیکھنے لگی اور ساتھ ہی اس کی شکل رونے والی ہوگئی۔۔۔ بیلا کی بات سن کر ازلان کا دل چاہا کے وہ اپنا سر پیٹ لے اس سے پہلے وہ بیلا کو کچھ سمجھاتا وہ دوبارہ بول اٹھی
“اچھا دوسرا آئیڈیا بھی ہے میرے پاس ازلان، میں نے ایک فلم میں دیکھا تھا ہم ایسا کرتے ہیں ان بھائی صاحب کی لاش کو اس کمفرٹر میں لپیٹ کر اس کو بوری بند لاش جیسا بنا دیتے ہیں اور پھر آدھی رات کو اس کو ہم کسی ندی یا نالے میں پھینک آئیں گے مگر یہ تو پاکستان بھی نہیں ہے یہاں پر ندی نالہ کہاں سے لائیں گے۔۔۔ ہاں ایسا کرتے ہیں اس لاش کے ہم چھوٹے چھوٹے سے ٹکڑے کرکے اس کو فریج میں ڈال دیتے ہیں اور پھر۔۔۔”
وہ اپنی آنکھوں کے سامنے لاش دیکھ کر بری طرح گھبرائی ہوئی تھی کہ کچھ بھی بولے جارہی تھی اس کو چپ کروانے کے لیے ازلان نے ہلکی سی چیت اس کے گال پر لگائی
“کیا فضول بولے جارہی ہو اتنی دیر سے۔۔۔ لاش کو یہ کردیں گے وہ کردیں گے۔۔۔ آخر چل کیا رہا ہے یہ سب تمہارے دماغ میں”
ازلان کی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ بیلا اس کے سینے سے لگ کر رونے لگی
“تو پھر ہم اللہ تعالیٰ سے سوری بھی کرلیں گے ناں۔۔۔ میں تمہیں دوبارہ جیل میں جاتا ہوا نہیں دیکھ سکتی ابھی تو ہم دونوں ملے تھے۔۔۔ ان تھوڑے سے دنوں میں کتنے پیارے لگنے لگو ہو تم مجھے اگر تم جیل چلے گئے تو میں کیسے رہوں گی تمہارے بغیر”
وہ ازلان کی بات پر روتی ہوئی بولی اس کی آخری بات پر ازلان کو ہنسی کے ساتھ ساتھ اس پر پیار بھی آنے لگا وہ بیلا کی کمر کے گرد اپنے دونوں بازو باندھتا ہوا بولا
“میں اب کہیں نہیں جاؤ گا تمہیں چھوڑ کر، پریشان مت ہو ایک جگہ پر بیٹھ جاؤ میں اس لاش کا کچھ انتظام کرتا ہوں”
ازلان پیار سے سمجھاتا ہوا اسے ایسے تسلی دینے لگا جیسے کہ وہ ہمیشہ سے لاشوں کو انتظام کرتا آیا ہو۔۔۔ اسے فیضی کو کال کرکے ساری صورتحال بتانا تھی ازلان جانتا تھا کہ فیضی یہ سارا کام خود سنبھالے گا
“نہیں پلیز مجھے ایسے ہی کھڑے رہنے دو اور تم بھی کہیں مت جاؤ میرے پاس سے۔۔۔ اس لاش کی پوری آنکھیں کُھلی ہوئی ہے اور وہ لاش مجھے گھور رہی ہے مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے اس سے”
بیلا روتی ہوئی ازلان سے بولی تو اذلان مڑ کر اس آدمی کو دیکھنے لگا جس کی گردن مڑی ہوئی تھی وہ اوندھے منہ بیڈ پر پڑا ہوا تھا اور اس کی آنکھیں کھلی ہوئی تھی۔۔۔ ازلان جبھی چاہ رہا تھا کہ بیلا کمرے سے باہر چلی جائے وہ یہ سب دیکھ کر لازمی ڈر گئی تھی
وہ اپنے شوہر کو خوبصورت لگتی تھی ایسا آج صبح افراہیم نے اس سے کہا تھا کیا وہ دس سال پہلے خوبصورت نہیں تھی یا پھر دس سال پہلے ایک نوکر کی بیٹی کی حیثیت سے افراہیم کو اس کی خوبصورتی نظر نہیں آتی تھی یا شاید دس سال پہلے افراہیم نے کبھی اس کو غور سے دیکھا ہی نہ ہو۔۔۔ نوف اپنی سوچی ہوئی باتوں سے خود ہی اتفاق کرنے لگی، افراہیم کو جس دن اس کی اصل حیثیت معلوم ہوجائے گی تب افراہیم کا ردعمل کیا ہوگا نوف سوچ رہی تھی تب کمرے میں افراہیم چلا آیا
افراہیم کو کمرے دیکھ کر اور اپنے کپڑوں کا رنگ دیکھ کر اسے افراہیم کی صبح والی بات یاد آگئی، نوف بیڈ سے اٹھ کر کمرے سے باہر جانے لگی
“میری صبح والی بات کو یاد کرکے اگر تم کمرے سے باہر جارہی ہو تو بے فکر رہو میں تمہیں تنگ نہیں کروں گا”
افراہیم نوف کو کمرے سے باہر نکلتا ہوا دیکھ کر بولا اور خود صوفے پر جاکر بیٹھ گیا۔۔۔ ویسے بھی صبح والی طبیعت کے برعکس اس وقت وہ کافی خاموش اور سنجیدہ لگ رہا تھا، نوف اس کی خاموشی اور سنجیدگی کی وجہ جانتی تھی اس لئے کمرے سے نکلنے کی بجائے صوفے کے برابر میں موجود کھڑکی کے سامنے کھڑی ہوگئی
“آنٹی کی وجہ سے اداس ہیں آپ یا پھر بیلا کو مس کررہے ہیں”
وہ کھڑکی سے باہر دیکھتی ہوئی افراہیم سے پوچھنے لگی۔۔۔ آج شام بیلا سے بات کرنے کے بعد نازنین پر خاموشی کی کیفیت طاری ہوگئی تھی۔۔ نہ ہی وہ کسی بات کا جواب دے رہی تھی نہ ہی کسی بات پر کوئی ری ایکٹ کررہی تھی افراہیم تھوڑی دیر پہلے آفس سے لوٹ کر گھر آیا تھا مگر اس سے پہلے نوف نازنیں کو میڈیسن دے چکی تھی جسے لینے کے بعد وہ اس وقت سو رہی تھی
“میری ماں اور میری بہن دونوں ہی میری لائف میں بہت اہمیت رکھتی ہیں میں ان دونوں میں سے کسی ایک کو بھی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا، تم اس بات سے شاید واقف نہ ہو کہ میں چند سال پہلے بیلا کو بہت مشکلوں سے واپس زندگی کی طرف لایا تھا۔۔۔۔ جب وہ 9 سال کی تھی تو ایک بھیانک حادثے نے اس کو زندگی سے بہت دور کردیا تھا، میں اپنی بہن کی حالت دیکھ کر اندر ہی اندر روتا مگر اوپر سے کسی پر کچھ ظاہر نہیں ہونے دیتا۔۔۔ جب وہ آہستہ آہستہ واپس زندگی کی طرف لوٹنے لگی تو ایک دن اچانک بابا کی ہارٹ فیل کی وجہ سے ڈیتھ ہوگئی۔۔۔ ان کے غم سے ہم دونوں بہن بھائی نکل نہیں پائے تھے کہ مما نے بابا کے جانے کا اتنا زیادہ اثر لیا کہ وہ خود بیمار رہنے لگیں۔۔۔ اکثر ایسا ہوتا ہے مما تھوڑی دیر کے لئے مجھے اور بیلا کو پہچان نہیں پاتی ہیں،، ہم دونوں کو اجنبی نظروں سے دیکھتی ہیں،، جب وہ ایسا کرتی ہیں تو مجھے بیلا کو دیکھ کر خود کو مضبوط کرنا پڑتا ہے مگر اندر کہیں یہ خوف طاری رہتا ہے کہ اگر کسی دن مما ہمیشہ کے لئے ہم دونوں کو بھول گئی تو میں کیا کروں گا”
افراہیم اداسی سے اپنے دل کی ساری باتیں نوف سے شئیر کررہا تھا، نوف افراہیم کو اس وقت بالکل مختلف روپ میں دیکھ رہی تھی ایک ایسا مرد جس نے کم عمر سے سفر کیا تھا۔۔۔ اس واقعے سے صرف اس کی اپنی فیملی برباد نہیں ہوتی بلکہ اس بھیانک حادثے کے اثرات یہاں بسنے والے مکینوں نے بھی اپنے اوپر جھیلے تھے
افراہیم کی باتیں سن کر نوف کو عجیب اداسی نے آ گھیرا۔۔۔ وہ صوفے پر بیٹھے ہوئے اس شخص کے لئے اداس تھی جس سے وہ ایک خاص قسم کی چڑ رکھنے لگی تھی۔۔۔۔ نوف کو افراہیم کی باتیں سن کر اپنا دل پگھلتا ہوا محسوس ہوا بےخودی کے عالم میں وہ چلتی ہوئی افراہیم کے سامنے آکر کھڑی ہوگئی۔۔۔ افراہیم نوف کو دیکھ کر خود بھی صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ نوف افراہیم کا چہرہ اپنے نازک ہاتھوں میں تھام کر بولی
“آپ نے مجھے اپنے راز میں شریک ٹھہرا لیا ہے تو میرا دل کررہا ہے میں آپ کے سارے دکھ درد اور تکلیفوں کو اپنے اندر سمیٹ لو آپ کی یہ اداسی میرے دل کو اداس کررہی ہے افرہیم۔۔۔۔ میں آپ کو اداس نہیں دیکھ سکتی، آپ اپنے دکھ درد اور تکلیفیں مجھے دے دیں”
نوف کو معلوم ہی نہیں ہوا وہ بےخودی کے عالم میں کیا کچھ بول گئی ہے یہ بھی ایک غیر ارادی عمل تھا جب اس نے اپنے پنجوں کے بل اونچا ہوکر افراہیم کی پیشانی پر اپنے ہونٹ رکھے ایک پل کے لیے افراہیم بھی حیرت زدہ ہوا مگر دوسرے ہی پل افراہیم نے نوف کے نازک وجود کو خود میں چھپالیا
“شریک حیات کا مطلب جانتی ہو کیا ہوتا ہے جس کے ساتھ زندگی کا سفر طے کیا جائے میں نے تمہیں اپنا شریک سفر ٹھہرایا ہے۔۔ میں خواب میں بھی کوئی دکھ درد یا تکلیف تمہیں نہیں سونپ سکتا۔۔۔ تمہارا یہ وجود میرے لیے اس ٹھنڈی چھاؤں کی مانند ہے جس میں کھو کر میں کچھ پل کے لیے اپنے سارے دکھ درد تکلیف بھول کر سکون حاصل کرسکتا ہوں۔۔۔ اپنے اندر کی تنہائی سے لڑتے لڑتے تھک چکا ہوں،، میں کچھ پل تمہاری قربت میں سکون کے چاہتا ہوں مجھے اپنے اندر سمیٹ لو اور مکمل طور پر میری ہوجاؤ”
افراہیم نوف کے وجود کو خود میں سمائے بےخود سا ہوکر بولا تو نوف اس سے الگ ہوکر افراہیم کا چہرہ دیکھنے لگی
ایک عجیب سحر پورے ماحول پر طاری ہوچکا تھا۔۔۔ افراہیم نوف کا چہرہ تھام کر اپنے چہرے کے قریب کرتا ہوا بےخود سا اس کے ہونٹوں کو کسی پیاسے صحرا کے مانند دیکھے گیا،، نوف کی اپنی نظریں بھی افراہیم کے چہرے پر ٹکی ہوئی تھی۔۔۔ یہی وہ پل تھا جب نوف کے دل نے ناجانے کب اس کو دغا دے ڈالی اپنی آنکھیں بند کرتے ہوئے نوف نے بہت آہستگی سے اپنے ہونٹوں سے افراہیم کے گال پر رکھے،، وہ اپنے باغی ہوتے دل کی لگامیں تھام نہیں پائی تھی مگر دوسرے ہی پل کسی نے اندر سے بری طرح اسے سرزش کی تو نوف افراہیم سے دور ہونے لگی مگر افراہیم کا دل سرکشی پر اترا آیا۔۔۔ اس نے نوف کو اپنے وجود سے دور ہوتا دیکھ کر،، نوف کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں لےلیا
“اس طرح دور جاکر تم میرے اوپر یوں ظلم نہیں کرسکتی آج۔۔۔ یمنہٰ پلیز”
یمنہٰ نام پر نوف فوراً اپنے حواسوں میں لوٹ آئی یہ نام اس کی اصلی پہچان نہیں تھا۔۔۔ مگر افراہیم کے دل کو تو آج اس نے خود ہی اکسایا تھا وہ چاہ کر بھی افراہیم کی گرفت سے خود کو آزاد نہیں کروا سکی۔۔۔ افراہیم نوف کو گرفت میں لےکر اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھتا ہوا اپنی تشنگی مٹانے لگا
افراہیم کی سانسوں کی گرمائش نوف کے اندر اترتی ہوئی اس کو پورا پورا اندر تک جھلسانے لگی۔۔۔ وہ افراہیم کے دل کے تاروں کو چھیڑ کر اپنے ساتھ غلط کر بیٹھی تھی جس کا خمیازے میں اب اس کی اپنی سانسیں بند ہونے لگی تھی،، اس سے پہلے افراہیم کی شدت مزید بڑھتی اور نوف کا ضبط جواب دینے لگتا۔۔۔ اچانک ہی کمرے کا دروازہ زور سے بجنے لگا
“افراہیم بیٹا دروازہ کھولیں بیگم صاحبہ کی طبیعت بگڑ رہی ہے”
کمرے کے اندر آتی نوری کی آواز سے افراہیم ایک دم حواسوں کی دنیا میں لوٹ آیا،، نوف سے دور ہوتا ہوا وہ فوراً دروازے کی طرف بڑھا
جاری ہے
