No Download Link
Rate this Novel
Episode 31
“نہیں افراہیم پلیز مجھے مت چھوڑئیے گا میں تو آپ کو اچھی لگنے لگی تھی ناں، میں خود بھی آپ سے محبت کرنے لگی ہوں پلیز مجھے مت چھوڑیے گا”
افراہیم آفس جانے کے لئے تیار ہورہا تھا تب نوف کی بڑبڑاہٹ پر وہ چلتا ہوا بیڈ پر اس کے قریب آکر بیٹھا، نوف چہرے پر بےچینی کی تاثرات لیے نیند میں مسلسل بڑبڑاۓ جارہی تھی۔۔۔ افراہیم چند دنوں میں ہی اس کی نیچر کو اچھی طرح جان گیا تھا وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو ذہن پر سوار کرنے والی لڑکی تھی
“یمنہ آنکھیں کھولو”
افراہیم نوف کے گال پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا پہلے تو افراہیم اسکو جگاۓ بغیر آفس جانے کا ارادہ رکھتا تھا مگر نیند میں نوف کو بےچین دیکھ کر افراہیم اس کو جگانے لگا یقینا اس وقت وہ کوئی برا خواب دیکھ رہی تھی افراہیم کے ایک بار پکارنے پر نوف نے اپنی آنکھیں کھولیں
“افراہیم”
نوف نے آنکھیں کھولنے کے ساتھ ہی اپنے سامنے بیٹھے افراہیم کو پکارا اور ساتھ ہی افراہیم کا ہاتھ جو اس کے گال پر موجود تھا پکڑتی ہوئی اسے اپنے ہونٹوں سے لگانے لگی
“خوابوں کو اتنا زہن پر سوار نہیں کرنا چاہیے ان کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی، تم نے ڈنر نہیں کیا تھا رات میں، اٹھ کر بریک فاسٹ لو تاکہ میں آفس کے لیے نکل سکو”
افراہیم نرم لہجے میں بولتا ہوا بیڈ سے اٹھا، وہ چند دنوں میں یہ بھی جان گیا تھا کہ اس کی بیوی بھوک بالکل بھی برداشت نہیں کرسکتی اس لیے وہ اسے اپنے سامنے ناشتہ کروا کر آفس جانا چاہتا تھا
“آپ نہیں جانتے کہ میں نے کیا خواب دیکھا تھا آپ مجھے بےوفا سمجھ کر مجھ سے الگ ہونے کا فیصلہ کررہے تھے، مجھے ہمیشہ کے لیے چھوڑ رہے تھے”
نوف خود بھی بیڈ پر اٹھتی ہوئی افراہیم کو اپنا خواب بتانے لگی جس پر افراہیم کے کمرے سے باہر جاتے ہوئے قدم رکے وہ چلتا ہوا دوبارہ نوف کے پاس آیا اور اس کا چہرہ تھامتا ہوا بولا
“ابھی میں نے تم سے کیا کہا ہے کہ خوابوں کا حقیقت سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا ویسے بھی میرے نزدیک بےوفائی کی سزا اتنی آسان نہیں ہونی چاہیے تم بےفکر رہو اگر تم نے مجھ سے بےوفائی کرنے کا سوچا بھی تو میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا، نہ ہی تم سے اپنا رشتہ ختم کروں گا بلکہ مجھے دھوکہ دینے یا بےوفائی کرنے کی صورت میں، میں تمہاری اپنے ان ہاتھوں سے جان لےلو گا”
بے حسی کی انتہا کرتا ہوا وہ بےحد سکون سے نوف کو کہنے لگا نوف خوف ذدہ ہوکر مگر خاموشی سے افراہیم کو دیکھتی رہی پھر بولی
“آپ مجھ سے ابھی تک ناراض ہیں”
نوف افراہیم سے پوچھنے لگی کل رات سے ہی افراہیم کا رویہ بہت عجیب سا ہوچکا تھا۔۔۔ اور جو بات اس نے افراہیم کو ابھی تک نہیں بتائی تھی نوف اس بات کو لےکر اب افراہیم سے مزید ڈرنے لگی تھی کہیں اپنی اصل شناخت کا چھپانا، نوف کی یہ بات دھوکہ دہی میں شمار کی جاتی تو افراہیم کیا تب بھی اسکی اپنے ہی ہاتھوں سے جان لے لیتا
“چینج کرکے باہر آجاؤ ناشتے پر میں تمہارا ویٹ کررہا ہوں”
نوف کی بات کا جواب دیئے بناء افراہیم اس کو دیکھ کر بولا اور کمرے سے باہر نکل گیا
بیلا کی آنکھ کھلی تو اندھیرا اجالے میں تبدیل ہوچکا تھا مطلب صبح کا آغاز ہوچکا تھا گھڑی پر نظر ڈالنے کے بعد اس نے بیڈ پر اپنے برابر میں ازلان کی خالی جگہ کو دیکھا یعنی وہ رات کا گھر سے نکلا ہوا تھا ابھی تک واپس نہیں لوٹا تھا
“اندر آجاؤ اسی فلیٹ میں رہتا ہوں میں”
یہ ازلان کی آواز تھی جو بیلا کو سنائی دی جبھی وہ بیڈ سے اتر کر سلیپرز پاؤں میں ڈالتی ہوئی کمرے سے باہر نکلی
“اب گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے اگر عدنان یہاں پہنچ بھی گیا تو وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا اس لئے ٹینشن فری ہو جاؤ”
ازلان گل سے بول رہا تھا تب ایک دم بیڈ روم سے بیلا باہر نکل کر آئی جہاں بیلا حیرت سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی وہی گل بھی حیرت سے بیلا کے بعد سوالیہ نظروں سے ازلان کو دیکھنے لگی
“یار رات کو کوشش کے باوجود جلدی نہیں آسکا تمہیں نیند آگئی تھی ناں آرام سے”
ازلان گل کی سوالیہ نظروں کو نظر انداز کرتا ہوا بیلا کے پاس آکر اس سے پوچھنے لگا لیکن وہ بناء کوئی جواب دیے اب بھی ازلان کو دیکھ رہی تھی تبھی ازلان بیلا سے بولا
“پہچانا نہیں تم نے اسے میری کزن ہے یہ یار۔۔۔ گل”
ازلان بیلا کے تاثرات دیکھ کر اسے بتانے لگا
“پہچان لیا، مگر یہاں مطلب؟ تم رات میں اس کے پاس گئے تھے”
بیلا کنفیوز ہوکر ازلان سے پوچھنے لگی جبکے گل ابھی بھی حیرت سے بیلا کو دیکھ رہی تھی جو بغیر دوپٹے کے اتنا فری انداز میں اذلان سے بات کررہی تھی
“بتاتا ہوں ناں سب، تم روم میں تو چلو”
ازلان بیلا کو بولتا ہوا اسے آنکھوں سے کچھ اشارہ کررہا تھا گل اب ازلان کو دیکھنے لگی جس نے کبھی اس سے اتنا فری ہوکر بات نہیں کی تھی۔۔۔
جیسے بیلا گل کو پہلی نظر میں پہچان چکی تھی ویسے ہی گل بھی اس فتنہ لڑکی کو پہلی نظر میں پہچان چکی تھی مگر وہ کنفیوز صرف ازلان اور بیلا کو ایک ساتھ دیکھکر تھی۔۔ جب بیلا اس کے کہنے پر بیڈروم میں نہیں گئی تو ازلان گل کی طرف متوجہ ہوا، اور اس کی آنکھوں میں بیلا کو لےکر کنفیوژن دیکھ کر گل کو بتانے لگا
“گل یہ بیلا ہے شاید تم نے بھی اسے پہچان لیا ہو چند دنوں پہلے ہی میں نے بیلا سے نکاح کیا ہے”
ازلان کی بات پر گل کے ہاتھ میں موجود اس کا بیگ گرتے گرتے بچا، اس کا ری ایکشن اور آنکھوں میں بےیقینی ازلان کے ساتھ ساتھ بیلا سے بھی چھپی نہیں رہ سکی تھی جسے بیلا دیکھ کر واپس بیڈروم میں چلی گئی
“تم کافی طویل سفر طے کرکے آئی ہو، تھک گئی ہوگی یہ برابر میں بھی بیڈروم ہے تھوڑا ریسٹ کرلو شام میں بات کریں گے”
ازلان گل کی کیفیت سے انجان بالکل نہیں تھا اس نے شروع سے ہی گل کو کوئی خواب نہیں دکھائے تھے مگر اس وقت گل کا چہرہ دیکھ کر اور اس کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر اسے گل کی دلی کیفیت سمجھ پر افسوس ہونے لگا
“گل میں تم سے بول رہا ہوں کمرے میں جاکر تھوڑی دیر ریسٹ کرلو”
ازلان اب کی بار تھوڑا سیریس ہوکر زور سے بولا تو وہ ازلان کے بتائے ہوئے کمرے میں چلی گئی جبکہ ازلان لمبا سانس خارج کرکے بیلا کے پاس جانے لگا
“تم اس کو یہاں لے کر کیوں آئے ہو ازلان”
ازلان کے بیڈ روم میں آتے ہی بیلا صوفے سے اٹھکر اس سے سوال کرنے لگی جیسے وہ ازلان کے انتظار میں ہی بیٹھی تھی کہ کب وہ آئے اور کب وہ ازلان سے گل کے بارے میں پوچھے
“یار ایک ٹریجڈی ہوگئی تھی اس کے ساتھ، تفصیل بعد میں آکر بتاؤں گا، ابھی دیر ہورہی ہے مجھے”
ازلان بیلا کو بولتا ہوا وارڈروب سے اپنا یونیفارم نکالنے لگا آج ایک سیمینار بھی اس کو اٹینڈ کرنا تھا
“پلیز اب مجھ سے یہ نہیں بولنا کہ وہ اب یہی رہے گی تمہارے ساتھ اس فلیٹ میں”
بیلا گل کے ہاتھ میں موجود سفری بیگ کو یاد کرتی ہوئی ازلان سے بولی تو ازلان ہینگر سمیت اپنا یونیفارم بیڈ پر رکھتا ہوا ہے بیلا کے پاس آیا
“تم کیسی باتیں کررہی ہو بیلا وہ میری کزن ہے یار، اس وقت مشکل میں ہے اس نے مجھے مدد کیلئے پکارا ہے تو کیا میں اس کو ایسے ہی چھوڑ دو، تم کیا سوچ رہی ہو تمہارے دماغ میں کون سی فلم چل رہی ہے پہلے تو تم مجھے یہ بتاؤ”
ازلان بیلا کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر اس سے سوال کرنے لگا
“ہمارے نکاح والی بات سن کر تم نے اس کا فیس نہیں دیکھا پلیز اذلان پہلی فرصت میں اس کا جو بھی پرابلم ہے اس کو سوٹ آؤٹ کرو، میں کم از کم اس کو یا پھر کسی دوسری لڑکی کو یہاں تمہارے ساتھ ایک فلیٹ میں رہتا ہوا نہیں دیکھ سکتی کیونکہ آج مجھے خود بھی واپس گھر جانا ہے اپنے، مما مس کر رہی ہیں مجھے”
بیلا الجھتی ہوئی ازلان سے بولی اور اس کے پاس جانے لگی تو آزلان نے بیلا کا ہاتھ پکڑکر اسے اپنی جانب کھینچا
“سارے مسئلے کا حل میں جلدی نکالوں گا مگر آج تم واپس نہیں جارہی ہوں، کل رات والا سین تو ادھورا ہی رہ گیا ہے آج رات تو مجھے تم کو رومینس کے کچھ آداب سکھانے ہیں اس کے بعد تمہیں فزکس کے سوالات بتانے ہیں”
ازلان بیلا کو اپنے حصار میں لےکر رومینٹک انداز میں بولتا ہوا اس کے ہونٹوں پر جھکنے لگا تو ازلان کی بات پر بیلا کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی وہ اپنا چہرہ پیچھے کرتی ہوئی بولی
“رومانس کے سارے آداب اب میں تم سے بات میں سیکھو گی جب تم پراپر طریقے سے مما اور بھائی کے سامنے ہمارے رشتے کی بات کرو گے اور فزکس کے سارے سوالات آج رات تم مجھے موبائل پر خود کال کرکے بتاؤ گے، رات میں تمہاری کال کا ویٹ کرو گی”
بیلا اذلان کے حصار میں موجود اسے جتاتی ہوئی بولی وہ اپنی غیر موجودگی میں بھی ازلان کی ساری توجہ اپنے اوپر چاہتی تھی اسے ازلان پر مکمل بھروسہ ہونے کے باوجود ازلان کی یہ کزن جو اس کو بچپن سے پسند نہیں آئی تھی اور یہاں آکر اس کا موڈ خراب کرچکی تھی بیلا نہیں چاہتی تھی کہ وہ ازلان سے زیادہ فری ہو یا ازلان اس سے زیادہ بات کرے
“صرف تین دن کے بعد آرہا ہوں میں تمہارے گھر، تاکہ تمہیں یہاں واپس اپنے پاس لا سکو،، اب جلدی سے مجھے کس لینے دو کیوکہ رات میں ہماری موبائل پر صرف فزکس کے متعلق بات ہوگی”
ازلان بولتا ہوا بیلا کے گھورنے کا نوٹس لیے بغیر اس کے ہونٹوں پر جھکا۔۔۔ وہ چند دنوں میں خود کو لےکر بیلا کی پوزیسیو نیچر کو اچھی طرح سمجھ گیا تھا، اسلیے وہ اپنا خود کا موڈ فریش اور بیلا کا خراب موڈ درست کرنے لگا
ازلان کی قربت سے بیلا کا بگڑا ہوا موڈ ٹھیک ہوا تو وہ پیچھے ہٹی مگر ازلان کی تشنگی ابھی نہیں مٹی تھی جبھی وہ بیلا کے بالوں میں اپنی انگلیاں پھنساکر بیلا کو اپنے قریب کر ایک بار پھر اپنی تشنگی مٹانے لگا تبھی ایک دم کمرے کا دروازہ کھلا اور وہ دونوں فورا پیچھے ہٹے
“رات کو تمہارا ڈرائیونگ کرتے ہوۓ سارا وقت گزرا، تم تھک گئے ہوگے اس لیے تمہارے لئے چائے بناکر لائی ہوں”
گل کچھ دیکھ تو نہیں پائی تھی مگر ان دونوں کے ایک دم دور ہٹنے سے اسے اندازہ ہوگیا کہ غلط ٹائم پر اس نے کمرے کا دروازہ کھولا تھا اس لیے ازلان کو وضاحت دینے لگی جبکہ بیلا کا موڈ گل کو دیکھ کر ایک بار پھر خراب ہوچکا تھا
“گل مجھے کچھ چاہیے ہوگا وہ میں لے لوں گا تم پریشان مت ہو جاکر کمرے میں ریسٹ کرو”
ازلان کو گل کا بنا دستک دروازہ کھولنا پسند نہیں آیا یہی سن گن لینے کی عادت اسے گل کی ہمیشہ سے زہر لگتی تھی۔۔۔ وہ گل کے ہاتھوں سے چائے کا کپ لےکر اسے اپنے کمرے سے جانے کا بولنے لگا جبکہ بیلا اپنا دوپٹہ اوڑھتی ہوئی وارڈروب سے اپنا کپڑوں کا بیگ نکالنے لگی
“تم میرے آرام کی فکر مت کرو وہ تو میں کر ہی لوگی یہ بتاؤ ہری مرچ قیمہ بناؤں آج تمہارے لیے تمہیں پسند ہے ناں”
گل اس کے رویے کا نوٹس لیے بغیر ازلان سے بےتکلفی سے پوچھنے لگی جبکہ ازلان بیلا کی طرف دیکھنے لگا جو بالکل خاموش ان دونوں کو نظرانداز کئے اپنے کپڑے بیگ میں ڈال رہی تھی
“نہیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے وہ مجھے کل ہی بیلا بناکر کھلا چکی ہے تم یہاں سے جاؤ گل پلیز”
ازلان ضبط کرتا ہوا گل سے بولا تو وہ اس کے کمرے سے چلی گئی
“کیا ہوا یار بیلا یہاں دیکھو میری طرف اس طرح بی ہیو کرو گی اب تم میرے ساتھ”
ازلان بیلا کے پاس آکر اس کا بازو پکڑتا ہوا بولا
“ازلان پلیز، میں ویٹ کروں گی تمہارا تم تین دن بعد نہیں بلکہ کل ہی مما اور بھائی کے پاس بات کرنے آرہے ہو، اور میں امید کرتی ہوں کل تک تم اپنے سارے مسئلے حل کرچکے ہوگے”
بیلا ازلان کو بولتی ہوئی بیگ لےکر وہاں سے نکل گئی
ازلان اپنا یونیفارم اٹھاتا ہوا چینج کرنے چلا گیا۔۔۔ گل کو یہاں لانے سے پہلے وہ سوچ چکا تھا اسے کیا کرنا ہے،، آج پہلی فرصت میں سیمینار اٹینڈ کرنے کے بعد اسے معامون سے کانٹیکٹ کرنا تھا
رات کے بارہ بجنے کو آئے لیکن افراہیم صبح کا آفس نکلا ہوا ابھی تک واپس لوٹ کر نہیں آیا تھا یہاں تک کہ وہ نوف کی کال بھی نہیں اٹھارہا تھا، شام میں البتہ وہ نازنین کو کال کرکے اپنے لیٹ آنے کا بول چکا تھا اس لیے نازنین مطمئن تھی اس کے مطمئن ہونے کی دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ بیلا آج صبح ہی واپس گھر لوٹ آئی تھی
نازنین کو تو اطمینان تھا لیکن اسکو بےچینی صرف اس وجہ سے تھی کے گھنٹے بھر پہلے گلاب خان نے آکر اسے روحیل کے ڈرائیور کا پیغام دیا تھا جو گاڑی میں موجود اس کا انتظار کررہا تھا، نوف روحیل کے ڈرائیور کو تو واپس بھیج چکی تھی مگر ڈرائیور کے جانے کے بعد لینڈ لائن پر آنے والی کال اتفاق سے نوف نے رسیور کی جو روحیل کی تھی
روحیل نے اس کو دھمکی دی تھی کہ وہ خود یہاں پر آنے والا ہے جس کی وجہ سے وہ کافی زیادہ پریشان تھی۔۔۔ نازنین اور بیلا کے پاس وہ غائب دماغی میں بیٹھی ان دونوں کی باتیں سن رہی تھی، بیلا کے اپنے کمرے میں جانے کے بعد اور نازنین کے سونے کے بعد نوف خود بھی اٹھ کر بیڈ روم میں چلی آئی تھی، باہر سے آتی گاڑی کی آواز سن کر وہ اپنے کمرے سے باہر نکلی۔۔۔ نوف افراہیم کے واپس آنے کا گمان کررہی تھی جبکہ ہال میں روحیل کو دیکھ کر نوف کا سارا خون خوف سے خشک ہونے لگا اب نہ جانے کون سا طوفان برپا ہونا تھا
“میں نے تمہیں شرافت سے اپنا موقف سمجھانا چاہا تھا لیکن شاید تم نے یہ سمجھ لیا میں خالی خولی باتیں بنارہا ہوں،، اگر تم ابھی اور اسی وقت میرے ساتھ نہیں چلی تو، ناصرف تمہاری اصلیت افراہیم سمیت اس کے گھر والوں کو بتاؤں گا بلکہ روبی کو بھی تمہارے بارے میں انفارم کردو گا اب بتاؤ میرے ساتھ چلنے کے لئے تیار ہو کہ نہیں۔۔۔ باہر گلاب خان سے مجھے معلوم ہوچکا ہے افراہیم اس وقت گھر پر موجود نہیں ہے، تم بعد میں افراہیم سے کوئی بھی بہانہ بناسکتی ہو صرف چند گھنٹے بعد میرا ڈرائیور تمہیں یہاں واپس چھوڑ دے گا”
روحیل نوف کو دیکھتا ہوا بولا گلاب خان نے شاید روحیل کو اندر بھی اس لئے آنے دیا تھا کہ وہ افراہیم کا دوست تھا وہ تو شکر تھا کے نازنین اور بیلا اس وقت یہاں پر موجود نہیں تھی مگر نوف روحیل کی بات سن کر اچھی خاصی پریشان ہوچکی تھی
“آپ کو خدا کا واسطہ ہے میرا گھر برباد نہیں کریں آپ کے اس عمل سے میری پوری زندگی برباد ہوجائے گی پلیز یہاں سے چلے جائیں میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں”
بولنے کے ساتھ ہی نوف کی آنکھوں سے آنسو نکلنا شروع ہوگئے ساتھ ہی اس نے روحیل کے سامنے اپنے ہاتھ بھی جوڑ دیے جنہیں دیکھ کر روحیل اس پر ترس کھانے کی بجائے نوف کے پاس آکر اس کا ہاتھ پکڑتا ہوا اسے باہر لے جانے لگا۔۔۔ وہ شور مچا کر یا چیخ و پکار کرکے آخر کس کو بلاتی، نوف آنکھوں میں آنسو لیے روحیل کے ساتھ چلتی ہوئی اس سے منتیں کرنے لگی۔۔۔ روحیل اسے باہر لاکر گاڑی میں بٹھانے ہی والا تھا تبھی مین گیٹ سے افراہیم کی گاڑی اندر داخل ہوئی جسے دیکھ کر روحیل نے نوف کا ہاتھ چھوڑا وہی نوف خدا کا شکر ادا کرنے لگی
“حرا”
گاڑی سے اتر کر افراہیم کو اپنی طرف آتا دیکھ کر اور اس کے ساتھ موجود اپنی بیوی کو دیکھ کر روحیل ایک پل کے لئے سناٹے میں آگیا اس کا سکتہ افراہیم کے ہاتھ کے پڑنے والے زور دار طماچے نے توڑا
“کہاں لے جارہے تھے تم میری بیوی کو، ہمت بھی کیسے کی تم نے اس کا ہاتھ پکڑنے کی۔۔۔ کیا سمجھا ہوا ہے تم نے اس کو یہ کوئی بکاؤ مال نہیں افراہیم عباد کی عزت ہے میں اگر چاہو تو تمہاری اس گھٹیا حرکت پر ابھی اور اسی وقت تمہیں پولیس کے حوالے کرسکتا ہوں مگر میں چاہتا ہوں کہ تم اسی وقت میرے گھر سے دفع ہوجاؤ اور آئندہ کبھی مجھے اپنی شکل مت دکھانا”
افراہیم غصے میں روحیل کا پکڑا ہوا گریباں جھٹکتا ہوا بولا۔۔۔۔ نوف بھیگی ہوئی آنکھوں سے افراہیم کو دیکھ رہی تھی جبکہ سرخ گال کے ساتھ روحیل افراہیم کی جگہ حرا کو دیکھ رہا تھا جو اپنی آنکھوں میں بےاعتباری لیے افسوس بھری نظروں سے روحیل کو دیکھ رہی تھی
“تم مجھے غلط سمجھ رہے ہو افراہیم، اور جسے تم اپنی عزت بول رہے اس کے بارے میں تم جانتے ہی کیا ہو،، معلوم ہے کیا اوقات ہے اس لڑکی کی”
روحیل جان چکا تھا کہ اب حرا کو اپنا یقین دلانا اس کے لیے کتنا دشوار ہوجائے گا، اپنا خود کا گھر اجڑتا دیکھ کر وہ نوف کی اصلیت افراہیم پر کھولنے لگا مگر اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے افراہیم ایک بار پھر روحیل کا گریبان پکڑتا ہوا بولا
“خبردار جو تم نے اپنی گندی زبان سے میری بیوی کا اگلی بار نام لیا تو، دوستی تو کیا میں ساری انسانیت کو ایک طرف رکھ کر یہی اسی جگہ پر تمہاری قبر بنا ڈالوں گا اور اس کی اوقات یہ ہے کہ یہ افراہیم عباد کی بیوی ہے اور تمہاری اوقات میں تمہاری بیوی کو ثبوت کے ساتھ بتاچکا ہوں۔۔۔ اب نکل جاؤ میرے گھر سے”
افراہیم روحیل کو گریبان سے پکڑ کر گیٹ کی طرف دھکا دیتا ہوا بولا وہ حرا کو اپنے موبائل میں موجود وائس ریکارڈنگ پہلے ہی سنا چکا تھا، افراہیم نوف کی طرف بڑھ کر اس کا ہاتھ پکڑتا ہوا اسے اندر لے گیا
“حرا میری بات سنو یہ افراہیم کی بیوی بہت چلاک لڑکی ہے اس نے افراہیم جیسے چالاک انسان کو الو بناکر اس سے شادی کی ہے اور ساتھ میں مجھے بھی پھنںساکر بلیک میل کرنا چاہ رہی تھی، تم تو جانتی ہونا کے میں تم سے اور بچوں سے کتنا پیار کرتا ہوں”
روحیل حرا کے قریب آتا ہوا اس کے سامنے کہانی بناکر بولا جس پر حرا نے روحیل کے دوسرے گال پر زور دار تپھڑ رسید کیا اور گیٹ سے باہر نکل گئی
جاری
