No Download Link
Rate this Novel
Episode 29
“اتنی خاموشی کیوں ہیں آپ؟ کیا کوئی غلطی ہوگئی ہے مجھ سے جو صبح سے ہی مجھ سے بات نہیں کررہی ہیں”
نازنین دوسرے دن صبح تک مکمل حواس میں لوٹ چکی تھی نوف نے محسوس کیا وہ صبح سے ہی چپ چپ تھی شام میں نوف نازنین کے کمرے میں آتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی
“کل میری وجہ سے تمھیں یہ زخم آیا ہے ناں”
نازنین نوف کے ماتھے کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی نوف اس کی بات سن کر نازنین کے پاس بیٹھ پر آکر بیٹھ گئی
“آپ کو معلوم ہے ناں میری امی اب اس دنیا میں موجود نہیں ہیں اور میں آپ کو اپنی امی کی جگہ تصور کرتی ہوں تبھی آپ کو اپنا سمجھتی ہوں کیونکہ مجھے بھی معلوم ہے کہ آپ بھی مجھے بیلا کی طرح پیار کرتی ہیں، دنیا کی کوئی بھی ماں اپنے بچے کو جان بوجھ کر نقصان نہیں پہنچا سکتی اور یہ کوئی ایسا زخم نہیں ہے جو کبھی ٹھیک نہ ہو، دو دن لگیں گے اس کو ٹھیک ہونے میں لیکن آپ نے مجھ سے مزید ایک گھنٹہ بات نہیں کی تو میں بہت میں برا محسوس کرو گی یہ میں بالکل صحیح کہہ رہی ہو”
نوف نازنین کے پاس بیٹھی ہوئی اس سے دوستانہ لہجے میں بولی تو نازنین نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگالیا
“یہ میرے افی کی خوش قسمتی ہے جو اسے تم جیسی بہترین بیوی ملی ہے، مجھے آج پھر نئے سرے سے خوشی ہورہی ہے کہ میں نے ایک ایسی لڑکی کو اپنی بہو بنایا ہے جو اچھی شکل و صورت کے ساتھ اچھی دل کی بھی مالک ہے”
نازنین نوف کو گلے لگائے ہوئے خوشی سے بولی تو افراہیم آفس سے سیدھا نازنین کے کمرے میں داخل ہوا
“یہ میری آنکھیں کونسا جذباتی منظر دیکھ رہی ہیں ساس بہو میں اتنی زیادہ محبت”
افراہیم کمرے میں داخل ہوکر نازنین سے بولا
“ساس اور بہو کے رشتے کو تو بلاوجہ میں بدنام کیا ہے میری نظر میں تو یہ بہت پیارا رشتہ ہے”
نازنین نوف سے الگ ہوتی ہوئی افراہیم کے بولی جو بیڈ کے دائیں جانب صوفے پر بیٹھ چکا تھا جبکہ نوف نے افراہیم پر ایک نظر ڈال کر نگاہیں نیچے کرلی۔ تھیں۔۔۔ یہ کل رات افراہیم کی بخشی ہوئی محبت اور قربت کا اعجاز تھا کہ وہ صبح سے ہی افراہیم سے نظریں نہیں ملا پارہی تھی
“خوبصورت تو میری مما ہیں اور ان کا پیارا سا دل ہے”
افراہیم نوف کی جھکی ہوئی پلکیں دیکھ کر اسکے چہرے پر بکھرے حیا کے رنگوں کو دیکھ کر بولا نازنین سے بولا
“نظریں تمہاری اپنی بیوی پر ٹکی ہوئی ہیں اور خوبصورت تم اپنی ماں کو بول رہے ہو سیدھے سیدھے انداز میں یمنہ کو خوبصورت بول دو میں بالکل بھی جیلس فیل نہیں کروں گی”
نازنین مسکراتی ہوئی افراہیم سے بولی تو وہ زور سے ہنس دیا
“کیا یمنہ واقعی خوبصورت ہے میں نے تو اسے غور سے دیکھا ہی نہیں اب تک”
افراہیم اس کی جھکی پلکوں کو دیکھ کر شرارت سے بولا تو نازنین کے ساتھ نوف بھی نظریں اٹھاکر افراہیم کو گھورنے لگی
“میں چائے لےکر آتی ہوں آپ دونوں کے لیے”
نوف بولتی ہوئی کمرے سے کچن میں چلی گئی
“یار میرا تو چائے پینے کا بالکل بھی موڈ نہیں ہورہا تم اور مما پی لو۔۔۔ ہاں اگر تمہیں تیار ویار ہونا ہے تو جلدی سے ہوجانا کیوکہ آج ہم دونوں کو باہر ڈنر پر جانا ہے”
افراہیم اپنے کمرے میں جانے سے پہلے کچن میں جھانکتا ہوا نوف سے بولا تو نوف مڑ کر اسے دیکھنے لگی
“باہر ڈنر پر جانے کی کیا ضرورت ہے افراہیم میرا تو باہر جانے کا ایک پرسنٹ بھی موڈ نہیں ہے میں کہیں نہیں جارہی”
اس دن کے بعد اس نوف اتنا ڈر گئی تھی کہ اس نے تہیہ کرلیا تھا کہ وہ بالکل بھی باہر نہیں نکلے گی اس لیے وہ افراہیم کو ڈنر کا انکار کرتی ہوئی بولی
“کیسی بات کررہی ہو یار تم میرا ایک بہت اچھا دوست ہے جو اپنی کسی پرابلم کی وجہ سے ہماری نکاح میں شرکت نہیں کر پایا تھا، اسی نے آج ہم دونوں کو ڈنر پر انوائٹ کیا ہے اس لیے نخرے دکھاۓ بغیر تیار ہوجانا”
افراہیم تفصیل سے اسے بتانے لگا اور ڈنر پر چلنے کے لئے زور دینے لگا
“ایسا نہیں ہوسکتا افراہیم آپ اپنے فرینڈ کو گھر پر بلالیں میں گھر پر ہی اچھا سا ڈنر ارینج کرلیتی ہوں دراصل میرا تیار ہوکر کہیں جانے کا دل نہیں کررہا”
افراہیم کے زور دینے پر نوف بےچارگی سے بولی کے شاید افراہیم اس کی بات مان جاتا
“یمنہ ڈنر پر اس نے ہم دونوں کو انوائٹ کیا ہے تو میں اس کو یہاں پر آنے کا کیوں کہہ دوں؟ اور میں سب سمجھ رہا ہوں تمہارا باہر جانے کا یا تیار ہونے کا موڈ کیوں نہیں ہو رہا تم پرسوں والی کو ابھی تک دماغ پر لے کر بیٹھی ہوں یار جو ہونا تھا ہوچکا ہے اس بات کو لے کر اتنا سوچنے کی کیا ضرورت نہیں ہے۔۔۔ میں تمہیں کہیں اکیلا جانے کو تو نہیں کہہ رہا تمہارے ساتھ ہوں ناں میں، اور اگر تمہیں واقعی تیار نہیں ہونا تو مت ہو تو ویسے بھی تم ایسے زیادہ پیاری لگتی ہو سمپل سی”
افراہیم آخری جملہ اس پر بھرپور نظر ڈال کر پیار بھرے لہجے میں بولا یہ سچ بھی تھا وہ گھر کے کیجول ڈریس میں سیدھا افراہیم کے دل میں اتر رہی تھی
“اچھا تھوڑی دیر پہلے تو آپ آنٹی سے بول رہے تھے آپ نے میری خوبصورتی پر غور ہی نہیں کیا”
نوف جان گئی تھی افراہیم اس کے لاکھ منع کرنے پر بھی اسے آج باہر لےکر جاۓ گا تو ضد کرنا فضول تھی اسلیے افراہیم کے سامنے ہار ماننے کے باوجود تھوڑی دیر پہلے افراہیم کی بات کو پکڑتی ہوئی بولی جس پر افراہیم مسکراتا ہوا اس کے پاس آیا
“اب یہ والی باتیں مما کو تو نہیں بتاسکتا، تم سے بہتر کون جان سکتا ہے کہ پچھلی دو راتوں سے میرا تمہاری خوبصورتی پر غور کرنے کے سوا کوئی دوسرا کام نہیں”
افراہیم بولتا ہوا نوف کے چہرے پر جھکنے لگا مگر اس سے پہلے نوف افراہیم کو پیچھے کرکے فورا چاۓ کی طرف متوجہ ہوئی، افراہیم کو تو شاید ڈر نہیں تھا مگر اسے ڈر تھا کچن میں کوئی ملازم نہ آجاۓ افراہیم اس کی حالت پر مسکراتا ہوا کچن سے باہر نکل گیا
باتھ گاؤن میں گیلے بالوں میں تولیہ رگڑتی ہوئی وہ آئینے میں خود کو دیکھ کر نظریں جگا گئی۔۔۔ کل رات ازلان اس کو مکمل طور پر اپنا بنا چکا تھا، صبح بیلا کی آنکھ کافی دیر سے کھلی اس کو خبر نہیں ہوئی کی ازلان کب جاگا اور اس کو جگاۓ بناء ڈیوٹی پر چلا گیا۔۔۔ نازنین اور نوف سے بیلا موبائل پر باتھ لینے سے پہلے بات کرچکی تھی، گھر کی اوپری چھوٹی موٹی صفائی کرنے کے بعد رات کے لیے ڈنر تیار کرکے اس نے دو سے تین بار ازلان کو کال ملائی جوکہ اس نے ریسیو نہیں کی جس کا شکوہ بیلا اس سے اسلیے نہیں کرسکتی تھی کیوکہ ایسا کرنے سے ازلان نے اس کو پہلے ہی منع کردیا تھا۔۔۔ ڈور بیل کی آواز کانوں میں گونجتے ہی بیلا جلدی سے ڈریس زیب تن کرتی ہوئی دروازے کی طرف بھاگی
دروازہ کھولنے پر اس نے ازلان کو اپنا منتظر پایا جو اس کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا اپنے سامنے یونیفارم میں کھڑے ازلان کو دیکھ کر بیلا کی ڈھرکنیں تھمنے لگی
“دیر کیوں لگا دی دروازہ کھولنے میں، مجھے تو لگ رہا تھا میری بیوی آج میرا بڑی بےصبری سے انتظار کررہی ہوگی”
فلیٹ کے اندر داخل ہوتے ہی ازلان بیلا سے بولا فلیٹ کا دروازہ بند کرکے وہ بیلا کو بازوؤں میں بھرکر اس کے گال پر جھگتا ہوا اپنی بےقراری ظاہر کرنے لگا
“ویسے تو تم اپنے پاس موجود کیز سے خود ہی ڈور کا لاک کھولتے ہو آج کیو بیل بجارہے تھے”
بیلا ازلان کے چہرے سے نظریں ہٹانے کے بعد اس کے حصار سے نکلتی ہوئی پوچھنے لگی کیونکہ یونیفارم میں موجودہ وہ اسے اتنا اچھا لگ رہا تھا بیلا اگر اسے نظر بھر کر دیکھتی تو لازمی وہ بیلا کے دل کا چور پکڑ لیتا کے اس وقت بیلا کا دل کیا چاہ رہا ہے
“بیل اس لیے دیئے جارہا تھا کیونکہ اندر کہیں یہ احساس بہت سکون بخشتا تھا کہ میرے گھر پر کوئی موجود میرا انتظار کررہا ہے”
ازلان بیلا کو بولتا ہوا اس کا نظریں جھکانا محسوس کر کے دوبارہ اسے اپنے حصار میں لے چکا تھا
“بیلا میری جان اگر اپنا شوہر اچھا لگے تو اس سے نظریں چرانے کی بجائے اس کی طرف دیکھ لینے میں کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ وہ غیر نہیں تمہارا اپنا شوہر ہے”
ازلان کے بولنے پر بیلا نظریں اٹھا کر ازلان کا چہرہ دیکھنے لگی ساتھ ہی اپنی مسکراہٹ چھپانے لگی کیونکہ وہ ناکام رہی تھی اپنا آپ اپنے شوہر سے چھپانے کے لئے
“بس صرف دیکھنے کا ہی دل چاہ رہا تھا مجھے تو ایسی فیلنگ آرہی ہے کہ تم مجھے کس کرنے والی ہو”
ازلان اس کے دیکھنے پر شرارت سے بولا تو بیلا گھور کر ازلان کے حصار سے نکلنے لگی مگر کامیاب نہیں ہوسکی کیوکہ ازلان نے اس کو ایسا نہیں کرنے دیا
“تم آنے کے ساتھ شروع ہوگئے، چھوڑو مجھے اور اپنی خوش فہمیاں کم کرو ذرا”
بیلا نے بولتے ہوۓ اپنی کمر سے ازلان کے بازو ہٹانے چاہے تو وہ بیلا کو اپنے حصار سے آزاد کیے بنا اسے دیکھنے لگا
“اگر یہ میری واقعی خوش فہمی ہوتی تو میں تمہیں چھوڑ دیتا لیکن اب تم تب تک میری قید میں رہوگی جب تک مجھے کس نہیں دے دیتی”
ازلان کے بولنے پر بیلا اس کو گھور کر دیکھنے لگی اس سے پہلے وہ اپنا آپ ازلان سے چھڑوانے کی کوشش کرتی وہ دوبارہ بول پڑا
“میں پورا کا پورا تمہارا ہوں جیسے میں تم پر حق رکھتا ہوں ویسے ہی تم مجھ پر حق رکھتی ہوں یقین کرو میری بات کا”
ازلان کی بات مکمل ہوتے ہی بیلا نے اپنے دونوں ہاتھوں میں اس کا چہرہ تھاما اور پنجوں کے بل اوپر اچکتی ہوئی ازلان کے گال پر اپنے ہونٹ رکھتی ہوئی جلدی سے پیچھے ہوئی تو ازلان نے اسے اپنی گرفت سے آزاد کیا بیلا فورا کچن میں چلی گئی جبکہ ازلان مسکراتا ہوا بیڈ روم میں چلا گیا
وہ کچن میں مصروف تھی جبکہ اس کا موبائل مسلسل بج رہا تھا بیلا نے کچن سے جھانک کر دیکھا ازلان یونیفارم کی جگہ ٹراؤزر اور ٹی شرٹ میں موجود دیوار پر لگی ایل ای ڈی پر کوئی پروگرام دیکھ رہا تھا
“کس کی کال آئے جارہی ہے بار بار”
بیلا بولتی ہوئی لیونگ روم میں آئی اور ٹیبل سے اپنا موبائل اٹھانے لگی اس کے موبائل اٹھانے سے پہلے ازلان بولا
“عون کی”
بیلا نے چونک کر ازلان کو دیکھا مگر اس کی نگاہیں بیلا کی بجائے اسکرین پر جمی ہوئی تھیں بیلا موبائل آف کرکے ٹیبل پر رکھتی ہوئی ازلان کے برابر میں آ بیٹھی اور ازلان کو دیکھنے لگی تو ازلان اس کی طرف متوجہ ہوتا ہوا بولا
“ایسے کیا دیکھ رہی ہو کیا دوبارہ کس کرنے کا موڈ ہورہا ہے”
ازلان مسکراہٹ چھپاتا ہوا بیلا کا ہاتھ تھام کر پوچھنے لگا
“ازلان میں بالکل سیریس ہوں”
بیلا ازلان کو گھورتی ہوئی سنجیدگی سے بولی تو ازلان اسکا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگاتا ہوا بولا
“مجھ سے زیادہ سیریس نہیں ہوسکتی تم، آئی لو یو سو مچ”
ازلان بیلا کو دیکھتا ہوا خود بھی سنجیدگی سے بولا
“تم نے مجھ سے پوچھا ہی نہیں کہ عون کون ہے”
بیلا چاہتی تھی یہ سوال ازلان خود اس سے پوچھے کیونکہ ازلان خود بھی جانتا تھا کہ بیلا کا کوئی بھی دوست نہیں تھا
“اگر کوئی بہت خاص ہے یا تم سمجھتی ہو مجھے اس کے بارے میں جاننا ضروری ہے تو تم بتادو کون ہے عون”
ازلان بیلا سے بولتا ہوا اس کی گود میں اپنا سر رکھتا ہوا صوفے پر لیٹ چکا تھا
“کوئی بہت خاص تو نہیں ہے لیکن مجھے لگا کہ تمہیں اس کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے”
بیلا کے بولنے پر ازلان خاموشی سے اس کی گود میں سر رکھے بیلا کے مذید بولنے کا انتظار کرنے لگا
“چار سال پہلے فیس بک پر عون کے فرینڈ ریکویسٹ بھیجنے پر میری اس سے بات چیت ہوئی اس کے بےحد اصرار پر میں نے اس سے دوستی اسی شرط پر کی کہ جب میرا دل چاہے گا ہم دونوں تب بات کریں گے وہ ایسا ہی کرتا۔۔۔ جب مجھے بچپن کے اس بھیانک واقعہ کو یاد کر کے ڈپریشن ہوتا تب میں اس کو کال کرتی اسے حقیقت معلوم نہ ہونے کے باوجود وہ مجھے اپنی باتوں سے ریلکس کردیتا مگر ایک ماہ پہلے وہ چاہتا تھا کہ میں اس کو بھی ٹائم دو اس سے باتیں کرو”
بیلا ازلان کو اپنے اور عون سے دوستی کے متعلق باتیں بتانے لگی
“اور اب تم اس کو اگنور کررہی ہو جبکہ اچھے دوستوں کو اگنور نہیں کرنا چاہیے”
اذلان بیلا کی باتوں پر اس سے بولا
“مگر لاسٹ دو تین کال سے مجھے اس کے بات کرنے کا انداز عجیب لگا کوئی غلط بات تو نہیں کی اس نے مجھ سے مگر پھر بھی۔۔۔۔ خیر تم نہیں سمجھو گے چھوڑو بس یہ ٹاپک”
بیلا کو لگا ازلان اس کے منہ سے کسی لڑکے کا ذکر سن کر اس کی بات پر غور کرے گا یا چونکے گا اس سے سوالات کرے گا مگر وہ ریلیکس اس کی گود میں سر رکھے بغیر دلچسپی لیے اس کی بات سن رہا تھا تو بیلا نے اس ٹاپک کو جانے دیا
“کیا تمہیں کبھی لگا کے میں واپس تمہاری زندگی میں لوٹ کر آؤں گا انتظار کیا تھا تم نے میرا”
چند پل خاموشی سے گزرنے کے بعد ازلان بیلا کا چہرہ غور سے دیکھ کر اس سے سوال کرنے لگا
“ایسا لگا تو نہیں تھا ہاں مگر میں نے دعائیں ضرور مانگی تھی کہ تمہارا جب بھی زندگی میں مجھ سے سامنا ہو تو تمہیں کبھی بھی مجھ سے نفرت محسوس نہ ہو”
بیلا کے بولنے پر ازلان نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے چپ کروایا
“نفرت کیسے کرسکتا تھا میں اس چہرے سے، وقتی غصہ ضرورت تھا جوکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ختم ہوگیا، پہلے ایک بار تم مجھ سے دور چلی گئی تھی تو میں نے تمہیں ڈھونڈ لیا اور اپنا بنالیا اب دوبارہ زندگی میں مجھ سے کبھی دور مت جانا”
ازلان اس کی گود میں سر رکھے بیلا کے گال پر اہنا ہاتھ رکھتا ہوا مدھم لہجے میں بولا تو بیلا نے مسکرا کر ازلان کا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگالیا بھلا وہ خود کیسے اس سے اب دور جاسکتی تھی
“ایسے پریشان کیوں بیٹھی ہو ڈیئر وائف ریلیکس ہوجاؤ یار اور اسمائل تو لاؤ اپنے فیس پر”
افراہیم کار ڈرائیو کے دوران نوف کو دیکھتا ہوا بولا جو بالکل سمٹ کر اور سیریس ہوکر بیٹھی ہوئی تھی افراہیم اپنی منوا کر اسے اپنے ساتھ ریسٹورنٹ لےکر جارہا تھا جہاں اس کے دوست نے ان دونوں کو مدعو کیا تھا
“کب سے ڈرائیونگ کیے جارہے ہیں آخر کب آئے گی منزل آپ کو یاد ہے ناں افراہیم ہم وہاں پر زیادہ دیر نہیں بیٹھیں گے”
نوف گھر سے ہی یہ بات اس کو پانچ پر بول چکی تھی اب بھی وہ افرہیم کو یاد کرواتی ہوئی بولی تو افراہیم ہنس دیا
“تمہاری بات سے میں اندازہ نہیں لگا پا رہا کہ تمہیں وہاں پہنچنے کی زیادہ جلدی ہے یا واپس گھر آنے کی زیادہ جلدی ہے”
افراہیم نے ڈرائیونگ کے دوران ایک نظر نوف کے سجے سنورے روپ پر ڈالی وہ عام دنوں کے مقابلے میں آج اچھا خاصا تیار ہوئی تھی وہ بھی نازنین کے ٹوکنے پر
“جب آپ کے دوست کی طرف پہنچیں گے تبھی تو واپس گھر جلدی آسکے گیں میں صرف آپ کی بات رکھنے کے لئے آپ کے ساتھ جارہی ہو ورنہ میرا ذرا برابر بھی دل نہیں چاہ رہا تھا کہیں جانے کا”
نوف افراہیم کو جتاتی ہوئی بولی وہ اتنا زیادہ تیار بھی نازنین کے کہنے پر تیار ہوئی تھی اس نے نوف کے ہاتھوں میں وائٹ گولڈ کی اپنی چار چوڑیاں اور کانوں میں ڈائمنڈ کے ٹاپس پہنائے تھے
“یار کمنٹمنٹ کرچکا تھا اس سے ورنہ تمہیں اتنا زیادہ تیار دیکھ کر تو میرا بھی ارادہ بدل گیا تھا اب تو تمہارے ساتھ مجھے بھی گھر واپس جانے کی جلدی ہے۔۔۔ ویسے آج کونسی والی نائٹی پہننے کا ارادہ ہے یا کل کی طرح آج بھی میں ہی نائٹی کا کلر بتاؤ”
افراہیم اس کو دیکھتا ہوا معنی خیزی سے بولا تو نوف بلش کرنے کے باوجود اسے آنکھیں دکھاتی ہوئی بولی
“افراہیم پلیز سامنے دیکھ کر گاڑی ڈرائیو کریں”
نوف کی بات سن کر وہ ہنس دیا
جیسے جیسے قدم اٹھا کر وہ افراہیم کے ساتھ چلتی ہوئی اس شخص کے نزدیک آ رہی تھی ویسے ویسے نوف کو محسوس ہورہا تھا اس کے جسم کا سارا خون خشک ہوتا جارہا ہے۔۔۔
روحیل کو بھی افراہیم کی بیوی کو دیکھ کر اچھا خاصا دھچکا لگا تھا وہ دور سے ہی آتی ہوئی نوف کو فوراً پہچان چکا تھا
“کیا ہوا یمنہ تم ٹھیک ہو ناں”
افراہیم روحیل سے سات سے آٹھ قدم کے فاصلے پر تھا جب اس نے نوف کا یخ ٹھنڈا ہاتھ تھام کر اس سے پوچھا،، نوف سے کچھ بھی بولا نہیں گیا اس نے صرف اثبات میں سر ہلایا۔۔۔ اس کی نگاہیں ابھی بھی روحیل پر جمی ہوئی تھی روحیل خود بھی افراہیم کی بجاۓ صرف نوف کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔ اور اس بات کو افرہیم کیوں نہ محسوس کرتا وہ روحیل کا اپنی بیوی کی طرح دیکھنا چوکنا اور نوف کا روحیل کو دیکھتے ہی بدلتی ہوئی کیفیت اچھی طرح محسوس کرچکا تھا۔۔۔ افراہیم ان دونوں کو دیکھ کر اندازہ لگاسکتا تھا کہ وہ دونوں آپس میں ایک دوسرے کو جانتے ہیں
“بھابی اور بچوں کو ساتھ لے کر نہیں آئے” افراہیم روحیل سے مل کر خیریت پوچھنے کے بعد روحیل سے اس کی بیوی اور بچوں کے بارے میں پوچھنے لگا جس پر روحیل نوف کے چہرے سے نظر ہٹا ہوا افراہیم کو بیٹھنے کا اشارہ کرتا ہوا اس سے بولا
“حرا بچوں کے ساتھ اپنے میکے گئی ہوئی ہے تم بتاؤ اتنی جلدی اچانک ایمرجنسی میں شادی کرنے کا ارادہ کیسے بن گیا”
روحیل افراہیم کو اپنے بیوی بچوں کے بارے میں بتاکر ایک بار پھر سامنے کرسی پر بیٹھی ہوئی نوف پر نظر ڈال کر افراہیم سے اس کی اچانک شادی کی وجہ پوچھنے لگا۔۔۔ نوف افراہیم کے برابر میں بالکل خاموش اور پریشان سی بیٹھی ہوئی تھی
“میرا دل برے طریقے سے عاشق ہوگیا تھا ان محترمہ کا، جبھی فرار ہونے کا موقع دیئے بغیر فٹافٹ اپنا بنالیا اب تم بتاؤ کہ تم دونوں ایک دوسرے کو کیسے جانتے ہو”
افراہیم اپنے ساتھ بیٹھی ہوئی نوف کے شانے کے گرد اپنا بازو پھیلا کر حاہل کرتا ہوا بےتکلفی سے روحیل سے پوچھنے لگا
“نہیں میں تو ان کو فرسٹ ٹائم دیکھ رہی ہوں”
روحیل کے کچھ بولنے سے پہلے نوف گھبرا کر ایک دم بولی تو افراہیم اور روحیل دونوں ہی اسے دیکھنے لگے
“پہلے مجھے ایسا لگا کہ جیسے میں تمہاری مسسز کو پہلے کبھی دیکھ چکا ہوں لیکن تمہاری مسز ٹھیک بول رہی ہیں ہم دونوں فاسٹ ٹائم ایک دوسرے سے ملے ہیں”
روحیل کی بات پر نوف کو اطمینان ہوا مگر افراہیم نہ جانے کیوں مطمئن نہیں ہوسکا۔۔۔ روحیل کھانا آرڈر کرنے لگا تبھی افراہیم اپنا موبائل اور کار کی کیز ٹیبل پر رکھتا ہوا بولا
“وہاں لیفٹ سائیڈ پر مجھے معیز دکھا ہے میں ایک منٹ ذرا اس سے مل کر آتا ہوں”
افراہیم کے کرسی سے اچانک اٹھنے پر نوف ایک دم پریشان ہوگئی جبکہ اس کے سامنے بیٹھا ہوا روحیل افراہیم کے وہاں سے جانے کے بعد نوف سے بولا
“اتنا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے تھوڑی دیر میں آجائے گا افراہیم، ویسے تم شکل سے جتنی سیدھی سادی لگتی ہو اتنی ہو نہیں اپنے جال میں پھنساکر اس سے شادی کر ہی لی تم نے، اس دن تمہاری شادی کی آفر میں بھی ہرگز نہیں ٹھکراتا اگر حرا میری زندگی میں نہیں ہوتی لیکن میں اپنی زندگی میں کوئی تشنگی رکھنے والا آدمی ہرگز نہیں ہوں۔۔۔ تمہیں ایک رات کے لیے میرے پاس آنا ہوگا ویسے بھی روبی کو میں جو اماؤنٹ پے کرچکا ہوں وہ اس نے مجھے واپس نہیں دی، کیوکہ تم اس رات میرے فلیٹ سے بھاگ گئی تھی اس لیے کل رات تمہیں میرا ڈرائیور لینے آئے گا وہی میرے فلیٹ پر،، افراہیم کو کوئی بھی بہانہ بناکر آ جانا تاکہ روبی کو دی بوئی اماؤنٹ وصول ہوسکے”
روحیل بہت آرام سے بولتا ہوا نوف کا گھبرایا ہوا چہرہ دیکھنے لگا
“آپ کو اپنے دوست کی بیوی سے ایسی بات کرتے ہوۓ شرم آنی چاہیے میں افراہیم سے بےوفائی کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی، میں کل یا پھر کبھی بھی آپ کے پاس نہیں آنے والی”
نوف ہمت کرتی ہوئی روحیل کو دیکھ کر بولی اس کا دل چاہا کہ کاش وہ افراہیم کو اس کے دوست کا مکروہ چہرہ دکھا سکے
“ٹھیک ہے پھر میں روبی کو تمہارا پتہ دے دیتا ہوں ویسے بھی وہ تمہیں ڈھونڈ رہی ہے اور ساتھ میں افراہیم کو بھی تمہاری حقیقت بتا دیتا ہوں جوکہ یقینا تم نے اس کو نہیں بتائی ہوگی”
نوف کی بات پر روحیل اسے دھمکی دیتا ہوا بولا جس پر نوف چہرہ خوف سے زرد پڑگیا
“آپ ایسا نہیں کریں گے میرے ساتھ، آجر میں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے پلیز رحم کریں مجھ پر”
نوف اپنی آنکھوں میں آنے والی نمی کو جلدی سے صاف کرتی ہوئی بولی اگر افراہیم اس پر یقین نہیں کرتا اور روبی اسے اپنے ساتھ لےکر چلی جاتی یہ سوچ ہی اس کو مار ڈالنے کے لیے کافی تھی
“میرا کچھ بگڑا تو نہیں ہے لیکن سنوار ضرور سکتی ہو ایک رات کے لیے اپنا آپ مجھے سونپ کر۔۔۔ ڈونٹ وری ایک رات کی بات ہے اس کے بعد میں تم سے کبھی زندگی میں کوئی ڈیمانڈ نہیں کروں گا۔۔۔نہ ہی یہ بات کبھی افراہیم کو معلوم ہوگی۔۔۔ یہ سیکرٹ ہمیشہ ہم دونوں کے بیچ میں رہے گا۔۔۔ نہ ہی میں روبی کو کچھ تمہارے بارے میں بتاؤں گا صرف ایک رات کی ہی بات ہے میرے ڈرائیور کے ساتھ کل تم میرے فلیٹ پر آرہی ہوں”
روحیل کی بات پر اس سے پہلے نوف اسے انکار کردیتی افراہیم چلتا ہوا ان دونوں کے پاس آیا
“ڈنر کے لئے معذرت کچھ ایمرجنسی ہوگئی ہے جس کی وجہ سے نکلنا ہوگا چلو یمنہ”
افراہیم بنا تاثر کے روحیل کو دیکھ کر بولتا ہوا ٹیبل سے کار کی کیز اور موبائل اٹھا کر نوف کا ہاتھ پکڑ کر اسے وہاں سے اپنے ساتھ لے گیا
جاری ہے
