Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11


ہر سال کی طرح اس سال بھی ہوۓ (paces)پیسز کے کمیٹیشن میں اس سال اس نے بھی شمولیت اختیار کی تھی، جہاں مختلف ممالک کے فوجیوں نے حصہ لیا تھا وہاں اس نے بھی اس کمیٹیشن کو بہت کم وقت میں باخوبی سرانجام دیا تھا

“مجھے پوری امید تھی کہ اس سال کے کمپیٹیشن کو آپ بالکل بھی مس نہیں کریں گے، آپ کو یہاں دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے”
وہ مقابلے کے اختتام پر کمشنر امان اللہ کے پاس آکر ان کو دیکھتا ہوا بولا۔۔۔ آج پورے چھ سال کے بعد ایک بار پھر وہ کمشنر امان اللہ کے سامنے روبرو کھڑا تھا

“اور تمہیں اس مقابلے میں جیت اپنے نام کرتا ہوا دیکھ کر مجھے تم سے زیادہ خوشی ہورہی ہے۔۔۔ دو منٹ میں 67 پل اپس، 30 منٹ میں دوہزار سٹ اپس،، 30 منٹ میں 13022 پش اپس۔۔۔ ویل ڈن مائے بؤاۓ”
کمشنر امان اللہ ازلان کا کندھا تپھتپھا کر فخریا انداز میں بولا۔۔۔ چھ سال پہلے 18 سال کا لڑکا اس وقت چوبیس سال کا لیفٹیننٹ (lieutenant)
تھا۔۔۔ یہ آزلان ہی جانتا تھا اس مقام تک پہنچنے میں اس نے کیا کچھ برداشت نہیں کیا تھا،، ذہنی اور جسمانی صحت کو برقرار رکھنے کے لئے مشکل ترین مشقتیں اور تعلیم کے ساتھ پانچ سالہ سخت ٹریننگ نے اس کو جسمانی طور پر کسی فولاد کی مانند سخت بنادیا تھا لیکن سینے کے اندر دھڑکتا ہوا اس کا دل آج بھی اس سنگ دل کے نام پر اکثر شور مچا اٹھتا جس کے جھوٹے الزام پر کتنے ماہ تک وہ ذہنی اذیت میں مبتلا رہا تھا،، بیلا کی حرکت کے بعد اب ازلان کو اس سے وفا کی امید یا توقع ہرگز نہیں تھی لیکن پھر بھی اس نے سوچ رکھا تھا وہ بہت جلد اس کے روبرو ہوکر اپنے ماہ و سال کی گزاری ہوئی اذیت کا حساب ضرور لے گا لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا اس سے پہلے اس کو چار سال کے لیے ایک مشن پر بھیج دیا جائے گا


“آگئی میری بیٹی”
نوف کے گھر لوٹنے پر رخشی اس کو دیکھ کر مسکراتی ہوئی پوچھنے لگی،، انگوری رنگ کے کپڑوں میں اس کی چمکتی ہوئی رنگت باہر تیز دھوپ کی تمازت سے اس وقت سرخ ہورہی تھی

“جی امی آگئی اسکول سے مگر باقی سب لوگ کہاں پر ہیں”
نوف چادر اتار کر تہہ کرتی ہوئی خالی گھر کو دیکھ کر رخشی سے پوچھنے لگی۔۔۔ایف اے کلیئر کرنے کے بعد اس نے گھر کے قریب ہی اسکول میں جاب کرلی تھی

“غزل گل کو لےکر اپنے میکے گئی ہے عدنان کا تو معلوم ہے،، کئی کئی دن گھر کا چکر نہیں لگاتا اور تمہارے چچا جان کو ابھی دوائی دی ہے تو وہ سو رہا ہے۔۔۔ تم بیٹھو میں تمہارے لیے کھانا لےکر آتی ہوں” رخشی اس کو سب کا بتاتی ہوئی تخت سے اٹھنے لگی کیونکہ وہ جانتی تھی اس کی بیٹی سے زیادہ دیر تک بھوک برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے

“چچا جان کی طبیعت کیسی ہے اب”
صبح جب وہ اسکول جارہی تھی تب نثار کی طبیعت کافی خراب تھی ویسے بھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ کافی بوڑھا اور کمزور ہوچکا تھا۔۔۔ نوف صحن میں بچھے ہوئے تخت پر آکر بیٹھتی ہوئی رخشی سے نثار کا پوچھنے لگی

“صبح کی بانسبت کافی بہتر ہے یہ بتاؤ آج تاریخ کیا ہوگئی ہے”
رخشی صحن میں تخت پر نوف کے سامنے کھانے کی ٹرے رکھتی ہوئی معمول کی طرح اس سے تاریخ پوچھنے لگی جس پر نوف کے چہرے پر مسکراہٹ آئی

“بھائی کے واپس آنے میں ابھی بھی ہفتہ بھر باقی ہیں امی”
نوف کے مسکرا کر بولنے پر رخشی گھر کی در و دیوار کی طرف دیکھنے لگی جیسے کسی نے نوف کی بات نہ سن لی ہو اور ساتھ ہی نوف کو گھورنے لگی

“ابھی گھر پر کوئی بھی نہیں ہے امی اتنا بھی کیا ڈرنا”
نوف بولتی ہوئی کھانا کھانے لگی جیسے جیسے اس کی عمر بڑھتی جارہی تھی ویسے ویسے اس میں خود اعتمادی آتی جارہی تھی رخشی اس کے پاس تخت پر ہی بیٹھ گئی

“وہ واپس آئے گا تو پورے چار سال بعد دیکھوں گی اپنے بیٹے کو”
چار سال قبل وہ اپنے مشن پر جانے سے پہلے رخشی اور نوف سے ملنے آیا تھا،، پورے گھر میں صرف رخشی اور نوف ہی اس کی اصل جاب کے متعلق علم رکھے ہوۓ تھے

“تو اس میں اتنا اداس ہونے والی کونسی بات ہے امی، یہ تو خوشی کی بات ہے ہمارا مشکل وقت اب بہت جلد ختم ہونے والا ہے۔۔۔ یاد نہیں ہے آپ کو بھائی نے کیا کہا تھا واپس لوٹنے کے بعد ان کی پوسٹنگ جہاں بھی ہوگی وہ فوری طور پر ہم دونوں کو اپنے ساتھ لے جائیں گے۔۔۔ میں نے تو یہ چار سال اس امید پر صبر سے گزارے ہیں کہ ہم دونوں کا مشکل وقت ختم ہونے میں زیادہ دن نہیں بچے ہیں،، اس پل کا میں بےچینی سے انتظار کررہی ہو جب بھائی ہمیں یہاں سے لےکر جائیں گے۔۔۔ میں، آپ اور بھائی پھر ہم تینوں ایک ساتھ رہے گے”
جس طرح دس سال کا عرصہ رخشی اور نوف نے اس گھر میں گزارا تھا وہ کسی امتحان سے کم نہیں تھا غزل کی کڑوی کسیلی بات برداشت کرنا، گل کی عجیب دھوپ چھاؤں سی طبیعت، عدنان کا بدتمیزی کرتا ہوا گستخ لہجہ اور نوف پر پڑنے والی اس کی گندی نظریں۔۔۔۔ یہ تو اچھا ہی تھا عدنان کئی کئی دنوں تک گھر نہیں آتا لیکن وہ جب بھی گھر میں موجود ہوتا تو نوف کے ساتھ ساتھ رخشی بھی اس سے محتاط رہتی اور نوف کو اپنے ساتھ چپکاۓ رکھتی۔۔۔ رخشی اور نوف کو چھوڑ کر گھر کے باقی سب افراد کو یہی معلوم تھا کہ ازلان ان چار سالوں میں سزا کاٹنے کے بعد بیرون ملک جاب کے سلسلے میں گیا ہوا ہے جس پر غزل نے دوبارہ نوف کو اپنی بہو بنانے کا فیصلہ کیا تھا مگر اس شرط پر کہ واپس آکر ازلان اس کی گل سے شادی کرے گا

“تو پھر کب آرہا ہے وہ پڑھاکو تجھے اور اس بڑھیا کو واپس لے جانے کے لیے۔۔۔ اگر تو یہاں سے بھاگنے کا سوچ رہی ہے تو کان کھول کر سن لے نوف اس بھگوڑے کے ساتھ میں تجھے کہیں بھی نہیں جانے دوں گا اس بوڑھیا کو وہ بےشک یہاں سے لے جائے مگر تو خوش ہونا بند کردے،، تو اب کہیں نہیں جاۓ گی”
ناجانے عدنان کب گھر آیا تھا وہ ان دونوں کی کیا باتیں سن چکا تھا صحن میں داخل ہوتا ہوا وہ بدتمیزی سے نوف کے سامنے آکر بولا

“منہ سنبھال کر تمیز سے بات کرو عدنان یہ نہ ہو میرا بھائی واپس آکر تمہاری حرکتیں دیکھ کر تمہارے منہ کا نقشہ ہی بگاڑ ڈالے”
وقت گزرنے کے ساتھ نوف نے عدنان کو بھائی کہنا اور اس کی عزت کرنا چھوڑ چکی تھی۔۔۔ ویسے بھی وہ نوف سے جس قسم کی واہیات باتیں کرتا تھا وہ بھائی کہلانے کے لائق نہیں تھا۔۔۔ اب وہ کافی حد تک نڈر ہوچکی تھی ویسے تو نوف عدنان کے منہ کم ہی لگتی تھی نثار کے ہوتے ہوئے عدنان کی بھی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ وہ نوف سے بدتمیزی سے پیش آئے لیکن اس وقت عدنان جس لینگویج میں بات کررہا تھا نوف اسے غصے میں لتاڑتی ہوئی بولی جس پر عدنان ایک پل کے لئے چونکا اور رخشی ڈر گئی

“نوف خاموش کر جاؤ،، کھانا کھالیا ہے تو کمرے میں جاؤ اور خبردار جو تم نے اب زبان چلائی تو”
رخشی عدنان کے ماتھے پر بل دیکھ کر نوف کو ڈانٹتی ہوئی بولی وہ نہیں چاہتی تھی بات زیادہ بڑھے اس لیے اس نے نوف کو کمرے میں جانے کے لیے کہا

“کمرے میں یہ نہیں کمرے میں تو اب تو جائے گی بڑھیا،، اور میں نکالوں گا آج اس سالی کا سارا نخرا۔۔۔ پھر دیکھتا ہوں کون کس کا نقشہ بگاڑتا ہے وہ پڑھاکو یہاں آکر میرا یا پھر میں اس کا”
عدنان اچانک رخشی کو بازو سے کھینچ کر اسے کمرے میں بند کرنے کے لئے لے جانے لگا

“عدنان چھوڑو امی کو”
نوف عدنان کا ہاتھ رخشی کے بازو سے ہٹاتی ہوئی غصے میں چیخی جس پر عدنان نے رخشی کو چھوڑ کر نوف کو اونچا گود میں اٹھالیا

“عدنان کیا کررہے ہو چھوڑ دو اس کو تمہیں خدا کا واسطہ ہے”
جہاں نوف عدنان کے کندھے پر ہاتھ مارتی ہوئی اپنا آپ اسے چھڑوانے لگی وہی رخشی روتی ہوئی عدنان کے آگے آکر اس سے بولی

“آج نہیں چھوڑو گا اس پاکولا کی بوتل کو تو آج میں ایک ہی سانس میں پورا چڑھا جاؤ گا اسے مگر پہلے تجھے ہٹاکر راستہ صاف کرلو”
عدنان نوف کو صحن میں تخت پر پھینکنے کے بعد دوبارہ رخشی کو پکڑ کر کمرے کی طرف کھینچتا ہوا لےگیا جہاں سے شور کی آواز پر نثار کمرے سے باہر نکل رہا تھا۔۔۔۔ عدنان نے نثار کو واپس کمرے میں دھکا دیا اور رخشی کو بھی اسی کمرے میں دھکا دے کر باہر سے کمرے کی کنڈی بند کردی

“نوف بھاگ جلدی سے”
کسی خدشے کے تحت رخشی روتی ہوئی بند کمرے کی کھڑکی سے چیخ کر بولی جبکہ نثار کھانستا ہوا عدنان کو گالیاں دینے لگا۔۔۔ اس سے پہلے عدنان اس کی طرف بڑھتا نوف کو اپنی عزت بچانے کے لیے یہی ٹھیک لگا وہ تخت پر پڑی چادر اپنے گرد لپیٹ کر گھر کا دروازہ کھول کر تیزی سے بھاگنے لگی


وہ فائیو اسٹار ہوٹل میں بیٹھا ہوا پچھلے ایک گھنٹے سے تاشفہ کا انتظار کررہا تھا تاشفہ سے اس کی چھ ماہ قبل معیز (دوست) کے توسط سے ملاقات ہوئی تھی بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ معیز نے خود اس کی تاشفہ سے ملاقات کروائی تھی، تاشفہ معیز کی کزن تھی جو ایک سال پہلے امریکہ سے پاکستان شفٹ ہوئی تھی۔۔۔۔ خوبصورت ماڈرن اور بولڈ سی تاشفہ جو کافی حد تک موڈی طبعیت رکھتی تھی مگر اس کو اچھی لگی تھی

لیکن جیسے جیسے اس کی اور تاشفہ کی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا اس کو تاشفہ کے خیالات جان کر مایوسی ہوئی تھی بقول معیز کے اس نے اپنی آدھی لائف مللب جوانی کے وہ دن جب لڑکے انجوئیمنٹ میں گرل فرینڈ بناتے ہیں اس نے وہ عمر اپنی فیملی اور گھریلو مسئلوں کے نظر کردی، اب اٹھائس سال کی عمر میں اس کو اپنے متعلق سوچنا چاہیے تھا۔۔۔۔ اکثر وہ خود بھی کبھی کبھار اپنے ارد گرد جمع پریشانیوں سے گھبرا کر خواہش کرتا کہ کوئی ایک ایسا ہو جس کی سامنے وہ اپنا آپ کھول دے کوئی اس کے اکیلے پن کا ساتھی ہو جس کے وجود میں کھو کر وہ تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی اپنی پریشانیوں سے جان چھڑالے۔۔۔۔ لیکن جس طرح تاشفہ کی نیچر تھی اس سے ایسی امید لگانا بےکار تھی

“سوری ڈارلنگ تمہیں ویٹ کرنا پڑا دراصل آج جیمی کی ویکسین کروانا تھی اس کے بعد بیوٹی سلون میں میرا آپینٹمنیٹ تھا سو لیٹ ہوگئی، اینی ویز ہاؤ آر یو ہم پورے دو ماہ بعد مل رہے ہیں تم نے مجھے مس تو بہت کیا ہوگا ان دو ماہ میں”
ماڈرن سی تاشفہ بےباک سے لباس میں افراہیم کے سامنے کرسی پر بیٹھی ہوئی کانفیڈنس سے اس پوچھ رہی تھی۔۔۔ جیمی تاشفہ کی پرشین بلی تھی جس نے افراہیم کی طرح تاشفہ کی زندگی میں چند ماہ سے کافی اہمیت حاصل کرلی تھی۔۔۔ تاشفہ دو ماہ قبل پاکستان ٹور پر گئی تھی تاشفہ نے پوری کوشش کی تھی افراہیم بھی اسکے ہمراہ اس ٹرپ کو انجوئے کرتا۔۔۔ مگر وہ اپنی ذمہ داریوں سے جان چھڑا کر بھاگ نہیں سکتا تھا

“ویٹ تو میں شروع سے ہی تمہارا کرتا آیا ہوں، جب بھی ہمارے ملنے کا ڈیسائیڈ ہوتا ہے، مجھے نہیں یاد پڑتا کبھی تم ٹائم پر آئی ہو خیر یہ بتاؤ تمہارا ٹرپ کیسا رہا مجھے تو بالکل یاد نہیں کیا ہوگا تم نے”
آج صبح ضروری میٹینگ اٹینڈ کرنے کے چکر افراہیم نے ناشتہ بھی ڈھنگ سے نہیں کیا تھا اس لیے وہ مینو کارڈ اٹھاکر تاشفہ کی بات کا جواب دیتا ہوا بولا جس پر تاشفہ خوبصورتی سے مسکرائی

“سچ بتاؤ تو میں نے تمہیں بالکل مس نہیں کیا، جب میں پاکستان آئی تھی تو مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا یہاں اتنے خوبصورت اور حسین جگہیں ہوگیں یہ ٹرپ ایک خوشگوار اور یادگار ٹرپ رہے گا میرے لیے، میں امید کرو گی اگلا ایسا ہی ٹرپ ہم دونوں اکھٹے انجوۓ کریں”
تاشفہ افراہیم کو دیکھ کر مسکراتی ہوئی ایک ادا سے بولی تو افراہیم تاشفہ کا خوبصورت چہرا دیکھنے لگا جو خوبصورت ہونے کے باوجود اسے اکثر بناوٹی اور ارٹیفشل سا محسوس ہوتا تھا اور یہی تاشفہ کی فیلگیز کا حال تھا جس میں خالص پن ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا افراہیم نے تاشفہ کی بات کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھا بلکہ اسے یہاں بلوانے کی اصل وجہ پر آیا

“تاشفہ میں نے تمہیں یہاں پر آج بہت خاص بات کرنے کے لئے بلایا ہے، یو روز روز ہوٹلنگ کرنا میرے نزدیک ٹائم کو ویسٹ کرنا ہے اور سچ بولوں تو نہ ہی میرے پاس اتنا ٹائم ہوتا ہے کہ میں ان فضول کاموں کے لیے وقت نکال سکوں۔۔۔۔ چھ ماہ سے ہم دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہیں میرے خیال میں اب ہم دونوں کو سیریس ہوکر کوئی اسٹیپ لینا چاہیے شادی کے متعلق”
افراہیم تاشفہ کو دیکھ کر نہایت سنجیدگی سے بولا جس طرح اس وقت اس کے گھر کی صورتحال تھی افراہیم کو لگا تھا کہ اب اس کو شادی کرلینا چاہیے مگر تاشفہ اس کی بات سن کر پہلے تو سیریس ہوکر افراہیم کو دیکھنے لگی لیکن اچانک ہی اس نے زوردار قہقہہ لگایا جیسے تاشفہ نے افراہیم کی بات کو انجوائے کیا ہو

“اچھا سوری”
تاشفہ نے محسوس کیا جیسے اس کے ہنسنے پر افراہیم کو برا لگا ہو جبھی تاشفہ اس سے معذرت کرتی ہوئی اپنی ہنسی کو کنٹرول کرنے لگی

“مجھے نہیں معلوم تھا ڈارلنگ میری دو ماہ کی جدائی تم پر اتنا اثر کرے گی کہ تم ڈائریکٹ مجھے شادی کی آفر کردو گے”
تاشفہ سیریس ہوکر بولی مگر ایک بار پھر ہنسنے لگی تو اب افراہیم کو غصہ آنے لگا

“تاشفہ بی سیریس”
افراہیم کے تاثرات دیکھ کر تاشفہ کو اب کی بار واقعی سیریس ہونا پڑا

“دیکھو ہمارے ریلیشن کو مشکل سے ہی 6 ماہ ہوئے ہیں پورا سال بھی نہیں گزرا جو شادی جیسا بولڈ اسٹیٹ مجھے نہیں لگتا ہمیں اس کے بارے میں ابھی سے سوچنا چاہیے لیکن اگر تم جلدی شادی چاہتے ہو تو اس سے پہلے تمہیں ایسا نہیں لگتا کہ ہم دونوں کو ایک دوسرے کو بےحد قریب سے دیکھ لینا چاہیے”
تاشفہ کی بات پر افراہیم تھوڑا عجیب انداز میں اس کو دیکھنے لگا جس پر تاشفہ دوبارہ بولی

“میرا مطلب ہے ہمیں کم از کم ایک ماہ کے لئے کوئی گھر یا اپارٹمنٹ شئیر کرنا چاہیے جب ہم دونوں ایک دوسرے کو قریب سے دیکھیں گے ایک دوسرے کی اچھی بری عادتوں سے، مزاج سے واقف ہوگے تب ہی ہم شادی جیسا اسٹیپ لے سکتے ہیں”
تاشفہ اب کی بار سیریس ہوکر اس کو بولی افراہیم سمجھ گیا ایک دوسرے کو قریب سے دیکھنے کا کیا مطلب ہے وہ لیونگ ریلیشن شپ چاہتی تھی اسے تاشفہ کے مذید خیالات کو جان کر اور بھی زیادہ مایوسی ہوئی

“اور ایک ماہ بعد تمہیں لگا کہ ہمارے مزاج اور عادتیں ایک دوسرے سے نہیں ملتی تو میرا راستہ الگ اور تمہارا راستہ الگ رائٹ”
افراہیم تاشقہ کو دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا اچانک اس کی بھوک مر گئی تھی۔۔۔۔ آرڈر لینے کے لیے پاس آتے ہوئے ویٹر کو افراہیم نے دور سے ہی اشارہ کرکے روکا

“مجھے ہی کیوں ایک ماہ بعد تمہیں بھی ایسا لگ سکتا ہے کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ زندگی بھر کے لیے ایڈجست نہیں کر سکتے”
تاشفہ کندھے اچکا کر افراہیم سے بولی چھ ماہ کے ریلیشن میں اسے اپنے سامنے بیٹھا یہ مرد کافی ان رومانٹک روکھا پیکھا سا لگا تھا

“ایک ماہ بعد نہیں مجھے ایسا ابھی لگتا ہے ہم دونوں زندگی بھر واقعی ایک دوسرے کے ساتھ آگے نہیں چل سکتے، یوں چند دنوں کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ رہ کر دیکھنے والی فارملٹی کو رہنے دینا چاہیے۔۔۔ جس دن تم نے مجھ سے یہ بات بولی تھی کہ شادی کے کم از کم چھ سال تک تمہیں کوئی بچہ نہیں چاہیے کیوکہ اس سے تمہارا فگر کا شیپ خراب ہوگا اگر تبھی تم اپارٹمنٹ شیئر کرنے والے اپنے خیالات کا بھی اظہار کرتی تو شاید ہمارا ریلیشن چھ ماہ بھی مشکل سے قائم رہتا کیونکہ میرے نزدیک کم از کم ایک لڑکی کو اتنا گیا گزرا نہیں ہونا چاہیے کہ وہ مرد کے آگے چادر کی طرح بجھ جائے”
افراہیم تاشفہ پر اپنے خیالات کا اظہار کرکے اٹھ کر وہاں سے چلاگیا اسے نہیں لگتا کہ اب تاشفہ اس سے دوبارہ رابطہ کرے گی اور وہ خود بھی یہی چاہتا تھا

“نفسیاتی مرد”
تاشفہ بڑبڑاتی ہوئی مینیو کارڈ اٹھا کر اپنے لئے آرڈر کرنے لگی


“نوری تم آج بھی اپنی پوتی کو اپنے ساتھ نہیں لےکر آئی میں نے تم سے کل کہا تھا ناں مومنہ کو اپنے ساتھ لے آنا تھوڑی دیر کے لئے دل بہل جاتا ہے اس کو دیکھ کر میرا”
نازنین ڈائننگ ہال میں آتی ہوئی نوری کو دیکھ کر اداسی سے بولی،، اور اپنا کمزور ناتواں وجود لےکر کرسی پر بیٹھ گئی گزرے ہوئے دس سالوں نے اس کے اوپر وقت سے پہلے ہی بڑھاپے کی چھاپ چھوڑ ڈالی تھی، نازنین کو اس وقت دیکھ کر کوئی بھی نہیں بول سکتا تھا یہ وہی عورت تھی جس نے دو بچوں کے بعد بھی اپنی خوبصورت کو برقرار رکھا ہوا تھا لیکن اب ایک دم اس پر بڑھاپا آچکا تھا

“بیگم صاحبہ اب میں کیا بتاؤ آپ کو، میری بہو کے مزاج سے آپ واقف تو ہیں،،، مومنہ کو میں اپنے ساتھ لانا چاہ رہی تھی اور وہ معصوم بچی بھی میرے ساتھ آپ کے پاس آنے کے لیے راضی تھی مگر اللہ بھلا کرے میری بہو کا، جو اس نے مومنہ کو آپ سے ملنے کے لئے یہاں آنے دیا ہو عجیب چڑچڑی اور جھگڑالو طبیعت اور مزاج رکھتی ہے میری بہو آپ کو تو میں سب اپنے گھر کی کہانی بتاچکی ہوں”
نوری نازنین کو دیکھ کر بولنے لگی مگر وہ یہ بتاکر نازنین کا دل نہیں توڑنا چاہتی تھی کہ اس کی بہو نے مومنہ کو کیوں نازنین کے پاس جانے سے روکا تھا۔۔۔ دو سالوں سے نازنین پر پڑنے والے دوروں سے اس کی بہو کو ڈر تھا کہ نازنین اس کی چھوٹی سی بیٹی کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے

“آپ اداس کیوں ہورہی ہیں جی میں نے آپ سے بولا تھا آپ جلدی سے افراہیم صاحب کی شادی کروا دیں، جب افراہیم صاحب کے بچوں کی گلکاریاں پورے گھر میں گونجے گی تب اس گھر کی در و دیوار سے اداسی خود بخود چھٹ جائے گی اور گھر میں بہو کے آنے سے آپ کی طبیعت بھی بہل جائے گی۔۔۔۔ بس جی افراہیم صاحب کی بیوی آپ بہت دیکھ بھال کر اچھی طرح پرکھ کر لائیے گا کیونکہ افراہیم صاحب آپ کے اکلوتے بیٹے ہیں اور آپ میری بہو کے قصے مجھ سے روز ہی سنتی ہیں”
نوری نازنین کے چہرے پر اداسی دیکھ کر اسے مشورہ دیتی ہوئی بولی

“ایک ماہ ہوچکا ہے افی سے بولتے ہوئے کہ شادی کرلے نہ جانے اس لڑکے نے شادی کرنی بھی ہے یا نہیں۔۔۔۔ اب تو مجھے بہت فکر رہنے لگی ہے افی کی”
دو دن سے نازنین مکمل ہوش و حواس میں موجود تھی اس لیے وہ فکر مند لہجے میں نوری سے بولی

“اور جی آپ نے اپنی بیلا بی بی کے لیے کیا سوچا ہے وہ بھی تو ماشاء اللہ کی شادی کے لائق ہوگئی ہیں۔۔۔ اور جو پرسوں ان کے لئے رشتہ آیا تھا اس رشتے کا کیا بنا”
نوری افراہیم سے اس کا دھیان ہٹاکر بیلا کی طرف لگاتی ہوئی نازنین سے پوچھنے لگی کیونکہ پرسوں بیلا کے لیے رشتہ آنا تھا اور نوری یہاں پر موجود نہیں تھی

“ہاں بیلا کا تو رشتہ آنا تھا اور میں نے بیلا کو بہت پیار سے سمجھایا بھی تھا کہ شادی تو ہر لڑکی کو ایک نہ ایک دن کرنا ہوتی ہے وہ ان رشتے والوں کے سامنے بغیر ضد کیے یا روۓ تھوڑی دیر کے لئے آکر بیٹھ جائے میری خاطر، افی کی خاطر۔۔۔۔ پر مجھے یاد کیوں نہیں آرہا پرسوں کیا ہوا تھا بیلا کے رشتے والوں نے کیا کہا”
نازنین خود سے بولتی ہوئی اپنے دماغ پر زور ڈالنے لگی

“اچھا اچھا بیگم صاحبہ کوئی بات نہیں اگر یاد نہیں آرہا پریشان مت ہو،، میں آپ کے لئے سبز چاۓ بناکر لاتی ہوں”
نوری جلدی سے بولتی ہوئی کچن میں چلی گئی کیونکہ افراہیم ڈائننگ ہال میں آچکا تھا

“خاموش کیو بیٹھی ہیں اس طرح، کیا سوچ رہی ہیں مجھے نہیں بتائے گیں”
افراہیم نازنین کے پاس آکر خود بھی کرسی کھسکاتا ہوا بیٹھا مگر نازنین کو دماغی طور پر غائب دیکھ کر اس کا ہاتھ پکڑتا ہوا نازنین سے پوچھنے لگا۔۔۔۔ وہ افرائیم کے ہاتھ کا لمس محسوس کرکے چونکی اور افراہیم کو دیکھنے لگی

“پرسوں بیلا کا رشتہ آنے والا تھا ناں افی، تو پھر مجھے یاد کیو نہیں آرہا پرسوں رشتے والے کب آئے اور پھر بیلا ان کے سامنے آکر بیٹھی تھی کہ نہیں۔۔۔۔ انہوں نے ہماری بیلا کو پسند کیا یا نہیں، کیا ہوا تھا پرسوں افی”
نازنین پریشان ہوکر افراہیم سے پوچھنے لگی جس پر افراہیم نازنین کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھامتا ہوا بولا

“اس میں اتنا پریشان ہونے والی کیا بات ہے مما جو لوگ ہماری بیلا کو پرسوں دیکھنے کے لیے آنے والے تھے اپنے ایک ضروری کام کی وجہ سے انہوں نے کال کرکے اپنے آنے کا پروگرام کینسل کردیا تھا، اب وہ لوگ کل آئیں گے ہماری بیلا کو دیکھنے اور بیلا ان کے سامنے آجائے گی اس نے خود کہا ہے آپ ٹینشن نہ لیں”
یہ بھی سچ ہی تھا جو لوگ بیلا کو دیکھنے کے لئے آنے والے تھے وہ نہیں آسکے تھے وجہ نازنین کی بگڑتی ہوئی حالت تھی جو پرسوں اچانک خراب ہوگئی اس وجہ سے افراہیم نے ان کو کال کرکے آنے کا منع کردیا تھا

“ٹینشن کیسے نہیں لیا کرو میں بالکل اکیلی ہوچکی ہوں تم سے کب سے بول رہی ہو شادی کرلو، اگر ڈھیڑ دو سال پہلے تمہاری شادی ہوچکی ہوتی تو اب تک میں دادی بھی بن چکی ہوتی اپنی ماں کو کوئی احساس نہیں ہے تمہیں”
نازنین خفا ہوکر اس سے اپنا ہاتھ چھڑواتی ہوئی بولی تو افراہیم نازنین کو گھورنے لگا

“تو آپ مجھے شادی کے لیے اس لیے فورس کررہی ہیں کیونکہ آپ کو دادی بننے کی جلدی ہے۔۔۔ آپ مجھے پہلے ہی یہ بات بول دیتی تو میں آپ کو بےبی سینٹر سے ایک کی بجائے دو کیوٹ سے بےبیز لاکر دے دیتا تاکہ آپ کا ان کے ساتھ اچھا وقت گزر سکے”
افراہیم کی بات سن کر اب نازنیں اسے گھورنے لگی

“پورے بدھو ہو افی تم تو۔۔۔ ارے مجھے کسی دوسرے کا بچہ نہیں چاہیے تمہاری اولاد کے ساتھ وقت بتانا چاہتی ہوں میں۔۔۔۔ کیوکہ عباد وہاں جاکر بہت اکیلے ہوچکے ہیں اکثر بلاتے ہیں وہ مجھے اپنے پاس مگر میں ان سے کہہ دیتی ہوں کہ پہلے بیلا کی شادی ہوجائے، افی کے بچوں کو دیکھ لو پھر آؤں گی میں آپ کے پاس”
نازنین کی بات سن کر افراہیم تڑپ اٹھا وہ دوبارہ نازنین کا ہاتھ پکڑتا ہؤا بولا

“ایسی باتیں مت کیا کریں مما مجھے تکلیف ہوتی ہے”
چار سال قبل اچانک ہی عباد کی موت نے ان تینوں کی زندگی کا رخ بدل دیا تھا۔۔۔ جہاں افراہیم کی کوششوں سے بیلا میں آہستہ آہستہ مثبت تبدیلیاں آرہی تھی وہی اچانک عباد کے دنیا سے چلے جانے پر ان کی زندگیوں نے نیا رخ لے لیا تھا، جس کا سب سے زیادہ اثر نازنین نے لیا تھا۔۔۔۔ دو سال سے وہ ذہنی طور پر اس قدر کمزور ہوچکی تھی اچانک بیٹھے بیٹھے کہیں کھو جاتی اور 24 گھنٹے خاموش رہتی یا تو ماضی کی پرانی یادوں میں چلی جاتی ہے یا پھر اچانک اس کی طبیعت بگڑ جاتی اس کی پل پل بدلتی ہوئی کیفیت نے افراہیم اور بیلا دونوں کو ہی ڈرا کر رکھ دیا تھا

“صحیح ہے میں ایسی بات نہیں کروں گی مگر تمہیں میری بات کو بھی اہمیت دینا ہوگی،، مجھے جلد سے جلد اس گھر میں بہو چاہیے جو خوبصورت سیدھی سادی ہونے کے ساتھ ساتھ حساس طبیعت کی مالک ہو۔۔۔۔ کیونکہ نوری کی بہو جیسی لڑکی ایڈجسٹ نہیں کرسکے گی تمہارے ساتھ۔۔۔۔ اس لیے ایسی لڑکی کی تلاش کرو جو تمہیں اور ہمارے اس گھر کو سنبھال سکے مجھے پرامس کرو افی تم جلد سے جلد ایسی لڑکی کو ڈھونڈ کر اس سے شادی کرو گے”
نازنین کے کہنے پر افراہیم اس سے پرامس تو کرچکا تھا مگر اس کو معلوم نہیں تھا کہ ایسی لڑکی کہاں سے ملے گی جو خوبصورت اور سیدھی سادی ہو۔۔۔ وہ اپنا بزنس کو چھوڑ کر ایسی لڑکی تو تلاش کرنے سے رہا جو نوری کی بہو جیسی نہ ہو


جاری ہے