Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

روحیل کو جب ہوش آیا تو اس نے اپنے آپ کو ایک خالی کمرے میں موجود پایا جہاں میز کے سامنے خالی کرسی موجود تھی جبکہ دوسری کرسی پر وہ خود بیٹھا ہوا تھا اور اس کے دونوں ہاتھوں کو رسی سے مضبوطی سے باندھا گیا تھا اسے یاد پڑتا تھا کہ وہ آج صبح ائیرپورٹ جانے کے لیے اپنی گاڑی میں گھر سے باہر نکلا تھا مگر گاڑی راستے میں خراب ہونے کی وجہ سے اسے ٹیکسی کرنا پڑی اور اچانک بیچ راستے میں ٹیکسی رکی اور ایک اجنبی شخص اس ٹیکسی میں بیٹھا اس سے پہلے روحیل اس شخص سے کوئی بات کرتا اس شخص نے روحیل کی گردن میں ایک انجکشن گھونپ دیا جس کے بعد روحیل کو اب ہوش آیا تھا

“کک۔۔۔ کون ہو تم مجھے یہاں کیوں لائے ہو”
روحیل ہوش میں آنے کے بعد ستائیس اٹھائیس سالہ اس شخص سے پوچھنے لگا جو ابھی کمرے میں داخل ہوا تھا۔۔۔ ازلان چلتا ہوا روحیل کے پاس آیا اور اس کی کرسی کا رخ اپنی سمت کرتا ہوا اپنی پاکٹ سے موبائل نکالنے لگا

“یہ لڑکی اس وقت کہاں موجود ہے”
ازلان اپنے موبائل کی اسکرین روحیل کے سامنے کرتا ہوا اس سے پوچھنے لگا۔۔۔۔ روحیل اس لڑکی کو پہچان چکا تھا جو چند دن پہلے روبی نے اس کے فلیٹ پر بھیجی تھی، مگر وہ انجان بنتا ہوا ازلان سے بولا

“کون ہے یہ لڑکی مجھے کیا معلوم میں اسے پہلی بار دیکھ رہا ہوں”
روحیل کی بات سن کر ازلان نے موبائل ٹیبل پر رکھا اور اچانک ہی روحیل کے منہ پر زور دار تھپڑ مارا۔۔۔۔ منہ پر پڑنے والے تھپڑ کی شدت سے نہ صرف روحیل بلبلا اٹھا بلکہ اس کی کرسی کا بھی توازن برقرار نہیں رہ سکا کرسی سے ہاتھ باندھے ہونے کی وجہ سے وہ کرسی سمیت زمین پر گر گیا

“تمہارا جواب اب بھی یہی ہے کیا تم واقعی اس لڑکی کو نہیں جانتے”
ازلان جھک کر روحیل کے بالوں کو پکڑتا ہوا اس کا چہرہ اوپر کر کے ایک بار پھر اس سے پوچھنے لگا

“مم میں سچ بول رہا ہوں میں واقعی اس لڑکی کو نہیں جانتا”
روحیل کا جواب سن کر ازلان نے روحیل کے بالوں کو یونہی اپنے ہاتھ کی مٹھی میں جکڑ کر، بالوں کے زور سے کرسی کو اٹھایا اور واپس اسی جگہ پر کھڑا کیا جس سے روحیل کے منہ سے دردناک چیخیں نکل پڑی

“میری اطلاع کے مطابق تم نے اس لڑکی کو ایک رات کے لیے ہائیر کیا تھا اس کے بعد سے یہ لڑکی کہیں بھی نہیں دیکھی گئی ہے، اس لڑکی کو تم نے جہاں کہیں بھی چھپایا ہوا ہے اگر تم نے مجھے نہیں بتایا تو روحیل میں تمہارے ساتھ کیا کرسکتا ہوں اگر تمہیں معلوم ہوجائے تو تم اس اذیت کو سہنے سے بہتر مرنا پسند کرو گے جواب دو کہاں ہے یہ لڑکی اس وقت”
ازلان غصے میں روحیل کو دیکھتا ہوا ایک بار پھر پوچھنے لگا، اسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا وہ کہا جائے، کیا کرے، کیسے اپنی بہن کو کہیں سے ڈھونڈ نکالے، اس وقت اس کی بےبسی آسمانوں کو چھو رہی تھی۔۔۔۔ روحیل کے خاموش رہنے پر ازلان نے ایک بار پھر روحیل کے منہ پر زور دار طمانچہ مارا، روحیل ایک بار پھر کرسی سمیت زمین پر جاگرا

“پلیز مجھے چھوڑ دو، میں واقعی اس لڑکی کو نہیں جانتا”
اب کی بار والا تھپڑ پہلے سے بھی زیادہ شدت کا تھا جس سے روحیل کے گال کے ساتھ اس کا کان بھی سرخ ہوگیا اور ناک سے خون بہنے لگا

“اس لڑکی کو اور ان دو بچوں کو تم جانتے ہو ناں”
ازلان ٹیبل سے اپنا موبائل اٹھاکر ایک بار پھر جھک کر روحیل کے چہرے کے آگے موبائل کی اسکرین کرتا ہوا اس سے پوچھنے لگا، روحیل نے اب کی بار اسکرین کی طرف دیکھا

“حرا”
بےساختہ اس کے منہ سے اپنی بیوی کا نام نکلا وہ تصویر اس کی بیوی اور دونوں بچوں کی تھی

“چند دنوں پہلے روبی نے اس لڑکی کو میرے فلیٹ پر بھیجا تھا میں نے اس لڑکی کے باقاعدہ روبی کو پانچ لاکھ روپے ایک رات کے لیے دیئے تھے۔۔۔ مگر یہ لڑکی اس رات میرے فلیٹ سے فرار ہوگئی تھی روبی خود بھی اس لڑکی کی تلاش میں ہے۔۔۔ میں اپنے بچوں کی قسم کھا کر کہہ رہا ہوں میں نے اس رات اس لڑکی کے ساتھ کچھ غلط نہیں کیا تھا اور نہ ہی یہ جانتا ہو کہ یہ لڑکی اب اس وقت کہاں پر ہے، میرا یقین کرو میں اب کی بار بالکل سچ بول رہا ہوں پلیز میری بیوی اور بچوں کو کچھ مت کرنا”
روحیل بولتا ہوا بےبسی سے دھاڑے مار کر زوروں سے رو پڑا تو ازلان کمرے سے باہر نکل کر دوسرے کمرے میں آگیا

اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھامے صوفے پر بیٹھا ہوا اس کا اپنا بھی دل کیا کہ وہ روحیل کی طرح دھاڑے مار کر زور زور سے روئے نجانے نوف اس وقت کہاں تھی، کس حال میں تھی

جب اس کو معلوم ہوا تھا کہ وہ روبی کے ہاتھ لگ گئی ہے جو سوسائیٹی میں ایک نائیکہ کی حیثیت رکھتی ہے تب ایک پل کے لئے ازلان کو محسوس ہوا تھا جیسے اس کے جسم سے روح کھینچ لی گئی ہو۔۔۔۔ روبی کے ٹھکانے پر پہنچ کر اس نے ایک ایک لڑکی میں نوف کو تلاشا مگر وہ ان لڑکیوں میں موجود نہیں تھی تب ازلان کو روحیل کا معلوم ہوا مگر یہاں بھی نوف کا پتہ نہیں چل سکا۔۔۔ وہ اس بھری دنیا میں بالکل اکیلا ہوگیا تھا ان دنوں وہ جس اذیت سے گزر رہا تھا اس کا اندازہ کوئی بھی نہیں لگا سکتا تھا مگر اسے ہمت سے کام لینا تھا اپنی آنکھوں کے آنسوؤں کو گالوں پر اترنے سے پہلے صاف کرتا ہوا وہ صوفے سے اٹھا اور کمرے سے باہر نکل گیا


پورے ہفتے کے بعد آج اس کا یونیورسٹی میں آنا ہوا تھا انگلش کی کلاس لینے کے بعد اسے اندازہ ہوا کہ پچھلا گزرا ہوا ہفتہ غیر حاضر ہونے کی وجہ سے اس کی اسٹڈیز کا کافی لاز ہوچکا ہے۔۔۔ پندرہ منٹ کے بعد سر عتیق کی کلاس تھی جو اس کے فزکس کے ٹیچر تھے بیلا کو آج ہی معلوم ہوا تھا تین دن پہلے اپنی کچھ ذاتی پرابلمز کی وجہ سے ان کا یونیورسٹی آنا نہیں ہورہا تھا بلکہ سر عتیق کی جگہ آبان نام کے ٹیچر فزکس کی کلاس لے رہے تھے

“سر آگئے”
اسٹوڈنٹ کی آواز کلاس روم میں گونجی تو کلاس کے ماحول میں ایک دم نظم و ضبط کی فضا بحال ہوگئی،، ٹیچر کی آمد سے پہلے ہی سارے اسٹوڈنٹس اپنی کرسی پر براجمان ہوچکے تھے

بلیک ڈریس پینٹ کے اوپر وائٹ کلر شرٹ پہنے، بالوں کو ترتیب سے بنائے ہوئے چہرے پر ہلکی داڑھی مونچھوں کے ساتھ پروقار چال چلتا ہوا وہ کلاس کے اندر آیا تو بیلا کی آنکھیں بےیقینی سے کھلی کی کھلی رہ گئی جبکہ دل کی دھڑکنیں ایک دم سے تیز ہونے لگیں۔۔۔ یہ اس کی کلاس میں کیا کررہا تھا یہ آبان کیسے ہوسکتا تھا اس کا ٹیچر،، اس کا نام آبان نہیں تھا بیلا اس کو پہلی نظر میں دیکھ کر پہچان گئی تھی،، آخر وہ اس چہرے کو کیسے نہیں پہچانتی۔۔۔ وہ کون سا دن کون سا لمحہ نہ تھا جب اس کے دل نے اس چہرے کو یاد نہ کیا ہو، بات دوستی تک محدود نہیں رہی تھی بلکہ وہ دوستی کی منزل سے بات بہت آگے نکل چکی تھی اور ایسا کب ہوا یہ بیلا کو یاد نہیں تھا بیلا سانس روکے اسی کو دیکھ رہی تھی

ازلان، دس سال پہلے جسے سب کے سامنے اس نے اپنا مجرم ٹھہرایا تھا، دس سال کے عرصے کے بعد آج اسے اپنے سامنے دیکھ کر بیلا کی آنکھیں لبالب آنسوؤں سے بھرنے لگی اور ہونٹ لرزنے لگے

“کلاس میں جتنے نئے چہرے نظر آرہے ہیں ایک ایک کرکے کھڑے ہوتے جائیں اور اپنے آپ کو متعارف کروائیں،، باقی سارے اسٹوڈنٹس بورڈ پر دیے گئے نمریکلز سولو کریں”
وہ بیلا کو بنا دیکھے مارکر اٹھا کر وائٹ بورڈ کی طرف بڑھا۔۔۔ وہ اسٹوڈنٹ جو آج پہلی بار اس کی کلاس اٹینڈ کررہے تھے ایک ایک کرکے کھڑے ہوکر اپنا انٹروڈکشن کروانے لگے جبکہ باقی کے اسٹوڈنٹس بورڈ کی طرف متوجہ تھے

“تمہیں انٹروڈکشن کے لئے اسپیشل بولنا پڑے گا”
اب کی بار ازلان کی نظریں بیلا کی طرف اٹھی تو سارے اسٹوڈنٹ سر اٹھاکر بیلا کی طرف دیکھنے لگے جہاں ازلان کے دیکھنے پر اس کا دل تھم سا گیا تھا وہی سارے اسٹوڈنٹس کو اپنی طرف متوجہ پاکر وہ اور بھی زیادہ گھبرا گئی تھی

“اب جس کا بھی سر ورک شیٹ سے اٹھا تو وہ سیدھا کلاس سے باہر جائے گا خاموشی سے سب اپنا کام کریں اور تم کھڑی ہوجاؤ”
ازلان کی وارننگ پر سب اسٹوڈنٹس دوبارہ اپنے کام میں مشغول ہوگئے وہی بیلا کرسی سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی نہ صرف بیلا اس کو دیکھ رہی تھی بلکہ اذلان بھی اس کو خاموش کھڑا دیکھ رہا تھا، ازلان کی نظریں بیلا کو یہ بتانے کے لیے کافی تھی کہ وہ خود بھی اس کو پہچان گیا تھا شرمندگی کے مارے بیلا کی نظریں جھک گئیں

“نام بتانا پسند کریں گیں آپ اپنا”
ازلان کا طنزیہ لہجہ اس کے کانوں سے ٹکرایا تو بیلا پلکیں جھپکاتی ہوئی اسے دیکھ کر آہستہ آواز میں “بیلا” اپنا نام بتانے لگی۔۔۔ آواز اتنی مدھم تھی کہ بمشکل وہ خود ہی اپنی آواز سن پائی ہوگی

“ناشتہ نہیں کرکے آئی ہو یا زبان گھر پر بھول کر آگئی ہو زور سے بولو”
ازلان کے سخت لہجے پر بیلا اس کا چہرہ دیکھنے لگی جس کے چہرے کے تاثرات اس کے لہجے سے بھی زیادہ سخت تھے

“بیلا”
اب کی بار بیلا لڑکھڑاتی ہوئی آواز میں مگر ذرا تیز آواز میں اسے اپنا نام بتانے لگی

“بیلا کیا تم یہاں میرے پاس تشریف لانا پسند کروگی”
بیلا سے بولتے ہوئے ازلان نے ہاتھ میں موجود مارکر کھینچ کر اس لڑکے کے سر پر مارا جو سر اٹھا کر سامنے دیکھنے کی کوشش کررہا تھا

“نکلو کلاس روم سے باہر”
ازلان کی دھاڑ پر جہاں بیلا سہم گئی تھی وہی اس لڑکا کی سوری کو ایکسپٹ نہ کرتے ہوۓ ازلان نے اسے کلاس روم سے باہر نکال دیا

“پورا نام کیا ہے تمہارا مس بیلا”
بیلا کے اپنے پاس آنے پر ازلان اس کا سرخ پڑتا چہرہ دیکھ کر دوبارہ بولا

“بیلا عباد”
بیلا کو محسوس ہورہا تھا جیسے اس کا نیا امتحان شروع ہوچکا ہے وہ ازلان کو دیکھے بناء اسے اپنا نام بتانے لگی

“تو بیلا عباد اب بھی شوق رکھتی ہو تم دوستی کے نام پر اپنے دوست کو رسوا کرنے کا یا پھر اب اپنے شوق بدل لیے ہیں تم نے”
ازلان کی آواز اتنی ہی آہستہ تھی کے اسے صرف بیلا ہی سن سکتی تھی وہ تڑپ کر نظریں اٹھاتی ہوئی ازلان کے سپاٹ چہرے کو دیکھنے لگی جو اسی کے چہرے پر اپنی نظریں گاڑھے کھڑا تھا بیلا شرم سے دوبارہ سر جھکا گئی

“تکلیف ہوئی میرے سوال پر، کوئی بات نہیں اس سے زیادہ تکلیف تم مجھے دے چکی ہو جو میں سہہ بھی چکا ہوں۔۔۔ چلو یہ بتادو ان دس سالوں میں کتنی بار تمہارے ضمیر نے تم پر ملامت کی ہے کہ تم نے کسی بےگناہ پر جھوٹا الزام لگایا تھا”
ازلان دبے ہوئے غصے میں بیلا کا چہرہ دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا لیکن اس وقت بیلا کی زبان تالو سے چپک چکی تھی، صرف اس کی آنکھیں اشک بہارہی تھی اور وہ خود مسلسل نیچی نظریں جھکاۓ ہوئی تھی

“بہت مشکل لگ رہا ہوگا میرے سوالوں کا جواب دینا اور مجھ سے نظریں ملانا، یقینا تمہارے لیے مشکل ہورہا ہوگا چلو اب آسان سوال پوچھ لیتا ہوں یہ بورڈ پر جو نمیرکلز موجود ہیں انہیں سولو کرسکتی ہو”
اب ازلان کے چہرے کے تاثرات بالکل مختلف تھے، وہ ایک ٹیچر کی طرح اپنے اسٹوڈنٹ سے سوال کرنے لگا تو بیلا بورڈ کی طرف دیکھ کر شرمندگی سے ایک بار پھر نفی میں سر ہلانے لگی

“ٹیبل سے ورک شیٹ اٹھاؤ اور اپنی سیٹ پر بیٹھ کر انہیں سولو کرو”
ازلان بولتا ہوا باقی اسٹوڈنٹس کی طرف متوجہ ہوا اور باآواز سب سے بولا

“جو اسٹوڈینٹس اس ٹیسٹ کو کلیئر نہیں کر پائیں گے یاد رکھیں انہیں فزکس کے مڈٹرم میں بیٹھنے کی پرمیشن نہیں ملے گی”
ازلان کی بات سن کر بیلا سر اٹھاتی ہوئی اسے دیکھنے لگی کیونکہ مڈ ٹرم کے نمبر سمسٹر میں انکلیوڈ ہونے تھے بیلا کو سمجھ آرہا تھا اب وہ کس کس طریقے سے اس سے بدلہ لے گا

“اب اگر تمہارا بھی سر اٹھا تو کلاس روم سے باہر کر دوں گا میں تمھیں”
ازلان کے وارننگ دینے پر وہ ورک شیٹ پر سر جھکا گئی،،، مشکل سے دس منٹ ہی گزرے تھے تب ازلان اس سے شیٹ کھنچ کر اپنے ہاتھ میں لیتا ہوا دیکھنے لگا،، جس پر آنسوؤں کے نشانات کے ساتھ ساتھ پوری شیٹ پر صرف ایک ہی لفظ “سوری” بار بار لکھا ہوا تھا

“کل شام پورے پانچ بجے تم اس ایڈریس پر آؤں گی بالکل اکیلی”
ازلان نے دھمے لہجے میں بولنے کے ساتھ ہی اپنے ہاتھ میں موجود مارکر سے بیلا کے ہاتھ پر ایڈریس لکھا دوسرے اسٹوڈنٹس سے ورک شیٹ کلیکٹ کرتا ہوا وہ کلاس روم سے باہر نکل گیا


افراہیم آفس سے گھر آیا تو اس نے نازنین کو لان میں کرسی پر بیٹھا ہوا پایا وہ کار کی فرنٹ سیٹ سے تین سے چار شاپنگ اٹھاتا ہوا لان میں آیا کیونکہ نوف بھی وہی موجود تھی جو گھاس پر چہل قدمی کرنے کے ساتھ ساتھ بلند آواز میں نازنین کو کچھ بتارہی تھی کیونکہ اس وقت نوف کی پشت افراہیم اور نازنین کی طرف تھی اس لئے وہ افراہیم کو دیکھ نہیں پائی تھی۔۔۔ افراہیم نازنین کو اشارے سے سلام کرتا ہوا سارے شاپرز ٹیبل پر رکھ کر وہی کرسی پر بیٹھ کر نوف کی باتیں سننے لگا جو اس کے سامنے تو براہ نام ہی کچھ بولتی تھی مگر اس وقت نان اسٹاپ شروع تھی

“اور پھر اچانک یوں ہوا کہ خود بخود منظر تبدیل ہوگیا اور میں نے اپنے آپ کو ایک صحرا کی بجاۓ سبز باغ میں بالکل تنہا پایا میں اس وقت اتنا زیادہ ڈر گئی تھی کہ آیت الکرسی کا ورد کرنے لگی۔۔۔ پھر تھوڑی دیر گزرنے پر وہاں پر ایک بزرگ آئے انہوں نے مجھے میرے گھر کا راستہ بتایا اور اس کے بعد میں گھر پہنچ گئی”
شاید وہ رات کو دیکھا ہوا اپنا خواب نازنین کو سنارہی تھی جس پر نازنین خاموشی سے مسکرا کر افراہیم کو دیکھنے لگی وہ خود بھی اپنی مسکراہٹ چھپاکر خاموش بیٹھا ہوا تھا۔۔۔۔ نوف نے ابھی بھی پلٹ کر نہیں دیکھا تھا وہ اب کیاریوں میں لگے ہوئے پھولوں کی طرف متوجہ تھی تو نازنین نوف سے پوچھنے لگی

“یمنہ پرسوں جو تم نے خواب دیکھا تھا اس میں لڑکے کی شکل میرے افی سے ملتی تھی ناں”
نازنین اپنی مسکراہٹ ضبط کرتی ہوئی نوف سے اس کا پرسوں والا خواب پوچھنے لگی شاید وہ چاہتی تھی نوف اپنا پرسوں والا خواب افراہیم کے سامنے پھر سنائے

“جی شکل بالکل آپ کے بیٹے کی طرح تھی اور تھا بھی ایک دم خرانٹ ٹائپ کا جیسے ہمارے پرانے محلے میں منگت کا جنگلی بیل ہوا کرتا تھا بڑے بڑے سینگ والا، میرے ہی خواب میں آکر مجھ پر ایسے روعب جمارہا تھا اور پھر اسٹائل ایسے مار رہا تھا جیسے کہ کوئی ہیرو ہو۔۔۔ میں پرسوں والا خواب آپ کو بتانا تو نہیں چاہتی تھی کہ کہیں آپ کو برا نہ لگے مگر میں نے آپ کو بتایا ناں صبح اٹھ کر روز اپنے خواب سنانا میری بچپن کی عادت ہے میں امی کو روز اپنے خواب سنایا کرتی تھی”
نوف ایک ایک کر کے موتیے کے سارے پھول توڑتی ہوئی اپنے دوپٹے میں بھر کر نازنین کو بتانے لگی۔۔۔ افراہیم اپنے بارے میں اس لڑکی کے خیالات جاننے لگا جو اس کو بڑے سینگ والے جنگلی بیل سے تشبیہ دے کر اسی کے لگوائے ہوئے پھول مزے سے توڑ کر اپنی جھولی میں بھررہی تھی

“تمہیں معلوم ہے ناں یمنہ مجھے تمہاری کوئی بھی بات بری نہیں لگتی ہے جو بھی بات ہوا کرے مجھ سے بے دھڑک بول دیا کرو اور جو بھی خواب دیکھو وہ مجھے سنایا کرو،، ویسے اگر وہ خواب والا لڑکا ہیرو بننے کی کوشش کررہا تھا تو اتنا بھی غلط نہیں تھا افی بھی دکھنے میں ہیرو ہی لگتا ہے۔۔۔ ہاں وہ الگ بات ہے کہ اس خواب والے لڑکے کو تم پر روعب نہیں جھاڑنا چاہیے تھا اور نہ ہی تمہارے سامنے اسٹائل مارنے چاہیے تھے کیوکہ بھئی خواب تو تمہارا تھا ناں”
نازنین مزے سے بولنے لگی تو افراہیم نے سنجیدہ نظر نازنین پر ڈالی پھر دوبارہ اس لڑکی کو دیکھنے لگا جو اسے کافی ریزرو سی لگتی تھی لیکن اس وقت وہ اس کی ماں کے سامنے کتنا فری ہوکر اس سے باتیں کررہی تھی

“آنٹی اب آپ میری بات کا برا نہیں مانیئے گا میں تو آپ کو سچی بتارہی ہوں اپنا بیٹا تو ہر ماں کو ہی ہیرو لگتا ہے یہ تو کوئی دوسرا سچ بتاسکتا ہے کہ وہ ہیرو ہے یا پھر زیرو۔۔۔ اور ویسے بھی آج کل کی لڑکیاں ایسے لڑکوں کو تو بالکل ہیرو نہیں سمجھتی جو بلاوجہ کا روعب جھاڑ کر اپنی دہشت پھیلاتے ہو یا پھر فالتو کے اسٹائل دکھا کر بھرم مارتے ہو”
نوف مصروف انداز میں بولتی ہوئی جیسے ہی پلٹی سامنے کرسی پر افراہیم کو بیٹھا ہوا دیکھ کر ایک دم اس کو کرنٹ لگا

“ہائے اللہ جی”
ایک دم گھبرا کر اس نے اپنے منہ پر دونوں ہاتھ رکھے سارے چنے ہوئے پھول دوپٹے سے نیچے گرے پڑے،، وہ شکوہ بھری نگاہوں سے نازنین کو دیکھنے لگی جس نے اسے اپنے بیٹے کی آمد کے بارے میں آگاہ نہیں کیا تھا،،، جبکہ نازنین نے اپنی ہنسی کو کافی دیر سے روکا ہوا تھا اب وہ باقاعدہ زور سے ہنس رہی تھی۔۔۔ افراہیم کو دیکھنے کی بجائے نوف نے شرمندگی سے اپنی نظریں جھکالی وہ تھوڑی دیر پہلے جانے کیا کیا افراہیم کو بول چکی تھی،، افراہیم کرسی سے اٹھ کر چلتا ہوا نوف کے پاس آکر کھڑا ہوا

“مجھے تو کچھ ایسا یاد نہیں پڑتا مس یمنہ کے میں نے آپ پر کبھی روعب جھاڑا ہو یا پھر اسٹائل دکھا کر بھرم مارے ہو”
افراہیم نوف کے جھکے ہوئے سر کو دیکھ کر اس سے پوچھنے لگا

“میں نے آپ کی بات نہیں کی تھی ویسی ہی ایک عام سی بات بولی تھی”
نوف ہمت کرکے اپنا جھکا ہوا سر اٹھا کر افراہیم کو دیکھتی ہوئی بولی

“تو پھر آپ بتانا پسند کریں گیں کہ افراہیم عباد ہیرو ہے یا پھر زیرو”
وہ غور سے نوف کا چہرہ دیکھتا ہوا اس سے سوال پوچھنے لگا، جس پر نوف نے بنا کچھ بولے دوبارہ سر جھکالیا کیوکہ اس وقت وہ مغرور انسان اس کے قریب کھڑا بہت غور سے اس کا چہرا دیکھ رہا تھا

“افی تم یمنہ کو پریشان مت کرو ورنہ وہ تم سے ڈر جائے گی”
نازنین کرسی پر بیٹھی ہوئی نوف کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر افراہیم کو ٹوکتی ہوئی بولی

“ڈرنا بھی چاہیے مما،، کیونکہ مجھے ہیرو بننے کا کوئی خاص شوق نہیں ہے اور ویسے بھی جنگلی اور خرانٹ بیل سے کوئی بعید نہیں وہ ناجانے کب بدک جائے”
افراہیم نوف کے جھکے ہوئے سر کو دیکھ کر تیز آواز میں نازنین سے بولا تو نوف سر اٹھاکر افراہیم کو دیکھنے لگی۔۔۔ وہ اب بھی نوف کو ہی غور سے دیکھ رہا تھا

“سر جھکاکر یوں مجرموں کی طرح مت کھڑی رہا کرو،، بالکل اچھا نہیں لگتا لڑکیوں پر یہ اسٹائل۔۔۔ جھکا ہوا سر صرف غلطی کرنے والے کا اچھا لگتا ہے۔۔۔ اینی ویز یہاں آؤ میں تمہارے لیے کچھ لایا ہوں”
افراہیم اس سے بولتا ہوا واپس چند قدم کے فاصلے پر بیٹھی ہوئی نازنین کے پاس آیا جو ان دونوں کو بہت غور سے اور دلچپسی سے دیکھ رہی تھی۔۔۔ افراہیم نے ٹیبل پر رکھے ہوئے شاپرز اٹھائے اور اپنے قریب آتی ہوئی نوف کی طرف بڑھاۓ

“اس میں چند ڈریسز ہیں اور یہ میں تمہارے لئے لایا ہوں”
افراہیم کے بولنے پر نوف ان شاپرز کو دیکھنے لگی

وہ جب سے یہاں آئی تھی افراہیم اس کو ایک ہی لباس میں دیکھ رہا تھا جو وہ یہاں پہن کر آئی تھی بےشک اس کا پہنا ہوا لباس ابھی بھی صاف ستھرا تھا یقینا وہ اس لباس کو واش کرکے دوبارہ زیب تن کرلیا کرتی

“سوری مگر میں یہ ڈریسز میں قبول نہیں کرسکتی”
نوف افراہیم کے بڑھے ہوئے ہاتھ میں موجود شاپرز کو دیکھ کر معذرت کرتی ہوئی بولی۔۔۔ نوف کو اپنے گھر میں پناہ دے کر اور جاب دے کر افراہیم اس پر دو احسانات کرچکا تھا مگر وہ مزید تیسرا احسان اس سے لینے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی۔۔۔۔ نوف کی بات سن کر افراہیم کے ماتھے پر بل پڑنے لگے

“یمنہ بیٹا اگر کوئی تمہیں تحفہ دے تو اس طرح اسے منع نہیں کرنا چاہیے۔۔۔۔ افی تمہارے لئے یہ سارے ڈریس خلوص دل سے لےکر آیا ہے شاباش لے لو”
نوف کے انکار کرنے اور افراہیم کی پیشانی پر بل دیکھ کر نازنین بیچ میں مداخلت کرتی ہوئی بولی مگر نازنین کی بات پر افراہیم ایک دم بولا

“جی نہیں مما مجھے کسی کو بھی بلاوجہ میں تحفے تحائف دینے کا کوئی خاص شوق نہیں ہے،، اور مس یمنہ یہ ڈریسز آپ کی جاب کی ریکوائرمنٹ ہے، آپ کو 24 گھنٹے مما کے ساتھ گذارنے ہوتے ہیں تو آپ کو صاف ستھرا ہونے کے ساتھ ویل ڈریس نظر آنا چاہیے اور دوسرا یہ کہ ان ڈریسز کی اماؤنٹ آپ کی سیلری سے لیس ہوگی تو یہ ڈریسز آپ رکھ لیجئے”
افراہیم سنجیدہ لہجے میں اس کو اس کے فرائض اور جاب کا بتاتا ہوا بولا تو نوف کو افراہیم کے ہاتھ سے سارے شوپرز لینا پڑے اس کے بعد افراہیم وہاں نہیں رکا۔۔۔ افراہیم کو اس لڑکی پر غصہ آیا تھا کیونکہ وہ لڑکی کچھ زیادہ ہی ایٹیٹیوڈ رکھتی تھی،، دو دن پہلے بیلا نے بھی اس کو دو ڈریس استعمال کرنے کو دیے تھے جس پر وہ مسکرا کر بیلا کو بھی انکار کرچکی تھی،، افراہیم جانتا تھا بیلا نے جو اس کو کپڑے دیے تھے وہ بیلا نے خود استعمال نہیں کیے تھے بلکہ وہ نئے ڈریس تھے مگر شاید وہ لڑکی یہ بات نہیں جانتی تھی جبھی آج افراہیم اس کے لیے یہ ڈریسز خرید کر لایا تھا


جاری ہے