Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5


“نوف کو باہر بھیج جلدی سے اسے بول کے تجھے عدنان لینے آیا ہے”
ببلی کے چھوٹے بھائی نے گھر کا دروازہ کھولا تو عدنان اسے دیکھ کر بولا۔۔۔۔
راستے میں اس کا ٹکڑاؤ نثار سے ہوگیا تھا نثار نے نوف کو اس کی سہیلی کے گھر سے لانے کی ذمہ داری اپنے نالائق بیٹے عدنان کو سونپ اور وہی سے بنگلے میں واپس چلا گیا کیونکہ عباد کا موڈ کافی زیادہ خراب تھا

“بھائی نہیں آئے مجھے لینے کے لیے”
نوف گھر کے دروازے سے نکل کر چاروں طرف نظریں دوڑاتی کر ازلان کو تلاش کرتی ہوئی آہستہ آواز میں عدنان سے پوچھنے لگی

“تو میں کون سا تجھے کھا جاؤں گا جو مجھے ایسے ڈر پر دیکھ رہی ہے۔۔۔ چل آجا شاباش پیدل پیدل گھر کو چلتے ہیں”
عدنان اپنے گلے میں ڈالا ہوا مفلر دونوں ہاتھوں سے پکڑا ہوا سفید کپڑوں میں خوفزدہ کھڑی نوف کو دیکھ کر بولا جو بےبسی سے عدنان کو دیکھنے لگی اس کا دل چاہا وہ واپس گھر کے اندر ببلی کے پاس چلی جائے اور کال کرکے ازلان کو بلا لے مگر وہ ببلی کو خدا حافظ کہہ کر گھر سے باہر نکل چکی تھی

“یہاں کھڑی کھڑی کیا سوچ رہی ہے میری رس ملائی، اب چل رہی ہے یا تجھے گود میں اٹھا کر گھر لے جاؤ”
عدنان للچائی ہوئی نظروں سے نوف کو دیکھ کر بولا عدنان کی بات سن کر نوف بےدلی اور خاموشی سے سرجھکا عدنان کے ساتھ چلنے لگی آج اتنے دنوں بعد وہ ببلی کے بلانے پر اس کے گھر آئی تھی ورنہ زیادہ تر ببلی خود ہی اس کے پاس آ جایا کرتی تھی

“اگر زیادہ ہی تیرا باہر نکلنے کا موڈ ہو رہا ہے تو مجھے بول دیتی میں تجھے کوئی فلم شلم دکھانے سینما لے چلتا اسی بہانے دونوں مل کر تھوڑی موج مستیاں ہی کر لیتے”
عدنان زیادہ دیر تک خاموش نہیں رہ سکتا تھا وہ نوف کو نیچے سر جھکا کر خاموشی سے چلتا ہوا دیکھ کر اس سے بولا

“مجھے فلمیں دیکھنے کا شوق نہیں ہے”
نوف یونہی سر جھکائے چلتی ہوئی عدنان سے بولی اور اس کے دوسرے جملے کو نوف نے بالکل نظر انداز کر دیا

“ارے میری جان من فلم میں دیکھ لیتا تو مجھ پر غور کر لیتی ویسے بھی اب تجھے میرے بارے میں سوچنا اور غور و فکر کرنا شروع کردینا چاہیے،، جیسے جیسے تو جوان ہو رہی ہے میری بےچینی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے اور آج تو تو ان سفید کپڑوں میں بالکل ڈری سہمی کبوتری کی طرح میرے دل پر قیامت ڈھا رہی ہے، میرا تو ابھی سے ایمان خراب ہو رہا ہے تجھے دیکھ کر کیا بتاؤں۔۔۔ چل تھوڑی دیر کے لئے اس درخت کی آڑھ میں چلتے ہیں اس کے بعد گھر چلے جاتے ہیں”
سنسان گلی کو دیکھ کر بولتے بولتے عدنان کے جذبات بےلگام ہونے لگے وہ نوف کی کلائی کو پکڑتا ہؤا بولا تو خوف کے مارے نوف عدنان کو دیکھنے لگی

“یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں میں آپ کی عزت کرتی ہوں عدنان بھائی پلیز میرا ہاتھ چھوڑ دیں”
نوف اس سے اپنا ہاتھ چھڑواتی ہوئی بولی اس سے پہلے عدنان کی حرکت پر اسے رونا آتا عدنان کا ہاتھ نوف کے گال پر نشان چھوڑ گیا وہ مذید خوف ذدہ ہوکر سہمی ہوئی عدنان کو دیکھنے لگی

“نخرے کس بات کے لئے دکھا رہی ہے بے منگیتر ہے تو میری اور یہ کتنی بار بولا ہے مجھے بھائی مت بولا کر سمجھ میں نہیں آتا تجھے۔۔۔۔ کتنے پیار سے لے کر جا رہا تھا مگر نہیں جی تجھے تو چانٹا کھا کر جانا تھا۔۔۔۔ ڈر ایسی رہی ہے مجھ سے جیسے ابھی تجھے اپنے کمرے میں لے کر جا رہا ہوں زیادہ ٹائم نہیں لگاؤں گا چل جلدی سے آجا شاباش”
عدنان بولتا ہوا نوف کے سسکنے کی پرواہ کئے بغیر اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے لے جانے لگا اور نوف روتی ہوئی ناچاہتے ہوئے بھی اس کے ساتھ چلنے پر مجبور تھی

“ابے رو کیوں رہی ہے پیار کرنے کے لیے لے جا رہا ہوں تیرا گلا گھوٹنے کے لئے نہیں”
عدنان اس کو مسلسل روتا ہوا دیکھ کر بولا اور درخت کے پیچھے لے جانے لگا

“اے کہاں لے جارہے ہو اسے ہاتھ چھوڑو فورا اس کا”
افراہیم دور سے پیدل چلتا ہوا گھر کی طرف آرہا تھا دور سے ہی وہ سارا سین دیکھ کر کچھ کچھ ماجرہ سمجھ گیا تھا اور ساتھ ہی ان دونوں کو بھی پہچان گیا تھا جبھی بیچ میں مداخلت کرتا ہوا بولا

“چھوٹے صاحب یہ لڑکی میری ہونے والی”
اس وقت عدنان افراہیم کو دیکھ کر ناخوش ہوا تھا وہ اس نئے افسر کے بدمزاج بیٹے کو جانتا تھا اس لیے نوف کا ہاتھ چھوڑے بغیر عاجزی سے بولنے لگا

“شٹ اپ سنائی نہیں دیا تمہیں میں کہہ رہا ہوں ہاتھ چھوڑو اس کا”
افراہیم نے نوف کی آنکھوں میں اس وقت آنسو دیکھے جو خاموشی میں بھی اس کو بہت کچھ کہہ گئے تھے، اس لیے اب کی بار افراہیم نے عدنان کو غصے کرتے ہوۓ سخت لہجے میں ہاتھ چھوڑنے کا بولا تو عدنان کو نوف کا ہاتھ چھوڑنا پڑا

“ویسے تم اس کو اپنے ساتھ کہاں پر لےکر جا رہے تھے گھر تو تمہارا اس سائیڈ پر ہے ناں”
افراہیم چلتا ہوا عدنان کے پاس آیا اور عدنان سے سوال کرنے لگا وہ عمر میں عدنان سے ایک یا دو سال چھوٹا تھا لیکن اس روعب اور دبدبے کی وجہ اس کے باپ کا افسر ہونا تھا عدنان کو معلوم تھا بڑے لوگوں سے بگاڑ کر اس کی اپنی مٹی پلید ہونا تھی، ورنہ یہ سوال افراہیم کی جگہ کوئی دوسرا اس سے کرتا تو وہ بہت اچھی طرح اسے بتاتا

“وہ جی اسے آئسکریم کھانے کا دل چاہ رہا تھا وہی لےکر جا رہا تھا اسے۔۔۔۔ تو خاموش کیو کھڑی ہے بتا ناں ہمارے چھوٹے صاحب کو”
عدنان سے کوئی بات نہیں بن پائی تو وہ برابر میں کھڑی نوف سے دانت پیستا ہوا بولا

“جی یہ صحیح کہہ رہے ہیں”
نوف نے اپنا سر جھکا کر بہت آہستہ سے جواب دیا جسکو افراہیم نظر انداز کرتا ہوا اور غصے میں عدنان کو دیکھنے لگا

“کیا سمجھا ہوا ہے تم نے مجھے، کیا میں بیوقوف نظر آتا ہوں تمہیں۔۔۔۔ اس کا آئسکریم کھانے کا دل چاہ رہا تھا اور یہ آئسکریم کھانے کے لئے بری طرح رو رہی تھی اور تم اس کو گھسیٹ کر مارتے ہوئے آئسکریم کھلانے لے جارہے تھے”
افراہیم کے غصے میں بولنے پر عدنان چور سا بن گیا اور اس کی بات کو جھٹلاتا ہوا بولا

“نہ جی میں اس کو کیسے مار سکتا ہوں،، عورت پر ہاتھ اٹھانا تو بہت بڑا گناہ ہے۔۔۔ وہ تو جی میں نے اس کو ہلکا سا ہاتھ لگایا تھا”
عدنان کے جھوٹ بولنے پر افرائیم غصے میں مزید عدنان کے قریب آیا اور زور دار تھپڑ اس نے عدنان کے منہ پر مارا۔۔۔۔ اس کے تھپڑ مارنے پر ناصرف عدنان ہکا بکا ہوکر افراہیم کو دیکھنے لگا بلکہ برابر میں کھڑی نوف بھی ڈر کے مارے اچھل پڑی

“اتنے ہلکے سے ہاتھ لگایا تھا تم نے اسے یا پھر اس سے بھی زیادہ ہلکا ہاتھ لگایا تھا”
افراہیم عدنان سے پوچھنے لگا۔۔۔ اس کے ہاتھ کی پانچوں انگلیاں عدنان کے گال کو ویسے ہی سرخ کرچکی تھی جیسے تھوڑی دیر پہلے عدنان نے نوف کے گال کو سرخ کیا تھا

“یہ تھپڑ تو میں نے تمہیں تمہارے جھوٹ بولنے پر مارا ہے۔۔۔ اب جو تپھڑ تم نے اس لڑکی کے گال پر مارا تھا اس کی سزا کے لئے تیار ہو جاؤ”
افرائیم عدنان سے بولتا ہوا نوف کی طرف دیکھنے لگا

“تم نیچے زمین پر کیا تلاش کر رہی ہوں یہاں دیکھو اس کے گال کی طرف اور اس کے دوسرے گال پر ایسا ہی تھپڑ مارو،، یاد رہے تھپڑ ایسا ہونا چاہیے کہ تمہارے ہاتھ کی انگلیوں کے نشانات اس کے گال پر نظر آئے مجھے”
افراہیم کی بات سن کر جہاں نوف گھبراتی ہوئی اسے دیکھنے لگی وہی عدنان بھی جبڑے زور سے بھینچ کر اپنا غصہ ضبط کرنے لگا

“مجھے مت دیکھو یوں بےوقوفوں کی طرح جو کہا ہے وہ کرو ورنہ خود بھی سزا کے لیے تیار ہوجاؤ”
نوف کے گھبرا کر دیکھنے پر افراہیم سخت لہجے میں بولا جس پر نوف عدنان کا سرخ گال دیکھنے لگی جو افراہیم کے ہاتھ کا پڑا ہوا تازے تھپڑ کی کہانی بیان کر رہا تھا۔۔۔ اب نہ جانے وہ سرپھرا سا مغرور لڑکا نوف کے ساتھ کیا کرتا۔۔۔ نوف نے ڈرتے ہوئے کانپتا ہوا ہاتھ اٹھا کر عدنان کے گال پر مارا اور شرمندہ ہونے لگی

“جان نہیں ہے تمہارے ہاتھ میں، ایسے مارا تھا اس نے تمہارے گال پر تھپڑ یا اب تمہارے دوسرے گال پر تھپڑ میں لگا کر دکھاؤ”
افراہیم تیز آواز میں ڈانٹتا ہوا نوف کو بولا تو نوف حیرت سے اسے دیکھنے لگی

“مجھ سے نہیں مارا جائے گا آپ پلیز انہیں معاف کر دیں”
نوف افراہیم کے غصے سے گھبراتی ہوئی سر جھکا کر بولی جبکہ عدنان سرخ گال لیے خاموش کھڑا اپنے آپ کو تماشا بنے دیکھ رہا تھا۔۔۔ تھوڑی دیر پہلے کی اسکی ساری شوخی افراہیم کے مارے ہوئے تھپڑ سے ہوا ہوچکی تھی

“کیوں نہیں مارا جائے گا یہ سوچ کر اس کے گال پر تھپڑ ٹکاؤ کہ اگر میں یہاں سے نہیں گزرتا تو یہ تمہارے ساتھ کیا کر سکتا تھا”
افراہیم نوف کے جھکے ہوئے سر کو دیکھ کر بولا۔۔۔ وہ بےشک چھوٹی عمر کی لڑکی تھی مگر اس کی آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسو اور بےبسی افراہیم کو سمجھا چکی تھی کہ وہ وقت سے پہلے باشعور ہوچکی ہے اور اپنی عمر کی لڑکی سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتی ہے۔۔۔ افراہیم کی بات کا تصور کرتے ہوئے نوف کو جھرجھری سی آئی۔۔۔ ناجانے کیسے اس کا ہاتھ اٹھا اور عدنان کا دوسرا گال بھی لال کرگیا جس کے بعد وہ خود اپنے چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا کر رونے لگی جبکہ عدنان دونوں سرخ گالوں کے ساتھ زمین میں اپنے آپ کو گڑھتا ہوا محسوس کرنے لگا مگر وہ دل ہی دل میں طے کرچکا تھا کہ اس تھپڑ کا وہ افراہیم سے ایسا بدلہ لےگا کہ افراہیم کی روح تک کر تڑپ کر رہ جائے گی

“یہ میری اسپورٹس بائیک کی چابی ہے جو پیچھے بیچ راستے میں خراب ہوچکی ہے جاؤ اسے بنوا کر گھر لے آؤ”
افراہیم عدنان کی طرف اپنی بائیک کی چابی اچھالتا ہوا حاکمانہ لہجے میں بولا تو عدنان چابی لے کر وہاں سے چلا گیا

“بیچ روڈ پر سنسان جگہ پر یہ بے وقوفوں کی طرح رونا بند کرو چلو میں تمہیں تمہارے گھر چھوڑ دیتا ہوں”
اس کی بات سن کر نوف اپنے چہرے سے دونوں ہاتھ ہٹا کر افراہیم کو دیکھنے لگی مگر نوف کو چلنے کا کہہ کر وہ اس کے انتظار میں رکا نہیں تھا بلکہ آگے قدم بڑھا چکا تھا نوف کو بھی اس کے ساتھ چلنے کے لیے اپنے قدم بڑھانا پڑے

“تو یہ اسی سست نکمے ٹوپی باز نثار کی اولاد ہے دیکھنے میں بھی عجیب واہیات سا لڑکا لگتا ہے شاید نثار نے اس کی تربیت اچھے سے نہیں کی، ویسے تم اس کے ساتھ باہر کیوں نکلی ہوئی تھی”
نوف سر جھکائے افراہیم کے ساتھ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا رہی تھی افراہیم کے سوال پر جواب سے پہلے اس نے اپنے دوپٹے سے نکلتی ہوئی ناک صاف کی جو بہت زیادہ رونے کی وجہ سے بہنے لگی تھی

“یخ۔۔ِ۔۔ اسٹوپڈ گرل اپنے کپڑوں سے کون نوز صاف کرتا ہے عجیب گوار اور ال مینرڈ لوگ ہوتے ہو تم لوگ بھی، یہ ٹشو پکڑو”
افراہیم نوف کی اس حرکت پر کراہیت محسوس کرتا ہوا اپنی پاکٹ سے ٹشو نکال کر اسکی طرف بڑھا کر تیز آواز میں بولا نوف نے شرمندہ ہوتے ہوئے افرائیم کے ہاتھ سے ٹشو لیا مگر وہ بھی کیا کرتی نوز تو ہر عام انسان کی بہتی ہے اب اس کے پاس نوز صاف کرنے کے لیے کوئی دوسرا آپشن نہیں تھا تو بھلا وہ کیا کرتی۔۔۔ مگر یہ بات وہ افراہیم کو بتانے کی بجائے اپنے باہر نکلنے کی وجہ بتانے لگی

“میں عدنان بھائی کے ساتھ باہر نہیں نکلی تھی بلکہ اپنے بھائی کے ساتھ ببلی کے گھر سے آئی تھی، عدنان بھائی تو مجھے ببلی کے گھر سے واپس لینے آئے تھے”
اب ببلی کون تھی یہ افراہیم کو کیا معلوم تھا وہ سر جھٹک کر اپنے ساتھ چلتی ہوئی نوف کو دیکھنے لگا جو آہستہ آواز میں بولتی ہوئی سر جھکاۓ اس کے ہم قدم چل رہی تھی۔۔۔ کچھ یاد آنے پر افراہیم غصہ کرتا ہوا ایک دم نوف سے بولا

“میں نے تم سے 15 دن پہلے کیا بولا تھا کہ تم اگلے دن اگر پورے لان کی صفائی کروں گی اور تم نے فرمانبرداری سے میرے سامنے سر ہلایا تھا، اپنے چچا کی طرح ٹوپی کروائی تم نے مجھے”
افراہیم تو لان کی صفائی کا کہہ کر اس بات کو خود بھی فراموش کرچکا تھا مگر نوف کے جھکے ہوئے سر کو دیکھ کر اچانک اسے یہ بات یاد آگئی جس پر وہ نوف کو مصنوعی غصہ دکھا کر روعب جماتا ہوا پوچھنے لگا

“میں نے آپکو ٹوپی نہیں کروائی تھی اگلے دن میرے امتحانات شروع ہوگئے تھے تو میں پڑھنے میں مصروف ہوگئی تھی”
ویسے تو نوف نے پندرہ دن پہلے سوچ لیا تھا وہ اب اس بنگلے کا رخ نہیں کرے گی مگر یہ بھی سچ تھا کہ وہ پرسوں ہی اپنے پیپرز سے فارغ ہوئی تھی اور دوسرا اسے ذرا بھی اندازہ نہیں تھا کہ یو اچانک افراہیم سے اس کا ٹکراؤ ہوجاۓ گا

“ٹھیک ہے لیکن اب تم کل صبح ہی بنگلے کے اندر موجود ہوگی اور میرے وارڈروب میں موجود سارے کپڑے پریس کرو گی”
گھر نزدیک آچکا تھا تب افراہیم نوف کے جھکے سر کو دیکھ کر حاکیمانہ لہجے میں بولا

“صبح تو مجھے اسکول کے لیے نکلنا ہوگا”
نوف جھکے سر کے ساتھ اپنے سامنے کھڑے مغرور اور بددماغ لڑکے کو آہستہ آواز میں بتانے لگی

“پڑھ لکھ کر کیا کروں گی تم، ملنا تو تمہیں وہی ہے مامے یا چچا کا بیٹا”
افراہیم کا انداز مذاق اڑانے والا تھا مگر سر اٹھا کر جن نظروں سے نوف نے اسے دیکھا تو افراہیم ایک دم سنبھل کر دوبارہ بولا

“صبح کا مطلب ہے بارہ بجے میری صبح بارہ بجے ہوتی ہے جب تک تمہارا اسکول آف ہوچکا ہوگا اپنا بیگ رکھ کر سیدھی تم میرے کمرے میں آؤں گی سمجھ میں آرہا ہے تمہیں”
افراہیم ایک بار پھر وہ روعب جمانے والے انداز میں بولا جس پر ناچار نوف کو آہستہ سے اقرار میں سر ہلانا پڑا

“جاؤ میں یہی کھڑا ہوں یہاں سے سیدھا اپنے گھر چلی جاؤ” افراہیم نوف کے جھکے ہوئے سر کو دیکھ کر بولا تو نوف خاموشی سے اپنے کوارٹر کی طرف جانے لگی افراہیم کو اس لڑکی کو حکم دینے میں مزہ بھی اس لئے آتا تھا کیونکہ وہ تابعداری سے سر جھکاۓ اس کی ہر بات مانتی تھی۔۔۔۔ نوف نے گھر کا دروازہ کھول کر گھر میں داخل ہونے سے پہلے ایک نظر سامنے دیکھا افراہیم وہی پر موجود اسی کو دیکھ رہا تھا نوف نے جلدی سے دروازہ بند کردیا

“اسٹوپڈ گرل”
افراہیم زیر لب بڑبڑا کر بنگلے کے کھلے گیٹ سے اندر جانے لگا


جاری ہے