Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

“کیا ہوا یہاں سے بھاگنے کے بارے میں سوچ رہی ہو، تھوڑا مشکل ہے یہاں سے فرار ہونا”
وہ بالکنی میں کھڑی وہاں سے چھلانگ لگانے کے بارے میں سوچ رہی تھی ایک دم کمرے میں سے آتی مردانہ آواز پر مڑتی ہوئی خوف کے مارے اسے دیکھنے لگی۔۔۔ 30 سال کی عمر کے لگ بھگ سوٹ بوٹ پہنا ہوا آدمی یقیناً روحیل چغتائی تھا۔۔۔ جس کے لئے آج اس کو یوں سجایا سنوارا گیا تھا، روحیل نے کمرے میں آنے کے ساتھ ہی کمرے کا دروازہ بند کر دیا تو وہ اپنا کندھے سے ڈھلکا ہوا دوپٹہ جلدی سے ٹھیک کرنے لگی

“دیکھئے میں ویسی لڑکی نہیں ہوں جیسا آپ سمجھ رہے ہیں میں ایک شریف گھرانے سے تعلق رکھتی ہوں۔۔۔ روبی نے مجھے زبردستی میری مرضی کے خلاف مجھے یہاں آپ کے پاس بھیجا ہے پلیز مجھے یہاں سے جانے دیں”
وہ بالکنی سے کمرے میں آتی ہوئی روحیل کو دیکھ کر بولی۔۔۔ روحیل اسے حلیے اور لب و لہجے سے پڑھا لکھا لگ رہا تھا۔۔۔ اسے لگا روحیل اس کی مجبوری سمجھے گا اور ترس کھاکر اسے یہاں سے جانے بھی دے گا

“میں بھی ویسا آدمی نہیں ہوں جیسا تم مجھے سمجھ رہی ہو میں بھی ایک شریف گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں۔۔۔ ایک خوبصورت بیوی اور دو بچے ہیں میرے، ہر قسم کی لڑکی کے ساتھ رات گزانا مجھے پسند نہیں ہے اور نہ ہی یہ سب میرا مشغلہ ہے بس مہینے دو مہینے میں ایک آدھ بار ہی۔۔۔۔ یو نو،،، روبی کو میرا مزاج اور اسٹینڈرڈ معلوم ہے اُسی کو مدنظر رکھتے ہوئے روبی نے تمہیں آج رات میرے لئے سلیکٹ کیا ہے اور ماننا پڑے گا اُس کا منتخب کردہ آج رات کا یہ سرپرائز،، تمہارا مدھوش کرنے والا یہ حُسن واقعی اِس قابل ہے کہ اس کو بہت نزدیک سے دیکھا جائے اس لیے وقت ضائع کئے بغیر یہاں میرے پاس آ جاؤ،، نخرے مجھے بالکل بھی پسند نہیں ہیں اور صبح مجھے میٹنگ بھی اٹینڈ کرنا ہے”
روحیل اس سے بات کرنے کے ساتھ ہی شراب کی بوتل اور ایک گلاس سامنے میز پر رکھتا ہوا خود صوفے پر بیٹھ چکا تھا۔۔۔ وہ آنسو بہاتی ہوئی روحیل کو دیکھنے لگی

“تم ابھی تک وہی کھڑی ہو دیکھو میں جانتا ہوں یہ سب جو آج تمہارے ساتھ ہوگا وہ تمہارا پہلا تجربہ ہوگا۔۔۔ روبی کے پاس جتنی بھی نئی لڑکیاں آتی ہیں وہ پہلی دفعہ میں ایسے ہی ڈری سہمی ہوتی ہیں پھر آہستہ آہستہ انہیں اِس کام کی عادت ہو جاتی ہے تمہیں بھی ہو جائے گی۔۔۔ یوں رونا دھونا مچا کر تم کچھ ایکسڑا ہی کر رہی ہو،، میں آج رات تمہارے ساتھ گزارنے کی ایک اچھی اماؤنٹ روبی کو دے چکا ہوں اس لیے میرا ٹائم ویسٹ نہیں کرو”
روحیل اس کو روتا ہوا دیکھ کر بہت آرام سے سمجھانے لگا

“بغیر رشتے کے اس طرح کیسے،، پلیز آپ مجھ سے شادی کرلیں”
وہ اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی روحیل سے بولی جس پر وہ قہقہہ مار کر ہنسا

“شادی کرلو تم سے،، وہ کیوں بھئی۔۔۔ تم میری تعریف کو غلط انداز میں لے رہی ہو میری بیوی بھی بہت خوبصورت ہے اور میں اپنی لائف میں اس کے ساتھ بہت خوش ہوں، تمہیں بتایا تو ہے یہ سب میرا مشغلہ نہیں ہے۔۔۔ کبھی کبھار روٹین لائف سے ہٹ کر یا تھوڑا سا ذائقہ بدلنے کے لیے میں روبی سے کانٹیکٹ کر لیتا ہوں اب تم میرا کافی وقت لے چکی ہو۔۔۔ جاؤ جا کر بیڈ پر لیٹ جاؤ”
روحیل شراب کا گلاس خالی کرچکا تھا۔۔۔ وہ خالی گلاس کو دوبارہ شراب سے بھرتا ہوا اس سے بولا۔۔۔ ایک بار پھر آنکھوں سے اُمڈ آنے والے آنسوؤں کو صاف کرتی ہوئی وہ بیڈ کی طرف دیکھنے لگی جس کی طرف قدم بڑھانا اسے دشوار لگ رہا تھا۔۔۔ اِس سے پہلے روحیل صوفے سے اٹھ کر اُس کے پاس آتا ہے نہ جانے کس خیال کے تحت وہ بیڈ کے برابر میں موجود کمرے کا دروازہ کھول کر تیزی سے اندر چلی گئی اور دروازہ اندر سے بند کر لیا


“او شٹ نونونو” بیلا بنگلے میں موجود لان میں سائیکلنگ کر رہی تھی بروقت بریک نہ لگنے کی وجہ سے سائیکل لان کے پاس پڑے گندے پانی کو اڑاتی ہوئی گیٹ سے اندر آنے والے لڑکے کے کپڑوں کو اچھا خاصہ خراب کر چکی تھی، جس پر وہ لڑکا اپنے کپڑوں کے بعد بیلا کو غصے میں گھورنے لگا

“آئی ایم ویری سوری یور ڈریس از اسٹینڈ میرا مطلب ہے میں معافی چاہتی ہوں میری وجہ سے تمہارے کپڑے داغدار ہوگئے”
بیلا اُس انجانے غصے میں گھورتے ہوئے لڑکے کو دیکھ کر شرمندہ ہوتی ہوئی بولی

“It’s not your matter… Can you tell me about Mrs. Ibaat”

آزلان کو اپنے کپڑوں کے اوپر کیچڑ کے داغ دیکھ کر غصہ تو شدید آیا تھا مگر وہ اس چھوٹی سی سنہری بالوں والی گڑیا جیسی لڑکی کے معافی مانگنے پر اور شرمندہ ہونے پر نرم پڑتا ہوا اس سے بولا

“ارے تم تو پڑھے لکھے ہو میرا مطلب ہے تم پڑھتے ہو نا”
بیلا اپنی سائیکل سے اترتی ہوئی اذلان سے پوچھنے لگی کیونکہ بیلا نے اُس کے عام حلیے اور کپڑوں سے یہی اندازہ لگایا تھا کہ انگریزی میں کی گئی اُس کی معذرت یہ انجام لڑکا سمجھ نہیں پائے گا جبھی اس نے اپنی معذرت کا ترجمہ بھی ساتھ کیا تھا

“یہ ایک چھوٹا سا ٹاؤن ہے مگر یہاں کے اسکولز اور ٹیچرز کافی اچھے ہیں”
ازلان اس چھوٹی سی لڑکی کو سادہ سے انداز میں بتانے لگا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ یہ چھوٹی سی لڑکی اس کے عام سے کپڑوں کو دیکھ کر اسے اٙن پڑھ سمجھ رہی ہوگی جبھی وہ بیلا کو انگریزی میں بتانے لگا

“کیا تم ازلان ہو تمہیں نثار نے بھیجا ہے” نسوانی آواز پر ازلان نازنین کو دیکھنے لگا جو اس کے کیچڑ زدہ کپڑوں کو دیکھ کر اس سے سوال کر رہی تھی

“جی میرا نام ازلان ہے ،نثار میرے چچا ہیں انہوں نے مجھے یہاں بھیجا ہے۔۔۔ مسسز عباد کو کوئی کام تھا”
ازلان اپنی توجہ اس چوٹی سی لڑکی سے اب نازنین کی طرف مرکوز کرتا ہوا اعتماد سے بولا

“میں ہی مسسز عباد ہوں ازلان کیا تم مجھے قریبی مارکیٹ تک لے جا سکتے ہو دراصل میں اس جگہ سے بالکل ناواقف ہوں اور پینٹنگ میرا شوق ہے، مجھے افسوس کے ساتھ یہ بتانا پڑ رہا ہے کہ میں اپنے کینوس اور برش نہ جانے کہاں رکھ کر بھول گئی ہو دراصل صبح میں نے نثار کو اپنا مسئلہ بیان کیا تھا مگر اسے خود اپنی طبیعت خرابی کی وجہ سے اسپتال جانا تھا اس لیے اس نے کہا کہ آپ کو میرا بھتیجا ازلان مارکیٹ تک لے جائے گا ویسے اب کیسی طبیعت ہے نثار کی”
نازنین ازلان کو اپنا مسئلہ بتانے کے ساتھ ساتھ نثار کی طبیعت پوچھنے لگی جو کہ اسے طبیعت خرابی کا بول کر چھٹی لےکر چلا گیا تھا

“جی اب کافی بہتر ہے ان کی طبیعت، کیا میں اپنا لباس تبدیل کرنے کے بعد آپ کو مارکیٹ لے جاؤ اگر آپ لیٹ نہیں ہو رہی ہو تو”
اب ازلان اپنے چچا نثار کی سست طبعیت کے بارے میں نازنین کو کیا بتاتا ہے جو اس وقت اسپتال کا بہانہ بنا کر تھڑے پر بیٹھا ہوا اپنے فارغ دوستوں کے ساتھ سُٹے لگاکر مہنگائی اور غربت کا رونا رو رہا تھا۔۔۔ ازلان نازنین کو مارکٹ لے جانے پر آمادہ ہو چکا تھا

“بالکل تم اپنا لباس تبدیل کرکے آجاؤ، بیلا کیا تم نے اپنی غلطی کی ازلان سے معافی مانگی”
نازنین ازلان کو اجازت دیتی ہوئی ساتھ ہی اپنی بیٹی سے پوچھنے لگی کیونکہ وہ دور سے ہی بیلا کا کیچڑ اڑانے والا کارنامہ دیکھ چکی تھی

“شیور مما آپ ازلان سے پوچھ سکتی ہیں میں اس سے اپنی غلطی کی معافی مانگ چکی ہوں، ناصرف یہ مجھے معاف کر چکا ہے بلکہ ہم دونوں اچھے دوست بھی بن چکے ہیں ہے ناں ازلان”
خاموش کھڑی ہوئی بیلا ایک دم سے بولی اس کی بات پر نازنین کے ساتھ ازلان کے ہونٹوں کو بھی مسکراہٹ نے چھوا وہ اپنا لباس تبدیل کرنے کے غرض سے برابر میں بنے کواٹر میں چلا گیا


“اے نوف رک کہاں جارہی ہے” عدنان اپنے اوباش دوستوں کے ساتھ چائے کے ہوٹل پر بیٹھا ہوا تھا وہاں سے نوف کو گزرتا ہوا دیکھ کر اس کے پیچھے آکر نوف کو پکارنے لگا جس کی وجہ سے نوف کو روکنا پڑا

“یہی قریب پنسار کی دکان تک امی نے بھیجا تھا کچھ سامان چاہیے تھا ان کو”
نوف اپنے سے بڑے چچا زاد کو بتانے لگی، ایک سرسری نظر ڈالنے کے بعد مشکل سے ہی وہ عدنان کا چہرہ دیکھتی تھی کیوکہ عدنان اس کو دیکھنے کی بجائے عجیب طریقے سے گھورتا تھا کم عمر اور نہ سمجھ ہونے کے باوجود نوف کو عدنان سے بات کرنے میں اور اس کے دیکھنے کے انداز سے کوفت محسوس ہوتی تھی

“تائی کی عقل کیا گھاس چرنے چلی گئی ہے جو اس کرمو کی دکان پر اس وقت تجھے بھیج رہی ہے نشہ کرکے بیٹھا ہوگا وہ سالا”
بیس سالہ عدنان اپنی تایازاد کی چمکتی دمکتی رنگت کو گھورتا ہوا اس سے بولا عدنان کو پورا یقین تھا اس کی تایاذاد جوان ہوکر اور بھی زیادہ غضب ڈھانے والی ہے

“امی کے گھٹنوں میں درد ہو رہا تھا اور بھائی اس وقت ٹیوشن دینے گئے ہیں اس لئے میں نے سوچا میں سامان لے آتی ہوں”
نوف کو جواب دیتے ہوئے عجیب ابقائی سی آنے لگی عدنان اس سے پانچ قدم کے فاصلے پر کھڑا ہوا تھا اس کے باوجود اس کے پاس سے اٹھتی ہوئی تیل اور پسینے کی مکس بدبو سے نوف کا دل چاہا کہ وہ وہاں سے بھاگ جائے

“تائی کا تو ہر وقت کا یہی رونا ہے معلوم نہیں اس کا کوئی پرزہ سلامت بھی ہے کہ نہیں اور وہ سالا پڑھاکو تیرا بھائی یا تو خود پڑھایاں کرتا رہتا ہے یا دوسروں کو درس دینے نکلا ہوتا ہے ایک تیرے اور تایا کے علاوہ گھر میں کوئی ڈھنگ کا بندہ نہیں ہے چل یہ پیسے مجھے دے دے اور یہاں سے سیدھی گھر چلی جا۔۔۔ پنسار کی دکان سے سارا سامان میں تجھے لا کر دے دوں گا”
عدنان نوف کی مٹھی میں دبے ہوئے پیسوں کو دیکھ کر اس سے ہمدردی کرتا ہوا بولا۔۔۔۔ نوف نے ایک نظر اس کے اوباش دوستوں پر ڈالی جو ان دونوں کو ہی دیکھ رہے تھے

“میں خود لے آؤں گی عدنان بھائی دوکان یہی دو قدم پر ہی ہے”
نوف کو پورا یقین تھا اگر اس نے عدنان کو پیسے دے دیے تو آج عدنان اپنے اوباش دوستوں کو چائے ان پیسوں سے ہی پلائے گا اس لئے نوف آئستہ آواز میں منمنائی

“کیا بولا تو نے مجھے بھائی، تیرا دماغ تو خراب نہیں ہے منگیتر ہے تو میری، تیرے جوان ہونے کا انتیظار کر رہا ہو پھر بیاہ رچاؤ گا تیرے ساتھ۔۔۔ ایسے دیدے پھاڑ کر کیا دیکھ رہی جیسے کچھ معلوم نہیں تجھے لا یہ پیسے مجھے دے”
نوف کے بھائی بولنے پر وہ بدمزا ہوا تھا اس لیے بچپن کی مگنی یاد دلانے کے ساتھ آگے بڑھ کر عدنان نے نوف کی کلائی پکڑ کر اس کی مٹھی میں دبے ہوئے نوٹ لےکر اپنی جیب میں رکھ لیے ساتھ ہی وہ اپنے میلے کچیلے ہاتھ میں نوف کی اجلی کلائی کو دیکھتا ہوا بولا

“چوڑیاں شوڑیاں پہننے کا شوق نہیں ہے تجھے، ایسے خوبصورت ہاتھوں کو یونہی خالی چھوڑا ہوا ہے تو نے”
نوف نے اپنا ہاتھ چھڑوانا چاہا جو عدنان کے ہاتھ میں تھا، نوف کا روہانسی چہرا دیکھ کر بےڈھانگہ سا قہقہہ لگا کر عدنان نے اس کا ہاتھ چھوڑا

“پریشان کیو ہو رہی ہے کھا تھوڑی جاؤ گا تجھے، منگیتر تو ایسی چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں باؤلی۔۔۔۔ اب میری بات غور سے سن اسکول جاکر اپنے بھائی کی طرح پڑھائی کرنا بند کر دے تیرا بارہوہ سال چھڑھنے کی دیر ہے ابا سے بات کرکے تجھے بیوی بنالو گا اپنی”
نوف عدنان کی واہیات نظروں سے بچنے کے لیے اپنا چہرا مکمل طور پر نیچے جھکا چکی تھی عدنان کی باتیں سن کر اسے رونا آنے لگا

“نوف”
ازلان کی آواز پر نوف نے مڑ کر پیچھے دیکھا۔۔۔ ازلان ان دونوں کے قریب آرہا تھا نوف نے خدا کا شکر ادا کیا

“ابے یار کچھ خیال کیا کر، کرمو کی دکان پر تائی نے اس کو اکیلے بھیج دیا۔۔۔ جانتا نہیں ہے اسے نشے کی عادت پڑگئی ہے دن میں بھی افہیم چھڑائے بیٹھا ہوتا ہے سالا۔۔۔۔ میں راستے میں نہیں ملتا تو یہ کرمو کی دکان پر جانے والی تھی، سامان میں لاکر دے دو گا تائی کو”
ازلان کو قریب آتا دیکھ کر عدنان دوستانہ لہجے میں ازلان سے بولا

“گھر جاؤ نوف”
عدنان کی بات کا جواب دینے کی بجائے ازلان نوف کا اترا ہوا چہرا دیکھ کر بولا نوف فوراً وہاں سے چلی گئی

“لاؤ عدنان وہ پیسے واپس دے دو جو تم نے نوف سے لیے تھے سامان میں خود لے آؤ گا”
ازلان کوئی فالتو بات کیے بغیر عدنان کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہوا بولا تو عدنان نے منہ بناکر پیسے اس کے ہاتھ پر رکھ دیئے۔۔۔ ازلان وہاں سے جاتا ہوا اپنے باپ کے کیے گئے اس فیصلے کے بارے میں سوچنے لگا جس میں نہ صرف اس کی معصوم بہن کا رشتہ قیوم نے اپنے بھائی کی محبت میں آکر اُس کے آوارہ بیٹے سے جوڑ دیا تھا بلکہ گل کے ساتھ بھی اُس کا رشتہ بچپن میں طے پا گیا تھا


“ّواہ بھئی تمہارے ہاتھ میں تو کافی صفائی ہے بہت پیاری کڑھائی کی ہے تم نے اس قمیض پر۔۔۔ اگر یہ قمیض شہر میں سیل ہوگی تو اس پر اچھے خاصے پیسے کما سکتی ہو تم”
لان میں چیئر پر بیٹھی ہوئی نازنین رخشی کی کڑھائی کے ڈیزائن پر تعریف کرنے کے ساتھ اس کو مشورہ دیتی ہوئی بولی

“بس جی یہ کام تو میں نے شوقیہ سیکھا ہے اگر آپ کو میرے ہاتھ کا کام پسند آیا ہے تو میں آپ کے لئے بھی ایک قمیض تیار کرو گی”
رخشی خوش ہوکر بولتی ہوئی قمیض کے سیمپل کو واپس شاپر میں رکھنے لگی

“بہت بہت شکریہ رخشی تم بہت اچھی ہو، خوشی ہوئی مجھے تم سے مل کر اور تمہارا بیٹا ازلان بھی بہت پیارا ہے اور سمجھدار بچہ ہے۔۔۔ مجھے اچھا لگا یہ جان کر کے تم اور قیوم اپنے بیٹے کو پڑھا لکھا رہے ہو”
نازنین اپنے سامنے بیٹھی ہوئی رخشی سے بولتی ہوئی سوچ رہی تھی کہ وہ اپنے کزن جس کا شہر میں بوتیک ہے اس کے پاس رخشی کے ہاتھ کے تیار کردہ کچھ سیمپل بھیج دیں تاکہ رخشی کی محنت وصول ہو جائے

“ازلان کے علاوہ میری ایک بیٹی بھی ہے وہ بھی ماشاء اللہ سے اسکول جاتی ہے میرا تو خواب ہے میرے دونوں بچے پڑھ لکھ کر باشعور انسان بن جائے”
رخشی خوشی خوشی نوف کے بارے میں نازنین کو بتانے لگی

“ہاں قیوم نے ذکر تو کیا تھا لیکن کبھی تمہاری بیٹی کو دیکھا نہیں میں نے”
نازنین رخشی سے نوف کے بارے میں پوچھنے لگی ازلان نازنین کے کہنے پر مارکیٹ گیا ہوا تھا اسے کچھ چیزوں کی ضرورت تھی ویسے تو یہ سارے کام نثار کے تھے مگر وہ بہت کم ہی یہاں پر ٹکتا تھا اکثر کاموں کے لیے ازلان کو نازنین کے پاس بھیج دیتا تھا

“بس جی بہت سیدھی اور شرملی سی ہے میری بیٹی اسکول سے گھر آتی ہے تو باہر نہیں نکلتی لیکن آپ سے ملوانے کے لیے لےکر آؤں گی اپنی نوف کو”
رخشی خوش ہوکر نازنین کو بتا رہی تھی تب نازنین کی نظر کار سے اترتے ہوئے عباد پر پڑی جو دور سے ہی نازنین کو قیوم کی بیوی کے ساتھ بیٹھا ہوا دیکھ چکا تھا

“تم نے یہاں آکر بھی وہی پرانے کام شروع کر دیے نازنین مجھے تو سمجھ میں نہیں آتا آخر کیو تمہیں ایسے لوگوں کو دیکھ کر ہمدردی کرنے کا بخار چڑھ جاتا ہے تم ہر وقت مدرٹریسا کیوں بنی رہتی ہو”
عباد نازنین کے پاس آکر قیوم کی بیوی کا لحاظ کئے بنا بولا

“عباد پلیز”
رخشی کے سامنے اس طرح عباد کے بولنے پر نازنین شرمندہ ہوتی ہوئی عباد سے بولی

“کیا یار اگر تم بور ہوتی ہو تو تو اپنے لئے کوئی دوسری ایکٹیویٹی ڈھونڈو، یوں کام کرنے والے نوکروں کو اپنے ساتھ بٹھانے سے مجھے تو سمجھ میں نہیں آتا تمہیں کون سا سکون ملتا ہے”
نازنین کے آنکھوں ہی آنکھوں میں منع کرنے کے باوجود عباد بنا لحاظ کیے ہوئے دوبارہ بولا جس پر رخشی شرمندہ ہوتی ہوئی کرسی سے اٹھی

“اچھا بیگم صاحبہ اب اجازت دیں میں چلتی ہوں”
رخشی اپنا سا منہ لےکر بولی اور ٹیبل پر رکھا شاپر اٹھاتی ہوئی وہاں سے جانے لگی جس پر نازنین افسوس کرتی ہوئی عباد کو دیکھنے لگی

“صرف کام کرنے کے اوقات میں یہاں آیا کرو فضول میں یہاں رش لگانے کی ضرورت نہیں ہے”
عباد کی آواز پر صرف ایک لمحے کے لئے رخشی کے قدم رکے پھر وہ تیز قدم تیز قدم اٹھاتی ہوئی وہاں سے چلی گئی

“انف عباد”
نازنین کے بولنے پر عباد نازنین کو گھورتا ہوا بولا

“شٹ اپ روم میں چلو”
عباد وہاں سے گھر کے اندر جا چکا تھا نازنین افسوس کرتی ہوئی عباد کے پیچھے جانے لگی


جاری ہے