No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
“مما کیا ہوا ہے آپ کو”
تھوڑی دیر پہلے نوری نے افراہیم کے کمرے میں آکر اس کو نازنین کی طبیعت خرابی کا بتایا تھا افراہیم فورا نازنین کے کمرے میں آتا ہوا نازنین سے پوچھنے لگا
“تم نے میری بات نہیں مانی نہ تمہارا گھر اپنی آنکھوں کے سامنے بستا ہوا دیکھ لیتی تو سکون آجاتا مگر اب وقت نہیں بچا میرے پاس، عباد کے پاس جانا ہے مجھے”
موسلا دھار بارش ہونے کی وجہ سے اچھی خاصی ٹھنڈک ہوچکی تھی مگر نازنین بیڈ پر پسینوں میں بھری لیٹی ہوئی افراہیم کو دیکھتی ہوئی بولی
“آپ پھر وہی باتیں کررہی ہیں جو مجھے ہرٹ کریں اچھا اٹھ کر بیٹھنے کی کوشش کریں”
افراہیم نازنین کو سہارا دیتا ہوا اسے بیڈ پر بٹھانے لگا وہ شروع سے ہی بہت نازک دل کی تھی ذرا سی طبیعت خراب ہونے پر بالکل ہی ہمت چھوڑ دیتی تھی اس وقت وہ یقینا گھبراہٹ محسوس کررہی تھی ایسا پہلی بار نہیں ہوا تھا افراہیم اس کو ڈاکٹر کے پاس لے جانے کا ارادہ رکھتا تھا
“میری بیلا کا بہت زیادہ خیال رکھنا”
نازنین بولتی ہوئی بند آنکھیں کھول کر افراہیم کو دیکھنے لگی اس وقت گھڑی رات کے تین بجا رہی تھی بیلا سوچکی تھی افراہیم نوری کو آواز دینے لگا تاکہ گلاب خان سے مین گیٹ کھولنے کا بول سکے
“جو کچھ ہوچکا ہے اس کے بارے میں اگر تم نے کسی سے بھی بات کی تو میں تمہارے ساتھ بار بار وہی کرو گا”
اپنے خواب میں بیلا کو وہی بھیانک آواز سنائی دی، ساتھ ہی دس سال پہلے والا منظر یاد آیا جب وہ اسے ہسپتال کے کمرے میں آکر دھمکا رہا تھا کہ اگر بیلا نے کسی کے سامنے اس کا نام لیا تو وہ بیلا کے ساتھ وہی سب کچھ دوبارہ کرے گا۔۔۔ اس وقت وہ ڈر گئی تھی تھوڑا بہت نہیں، بلکہ بہت زیادہ ڈر گئی تھی۔۔۔ اس تکلیف دہ عمل سے جو اس رات اس کے ساتھ کیا گیا تھا
“چھوڑ دو، چھوڑ دو مجھے میں نہیں بولو گے کسی سے کچھ بھی نہیں بولوں گی۔۔۔ پرامس نہیں بولوں گی مجھ سے دور رہو مجھے درد ہورہا ہے”
بیلا نیند سے جاگ کر بیڈ پر بیٹھتی ہوئی اس طرح چیخنے لگی جیسے وہ اس دن ہسپتال میں چیخ رہی تھی
“بھائی۔۔۔۔ بھائی پلیز مجھے بچالیں،، میرے پاس آجائیں۔۔۔۔ مما مما مما”
بیلا کے زور زور سے چیخنے پر جب اس کے پاس کوئی بھی نہیں آیا تو وہ ضرورت پڑنے پر عون کو کال ملانے لگی
“کیا ہوا بیلا تم ٹھیک ہو ناں”
پہلی ہی بیل پر کال ریسیو کرلی گئی تھی شاید عون پہلے سے ہی جاگا ہوا تھا
“ڈر لگ رہا ہے مجھے عون بہت زیادہ ڈر لگ رہا ہے۔۔۔ بھائی اور مما میرے پاس میرے کمرے میں نہیں آرہے ہیں۔۔۔ وہ آجائے گا دوبارہ،،،، مم۔۔۔ مار ڈالے گا مجھے گلا دبا کر”
بیلا موبائل کان سے لگائے ہوئے عون سے بولتی ہوئی باقاعدہ ڈر کے مارے کانپ رہی تھی۔۔۔ سالوں بعد آج پھر اس پر وہی کیفیت طاری ہو چلی تھی
“بیلا میری بات غور سے سنو تمہیں کوئی کچھ نہیں کہے گا،، نہ ہی تمہیں کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے۔۔۔ بالکل ریلیکس ہوجاؤ اور میری بات پر بھروسہ کرو میں تمہیں کچھ بھی نہیں ہونے دوں گا آئی پرامس”
عون اس کی آواز سے اندازہ لگا سکتا تھا وہ اس وقت بری طرح ڈری ہوئی تھی جبھی وہ اپنی پریشانی تھوڑی دیر کے لئے فراموش کرتا ہوا بیلا کو یقین دہانی کرواتا ہوا بولا
“تم ایسے کیسے بول سکتے ہو، تم اس کو نہیں جانتے تم کچھ بھی نہیں کرسکتے۔۔۔ کوئی بھی کچھ بھی نہیں کرسکتا۔۔۔ وہ بہت ظالم ہے اسے مجھ پر ترس نہیں آیا تھا، اسے مجھ پر بالکل بھی ترس نہیں آیا تھا اس رات”
بیلا روتی ہوئی بولی عون اس کی باتیں سن کر بالکل خاموش ہوگیا وہ شاید اس وقت اپنے حواسوں میں موجود نہیں تھی اسے کیا بولنا چاہیے تھا کیا نہیں اسے خود بھی احساس نہیں تھا
وہ رات کے اس پہر بیلا کی روتی ہوئی آواز سن رہا تھا ساتھ ہی ڈرائیونگ بھی کر رہا تھا۔۔۔ عون نے اس کو رونے دیا تھا جب بیلا رو رو کر ہلکان ہوکر چپ ہوگئی تب عون اس سے بولا
“تمہیں میری ضرورت محسوس ہو یا نہ ہو میں پھر بھی تمہیں کبھی اکیلا نہیں چھوڑوں گا، میں نے تم سے وعدہ کیا ہے تمہیں میرے وعدے پر یقین کرنا پڑے گا پلیز آپ مزید رو رو کر خود کو ہلکان نہیں کرو اور سونے کی کوشش کرو”
عون نرمی سے بیلا کو سمجھاتا ہوا بولا
“اب نیند نہیں آئے گی مجھے”
بیلا کھوئے کھوئے لہجے میں حقیقت بیان کرتی ہوئی بولی۔۔۔ اب وہ آہستہ آہستہ تھوڑی دیر پہلے طاری اپنی کیفیت سے باہر نکل کر نارمل ہورہی تھی
“بےشک مت سوؤں مگر اپنی آنکھیں بند کر لو۔۔۔ ذہن سے ساری فضول سوچیں نکال کر اپنے مائنڈ کو ریلیکس کرو”
عون کار ڈرائیونگ کے دوران بیلا سے بولا
“یقینا تم کال رکھنا چاہتے ہوگے تاکہ سکون سے اپنی منزل تک پہنچ سکو”
بیلا اندازہ لگاچکی تھی وہ اس وقت کار ڈرائیو کررہا تھا مگر وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس وقت عون رابطہ منقطعہ کرے کیوکہ اس وقت بیلا کو عون کی ضرورت تھی
“میں تم سے بات کرنے کے ساتھ بھی اپنی منزل تک پہنچ سکتا ہوں، تم جب تک چاہو مجھ سے بات کرسکتی ہو”
عون بیلا سے بولا تو وہ ایک پل کے لیے خاموش ہوگئی دوسری طرف عون بھی خاموش تھا وہ بیلا کے بولنے کا انتظار کرنے لگا ورنہ اکثر باتوں کا سلسلہ ختم ہونے پر وہی نئی بات کا آغاز کیا کرتا تھا
“تم اتنی رات میں ڈرائیو کیو کررہے ہو میرا مطلب ہے تم کہاں جارہے ہو”
بیلا عون سے سوال کرتی ہوئی پوچھنے لگی موبائل کو کان پر لگائے وہ دوبارہ بیڈ پر لیٹ چکی تھی
“کہو تو تمہارے پاس آجاؤ،، اگر تم ایسا چاہو گی تو میں ایسا کرنے کے لئے تیار ہوں”
عون کے سنجیدگی سے بولنے پر بیلا کے ماتھے پر شکنیں پڑی
“شٹ اپ عون ہر وقت مذاق مت کیا کرو”
بیلا جانتی تھی وہ اس کے شہر کا رہنے والا نہیں ہے۔۔۔ وہ صرف مزاق میں ایسے بول رہا تھا اس لیے بیلا اس کو ٹوکتی ہوئی بولی
“تم میری ہر بات کو مذاق میں لیتی ہو تو اب کیا کیا جاسکتا ہے جبکہ میں نے تم سے بالکل بھی مذاق میں ایسا نہیں بولا”
عون بیلا سے بولا تو وہ اس کی بات سن کر چپ رہی
“کیا ہوا میری کسی بات کو برا لگ گیا”
جب بیلا کچھ بھی نہیں بولی تو تھوڑے وقفے کے بعد ڈرائیونگ کرتا ہوا وہ بیلا سے پوچھنے لگا
“ڈرائیونگ کا اصول یہ ہے کہ ڈرائیونگ خاموش رہ کر اور توجہ سے کرنی چاہیے چپ رہ کر کار ڈرائیو کرو”
بیلا کے ڈانٹنے والے انداز پر اس کے ہونٹوں کو مسکراہٹ نے چھوا
“ڈرائیونگ کے دوران تو موبائل بھی یوز نہیں کرنا چاہیے مجھے یاد پڑتا ہے میں نے ایسا اصول بھی پڑا ہے”
عون کل لہجہ بالکل سنجیدہ تھا وہ بیلا سے پوچھنے لگا
“اگر تم نے اس وقت میری کال کاٹی تو پھر آئندہ کبھی اپنا موبائل مجھے کال ملانے کے لیے یوز مت کرنا”
بیلا نے بہت سیریس ہوکر اس کو دھمکی دی
“شکریہ”
عون کے شکریہ بولنے پر بیلا پہلے کنفیوز ہوئی پھر اس سے پوچھنے لگی
“کس بات کا”
بیلا ناسمجھنے والے انداز میں عون سے پوچھنے لگی
“اس وقت مجھے اپنی ضرورت سمجھنے کے لئے۔۔۔ تم نہیں جانتی اس وقت میں خود کو کتنا اکیلا محسوس کررہا تھا، بالکل اکیلا ہوچکا ہوں میں بہت اکیلا”
اس کی آواز میں درد ہے جو بیلا محسوس کرسکتی تھی،، آج اس نے عون کو اپنی ضرورت نہیں بنایا تھا بلکہ خود اس کی ضرورت بن گئی تھی
افراہیم کار ڈرائیو کرتا ہوا نازنین کو واپس گھر لارہا تھا لیکن اس وقت نازنین کسی بت کی مانند خاموش فرنٹ سیٹ پر بیٹھی ہوئی تھی وہ اس وقت مکمل طور پر (inxiety) میں چلی گئی تھی افراہیم جانتا تھا کہ یہ کیفیت نازنین پر چند گھنٹے یا پورے دن تک طاری رہے گی۔۔۔ پہلے یہ کیفیت مہینے دو مہینے بعد اس پر حملہ آور ہوتی تھی مگر اب کی بار ہفتے بعد ہی نازنین کی یہ کیفیت دیکھ کر افراہیم نازنین کے لیے مزید فکرمند ہوگیا تھا
وہ محسوس کررہا تھا کہ نازنین کے لئے مستقل طور پر ایک نرس یا پھر کیئر ٹیکر ہونی چاہیے جو ہر وقت اس کے ساتھ موجود ہو اور نازنین کی اچھے طریقے سے دیکھ بھال کرسکے کیونکہ نوری کا روز روز اپنے گھر سے یہاں آکر ٹہرنا مشکل تھا اور دوسرا نوری کی اپنی عمر ایسی نہیں تھی جو وہ نازنین کو اچھی طرح سنبھال پاتی۔۔۔ رہا بیلا کا سوال تو نازنین کی بگڑتی حالت دیکھ کر بیلا کی اپنی حالت خراب ہوجاتی۔۔۔ افراہیم نے کار ڈرائیو کرتے ہوۓ نازنین کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا وہ نہ ہی چونکی تھی نہ ہی اس نے افراہیم کی طرف دیکھا۔۔۔ افراہیم لمبی سانس کھینچ کر دوبارہ ڈرائیونگ کی طرف متوجہ ہوا
“کب سے ہارن پر ہارن دئیے جارہا ہوں تم سوگئے تھے کیا”
گلاب خان جیسے ہی گیٹ کھولنے کے لئے آیا تو افراہیم اس کو جھڑکتا ہوا بولا
“سو نہیں رہا تھا صاحب جی بس ایک مسئلہ آگیا تھا معافی چاہتا ہوں آپ کو انتظار کرنا پڑا”
گلاب خان معذرت خواہ انداز میں افراہیم سے بولا وہ جانتا تھا تھوڑی دیر پہلے جو بےوقوفی اس سے سرزد ہوئی تھی افراہیم سے اس کی شامت یقینی ہے۔۔۔۔ افراہیم کے اپنے مسائل بہت تھے اسلئے اسے گلاب خان کے مسئلے میں ذرا سی بھی دلچسپی نہیں لی تھی۔۔
افراہیم گیٹ سے اندر کی طرف کار لاچکا تھا مگر گھر کی دیوار کے پاس شیلٹر کے نیچے پیچ کلر کے کپڑوں میں ایک نسوانی وجود جو دروازے کے پاس بیٹھا ہوا تھا، افراہیم اسے دیکھ کر بری طرح چونکا، کار پارک کرتا ہوا وہ نازنین کو کار میں بیٹھا چھوڑ کر باہر نکلا اور چلتا ہوا اس لڑکی کے پاس آیا جو اس کے گھر کے دروازے کے پاس نیچے فرش پر گھٹنوں میں اپنا سر رکھ کر بیٹھی ہوئی تھی
“کون ہے یہ لڑکی اور اندر کیسے آئی”
گلاب خان کو اپنے پیچھے آتا ہوا دیکھ کر افراہیم کڑے تیوروں سے گلاب خان کو گھورتا ہوا اس سے سوال پوچھنے لگا
“صاحب یہ بچی کسی سے بہت زیادہ ڈری ہوئی تھی،، روتی ہوئی مجھ سے اس نے تھوڑی دیر کے لئے پناہ مانگی تھی۔۔۔ میرے آگے ہاتھ بھی جوڑ رہی تھی تو میں نے اس کو تھوڑی دیر کے لئے اندر آنے کی اجازت دے دی۔۔۔۔ اس وقت بارش بھی کافی تیز ہورہی تھی جس سے بچنے کے لئے بےچاری یہاں بیٹھ گئی”
گلاب خان افراہیم کو بتاتا ہوا اب اپنی آنے والی شامت کا انتظار کرنے لگا
“تمہاری تو میں ساری خدا ترسی ابھی اچھی طرح سے نکالتا ہوں پہلے ذرا اس لڑکی کی خبر لےلو” افراہیم گلاب خان کو جھڑکتا ہوا دوبارہ اس لڑکی کی طرف بڑھا جو ابھی بھی گھٹنوں میں سر رکھے اسی پوزیشن میں بیٹھی ہوئی تھی
“اے لڑکی تم جو بھی کوئی ہو اب بارش تھم چکی ہے اس لیے فورا نکلو یہاں سے، یہ میرا گھر ہے کوئی پناہ گاہ نہیں۔۔۔۔ کیا تم بیٹھے سوگئی ہو سنائی نہیں دے رہا تمہیں میں کیا بک رہا ہوں”
وہ لڑکی جب اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہیں ہوئی تب افراہیم نے آخری جملہ بڑے غصے میں تیز آواز میں بولا۔۔۔ ڈرتا ہوا گلاب خان ایک بار پھر گویا ہوا
“یہ بچی بےہوش ہوچکی ہے صاحب جی”
گلاب خان کی بات سن کر افراہیم حیرت سے دوبارہ گلاب خان کو دیکھنے لگا اور گلاب خان سر جھکاتا ہوا افراہیم سے بولا
“اس کو اپنے گھر پر کال کرنا تھی اپنی خیریت بتانے کے لئے تو میں نے اس کو اپنا موبائل دے دیا جس کے بعد یہ بچی امی امی بولتی ہوئی زور زور سے رونے لگی اور پھر بےہوش ہوگئی”
گلاب خان اسے مکمل بات بتاتا ہوا دوبارہ خاموش ہوچکا تھا وہ ایسے ہی افراہیم کے سامنے سر جھکائے ہوئے اپنی ڈانٹ پڑنے کا انتظار کرنے لگا
“تمہارا دماغ تو نہیں چل گیا ہے گلاب خان میرے پیچھے تم میرے گھر میں کیا تماشے کرتے پھر رہے ہو، کسی انجان لڑکی کو گھر میں داخل کرکے اس کو اپنے ہی موبائل سے کال کرنے دے رہے ہو تاکہ وہ یہاں اپنے ساتھیوں کو بلاکر پورے گھر کا صفایا کر ڈالے،، تمہیں اپنی نوکری سے پیار ہے کہ نہیں”
افراہیم غصے میں گلاب خان کو کھری کھری سناتا ہوا بولا کیونکہ اس طرح کی واردات عام ہوچکی تھی۔۔ یہ لڑکی جس کا چہرہ اس نے ابھی تک نہیں دیکھا تھا افراہیم کو کوئی مشکوک ہی لگ رہی تھی وہ گلاب خان کو اس کی بیوقوفی پر اسی وقت نوکری سے نکال دیتا مگر جانتا تھا نازنین بعد میں اس سے اس بات پر خفا ہوگی اور گلاب خان کے گھر کی مجبوریاں سناکر اسے دوبارہ نوکری پر رکھ لے گی
“تم ابھی تک یہاں پر بیٹھی ہوئی کیا کررہی ہو سنا نہیں تم نے، ڈرامہ بند کرو اور نکلو یہاں سے”
افراہیم نے صرف بولا ہی نہیں تھا بلکہ بازو سے پکڑ کر اس لڑکی کو کھڑا کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں وہ لڑکی فرش پر ایک طرف ڈھلک گئی،، وہ لڑکی ڈرامہ نہیں کررہی تھی بلکہ سچ میں بےہوش تھی افراہیم غور سے اس کا چہرہ دیکھنے لگا جو اس کو کچھ کچھ مانوس سا لگا
“کیا مصیبت ہے یار گلاب خان کس نمبر پر اس لڑکی نے کال ملائی تھی ملا کردو مجھے”
افراہیم بےہوش پڑے وجود پر بیزار سی نظر ڈالتا ہوا جھنجھنلا کر بولا، جس پر گلاب خان جلدی سے وہی نمبر ڈائل کرنے لگا جس پر تھوڑی دیر پہلے اس لڑکی کی بات ہوئی تھی
“میں نے تمہیں خالہ کے انتقال کی خبر اس لیے نہیں بتائی تھی کہ تم وہاں اکیلی پریشان ہوجاؤ،، تمہارا بھائی یہاں سے جاچکا ہے کاش کہ تم مجھ سے دوپہر میں رابطہ کرلیتی،، مگر اب کیا ہوسکتا ہے۔۔۔ اور وہ تمہارا لفنگا چچا زاد تمہارے یہاں واپس آنے پر تم ہرگز نہیں چھوڑے گا،، میری مانو تو تم جہاں پر ہو چند دنوں کے لیے وہی قیام کرلو تمہارے یہاں آنے پر تمہاری عزت بالکل محفوظ نہیں رہے گی ویسے بھی اب بچا ہی کیا ہے تمہارا یہاں پر”
کال ریسیو ہوتے ہی ایک لڑکی نے بولنا شروع کردیا جس کے بعد افراہیم نے بنا کچھ بولے کال کاٹ دی۔۔۔ وہ دوبارہ بےہوش ہوئی اس لڑکی کو دیکھنے لگا
کال والی لڑکی کی باتوں سے اسے کچھ کچھ قصہ سمجھ آرہا تھا۔۔۔ چند منٹ پہلے افراہیم کو وہ لڑکی مصیبت محسوس ہورہی تھی لیکن شاید وہ خود کسی مصیبت کا شکار تھی اور اس لڑکی کی ماں اب اس دنیا میں نہیں رہی تھی اور یہ لڑکی اسی غم میں بےہوش ہوچکی تھی
“اسے اٹھاکر گیسٹ روم میں لے آؤں”
افراہیم گلاب خان سے بولتا ہوا نازنین کے پاس چلا آیا جو ابھی تک کار میں خاموش بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔ نازنین کو اس کے کمرے میں لٹانے کے بعد وہ دوبارہ باہر آیا تو گلاب خان ابھی بھی اس لڑکی کو ہوش میں لانے کی کوشش کررہا تھا
“اگر یہ اپنے حواسوں میں نہیں آرہی ہے تو اسے اٹھا کر گیسٹ روم میں لے جاؤ۔۔۔ کیا تم صبح تک یہاں کھڑے اس کا بازو ہلاتے رہوگے”
افراہیم گلاب خان کی حرکت پر چڑتا ہوا بولا
“اس بچی کو میں کیسے اٹھاسکتا ہوں صاحب جی”
گلاب خان کی بات سن کر افراہیم اس کو آنکھیں دکھاتا ہوا پوچھنے لگا
“تو کیا میں گود میں اٹھا کر گیسٹ روم میں لےکر جاؤ اس بچی کو”
افراہیم کی بات پر گلاب خان شرمندہ ہوا افراہیم بیزار ہوتا ہوا اس لڑکی کے معصوم چہرے کو دیکھنے لگا آخر کون تھی یہ؟؟
“آپ اٹھالیں گے تو مہربانی ہوگی صاحب جی۔۔۔ میرا مطلب ہے میرا دائیاں بازو بڑا درد کررہا ہے شام سے ہی، آپ اٹھالیں میں بھی مدد کیے دیتا ہو تھوڑی سی آپکی”
گلاب خان افراہیم کے چہرے پر بےزار تاثرات دیکھتا ہوا بولا
“اپنی مدد آپ اپنے پاس رکھو اور گیٹ پر جاؤ”
افراہیم گلاب خان سے کرخت لہجے میں بولتا ہوا اس کے بےہوش وجود کی طرف بڑھا جس کے کپڑے گیلے ہوکر بدن سے چپک چکے تھے
“مصیبت”
افراہیم بڑبڑاتا ہوا اس کے پھول جیسے نازک وجود کو بازوؤں میں اٹھاچکا تھا
ایک بار پھر وہ اس لڑکی کا چہرہ غور سے دیکھنے لگا جو کہ شناسا لگنے کے باوجود اس کو یاد نہیں پڑ رہا تھا کہ اس لڑکی کو پہلے کہاں دیکھا ہے۔۔۔ جب افراہیم نے اس کو بیڈ پر لٹایا تو افراہیم کی نظریں اس لڑکی کے خوبصورت سراپے پر پڑی،، شکل اور عمر سے وہ کم عمر اور ماڈرن لڑکی لگتی تھی۔۔۔ بغیر آستین کے اس کے سفید بازو اور گہرے گلے سے نظر آتے اس کے خوبصورت خدوخال اس کے حسن کو اور بھی زیادہ واضح کر رہے تھے افراہیم اس لڑکی کا چہرا دیکھتا ہوا کمرے کا دروازہ بند کرکے اپنے کمرے کی طرف چلاگیا
جاری ہے
