No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
“ارے میری رانی دلبر جانی آج پھر اپنے عدی کے ہاتھ لگ ہی گئی”
نثار اور غزل اس وقت گھر پر موجود نہیں تھے رخشی تھوڑی دیر پہلے ہی سوئی تھی نوف ابھی اسکول سے گھر آئی تھی اور صحن میں تخت پر بیٹھی ہوئی کھانا کھا رہی تھی دو دن سے اس کا معدہ اپ سیٹ تھا الٹیوں کا سلسسلہ آج ہی رکا تھا۔۔۔ تب عدنان دوسرے کمرے سے نکلتا ہوا اس سے بولا نوف عدنان کو دیکھ کر کھانے کے برتن اٹھاتی ہوئی خاموشی سے وہاں سے جانے لگی تب عدنان نے اس کا ہاتھ پکڑا
“جا کہاں رہی ہے جانے سے پہلے اتنا تو بتادے اپنے عدی کا دل کب خوش کرے گی،، وہ افسر کا بیٹا تو جاتے جاتے تجھ سے کھیل ہی چکا ہے اب اپنے عدی کو بھی موقع دے دے تاکہ وہ غریب بھی تھوڑا بہت اپنا دل بہلا سکے”
عدنان کمینگی کی حدیں پار کرتا ہوا نوف سے بولا جس پر نوف ملامت بھری نظروں سے اسے دیکھنے لگی عدنان اس سے کس قدر واہیات باتیں کررہا تھا اسے اب یہ ساری باتیں سمجھ آنے لگی تھی
“میرے ابو جی آپ کے تایا تھے ابھی دو دن پہلے پہ ان کا چالیسوں ہوا ہے آپکو شرم نہیں آرہی اس قدر غلیظ اور گھٹیا بات کرتے ہوۓ اسی تایا کی بیٹی سے”
نوف عدنان کے سامنے جرت کرتی ہوئی بولی جس دن قیوم ازلان سے مل کر آرہا تھا اس دن گاڑی کے ایکسیڈینٹ سے قیوم اپنی زندگی کی بازی ہار گیا تھا جو پیسے اس نے ازلان کے وکیل کے لیے جمع کیے تھے وہ اسی کے کفن دفن میں استعمال ہوگئے تھے
“تیرے بھائی کو شرم آئی اس افسر کی بیٹی کی عزت لوٹتے ہوئے، سالا پڑھاکو شرافت کے آڑھ میں جانے کہاں کہاں منہ مارتا رہا جس کے بدلے میں اس افسر کے بیٹے نے تجھے بھی رگڑ ڈالا اور میں سالا الو کا پٹھہ خالی ہاتھ ملتا رہ گیا”
عدنان غصہ میں بولا تو نوف اسکا ہاتھ جھٹک کر احتجاجا چیخ اٹھی
“میرے بھائی نے کچھ نہیں کیا بےگناہ ہے وہ”
نوف کا اپنا بھی دامن داغدار نہیں تھا اور یہ بات وہ رخشی کو بتاچکی تھی اسے کوئی لینا دینا نہیں تھا جو کوئی بھی اس کے بارے میں کچھ بھی سوچتا مگر ازلان کے بارے میں ایسی باتیں اس سے برداشت کرنا مشکل ہوجاتا۔۔۔ نوف کے غصہ کرنے پر عدنان نے اس کے بالوں سے پکڑا
“میرے آگے تیری چیوٹی کی اوقات ہے لیکن اب تیرے پر نکلنے لگے ہیں، چھوٹی سی عمر میں اپنا سب کچھ لٹاکر بھی میری نظروں میں نظریں ڈالے گی کہاں سے آرہی ہے تجھ میں اتنی ہمت بتا مجھے۔۔۔ کل سے تو اسکول نہیں جاۓ گی اب تیری پڑھائی کا سلسلہ بند”
عدنان نوف کے بالوں کو جھٹکا دیتا ہوا غصے میں چیخا
“عدنان چھوڑ اس کو، تو ہوتا کون ہے اس کو پڑھنے سے روکنے والا”
نثار گھر کے اندر داخل ہوتا ہوا عدنان سے غصے میں بولا تو نثار کے پیچھے آتی ہوئی غزل بھی بول اٹھی
“صحیح تو کہہ رہا ہے عدی، یہاں پر کھانے کے لالے پڑ رہے ہیں گھر میں دو افراد کے بڑھنے سے کتنی تنگی ہوگئی ہے اور یہ لڑکی تو اپنی عزت بھی گنوا چکی ہے پھر پڑھ لکھ کر اس کو کون سا تمغہ جرت لینا ہے”
غزل حقارت سے نوف کو دیکھتی ہوئی بولی، رخشی بھی سر پر چادر اوڑھ کر شور و غل کی آواز پر کمرے سے باہر آکر خاموشی سے تماشہ دیکھنے لگی
“تو نے کب سے آئینے سے اپنی نظریں ہٹاکر گھر داری کرنا شروع کردی جو تجھے معلوم ہو چلا ہے گھر میں کھانے کے لالے پڑ رہے ہیں،، کان کھول کر سن لو تم دونوں ماں بیٹے۔۔۔ بھابھی اور نوف سے تم لوگوں میں سے جس کسی کو تکلیف ہوئی تو وہ بےشک گھر چھوڑ کر چلا جاۓ۔۔ یہ پڑھے گی اور اس کو میں پڑھاؤں گا چاہے اس کے لیے مجھے دو کی بجائے تین تین نوکریاں کرنا پڑے۔۔۔ میرا بھائی زندہ نہیں رہا مگر اس کی بیوی اور بیٹی کو دربدر نہیں ہونے دوں گا میں۔۔۔ اور گل گھر پر آئے تو اس کو بھی سمجھا دینا محلے میں جاکر الٹی سیدھی باتیں کرنا بند کردے ورنہ مجیدے کے بیٹے سے کل ہی اس کا نکاح پڑھوا کر اس گھر سے رخصت کروں گا اس کو بھی”
نثار غزل اور عدنان کو تنبہیی کرتا ہوا گھر سے باہر نکل گیا قیوم کے مرنے کے بعد وہ مستکل مزاجی سے ٹک کر ایک کی بجاۓ دو دو نوکریاں کررہا تھا اور نوف کی پڑھائی کا سلسلہ بھی اسی نے جاری رکھا تھا بس ازلان کے لیے وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر پایا تھا
“مجیدے کے اس اپاہج بیٹے سے میری گل کی شادی کرواۓ گا، کیڑے پڑے ایسے باپ کو۔۔۔ ارے ایسا کیا غلط بول دیا اس نے رفیعہ کو جاکر یہی تو بولا ہے گھر آکر میری تایازاد کا چیک اپ کرلو نہ جانے کون سا مہینہ ہے کیسے بھر بھر کے الٹیاں کر رہی ہے۔۔۔ اب افسروں کی ناجائز اولاد بھی ہم ہی پالیں”
غزل زور زور سے بول کر دل کی بھڑاس نکالتی ہوئی کمرے میں چلی گئی جبکہ نوف خاموش کھڑی رخشی کو دیکھنے لگی۔۔۔ اسے جی بھر کر افراہیم سے نفرت ہو چلی تھی جس کے غصے اور انتقام نے اس کو کہیں کا نہیں چھوڑا تھا سب کو ہی اس کی پاکدامنی پر شک تھا وہ اوپر والے سے دعا کرنے لگی کہ آگے زندگی میں کبھی بھی اس مغرور اور ظالم لڑکے سے اس کا سامنا نہ ہو
یوم آزادی کے دن سینٹرل جیل میں منعقد کردہ تقریب کی وجہ سے جشن کا سماں تھا ملی نغموں کی آوازیں جیل کی چاردیواری میں گونج رہی تھی تبھی سپاہی وہاں موجود سارے قیدیوں سے بلند آواز میں بولا
“اوئے چلو سب قطار کی صورت بیٹھ جاؤ کمشنر صاحب تقریر کرنے آرہے ہیں تھوڑی دیر میں”
سارے قیدیوں کے ساتھ ازلان بھی تیسری قطار میں بیٹھ گیا کمشنر امان اللہ کے آنے پر حمد و ثنا کا آغاز ہوا، تب کمشنر امان اللہ کی نظر تیسری لائن میں بیٹھے اس لڑکے پر پڑی جو کافی دیر سے بغیر پلکیں جھپکائے اسے دیکھ رہا تھا اس کی نگاہوں میں ایسا کچھ تھا کہ کمشنر امان للہ نے اپنی پشت پر کھڑے سب انسپکٹر کو اشارہ کرکے بلایا
“اوۓ تو کیا ہیرو بنا ہوا دور سے کمشنر صاحب کو تاڑ رہا ہے اپنی آنکھیں نیچی کر لے ورنہ پھور ڈالوں گا تیرے ان دیدوں کو”
انسپکٹر آفاق ازلان کے پاس آکر سرگوشی میں دانت پیس کر اس سے بولا
“مجھے کمشنر صاحب سے اکیلے میں ضروری بات کرنا ہے کچھ بتانا ہے انہیں”
ازلان انسپکٹر آفاق کو اس کے جواب میں بولا
“ابے اوۓ آج کمشنر صاحب مشکل سے دس منٹ کے لئے اپنا قیمتی ٹائم نکال کر آئے ہیں تو ان کا انٹرویو لینا چاہ رہا ہے، دیکھ میں بتا رہا ہوں اب آنکھیں نیچے کرکے بیٹھ ورنہ تیری چمڑی ادھیڑ ڈالوں گا”
انسپکٹر آفاق غصے میں ازلان کو جھاڑتا ہوا بولا اور دوبارہ اسٹیج پر چلاگیا ازلان نے اس کی بات کا اثر لیے بنا دوبارہ کمشنر امان اللہ کی طرف خاموشی سے دیکھنا شروع کر دیا
“کیا کہہ رہا ہے وہ لڑکا”
ازلان کے دوبارہ دیکھنے پر کمشنر امان اللہ بھی ازلان کو دیکھتا انسپکٹر آفاق سے پوچھنے لگا
“کمشنر صاحب شاید اس لڑکے کی کھال مصالا مانگ رہی ہے بول رہا ہے اکیلے میں بات کرنا ہے آپ سے”
انسپکٹر آفاق ازلان کا پیغام دیتا ہوا بولا آفاق جانتا تھا محدود ٹائم کی وجہ سے کمشنر صاحب اس لڑکے کی عرضی رد کردیں گے مگر اسے حیرت تب ہوئی جب کمشنر امان اللہ نے ازلان کو اکیلے میں حاضر ہونے کا پیغام بھجوایا
“بولو کیا کہنا چاہ رہے تھے تم”
ازلان کمرے میں اجازت لےکر اندر آیا سلام کے جواب کے بعد کمشنر امان اللہ ازلان سے بولا اور اسے اپنے سامنے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا
“میں جانتا ہوں آپ کا وقت بہت قیمتی ہے اس لیے بغیر وقت ضائع کئے میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں جس ٹرک میں قیدیوں کے لئے مہینے بھر کا راشن یہاں آتا ہے کل صبح پانچ بجے اس ٹرک میں شرفو، کالیہ، امجد اور نیاز فرار ہونے والے ہیں۔۔۔ ان چاروں کی ٹرک ڈرائیور سے ڈیلنگ ہوچکی ہے”
ازلان کی دی گئی انفارمیشن پر کمشنر کچھ سوچتا ہوا ازلان سے بولا
“اگر یہ معلومات تم مجھے فراہم کرنے کی بجاۓ ان چاروں کو اعتماد میں لےکر اپنے فرار ہونے کی بھی ڈیلینگ کرلیتے تو وہ لوگ ممکن تھا تمہیں بھی اپنے ساتھ شامل کرکے جیل سے بھگا لیتے،، کیا تمہارے دل میں ایسا خیال نہیں آیا”
کمشنر اس لڑکے کو دیکھ کر سوال کرنے لگا جو عمر میں زیادہ بڑا نہیں صرف اٹھارہ سال کا دکھتا تھا
“سب سے پہلے یہی خیال آیا تھا لیکن پھر بعد میں نے سوچا میرے جیل سے فرار ہونے سے بہتر ہے ان چاروں کا اس چار دیواری کے اندر رہنا اور اپنی سزا مکمل کرنا۔۔۔ کیوکہ ان چاروں کے جرم اتنے چھوٹے نہیں ہیں کہ وہ چاروں اپنی سزا پوری کیے بناء جیل سے فرار ہوجاۓ”
ازلان کمشنر کو ان چاروں قیدیوں کے جرم بتانے لگا جس کے جرم میں وہ سزا کاٹ رہے تھے
“اور تم یہاں پر کس جرم کی قید میں سزا کاٹ رہے ہو”
کمشنر ازلان کے بات بہت غور سے سننے کے بعد اس سے سوال کرنے لگا
“نو سال کی بچی کا ریپ کرنے کا کیس مجھ پر بنایا گیا ہے”
ازلان کمشنر کو دیکھ کر سنجیدگی سے بتانے لگا
“کیا تم نے اس بچی کے ساتھ زیادتی کی تھی”
کمشنر غور سے ازلان کو دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
“ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ کو کون چیلنج کرسکتا ہے ان رپورٹس سے یہ ثابت کردیا گیا تھا کہ اس لڑکی کے ساتھ زیادتی کرنے والا لڑکا میں ہی ہوں”
ازلان تلخی سے بولا تو کمشنر نے ایک ایک کرکے ازلان سے کئی سوالات پوچھے جن کا جواب ازلان اسے دیتا گیا جس سے کمشنر نے اندازہ لگایا کہ سامنے بیٹھے اس لڑکے کو ریپ کے کیس میں پھنسایا گیا تھا کیونکہ جس لیبٹری سے ڈی این اے ٹیسٹ کیا گیا تھا،، دو نمبر اور جعلی رپورٹ تیار کرنے کی وجہ سے وہ لیبٹری ایک ماہ پہلے ہی سیل کردی گئی تھی
“ازلان کیا تم اب بھی آگے اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھنا چاہو گے”
کمشنر امان اللہ ازلان کے بارے میں تفصیل سے جاننے کے بعد اس سے پوچھنے لگا تو ازلان تعجب سے اسے دیکھنے لگا
“میری تعلیم آپ کو کیا فائدہ پہنچا سکتی ہے”
ازلان اپنے دماغ میں اٹھتا ہوا سوال زبان پر لایا تو کمشنر مسکرا کر اس سے بولا
“مجھے نہیں مگر اس ملک کو تو فائدہ دے سکتی ہے، تم جیسے نوجوان اس ملک کا مستقبل ہو اگر آج میں نے تمہیں یہاں رلتا ہوا چھوڑ دیا تو میرا ضمیر مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا۔۔۔ اتفاق سے میرا بیٹا تمہارے ہی برابر ہے آج میں اس کے لئے یہ ایڈمیشن فارم لےکر گھر جانے والا تھا اگر تم خود کو اس کا اہل سمجھتے ہو تو اس فارم کو فل کرسکتے ہو”
کمشنر امان اللہ کے بڑھائے ہوئے ایڈمیشن فارم کو ازلان نے کھول کر دیکھا تو وہ آرمی آف کیدٹ کالج کا فارم تھا۔۔۔ ازلان نے نظر اٹھاکر کمشنر کو دوبارہ دیکھا تو وہ ازلان کے چہرے کے تاثرات ہی جانچ رہا تھا۔۔۔ ازلان وقت ضائع کئے بنا ٹیبل پر رکھے ہوئے قلم سے فارم فل کرنے لگا
“جو راہ تم نے اپنے لیے منتخب کی ہے اس کی منزل کا حصول اتنا آسان نہیں ہے لیکن میں تم سے امید رکھتا ہوں کہ تم آنے والی ہر مشکلات کو فیس کرلو گے بس اپنے ارادے میں ہمیشہ پختگی رکھنا۔۔۔ مجھے یقین ہے کرنل صفدر کے تعاون، کیپٹن شبیر کی رہنمائی اور پانچ سال کی تمہاری ٹریننگ رائیگاں نہیں جائے گی بلکہ وہ تمہیں اندر تک تراش دے گی اور آنے والی زندگی میں تمھیں اپنے مقاصد کا خود بتا دے گی”
کمشنر امان اللہ بولتا ہوا کمرے سے نکل گیا اسے ازلان کی آنکھوں میں سچائی دکھی تھی وہ چاہتا تو خود بھی ان قیدیوں کے ساتھ فرار ہوسکتا تھا مگر اس کی سوچ جاننے کے بعد کمشنر امان اللہ نے فیصلہ کرلیا کہ وہ اس لڑکے کو تراش خراش کر مزید اسے اچھا انسان بناۓ گا۔۔۔۔ ازلان فل کیے ہوئے کیڈٹ کالج کے فارم کو دیکھنے لگا،، جسکی یہ برانچ مری میں موجود تھی یعنی اسے اس جگہ کو چھوڑ کر مری شفٹ کیا جاۓ گا۔۔۔ جیل میں گزرے ہوۓ ان چھ ماہ میں پہلی بار اس کے ساتھ کچھ اچھا ہوا تھا،
اسے ایک امید کی جھلک نظر آئی
“چھوڑ دیں بابا پلیز مجھے چھوڑ دیں”
عباد بیلا کو بازو سے پکڑ کر اس کی فریاد سنے بغیر ڈائیننگ ہال سے باہر لے جارہا تھا بیلا مسلسل روتی ہوئی عباد سے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش میں لگی ہوئی تھی
“کیا ہوگیا ہے عباد آپ کو رحم کرے اس پر وہ ہماری بیٹی ہے”
نازنین خود بھی روتی ہوئی عباد کے پیچھے پیچھے آتی ہوئی بولی تو عباد غصے میں اس کی طرف مڑا
“بیٹی ہے تو کیا یہ جان لے لے گی ہماری، دیکھا نہیں تم نے دن بدن اس کی حرکتیں پاگلوں کی طرح ہوتی جارہی ہیں،،، اس سے پوچھو یہ کب تک اپنا منہ چھپا کر بند کمرے میں چھپی رہے گی۔۔۔۔ سال بھر گزر چکا ہے یہ نارمل کب ہوگی اب لوگ نوٹ کرنے لگے ہیں جن کو نہیں معلوم ان کو بھی معلوم ہوجائے گا کہ کس طرح کی ذلت ہمارے مقدر میں لکھی جاچکی ہے۔۔۔ اب میں مزید اسے اس گھر میں نہیں رکھوں گا، یہ بورڈنگ جارہی ہے اب یہ وہی رہے گی اور وہی پڑھے گی”
عباد غصے میں چیختا ہوا بولا بیلا اور نازنین دونوں ہی کھڑی ہوئی رو رہی تھی تب ہال میں افراہیم داخل ہوا وہ عباد کی باتیں سن چکا تھا
“بیلا کہیں نہیں جائے گی بابا یہ گھر میں ہی رہے گی اپنی فیملی کے ساتھ”
افراہیم روتی ہوئی بیلا کو دیکھنے کے بعد عباد کو دیکھتا ہوا بولا
“تم بیچ میں مت بولو افراہیم اور اپنی اسٹیڈیز پر توجہ دو”
عباد کو افراہیم کا اس معاملے میں مداخلت کرنا پسند نہیں آیا جبھی وہ افراہیم کو ٹوکتا ہوا بولا
“میں اپنی اسٹڈیز پر ہی توجہ دے رہا تھا اس بات کو فراموش کرکے میری بہن کو میری توجہ کی ضرورت ہے، سال بھر پہلے جو اس کے ساتھ ہوا وہ آپ بھول سکتے ہیں مگر وہ سب کچھ اس نے سہا ہے برداشت کیا ہے۔۔ وہ سب کچھ یہ اتنی آسانی سے نہیں بھول سکتی، آپ اسے ہم سے دور کرکے بالکل اکیلا کردیں گے بابا اس طرح یہ کبھی نارمل نہیں ہوپائے گی، میں آپ سے پرامس کرتا ہوں آج کے بعد یہ اپنے کمرے میں چھپ کر نہیں بیٹھے گی اور یہ اپنی اسٹڈیز بھی کنٹینیو کرے گی اور اب یہ پہلے کی طرح نارمل لائف گزارے گی میں اسے دوبارہ زندگی کی طرف لےکر آؤں گا لیکن اس کے لیے کچھ وقت لگے گا۔۔۔ یہ بالکل پہلے جیسی ہوجائے گی آئی پرامس”
افراہیم بیلا کے پاس کھڑا ہوکر عباد سے بولا افراہیم عباد کی بےبسی بھی محسوس کرسکتا تھا یقینا اسے بیلا کو اس حال میں دیکھ کر تکلیف ہوتی تھی جبھی وہ اسے خود سے اس گھر سے دور کرنے کا سوچ رہا تھا۔۔۔ عباد افراہیم کی بات سن کر اپنے کمرے میں چلاگیا
“میں مما اور بابا تم سے بہت پیار کرتے ہیں بیلا، کیا تم ہماری محبتوں کے بدلے ہماری خوشی کے لئے خود میں بدلاؤ نہیں لا سکتی،، تمہیں اس طرح دیکھ کر بابا کو مما کو مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے پلیز ہماری خاطر خود کو بدلنے کی کوشش کرو پہلے جیسی ہوجاؤ ہنسو کھیلو خوش رہو”
افراہیم بیلا کے آنسو صاف کرتا ہوا بولا تو وہ افراہیم کے کندھے پر سر رکھ کر رونے لگی
“میرا کسی سے بھی بات کرنے کا دل نہیں چاہتا اب، نہ ہی دوست بنانے کا دل چاہتا ہے، مجھے نہیں لگتا بھائی کہ میں اب آگے پڑھ سکو گی، مجھے ایسا لگتا ہے میں باہر نکلو گی تو سب لوگ مجھے دیکھیں گے مجھ پر ہنسے گے، میرے متعلق باتیں کریں گے”
بیلا افراہیم کے کندھے پر سر رکھ کر روتی ہوئی بولی نازنین صوفے پر بیٹھی بیلا کی باتیں سن کر زار و قطار رونے لگی۔۔۔۔ یہ واقعہ اس کے دماغ پر بری طرح اثر انداز ہوچکا تھا، نازنین کو محسوس ہوا وہ بیلا کو نارمل کرتے کرتے شاید خود نارمل نہیں رہ سکے گی
“تم کسی کو بھی اپنا دوست نہیں بناؤ صرف اپنے بھائی کو اپنا دوست سمجھو، اپنی ساری باتیں مجھ سے شیئر کرو جو دل میں ہو وہ مجھ سے کہو۔۔۔ میں تمھاری ساری باتیں سنو گا، میں دوست بنو گا اپنی پیاری سی بہن کا،، اپنے بھائی کی خاطر اپنی اسٹڈیز پر توجہ دینے کی کوشش کرو، اپنے ذہن سے یہ بات نکال دو کہ کوئی تمہیں دیکھے گا یا تمہارے متعلق کچھ بات کرے گا۔۔۔۔ بتاؤ بیلا اپنے بھائی کی خاطر اپنی اسٹڈیز دوبارہ کنٹینیو کروں گی ناں، مانو گی اپنے بھائی کی باتیں”
افراہیم بیلا کو بہلاتا ہوا دوبارہ اس کے آنسو صاف کرتا ہوا اس سے پوچھنے لگا جس پر بیلا نے اقرار میں سر ہلایا نازنین خاموشی سے اپنے آنسو پونچھ کر اپنے دونوں بچوں کو دیکھنے لگی افراہیم کو محسوس ہورہا تھا بیلا کو تھوڑا زیادہ وقت اور توجہ دے کر وہ اس کو نارمل لائف میں لاسکتا ہے
جاری ہے
