Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

طویل مسافت طے کرنے کے بعد اب اس کے پاؤں بری طرح دکھنے لگے تھے۔۔۔ نوف کو محسوس ہوا وہ تھوڑی دیر تک اور یونہی چلتی رہی تو شاید گر جاۓ گی اس لیے سنسان روڈ کی فٹ پاتھ پر بیٹھنے کے بعد اس کی آنکھیں آنسو بہاتی ہوئی پرسوں کا دن یاد کرنے لگی۔۔۔ جب عدنان اس کا پیچھا کرتا ہوا ریلوے اسٹیشن تک پہنچ گیا اور وہ اپنی عزت بچانے اور عدنان کی نظروں سے بچنے کی خاطر پٹری پر رینگتی ہوئی ٹرین میں چڑھ گئی تھی۔۔۔۔ جو چند سیکنڈ بعد دوسرے شہر جانے کے لیے تیزی پکڑ چکی تھی۔۔۔ نوف چاہ کر بھی اگلے اسٹیشن پر اتر نہیں پائی تھی

دس سالوں میں ایسا پہلی بار ہوا تھا جب عدنان نے اسے اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کی خاطر اپنے بڑھے باپ تک کی پرواہ نہیں کی تھی وہ کسی جنگلی جانور کی طرح بےخوف ہوکر اس کی عزت پر حملہ کرنے والا تھا۔۔۔ ٹرین میں سوار ہونے کے بعد نوف کو واپس گھر جانے کا سوچ کر خوف آنے لگا تھا۔۔۔ ٹرین میں موجود ایک شفیق عمردار جاتون کی ہمراہ وہ سفر کرتی ہوئی ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچ چکی تھی۔۔۔ بیچ سفر میں نوف نے دو سے تین مرتبہ اسی عورت کے موبائل سے رخشی کے نمبر پر کال ملائی تھی مگر ہر مرتبہ اس کی کال عدنان ہی اٹھاتا۔۔۔ وہ پریشان تھی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا آگے کیا کرے،، کہا جاۓ۔۔۔ شام سے پیدل چلتے ہوئے اب اس کے پاؤں بری طرح دکھنے لگے تھے بلکہ بھوک کے مارے اس کے پیٹ میں بھی درد ہونا شروع ہوگیا تھا۔۔۔۔ تب اچانک سنسان روڈ پر ایک گاڑی تیزی سے اس کے پاس سے گزرتی ہوئی چلی گئی مگر تھوڑی دیر بعد وہی گاڑی واپس آکر اس کے پاس رکی۔۔۔ نوف آنسو صاف کرتی ہوئی گاڑی میں سے اترنے والی اس ماڈرن سی عورت کو دیکھنے لگی

“تم اتنی رات میں اس طرح اکیلی اس سنسان سڑک پر بیٹھی ہو، یہ تمہارے لیے خطرے سے خالی نہیں ہے،، اگر تمہارے ساتھ کوئی مسلہ ہے تو مجھے بتاؤ شاید میں تمہارے کام آجاؤ”
وہ عورت نوف کو دیکھتی ہوئی بولی تو نوف اس ماڈرن عورت کو بھی ٹرین والی اس عورت کی طرح مہربان سمجھنے لگی جس نے نوف کے ساتھ اپنا کھانا بھی شئیر کیا تھا

“یہ شہر میرے لیے نیا ہے میں یہاں کے راستوں سے بالکل واقف نہیں ہو آپ کی بڑی مہربانی ہوگی۔۔۔ اگر آپ مجھے کسی دارلامان تک چھوڑ دیں تو میں ایک محفوظ جگہ پر پہنچ کر اپنے گھر والوں سے رابطہ کرلوں گی”
نوف کی بات سن کر وہ عورت غور سے نوف کو دیکھنے لگی

“اوہو تو تم اس شہر میں بالکل اجنبی ہو،،، کہاں کی رہنے والی اور یہاں تک کیسے پہنچی۔۔۔۔ یہ سب میں تم سے بعد میں پوچھوں گی ابھی تم میرے ساتھ میری گاڑی میں بیٹھ جاؤ کیونکہ یہاں زیادہ دیر کھڑے رہنا ہم دونوں کے لیے خطرے سے خالی نہیں”
اس عورت کی بات مانتے ہوئے نوف اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی اس کے علاوہ اس کے پاس کوئی چوائس بھی نہیں تھی۔۔۔۔ نوف کی داستان سننے کے بعد روبی نوف کو اپنے محل نما کوٹھی میں لے آئی اور نوف کو یقین دلایا کہ وہ صبح ہونے کے ساتھ ہی اس کے گھر والوں سے اس کا رابطہ کروا دے گی۔۔۔ اچھے سے کھانے کے بعد روبی نے اسکو سونے لیے کمرہ دکھایا۔۔۔ نوف اس کمرے کا دروازہ لاک کرکے سونے کے لیے لیٹ گئی یہ سوچے بغیر اگلی صبح اس کے لیے کتنی بھیانک ہوگی


وہ اپنے کمرے میں پچھلے ایک گھنٹے سے مسلسل ٹہلے جارہی تھی،، اپنی زندگی میں درپیش چھوٹے چھوٹے مسائل کو لے کر وہ بہت جلدی پریشان ہوجایا کرتی تھی۔۔۔ اس وقت وہ اپنے آنے والے اس رشتے کے بارے میں سوچ رہی تھی جو افراہیم کے دوست کی توسط سے اسے دیکھنے کے لئے آنے والے تھے۔۔۔۔ گزرے ہوئے دس سالوں میں افراہیم کی اتنی محنت رنگ لائی تھی کہ اس نے اپنی پڑھائی کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا تھا وہ اب یونیورسٹی میں پہنچ چکی تھی مگر پڑھائی میں اس کی پہلے کی طرح توجہ نہیں رہی تھی بس وہ جیسے تیسے امتحانات پاس کرکے اگلی کلاس میں پہنچ جایا کرتی تھی۔۔۔ دوست اس کی کوئی بھی نہیں تھی نہ ہی اس نے خود سے کسی کو دوست بنایا تھا۔۔۔ صرف ایک عون ہی تھا جو کسی جونک کی مانند اس سے چپک گیا تھا۔۔۔ اس کے لاکھ نظرانداز کرنے اور غصہ کرنے پر بھی وہ بیلا سے دوستی کا خواہشمند تھا بیلا نے عون سے دوستی اسی شرط پر کی تھی کہ جب بیلا کا دل چاہے گا وہ اسے تب بات کرے گی ورنہ عون کو اس سے بات کرنے کی اجازت نہیں تھی

وہ بیلا کے سرکل سے تعلق نہیں رکھتا تھا نہ ہی اس کا کلاس میٹ تھا بلکہ چار سال قبل عباد کی ڈیتھ کے چھ ماہ بعد ایف بی کے تھرو اس کی عون سے رسمی بات چیت ہوئی تھی۔۔۔ موبائل کی بجنے والی گھنٹی بیلا کو اپنی طرف متوجہ کرچکی تھی اسکرین پر چمکتا ہوا عون کا نام دیکھ کر بیلا اس کی کال ریسیو کرتی ہوئی ٹیرس پر آکر جھولے پر بیٹھ گئی

“کال کررہی تھی تم، خیریت ہے ناں”
بیلا کو عون کی آواز سنائی دی۔۔۔ آج ان دونوں کی پورے دو ماہ بعد بات ہورہی تھی

“تمہیں معلوم ہے ناں میں تم سے کب بات کرتی ہو، جب میرا دل بہت زیادہ گھبراتا ہے یا پھر میں بہت زیادہ پریشان ہوتی ہوں”
بیلا اصطرابی کیفیت میں سیدھے ہاتھ کے ناخن منہ سے چباتی ہوئی عون سے بولی

“اور تمہاری آواز اور لہجہ دونوں یہ بتا رہے ہیں تم اس وقت پریشان بھی ہو اور گھبرائی ہوئی بھی ہو۔۔۔ کیا ہوا ہے کیا محسوس کررہی ہو مجھے تفصیل سے بتاؤ”
بیلا کو معلوم تھا ان چار سالوں میں عون اس کے ہر انداز سے خود اندازہ لگا لیتا تھا کہ وہ گھبرائی ہوئی ہے یا پھر پریشان ہے۔۔۔ کبھی کبھی بیلا کو محسوس ہوتا کہ عون اس کو بہت اچھی طرح سے جانتا ہے اس کی نیچر اس کے مزاج سے واقف ہے لیکن اس وقت بیلا بھی اس کے لب و لہجے پر چونکی تھی

“نہیں پہلے تم مجھے بتاؤ تمہیں کیا ہوا ہے تم بھی مجھے کچھ ڈسٹرب لگ رہے ہو”
بیلا کو آج اس کی آواز پہلے کی طرح ہشاش بشاش نہیں لگ رہی تھی اس لیے بیلا عون سے پوچھنے لگی

“تو آج آخرکار بیلا عباد کو محسوس ہو ہی گیا کہ اس کا دوست بھی ڈسٹرب ہوسکتا ہے”
عون کے الٹے جواب پر بیلا چڑ گئی

“تم میرے دوست نہیں ہو، کوئی بھی میرا دوست نہیں ہے۔۔۔ میں تمہیں پہلے ہی بتاچکی ہوں تم صرف ایک نیڈ (need) ہو۔۔۔ میں تمہیں اپنی ضرورت کے وقت یاد کرتی ہوں اور بس۔۔ تم میری اس خود غرضی کو دوستی سمجھو تو وہ ایک الگ بات ہے”
بیلا عون کو باور کرواتی ہوئی بولی اور یہ کافی حد تک یہ سوچ بھی تھا عون خود بھی جانتا تھا

“اس میں کوئی شک نہیں کہ تم دل دکھانے والا سچ بولتی ہوں مگر اچھی بات ہے تم سچ بولتی ہو،، تو مس بیلا تم اس بات کو چھوڑ دو کہ میں کیوں ڈسٹرب ہوں،، وجہ تم بتاؤ کے تم کیوں پریشان ہو”
عون کی بات سن کر وہ ایک پل کے لئے خاموش ہوئی مگر پھر اسے اپنا مسئلہ بتانے لگی

“آج مجھے دیکھنے کے لیے کچھ لوگ آرہے ہیں بھائی اور مما چاہتے ہیں کہ میں ان لوگوں کے سامنے جاکر بیٹھو،، پر میں نے تمہیں پہلے بھی بتایا تھا کہ یہ سب حرکتیں کرنا مجھے سخت زہر لگتی ہیں۔۔۔ پچھلی بار والی حرکت کرکے میں بھائی اور مما کو ناراض نہیں کرسکتی ہو اس لئے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کیا کرو”
بیلا عون سے اپنی پرابلم شیئر کرتی ہوئی بولی

“پچھلی بار والی بیوقوفی کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے یہ کوئی عقلمندی نہیں ہوتی کہ کوئی تمہیں دیکھنے آرہا ہو اور تم راہ فرار کے لئے سلیپنگ پلس کا سہارا لے لو۔۔۔ اس سے بہتر یہ ہے کہ تم سیدھا سیدھا اپنے گھر والوں کو منع کر دو یا پھر ان لوگوں کے سامنے جاکر رشتے سے انکار دو”
عون کی بات سن کر بیلا کو اپنا سر پیٹ لینے کو دل چاہا

“تم جانتے ہو میں بھائی مما یا پھر کسی دوسروں کے سامنے کچھ بھی نہیں بول سکتی”
بیلا اپنے لہجے میں بےبسی ظاہر کرتی ہوئی عون سے بولی

“جب تم خود اپنے لئے کچھ بھی بولنے کی ہمت نہیں رکھتی تو وہی کرو جو تمہاری مدر اور بھائی چاہتے ہیں۔۔۔ ویسے بھی وہ دونوں تمہارا اچھا ہی سوچ رہے ہوگے”
عون کی بات سن کر بیلا کو غصہ آنے لگا

“مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی کہ میرے مشکل وقت میں تم مجھے یوں الٹے سیدھے مشورہ دو”
بیلا عون کی بات سن کر اپنے غصے کا اظہار کرتی ہوئی اس سے بولی

“ٹھیک ہے پھر تمہارے مسئلے کا حل ہم دونوں ایسے نکال لیتے ہیں کے میں تمہارے بھائی سے مل کر بات کرلیتا ہوں اسے بتاتا ہوں کے میں تمہاری بہن کو پسند کرتا ہوں اور اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ تم مجھ سے شادی کرلو، اس طرح سے آنے والے ہر رشتے سے تمہاری ہمیشہ کے لیے جان چھوٹ جائے گی۔۔۔ شادی کے بعد تم مجھے اپنی نیڈ کے وقت یاد کرلینا اور میں تم سے اپنی نیڈ کا شکوہ بھی نہیں کروں گا”
عون نے جو بیلا کے مسئلہ کا حل نکالا تھا بیلا کا دل چاہا کہ وہ عون کو شوٹ کر ڈالے

“شٹ اپ عون، جسٹ شٹ اپ”
بیلا غصے میں بولتی ہوئی کال ڈسکنیکٹ کرچکی تھی۔۔ عون کے دوبارہ کال کرنے پر اس نے عون کی کال کو اگنور کردیا کیوکہ آج سے پہلے عون نے اس سے اس طرح کی فضول گوئی پہلے کبھی نہیں کی تھی

“بیلا بی بی آپ کو سیٹنگ روم میں بڑی بیگم صاحبہ بلا رہی ہیں گیسٹ آچکے ہیں آپ ان سے آکر مل لیں”
نوری اسے پیغام دیکھ کر جاچکی تھی بیلا اپنی آنکھیں بند کئے خود کو سیٹنگ آئیریا میں جانے کے لیے تیار کرنے لگی


رات کو وہ سکون کی نیند سوگئی تھی صبح اسے کسی طرح دوبارہ رخشی سے رابطہ کرنا تھا مگر رخشی کے نمبر پر وہ عدنان کے ڈر سے دوبارہ کال نہیں کرنا چاہتی تھی، اسے افسوس اس بات کا ہورہا تھا اسے رخشی کے علاوہ صرف اپنی سہیلی بسمہ کا نمبر زبانی یاد تھا کاش کہ ازلان کا نمبر بھی اس کے دماغ میں محفوظ ہوتا۔۔۔ نوف بسمہ کا نمبر زہن میں سوچتی ہوئی کمرے سے باہر نکلی،، دوسرے کمرے میں اسے روبی دو مردوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی نظر آئی جس کو دیکھ کر نوف کے قدم وہی رک گئے

“ارے وہی کیوں رک گئی ہو یہاں آؤ میرے پاس”
روبی نوف کو دیکھ کر اپنائیت بھرے لہجے میں بولی اس کے پاس بیٹھے ہوئے دونوں آدمی نوف کو دیکھنے لگے،، ان دونوں کے دیکھنے کے انداز سے نوف کو عجیب سا محسوس ہونے لگا وہ خاموشی سے چلتی ہوئی روبی کے برابر میں جا بیٹھی

“کہاں سے ملی”
سامنے بیٹھا ہوا آدمی اس کا مکمل جائزہ لیتا ہوا روبی سے پوچھنے لگا

“نوف نام ہے اس کا، اپنی ماں سے بچھڑ گئی ہے بےچاری کل رات میں اس کو اپنے ساتھ لے آئی تھی”
روبی اس آدمی کو بتانے لگی اور ساتھ میں آنکھوں ہی آنکھوں میں کچھ اشارہ بھی کیا تو وہ آدمی خاموش ہوگیا روبی مسکرا کر نوف کو دیکھنے لگی

“نوف تم ایسا کرو اس کمرے سے سیدھا جاکر لفٹ مڑ جاؤ وہاں پر کچن میں سلمہ ہے وہ تمہارے لئے ناشتہ بنادے گی، اس کے بعد ماہ رخ تمہیں اچھا سا ہیر کٹ دے کر تمہارا فیشل کردے گی،، تھوڑی بہت تمہاری گرومنگ سے تمہارے حسن کی خوبصورتی میں مزید اضافہ ہوجائے گا”
روبی کی بات نوف کے سر پر سے گزر چکی تھی بھلا اس کو کیا ضرورت تھی اپنے اچھے خاصے لمبے بالوں کو کٹوانے کی یا فیشل لینے کی مگر نوف کچھ بولے بغیر کمرے سے باہر نکل گئی کیوکہ اسے روبی کے ساتھ بیٹھے ہوئے دونوں آدمیوں کو دیکھ کر گھبراہٹ ہورہی تھی

ناشتہ کرنے کے دوران نوف کی چھٹی حس اسے مسلسل کوئی خطرے کا الارم دے رہی تھی۔۔۔ روبی کے گھر میں نہ جانے کتنے لوگ موجود تھے یہاں کے مرد ہی نہیں بلکہ عورتیں بھی اس کو عجیب طریقے سے دیکھ رہی تھی۔۔۔ ابھی وہ ناشتہ کررہی تھی جب اچانک ایک کمرے کا دروازہ کھلا جس میں سے ایک آدمی باہر نکلا،، اس کے پیچھے ایک لڑکی بےہودہ سی نائٹی پہننے کمرے سے باہر آئی جسے دیکھ کر نوف کا منہ حیرت سے کھلا۔۔۔ وہ لڑکی ہوکر اتنے چھوٹے اور کھلے کپڑوں میں ایسے ہی باہر نکل آئی تھی نوف صحیح سے اپنی حیرت کا اظہار بھی نہیں کرپائی تھی کیونکہ وہ آدمی باہر جانے سے پہلے اس نائٹی والی لڑکی کو اپنی باہوں میں جگڑتا ہوا اس کے ہونٹوں پر جھکا نوف نے گھبرا کر شرمندگی کے مارے جلدی سے اپنا سر نیچے جھکالیا ایسا فلمی سین سرعام دیکھ کر اسے شرمندگی سی ہونے لگی

“بیوٹی فل”
اب وہ آدمی نوف پر کمنٹس پاس کرکے باہر جاچکا تھا

“سلمہ جلدی سے میرے لیے ایک کپ اسٹرونگ سی چائے لےکر آؤ،، پورا جسم دکھ رہا ہے روبی کو بول دینا شام سے پہلے میرے کمرے میں کسی دوسرے کو نہ بھیجے آرام کرو گی میں اب تھوڑا”
نائٹی والی لڑکی سلمہ کو بول کر دوبارہ اپنے کمرے میں جاچکی تھی نوف ناشتہ چھوڑ کر خوف کے مارے کرسی سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی

“ناشتہ کرلیا تم نے تو میرے ساتھ کمرے میں چلو روبی بول رہی تھی کہ آج رات کے لیے تمہیں ریڈی کرنا ہے”
وہ شاید ماہ رخ نامی لڑکی تھی جو نوف کے ناشتہ کرنے کے انتظار میں کھڑی تھی

“مجھے ایک ضروری کال کرنا ہے”
نوف گھبراتی ہوئی اس لڑکی کو دیکھ کر بولی

“کس کو کال کرنا ہے”
روبی اب وہاں آچکی تھی اس کے ساتھ دونوں آدمیوں میں سے ایک آدمی بھی موجود تھا

“آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا صبح ہونے کے ساتھ ہی آپ مجھ سے میری امی کی بات کروا دیں گی”
نوف روبی کے بدلے ہوئے تیور دیکھ کر اسے کل رات کا کیا ہوا وعدہ یاد دلانے لگی جس پر روبی قہقہہ مار کر زور سے ہنسی

“بہت بھولی بھالی ہو تم لڑکی، وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوجائے۔۔۔ تم اب ایسی جگہ پر آچکی ہو جہاں سے واپسی ناممکن ہے اپنے سارے رشتے ناتوں کو سب کو بھول جاؤ بالکل ان لڑکیوں کی طرح جو یہاں پر میرے پاس موجود ہیں”
روبی نوف کو دیکھتی ہوئی کہنے لگی

“نہیں مجھے یہاں نہیں رہنا ہے۔۔۔ مجھے واپس جانا ہے”
نوف بولنے کے ساتھ باہر کے دروازے کی طرف جانے لگی تبھی روبی کے ہاتھ کا زناٹے دار تھپڑ اس کے منہ پر لگا وہ میز سے ٹکرا کر نیچے گر پڑی

“ارے یہ کیا کر رہی ہو روبی چہرہ تو مت بگاڑو اس بےچاری کا،، روحیل کی کال آرہی ہے کل سے وہ بےچین ہے کسی لڑکی کے لیے، میں تو کہتا ہوں آج رات روحیل کے فلیٹ پر اسی کو بھیج دو،، کم عمر اور خوبصورت مال کو دیکھ کر خوش ہوجائے گا مگر روحیل سے پہلے ذرا میں بھی اس حسین پری کا قریب سے دیدار کرلو ساتھ ہی اس کا سارا خوف بھی نکال دو گا”
وہ کالا سا لمبا تڑنگا آدمی بولتا ہوا نوف کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔ نوف شاید خوف سے بےہوش ہوجاتی مگر اس سے پہلے روبی اس آدمی کا ہاتھ پکڑ کر بول پڑی

“ابھی نہیں پہلے روحیل کو اپنی رات رنگین کرنے دو، کیونکہ کم عمر اور خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ یہ کنواری بھی ہے، دگنی قیمت وصول کروں گی روحیل سے اس کی۔۔۔۔ ماہ زخ اسے اپنے ساتھ لے جاؤ اور اس کا حلیہ بالکل تبدیل کرکے اسے شہزادی کی طرح سجادو۔۔۔ مگر اس سے پہلے اس کو دیبا اور روشنی کی حالت دکھا دینا تاکہ اس کو معلوم ہوجائے گی یہاں سے بھاگنے کی صورت میں اس کا کیا حشر کیا جائے گا”
روبی سخت دلی سے بولتی ہوئی نوف پر نظر ڈال کر وہاں سے چلی گئی

“یہ جو روبی ہے ناں بہت پاگل قسم کی عورت ہے،، مار مار کر اس لڑکی کی چمڑی ادھیڑ ڈالتی ہے جو کوئی اس کے مزاج سے ہٹ کر کام کرے مگر تم تو ایک نازک سی تتلی ہو جو اس محبوب خان کے دل کو بہاچکی ہو۔۔۔ آج رات روحیل کو خوش کرکے آجاؤ اس کے بعد پورے ہفتے کے لیے تمہیں اپنے بستر کی زینت بناکر رکھوں گا”
وہ آدمی نوف کے قریب آکر بولا تو نوف اس کی باتیں سن کر ڈر کے مارے رونے لگی وہ آدمی نوف کو روتا ہوا دیکھ کر ہنستا ہوا وہاں سے چلا گیا

“چلو بھئی اب جلدی سے اٹھ جاؤ ابھی تم پر کافی محنت کرنی ہے پھر رات کے لیے تمہیں تیار بھی کرنا ہوگا”
ماہ رخ نوف کو روتا ہوا دیکھ کر کوفت بھرے لہجے میں بولی اور نوف کو دوسرے کمرے میں لے جانے لگی


جاری ہے