No Download Link
Rate this Novel
Episode 35
چاقو افراہیم کے بازو کو زخمی کرگیا اس سے پہلے گیٹ پر موجود ہو گلاب خان دوڑتا ہوا افراہیم کے پاس آتا عدنان افراہیم کو پیچھے دھوکہ دیتا ہوا وہاں سے فرار ہونے لگا
“تیرا پیچھا تو میں قبر تک نہیں چھوڑوں گا نوف تو یاد رکھنا”
عدنان نے وہاں سے دیوار پھیلانگتے ہوۓ روتی ہوئی نوف کو دھمکی دی جس پر افراہیم غصے میں زخمی ہونے کے باوجود ایک بار پھر عدنان کو پکڑنے اور اس کو مارنے کے غرض سے اس کی طرف بڑھنے لگا مگر اس سے پہلے نوف روتی ہوئی افراہیم کا دوسرا بازو پکڑ چکی تھی
★
“مر نہیں گیا ہوں میں جو روۓ جارہی ہو لائٹ بند کرو سونا ہو مجھے”
زخم زیادہ گہرا نہیں تھا ڈاکٹر ابھی افراہیم کی بینڈیج کر کے واپس گیا تھا روتی ہوئی بیلا کو چپ کروا کہ افراہیم واپس اس کے کمرے میں بھجوا چکا تھا اور اس نے سختی سے سب کو تلقین کی تھی کہ کوئی بھی اس واقعہ کا ذکر نازنین کے سامنے نہیں کرے گا لیکن اب نوف کو روتا ہوا دیکھ کر افراہیم چڑ کر بولا ویسے بھی اس سارے چکر میں رات کے تین بج چکے تھے اور افراہیم اب آرام کرنا چاہتا تھا
“اب نہیں رؤں گی لیکن خدا کے لئے اپنے منہ سے اپنے ہی لیے ہی برے الفاظ مت نکالیں”
نوف اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی بولی اور افراہیم کے لئے وارڈروب سے دوسری صاف ستھری شرٹ نکالنے لگی
“ایسی اولاد پیدا کرکے تو شرم سے ڈوب مرنا چاہیے نثار کو، غنڈا اوباش اب دوبارہ میرے سامنے آیا تو وہی زندہ گاڑھ ڈالوں گا میں اس گھٹیا انسان کو”
افراہیم غصے میں بڑبڑاتا ہوا بولا تو نوف کو افسوس ہونے لگا
“مر چکے ہیں میرے چچا جان اسی شرمندگی نے ان کی جان لےلی کہ ان کی اولاد بےحیا اور بدکردار نکلی تھی اس لیے خدا کا واسطہ ہے آپ کو کہ اس مرے ہوئے انسان کے بارے میں آپ کچھ نہ بولیں، دس سال میں انہی کے گھر پر رہی ہوں انہوں نے باحفاظت طریقے سے اپنے بیٹے کی بری نظر سے بچاکر رکھا تھا مجھے”
نوف کی بات سن کر افراہیم خاموش ہوگیا تو نوف افراہیم کے سامنے بیٹھ کر اس کی شرٹ کے بٹن کھولنے لگی تاکہ خون آلود شرٹ اتار کر افراہیم کو صاف ستھری شرٹ پہنا دے۔۔۔ نوف کو اپنا کام کرتا ہوا دیکھ کر افراہیم کے ماتھے کے بل کہیں غائب ہونے لگے اس کی بیوی اس کی تکلیف پر خود بھی ہراساں تھی افراہیم کے اتنا غصہ کرنے کے باوجود وہ خاموشی سے نہ صرف اس کے کام کرتی تھی بلکہ نازنین اور اس کے گھر کو اب اسی نے سنبھالا ہوا تھا
نوف کا معصوم چہرہ دیکھ کر افراہیم کا ذرا دل نہیں کرتا تھا کہ وہ اس پر غصہ کرے یا پھر بے مروتی سے پیش آئے لیکن جب نوف کا چہرہ دیکھ کر اسے یہ خیال آتا کہ اسی کے بھائی نے اس کی بہن کو زیادتی کا نشانہ بنایا تھا تب وہ نوف کے چہرے کی معصومیت بھلائے اس پر برس پڑتا وہ نوف کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر پشیماں نہیں ہونا چاہتا تھا اس لیے وہ نوف کو اپنے سامنے رونے بھی نہیں دیتا تھا
“کھانا کھالیا تھا تم نے”
وہ افراہیم کو دوسری شرٹ پہنا رہی تھی تب افراہیم نے اچانک نوف سے پوچھا جبکہ وہ جانتا تھا کہ نازنین اور اس کے ڈنر کرنے کے بعد وہ کھانا کھا چکی تھی
“خیریت، آپ کو پوچھنے کا کیسے خیال آگیا”
نوف عادت کے مطابق پلکیں جھکاۓ افراہیم سے پوچھنے لگی تو افراہیم کے ماتھے پر ہلکا سا بل نمودار ہوا
“بچپن میں تو تمہاری زبان بالکل بھی نہیں چلتی تھی کافی فرمابردار ہوا کرتی تھی تم”
افراہیم نوف کا چہرہ دیکھتا ہوا بولا
“میں نے ابھی بھی آپ کی کوئی نافرمانی نہیں کی ہے یا اگر کی ہے تو بتادیں”
نوف افراہیم کی شرٹ کا کالر درست کرتی ہوئی اس سے بولی پلکیں کی جھالر افراہیم کے سامنے ابھی بھی گری ہوئی تھیں اس کے باوجود نہ جانے کیوکہ افراہیم کا دل ڈوبنے لگا
“نافرمانی نہیں کی ہے مگر زبان اب کافی بڑی ہوتی جارہی ہے تمہاری اور میں دیکھ رہا ہوں یہ چلنے بھی خوب لگی ہے اس کا خود علاج کرلو ورنہ میں کردو گا کسی دن”
افراہیم نے اپنے دل کو ڈانٹنے کے ساتھ نوف کو بھی وارننگ دی جس پر وہ پلکیں اٹھا کر افراہیم کو دیکھنے لگی
“تھکے نہیں آپ غصہ کرتے ہوۓ، تھوڑی دیر پہلے تک تو آپ کو نیند آرہی تھی سوجاۓ پلیز”
نوف افراہیم سے نرم لہجے میں آئستگی سے بولتی ہوئی اس کے پاس سے اٹھی
“کہاں جارہی ہو”
نوف کو کمرے کی لائٹ بند کرنے کے بعد باہر جاتا ہوا دیکھ کر افراہیم اس سے پوچھنے لگا
“نیند نہیں آرہی ہے مجھے”
نوف افراہیم کے دیکھے بغیر بولی عدنان کو آج اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ کر اس کی نیند سچ میں اڑچکی تھی اوپر سے جو وہ اسے دھمکی دے کر گیا تھا نوف کو محسوس ہورہا تھا وہ سچ میں اس کا پیچھا اس کے مرنے کے بعد ہی چھوڑے گا
“کمرے کا دروازہ بند کرو اور بیڈ پر آکر لیٹو”
افراہیم کی آواز پر نوف مڑ کر افراہیم کو دیکھنے لگی اندھیرے کی وجہ سے وہ افراہیم کا چہرہ نہیں دیکھ پائی تھی مگر اس کی بات مانتی ہوئی کمرے کا دروازہ بند کرنے کے بعد بیڈ پر اس کے برابر میں آکر لیٹ گئی
بیڈ پر لیٹے ہوئے اسے چند سیکنڈ ہی گزرے تھے تب اسے افراہیم نے کھینچ کر خود سے قریب کرلیا
“افراہیم، کک کیا کررہے ہیں ہٹے پیچھے”
وہ نوف کو بیڈ پر لٹانے کے بعد اس کی گردن پر ہونٹ رکھتا ہوا مدھوش ہونے لگا جبکہ نوف یوں اچانک ہی افراہیم کی قربت پر ایک دم بوکھلا اٹھی تھی اسے ایک دم پیچھے ہٹاتی ہوئی بولی
“نافرمانی کرو گی میری، روکو گی مجھے اپنے قریب آنے سے۔۔۔ بولو”
افراہیم اس پر مکمل قابض ہوکر لیمپ کی مدھم روشنی کرتا ہوا نوف کو آنکھیں دکھا کر پوچھنے لگا
“نہیں”
نوف افراہیم کے چہرے کے بگڑے زاوئیے دیکھ کر نفی میں سر ہلاتی ہوئی بولی تو افراہیم دوبارہ جھگتا ہوا اس کی گردن پر جابجا اپنی محبت کی مہر ثبت کرتا چلا گیا
اس کے انداز میں شدت محسوس کرتی ہوئی نوف نے آگے ہاتھ بڑھا کر لیمپ کی مدھم روشنی بند کردینی چاہی مگر اس سے پہلے افراہیم نوف کی کلائی پکڑتا ہوا اس کی گردن سے اٹھا اور نوف کا چہرہ دیکھنے لگا نوف خود بھی لرزتی پلکوں کے ساتھ افراہیم کے اس روپ کو دیکھنے لگی جسکی وہ اب عادی ہونے لگی تھی۔۔۔۔ نہ ہی اس وقت افراہیم کے چہرے پر غصہ تھا نہ ہی ناراضگی نوف کو اس کی آنکھوں میں اپنے لیے اس وقت صرف محبت دکھ رہی تھی
“ایک سوال کا جواب دیں گے”
نوف افراہیم کے چہرے کے نرم تاثرات دیکھ کر ہمت کرتی ہوئی بولی نوف کی کلائی ابھی بھی افراہیم کے ہاتھ میں موجود تھی جسے افراہیم اپنے انگوٹھے سے آئستگی سے سہلا رہا تھا
“ہہہم بولو”
افراہیم نوف کے معصوم چہرے کو دیکھتا ہوا بولا جسے بےحد قریب سے دیکھ کر وہ دل ہی دل میں سکون محسوس کررہا تھا
“آپ کو میں ابھی بھی اچھی لگتی ہوں یا صرف اس وقت کے لیے اچھی لگ رہی ہو”
وہ مکمل اس پر جھکا اسکے بےحد قریب تھا نوف اپنے دل میں آیا سوال پوچھنے لگی
“صرف اس وقت نہیں تم مجھے ہر وقت بہت زیادہ اچھی لگتی ہو”
افراہیم سچائی بیان کرتا ہوا نوف کی کلائی پر اپنے ہونٹ رکھ چکا تھا
“اور اگر میں پنک کلر پہننا چھوڑ دو تب بھی اچھی لگو گی آپ کو”
نوف کی بات پر افراہیم اسکی کلائی سے اپنے ہونٹ جدا کرتا ہوا نوف کو غور سے دیکھنے لگا نوف بھی افراہیم کو ہی دیکھ رہی تھی جیسے اس کے جواب کی منتظر ہو
“ہر روپ میں اچھی لگو گی تم مجھے ڈیئر وائف”
افراہیم بولتا ہوا باری باری اس کے گالوں کو چومنے لگا
“تو آپ ہر وقت کیو چاہتے ہیں کہ میں آپ کے سامنے آنکھیں جھکاۓ رکھو”
نوف افراہیم کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی اس کا دل چاہا آج وہ افراہیم سے ہر وہ سوال پوچھ ڈالے جو اس کے دل میں موجود تھا
“کیوکہ میں نہیں چاہتا کہ تمہاری آنکھوں میں ہر وقت ڈوبا رہو۔۔۔ دیکھ نہیں رہی اس وقت کیا حالت کردی تم نے میری”
افراہیم بولنے کے بعد نوف کی دونوں آنکھوں کو باری باری چومنے لگا
“یعنی اپنے ڈرائیور کی بیٹی کو پیار کرنے لگے ہیں آپ”
نوف اب کی بار تھوڑا ڈرتی ہوئی بولی نہ جانے اس بات پر افراہیم کا ری ایکشن کیا ہوتا۔۔۔ افراہیم نوف کی بات سن کر غور سے نوف کا چہرہ دیکھنے لگا۔۔۔ دس سال پہلے یہ سوچ بھی اس کے ذہن میں نہیں آئی ہوگی کہ یہ دبو سی لڑکی اس کے دل میں یوں آ بسے گی
“حقیقت ہے یہ”
نوف کی پیشانی پر اپنے ہونٹ رکھنے کے بعد وہ سچے دل سے نوف کے سامنے اعتراف کرنے لگا مگر عدنان کی بات ذہن میں آتے ہی وہ نوف سے بولا
“کیا اس دن میرے جانے کے بعد سب یہی سمجھے تھے کہ میں نے اپنی بہن کا بدلہ لینے کے لیے تمہارے ساتھ بھی”
افراہیم نوف پر جھکا ہوا اس سے پوچھنے لگا جس پر نوف نے اقرار میں سر ہلایا تو افراہیم کو ڈھیر ساری ندامت نے گھیرے میں لے لیا وہ نوف کے اوپر سے اٹھنے لگا تو نوف نے ایک دم اسکی شرٹ کالر سے پکڑی
“اپنی تائی سے، عدنان سے، محلے والوں سے آپ کے نام کے طعنے سنتی آئی ہو پچھلے دس سال سے تب بہت نفرت محسوس ہوتی تھی مجھے آپ سے”
یہ پہلا شکوہ تھا جو نوف افراہیم سے اس کے سامنے کررہی تھی جس پر افراہیم اچھا خاصا شرمندہ ہوا تھا
“اور اب”
افراہیم بناء اس سے اپنی شرٹ کا کالر چھڑاۓ نوف پر جھکا ہوا اس سے پوچھنے لگا
“اب مجھ سے آپ کی یہ بےرخی برداشت نہیں ہوتی افراہیم”
افراہیم کے دل کا حال جاننے کے بعد نوف اسے اپنے دل کا حال بتانے لگی تو افراہیم اپنی شرٹ کے کالر سے نوف کے ہاتھ ہٹاتا ہوا اس کے ہونٹوں پر جھکا اور اپنی شدت جنون دیوانگی تمام تر کیفیت اس پر ظاہر کرنے لگا
“افراہیم”
ہونٹوں کی پیاس بجھاتے بجھاتے وہ نوف کی شرٹ شولڈر سے نیچے سرکانے لگا تو نوف گھبراتی ہوئی اپنے ہونٹ اسکے ہونٹوں سے جدا کرتی ہوئی افراہیم کو پکار بیٹھی
“شٹ اپ افراہیم کی جان تم خود بھی اس وقت مجھے اپنے قریب دیکھنا چاہتی ہو یا پھر بول دو کہ یہ سچ نہیں ہے”
افراہیم کی بات پر نوف اپنی پلکیں جھکا گئی
“اب نظریں جھکانے کا کوئی فائدہ نہیں ڈئیر وائف تم مجھے پورا پورا ان آنکھوں میں ڈبا چکی ہو” افراہیم مدہوش لہجے میں بولتا ہوا نوف کے شانے پر جھک اپنے اور اس کے بیچ تمام فاصلے سمیٹنے لگا
★
“ازلان نہیں پلیز ایسا نہیں کرو میرے ساتھ”
بیلا مسلسل نیند میں بڑبڑا رہی تھی تو افراہیم کے ماتھے پر شکنیں پڑنے لگی۔۔۔ آج پہلی بار اس نے اپنی بہن کے منہ سے اس کے مجرم کا نام سنا تھا وہ آئستہ سے بیلا کے کمرے کا دروازہ بند کر کے اپنے کمرے میں چلا آیا
وہ صبح بیلا کے کمرے میں اسی وجہ سے گیا تھا کیوکہ کل رات وہ افراہیم کے بازو پر زخم دیکھ کر کافی پریشان تھی لیکن بیلا کی نیند میں کیفیت پر اور ازلان کا نام سن کر افراہیم کا خوشگوار موڈ ایک دم غصے میں تبدیل ہوگیا۔۔۔ وارڈروب میں ہینگر سے اپنے کپڑے نکال کر اس نے سوتی ہوئی نوف کے منہ پر پھینکے۔۔۔ وہ جو نیند میں شاید کوئی خوبصورت خواب پر مسکرا رہی تھی اپنے منہ پر کپڑے گرنے سے ایک دم نیند سے ہڑبڑا کر اٹھی
“فورا اٹھو اور پریس کو انہیں”
افراہیم اپنے چہرے کے زاوئیے درست کیے بناء نوف سے بولا تو وہ حیرت سے افراہیم کا چہرہ دیکھنے لگی کل رات تو نوف کو محسوس ہوا تھا اس کے اور افراہیم کے درمیان سب ٹھیک ہوچکا تھا مگر افراہیم صبح ہوتے ہی دوبارہ بدل چکا تھا
“شکل کیا دیکھ رہی ہو میری سنائی نہیں دے رہا تمہیں کیا بک رہا ہو میں”
نوف کے دیکھنے پر افراہیم چیخ کر بولا تو نوف خاموشی سے افراہیم کے کپڑے اٹھاتی ہوئی بیڈ سے اٹھ گئی
★
آج اس بات کو پورے بیس دن گزر چکے تھے جب ازلان نے غصے میں اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے اسے اپنے فلیٹ سے باہر نکال دیا تھا بیس دن سے وہ ازلان کو کال کررہی تھی مگر وہ اس کی کال نہیں اٹھا رہا تھا وجہ مصروفیات یا پھر غصہ، بیلا اس سے انجان تھی مگر وہ اپنے دل کی اداسی سے ہرگز انجان نہیں تھی ابھی فزکس کی کلاس ختم ہوئی تھی اور وہ مزید کلاس اٹینڈ کرنے کی بجائے گھر جانے کا ارادہ رکھتی کی تبھی اس نے ڈرائیور کو کال کرکے یونیورسٹی میں بلالیا تھا تاکہ واپس گھر جاسکے
“ارے معلوم ہے کل میں نے کس کو دیکھا وہ جو سر عتیق کے بدلے چند دنوں ہماری کلاس لینے یونیورسٹی آرہے تھے سر آبان کو، تم لوگوں کو معلوم ہے ان کی ابھی شادی ہوئی ہے چند دن پہلے، ان کی وائف بھی ان کے ساتھ تھی”
یہ بیلا کی کلاس فیلو کی آواز نہیں بلکہ ایک بم تھا جو بیلا کے سر پر آگرا
“ضروری ہے وہ اپنی وائف کے ساتھ ہو کوئی اور بھی تو ہوسکتی ہے”
دوسری لڑکی نے اپنا خیال ظاہر کیا
“ارے نہیں بھئ وائف ہی تھی سر آبان نے مجھے جود بتایا تھا”
بیلا کے کلاس روم سے باہر جاتے قدم وہی تھم گئے وہ حیرت سے آنکھیں کھولے اپنی کلاس فیلو کو دیکھنے لگی جو اپنی باقی کی سہیلیوں کو ازلان کے بارے میں بتارہی تھی۔۔۔ خالی ذہن کے ساتھ وہ کس طرح اپنی کار تک پہنچی یہ وہ نہیں جانتی تھی، جب اس نے ڈرائیور سے گھر کی بجاۓ ازلان کے فلیٹ جانے کو کہا تھا تب اس کا دل کافی زور سے دھڑک رہا تھا یقینا اس کی کلاس فیلو کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی ازلان اسکے ساتھ ایسے کیسے کرسکتا تھا بیلا دل ہی دل میں سارے منفی خیالات کو رد کرتی ہوئی ازلان کے اپارٹمنٹ میں پہنچی
“بی بی جی کتنی دیر میں لینے آؤ آپ کو”
ڈرائیور کے سوال کا جواب دیے بناء بیلا گاڑی سے باہر نکلی سامنے چند قدم کے فاصلے پر اذلان گاڑی کا فرنٹ دروازہ گل کے لیے کھول رہا تھا جو ہنستی ہوئی گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے ازلان کو کچھ بول رہی تھی
“تو کیا ازلان نے گل سے شادی کرلی”
ذہن میں یہ خیال آتے ہی بیلا کا ذہن ماؤف ہونے لگا۔۔۔ ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر آنسو تھے کہ تواتر گالوں سے بہنے لگے
“بی بی جی کتنی دیر میں لینے آؤ آپ کو” ڈرائیور گاڑی سے باہر نکل کر ایک بار پھر بیلا سے پوچھنے لگا تو چند قدم کے فاصلے پر کھڑا ازلان فورا بیلا کی طرف متوجہ ہوا جو بہتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ اسی کو دیکھ رہی تھی ازلان اپنی ناراضگی کو بھولتا ہوا بیلا کے پاس آنے لگا تو گل بھی بیلا کی طرف متوجہ ہوئی مگر ازلان کو اپنی جانب آتا ہوا دیکھ کر بیلا فورا گاڑی میں بیٹھ گئی
“تم نے ابھی تک ناراضگی ختم نہیں کی بیلا سے اپنی”
بیلا کی کار جب نظروں سے اوجھل ہوگئی تو گل اذلان سے پوچھنے لگی
“بس جانے والا ہوں ایک دو دن میں اسے واپس یہاں لانے کے لئے”
ازلان گل سے بولا تو ڈرائیور اپنی گود میں نو ماہ کا سوتا ہوا صحت مند بچہ اٹھاۓ گاڑی تک لایا اور پچھلی سیٹ پر گاڑی میں لٹانے لگا
“تم نے مجھے اور معامون کو تو کل بیلا کی غیر موجودگی میں شادی کی دعوت دے دی لیکن میرے یہاں سے جانے سے پہلے اب تم مجھ سے ملنے تبھی آنا جب بیلا تمہارے ساتھ ہو، جلدی منالینا اپنی بیوی کو معامون میرا انتظار کررہے ہوگے اب میں چلتی ہوں”
گل ازلان سے بولتی ہوئی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی
★
کیا ہوتا اگر وہ گل کے سامنے اس کی بات رکھ لیتی اور اپنے برے رویے کی گل سے معافی مانگ لیتی کون سا وہ معافی مانگنے سے چھوٹی ہوجاتی، اس طرح گل کو تھپڑ مار کر اس نے غلط کیا تھا جس پر اسے گل کے سامنے کافی شرمندگی محسوس ہوئی تھی۔۔۔ اپنی غلطی پر معافی مانگنے میں کوئی حرج نہیں تھا لیکن بیلا نے اس کا مان بھی نہیں رکھا اسی وجہ سے بیلا کی ہٹ دھرمی پر اسے بہت افسوس ہوا تھا جبھی وہ غصے میں اتنا تلخ ہوا کہ بیلا کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے فلیٹ سے نکال دیا۔۔۔ اتنے دنوں سے جبھی وہ بیلا کی کال بھی ریسیو نہیں کررہا تھا تاکہ بیلا کو اپنے رویہ کا احساس ہوسکے
ویسے بھی پچھلے دو ہفتوں سے اسے جو اسائنٹمنٹ دیا گیا تھا وہ اسے لے کر وہ کافی بزی تھا اس کا ذیادہ ٹائم یونٹ میں گزرتا رات کو لیٹ آنا ہورہا تھا اسی وجہ سے وہ گل اور معامون کو فوری طور پر انوائٹ بھی نہیں کر پایا تھا۔۔۔ کل ہی اس نے معامون اور گل کو باہر ڈنر پر انوائٹ کیا تھا۔۔۔ جہاں اتفاق سے اسے بیلا کی کلاس فیلو ملی جو گل کو اور اسے کافی غور سے دیکھ رہی تھی کیوکہ اس وقت معامون ایک ضروری کال سننے اپنا موبائل لے کر ان دونوں سے دور کھڑا ہوا تھا
وہاں جانے سے پہلے وہ لڑکی ازلان سے ملنے اس کے پاس آتی ازلان خود اس کے پاس چلا گیا،، گل کو اس کے ساتھ دیکھ کر اس لڑکی نے یہی اندازہ لگایا تھا کہ گل اس کی وائف ہے جس پر ازلان نے کچھ سوچ کر اس لڑکی کی بات کی تصدیق کی کیوکہ لڑکیاں اکثر ایسی نیوز اپنی دوسری سہیلیوں کو سناتی ہیں اور ازلان چاہتا تھا کہ یہ نیوز بیلا تک پہنچے اور وہ اس کے پاس چلی آۓ لیکن وہ یہ نہیں چاہتا تھا بیلا گل کو اس کے ساتھ دیکھے جو وہ دیکھ چکی اور کافی ہرٹ بھی ہوئی تھی جس کا اندازہ ازلان اس کے آنسو دیکھ کر لگا چکا تھا
گل اس سے آج ملنے اس لیے آئی تھی کیوکہ معامون کی تربت میں پوسٹک آئی تھی، چند دنوں بعد اسے معامون کی ہمراہ تربت چلے جانا تھا اور وہ چاہتی تھی اس سے پہلے بیلا اور ازلان اس کے گھر پر آۓ مگر یہاں معاملہ الٹا ہوچکا تھا اب ازلان کو بیلا کو منانا تھا اس کی غلط فہمی دور کرنا تھی لیکن بیلا اب ازلان کی کال نہیں اٹھا رہی تھی۔۔۔ وہ کل نازنین اور افراہیم کے پاس جاکر ان دونوں سے ملنے کا اپنے اور بیلا کے بارے میں بتانے کا ارادہ رکھتا تھا
★
آج پھر یونیورسٹی سے واپس آکر بیلا نے اپنے آپ کو اپنے کمرے میں بند کرلیا تھا اذلان اور گل کو ایک ساتھ دیکھ کر آج اس کا بے تحاشہ دل دکھا تھا،، اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ ازلان اس پر اتنا بڑا ظلم کرسکتا ہے،، ازلان نے تو اس کے ساتھ زندگی بھر وفا نبھانے کا عہد کیا تھا پھر وہ گل کے ساتھ کیو موجود تھا۔۔ یہ گل نامی چیز آخر کیوں اس کے شوہر سے چپک کر رہ گئی تھی وہ آخر کیوں اس کے شوہر کا پیچھا نہیں چھوڑ رہی تھی
ازلان آخر کیوں نہیں سمجھتا تھا کہ وہ اپنے اور اسکے بیچ گل کو یا کسی دوسرے کو برداشت نہیں کرسکتی تھی، چاہے وہ اس سے ناراض رہتا مگر اسے نازنین اور افراہیم سے تو بات کرنے آنا چاہیے تھا وہ کب سے ازلان کا انتظار کررہی تھی اور وہ یہاں آنے کی بجاۓ اسے کال کررہا تھا۔۔۔ بیلا غصے میں موبائل کی اسکرین کو دیکھنے لگی مگر یہ ازلان کا نمبر نہیں تھا کال تو اسے عون کررہا تھا
“کیا تم خود کو اکیلا محسوس کررہی ہو، کیا تمہیں کسی کی نیڈ ہے تو تم مجھے پکار سکتی ہو تمہاری ضروتوں کا ساتھی۔۔۔
عون کا یہ میسج پڑھ کر بیلا عجیب کشمکش میں پڑگئی
“ازلان”
اپنے آنسو صاف کرتے ہوۓ اسکے منہ سے بےساختہ ازلان کا نام نکلا اب اسکے دماغ میں عون اور ازلان کو لےکر جنگ چھڑ چکی تھی
★
“جب میں گلاب خان سے بات کررہا تھا تو تم نے بیچ میں وہاں آکر مداخلت کیوں کی”
افراہیم غصے میں اپنے بیڈروم میں آتا ہوا نوف سے پوچھنے لگا
“آپ گلاب خان سے بات نہیں کررہے تھے بلکہ اس کو باتیں سنا رہے تھے”
نوف افراہیم کو دیکھ کر جتاتی ہوئی بولی اور کمرے سے باہر جانے لگی تبھی غصے میں افراہیم نے نوف کی کلائی پکڑی
“میں گلاب خان سے بات کرو یا اس کو باتیں سناؤ، تم کون ہوتی ہو گلاب خان کے فیور میں بولنے والی، میری بیوی ہوکر مجھے ہی نیچا دکھانے کے لئے گھر کے ملازموں کی سائیڈ لوگی تم”
افراہیم نے جتنی سختی سے اس کی کلائی پکڑی ہوئی تھی اتنی ہی سختی اپنے لہجے میں سماتا ہوا نوف سے پوچھنے لگا
“چند دنوں سے جو رویہ آپ نے میرے ساتھ اختیار کیا ہوا ہے وہ کسی کو لانڈی یا غلام کے ساتھ اختیار کیا جاتا ہے، صرف اپنی ضرورت کے تحت رات کے وقت آپ کو یاد آتا ہے کہ میں آپ کی بیوی ہوں اس کے بعد صبح ہوتے ہی میری حیثیت بھی ایک نوکر جیسی ہوجاتی ہے،، میرے اور اپنے رشتے کی تو بات نہ ہی کریں تو اچھا ہے اور گلاب خان سے میری کوئی رشتہ داری نہیں ہے جو میں بلاوجہ میں اس کی فیور کرو بےشک وہ یہاں ملازم ہیں مگر اپنے حق حلال کی کمائی محنت کرکے لے رہا ہے آپ کو کوئی حق نہیں پہنچتا آپ اس غریب کی بلاجواز تذلیل کریں”
نوف جو کافی دنوں سے افراہیم کا رویہ برداشت کررہی تھی آج افراہیم کے سامنے بری طرح پھٹ پڑی وہ اب مزید افراہیم کا ہتک آمیز رویہ برداشت نہیں کرسکتی تھی اس وجہ سے آج گلاب خان جواز بنا تھا ان دونوں کے بیچ تلخ کلامی کا
“پھر زبان چل رہی ہے آج تمہاری میرے سامنے، دکھاؤ ابھی میں تمہیں تمہاری زبان درازی کا انجام”
افراہیم نوف کی ہمت اور اس کے غصے کو دیکھ کر خود بھی غصے میں اسے آنکھیں دکھاتا ہوا تیز لہجے میں بولا تاکہ نوف کی چلتی ہوئی زبان بند ہوجائے
“ہاں مجھے دیکھنا ہے اپنی زبان درازی کا انجام، مجھے دیکھنا ہے کہ کیا کرسکتے ہیں آپ میرے ساتھ”
نوف ابھی بھی غصے میں تھی افراہیم کے غصے کی پروا کئے بغیر بےخوفی سے بولی شاید آج اس کی برداشت ختم ہوگئی تھی یا پھر آج اسے بھی ضد چڑھ گئی تھی
“میں تمہارا حشر بگاڑ کر رکھ دوں گا نوف اگر اب تم نے مجھے آگے سے جواب دیا تو، جھکاؤ فورا اپنی نظریں”
افراہیم نوف کے بالوں کو مٹھی جکڑتا ہوا اسے وارن کرنے لگا نوف کی زبان درازی اس وقت اسے مزید طیش دلانے لگی تھی
“نہ ہی میں اب خاموش ہوگیں نہ ہی اب میری نظریں جھکیں گیں آپ کے سامنے، نہ ہی سر۔۔۔ غلام نہیں ہو میں آپ کی سنا آپ نے۔۔۔ حشر بگاڑیں گے ناں آپ میرا اٹھاۓ پھر دوبارہ اسی دن کی طرح اپنا ہاتھ مجھ پر اور بگاڑ ڈالیں میرا چہرا یہی سب تو کرنا آتا ہے آپ کو اور کر بھی کیا سکتے ہیں آپ۔۔۔ ایسے کیا گھور رہے ہیں مجھے اٹھاۓ ہاتھ مجھ پر”
نوف غصے میں شاید اپنے حواس کھو بیٹھی تھی افراہیم کا ہاتھ پکڑ کر اس سے پہلے وہ اپنے چہرے تک مارنے کو لاتی، افراہیم نے اپنا ہاتھ جھٹک کر نوف کو پیچھے بیڈ پر دھکا دیا۔۔۔
نوف کے اتنے شدید ردعمل پر افراہیم کا اپنا غصہ ختم ہوچکا تھا۔۔ نوف بیڈ پر اوندھے منہ لیٹی ہوئی رونے لگی اور افراہیم اس کے اتنے سخت غصے کی وجہ سوچنے لگا تبھی کمرے کا دروازہ بجا
“بیگم صاحبہ آپ سے اور افراہیم صاحب سے ملنے کوئی آیا ہے”
نازنین کے کمرے میں نوری آتی ہوئی نازنین سے بولی
“ٹھیک ہے میں آرہی ہو تم افی کو بلاؤ”
نازنین نوری سے بولتی ہوئی سٹنگ روم میں چلی آئی جہاں ایک نوجوان پہلے سے اس کا منتظر تھا
ازلان آج نازنین اور افراہیم کے سامنے بیلا اور اپنے نکاح کے بارے میں بتانے کا ارادہ کر کے یہاں آیا تھا۔۔۔ نازنین کے کمرے میں آنے پر وہ صوفے سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا دس سال بعد آج وہ نازنین کو اپنے سامنے دیکھ رہا تھا نازنین خود بھی ازلان کو دیکھ کر اسے پہچاننے کی کوشش کرنے لگی
“شاید آپ مجھے پہچان نہیں پارہی ہیں میں ازلان ہوں مسسز عباد”
ازلان نازنین کی مشکل کو دور کرنے کی غرض سے اپنا تعارف کروانے لگا۔۔۔ جس پر نازنین حیرت سے ازلان کو دیکھنے لگی
“میں اور عباد تمہیں اس وقت بھی صحیح سے پہچان نہیں پائے تھے مجھے معاف کردو ہم نے تمہیں غلط سمجھا۔۔۔ عباد کو دنیا چھوڑ کر جاتے وقت اس بات کا دکھ رہا کہ وہ تم سے اور قیوم سے معافی نہیں مانگ سکے”
نازنین اپنے سامنے کھڑے ازلان کو دیکھ کر افسردگی سے بولی
“بیلا نے مجھے بتایا تھا کہ مسٹر عباد حقیقت جاننے کے بعد کافی پچھتا رہے تھے لیکن وقت ان کو زیادہ مہلت نہیں دے سکا”
ازلان کے بولنے پر نازنین حیرت زدہ ہوکر ازلان کو دیکھنے لگی
“کیا مطلب بیلا اور تمہاری بات چیت ہے”
نازنین کی بات پر ازلان ایک پل کے لئے خاموش ہوا پھر آہستگی سے بولا
“بیلا سے میں نے بچپن میں وعدہ کیا تھا اس کا ساتھ کبھی نہ چھوڑنے کا، بیلا سے میری صرف بات چیت یا دوستی نہیں ہے بلکہ میرے اور بیلا کے درمیان ایک مضبوط بندھن بھی قائم ہے اور اسی رشتہ کو لے کر آج میں یہاں آپ سے اور افراہیم سے بات کرنے آیا ہوں”
نازنین ازلان کی بات سن کر حیرت میں ڈوبی ازلان کو دیکھ رہی تھی تبھی کمرے میں افراہیم داخل ہوا
“تم یہاں میرے گھر پر کیا کررہے ہو”
افراہیم جس کا غصہ تھوڑی دیر پہلے کچھ کم ہوا تھا ازلان کو دیکھ کر ایک دم غصے میں اس سے پوچھنے لگا اس سے پہلے ازلان کچھ بولتا نازنین بول اٹھی
“افی میں تمہیں پوری اور مکمل حقیقت بتاتی ہیں، ازلان بیٹا آپ یہاں بیٹھے ہم لوگ بیٹھ کر تحمل سے بات کرتے ہیں”
یہ بات ازلان کو بیلا پہلے ہی بتا چکی تھی کہ افراہیم کو اصل حقیقت کا ادراک نہیں ہے جس کی وجہ سے ازلان اس سے کچھ ایسے ہی رویہ کی توقع کررہا تھا
“آپ بیچ میں مت بولیں مما اور تمہیں یہاں بیٹھنے کی ضرورت نہیں ہے فوراً نکلو میرے گھر سے”
افراہیم غصے اور تیز لہجے میں بولا اس سے پہلے ازلان اس کو کچھ بولتا کمرے میں اب کی بار آنے والی شخصیت کو دیکھ کر نہ صرف ایک پل کے لیے ازلان کو سانپ سونکھ گیا بلکہ افراہیم بھی لب بھینچ کر ضبط کرتا ہوا نوف کو دیکھنے لگا جو بے یقینی سے پوری آنکھیں کھولے ازلان کو دیکھ رہی تھی
★
جاری ہے
