Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 27

“افراہیم صاحب نہیں آۓ ہیں جی برابر والے بنگلے میں کوئی آیا ہے”
گاڑی کے ہارن کی آواز پر نوف چونکی تو نوری اس کو دیکھتی ہوئی بولی کیوکہ وہ پہلے بھی نوری سے دو بار افراہیم کا پوچھ چکی تھی

“حیرت ہے آج کچھ زیادہ ہی لیٹ ہوگئے آفس سے واپس آنے میں افراہیم”
وہ صبح شاید نوف سے ناراض ہوکر آفس نکلا تھا کیوکہ اس کے کمرے میں بلانے پر نوف نے اپنی جگہ نوری کو بھیج دیا تھا

“ہیں جی لیٹ کہاں سے ہوگئے ابھی افراہیم صاحب کے گھر آنے میں آدھا گھنٹا باقی ہے، لگتا ہے آج آپ کو افراہیم صاحب کی کافی یاد آرہی ہے”
نوری شرارتا اس سے بولی، نوری کی معنی خیز مسکراہٹ پر نوف اچھی خاصی شرمندہ ہوگئی

“مجھے کیو یاد آنے لگی میں تو آنٹی کی طبعیت کی وجہ سے ان کا پوچھ رہی تھی، آنٹی جاگ جائے گیں تو وہ سب سے پہلا سوال افراہیم کے بارے میں پوچھیں گیں کہ کب آۓ گیں آفس سے”
نوف نوری کو بولتی ہوئی نازنین کے کمرے میں چلی آئی

نازنین کے سونے کے بعد وہ اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔۔۔ شاور لینے کے بعد سے وہ بے سبب افراہیم کا انتظار کررہی تھی،، نازنین ابھی تک سو رہی تھی نوف نے آئستہ سے اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھا کیوکہ سونے سے پہلے اس کو فیور تھا۔۔۔ نوف کے ماتھے پر ہاتھ رکھتے ہی نازنین نے اپنی آنکھیں کھول دیں

“کون ہو تم اور میرے کمرے میں کیا کررہی ہو”
نازنین نوف کا ہاتھ جھٹکتی ہوئی ایک دم اٹھ کر بیٹھی اور سخت لہجے میں نوف سے پوچھنے لگی

“انٹی میں یمنہ ہوں”
نوف نازنین کی آنکھوں میں اپنے لیے اجنبیت دیکھ کر اس کو اپنا نام بتانے لگی مگر وہاں کوئی شناسائی کی رمک نہیں تھی بلکہ نازنین مزید سخت تیور کے ساتھ نوف کو دیکھتی ہوئی بولی

“کون یمنہ، میں کسی یمنہ کو نہیں جانتی سچ بتاؤ کیا کررہی تھی میرے گھر میں ورنہ میں تمہیں پولیس کے حوالے کردو گی”
نازنین کی بات سن کر وہ پریشان ہوگئی ہے یقینا اس کی طبیعت دوبارہ خراب ہونے والی تھی کیونکہ نازنین اس کو پہچان نہیں پارہی تھی اس لیے نوف جلدی سے بولی

“میں یمنہ ہوں آنٹی افراہیم کی بیوی، آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے پلیز آپ یہاں بیٹھے میں آپ کو آپ کی میڈیسن دیتی ہوں”
نوف کو افراہیم پہلے ہی بتا چکا تھا اس طرح کی کیفیت میں یہ فٹس پڑنے کی صورت میں نازنین کو انجکشن دیا جاتا تھا تاکہ اس کی حالت مزید نہ بگڑے۔۔۔ نوف کارنر ٹیبل کی دراز کی طرف بڑھنے لگی تبھی نازنین نے سختی سے اس کا ہاتھ پکڑا لیا

“بیوقوف بنارہی ہو تم مجھے میرا افی ابھی 17 سال کا ہے اور میں اس کی شادی کرو گی،، عباد تو آفس سے نہ جانے کب آئیں گے مگر میں تمہیں یہاں سے اپنا زیور اور پیسے چرا کر بھاگنے نہیں دوں گی”
نازنین نے غصے میں بولتے ہوئے ٹیبل پر رکھا ہوا گلاس اچانک اٹھا کر نوف کو کھینچ کر مارا

کانچ کا گلاس سر پر لگنے سے بےساختہ نوف کے منہ سے چیخ نکلی، اس سے پہلے نوف اپنے سر سے بہتا ہوا خون دوپٹے کی مدد سے روکتی نازنین نے اچانک اس پر حملہ کردیا اور نوف کا گلہ دبانا شروع کردیا

“میرا شوہر سے صحیح کہتا ہے تم لوگوں کے بارے میں، تم کم ذات چھوٹے لوگ ہوتے ہو،، تم لوگوں کو مار دینا چاہیے۔۔۔ آج میں تمہیں بھی جان سے مار ڈالو گی تاکہ تم دوسرے کے گھر میں چوری نہ کرسکو”
کمزور ہونے کے باوجود نازنین میں اس وقت اتنی طاقت آچکی تھی کہ نوف کے لاکھ چڑوانے پر بھی وہ اس کی گردن مضبوطی سے پکڑی ہوئی پوری طاقت سے دبا رہی تھی نوف کو محسوس ہوا جیسے آج وہ بچ نہیں پائے گی

“مما کیا کررہی ہیں آپ چھوڑے اس کو”
نوف کو افراہیم کی آواز سنائی دی وہ بھاگتا ہوا نازنین کے کمرے میں آکر نوف کو اس سے چھڑوانے لگا

“عباد چھوڑیں مجھے یہ ایک خطرناک لڑکی ہے ہمارے گھر میں چوری کرنے کے ارادے سے آئی ہے، میں اس کو مار ڈالوں گی”
افراہیم نازنین کو پیچھے کرتا ہوا نوف کے پاس آیا کیونکہ اس کے سر سے خون بہہ رہا تھا نازنیں ایک بار پھر نوف پر حملہ کرنے کے لئے اس پر جھپٹی مگر اس سے پہلے افراہیم نوف کو اپنے بازوؤں میں محفوظ کرچکا تھا

“یہ کوئی چور نہیں ہے مما ہوش میں آئیں”
نوف نے خوف کے مارے افراہیم کی شرٹ کو مضبوطی سے پکڑلیا جبکہ شور کی آواز سن کر نوری بھی کمرے میں آگئی اور نازنین کو دونوں بازوؤں سے پکڑتی ہوئی بیڈ کی طرف لے جانے لگی

“آنٹی کو اچانک کیا ہوگیا ہے افراہیم مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے”
نوف افراہیم کے حصار میں خوف کے مارے گھبراتی ہوئی اس سے بولی

“چھوڑ دو مجھے یہ لڑکی چور ہے عباد میری بات سمجھنے کی کوشش کریں”
نوری نازنین کو مضبوطی سے پکڑی ہوئی تھی نازنین چیخ کر افراہیم سے بولی۔۔۔ افراہیم جانتا تھا تھوڑی دیر اور گزرے گی نازنین کو سنبھالنا مشکل ہوجائے گا

“تم بیڈ روم میں جاؤ مما ٹھیک ہوجائیں گیں میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں تمہارے پاس”
افراہیم نوف کے ماتھے کا زخم دیکھ کر اسے خود سے الگ کرتا ہوا تیزی سے نازنین کی طرف بڑھا۔۔۔ نازنین مسلسل نوف کو دیکھ کر چیخ رہی تھی نوف اس کے کمرے سے باہر نکل گئی


“ازلان تمہاری سسٹر جس مال میں موجود تھی وہاں ایک اچھی کلاس کے لوگ آتے ہیں،، تمہاری سسٹر کی ڈریسنگ سے محسوس نہیں ہورہا تھا کہ وہ کوئی مشکل میں یا مجبوری میں اپنا وقت گزار رہی ہے بلکہ میں نے اسے کہا بھی کہ میں اس کی مدد کرنا چاہتا ہوں مگر تمہاری سسٹر یہ سن کر اور مجھے دیکھ کر کافی پریشان ہوگئی اسے شاید میری مدد کی ضرورت بھی نہیں تھی اس سے پہلے کہ میں اپنی پاکٹ سے موبائل نکال کر تمہاری اس سے بات کرواتا کسی نے پیچھے سے میرے سر پر وار کیا،، میں اس کا چہرہ تو نہیں دیکھ پایا لیکن مجھے گمان ہوا کہ وہ کوئی مرد تھا کیوکہ کوئی لڑکی اتنے پرزور طریقے سے وار نہیں کرسکتی، ہوش میں آنے بعد میں اس مال کے مینجر کے پاس گیا تاکہ تمہاری سسٹر کے بارے میں معلوم ہوسکے مگر بیٹ لک یہ ہوئی کہ کچھ تکنیکی خرابی کی وجہ سے مال کے کیمرے کام نہیں کررہے تھے مگر تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں بہت جلد میں تمہاری سسٹر کا پتہ لگالو گا”
مبشر کی ساری باتوں کو سوچتے ہوئے وہ لفٹ کے ذریعے اپنے فلیٹ تک پہنچا۔۔۔ نوف کے بارے میں سننے کے بعد ازلان کو مزید بےچینی بڑھ گئی مگر اندر کہیں یہ سکون اور اطمینان بھی تھا کہ اس کی بہن اسی شہر میں صحیح سلامت اور یقینا محفوظ ہاتھوں میں ہوگی۔۔ جبھی وہ مبشر سے ڈر رہی تھی اور جس نے مبشر پر وار کیا ہوگا لازمی اس نے نوف کو سیف کرنے کے لیے ایسا قدم اٹھایا ہوگا مگر ساتھ ہی ازلان کو یہ بھی بےچینی تھی کہ نوف اس سے کانٹیکٹ کیوں نہیں کررہی تھی،، جو بھی ہو لیکن آج ازلان کو اس دن کی طرح خوف نہیں تھا جب اس کو ایک لڑکی کی ڈیڈ باڈی شناخت کرنے کے لئے بلوایا گیا تھا۔۔۔ نوف کے لیے فکرمند اور پریشان وہ اب بھی تھا لیکن اسے یہ اطمینان تھا کہ وہ محفوظ ہاتھوں میں تھی

فلیٹ کا دروازہ کھولتے ہوئے سوچوں کا تسلسل ٹوٹا اور اس کا دھیان ایک دم بیلا کی طرف چلاگیا۔۔۔ اندر سے اس کا فلیٹ اسی کی طرح ویران ہوگا بیلا کے اس کی زندگی میں آنے کے بعد یہ تنہائی ازلان کو مزید کھلنے لگی تھی وہ جلد سے جلد بیلا کو اپنے پاس ہمیشہ کے لیے لانے کا ارادہ کرچکا تھا۔۔۔ ازلان بیگ لے کر فلیٹ کے اندر داخل ہوا تو ازلان کے نتھنوں سے کھانے کی خوشبو ٹکرائی جو اس وقت کچن سے آرہی تھی وہی سامنے بیلا کا ہینڈ کیری دیکھ کر بےساختہ اسکے چہرے پر مسکراہٹ آئی

چہرے پر مسکراہٹ سجائے چلتا ہوا وہ کچن کے دروازے پر کھڑا ہوا جہاں بیلا پہلے سے ہی اس کی منتظر تھی اسے اپنے فلیٹ میں دیکھ کر ازلان کی اداسی کہیں دور جا بھاگی ازلان چلتا ہوا بیلا کے پاس آیا اور بنا کچھ بولے اسے اپنے حصار میں لے لیا۔۔۔ بیلا کا لگیج دیکھ کر اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ گھر نہیں پہنچی تھی بلکہ سیدھا اس کے اپارٹمنٹ میں آگئی تھی

“مجھے معلوم تھا تم مجھے مجھ سے بھی زیادہ مس کرنے والی ہو، نہ ہی تم سے میرے بغیر رہا جائے گا اور میری یاد نے تمہیں میرے پاس آنے کے لئے مجبور کیا ہوگا”
ازلان بیلا کو اپنے بازوؤں میں بھرے اس سے بولا تو بیلا نے زور سے اس کے بازو پر چٹکی بھری

“زیادہ اترانے کی ضرورت نہیں ہے، میرے گھر جانے پر ٹیکسی میں جو تمہاری حالت ہو رہی تھی ناں اسی کا سوچ کر میں یہاں آئی ہوں تمہارے پاس”
بیلا اس کی ساری خوش فہمی دور کرتی ہوئی بولی مگر سچ تو یہ تھا گھر پہنچنے سے پانچ منٹ پہلے اس نے ٹیکسی ازلان کے اپارٹمنٹ کی طرف ٹرن کروالی تھی بیلا کی بات سن کر ازلان نے اسے اپنے دونوں بازوؤں میں اٹھالیا

“یہ کیا کررہے ہو ازلان نیچے اتاروں مجھے”
بیلا اس کے یوں اچانک اٹھانے پر بوکھلاتی ہوئی بولی مگر ازلان کچھ بولے بغیر اسے کچن سے لیونگ روم میں لے آیا

“سنائی نہیں دے رہا تمہیں اتارو مجھے، کیا کررہے ہو”
بیلا کے دوبارہ ٹوکنے پر وہ اسے صوفے پر بٹھاتا ہوا اس سے بولا

“گھر آئے مہمان کی اچھی طرح خاطرداری کرنا ایک اچھے مہمان کا فرض ہے ویسے بھی جو حالت تم اپنے دور جانے پر میری چند گھنٹے پہلے دیکھ چکی ہو، اس کے مطابق تو اب تمہیں میری فیلنگز کا احترام کرتے ہوئے میرے ہر عمل پر خاموش رہنا چاہیے”
ازلان بیلا کو صوفے پر لٹانے کے بعد خود اس کے ہونٹوں پر جھک کر اپنے پیاسے ہونٹوں کی پیاس بجھانے لگا۔۔۔ بیلا اپنی آنکھیں بند کیے بناء کسی مزاحمت کے اس کی شدتوں کو محسوس کرنے لگی۔۔۔ چند سیکنڈ کی خاموشی کے نذر ہوگئے تو ازلان نے بیلا کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے جدا کیا

وہ آنکھیں بند کیے اپنی سانسوں کو بحال کرنے میں لگی تھی ازلان بیلا کے اوپر جھکا اس کا چہرہ غور سے دیکھ رہا تھا تب بیلا نے آہستہ سے اپنی آنکھیں کھولیں

“اگر آج تم میرے پاس نہیں آتی تو میں خود رات ہوتے ہی تمہارے پاس آجاتا”
ازلان بیلا کا چہرہ دیکھتا ہوا اسے بتانے لگا

“میرے خواب میں”
بیلا چہرے پر مسکراہٹ لاۓ ازلان سے پوچھنے لگی جس پر ازلان خود بھی مسکرا دیا اور نفی میں سر ہلاتا ہوا بولا

“خواب میں نہیں حقیقت میں، اس دن کی طرح تمہارے بیڈ روم میں تمہارے بےحد قریب”
وہ بیلا کا چہرہ دیکھتا ہوا اس کے ملائم گال کو اپنی انگلیوں سے چھوتا ہوا بولا تو بےساختہ بیلا کی زبان پھسلی

“اور پھر آکر کیا کرتے”
جملہ منہ سے ادا کرکے بیلا ایک دم پچھتائی مگر اس کے کچھ وضاحت کرنے سے پہلے ازلان بول پڑا

“وہی کرتا جو اب کروں گا”
ازلان بولتا ہوا بیلا کے چہرے پر دوبارہ جھلکنے لگا

“ازلان نہیں پلیز میرا وہ مطلب نہیں تھا”
بیلا گھبرا کر اپنی بولی ہوئی بات پر پچھتائی مگر ازلان اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے چپ رہنے کا اشارہ کرتا ہوا اس کی گردن پر جھک گیا۔۔۔ ازلان کا محبت بھرا ہونٹوں کا لمس جگہ جگہ اپنی گردن پر محسوس کرکے وہ آنکھیں بند کیے اذلان کے کندھوں کو مضبوطی سے تھام چکی تھی

“ازلان بس کرو پلیز”
بیلا گھبرا کر بولنے پر تب مجبور ہوئی جب ازلان کے جذبات مزید شدت اختیار کرنے لگے ازلان اٹھ کر بیٹھا تو بیلا بھی اپنے حواسوں میں آتی ہوئی اٹھ کر صوفے پر بیٹھ گئی اچانک بےنام سی خاموشی ان دونوں کے درمیان پیدا ہوگئی جسے دور کرنے میں ازلان نے پہل کی

“اس دن کھانا تم نے بہت زبردست بنایا تھا بالکل میری امی کے ہاتھ جیسا ذائقہ آرہا تھا، یہ بتاؤ آج کیا کھلا رہی ہو اپنے پیارے پیارے ہاتھوں سے بناکر”
بیلا کو گھبرایا ہوا اور خاموش دیکھ کر ازلان عام سے انداز میں اس کا ہاتھ تھام کر پوچھنے لگا

“ہری مرچ قیمہ بنانا تو میں نے یمنہ سے سیکھا تھا خاص تمہارے لیے، ابھی فش فرج سے دستیاب ہوئی ہے تو فش فلے تیار کررہی ہو”
بیلا ازلان سے اپنا ہاتھ چھڑواتی ہوئی صوفے سے اٹھ کر کچن میں جانے لگی تو ازلان بولا

“ٹھیک ہے تم جلدی سے ڈنر ریڈی کرو، ڈنر سے فارغ ہونے کے بعد میں تمہیں تھوڑی بہت اسٹڈی کروا دوں گا، اچھے بچوں کی طرح پڑھائی کرنے کے بعد ہم دونوں اچھی سی کافی پیئے گے اور سب سے آخر میں سونے سے پہلے تم یہ ڈائیلاک بالکل نہیں بولو گی کہ ازلان بس کرو کیوکہ آج رات میں بالکل بس نہیں کرنے والا”
اس کی آخری بات پر بیلا کو جھٹکا لگا وہ کچن میں جارہی تھی پلٹ کر صوفے پر بیٹھے ہوئے ازلان کو دیکھنے لگی جو تھوڑی دیر پہلے اپنی بےباکی سے اس کی ہارٹ بیٹ بڑھا چکا تھا، اپنی بات مکمل کر کے وہ خود بھی گہری نگاہوں سے بیلا کو دیکھنے لگا تو بیلا چلتی ہوئی دوبارہ اس کے پاس آئی

“اب تم کچھ زیادہ ہی فری ہورہے ہو”
بیلا ازلان کو دیکھتی ہوئی بولی تو وہ صوفے سے اٹھ کر بیلا کے مقابل کھڑا ہوا، اپنے دونوں بازوؤں کو بیلا کے کمر کے گرد لپیٹ کر اس خود سے قریب کرتا ہوا بولا

“میں آج کی رات اور بھی بھرپور طریقے سے فری ہونے والا ہو، اگر تم نے مجھے کہا “ازلان بس کرو” تو میں بس کرنے کی بجائے حد کردو گا”
ازلان بیلا کو اپنے حصار میں لیے اس کے سرخ ہوتے گالوں کو دیکھ کر بولا جو اس کی بےباک گفتگو سے اپنا رنگ بدل چکے تھے

“تم دس سال پہلے ایک سادہ اور شریف انسان ہوا کرتے تھے”
ازلان کی بات سن کر بیلا سے اپنی پلکیں نہیں اٹھائی گئی تھی۔۔۔ پلکوں کی باڑ گرائے وہ ازلان کے حصار میں افسوس کرتی ہوئی اسے یاد دلانے لگی

“سادگی اور شرافت کو چھوڑے ہوئے تو زمانہ گزر چکا ہے۔۔۔ اب تو جو ہو، جیسا ہو، تمہارے سامنے ہو، ایڈجسٹ تو ہر حال میں تمہیں کرنا پڑے گا”
ازلان ابھی بھی بیلا کے سرخ گالوں پر اپنی نظریں جمائے بےحد سنجیدہ انداز میں اُس سے بات کررہا تھا جبکہ بیلا کی پلکیں ابھی تک جھکی ہوئی تھیں

“میں تمہیں خود سے زیادہ فری نہیں ہونے دوگی سمجھے تم”
بیلا نے بولتے ہوئے ازلان کے حصار سے نکلنے کی کوشش کی تو اچانک ازلان کی گرفت میں سختی آگئی

“تمہیں لگ رہا ہے کہ آج رات تم مجھے خود سے فری ہونے سے روک سکتی ہو یا پھر تمہیں یہ خوش فہمی ہے کہ میں تمہارے روکنے پر ویسے ہی شرافت کا مظاہرہ کرو گا جیسے چند سیکنڈ پہلے میں نے کیا تھا”
ازلان بیلا کو اپنی سخت گرفت میں لیے، لہجے میں نرمی سمائے پیار بھرے انداز سے اس سے پوچھنے لگا۔۔۔۔ اس کے انداز پر بیلا نے پلکوں کی جھالر آئستہ سے اٹھائی، ازلان بیلا کے چہرے پر نظریں گاڑھے کھڑا تھا بیلا نے دوبارہ اپنی پلکیں جھکالی

“اگر تم نے مجھ سے ذرا سی بھی بدتمیزی کی تو میں اسی وقت تمہارے فلیٹ سے چلی جاؤ گی”
وہ جب سے آیا تھا اپنی باتوں اور حرکتوں سے مسلسل اس کا دل دہلا رہا تھا اس لیے بیلا نے بھی اس کو دھمکی دے ڈالی۔۔۔ جس کا اثر لیے بغیر ازلان اپنے ہونٹ بیلا کے گلابی گال پر مس کرتا ہوا اس کے کان تک لایا اور سرگوشی کرنے والے انداز میں گویا ہوا

“آج صرف بدتمیزی نہیں بلکہ ڈھیر ساری بدتمیزیاں ہوگیں، جنھیں تم کُھلے دل کے ساتھ برداشت بھی کرو گی۔۔۔ اور رہی تمہاری میرے فلیٹ سے جانے والی بات تو میری جان، تم یہ کوشش بھی کرکے دیکھ لینا۔۔۔ میری دسترس میں آنے کے بعد تم خود کو ہر طرح سے بےبس اور مجبور ہی پاؤ گی”
ازلان بیلا کے کان میں محبت بھرا رس گھولتا ہوا اسے اپنی گرفت سے آزاد کرکے اس سے دور ہوا


افراہیم کے کہنے پر وہ بیڈ روم میں تو آچکی تھی مگر ابھی بھی خوف کے زیر اثر سہمی ہوئی تھی، اپنے ماتھے پر لگی ہوئی چوٹ کو بھول کر وہ بیڈ روم میں موجود نازنین کہ کمرے سے آتی ہوئی چیخوں کی آوازیں سن رہی تھی۔۔۔ نازنین کے چیخنے کا سلسلہ بند ہوا تو اس کے دس منٹ بعد افراہیم نوف کے پاس چلا آیا اس کے ہاتھ میں فرسٹ ایڈ باکس تھا جسے دیکھ کر نوف خاموش صوفے پر بیٹھی رہی افراہیم اس کے پاس آتا ہوا اس کے ماتھے کا زخم دیکھنے لگا

“درد ہو رہا ہوگا ناں بہت زیادہ”
افراہیم نوف کو دیکھ کر فکرمندی سے پوچھنے لگا اور ساتھ ہی پائیوڈین میں ڈوبی ہوئی روئی سے اس کے ماتھے کا زخم صاف کرنے لگا، آئینٹمینٹ لگاتے ہوئے اس نے خدا کا شکر ادا کیا تھا کہ زخم زیادہ گہرا نہیں تھا ورنہ تھوڑی دیر پہلے افراہیم اس کے ماتھے سے نکلتا ہوا خون دیکھ کر ڈر گیا تھا کہ کہیں اسے زیادہ چوٹ نہ آئی ہو لیکن اس کے باوجود نوف کے ماتھے پر زخم دیکھ کر اسے افسوس ہورہا تھا

“اس سے پہلے مما نے کبھی ایسا ری ایکٹ نہیں کیا جس سے کسی کو نقصان پہنچا ہو، میں ان کے لئے فکرمند ہونے کے ساتھ ساتھ تمہارے لئے بھی فکر مند ہو جلدی ان کے لئے کسی کیئر ٹیکر کا ارینج کردو گا جو ان کو اچھی طرح سنبھالے،، آئی ایم ریلی سوری کہ مما کی وجہ سے تمہیں تکلیف برداشت کرنا پڑی”
افراہیم آئینٹمنٹ لگانے کے ساتھ ساتھ نوف سے بولا تو نوف اپنے ماتھے سے افراہیم کا ہاتھ ہٹاتی ہوئی صوفے سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی

“کیا مطلب ہے آپ کی اس بات کا کہ آپ آنٹی کے لیے کیئر ٹیکر کا ارینج کردیں گے، آپ کو کیا لگتا ہے افراہیم آنٹی کے ایسے ری ایکشن سے ڈر کر اب میں ان کے پاس نہیں جاؤں گی، آپ نے میری نیچر کو بہت غلط جج کیا ہے اگر میں آنٹی کے اس ری ایکشن سے ڈری ہو تو اس کی وجہ یہ ہے کہ آنٹی خود کو کہیں نقصان نہ پہنچالیں اور آپ کو ان کی طرف سے سوری کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ نہ ہی میں ان پر غصہ ہوں نہ ہی ان سے خفا ہو،، میرے دل میں ان کے لئے عزت اور محبت اس واقعے سے کم نہیں ہوگئی ہے جو آپ کو سوری کہنے کی ضرورت پیش آرہی ہے”
نوف کی مکمل بات سن کر افراہیم خود بھی صوفے سے اٹھ کر اس کے مقابل کھڑا ہوا اور اسے اپنے بازوؤں میں بھرتا ہوا بولا

“پھر آنٹی کے بیٹے کا کیا قصور ہے تمہاری تھوڑی سے محبت کا تو وہ بےچارہ بھی حقدار ہے آخر اس مظلوم سے تمہاری کیا دشمنی ہے جو تم اس سے خفا خفا رہتی ہو”
افراہیم نوف کو اپنے بازوؤں میں سماۓ پیار بھرے لہجے میں اس سے پوچھنے لگا

“اپنے آپ کو بچارا اور مظلوم ہرگز مت کہئیے جو آپ کل رات میرے ساتھ کرچکے ہیں اس کے بعد تو یہی مناسب رہے گا کہ آپ مجھ سے بات مت کریں”
نوف کل رات والی بات کو لےکر نہ صرف اس سے ناراض ہوئی تھی بلکہ اس کے بازوؤں کا حصار توڑ کر کمرے سے جانے لگی مگر اس سے پہلے افراہیم نے نوف کا بازو پکڑ کر اس کا رخ اپنی طرف کیا

“شادی کرنے کے لیے تمہیں کڈنیٹ کیا تھا میں نے، یا پھر گن پوائنٹ تمہیں نکاح قبول کروایا گیا تھا جواب دو،، کسی قسم کا پریشر ڈالا گیا تھا شادی کرنے کے لیے تمہارے اوپر یا پھر بلیک میلنگ پر تم نے نکاح نامے پر مجبور ہوکر سائن کیے تھے۔۔۔ اگر ان میں سے کوئی بھی ریزن ہوتا تو کہا جاسکتا ہے کہ تمہاری مرضی کے بغیر تم سے رشتہ جوڑنے کے بعد کل رات میں نے تم سے زبردستی۔۔۔ نکاح نامے پر تم نے اپنی مرضی سے سائن کیے تھے ناں تو کیا غلط کیا میں نے کل رات کو تمہارے ساتھ بتاؤ مجھے،، مجھ سے شادی ہونے کے باوجود تمہارا مجھ سے بلاوجہ گریز،، کیا سمجھو میں اس بات کو وضاحت کرو ابھی اور اسی وقت”
افراہیم کے موڈ کو بگڑنے میں دیر نہیں لگی تھی وہ سنجیدگی سے اس سے جواب طلب کرنے لگا نوف اسکے کڑے تیوروں کو دیکھ کر بالکل خاموش ہوگئی

“اب خاموش کیوں ہو جواب دو مجھے۔۔۔ آخر کیا وجہ ہے تمہارے مسلسل مجھے اگنور کرنے کی”
نوف کے خاموش رہنے پر وہ مزید سخت لہجے میں بولا تو نوف آئستہ سے بولی

“میں نے آپ کو بتایا تو تھا جن حالات میں ہماری یوں اچانک سے شادی ہوئی ہے اس کے لیے میرا ذہن تیار نہیں تھا بس اس لیے مجھے ٹائم چاہیے تھا جو کل رات آپ نے مجھ پر اپنی مرضی تھوپ کر جتا دیا کہ آپ کے نذدیک میری بات کی کوئی ویلیو نہیں”
نوف افراہیم سے اپنی بات بول کر ایک بار پھر کمرے سے باہر نکلنے لگی وہ نہیں چاہتی تھی اس وقت کوئی بھی بدمزگی ہو مگر ایک بار پھر افراہیم نے اس کا بازو پکڑ کر اسے کمرے سے باہر جانے سے روک لیا

“کل رات میں نے تم پر اپنی مرضی تھوپ کر صرف اور صرف یہ جتایا ہے کہ تمہاری فضول باتوں کی میری نزدیک کوئی ویلیو نہیں۔۔۔ کتنا ٹائم چاہیے تمہیں ایک سال دو سال یا پانچ سال کس لیے؟؟؟؟ شادی تو ہوچکی ہے ناں اب ہماری تو پھر یہ سب اسٹوپڈ حرکتیں کیوں۔۔۔۔ یمنہ دیکھو میں ایک میچور پرسن ہو یہ سب حرکتیں کرنا میرے نزدیک صرف ایک بے وقوفانہ عمل سے زیادہ اور کچھ نہیں،، اب ان سب فضول باتوں کے بارے میں ہم دونوں دوبارہ ڈسکس نہیں کریں گے ہاں اگر ان باتوں کے علاوہ تم مجھ سے منسلک جو بھی خدشات اپنے دل میں لےکر بیٹھی ہو وہ تم مجھ سے بلاجھجک شیئر کرسکتی ہو”
افراہیم آخری بات پر دوبارہ نرم پڑتا ہوا نوف سے بولا تو ایک پل کے لئے نوف نے سوچا وہ افراہیم کو اپنے اصل گریز کی وجہ بتادے یعنی اپنی اصل پہچان مگر کچھ سوچ وہ ایک دم بول پڑی

“تاشفہ کون ہے”
نوف کے اچانک پوچھنے پر افراہیم کے چہرے پر ایک دم مسکراہٹ آئی وہ ایک بار پھر نوف کو اپنے حصار میں لیتا ہوا بولا

“میرے کالج فرینڈ معیز کی کزن تھی، معیز نے ہی میری اس سے دوستی کروائی تھی تاکہ میں اور تاشفہ ایک دوسرے کو سمجھ سکیں جان سکے اور اس کے بعد”
افراہیم اسے آرام سے بتا ہی رہا تھا نوف اس کے حصار میں موجود اس کی بات کاٹتی ہوئی بولی

“اتنا گھما پھرا کر کیا بتارہے ہیں سیدھا سیدھا بولیں کہ آپ کے کالج فرینڈ نے اپنی کزن سے آپ کی سیٹنگ کروائی تھی، گرل فرینڈ رکھنے والا کارنامہ تو ویسے بھی مرد بہت فخریہ انداز میں بتاتے ہیں۔۔۔ ہاں جب گرل فرینڈ لات مار جائے تو تھوڑے دنوں تک ایگو کو ٹھیس پہنچتی ہے”
افراہیم پہلے تو اس کی بات پر زور دار قہقہہ لگا کر ہنسا پھر باہوں میں موجود نوف کے گال کو ہونٹوں سے چھوتا ہوا پیچھے ہوا خود دیوار سے ٹیک لگا کر بولا

“دیکھو میں نے تم سے دوسرے شوہروں کی طرح کچھ چھپایا نہیں ہے جو تھا وہ بتا دیا لیکن ایک بات یہ بھی بتادو کہ اس نے لات نہیں ماری تھی مجھے، میں نے اس کو چھوڑا تھا کیوکہ مجھے نہیں لگتا تھا میرا اور تاشفہ کا ریلیشن آگے جاکر اسٹرونگ ثابت ہوگا۔۔۔ اور تم سے شادی کرنے کی بڑی اور خاص وجہ یہی ہے کہ مجھے لگتا ہے آگے جاکر ہم دونوں کی بانڈینگ کافی اسٹرونگ ہونے والی ہے”
افراہیم کے بولنے پر نوف خاموشی سے اس کو دیکھنے لگی، معلوم نہیں وہ یہ بات کس بل بوتے پر کہہ رہا تھا آگے جاکر نہ جانے ان کا رشتہ پائیدار ہوتا یا کمزور،، نوف افراہیم کو دیکھتی ہوئی ساری باتیں سوچنے لگی تو افراہیم نے نوف کو خیالوں میں گم دیکھ کر اس کے آگے اپنا ہاتھ بڑھایا،، نوف خیالوں میں کھوئی ہوئی افراہیم کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو دیکھ کر چلتی ہوئی اس کے پاس آئی اور افراہیم کا ہاتھ تھاما۔۔۔ جسے افراہیم نے اپنے ہونٹوں سے لگانے کے بعد اس کا چہرا اپنے ہاتھوں میں تھاما

“اتنا کیا سوچ رہی ہو ڈیئر وائف میں بالکل سچ کہہ رہا ہوں آگے جاکر واقعی ہماری بانڈینگ کافی اسٹرونگ ہوگی تم دیکھ لینا بس زیادہ نہیں بالکل تھوڑا سا اپنے روڈ ایٹیٹیوڈ میں کمی لے آؤ باقی تو سب سیٹ ہے”
افراہیم بولتا ہوا نوف کے ہونٹوں پر جھکا تو نوف نے جھٹ سے اپنی آنکھیں بند کرلیں خود کو سیراب کرتا ہوا وہ خوشگوار موڈ میں پیچھے ہوا تو نوف نظر اٹھائے بغیر پلٹ کر کمرے سے جانے لگی تبھی افراہیم نے اس کا انچل کا سراہ پکڑا نوف پلٹ کر افراہیم کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی

“پوچھنا یہ تھا ڈیئر وائف کہ آج رات تم کون سے کلر والی نائٹی پہنے والی ہو، میرے خیال میں پنک والی سہی رہے گی”
افراہیم نے پوچھنے کے ساتھ خود ہی سوچتا ہوا بولا تو نوف اسے گھورنے لگی کل شاپنگ کرتے ہوئے افراہیم نے اس کے لیے پانچ سے چھ الگ الگ قسم کی نائٹی خود چوز کی تھیں

“افراہیم میں ایسی واہیات سی ڈریسنگ بالکل بھی نہیں کروں گی،، آپ کو عجیب سا نہیں لگ رہا مجھ سے ایسی ڈیمانڈ کرتے ہوئے اور آج رات آپ بالکل تمیز کے دائرے میں رہیں گے”
افراہیم کے خطرناک عزائم کا سن کر نوف اس کو وارن کرتی ہوئی بولی

“وہ ساری نائٹیز میں نے خالی خولی اپنے دیکھنے کے لیے نہیں لی اور عجیب سا کیوں لگے گا یہ ڈیمانڈ میں اپنی خود کی بیوی سے کررہا ہوں پڑوس میں حامد صاحب کی بیوی سے نہیں۔۔۔ اور کل رات بھی میں بالکل تمیز کے دائرے میں ہی رہا ہوں،، اس لیے اب مجھے زیادہ ایٹیٹیوڈ مت دکھانا سنا نہیں تم نے آج صبح مما کیا بول رہی تھیں انہیں ہم دونوں سے ایک گول مٹول سا پیارا سا بچہ چاہیے”
افراہیم روعب دار لہجہ بناکر بولتا ہوا خود کمرے سے باہر نکل گیا

“پنک نائٹی، گول مٹول سا پیارا سا بچہ یا اللہ”
نوف آئستہ آواز میں بولتی ہوئی ٹینشن سے آنکھیں بند کرکے آج رات کا سوچنے لگی۔۔۔ وہ تو صبح کی طرح آج رات کو نوری کو بھی اپنی جگہ کمرے میں نہیں بھیج سکتی تھی

“وہ سب تمیز کے دائرے میں تھا”
نوف گھبرا کر خود کلامی کرتی ہوئی خود بھی کمرے سے باہر نکل گئی


جاری ہے