No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
“بھائی یمنہ تو چلی گئی اب کیا ہوگا”
بیلا ہال میں آکر پریشان ہوتی ہوئی بولی تو افراہیم کو نوف کی حرکت پر غصہ آنے لگا وہ خاموشی سے ٹراؤزر کی پاکٹ سے اپنا موبائل نکال کر میسج ٹائپ کرنے لگا جبکہ بیلا افراہیم کے اتنے آرام سے کھڑے رہنے پر حیرت زدہ ہوکر اس کو دیکھتی ہوئی دوبارہ بولی
“بھائی آپ یمنہ میں واقعی انٹرسٹڈ ہیں یا صرف مما کے کہنے پر اس کو پرپوز کردیا آپ نے”
بیلا کے پوچھنے پر افراہیم اسکرین سے نظر ہٹاکر اس کی طرف متوجہ ہوکر بولا
“عجیب ایٹیٹیوڈ والی بندی ہے یار مگر ناٹ بیڈ، گزارہ ہوجائے گا میرا اس کے ساتھ ویسے تم بتاؤ اگر تمہیں بھابھی کے طور پر وہ قبول نہیں ہے تو میں ارادہ بدل دیتا ہوں اپنا”
افراہیم اپنے موبائل پر آنے والے میسج کو پڑھ کر اطمینان کرتا ہوا بولا
“کوئی ایٹیٹیوڈ والی بندی نہیں ہے کم ازکم اس تاشفہ سے تو لاکھ درجے بہتر ہے جس کی تصویر میں نے آپ کے موبائل میں دیکھی تھی مگر اب کیا ہوگا یمنہ تو یہاں سے گھر چھوڑ کر چلی گئی”
بیلا کو نوف کے گھر سے نکلنے پر پریشانی لاحق ہوچکی تھی بیلا کا بولا ہوا آخری جملہ کمرے سے باہر آتی ہوئی نازنین کے کانوں میں پڑ گیا
“افی یمنہ گھر چھوڑ کر چلی گئی اور تم نے اسے جانے دیا اسے تو راستوں کو بھی صحیح سے معلوم نہیں ہے پلیز اسے جاکر لے آؤ”
نازنین بھی نوف کے جانے سے پریشان ہوچکی تھی تبھی وہ افراہیم سے بولی
“دماغ خراب ہوگیا ہے میرا جو میں اس کو جاکر لے آؤ،، خود ہی گئی ہے تو پھر خود ہی واپس آجائے گی۔۔۔ آپ دونوں کو بھی ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ہے جاکر اپنے اپنے کمروں میں آرام کریں”
افراہیم بگڑے ہوئے موڈ کے ساتھ بولتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا جبکہ نازنین پریشان ہوکر بیلا کو دیکھتی ہوئی بولی
“میں جاکر گلاب خان کو بولتی ہو وہ واپس لےکر آجائے گا یمنہ کو”
نازنین باہر جانے لگی تو بیلا اس کو روکتی ہوئی بولی
“مما رہنے دیں آپ ٹینشن فری ہوکر اپنے کمرے میں جاکر ریسٹ کریں،، اگر یہ کوئی ٹینشن والی بات ہوتی تو اس وقت بھائی اپنے کمرے میں جانے کی بجاۓ یمنہ کے پیچھے اس کو لینے چلے گئے ہوتے اگر بھائی کو کوئی ٹینشن نہیں ہے تو اس کا مطلب ہے یمنہ واقعی خود آجاۓ گی”
بیلا نازنین سے بولتی اسے اس کے کمرے میں لے جانے لگی
وہ سڑک پر بےمقصد پیدل چل رہی تھی،، افراہیم پر غصہ کرتی ہوئی وہ گھر سے باہر نکل تو آئی تھی مگر اب اس کو سمجھ میں نہیں آرہا تھا وہ کس سے مدد لے اور کہاں جاۓ۔۔۔ ماں سے جدائی اور بھائی سے دوری کا غم بےشک اس کے دل میں موجود تھا مگر ان چند دنوں میں اسے اپنی عزت کی طرف سے کوئی دھڑکا نہیں لگا رہتا تھا جو پچھلے دس سالوں سے اسے اپنے سگے چچا کے گھر میں عدنان کی وجہ سے ہر وقت لگا رہتا تھا۔۔ ابھی وہ صحیح طور پر فیصلہ نہیں کرپائی تھی کہ کس سے مدد لے نوف کو کسی کی موجودگی کا احساس ہوا اس نے پلٹ کر دیکھا تو دو پندرہ پندرہ سال کے بچے اس کے پیچھے پیچھے آرہے تھے
“ہم بھی اکیلے تم بھی اکیلے مزا آرہا ہے قسم سے”
ان میں سے ایک لڑکا نوف کو دیکھ کر بےسری آواز میں ہانکا نوف جلدی سے مڑی اور واپس گھر کی طرف چلتی ہوئی اس نے اپنی اسپیڈ بڑھادی۔۔۔۔ جب نوف گیٹ کے اندر گھر میں داخل ہوئی تو اس کی سانسیں بحال ہوئی مگر وہاں افراہیم کھڑا تھا جسے دیکھ کر بےبسی سے نوف کی آنکھیں آنسوؤں سے بھرنے لگی۔۔۔ افراہیم نوف کا ہاتھ پکڑ کر اسے اس کے کمرے میں لے آیا۔۔۔ نوف نے اب کی بار افراہیم کے ہاتھ پکڑنے پر کوئی احتجاج نہیں کیا وہ خاموشی سے افراہیم کے ساتھ کمرے میں چلی آئی
“گھر سے باہر نکلنے کا شوق پورا ہوگیا تو اب آگے کا ارادہ بتادو پھر کیا سوچا ہے تم نے”
افراہیم اس کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر بالکل نرم لہجے سے پوچھنے لگا
“اگر آپ آنٹی کے کہنے پر مجھے اپنانا چاہتے ہیں اور آنٹی ہم دونوں کو ایک ساتھ دیکھنا چاہتی ہیں تو ٹھیک ہے مگر میری ایک شرط ہے شادی کے بعد آپ میرے بالکل بھی قریب نہیں آئیں گے”
نوف جلدی جلدی بول کر خاموش ہوگئی اور ساتھ ہی شرم کے مارے اپنا سرجھکا گئی جبکہ افراہیم اپنے سامنے کھڑی ملکہ عالیہ کی شرط سن کر اندر تک بری طرح جل اٹھا۔۔۔ وہ چلتا ہوا نوف کے قریب آیا جس پر نوف دو قدم پیچھے ہوئی اور سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی
“کیا ہو تم ہاں، سمجھتی کیا ہو آخر خود کو۔۔۔۔ مجھے لڑکیوں کی کمی ہے یا میں مرا جارہا ہوں تم سے شادی کرنے کے لئے۔۔۔ اگر میں تم سے شادی کروں گا تو صرف مما کی وجہ سے کیونکہ میں ان کی خواہش کو رد نہیں کرسکتا ورنہ میں تمہارے جیسی نخرے والی لڑکی کو منہ لگانا پسند نہ کرو”
افراہیم غصے میں نوف کو بولتا ہوا اس کے کمرے سے باہر نکل گیا تبھی اس کے موبائل پر میسج ٹون بجی
“افراہیم بھائی سسٹر کو باعزت طریقے سے واپس آپکے گھر پہنچا دیا ہے”
بیلا اپنا تیار کردہ فزکس کے اسائنمنٹ پر آخری نظر ڈالتی ہوئی اسے سبمٹ کروانے کے لیے اسٹاف روم میں پہنچی جہاں اتفاق سے ازلان کے علاوہ کوئی دوسرا ٹیچر موجود نہیں تھا اور ازلان خود بھی کسی سے موبائل پر بات کررہا تھا،، کل شام اس نے اپنے دوستوں کی موجودگی میں بیلا سے نکاح کیا تھا مگر اس کے فورا بعد ڈرائیور کے آنے کی وجہ سے بیلا کو واپس اپنے گھر جانا پڑا۔۔۔۔ غیر محسوس طریقے سے کل رات بیلا اس کی کال کا انتظار کرنے لگی مگر ازلان کی طرف سے کوئی کال نہیں آئی
اپنے اور اذلان کے نکاح والے پورے منظر کی فلم یاد کر کے وہ رات میں سوچکی تھی اور اب جب وہ صبح یونیورسٹی آئی تھی تو ازلان ازلان نہیں تھا،، بلکہ ایک سخت گیر ٹیچر آبان بنا ہوا تھا۔۔۔ جس نے فزکس کے پیریڈ میں سارے اسٹوڈنٹس کے ساتھ اس کا بھی خون خشک کیا ہوا تھا بلکہ سب اسٹوڈنٹس کی موجودگی میں اسائنمنٹ ٹائم پر سبمٹ نہیں کروانے پر ایک گھنٹے پہلے اس نے بیلا کو اچھا خاصا ڈانٹا بھی تھا
“مے آئی کم ان”
بیلا نے پھولے ہوئے منہ کے ساتھ اذلان سے اندر آنے کی اجازت مانگی جس پر ازلان موبائل پر بات کرتا ہوا آنکھوں سے اشارہ کرکے اسے اندر آنے کی اجازت دے چکا تھا
“نہیں اتنا تو مجھے اندازہ ہے کہ وہ اسی شہر میں موجود ہے لیکن حیرت اس بات کی ہے کہ پچھلے کئی دنوں سے اسے کہیں پر بھی دیکھا نہیں گیا ہے، اس کے باوجود میں ناامید نہیں ہوں بس مجھے آپ کے تعاون کی ضرورت ہے”
ازلان کو موبائل میں بات کرتا ہوا دیکھ کر وہ اپنا اسائنمنٹ ٹیبل پر رکھ کر جانے کے لیے مڑنے لگی تبھی ازلان نے بیلا کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔۔۔ بیلا نے ازلان کی طرف دیکھا وہ ابھی بھی اپنے موبائل پر بزی تھا
“نہیں اس معاملے کا بھی ابھی کچھ نہیں بنا، سمجھیں وہ معاملہ بھی فل الحال ٹھنڈہ ہے”
ازلان بیلا کے چہرے پر نظر ڈالتا ہوا موبائل پر بات کررہا تھا اس کے ہاتھ کے نیچے ابھی تک بیلا کا ہاتھ دبا ہوا تھا، اس وجہ سے وہ ازلان کے قریب ہی کھڑی ہوئی تھی
“بیٹھو”
چند منٹ بعد کال رکھنے کے ساتھ ہی ازلان نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ ہٹایا اور کرسی کی طرف اشارہ کرتا ہوا بولا تو بیلا خاموشی سے کرسی پر بیٹھ گئی
“کیسی ہو”
ازلان بیلا کے ناراض چہرے پر نظر ڈال کر اس کا حال پوچھنے لگا
“بہت بری، جبھی تو تم نے تھوڑی دیر پہلے دوسرے اسٹوڈینٹس کے سامنے مجھے ڈانٹ دیا”
بیلا منہ بناتی ہوئی ازلان سے بولی،، ازلان نے بیلا کی تیز آواز پر باقاعدہ اس کو آنکھیں دکھائی جس پر بیلا سنبھل گئی بےشک اس وقت اسٹاف روم میں کوئی موجود نہیں تھا مگر بیلا جانتی تھی اس کو دھیمے لہجے میں ازلان پر غصہ کرنا چاہیے تھا
“صرف تمہیں نہیں ڈانٹا تھا میں نے، رابیل اور عثمان کو بھی ڈانٹا تھا کیوکہ ان دونوں نے بھی وقت پر اسائنمنٹ جمع نہیں کروایا تھا”
ازلان بیلا کا اسائنمنٹ چیک کرتا ہوا اسے آئستہ آواز میں بتانے لگا تو بیلا اس کو گھورتی ہوئی کرسی سے اٹھنے لگی کیوکہ عثمان اور رابیل اس کی بیوی نہیں تھے بیلا کے خیال میں ازلان کو اسے تو تھوڑی بہت رعایت دینی چاہیے تھی
“کہاں جارہی ہو”
ازلان بیلا کو اٹھتا ہوا دیکھ کر پوچھنے لگا
“اس فضول اسائنٹمنٹ کو مکمل کرنے کے چکر میں، میں نے لنچ نہیں کیا وہی کرنے جارہی ہوں”
بیلا روٹھے ہوۓ لہجے میں ازلان کو جتاتی ہوئی بولی تاکہ ازلان کو احساس ہو وہ اس کے ڈانٹنے کی وجہ سے اب تک بھوکی بیٹھی اسائنمینٹ مکمل کررہی تھی
“اگر دوسرے اسٹوڈینٹس کی طرح تم بھی وقت پر اسائینمنٹ سبمٹ کروا دیتی تو تمہیں بھوکے رہنے کی خواری برداشت نہیں کرنا پڑتی،، جاؤ جاکر کچھ کھالو اور کل کی طرح آج شام بھی پانچ بجے پہنچ جانا”
بیلا کو ازلان کے انداز پر اور بھی غصہ آنے لگا یعنی اسے سرے سے ہی احساس نہیں تھا کہ وہ دو گھنٹے سے خالی پیٹ ہے اور اس کی وجہ سے کتابوں میں سر مار رہی تھی۔۔۔ اور وہ اس پر احسان کرتا ہوا اسے کھانے کا کہہ رہا تھا وہ بھی فضول قسم کی نصیحتوں کے ساتھ
“اور آج میرے تمہارے اپارٹمنٹ میں آنے پر کیا ہوگا”
بیلا ٹیبل پر کہنی ٹکا کر اپنی تھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھتی ہوئی طنزیہ انداز میں اذلان سے پوچھنے لگی۔۔۔ اگر کوئی دوسرا شخص یا اسٹوڈنٹ اسے یوں کلاس ٹیچر سے فری ہوکر بات کرتا ہوا دیکھ لیتا تو حیرت ہی کرتا
“ہوسکتا ہے کچھ ہو ہی جائے۔۔۔ آجانا میں انتظار کروں گا”
ازلان بھی اپنی کہنی ٹیبل پر ٹکاۓ اپنے گال پر ہاتھ رکھتا ہوا بیلا کو غور سے دیکھ کر اسی کے انداز میں بولا مگر اس کی بات پر بیلا سمٹ کر رہ گئی اور ٹیبل سے اپنی کہنی ہٹاکر سیدھی ہوکر بیٹھی
“آج شام بھائی کا نکاح ہے تو میں بزی ہوگیں میرا آنا ممکن نہیں ہوگا”
بیلا ازلان کے دیکھنے پر اس سے نظریں ملاۓ بغیر اسے افراہیم کے نکاح کے بارے میں بتانے لگی جو آج شام میں طے پایا گیا تھا
“واہ بھئی تو سالے صاحب بھی بہنوئی کے نقشے قدم پر چل نکلے۔۔۔ شام کا پروگرام پھر کینسل کردیتے ہیں میں تمہارا پھر رات میں ویٹ کروں گا”
ازلان پرسکون لہجے میں بولا تو بیلا حیرت سے اسے دیکھنے لگی
“اور تمہیں یقین ہے میں رات میں تمھارے پاس آجاؤ گی”
وہ کتنا آسان سمجھ رہا تھا بیلا کا اس کے پاس آنا، یہ بیلا ہی جانتی تھی وہ کل کس طرح اس کے اپارٹمنٹ میں آئی تھی
“نہیں مجھے تم پر یقین نہیں لیکن اپنے اوپر پورا یقین ہے اگر تم میرے پاس نہیں آئی تو آج رات میں ضرور تمہارے گھر پر تمہارے پاس آ جاؤں گا”
ازلان آئستہ آواز کے ساتھ شریفانہ انداز میں مسکراتا ہوا بیلا کو دیکھ کر بولا کیوکہ دو ٹیچرز کلاس روم میں داخل ہوچکے تھے
“کل رات میں ایک کال تک تو تم سے کی نہیں،، مطلب ایک انسان نے نکاح کیا ہے تو اس خوبصورت رشتے کی خاطر کوئی پیار بھرا سا جملہ بول دے، نئے رشتے کو لےکر اپنے پاٹنر سے اپنی فیلیگز شیئر کردے۔۔۔ کوئی احساس ہی بےدار کردے بندہ نئے رشتے کو لےکر اور تم آج رات میری فیملی کی موجودگی میں میرے گھر آنے کی بات کررہے ہو کاش کہ میں اس سڑے ہوۓ جوک پر زبردستی ہنس سکتی”
بیلا نرم لہجے میں اس پر گہرے گہرے طنز کرتی ہوئی کرسی سے اٹھ گئی کیونکہ وہ جانتی تھی ازلان نے اس کے گھر آنے والی بات ایسے ہی بولی ہوگی
صبح سے ہی گھر میں عجیب افراتفری کا سماں تھا ملازم یہاں سے وہاں دوڑ لگاتے ہوئے نظر آرہے تھے،، کہنے کو تو نکاح کی تقریب گھر میں سادگی سے رکھی گئی تھی لیکن نازنین کے ارمانوں نے اس تقریب کو سادہ ہرگز نہیں رہنے دیا تھا۔۔۔۔ وہ صبح سے ہی کچھ نہ کچھ منگوانے کے لیے ڈرائیور کے باہر کے دس چکر لگوا چکی تھی۔۔
شام میں ہونے والی نکاح کی تقریب میں افراہیم اور نازنین کے دوستوں کے علاوہ چند دو تین رشتہ دار بھی شامل تھے۔۔۔ نازنین کو آج کے دن ناصرف بیلا کے یونیورسٹی اور افراہیم کے آفس جانے پر غصہ تھا بلکہ وہ نوف کے پارلر نہ جانے پر بھی اس سے خفا تھی مگر نوف بھی کیا کرتی، اب اسے گھر سے باہر قدم نکالنے پر خوف آنے لگا تھا۔۔۔ نازنین کی ناراضگی کو دیکھکر اس نے نازنین کو بیوٹیشن کو گھر بلوانے کا مشورہ دے تو دیا تھا مگر تھوڑی دیر پہلے بیوٹیشن نے جو سروس کے نام پر نوف کے ہاتھ پاؤں پر ویکس کے بعد فیشل کرنا شروع کیا تھا وہ بری طرح اکتا چکی تھی، ابھی بھی اس کی اکتاہٹ ختم نہیں ہو پائی تھی کہ نازنین کے کہنے پر بیوٹیشن نے اس کے ہاتھ پاؤں کو مہندی کے ڈیزائن سے بھرنا شروع کردیا
کمرے سے باہر نازنین کی صلواتیں سنانے سے وہ اندازہ لگا چکی تھی کہ افراہیم آفس سے گھر آچکا تھا، بیوٹیشن تھوڑی دیر پہلے ہی مہندی سے اس کے ہاتھ پاؤں پر نقش و نگار بناکر جاچکی تھی چند گھنٹے بعد ہی دوسری بیوٹیشن کو آجانا تھا اس کو شام کی تقریب کے لیے تیار کرنے کے لیے، لیکن اس وقت شدید بھوک لگنے کی وجہ سے نوف کو رونا آنے لگا تھا۔۔۔ اس نے ٹینشن اور افراتفری میں صبح سے ہی کچھ نہیں کھایا تھا اور اب اس نے اپنا خالی کمرہ دیکھ کر رونا شروع کردیا تھا
“تمہیں کیا ہوگیا ہے رو کیوں رہی ہو تم”
ابھی روتے ہوئے اس کو چند سیکنڈ ہی گزرے تھے کہ افراہیم اس کے کمرے میں آتا ہوا نوف کو دیکھ کر پوچھنے لگا۔۔۔ افراہیم کو اپنے سامنے دیکھ کر نوف نے مزید بلک بلک کر رونا شروع کردیا
“یمنہ مجھے کچھ بتاؤں گی کہ تمہیں کیا ہوا ہے”
افراہیم نوف کے رونے پر بیڈ پر اس کے قریب بیٹھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا تو نوف کو احساس ہوا اس کا دوپٹہ بیڈ پر رکھا ہوا تھا۔۔۔ نوف نے دوپٹہ اٹھانے کے لئے آگے ہاتھ بڑھایا اس سے پہلے افراہیم نے اس کا بازو پکڑا
“کیا کررہی ہو سارا ڈیزائن خراب ہوجائے گا مہندی کا”
افراہیم نے بولنے کے ساتھ احتیاط سے اس کے کندھے پر دوپٹہ رکھا
“اب مجھے بتاؤ کہ رو کیوں رہی ہو اس طرح”
افراہیم نے دوپٹہ اس کے کندھے پر ڈالنے کے ساتھ نوف سے اس کے رونے کی وجہ پوچھی
“مجھے بھوک لگ رہی تھی بہت زیادہ”
نوف افراہیم کو دیکھ کر اپنے رونے کی وجہ بتانے لگی
“او گاڈ کوئی بھوک لگنے پر اس طرح روتا ہے، حیرت ہورہی ہے مجھے۔۔۔ رکو میں کچھ بندوبست کرتا ہوں تمہاری بھوک کا”
افراہیم مسکراتا ہوا بیڈ سے اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گیا تو نوف کو عجیب افسردگی نے آگھیرا۔۔۔۔ کیا وہ اس کو ذرا سی بھی یاد نہیں تھی بےشک دس سال پہلے ان دونوں کی اتنی زیادہ ملاقات نہیں ہوئی تھی لیکن کیا وہ اتنی بھی اس قابل نہیں تھی کہ افراہیم اس کو اپنی یاداشت میں محفوظ رکھ سکتا۔۔۔ آج نکاح کے وقت وہ ولدیت میں اس کے باپ کا نام دیکھ کر بھی وہ اس کو نہیں پہچانے گا اور اگر افراہیم اس کو آج یا پھر بعد میں جان جاتا تب افراہیم کا کیا ردعمل ہوگا
“اب یہ کھاؤ گی کیسے سارا تمہارے ہاتھوں کا ڈیزائن خراب ہوجائے گا چلو میں اپنے ہاتھ سے کھلا دیتا ہوں تمہیں”
افراہیم واپس کمرے میں آکر نوف کے ہاتھوں کو دیکھنے کے بعد خود سلوشن نکالتا ہوا بولا اور ہاتھ میں اسپگیٹی سے بھری ہوئی پلیٹ بیڈ پر نوف کے سامنے ہی رکھ کر بیٹھ گیا
“جی نہیں میں کوئی بچی نہیں ہوں جو آپ مجھے آپنے ہاتھ سے کھلاۓ گے میں خود اپنے ہاتھ سے کھالو گی”
نوف اسکو فری ہوتا دیکھ کر بولی تو افراہیم کو اس کی اکھڑ دکھانے پر غصہ آنے لگا لیکن آج کے دن وہ اس لڑکی سے نیا رشتہ قائم کرنے جارہا تھا تو اس پر غصہ نہیں کرسکتا تھا
“اگر یہ مہندی کا ڈیزائن ذرا سا بھی خراب ہوگیا تو مما کو ٹینشن شروع ہوجائے گی،، آج کے دن انہیں اپنے افی کی دلہن بالکل پرفیکٹ نظر آنی چاہیے کیونکہ مرگز نگاہ تم ہوگی،، صبح سے ہی انہیں کاموں کی وجہ سے اتنا ڈپریشن ہے ابھی انہیں نیند کی ٹیبلٹ دے کر آرہا ہو تاکہ وہ تھوڑی دیر ریسٹ کرلیں،، اب نخرے دکھائے بغیر جلدی سے منہ کھولو پھر مجھے بھی دوسرے کام نمٹانے ہیں”
افراہیم اسے آرام سے سمجھاتا ہوا اسپیگیٹی سے بھرا چمچہ اس کے منہ کے قریب لایا تو نوف کو ناچاہتے ہوئے بھی منہ کھولنا پڑا
” مگر مجھے مرکز نگاہ بننے کا شوق نہیں ہے، نہ ہی مجھے سج سنور کر لوگوں کو اپنا آپ دکھانا ہے،، مجھے اس مہندی سے بھی بہت الجھن ہورہی ہے۔۔۔ میں اس طرح بالکل کمفرٹیبل فیل نہیں کررہی ہو”
افراہیم کی نگاہیں اپنے چہرے پر محسوس کرکے نوف جان بوجھ کر اکتائے ہوئے لہجے میں بولی، تو افراہیم دوسرا چمچہ بھر کر، اس کے منہ کے قریب لے جاتا ہوا بولا
“مجھے بھی شوق نہیں ہے اپنی چیز کو مرکز نگاہ بنانے کا، آج کے دن تمہارا سجا سنورا روپ میرے علاوہ کوئی نہیں دیکھے گا میں مما کو خاص طور پر یہ بات بول دو گا۔۔۔ تھوڑی دیر بعد اپنے ہاتھ پاؤں واش کرلینا آج کے دن مہندی کا رنگ ہاتھوں پر گہرا چڑھے یہ ضروری نہیں،، محبت کا رنگ ایسا ہونا چاہیے جو تاعمر اپنی گہری چھاپ قائم رکھ سکے”
افراہیم جذبے لٹاتی نظروں سے نوف کو دیکھ کر بولا تو نوف کا دل زور سے دھڑکنے لگا، وہ خاموشی سے افراہیم کو دیکھنے لگی
“منہ تو کھولو یار کہاں کھو گئی”
افراہیم کے بولنے پر نوف نے ذرا سا منہ کھولا تو افراہیم اس کو پھر سے اسپیگیٹی کھلانے لگا۔۔۔ نوف کو گھبراہٹ ہونے لگی وہ اس سے ایسی باتیں کیوں کررہا تھا جبکہ وہ اپنی شرط اسے بتا چکی تھی۔۔۔ افراہیم اس کی جھکی ہوئی پلکیں دیکھ کر اس کا چہرہ غور سے دیکھنے لگا، ناجانے ایسی کون سی کشش تھی جس سے وہ بار بار اس لڑکی کی طرف کھچا چلا آتا تھا۔۔۔ اس کے اتنا نظرانداز کرنے کے باوجود افراہیم اس سے اپنا مضبوط بندھن باندھ رہا تھا تاکہ وہ اس کے پاس کبھی بھی نہیں جاسکے
آج سے پہلے وہ اتنا زیادہ تیار پہلے کبھی بھی نہیں ہوئی تھی۔۔۔ ایسا نہیں تھا کہ اسے اپنے بھائی کی شادی کی خوشی نہیں تھی وہ افراہیم کی شادی سے بہت زیادہ خوش تھی مگر اس طرح سے خود کو تیار کرنے کا اس نے پہلے کبھی تصور نہیں کیا تھا۔۔۔ آج اس کا دل چاہا کہ وہ اپنے آپ کو سنوارے شاید کہیں غیر شعور میں وہ یہ بات محفوظ کر چکی تھی کے ازلان نے اسے رات میں آنے کا کہا تھا،، جو کوئی بھی آج اس کو دیکھ رہا تھا وہ سراہا رہا تھا۔ِ۔ نازنین نے تو باقاعدہ اس کی نظر اتاری تھی،، ہر کسی کو بس ایک ہی شکایت تھی۔۔۔ اور وہ یہ کہ دلہن کا گھونگھٹ اتنا زیادہ نکالا ہوا تھا کہ افراہیم کی دلہن کا چہرہ کوئی بھی نہیں دیکھ پا رہا تھا، نہ ہی کسی کو دیکھنے کی اجازت تھی۔۔۔ بیلا نے ابھی جود بھی نوف کو دلہن کے روپ میں نہیں دیکھا تھا کیوکہ افراہیم کی عجیب منطق تھی کہ اس سے پہلے اس کی دلہن کا سجا ہوا روپ اور کوئی نہیں دیکھے گا نازنین تو افراہیم کی عجیب وغریب منطق پر پریشان تھی اور اپنی دوستوں اور رشتہ داروں سے معذرت کررہی تھی۔۔۔ اس عجیب منطق کی وجہ سے اسے سب کو صبح دوبارہ گھر آنے کی دعوت دینا پڑی تھی تاکہ نوف کا چہرہ دکھا کر منہ دکھائی کی رسم کی جاسکے
“بیلا شارجہ سے تمہاری فہمیدہ پھپھو کی کال آئی ہے۔۔۔ وہ تم سے بات کرنا چاہ رہی ہیں”
نازنین بیلا کے پاس آکر اس سے بولی تو بیلا نازنین کو خاموشی سے دیکھنے لگی
“میری جان صرف پھپھو ہیں ویڈیو کال پر پلیز بات کرلو ان سے”
نازنین بیلا کے تاثرات دیکھ کر اسے اپنا موبائل پکڑاتی ہوئی پیار سے بولی۔۔۔ نازنین کے پاس اس کی دوست آکر اس سے باتوں میں لگ گئی
“کیسی ہیں پھپھو آپ”
بیلا سلام کرنے کے بعد صوفے پر بیٹھتی ہوئی ویڈیو کال پر اپنی پھوپھو کا چہرہ دیکھتی ہوئی بولی، وہ بہت ہی کم نازنین کے بہت زیادہ اسرار کرنے پر فہمیدہ سے بات کیا کرتی تھی
“ماشاءاللہ ماشاءاللہ میری بیٹی کتنی بڑی ہوگئی ہے اور کتنی خوبصورت بھی”
فہمیدہ خوش ہوکر موبائل کی اسکرین پر بیلا کا چہرہ دیکھ کر اس سے بولی تو اچانک فہمیدہ سے موبائل اصفر نے لے لیا۔۔۔ اتنے سالوں بعد اصفر کا چہرہ اسکرین پر دیکھ کر بیلا ایک دم خوفزہ ہوگئی
“واقعی تم تو بڑی ہوکر اور بھی زیادہ خوبصورت ہوگئی ہو۔۔۔ لگتا ہے اب دوبارہ پاکستان آنا پڑے گا بیلا ڈارلنگ اور یقین جانو اب کی بار پہلے سے بھی زیادہ مزہ آئے گا”
اصفر کی بات سن کر بیلا نے خوف کے مارے موبائل کو یوں دور پھینکا جیسے اصفر موبائل سے نکل کر اس کے پاس آجائے گا۔۔۔ لوگوں کے ہجوم میں اس کی حالت غیر ہونے لگی،، آنسوؤں کی صورت آنکھوں سے پانی بہنے لگا اور خوف سے اس کے ہونٹ کانپنے لگے
وہ کتنی بےدردی سے برے طریقے سے اس کے منہ پر ہاتھ رکھے اسے روندتا جارہا تھا،،، بیلا نے بچپن کا وہ منظر یاد کرتے ہوئے اپنے ہونٹوں پر زور سے ہاتھ رکھا ورنہ اس کے چیخنے پر سب اس کی طرف متوجہ ہوجاتے۔۔۔ چند قدم کے فاصلے پر کھڑی ہوئی نازنین مہمانوں میں مصروف ہوچکی تھی،، دور کھڑے افراہیم پر بیلا کی نظریں گئی،، آج اسے اپنے بھائی کے چہرے پر خوشی اور اطمینان نظر آیا تھا وہ نہیں چاہتی تھی کہ یہ خوشی اور اطمینان آج اس کے بھائی کے چہرے سے رخصت ہوجائے یا نازنین اس کو ڈسٹرب دیکھ کر خود بھی پریشان ہوجائے،، بیلا وہاں سے بھاگ کر اپنے کمرے میں چلی آئی اور دروازہ بند کر لیا
“لگتا ہے اب دوبارہ پاکستان آنا پڑے گا بیلا ڈارلنگ یقین جانو اب کی بار پہلے سے زیادہ مزہ آئے گا”
اصفر کی آواز اس کے کانوں میں ایک بار پھر گونجی
“نہیں نہیں پلیز نہیں”
بیلا اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر روتی ہوئی اپنی چیخوں کو دبانے لگی
“نہیں میں مرجاؤ گی پلیز”
وہ روتی ہوئی ٹیبل کی طرف بڑھی اور اپنا موبائل اٹھاکر ازلان کا نمبر ملانے لگی
“پک اپ مائی کال ازلان پلیز”
بیل جا رہی تھی، کان پر موبائل لگاۓ بیلا روتی ہوئی بڑبڑانے لگی
“آئی نیڈ یو ازلان”
جب کوئی جواب موصول نہیں ہوا تو بیلا روتی ہوئی ازلان کو میسج ٹائپ کرنے لگی۔۔۔ اس کے بعد بیلا نے اپنے موبائل پر دیکھا جہاں پہلے سے عون کی کال آئی ہوئی تھی۔۔۔ کیا عون کو پہلے سے معلوم ہوچکا تھا کہ اسے کسی کے سہارے کی ضرورت پڑنے والی ہے،، وہ اپنا سیل آف کرکے بیڈ پر اوندھے منہ لیٹ گئی
اس کی ذات کی تذلیل کرنے والا، اس کو دنیا کے سامنے تماشا بنانے والا، آج بھی خوش باش مطمئن ہوکر اپنی زندگی جی رہا تھا اور وہ پچھلے دس سالوں سے کیسی اذیت میں مبتلا تھی،، گزرا ہوا وقت یاد کرکے وہ آج بھی کیسی تکلیف محسوس کرتی تھی یہ اس کا دل ہی جانتا تھا
جاری ہے
