No Download Link
Rate this Novel
Episode 20
وہ گہری نیند میں سو رہی تھی تب اسے ایک دم نیند میں محسوس ہوا کے کوئی چیز اس کے سینے پر آکر گری ہو۔۔۔ جس سے نوف کی آنکھ اچانک کھل گئی،،، کمرے کی سجاوٹ دیکھ کر اسے یاد آیا یہ کمرہ افراہیم کا تھا سب سے پہلے نوف نے لیٹے رہنے کے ساتھ ہی اپنا سر نیچے کر کے اپنے اوپر گرنے والی چیز کو دیکھا پھر حیرت سے اس کی آنکھیں پھٹ گئی
افراہیم کو کل رات اپنی بیوی کی حرکت پر شدید غصہ آیا تھا ایک تو اس نے افراہیم کا سارا رومانٹک موڈ غارت کیا تھا اوپر سے وہ اس کے کمرے سے بھی باہر چلی گئی تھی اور اپنے کمرے میں جاکر سوتی ہوئی بن گئی تھی
غصے میں افراہیم اس کو اٹھا کر اپنے کمرے میں لےکر تو آگیا مگر سوتی ہوئی اپنی بیوی کو مسلسل آدھے گھنٹے تک گھورتا رہا وہ اتنی جلدی آخر کیسے سو سکتی تھی اور اگر وہ واقعی جاگ رہی تھی اور سونے کی صرف ایکٹنگ کررہی تھی تو پھر اتنی پرفیکٹ ایکٹینگ کیسے کرسکتی تھی کے نہ تو اس میں کوئی ہل جھل ہورہی تھی نہ ہی اس کی پلکیں جھپک رہی تھی۔۔۔ افراہیم نے کل رات اپنی بیوی کو آزمانے کے لیے کہ وہ واقعی جاگ رہی ہے اس کے کان کے قریب اپنا منہ لاتے ہوئے اسے شدید قسم کی بےباک دھمکی دے ڈالی تھی، اگر وہ واقعی جاگ رہی ہوتی تو افراہیم کو پیچھے ہٹاکر غصے میں اٹھ کر دوبارہ افراہیم کے کمرے سے باہر نکل جاتی مگر وہ ویسے ہی سوتی رہی۔۔۔ تب افراہیم کو یقین ہوگیا کہ اس کی بیوی اس وقت سچ میں سو رہی تھی۔۔۔۔ افراہیم خود بھی اس کے برابر میں لیٹ گیا اور سونے کی کوشش کرنے لگا
اس وقت افراہیم پر شدید قسم کی نیند کا غلبہ طاری تھا کروٹ لینے کے ساتھ اس نے دائیاں بازو پھلا کر بیڈ پر رکھا مگر یہ نرم گداذ سا لمس، اس کا ماؤف ذہن سمجھنے سے قاصر تھا یہ نیند میں اس کا ہاتھ کہاں جا پہنچا تھا، اسکا ذہن بیدار ہونے لگا۔۔۔ افراہیم کی نیند ٹوٹی تو آنکھ کھلنے پر اس نے اپنے برابر میں لیٹی ہوئی اپنی بیوی کو دیکھا جو بالکل سیدھی لیٹی ہوئی شاید رو دینے والی تھی،، پھر اس کی نظروں کا زاویہ نوف کہ گردن سے تھوڑا نیچے اپنے ہاتھ کی طرف گیا۔۔۔ ایک جھٹکے سے اس نے نوف کے اوپر رکھا ہوا اپنا ہاتھ ہٹایا اور چور نظروں سے نوف کو دیکھنے لگا جو اسکے ہاتھ ہٹاتے ہی فورا اٹھ کر بیٹھ گئی تھی اور افراہیم کو شرمندہ کرنے کے لئے بری طرح اسے گھورنے لگی
“کیا ہوا”
مگر افراہیم بھی کہا شرمندہ ہونے والا تھا نوف کو دیکھتا ہوا چہرے کے تاثرات ایک دم سنجیدہ کرتا ہوا الٹا اسی سے پوچھنے لگا
“شرم نام کی کوئی چیز ہے آپ میں”
نوف تھوڑا غصے سے تھوڑا شرمندگی سے سرخ ہوتی ہوئی بیڈ پر لیٹے ہوئے افراہیم کو دیکھ کر پوچھنے لگی
“میں نیند میں تھا اگر تمہیں اتنا برا لگ رہا تھا تو تم لیٹی ہوئی انجوائے کیوں کررہی تھی، میرا ہاتھ تم خود بھی اپنے اوپر سے ہٹاسکتی تھی”
افراہیم اس کا غصے اور شرم سے سرخ چہرہ دیکھ کر مزید اس کو سلگاتا ہوا بیڈ سے اٹھ کر واش روم میں جانے لگا
“استغفراللہ۔۔۔ میں انجوائے کررہی تھی، یہ کیا بول رہے ہیں آپ۔۔ آپ کی ہمت کیسے ہوئی مجھ سے ایسی بیہودہ بات کرنے کی،، کس قسم کی لڑکی لگتی ہوں میں آپ کو جو آپ کی ان فضول حرکتوں کو انجوائے کرو گی جواب دیں آپ مجھے”
افراہیم کی بات نے اسے صحیح معنوں میں پتنگے لگا دئیے تھے وہ بیڈ سے اٹھ کر افراہیم کا راستے میں آکر اس کا راستہ روکتی ہوئی غصے میں بولی
“صبح ہی صبح میرے منہ لگنے کی ضرورت نہیں ہے، اگر میں تمہارے منہ لگ گیا ناں، تو اتنے برے طریقے سے لگوں گا کہ تم رو پڑوں گی مجھے پیچھے ہٹاتے ہوئے۔۔۔ اس لیے فورا میرے راستے سے ہٹ جاؤ”
افراہیم اس کے غصے کی پروا کیے بغیر دھمکی دیتا ہوا بولا جو کارآمد ثابت ہوئی وہ سنگین نتائج کا سوچتی ہوئی خاموشی سے افراہیم کے راستے سے ہٹ گئی تو افراہیم واش روم چلا گیا
واش روم میں پانی گرنے کی آواز آرہی تھی اور وہ بیڈ پر بیٹھی ہوئی افراہیم کی حرکت یاد کرکے خجالت سے سرخ ہوۓ جارہی تھی
“ٹاول پکڑاؤ مجھے جلدی سے”
افراہیم کی آواز پر وہ واش روم کی طرف دیکھنے لگی پھر اٹھ کر وارڈروب میں ٹاول ٹٹولنے لگی۔۔۔۔ ڈرتے ہوئے نوف نے افراہیم کو ٹاول دیا کہ کہیں وہ اس کو ہی واش روم میں نہ کھینچ لے۔۔۔ اب وہ افراہیم سے کسی بھی قسم کی بدتمیزی کی توقع رکھ سکتی تھی
نوف خود بھی چینج کرنے کا سوچ رہی تھی تب افراہیم اپنی کمر پر ٹاول لپیٹ کر روم میں آیا،، اس کو دیکھنے کے بعد نوف کو فورا اپنی نظریں جھکانا پڑی۔۔۔۔ ساتھ ہی اس کو دس سال پہلے کا منظر یاد آیا جب افراہیم اسی حالت میں اپنے کمرے میں موجود تھا اور وہ غلطی سے دروازہ کھول چکی تھی،، تب وہ اس پر کتنا غصہ ہوا تھا اور کل رات سے تو جیسے اس نے ساری شرم بیچ ہی ڈالی تھی،، نوف ذرا سی نظر اٹھاکر چور نظروں سے اس بدتمیز مغرور انسان کو دیکھنے لگی جو اب اس کا شوہر بن چکا تھا
“یوں چوری چوری میری طرف للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنے میں وقت برباد مت کرو،، جاکر خود بھی شاور لو اور ڈھنگ کے کپڑے پہنو۔۔۔ مما نے بتایا نہیں تمہیں ان کی ساری فرینڈ آنے والی ہیں صبح”
افراہیم کی نظروں سے نوف کا چور نظروں سے اس کی طرف دیکھنا چھپ نہیں سکا تھا تبھی وہ تاک کر نشانہ لیتے ہوۓ طنز کرتا بولا
“بڑے شہزادہ گلفام ہیں جیسے، جو میں چوری چوری للچائی ہوئی نظروں سے دیکھو گی”
نوف کو معلوم تھا افراہیم اپنی شرٹ کے بٹن بند کرتا ہوا اسی کو دیکھ رہا تھا نوف آئستہ آواز میں بڑبڑا کر واش روم جانے لگی تبھی افراہیم نے اس کا بازو پکڑا
“اپنی چوری پکڑے جانے پر انسان کو شرمندہ ہونا چاہیے یوں منہ ہی منہ میں بڑبڑانا نہیں چاہیے اور میری بات کان کھول کر سن لو۔۔۔۔ یمنہ میں تم سے کچھ بکواس کررہا ہوں تم سن رہی ہو ناں”
افراہیم جو اس سے کوئی بات بول رہا تھا مگر نوف کو غائب دماغ دیکھ کر ایک دم اس کے پکڑے ہوئے بازو پر دباؤ ڈالتا ہوا بولا تو نوف جیسے ہوش میں آئی اور جلدی سے بولی
“جی کیجئے بکواس۔۔۔۔ اوہ سوری میرا مطلب ہے میں سن رہی ہوں آپ پلیز بولیں”
افراہیم کی غصے میں بڑی بڑی آنکھیں دیکھ کر وہ اپنا جملہ جلدی سے درست کرتی ہوئی بولی
“ہمارے کمرے کی بات ہمارے ہی درمیان رہے گی،، مما بیلا یا پھر دوسرے لوگوں کے سامنے ہم سویٹ اینڈ ہیپی کپل کی طرح ہیں، سمجھ رہی ہو تم”
افراہیم کی بات پر وہ اثبات میں سر ہلاکر واشروم میں چلی گئی
مگر اب اس کو یاد آرہا تھا رات میں کوئی گھر میں موجود تھا جس نے اس کو پکڑا، اس کا منہ بند کیا اور وہ کب کیسے نیند میں گئی کب افراہیم کے کمرے میں آئی یہ سب کچھ اسے بالکل بھی یاد نہیں تھا۔۔۔ صبح بیدار ہونے کے ساتھ ہی افراہیم کی بدتمیزی والی حرکت نے اس کے دماغ سے کل رات والی یہ ساری بات نکال دی تھی
“کون ہوسکتا تھا وہ”
نوف پانی کا نلکا کھولتی ہوئی سوچنے لگی کیونکہ اس سے پہلے تو اس نے اس گھر میں ایسا کچھ نہیں دیکھا تھا،، اسے یہ افراہیم کو بتانا چاہیے تھا مگر وہ تو اس وقت اس سے سیدھے منہ بات بھی نہیں کررہا تھا نوف سوچتی ہوئی اچھی خاصی پریشان ہوچکی تھی
اس وقت بیلا کو ازلان پر شدید قسم کا غصہ آیا ہوا تھا۔۔۔ آج صبح یونیورسٹی آنے پر نازنین نے کتنی ساری باتیں اس کو سنائی تھی کیوکہ گھر میں گیسٹ آنے والے تھے مگر وہ یونیورسٹی صرف اس بدتمیز انسان کی وجہ سے آئی تھی،، جس نے فزکس کے ٹیسٹ میں اسے پاسنگ مارکس دینے کے بعد پوری کلاس کے سامنے کتنے برے طریقے سے اسے شرمندہ کیا تھا
کل رات وہ اس کے گھر آیا تھا،، اس کے بیڈ روم میں بےحد قریب آکر کیسی پیار بھری باتیں کررہا تھا مگر آج صبح وہ ایک جلاد نما ٹیچر بنا ہوا اس کی بےعزتی کررہا تھا
“روم نمبر 403 میں آجاؤ”
بیلا نے اپنے موبائل میں ازلان کا میسج پڑھا تو بیلا کو اس پر اور بھی شدید غصہ آیا اتنا ڈانٹنے کے بعد وہ اس کو کیسے کلاس روم میں آنے کا آرڈر دے رہا تھا
“بھاڑ میں جاؤ تم”
بیلا نے اس کے میسج کا رپلائی کیا۔۔۔ اس کا باقی کی کلاس لینے کا ارادہ نہیں تھا ڈرائیور اس کو تھوڑی دیر میں لینے کے لئے آجاتا تو واپس گھر چلی جاتی
“سوچ لو میں پیپر میں بیٹھنے نہیں دوں گا تمھیں”
اب کی بار بیلا کو اس کی طرف سے دھمکی بھرا میسج موصول ہوا
“میرا اس سال پیپر دینے کا ارادہ ہی نہیں ہے”
بیلا اس کی دھمکی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ٹائپ کرنے لگی
“پیار سے بول رہا ہوں آجاؤ ورنہ ناراض ہوجاؤ گا میں تم سے”
ازلان کا دوسرا دھمکی بھرا میسج پڑھ کر بیلا دوبارہ میسج ٹائپ کرنے لگی
“پیار سے کیا تم اگر مجھے غصے میں بلاؤ گے میں تب بھی نہیں آؤں گی اور اگر ناراض ہونا ہے تو ذرا اچھے سے ہونا”
ازلان کو میسج سینڈ کرکے وہ پارکنگ لاٹ میں آکر اپنی گاڑی میں بیٹھ گئی ایک بار پھر اس کا موبائل بجنے لگا مگر یہ نمبر نازنین کا تھا
“جی مما”
بیلا اس کی کال ریسیو کرتی ہوئی بولی
“کہاں رہ گئی ہو بیلا حد کرتی ہو تم بھی تنزیلہ کب سے یہاں بیٹھی ہوئی تمہارا ویٹ کررہی ہے بیٹا”
نازنین بیلا کی آواز سن کر اس سے فوراً بولی تو بیلا برے طریقے سے چڑ گئی
“مما تنزیلہ آنٹی میرا ویٹ کیو کررہی ہیں آپ کی ساری فرینڈز کو تو بھابھی کو دیکھنے کے لیے آنا تھا”
بیلا اکتائے ہوئے لہجے میں بولتی ہوئی ڈرائیور کو گھر کی طرف چلنے کا اشارہ کرنے لگی تو اس نے گاڑی اسٹارٹ کردی
“ہاں میری ساری فرینڈز یمنہ کو دیکھنے آئی ہیں مگر تنزیلہ تو تمہیں دیکھنے کے لیے آئی ہے اپنے راغب کے لیے بس تم جلدی سے گھر آجاؤ”
نازنین پیار بھرے لہجے میں بولی تو بیلا کو تنزیلہ آنٹی سے چڑ ہونے لگی
“بہت ضروری اسائینمنٹ ملا ہے مجھے مما میں اس وقت لائبریری جارہی ہوں آج تو جلدی گھر بالکل بھی نہیں آسکوں گی۔۔۔ آپ تنزیل آنٹی سے معذرت کرلیے گا اور پلیز پریشان مت ہوئیے گا، میں کال رکھ رہی ہوں”
اسے فرار ہونے کا بس ایک یہی بہانہ ملا تو وہ کال کاٹ کر سوچ میں پڑگئی کہ اب کیا کرے
“نہیں گھر نہیں گاڑی رائٹ سائیڈ پر موڑ لو اپنی دوست سے نوٹس لینے ہیں مجھے اور تھوڑی دیر اس کے پاس بیٹھنا ہے، دو گھنٹے بعد آکر مجھے پک کرلینا”
بیلا ڈرائیور کو بولتی ہوئی گاڑی میں اطمینان سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی
اپنے فلیٹ میں پہلا قدم رکھتے ہی اسے محسوس ہوگیا کہ فلیٹ میں پہلے سے ہی کوئی موجود ہے وہ یونیورسٹی سے سیدھا اپنے اپارٹمنٹ میں آیا تھا اور تھوڑی دیر بعد اسے ضروری کام سے دوبارہ باہر نکلنا تھا،، بغیر آواز کیے وہ آئستہ قدم اٹھاتا ہوا کچن کے دروازے پر پہنچا جہاں بیلا چولہے کے سامنے کھڑی ہوئی اپنے لیے لیے فرائس بنارہی تھی۔۔۔۔ اپنے فلیٹ کے کچن میں بیلا کو یوں کام کرتا ہوا دیکھ کر اسے خوشگوار حیرت ہوئی تھی اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے ازلان نے اپنا گلا کھنگارا جس پر بیلا نے پلٹ کر دروازے پر کھڑے ازلان کو دیکھا۔۔۔ اس کے دیکھنے پر ازلان نے بیلا کو اسمائل دی جس پر بیلا کوئی تاثر دیے بغیر دوبارہ پلٹ کر اپنے کام میں مشغول ہوگئی۔۔۔ بیلا کے اس انداز پر ازلان کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی وہ چلتا ہوا کچن میں آیا اور بیلا کی پشت پر کھڑا ہوکر اس کو دونوں شانے پکڑتا ہوا بولا
“چند گھنٹے پہلے مجھے محسوس ہوا کہ شاید تمہیں مجھ پر غصہ ہو مگر تمہارا یہ سرپرائز دینے کا انداز مجھے بےحد پسند آیا آئی ریئلی لائک اٹ”
ازلان بولنے کے ساتھ اس کے سنہری بالوں پر اپنے ہونٹ رکھتا ہوا کچن کی شیلف پر بیلا کے سامنے جا بیٹھا
“یااللہ میرے شوہر کو ساری زندگی ایسے ہی خوش فہم رکھنا۔۔۔ اگر تمہیں یہ لگ رہا ہے کہ میں تمہیں یہاں سرپرائز کرنے کے لیے یا خوش کرنے کے لیے آئی ہوں یا پھر میں تم پر غصہ نہیں ہو تو اپنی خوش فہمی دور کرلو”
بیلا سارے فرائس پلیٹ میں نکالتی ہوئی ازلان سے بولی۔۔۔ فرائس سے بھری پلیٹ شیلف پر رکھنے کے بعد وہ دوسرے چولہے پر رکھے ہری مرچ قیمے کی آنچ دھمیی کرنے لگی۔۔۔ ہری مرچ قیمہ ازلان کو بہت پسند تھا یہ بات بیلا کو اپنے بچپن سے معلوم تھی چند دنوں پہلے اس نے ہری مرچ قیمہ نوف سے بنانا سیکھا تھا۔۔۔۔ یونیورسٹی سے یہاں آئے ہوئے اسے گھنٹہ ہونے کو آیا تھا۔۔۔ کیبنٹ میں سارے مصالحہ جات کھنگالتے ہوئے آج اس نے ازلان کے لیے اس کا من پسند کھانا بنانے کا فیصلہ کیا تھا
“لیکن مجھے تمہارے غصے کی وجہ بھی تو معلوم ہو آخر تمہیں مجھ پر غصہ کس بات پر ہے”
ازلان پلیٹ میں سے فرائس اٹھاتا ہوا بیلا سے پوچھنے لگا، ابھی وہ فرائس اپنے منہ میں ڈالنے والا تھا بیلا نے اس سے فرائس چھین کر واپس پلیٹ میں رکھا
“خبردار تم نے ان میں سے ایک بھی فرائس اٹھایا تو یہ میں نے اپنے لئے بناۓ ہیں، تم مجھے پوری کلاس کے سامنے ڈانٹو اور میں تم پر غصہ بھی نہ کرو، اور کس کی مثال دے رہے تھے تم پوری کلاس کے سامنے مجھے اس مدیحہ کی۔۔۔ جو تمہیں دیکھ کر صرف کھی کھی کر کے ہنستی ہوئی اسٹائل ہی مارتی رہتی ہے ایک نمبر کی چھچھوری لڑکی ہے وہ جو تمہارے سامنے اچھا بننے کی کوشش کرتی ہے آئندہ اگر تم نے نصیحت کرتے ہوئے اس چھچھوری کا نام لیا یا پھر اس کی مثال دی تو پھر تم دیکھنا میں کیا کرتی ہوں ساری کلاس کے سامنے تمہارے ساتھ”
بیلا اپنی ساری بھڑاس نکال کر فرائس سے بھری پلیٹ لےکر ڈرائنگ روم میں چلی گئی جبکہ ازلان پوری آنکھیں کھولے بیلا کی جیلسی اور ایک ایک انداز کو نوٹ کرتا ہوا اپنی ہنسی کنٹرول کرنے کے ساتھ فریج سے کیچپ کی بوتل نکال کر فرائس کی پلیٹ کے سامنے رکھتا ہوا خود صوفے پر بیلا کے قریب آکر بیٹھ گیا
“صرف تمہیں اکیلی کو تو نہیں ڈانٹا تھا میں نے،، بلکہ سارے ہی تمہاری طرح کے نکمے اسٹوڈنٹ کو ڈانٹا تھا،، اب مدیحہ بےشک اسٹائل مارے یا وہ چھچھوری ہو اپنے لائق اسٹوڈنٹ کی مثال تو ہر استاد ہی نالائق اسٹوڈنٹ کو دیتا ہے، اس میں اتنا برا ماننے والی کیا بات ہے”
بیلا کو محسوس ہوا ازلان اس کو سمجھانے کی آڑھ میں نالائق بول کر تپا رہا ہے اس لیے وہ غصے میں اسے گھورنے لگی
“بہت لائق ہے وہ، معلوم ہے کتنے بڑے بڑے سائز کے پھرے کیسی کیسی جگہوں پر چھپا کر لاتی ہے وہ،، جہاں صرف تمہاری نظریں جاسکتی ہیں مگر تم چاہ کر بھی اس کی تلاشی نہیں لے سکتے۔۔۔ ایسی بدتمیز لڑکی سے تو ہم نالائق اسٹوڈنٹ ہی بھلے ہیں جو کم از کم عزت سے پاسنگ مارکس لیتے ہیں مگر چیٹینگ نہیں کرتے”
بیلا کی بات سن کر ازلان نے اب کی بار زوردار قہقہہ لگایا
“پھر تو ماننا پڑے گا مدیحہ کو، وہ واقعی اسمارٹ گرل ہے، میری نظروں سے بچ کر جس مہارت سے اس نے خطرناک جگہوں سے پھرے نکال کر چیٹینگ کی ہوگی یہ بھی ایک ٹیلینٹ ہے،، میں تو کہتا ہو تم ایک دو ٹرک مدیحہ سے سیکھ لو، کلاس میں سب کے سامنے چاہ کر بھی میں تمہاری تلاشی نہیں لے سکو گا”
خطرناک جگہوں کا حوالہ دینے کے ساتھ ازلان نے معنی خیز نظروں سے بیلا کو دیکھا تو بیلا اپنا دوپٹہ صحیح کرتی ہوئی ازلان کو گھورنے لگی
“میں تمہیں اس چھچھوری کی اصل حقیقت بتارہی ہو اور تم مجھے الٹا اسی کے نقش قدم پر چلنے کا مشورہ دے رہے ہو تم جیسے اساتذہ ہو تو سنور گیا بچوں کا مستقبل”
بیلا غصے میں بولتی ہوئی صوفے سے اٹھ کھڑی ہوئی تو ازلان نے فورا اس کی کلائی پکڑی
“بیلا میری جان میرا مطلب تھا نقل کے لیے عقل کی ضرورت ہوتی ہے جو مدیحہ نے استعمال کی اور وہ کامیاب ہوگئی خیر تم غصہ نہیں کھاؤ یہ فرائس کھاؤ جو تم نے صرف اپنے کھانے کے لیے بناۓ ہیں”
ازلان بیلا کو واپس بٹھاتا ہوا پیار بھرے لہجے میں بولا
“یہ فرائس تم اسی کو کھلاؤ جس کی تم بات بات پر تعریف کر رہے ہو”
بیلا اپنے لہجے میں ناراضگی ظاہر کرتی ہوئی بولی ازلان اپنی مسکراہٹ روکے بیلا کا چہرا دیکھتا ہوا بولا
“تعریف میں صرف اس کی ذہانت کی کررہا ہوں مگر تمہارا یہ ٹیچر اپنی اس نکمی اسٹوڈنٹ پر دل و جان سے فدا ہے اس بات کا تمہیں علم ہونا چاہیے”
ازلان نے بولنے کے ساتھ ہی بیلا کا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگایا جس پر بیلا ایک دم جھینپ کر اپنا ہاتھ پیچھے کرتی ہوئی سر جھکا گئی تو ازلان اسمائل دے کر بیلا کو دیکھنے لگا
“کیوں بلا رہے تھے مجھے کلاس 403 میں”
بیلا یاد آنے پر ازلان سے پوچھنے لگی جو فرائس کے اوپر کیچپ ڈال رہا تھا
“تمہاری غصے اور شکوؤں کے چکر میں، میں سب سے اہم بات تو بھول ہی گیا۔۔۔ یہ پرمیشن لیٹر ہے اس پر تمہیں آنٹی یا پھر افراہیم کے سائن لینے ہیں تاکہ انہیں معلوم ہوجاۓ کہ تم یونیورسٹی کی طرف سے دوسرے اسٹودنٹس کے ساتھ مری کے ٹرپ پر جارہی ہو”
ازلان فرائس کھاتا ہوا بیلا سے بولا تو وہ کنفیوز ہوکر اسے دیکھنے لگی
“مگر یونیورسٹی کی طرف سے تو ایسا کوئی نوٹیفیکیشن سامنے نہیں آیا یا پھر کسی دوسرے اسٹوڈنٹ سے بھی میں نے ایسا کچھ نہیں سنا”
بیلا ازلان کو دیکھ کر پوچھنے لگی
“وہ اس لیے کیوکہ کل صرف ہم دونوں کو مری کے لئے نکلنا ہے یہ لیٹر صرف آنٹی اور افراہیم کی تسلی کے لیے ہے”
ازلان بیلا کو بتانے لگا تو وہ خاموشی سے اسے دیکھنے لگی پھر اٹھ کر کچن میں چلی آئی۔۔۔ قیمہ بالکل تیار ہوچکا تھا وہ چولہا بند کرکے پلٹی تو ازلان کو کچن میں ہی اپنے قریب پایا
“میں لیٹر تمہاری فائل میں رکھ چکا ہوں آج رات ہی گھر میں بتا دینا، کل صبح میں تمہارا ویٹ کروں گا تم ٹھیک نو بجے یہاں پہنچ جانا”
ازلان بیلا کے قریب کھڑا اس کے تاثرات غور سے دیکھتا ہوا اسے کل کا پلان بتانے لگا
“مجھے ٹھیک نہیں لگ رہا ازلان یہ بالکل مناسب نہیں ہے”
بیلا اس سے بولتی ہوئی کچن سے باہر نکلنے لگی تو ازلان نے اس کا ہاتھ پکڑا
“کیا مناسب نہیں ہے، تمہارا مجھ سے نکاح کرنے کا فیصلہ مناسب ہے تو پھر اس میں کیا برائی ہے بتاؤ مجھے”
ازلان سنجیدگی سے بیلا کو دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
“نکاح کرنے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ میں مما اور بھائی کو بتائے بغیر تمہارے ساتھ مری کا ٹرپ انجوۓ کرو میں ایسا کچھ بھی نہیں کرنے والی”
بیلا ازلان کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑوا کر کچن سے باہر نکلی تو ازلان بیلا کے پیچھے آتا ہوا اس کا بازو پکڑ کر اپنی طرف رخ کرتا ہوا بولا
“ہنی مون بنانے کے لیے نہیں لےکر جارہا ہوں تمہیں اپنے ساتھ، کل اپنی فیملی سے پرمیشن لینے کے بعد تم صبح نو بجے تک یہاں پہنچ رہی ہو اور میں تمہارے منہ سے انکار نہیں سنو گا”
ازلان بالکل سنجیدہ لہجے میں بیلا کو دیکھتا ہوا بولا ٹیبل پر رکھا ہوا بیلا کا موبائل بجنے لگا اس کا ڈرائیور بیلا کو لینے کے لئے آچکا تھا
“اور اگر میں نہیں آئی تو”
بیلا ازلان کو دیکھ کر اس سے پوچھنے لگی
“تو میں سمجھوں گا تم نے مجھ سے صرف رشتہ جوڑا ہے مگر تمہیں مجھ پر رتی برابر بھی اعتبار نہیں ہے”
ازلان بیلا کو بولتا ہوا بیڈ روم میں چلاگیا جبکہ بیلا اپنا بیگ اور فائل اٹھاتی ہوئی فلیٹ سے باہر نکل گئی
جاری ہے
