Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 36

“نوف”
ازلان نے حیرت سے باہر نکل کر نوف کو پکارا تو وہ دوڑتی ہوئی ازلان کے پاس آئی اور روتی ہوئی ازلان کے گلے سے لگ گئی

“کیوں اتنی دیر کردی آپ نے مجھے تلاش کرنے میں، آپ کو نہیں معلوم اس ڈھیڑ ماہ کے عرصے میں میں نے کیسا کیسا وقت دیکھا ہے، ایک ایک دن میں نے آپ کے ملنے کی دعا مانگی،، اب تو مجھے یقین ہونے لگا تھا کہ میں آپ کو زندگی میں کبھی نہیں دیکھ پاؤگی لیکن شاید اللہ کو آج مجھ پر ترس آگیا”
نوف ازلان کے گلے لگی ہوئی مسلسل روتے ہوئے بولے جارہی تھی جبکہ نازنین دوبارہ حیرت سے ان دونوں بہن بھائی کو دیکھ رہی تھی افراہیم اپنا غصہ برداشت کیے بالکل خاموش کھڑا ضبط سے کام لے رہا تھا تب شور کی آواز سن کر بیلا بھی کمرے میں داخل ہوئی وہ بھی نازنین کی طرح ازلان اور نوف کو گلے لگے ہوۓ حیرت سے دیکھ رہی تھی

“میں نے کبھی یہ امید نہیں چھوڑی تھی کہ میری بہن مجھے نہیں مل سکتی، بہت ڈھونڈا تمہیں ہر جگہ تلاش کیا رابطہ کیو نہیں کیا تم نے مجھ سے”
ازلان وہاں پر موجود ہر فرد کو فراموش کیے نوف کی آنکھوں سے آنسو صاف کرتا ہوا اس سے پوچھنے لگا آج اپنی بہن کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ کر وہ خدا کا شکر کرنے کے ساتھ مکمل اطمینان محسوس کررہا تھا

“یہ تم سے رابطہ اس لیے نہیں کرسکی کیونکہ اوپر جو اللہ کی ذات موجود ہے وہ نہیں چاہتی تھی کہ تمہاری بہن تم سے مل سکے اور اب میں نہیں چاہتا کہ نوف تم سے کوئی تعلق رکھے زیادہ حیران ہونے یا تعجب کرنے کی ضرورت نہیں ہے تمہاری بہن میری بیوی ہے اور میں ہرگز برداشت نہیں کروں گا کہ میری بیوی میری بہن کے مجرم سے کوئی تعلق رکھے نوف اپنے کمرے میں جاؤ”
افراہیم کے اچانک انکشاف پر کمرے میں موجود سب نفوس حیرت زدہ ہوگئے جہاں نازنین اور بیلا یہ سن کر شاکڈ ہوئی تھی کہ یمنہ ازلان کی بہن ہے وہی ازلان افراہیم اور نوف کے رشتے کو لے کر شاکڈ ہوا تھا

“تمہاری بہن کا اصل مجرم کون ہے یہ تم پہلے اپنی بہن سے پوچھو اس کے بعد مجھ سے بات کرنا فلحال میں اپنی بہن کو یہاں سے لےکر جارہا ہوں”
ازلان افراہیم کے بگڑے ہوئے تیوروں کو دیکھ کر اس کو بولا اور نوف کو اپنے ساتھ لے جانے لگا تو افراہیم ان دونوں کے راستے میں دیوار بن کر کھڑا ہوگیا

“یہ کہیں نہیں جاۓ گی”
افراہیم ایک ایک لفظ پر زور دیتا ہوا ازلان سے بولا مگر اس کی نگاہیں نوف پر ٹکی ہوئی تھی جن میں نوف کے لیے تنبہی موجود تھی جبکہ نازنین اور بیلا اس صورت حال پر خاموش تماشائی بنی ہوئی کھڑی تھی

“میں اپنے بھائی کے ساتھ جانا چاہتی ہوں افراہیم”
نوف کے بولنے پر افراہیم نوف کو غصے سے دیکھنے لگا جبکہ ازلان بیلا کے پاس آکر اس سے مخاطب ہوا

“میں نے تم سے ہمیشہ وفا نبھانے کا وعدہ کیا تھا اور میں اپنے وعدے پر قائم ہوں، لیکن اب کی بار میں تم سے بھی وفا نبھانے کی امید رکھتا ہوں”
ازلان بیلا سے بولتا ہوا نوف کو اپنے ہمراہ وہاں سے لے کر چلا گیا

بقول ازلان کے اس نے بیلا سے وفا نبھانے کا وعدہ کیا تھا اور وہ اب بھی وہ اپنے وعدے پر قائم ہے یعنی وہ صرف اسی کا ہے اس نے دوسری شادی نہیں کی تھی۔۔۔ اور اب وہ بیلا سے وفا کی امید رکھتا ہے مطلب صاف ظاہر تھا دس سال پہلے جو کچھ ہوا اب بیلا کو افراہیم کے آگے ساری سچائی بتاکر ازلان کا امیج اپنے بھائی کے سامنے کلیئر کرنا تھا مگر ازلان اپنے جانے سے پہلے نازنین کو اپنے اور بیلا کے رشتے کے بارے میں بتا چکا تھا جبھی نازنین تھوڑی دیر پہلے اس بات کی تصدیق کرنے بیلا کے پاس آئی تھی۔۔۔ نازنین کے جانے کے بعد بیلا ہمت جمع کرتی ہوئی افراہیم کو سچ بتانے کے لئے خود کو تیار کرنے لگی

پہلے تو اسے نوف پر شدید غصہ تھا کہ وہ اس کے منع کرنے کے باوجود اپنے بھائی کے ساتھ یہاں سے جاچکی تھی لیکن تھوڑی دیر پہلے ہی بیلا نے آکر اسے اصل حقیقت بتائی تھی یعنی اپنے اصل مجرم کا نام جس پر افراہیم کو سانپ سونگھ گیا تھا۔۔۔ اتنی بڑی حقیقت اتنی بڑی سچائی اس کے گھر والوں نے اتنے سال تک اس سے چھپا کر رکھی تھی

اصل حقیقت جاننے کے بعد اب افراہیم کا غصہ پچھتاوے اور ندامت میں ڈھلنے لگا تھا۔۔۔ اسے اپنا نوف کے ساتھ کیا ہوا برا سلوک یاد آنے لگا،، ازلان کو اپنی بہن کا مجرم سمجھ کر اس نے نوف کے ساتھ کتنا برا سلوک کیا تھا اپنے ایک ایک عمل کو یاد کرکے اسے شرمندگی ہونے لگی اپنی باتوں اور رویے سے وہ نوف کا کتنا دل دکھا چکا تھا بلکہ دس سال پہلے وہ اس کے ساتھ بہت برا سلوک کرچکا تھا جب وہ صرف نو سال کی معصوم بچی تھی۔۔۔ افراہیم کو وہ سب سوچ کر خود سے نظریں ملانا مشکل لگ رہا تھا اس کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ نوف سے اپنے رویہ کی معافی مانگنے اس کا سامنا کیسے کر پاۓ گا

“میں کتنی بدنصیب ہوں بھائی امی کے آخری وقت میں ان کا چہرہ بھی نہیں دیکھ پائیں وہ کتنا تڑپ رہی ہوگیں میرے لئے”
نوف نے ایک بار پھر رخشی کو یاد کرکے آنسو بہانا شروع کردیے

“خبردار جو تم نے اپنے آپ کو بدنصیب بولا،، اور اگر اب تم دوبارہ روئی تو میں امی کی کوئی بات تم سے شیئر نہیں کرو گا۔۔۔۔ طبیعت دیکھی ہے تم نے اپنی پہلے ہی ٹھیک نہیں ہے اوپر سے تم بار بار روۓ جارہی ہو، چلو اٹھ کر ڈائینگ روم میں اور کچھ لائٹ سا کھالو”
ازلان ڈانٹتا ہوا نوف سے بولا تو نوف کو نہ چاہتے ہوئے بھی ڈائننگ ہال میں جانا پڑا،، ازلان کل نوف کو اپنے ساتھ اپنے فلیٹ میں لےکر آیا تھا کل سے ہی نوف کی طبعیت کچھ اپ سٹ تھی اس کو ہر تھوڑی دیر بعد وقفے وقفے سے وامیٹنگ کا احساس ہورہا تھا ازلان کو شروع سے ہی اپنی بہن کی حساس طبیعت کا معلوم تھا اس لیے نوف کے لاکھ منع کرنے کے باوجود ازلان نے خود اس کے لئے کھچڑی بنائی تھی

“ویسے افراہیم کا رویہ تمہارے ساتھ کیسا ہے”
نوف نے ابھی پہلا نوالا منہ میں رکھا ہی تھا تو ازلان نوف کے سامنے کرسی پر بیٹھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا جس پر وہ چونک کر ازلان کو دیکھنے لگی

“وہ اچھے ہیں بھائی”
نوف افراہیم کے بارے میں اتنا ہی بول سکی جس پر ازلان ایک دم بڑبڑایا

“مجھے تو وہ نک چڑا نواب بالکل بھی پسند نہیں”
ازلان کی بڑبڑاہٹ ایسی نہیں تھی کہ نوف نہ سمجھ سکے شاید ازلان افراہیم کو لےکر جان بوجھ کر اپنے خیالات اس پر ظاہر کرنا چاہ رہا تھا تبھی ایسا بولا

“اب وہ ایسے بھی کوئی نک چڑے نہیں ہیں،، بس ایک دو چھوٹی موٹی خامیاں ہیں لیکن وہ تو ہر کسی میں ہوتی ہیں آپ ہی تو کہتے ہیں کوئی بھی انسان پرفیکٹ نہیں ہوتا” نوف ازلان کے سامنے افراہیم کی سائیڈ لیتی ہوئے بولی جو بھی تھا افراہیم سے اس کا گہرا اور مضبوط رشتہ جڑا ہوا تھا بےشک وہ اسکے پاس سے چلی آئی تھی مگر اسے ازلان کے سامنے افراہیم کے رویے کو لےکر کوئی نھی بات کرنا مناسب نہیں لگا تھا

“مکمل تو کوئی بھی انسان نہیں ہوتا لیکن میری پیاری اور معصوم بہن کے ساتھ ایسا انسان ججتا ہے جو اس کی قدر کرے”
جن حالات میں نوف کا افراہیم سے نکاح ہوا تھا ازلان نے جاننے کے بعد کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا تھا مگر اسے افرہیم کا رویہ تھوڑا محسوس ہورہا تھا جیسے نوف اس سے بہت کچھ چھپا رہی ہو

“ایسی بات نہیں ہے افراہیم کے سیل فون میں میری ان کے ساتھ بہت سی ایسی تصویریں موجود ہیں جن کو آپ دیکھ کر کہیں گے کہ میری ان کے ساتھ جوڑی بہت زیادہ ججتی ہے”
نوف بات کو مذاق کا رنگ دیتی ہوئی بولی تو ازلان اس کی بات پر مسکرا دیا

“ویسے نک چڑے نواب کی بہن کا رویہ کیسا ہے آپ کے ساتھ”
نوف کھانا کھانے کے دوران بیلا کے بارے میں ازلان سے پوچھنے لگی ازلان کل ہی نوف کو اپنے اور بیلا کے نکاح کے بارے میں بنا چکا تھا

“اگر وہ نک چڑی ہوتی تو تمہاری بھابی کبھی بھی نہیں ہوتی”
ازلان کی بات پر نوف مسکرائی اور خالی پلیٹ رکھنے کے غرض سے اٹھنے لگی مگر اس سے پہلے ہی اس کا سر بری طرح سے چکرایا

“نوف”
ازلان نوف کو پکارتا ہوا تیزی سے اٹھ کر نوف کی طرف بڑھا

“کیا سچ اس سے بڑی تو میرے لیے کوئی خوشی کی خبر ہو ہی نہیں سکتی تم نہیں جانتی تم نے آج میری کتنی بڑی خواہش پوری کی ہے”
افراہیم شام کے وقت آفس سے لوٹا تو حسب معمول نازنین کے کمرے میں آیا مگر نازنین کارلیس ہاتھ میں تھامے کسی سے محو گفتگو تھی افراہیم نازنین کو اتنا خوش اور ایکسائٹڈ دیکھ کر سوچ میں پڑگیا کہ کال کرنے والا کون ہے

“تم بھی اپنے شوہر کی طرح بالکل بدھو ہو، اگر تم مجھے گڈ نیوز نہ بھی سناتی تب بھی میں تمہاری کسی بات پر نہ تم سے شکوہ کرتی نہ ہی خفا ہوتی۔۔۔۔ میں کوئی اپنے بیٹے کی طرح تھوڑی ہو جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ کرکے بچوں کی طرح منہ پھلاکر بیٹھ جاتا ہے”
نازنین نے مسکراتے ہوئے ایک نظر افراہیم پر ڈالی پھر وہ باتوں میں مصروف ہوگئی جبکہ افراہیم کو کچھ اندازہ ہونے لگا کہ دوسری طرف کال پر کون ہوسکتا ہے وہ صوفے پر بیٹھ کر نازنین کے فون رکھنے کا انتظار کرنے لگا

“ان دونوں کی فکر مت کرو، میں بیلا کے لاسٹ پیپر کا انتظار کررہی ہوں جیسے ہی اس کے پیپرز ختم ہوتے ہیں اس موضوع پر پھر بات کرلیں گے پہلے تو تم مجھے اپنا ایڈریس نوٹ کراؤ ذرا”
نازنین فون ڈائری اٹھاتی ہوئی آفراہیم سے اشارہ کرتی ہوئی پین مانگنے لگی جو اس کی پاکٹ میں موجود تھا

“اوکے میں آرہی ہوں تھوڑی دیر میں تمہارے پاس”
نازنین کے ایڈریس دھرانے پر افراہیم اسے ڈائری کے ساتھ ساتھ اپنے ذہن میں بھی محفوظ کرچکا تھا

“کون تھا فون کال پر”
کال رکھنے کے بعد نازنین وارڈروب کھولتے ہوئے اپنے پاس موجود اماؤنٹ دیکھنے لگی تب افراہیم اس سے پوچھنے لگا

“ہاں ہاں تم تو جیسے جانتے ہی نہیں ہو کہ میں کس سے بات کررہی تھی”
نازنین ساری رقم اپنے بیگ میں ڈالتی ہوئی افراہیم سے بولی

“کیسی ہے وہ، کس بارے میں بات کررہی تھی وہ آپ سے”
افراہیم نازنین کی بات پر چلتا ہوا اس کے پاس آیا اور بےچینی سے پوچھنے لگا کیونکہ اس کا دماغ لفظ گڈ نیوز پر اٹک چکا تھا جس پر نازنین مسکراتی ہوئی افراہیم کے گال پر چپت لگاتی ہوئی بولی

“دادی بننے والی ہوں میں”
نازنیں کی بات سن کر افراہیم بنا کچھ بولے خاموشی سے نازنین کو دیکھنے لگا

“بدھو ایسے کیا دیکھ رہے ہو مجھے،، سچ بول رہی ہوں میں باپ بننے والے ہو تم”
نازنین خوشی سے افراہیم کو بتانے لگی تو وہ ایک دم ہوش میں آیا

“اچھا ہوا آپ اس کے پاس جارہی ہیں ایسا کریں اسے یہاں واپس لے آئیے گا اپنے کھانے پینے کا وہ خود سے دھیان بھی نہیں رکھتی”
تین دن گزر چکے تھے اسے نوف کا چہرہ دیکھے بغیر اور یہ تین دن اس کے کیسے گزرے تھے یہ افراہیم کا دل ہی جانتا تھا۔۔۔ افراہیم کی بات سن کر نازنین حیرت سے اسے دیکھتی ہوئی بولی

“میں اکیلی جارہی ہو نوف کے پاس کیا تم نہیں چل رہے ہو”
نازنین اب کی بار بناء مسکرائے افراہیم سے پوچھنے لگی

“نہیں مجھے ضروری کام ہے میں ڈرائیور کو بول دیتا ہوں وہ آپ کو چھوڑ آئے گا ڈاکٹر ثوبیہ سے بھی آج کا ہی اپوائنمنٹ لےلیتا ہوں آپ واپسی میں نوف کا پراپر چیک اپ کروا لیے گا چند دنوں سے کتنی ویک لگ رہی تھی”
افراہیم پاکٹ سے اپنا سیل فون نکال کر مصروف انداز میں بولا ڈاکٹر ثوبیہ کافی مشہور اور بڑی گائنالوجسٹ تھی

“ڈاکٹر ثوبیہ سے آپوائنمینٹ لینے کی ضرورت نہیں ہے ازلان نوف کو جس ڈاکٹر کے پاس لےکر گیا تھا وہ بھی کافی اچھی ڈاکٹر تھی اور ایسا نہیں ہے اپنے ساتھ لے جاکر ازلان اس کے کھانے پینے کا خیال نہیں رکھ رہا ہوگا۔۔۔۔ صدقہ بھی دینا ہے نوف کے اوپر سے، وہاں جانے سے پہلے مٹھائی اور فروٹس بھی خریدنے ہوگیں فرسٹ ٹائم ازلان کے گھر جارہی ہوں خالی ہاتھ تو نہیں جاؤگی ظاہری بات ہے ازلان نوف کے بھائی کے علاوہ اس گھر کا داماد کا بھی ہے”
نازنین مصروف انداز میں بولتی ہوئی کمرے سے نکل گئی جبکہ افراہیم کو خوشی ہونے کے باوجود اداسی نے گھیرے میں لےلیا اس وقت وہ نوف کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنا چاہتا تھا شدید خواہش ہونے کے باوجود وہ نوف کے پاس نہیں جاسکا تھا

یہ اس کے لیے بہت خوشی کی بات تھی کہ نوف اسے اولاد دینے والی تھی مگر یہ خوشی کی خبر کیا ہوتا اگر وہ سب سے پہلے اس سے شیئر کرتی۔۔۔ افراہیم دل ہی دل میں نوف سے بھی شکوہ کرنے لگا لیکن کیا وہ اس سے شکوہ کرنے کا حق رکھتا تھا۔۔۔ اس نے خود نوف کے ساتھ کیا کیا تھا کتنا دل دکھا چکا تھا وہ نوف کا اب تک،، بلکہ وہ تو شروع دن سے ہی نوف کو ہرٹ کرتا آیا تھا تین دن سے وہ اپنے ایک ایک عمل کو سوچ کر نادم ہورہا تھا آخر وہ کس منہ سے نوف کے پاس جاتا اسے اپنے پاس واپس اس گھر میں آنے کو کہتا شاید وہ نازنین کی بات مان کر واپس آبھی جاتی۔۔۔ افرہیم سوچتا ہوا کارلیس میں موجود نمبر اپنے موبائل میں سیو کرنے لگا


“نوف تمہاری کال ہے”
پچھلے 10 دن سے یہ روٹین بنا ہوا تھا کہ رات کے دس بجے روز لینڈ لائن پر کال آتی جوکہ ازلان جانتا تھا کال کرنے والا کوئی اور نہیں اس کا بہنوئی اور سالے تھا مگر عجیب بات یہ تھی کال چاہے ازلان ریسیو کرتا ہے یا پھر نوف افراہیم ان دونوں میں سے کسی سے بات نہیں کرتا بلکہ خاموش رہتا جبکہ دوسری طرف نوف بھی ویسے ہی کان سے ریسیور لگائے خاموش کھڑی رہتی پھر پندرہ منٹ کے بعد کال رکھ دی جاتی پچھلے دس دنوں سے ازلان خاموشی سے یہ تماشہ دیکھ رہا تھا اس نے خاموشی بھی اسی وجہ سے اختیار کی ہوئی تھی تاکہ افراہیم اور نوف کے بیچ جو بھی معاملات ہو، وہ دونوں اپنے معاملات خود ہی سلجھالیں

چند دن پہلے نازنین بھی نوف سے ملنے اس کے پاس آئی تھی وہ نوف اور ازلان دونوں سے بہت خلوص سے اور اچھی طرح ملی تھی۔۔۔ باتوں ہی باتوں میں نازنین نے بیلا کے پیپرز کا بھی ذکر کیا اس کے بعد ہی وہ پراپر طریقے سے بیلا کی رخصتی چاہتی تھی اس بات پر ازلان خاموش ہی رہا وہ چاہتا تھا پہلے نوف اور افراہیم کے بیچ پرابلمس سولو ہوجاۓ اس کے بعد ہی اسے اپنے اور بیلا کے بارے میں سوچنا تھا مگر فی الحال اس نے اپنا یہ خیال نازنین یا کسی دوسرے پر ظاہر نہیں کیا تھا۔۔۔ نازنین نوف کو اپنے ساتھ واپس لے جانا چاہتی تھی جس پر ازلان کو کوئی اعتراض نہیں تھا لیکن نوف نازنین کو واپس جانے کا منع کرچکی تھی جس پر نازنین نے نوف کو زیادہ فورس نہیں کیا

اس دوران اس کی بیلا سے کئی دنوں سے بات نہیں ہوئی تھی،، وجہ اس کی اپنی مصروفیت کے علاوہ بیلا کے پیپرز بھی تھے ازلان چاہتا تھا بیلا اپنے پیپرز سکون سے دے لے لیکن اس وقت ازلان کے موبائل پر بیلا کے آنے والے میسج پر اسے زور کا جھٹکا لگا تھا کیونکہ بیلا کل دوپہر میں عون سے ملنا چاہتی تھی


اتنے دنوں کے سوچ بچار کے بعد اب بیلا کو یقین ہو چلا تھا کہ ازلان ہی عون بن کر اس سے باتیں کرتا تھا جن دنوں عون اسے پریشان اور الجھا ہوا لگا تھا تب ہی اذلان کی مدر کی ڈیتھ ہوئی تھی اور نوف کی گمشدگی کی وجہ سے ازلان کافی پریشان تھا،، اگر یہ اتفاق بھی ہوتا تو ازلان اور عون کی آواز لہجے انداز کا ملنا اتفاق کیسے ہوسکتا تھا، وہ اس بات کو چاہ کر بھی فراموش نہیں کر پارہی تھی کتنے سالوں سے وہ عون کے نام پر بیوقوف بنتی رہی تھی آج اس کا آخری پیپر تھا جس کو دینے کے بعد وہ یونیورسٹی کے قریب کیفے ٹیریا میں چلی آئی تھی کیوکہ کل رات وہ عون کے نمبر پر ازلان کو میسج کرکے یہاں آنے کا بول چکی تھی اور اس وقت ازلان کا انتظار کررہی تھی

“بیلا جی کیسی ہیں آپ”
تب اچانک وہ اجنبی آواز اور اپنے نام کی پکار پر ایک دم چونک کر سامنے کھڑے شخص کو دیکھنے لگی

“پہچانا نہیں آپ نے میں اس دن آپ کے گھر بھی آیا تھا، میں آپ کی بھابھی کا کزن ہو جی”
عدنان بیلا سے اپنا تعارف کرواتا ہوا بولا وہ کتنے دنوں سے موقع کی تلاش میں تھا کہ کب اس کو بیلا اکیلی دکھے اور کب وہ اپنا کام دکھاۓ

“تو یہاں آپ کو مجھ سے کیا کام پڑگیا”
بیلا اس کو پہچان گئی تھی یہ وہی بدتمیز انسان، ازلان کا کزن تھا جس نے اس کے بھائی کو اسی کے گھر میں آکر زخمی کیا تھا،، مگر پھر بھی بیلا نے عدنان کو نارمل لہجے میں جواب دیا کہیں اس بات کا بھی ازلان کو برا نہ لگ جاۓ

“کام تو جی بہت ضروری ہے مجھے سمجھیں اس کام میں آپ کا ہی فائدہ ہوگا، مگر وہ میں آپ کو یہاں نہیں بتاسکتا آپ کو تھوڑی سی تکلیف اٹھاکر میرے ساتھ چلنا ہوگا”
عدنان کی بیلا کے حسن کو دیکھ کر رال ٹپکنے لگی تھی مگر وہ شریفانہ لہجہ اختیار کرتا ہوا بولا کیوکہ یہ لڑکی اس کے لیے سونے کی چڑیا سے کم نہیں تھی اور آج عدنان اس کو یہاں سے ایسے ہی جانے نہیں دیتا

“میرا دماغ خراب نہیں ہے جو میں تمہارے ساتھ چل پڑو، جاؤ اپنا کام کرو اور مجھے پریشان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے”
عدنان کے دیکھنے کا انداز اتنا عجیب سا تھا کہ بیلا اب کی بار اسے سخت لہجے میں ٹوکتی ہوئی بولی اور وہاں سے باہر نکل آئی کیونکہ وہاں پر موجود لوگ اس کی اور عدنان کی طرف متوجہ ہورہے تھے ازلان نے نہ جانے کب آنا تھا وہ ڈرائیور کو واپس بھیج چکی تھی اس لیے وہی پر کھڑی کیپ کی طرف بڑھنے لگی

“تم میرے پیچھے پیچھے کیوں آرہے ہو کہا نہ تم سے اپنا کام کرو”
بیلا کیپ کا دروازہ کھولتے ہوئے سخت لہجے میں عدنان سے بولی کیونکہ وہ اس کا پیچھا کرتا کرتا باہر تک پہنچ گیا تھا

“چل چل زیادہ نخرے مت دکھا اب بیٹھ جا اسی ٹیکسی میں”
عدنان بدتمیز بول کر بیلا کے کندھے پر ہاتھ مارتا ہوا اسے ٹیکسی میں دھکا دینے لگا

“یہ کیا بدتمیزی ہے تم نے ہمت کیسے کی مجھے چھونے کی”
بیلا عدنان پر زور سے چیخ کر بولی بیلا کے چیخنے پر وہی کھڑے دو آدمی عدنان اور اس کی طرف متوجہ ہوۓ

“بڑی تو پہلے سے ان چھوئی ہے، جو میرے ہاتھ لگانے پر برا مان رہی ہے اندر بیٹھ جلدی سے”
عدنان زبردستی بیلا کو ٹیکسی میں دھکیلتا ہوا خود بھی ٹیکسی میں بیٹھ چکا تھا اتفاق سے یہ کیپ عدنان نے ہی ہائر کی تھی

“اے اس لڑکی کو کہاں لےکر جارہے ہو”
وہ دونوں آدمی عدنان کے پاس آکر پوچھنے لگے مگر ان آدمیوں کے وہاں پہنچنے سے پہلے عدنان بیلا کی ناک پر رومال رکھ کر اسے بےہوش کرچکا تھا جبکہ ٹیکسی ڈرائیور پیچھے مڑکر مشکوک انداز میں یہ ساری کاروائی دیکھ رہا تھا

“ابے کون سی لڑکی یہ بہن ہے میری،، میری عزت کا جنازہ نکالنے یہاں اپنے عاشق کے ساتھ ڈیٹ لگانے آئی تھی تو رنگے ہاتھوں میں نے پکڑلیا۔۔۔ عاشق بھاگ نکلا اور یہ صدمہ لےکر بےہوش ہوگئی ابے سالو جاکر اپنا کام کرو کیا اپنے گھر کے پورے راز و نیاز تم لوگوں پر کھول دوں۔۔۔ اور تو کیا پیچھے مڑ کر گھور رہا ہے سارے شہر کی خوبصورت لڑکیاں مر گئی ہیں کیا چل آگے دیکھ کر ٹیکسی اسٹارٹ کر”
عدنان ان دونوں آدمیوں کے ساتھ ساتھ ٹیکسی ڈرائیور پر بھی بھڑکتا ہوا بولا تو ڈرائیور نے ٹیکسی اسٹارٹ کردی

*