No Download Link
Rate this Novel
Episode 26
دور کہیں سے آتی فجر کی اذان کی آواز پر اس کا ذہن بیدار ہونا شروع ہوا رات بھر ایک ہی پوزیشن میں لیٹنے کی وجہ سے اس کا جسم درد کرنے لگا تھا سیدھے لیٹنے کی کوشش میں جسم کے اندر درد کی لہر ابھری تو وہ دانتوں تلے نچلا ہونٹ دبا کر منہ سے نکلنے والی سسکی کو روکنے لگی، ساتھ ہی اس نے برابر میں لیٹے گہری نیند میں سوئے ہوئے اپنے شوہر پر افسوس بھری نظر ڈالی جو بنا شرٹ کے دوسری جانب رخ کیے لیٹا ہوا یقینا پرسکون نیند کے مزے لے رہا تھا کیونکہ وہ کل رات اپنی ساری تھکن اس کے اندر منتقل کرچکا تھا
“آئستہ آئستہ کل رات والا منظر کسی فلم کی طرح اس کے ذہن کے پردے پر چلنا شروع ہوا،، کل رات نیند میں وہ خواب میں بری طرح ڈر گئی تھی کیونکہ کل رات اس نے اپنے خواب میں عدنان، روبی اور روحیل کو اپنے پیچھے بھاگتے ہوئے دیکھا، وہ ان تینوں سے بچنے کے لئے دیوانہ وار کسی جنگل میں بھاگ رہی تھی اور وہ تینوں انسانی روپ سے بھیڑیے کی شکل اختیار کرتے ہوئے اس کا پیچھا کررہے تھے
“یمنہ کیا ہوا”
نوف کے نیند میں بری طرح چیخنے پر برابر میں لیٹا ہوا افراہیم نہ صرف نیند سے بےدار ہوا تھا بلکہ اٹھ کر بیٹھتا ہوا وہ نوف سے اس کے چیخنے کی وجہ پوچھنے لگا
“افراہیم وہ لوگ میرا پیچھا کررہے تھے، میں بھاگتے بھاگتے گر گئی تھی وہ تینوں مجھے گھسیٹتے ہوئے اپنے ساتھ لے جارہے تھے، مجھے کہیں نہیں جانا افراہیم۔۔۔ مجھے اب آپ کے پاس سے کہیں بھی نہیں جانا”
نوف خود بھی اٹھ کر بیٹھ چکی تھی اور بری طرح گھبرائی ہوئی افراہیم کو اپنا خواب سنانے لگی تو افراہیم نے اس کے سہمے ہوۓ وجود کو اپنے اندر چھپالیا
“یار آج ایک چھوٹا سا واقعہ کیا ہوگیا تم نے اس کو اپنے ذہن پر سوار کرلیا تمہیں ایسا لگ رہا ہے کہ میں ایسا کسی کو ایسا کرنے دوں گا یا میں تمہیں خود سے دور جانے دوں گا”
افراہیم جانتا تھا وہ آج شام مال میں ہوۓ واقعہ سے بری طرح ڈر گئی تھی اس لیے وہ اپنی بیوی کو اپنی پناہوں میں محفوظ کرتا ہوا اسے اپنے ساتھ کا یقین دلانے لگا
“افراہیم آپ مجھ سے وعدہ کریں، میرا ساتھ کبھی نہیں چھوڑیں گے یا مجھے کبھی خود سے جدا نہیں کریں گے۔۔۔ چاہے زندگی میں ایسا کوئی بھی موڑ آۓ، کسی بھی طرح کا آپ پر انکشاف ہو پلیز آپ مجھے خود سے کبھی بھی جدا مت کریئے گا”
نوف افراہیم کی پناہوں میں اپنے آپ کو محفوظ تصور کرکے خود بھی اپنے بازو افراہیم کے گرد لپیٹتی ہوئی اس سے بولی
“ایسا خیال کیوں آیا تمہارے دل میں کہ میں تمہارا ساتھ چھوڑ دوں گا۔۔۔ میں نے تم سے رشتہ اس لیے نہیں جوڑا ہے کہ تمہیں خود سے دور کردو،، ہم دونوں کا رشتہ اتنا کچا ہرگز نہیں ہے کہ کسی بھی نازک موڑ پر کمزور پڑجائے، یہ سارے وہم اور خیالات آج اپنے دل سے نکال دو کہ میں تمہیں کبھی خود سے جدا کرو گا”
افراہیم نوف سے بولتا ہوا اسے اپنی پناہوں سے آزاد کئے بغیر بیڈ پر لیٹ چکا تھا
“مجھے آج ہم دونوں کے اس رشتے کو وہ مان بخشنے دو جس پر تم نے شادی کے پہلے دن سے مجھ سے بلاوجہ کا گریز برتا ہوا ہے”
افراہیم بولتا ہوا نوف کی گردن پر جھک کر اپنے پیار کی مہر ثبت کرتا چلاگیا
“افراہیم نہیں پلیز”
نوف نے بولنے کے ساتھ افراہیم کو خود سے دور کرنے کی کوشش کی تو افراہیم اس کی کمر کے گرد سے اپنے لپٹے ہوئے بازو نکال کر اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو نوف کے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں میں پھنساتا ہوا بولا
“یمنہ پلیز آج منع مت کرنا مجھے”
آج وہ خود سے افراہیم کے پاس آکر اس کے جذبات کو بری طرح جگا چکی تھی پھر بھلا وہ کیوں اپنے جائز حق کو اپنانے سے پیچھے ہٹتا
افراہیم نوف کے اعتراض کرنے پر اس کو ٹوکتا ہوا اس کے ہونٹوں پر جھک گیا، اپنی سانسیں اس کی سانسوں میں منتقل کرنے لگا۔۔۔ نوف میں بنا کچھ بولے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو اس کے ہاتھوں کی انگلیوں سے نکالنا چاہا جس میں وہ کامیاب نہیں ہوسکی، نوف کی مزاہمت کی پرواہ کیے بغیر وہ ایک کے بعد ایک من مانیوں کرتا ہوا اس پر مکمل قابض ہوچکا تھا۔۔۔ شرم کے سارے پررے ہٹتے گئے تو نوف نے مزاہمت ترک کرکے اپنے آپ کو افراہیم کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔۔۔ آہستہ سے وہ نوف کی روح تک سرائیت کرتا ہوا اس کو چاروں خانے چت کر چکا تھا۔۔۔ نوف کے سارے الفاظ زبان پر آنے سے پہلے ختم ہوگئے اس کے سارے اعتراضات دھرے کے دھرے رہ گئے۔۔۔ وہ اپنی مرضی چلا کر نوف اور اپنے رشتے کو اس کا اصل مقام دے چکا تھا جس کے بعد نوف اپنے سارے آنسو اپنے اندر اتار کر دوسری طرف کروٹ لےکر لیٹ گئی
“یمنہ یہاں دیکھو میری بات سنو”
مدہوشی کا دور اختتام پذیر ہوا تو افراہیم چادر نوف کے کندھے تک ڈالتا ہوا اسے نرمی سے اپنی طرف کھینچتا ہوا بولا
“افراہیم اب سونے دیں مجھے پلیز”
نوف اپنے کندھے سے افراہیم کا ہاتھ ہٹاتی ہوئی بولی
رات والا منظر یاد کرکے نوف ناراض نظر افراہیم پر ڈال کر بیڈ سے اٹھتی ہوئی واش روم کا رخ کرنے لگی
“اب کیسا محسوس کررہی ہیں آپ” افراہیم آفس جانے سے کے لئے تیار تھا صبح کے وقت ڈائیننگ روم میں ناشتہ کرتا ہوا نازنین کو دیکھ کر پوچھنے لگا
“جس کا بیٹا اپنی ماں کا اتنا خیال رکھتا ہو اور اس کو بہو بھی اتنا خیال رکھنے والی ملی ہو وہ کیسا محسوس کرسکتی ہے”
نازنین محبت بھری نظروں سے کرسی پر بیٹھے افراہیم کو دیکھنے کے بعد ٹیبل پر ناشتہ سرو کرتی ہوئی نوف کو دیکھ کر بولی۔۔ افراہیم مسکرا کر نازنین کو دیکھنے کے بعد اپنے پاس کھڑی نوف کو دیکھنے لگا، جو بیدار ہوتے ہی اسکو اپنی خواب گاہ میں نظر نہیں آرہی تھی
افراہیم کی ہر تھوڑی دیر بعد نظر اٹھتی اور نوف کے چہرے کا طواف کرتی لیکن نوف نے ایک بار بھی افراہیم کی طرف نہیں دیکھا تھا۔۔۔ افراہیم نے ایک دو بار اس سے سرسری انداز میں بات کرنی چاہیے تو وہ بناء اس کی طرف دیکھیں اس کی باتوں کا جواب دیتی ہوئی اپنے آپ کو کاموں میں مصروف ظاہر کرنے لگی
“کہاں جارہی ہو یمنہ ناشتہ نہیں کرو گی”
افراہیم نوف کو وہاں سے جاتا ہوا دیکھ کر دوستانہ لہجے میں ایک دم اس سے بولا
“اپ ناشتہ شروع کریں میں آنٹی کی میڈیسن لےکر آرہی ہوں”
ابھی بات کرتے وقت نوف کی نظریں نازنین کے کمرے کے دروازے پر تھی وہ میڈیسن لینے چلی گئی تو افراہیم خاموشی سے ناشتہ کرنے لگا کل شام نوف کے ساتھ مال سے واپس گھر آنے کے بعد اس نے نازنین کو بالکل نارمل حالت میں دیکھ کر شکر ادا کیا تھا
“بیلا سے بات ہوئی تمہاری کب واپس آرہی ہے وہ”
نوف نازنین کی میڈیسن لےکر آئی تو نازنین افراہیم سے پوچھنے لگی
“ایک دو دن میں واپسی ہوجائے گی اس کی، آپ اس کی طرف سے مطمئن ہوجائیں”
افراہیم نہیں چاہتا تھا نازنین کسی بھی بات کو زیادہ سوچے، نوف افراہیم کے برابر میں کرسی پر بیٹھ گئی
“ناشتہ کرنے کے بعد فورا روم میں آجاؤ”
بریڈ کا پیس منہ میں جاتے ہوئے نوف کا ہاتھ رکا افراہیم کی سرگوشی میں کی ہوئی بات پر اس نے پہلے نازنین کو دیکھا جو بناء ان دونوں کو دیکھے اپنے ناشتے کی طرف متوجہ تھی، پھر اس نے افراہیم کو دیکھا جو بالکل سنجیدہ تھا اور اسی کو دیکھ رہا ہے
“کس لئے”
نوف بھی اتنی ہی سنجیدگی سے افراہیم کو دیکھتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی
“کمرے میں چل رہی ہو یا نہیں”
افراہیم سنجیدگی سے سیدھے انداز میں نوف سے اس کا ارادہ پوچھنے لگا، وہ نوف کی ناراضگی کو محسوس کرچکا تھا۔۔ کل رات جو بھی کچھ ان دونوں کے درمیان ہوا افراہیم کو نہیں لگتا کہ کچھ غلط ہوا تھا جس پر وہ اس طرح سے منہ پھلائے بیٹھی تھی
“نہیں”
اپنی بات پر ٹکا سا جواب سن کر وہ نوف کو گھورنے لگا جبکہ نوف اپنا ناشتہ کرنے لگی
“آپ ناشتہ کرتی ہوئی کیا سوچ کر مسکرا رہی ہیں”
افراہیم نوف سے نظریں ہٹاکر نازنین کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا جو تصور میں ناشتہ کرتی ہوئی مسکرا رہی تھی۔۔۔ افراہیم کی بات سن کر نوف بھی نازنین کی طرف متوجہ ہوئی
“میں سوچ رہی تھی کافی دن ہوگئے یمنہ نے اس دن کے بعد مجھے اپنا کوئی خواب نہیں سنایا۔۔۔ اور اتفاق سے کل رات میں نے بھی ایک خواب دیکھا بس اسی کے بارے میں سوچ کر چہرے پر مسکراہٹ آگئی”
نازنین مسکراتی ہوئی ان دونوں کو دیکھ کر بتانے لگی
“آپ کو یمنہ نے کوئی خواب اسی لیے نہیں سنایا کیوکہ شادی کے بعد وہ اپنا ہر خواب مجھے سنادیتی ہے ویسے آپ نے کل کیا دیکھ لیا خواب میں جس پر آپ یوں مسکرا رہی ہیں”
افراہیم نے نازنین کے مسکرانے کی اصل وجہ جاننی چاہیے، نوف خود بھی ناشتہ کرنے کے ساتھ نازنین کی طرف متوجہ تھی
“میں نے خواب میں دیکھا کہ میں دادی بن گئی ہو،، گول مٹول سا پیارا سا بچہ میری گود میں کھیل رہا ہے اور تمہارا بچہ ہوبہو تم سے ملتا ہے افی”
نازنین کافی ایکسائٹڈ ہوکر افراہیم کو بتانے لگی جس پر افراہیم کے لبوں پر خوبصورت سی مسکراہٹ آن ٹھہری، جبکہ نوف کا سر شرم سے خود بخود جھک گیا
“آپ کا خواب سننے کے بعد اب تو میرا بھی دل چاہ رہا ہے کہ جلدی سے اپنی شکل کے بیٹے کو جاگتی ہوئی آنکھوں سے دیکھوں”
افراہیم نے بولتے ہوئے غیر محسوس طریقے سے برابر میں بیٹھی ہوئی نوف کے بازو سے اپنا بازو ٹچ کیا۔۔۔ وہ شرم سے مزید اپنا سر جھکا گئی دونوں ماں بیٹے ناجانے کون سا ٹاپک لےکر بیٹھے تھے اب اس سے ناشتہ بھی نہیں کیا جارہا تھا
“کیوں نہیں انشاءاللہ بہت جلد وہ مبارک دن آئے گا کوئی جھوٹا خواب تھوڑی تھا میرا، فجر کی نماز پڑھ کر آنکھ لگ گئی تھی تو میں نے یہ خواب دیکھا۔۔۔ ارے یمنہ تم کیوں اس طرح خاموش ہوکر بیٹھی ہو”
نازنین مسکرا کر نوف کی طرف متوجہ ہوئی نوف سر اٹھا کر اس سے پہلے نازنین کو کچھ بولتی افراہیم بول پڑا
“مما یمنہ آپ کا خواب سن کر شرما گئی ہے۔۔۔ کیا کروں بہت شرمیلی بیوی مل گئی ہے مجھے،، ڈیئر وائف اب شرمانے سے کام نہیں چلے گا بہت سیریس ہوکر ہم دونوں کو اس ایشو پر سوچنے کی ضرورت ہے”
آخری جملہ افراہیم نے بےشک اس کے کان میں آہستہ سے بولا مگر نازنین اپنی بہو کو شرماتے ہوئے اور بیٹے کو خوشگوار موڈ میں سرگوشی کرتا دیکھ کر دل ہی دل میں ان دونوں کو دعا دینے کے ساتھ بولی
“افی میری بہو واقعی بہت شرمیلی ہے اسے تنگ مت کرو ورنہ وہ شرماتی ہوئی آج مجھ سے بھی سارا دن بات نہیں کرے گی”
نازنین کی بات پر افراہیم مسکرا کر کرسی سے اٹھا
“یمنہ کمرے میں آکر مجھے وارڈروب سے کپڑے نکال کردے دو تاکہ میں آفس چلا جاؤ، کافی لیٹ ہوگیا یار آج”
افراہیم اب کی بار سنجیدگی کا لبادہ اوڑھے نوف کو کمرے میں آنے کی دعوت دیتا ہوا خود کمرے میں چلاگیا جبکہ نازنین دوبارہ اپنے ناشتے کی طرف متوجہ ہوئی
“نوری آپ کمرے میں جاکر افراہیم کا بلیک کلر کا ڈریس وارڈروب سے نکال دیں جو پرسوں ڈرائی کلین ہوکر آیا تھا”
نوف کے اچانک نوری سے بولنے پر نازنین نوف کو دیکھنے لگی
“میں اس وقت کمرے میں چلی گئے تو افراہیم مزید آفس سے لیٹ ہوجائیں گے ناں”
نازنین کے اس طرح دیکھنے پر نوف کو کچھ سمجھ میں نہیں آیا وہ بوکھلاہٹ میں کیا بول گئی مگر جب نازنین مسکراتی ہوئی خاموشی سے دوبارہ ناشتہ کرنے لگی تو نوف کو مزید شرمندگی نے آگھیرا
صبح بیلا کی آنکھ کھلی تو بےساختہ اس کی نظریں ازلان پر گئی جو الماری سے بیگ نکال کر اپنے کپڑے اس میں ڈال رہا تھا۔۔۔ ازلان کے بیگ کے ساتھ ہی بیلا کا بھی سفری بیگ رکھا ہوا تھا شاید وہ جس کام کے لئے یہاں آیا تھا اب وہ کام مکمل ہوچکا تھا اب ان دونوں کی واپسی کا سفر کرنا تھا۔۔۔ بیلا بیڈ پر لیٹی ہوئی کل رات والے واقعے کو سوچنے لگی،،، کل رات اس کو بالکل بھی ہوش نہیں تھا کیسے ازلان اس کو واپس اپنے ساتھ لایا تھا وہ روتے روتے کب سوئی، ازلان اس کو ہوٹل کے روم میں چھوڑ کر دوبارہ کہیں اپنے کام سے چلا گیا تھا یا پھر اس کے پاس موجود تھا۔۔۔ وہ پرسوں کی طرح کل بھی صوفے پر سویا تھا یا پھر اس کے پاس بیلا کو کچھ ہوش نہیں تھا
“جاگ رہی ہو تو چینج کرکے آجاؤں تھوڑی دیر بعد بریک فاسٹ آجائے گا دو گھنٹے بعد ہماری واپسی کی فلائٹ ہے”
ازلان بیلا کو بیدار ہوتا دیکھ چکا تھا اس سے بولتا ہوا اس کے پاس آیا اور بیڈ پر بیلا کے سامنے بیٹھ کر اس کا چہرہ دیکھنے لگا بیلا خود بھی خاموشی سے اسی کو دیکھنے لگی
“مجھے پاکستان سے یہاں اپنے ساتھ لانے ہیں اصل وجہ یہی تھی”
بیلا بیڈ پر لیٹی ہوئی آہستہ آواز میں ازلان سے پوچھنے لگی
“تمہارا مجرم تھا وہ اگر میں اس کو اس کے جرم کی سزا نہیں دیتا تو تمہارا شوہر ہونے کی حیثیت سے مجھے ساری زندگی اپنے اوپر گلٹ رہتا۔۔۔ اور کل رات تم کیا کرنے والی تھی، اپنے ساتھ ہوئے اس سلوک کو بھول کر اس کو معاف کردیتی تم”
ازلان کا لہجہ بالکل سخت نہیں تھا نہ ہی وہ بیلا پر غصہ کررہا تھا مگر اس کے لہجے میں ہلکا سا شکوہ تھا بیلا بیڈ سے اٹھ کر ازلان کے سامنے بیٹھتی ہوئی بولی
“اس کی ایک بیوی اور سات سالہ معذور بچی تھی ازلان،، میں نے ان دونوں کے خیال سے ایسا کہا”
بیلا کی بات سن کر ازلان اس سے بولا
“تم اکیلی نہیں ہو جس کو اصفر نے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا ایک 6 سال کی بچی اور دوسری بارہ سال کی بچی کے ساتھ بھی وہ درندہ وہی سب کرچکا تھا جس کے بارے میں اس کی بیوی کو معلوم ہوا تو اس نے یہاں کی پولیس کو انفارم کیا۔۔۔ شاید یہ بات تمہاری پھوپھو نے تم لوگوں کو اور باقی کے رشتے داروں کو نہیں بتائی تھی کہ اصفر کی بیوی اس سے خلع لینے والی تھی اگر میں اصفر کو اس کی معذور بچی کے لیے چھوڑ دیتا تو وہ نہ جانے اور کتنی معصوم بچیوں کی زندگی برباد کرتا”
جو انکشاف ازلان نے اس کے اوپر کیا بیلا بے یقینی اور صدمے کی کیفیت میں اسے دیکھنے لگی،، اس کا پھپھی ذاد کردار کا کس قدر بدصورت تھا وہ واقعی معافی کے لائق نہیں تھا
“بیلا یہ سب تمہیں بتانے کا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا کہ تم پریشان ہوجاؤ اب اس ٹاپک پر ہم دونوں کے درمیان آئندہ کبھی کوئی بات نہیں ہوگی”
ازلان بیلا کے چہرے کے تاثرات دیکھتا ہوا اس کے دونوں ہاتھوں کو تھام کر نرمی سے بولا تو بیلا نے ازلان کے کندھے پر اپنا سر رکھ دیا
“تم بہت زیادہ محبت کرتے ہو ناں مجھ سے”
بیلا جانتی تھی صرف وہی نہیں ازلان بھی اس سے محبت کرتا تھا جبھی اس نے بیلا کی ذات کی تذلیل کرنے والے شخص کو اس کے انجام تک پہنچایا تھا
“اگر تمہیں میری محبت پر شک ہے تو بتادو کیا ثبوت دوں تمھیں”
ازلان بیلا کے سوال پر اس کی کمر کے گرد اپنے دونوں بازو حاہل کرتا ہوا بیلا سے پوچھنے لگا
“میرے بیگ میں سارا سامان اور کپڑے رکھ کر پیکنگ تمہیں کرنا ہوگی”
بیلا بہت سیریس ہوکر ازلان کا چہرہ دیکھتی ہوئی بولی جس پر وہ مسکرایا
“وہ تو مجھے معلوم ہے کہ یہ کام مجھے ہی کرنا ہے اور کوئی ثبوت مانگ لو مجھ سے میں اسی وقت دینے کے لیے تیار ہوں”
اذلان اسے حصار میں لے کر گہری نظروں سے اس کا چہرہ دیکھ کر بیلا پر جھکنے لگا جس کی وجہ سے بیلا پیچھے ہوکر بیڈ پر لیٹ گئی تو ازلان نے اس کے اوپر جھکتے ہوئے اپنے ہونٹ نرمی سے اس کے ہونٹوں پر رکھ دیئے،، جس سے بیلا اپنے آپ میں سمٹ کر رہ گئی ازلان جھکا ہوا اس کے چہرے کے رنگ دیکھنے لگا جو اسے مذید اپنی طرف کھینچ رہے تھے
“یہ تم اپنی محبت کا ثبوت دے رہے تھے یا پھر کوئی اپنا دلی ارمان نکال رہے تھے”
بیلا ازلان کے دیکھنے پر پہلے نروس ہوئی پھر اسے پیچھے ہٹاتی ہوئی پوچھنے لگی
“اگر تم مجھے میرے دل کے ارمان نکالنے کی اجازت دے دو تو میں خوشی خوشی ہم دونوں کے ٹکٹ کینسل کرکے دو دن کے بعد کے کروا لیتا ہوں۔۔۔ اس طرح سے تم میرے معصوم سے دل کو خوش بھی کرسکتی ہو اور اپنی محبت کا ثبوت بھی دے سکتی ہو”
ازلان اپنے کندھے سے بیلا کے دونوں ہاتھوں کو ہٹاکر، اسکی کلائیاں پکڑ کر تکیہ پر رکھتا ہوا بولا
“مگر تمہیں اپنے معصوم سے دل کو سمجھانا ہوگا کہ ہم یہاں پر ہنی مون منانے نہیں آئے،، میں باتھ لےکر آتی ہو جب تک تم اچھے بچوں کی طرح میری پیکنگ کرو ورنہ ہم فلائٹ کے لیے لیٹ ہوجائے گے”
بیلا پیار سے ازلان کو سمجھاتی ہوئی اسے پیچھے ہٹا کر بیڈ سے اٹھی اور واش روم جانے لگی جبکہ ازلان بیلا کی پشت کو گھورتا ہوا اس کی پیکنگ کرنے لگا
“آنٹی کیا ہوگیا ہے آپ کو کس کا فون آیا تھا اتنا پریشان کیوں ہورہی ہے مجھے بتائیں سب ٹھیک ہے نا”
تھوڑی دیر پہلے تک نوف نازنین کے پاس موجود تھی، وہ کچن میں آج رات کے ڈنر کا مینو بتانے کے لئے نوری کے پاس آئی تو لینڈ لائن پر آنے والی کال نازنین نے ریسیو کی جس کے بعد نوف نازنین کے چہرے کے تاثرات دیکھتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی
“وہ مرگیا۔۔۔۔ مار ڈالا کل رات اس کو کسی انجان آدمی نے”
نازنین بے خیالی میں بولی تو نوف پریشان ہوگئی
“کون۔۔۔ کون مر گیا ہے کس کی بات کررہی ہیں آپ”
نوف پریشان ہوکر نازنین سے پوچھنے لگی
“وہی جس نے میری بیلا کی زندگی خراب کر ڈالی تھی، وہی جس کی اصلیت جاننے کے بعد عباد وہ صدمہ برداشت نہیں کر پائے اور اس دنیا سے چلے گئے۔۔۔ وہی جس کا مکروہ چہرہ اور اصل حقیقت کے بارے میں جاننے کے بعد عباد نے مرتے وقت مجھے اور بیلا کو قسم دی کہ ہم دونوں افی کو کچھ بھی نہیں بتائیں گے”
نازنین بےخیالی میں نوف کے سامنے بولے جارہی تھی اور یہ انکشاف سن کر نوف حیرت سے نازنین کو دیکھ رہی تھی
“کون تھا وہ آنٹی پلیز مجھے بتائیں کون تھا وہ جس نے بیلا کے ساتھ برا کیا”
نوف نازنین کے قریب آتی ہوئی اس کا ہاتھ تھام کر بےچینی سے پوچھنے لگی تو نازنین نوف کو دیکھتی ہوئی دوبارہ بولی
“میری نند کا بیٹا،، جو ہمارے گھر پر ہمارے ساتھ رہا اس نے میری بیلا کے ساتھ۔۔۔۔
نازنین ادھوری بات چھوڑ کر رونے لگی تو نوف نے اسے گلے سے لگایا۔۔۔۔ اسے یقین تو پہلے بھی اپنے بھائی پر تھا کہ وہ ایسا کوئی گھٹیا اقدام نہیں اٹھاسکتا لیکن آج اسے جہاں مکمل اطمینان ہوا وہی بیلا پر نئے سرے سے ترس آنے لگا اس نے چھوٹی عمر میں وہ سب کچھ برداشت کیا جو کسی بھی عمر کی لڑکی یا عورت کبھی بھی اپنے لیے برداشت نہیں کرسکتی۔۔۔ اس کا بھائی بے قصور ہوتے ہوئے بھی گناہگار ٹھہرایا گیا
“جس دن میری طبعیت بہت زیادہ خراب ہوئی تھی اور افی اس وقت گھر پر موجود نہیں تھا میرے پوچھنے پر بیلا نے آخر کار اپنے مجرم کا نام بتایا اور سب کچھ عباد نے بھی سن لیا۔۔۔ اس صدمے کو ان سے برداشت کرنا بہت مشکل ہوگیا کہ ان کی سگی بہن کی اولاد نے انہی کی بیٹی کے ساتھ انسانیت کے درجے سے گر کر اتنی گھٹیا حرکت کی کہ وہ یہ برداشت نہیں کرپائے، وہ اپنے آخری وقت میں بہت نادم تھے ازلان کے اچھا نہیں ہوا، قیوم بےقصور ہونے کے باوجود کس طرح معافیاں مانگتا تھا”
نازنین روتی ہوئی نوف کو بتانے لگی۔۔۔۔ نوف اٹھ کر جگ سے پانی نکال کر لائی اور نازنین کو پلانے لگی
“جس کسی نے بھی اس کو مارا ہے،، وہ آپ کی بیٹی کے مجرم کو اس کے انجام تک پہنچا چکا ہے۔۔۔ بیلا کا مجرم ایسے ہی موت کا مستحق ہوگا آپ پریشان مت ہوں اسطرح مت روئیے ورنہ آپ کی طبیعت خراب ہوگی”
اصفر کو دیکھے بناء نوف کو اس سے نفرت محسوس ہونے لگی جیسے وہ عدنان سے نفرت کرتی تھی وہ نازنین کو صوفے سے اٹھا کر اس کے بیڈروم میں لے جانے لگی تاکہ وہ تھوڑی دیر ریسٹ کرسکے
ایئرپورٹ سے گھر پہنچنے کے لیے ازلان نے کیپ لی تھی وہ بیلا کو اس کے گھر چھوڑنے کے بعد خود اپنے فلیٹ میں جانے کا ارادہ رکھتا تھا واپسی کے سفر پر وہ دونوں بالکل ہی خاموش تھے۔۔۔ ازلان کو معلوم تھا کہ وہ اپنے فلیٹ میں پہنچنے کے بعد بیلا کو کافی زیادہ مس کرنے والا تھا بےشک ان دو دنوں میں بہت کم وقت ان دونوں نے ایک ساتھ گزارا تھا مگر جن اوقات میں بیلا اس کے ساتھ تھی وہ وقت ازلان کی زندگی میں خوشگوار اہمیت رکھتا تھا
بیلا کے واپس جانے پر اس کا دل اداس ہورہا تھا، بولتی نگاہوں سے وقفے وقفے سے دو سے تین بار وہ بیلا کو اپنے پاس رکنے کا کہہ چکا تھا، معلوم نہیں وہ ان بولتی نگاہوں کا مفہوم سمجھی تھی یا یونہی خاموش بیٹھی ہوئی تھی
“کیا ہوا”
ازلان نے چونک کر بیلا کے ہاتھ کو دیکھا جو اس کے ہاتھ پر موجود تھا تو وہ بیلا سے پوچھ بیٹھا
“کل یونیورسٹی تو آؤ گے ناں”
بیلا بہت امید بھری نظروں سے ازلان کا چہرہ دیکھتی ہوئی آہستہ آواز میں اس سے پوچھنے لگی
“مشکل ہے وہ چیپٹر تو اب اس ٹور کے بعد کلوز ہو گیا”
ازلان کی طرف سے جواب اس سے بھی زیادہ آئستہ آواز میں آیا تو بیلا پہلو بدل کر رہ گیا اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی
زندگی میں پہلی بار وہ نازنین اور افراہیم کے بغیر کہیں گئی تھی اور ان دو دنوں میں ان دونوں کو مس کرنے کے باوجود، اسے بالکل اندازہ نہیں ہورہا تھا کہ وہ ان دونوں کے بغیر اتنی آسانی سے رہ لےگی۔۔۔ ازلان کے ساتھ گزرے ہوئے یہ دو دن اس کے لئے بہت زیادہ اہم تھے اسے معلوم تھا وہ گھر پہنچ کر خوش ہونے کے ساتھ ساتھ ازلان کو بےتحاشا یاد کرنے والی تھی،، کاش کہ وہ ازلان کے کہنے پر اس کی بات مان جاتی اور دو دن تک مذید اس کے پاس رک جاتی۔۔۔ بیلا سوچتی ہوئی اداس ہونے لگی
“کیا ہوا”
وہ اپنی سوچوں میں گم تھی تبھی اپنے ہاتھ پر اسے ازلان کے ہاتھ کا لمس محسوس ہوا جس پر بیلا چونک کر اسے دیکھتی ہوئی ازلان سے پوچھنے لگی
“کیا افراہیم اس وقت گھر پر موجود ہوگا”
ازلان بیلا کو دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
“بھائی تو سات بجے تک آفس سے گھر آتے ہیں مگر تم کیوں پوچھ رہے ہو”
بیلا ازلان کو جواب دے کر اس سے سوال کرنے لگی
“سوچ رہا ہوں کل تو اپنے اور تمہارے نکاح کے بارے میں بتانا ہی ہے کیوں نہ آج ہی میں آنٹی اور افراہیم سے بات کرلو”
ازلان نے جتنی سنجیدگی سے بیلا سے کہا اتنی حیرت سے وہ ازلان کو دیکھتی ہوئی بولی
“تاکہ وہ اسی وقت غصے میں مجھے تمہارے ساتھ رخصت کردیں”
بیلا گھورتی ہوئی ڈرائیور کا لحاظ کر کے آہستہ آواز میں اذلان سے بولی
“تو کیا ہوا رخصت ہوکر میرے پاس ہی آنا ہے تمہیں،، ویسے بھی میں ساری سچائی اور حقائق ان دونوں کے سامنے رکھ کر آرام سے بات کروں گا جس سے مجھے نہیں لگتا کہ کوئی مسلئہ ہوگا”
ازلان اتنا سیریس ہوکر بیلا سے کہہ رہا تھا جیسے اس نے کیپ میں بیٹھے بیٹھے ہی افراہیم سے بات کرنے کا ارادہ بنالیا تھا
“ازلان یوں اچانک ایسی نیوز سے مما کی طبیعت خراب نہ ہوجائے پلیز چند دنوں تک صبر کرلو مجھے پہلے مما اور بھائی کو اعتماد میں لینے دو اس کے بعد ہی تم مما اور بھائی سے بات کرنا”
بیلا اس کے جذباتی پن پر ازلان سے بولی بیلا کے جواب پر ازلان بناء کچھ بولے کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا
“ٹیکسی یہی سائیڈ پر روک دیں پلیز”
بیلا کی آواز پر ازلان اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا کیونکہ اس کا گھر ابھی مذید بیس منٹ کی دوری پر تھا
“یہاں سے مجھے دوسری ٹیکسی لےکر گھر جانا ہے ایسا بہت ضروری ہے، تمہیں گھر پپچتے ہی کال کرو گی پریشان مت ہونا”
بیلا ازلان کے دیکھنے پر اس سے بولی تو ازلان بنا کچھ بولے اس کا سامان اتارنے لگا،، بیلا خاموشی سے ازلان کا چہرہ دیکھنے لگی وہ کافی زیادہ خاموش تھا
“تم چلے جاؤ ازلان میں آسانی سے چلی جاؤ گی”
ازلان ہاتھ کے اشارے سے دوسری ٹیکسی کو روکنے لگا تو بیلا ایک دم اسے بولی
“خاموشی سے کھڑی رہو”
ازلان بیلا سے بولتا ہوا اس کا بیگ ٹیکسی میں رکھ کر ٹیکسی ڈرائیور کو ایڈرس بتاتا ہوا بیلا سے پوچھنے لگا
“مجھ سے دوبارہ ملنے کب آؤں گی”
ازلان کے ایک دم پوچھنے بیلا ایک پل کے لئے بالکل خاموشی سے اس کو دیکھنے لگی پھر جلدی سے بولی
“آج رات خواب میں”
مسکرا کر بولتی ہوئی وہ ٹیکسی کی طرف بڑھنے لگی تبھی ازلان نے اس کا ہاتھ پکڑا
“میں مذاق کے موڈ میں نہیں ہوں بیلا”
وہ واقعی اس وقت سیریس لگ رہا تھا تبھی بیلا آرام سے بولی
“میں مذاق نہیں کررہی ہو جب تم مجھے رات کو یاد کر کے سو گئے تو میں لازمی تمہارے خواب میں آؤ گی، بس سونے سے پہلے مجھے یاد کرنا مت بھولنا”
بیلا آنکھوں کا نرم تاثر دیتی ہوئی بولی اور ٹیکسی میں بیٹھ کر ازلان کو دیکھنے لگی جو ڈھیر ساری اداسی اور بےچینی لیے اسی کو دیکھ رہا تھا بیلا کہ وہاں سے جانے کے بعد ازلان ٹیکسی میں بیٹھ کر اپنے اپارٹمنٹ جانے کے لئے نکلنے لگا تو اسے یاد آیا اس کا موبائل ائیر پلین موڈ پر ہے۔۔۔ وہ پاکٹ سے اپنا موبائل نکال کر آئیر پلین موڈ ہٹانے لگا تب اسے مبشر کا ٹیکس موصول ہوا جس میں وہ نوف کا ذکر کررہا تھا اس کی بہن کسی شاپنگ پلازہ میں دیکھی گئی تھی
“ٹیکسی رائٹ سائیڈ پر ٹرن کرلو”
بےقابو ہوتے دل کے ساتھ ازلان نے ٹیکسی ڈرائیور کو بولا اب وہ اپنے اپارٹمینٹ جانے سے پہلے مبشر سے ملنے کا ارادہ رکھتا تھا،، تاکہ اس سے ایک ایک بات کی جانکاری لے سکے
جاری ہے
