Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

وہ آفس سے واپس گھر لوٹا تو اسے لان میں بیلا نظر آئی جو کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔ افراہیم کار پارک کرتا ہوا بیلا کے پاس چلا آیا وہ جانتا تھا اس وقت بیلا کیا سوچ رہی ہوگی، اب اسے بیلا کو سمجھانا تھا اسے اس رشتے کے لیے منانا تھا جو کل اس کو پسند کرکے جاچکے تھے

“پریشان ہوں”
افراہیم کرسی پر بیٹھتا ہوا بیلا سے پوچھنے لگا تو بیلا ناراض نظروں سے افراہیم کی طرف دیکھنے لگی

“آپ اور مما چاہتے ہی کب ہیں کہ میں سکون سے رہ سکوں”
بیلا سر جھٹک کر شکوہ کرتی ہوئی افراہیم سے بولی

“میں اور مما ہم دونوں ہی تمہیں تمہاری آنے والی زندگی میں خوش دیکھنا چاہتے ہیں”
افراہیم بیلا کو دیکھتا ہوا بولا وہ ان دس سالوں میں جتنا بیلا پر توجہ دے سکتا تھا اس نے دی تھی مگر اس کے باوجود وہ کبھی کبھی مایوس ہوجاتا کیونکہ اس کی بہن دوسرے اجنبی لوگوں میں جھجھک محسوس کرتی تھی اس کی یونیورسٹی میں ابھی تک کوئی دوست نہیں تھی،، نارمل لائف گزارنے کے باوجود وہ اپنی ہی ایک الگ دنیا بنائی ہوئی تھی جس میں وہ کسی اسٹرینج کی مداخلت نہیں چاہتی تھی

“تو آپ دونوں نے میرے خوش رہنے کا حل یہ نکالا ہے کہ میری شادی کردی جائے، بھائی میں اپنی زندگی میں خوش ہوں کیسے یقین دلاؤں آپ کو اور مما کو”
بیلا دبے دبے غصے میں افراہیم کے سامنے بولی تو افراہیم نے بیلا کا گود میں رکھا ہوا ہاتھ نرمی سے اپنے ہاتھ میں تھاما

“شادی تو ہر لڑکی کو ایک نہ ایک دن کرنا ہوتی ہے، تم شادی کیوں نہیں کرنا چاہتی ہو”
وہ بیلا کو ناراض دیکھ کر پیار سے پوچھنے لگا

“آپ وجہ اچھی طرح جانتے ہیں تو پھر کیوں پوچھ رہے ہیں” بیلا نظریں چرا کر لان میں موجود پھولوں کو دیکھتی ہوئی بولی جو چند دن پہلے افراہیم کے کہنے پر گارڈنر نے لان میں لگائے تھے

“کیا تم عون کو پسند کرتی ہوں”
افراہیم وجہ اچھی طرح جاننے کے باوجود عون کا ذکر چھڑ چکا تھا جس پر حیرت سے بیلا نے افراہیم کو دیکھا

“بھائی کیا ہوگیا ہے آپ کو۔۔۔۔ عون کے بارے میں آپ کو بتانے کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ آپ اس کو لےکر بالکل ہی غلط رائے قائم کرلے وہ تو میری مرضی کے بغیر کبھی مجھ سے بات بھی نہیں کرتا،، نہ ہی میں نے کبھی اس کو دیکھا ہے۔۔۔ نہ ہی اس نے کبھی مجھے دیکھنے کی خواہش ظاہر کی ہے پھر آپ کیسے سوچ سکتے ہیں میرے بارے میں ایسا کہ میں اس کو پسند کرتی ہوں”
بیلا افراہیم سے اپنا ہاتھ چھڑوا کر ناراض لہجے میں بولی اور کرسی سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی

“اچھا جا کہا رہی ہو، میں نے تو یونہی ایک بات کہہ دی تھی بیٹھو واپس”
افراہیم اس کی ناراضگی محسوس کرتا ہوا بیلا کا ہاتھ پکڑ کر واپس کرسی پر بٹھا چکا تھا

“اگر تم عون کو پسند بھی کرتی تو مجھے یا مما کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا خیر اس کی بات کو چھوڑ کر اب ہم دونوں عمیر کی بات کرتے ہیں۔۔۔ عمیر بہت اچھا لڑکا ہے تم سے عمر میں چار یا پانچ سال بڑا ہوگا کافی سمجھدار اور سلجھا ہوا ہے اس نے جب کل تمہیں دیکھ کر اس رشتے میں حامی بھرلی تو میں نے تبھی اس کے سامنے ساری حقیقت رکھ دی تھی”
بیلا جانتی تھی افراہیم کس حقیقت کی بات کر رہا ہے وہ زخمی نظریں اٹھا کر افراہیم کو دیکھنے لگی مگر اب افراہیم اس کی بجاۓ لان میں لگے ہوئے پھولوں کو دیکھ رہا تھا پھر بولا

“کسی کو اندھیرے میں رکھ کر رشتے کی بنیاد قائم کرنا میری نظر میں اس کے ساتھ دھوکا کرنے کے برابر ہے مگر مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ حقیقت جاننے کے باوجود عمیر کو اس رشتے پر کوئی اعتراض نہیں ہے، وہ تم سے پہلے گھر میں آکر بات کرنا چاہتا تھا مگر میں جانتا ہوں تم فوری طور پر اس کے لیے تیار نہیں ہوگی اس لئے وہ تمہیں کال کرے تو پلیز میری خاطر اس سے بات کرلینا” افراہیم کی بات پر بیلا خاموش رہی اسے اپنے بھائی کا مان رکھنے کے لیے عمیر سے بات کرنا تھی دل کے نہ ماننے کے باوجود اسے اس رشتے کو قبول کرنا تھا اچانک سے اسے ڈھیر ساری اداسی نے آگھیرا۔۔۔ بھولا بسرا سا ایک چہرا اس کو یاد آیا،، بیلا اب اس کو یاد نہیں کرنا چاہتی تھی مگر وہ اس کو بھول بھی تو نہیں پائی تھی۔۔۔ وہ خاموشی سے اٹھ کر اپنے کمرے میں جانے لگی


روبی کے کہنے پر ماہ رخ نے واقعی اسے شہزادی کی طرح سجا ڈالا تھا آج سے پہلے اس نے کبھی ہاتھ پاؤں پر ویکس کا استعمال نہیں کیا تھا نہ ہی کبھی اپنی آئی بروز کو چھیڑا تھا۔۔۔ فیشل مساج کے بعد وہ اپنے لمبے بالوں کو کٹا ہوا دیکھ کر بہت روئی تھی۔۔۔ ماہ رخ کے دئیے گئے مکمل ٹریٹمنٹ نے اس کا لک کافی حد تک پہلے والے روپ سے چیلنج کردیا تھا۔۔ پھر رات کے لیے اس کو جو لباس زیب تن کرنے کے لیے کہا گیا، اس لباس کو دیکھنے کے بعد نوف کا دل کیا کہ وہ اس لباس کو پہننے سے انکار کر ڈالے مگر پھر اسے دیبا اور روشنی کے تشدد زدہ وجود یاد آنے لگے

سلیولیس شرٹ اور گہرے گلے میں اسے اپنا آپ عریاں محسوس ہورہا تھا شرم کے مارے وہ بار بار دوپٹے سے اپنے آپ کو چھپانے کی کوشش کر رہی تھی مگر شفون کے دوپٹے کے بار بار پھسلنے سے یہ کوشش ناکام ہورہی تھی،، ماہ رخ نے اس کا زبردست میک اپ کرنے کے بعد اس کو ہلکی پھلکی سی جیولری بھی پہنائی تھی

“ماہ رخ اگر میک اپ کرنے کا تکلف نہ بھی کرتی تم بھی کام چل جانا تھا لیکن اس روپ میں تم اور بھی زیادہ غضب ڈھا رہی ہو، آج رات روحیل کا دل خوش کردینا اس کو کوئی تکلیف کا موقع نہیں دینا”
روبی نوف کو روحیل کے فلیٹ میں بھیجنے سے پہلے بولی اور ساتھ ہی اس کو کسی قسم کی ہوشیاری نہ دکھانے کی بھی تنبیہہ کرنے لگی

“اور اس کے بعد پھر پورا ایک ہفتہ میں اس تتلی کو اپنے پاس رکھوں گا اپنی رانی بناکر”
محبوب نوف کو للچائی ہوئی اور ہوس بھری نظروں سے دیکھ کر بولا جس پر روبی ایک ادا سے مسکرائی۔۔۔ جبکہ نوف مسلسل راہ فرار کے بارے میں یا پھر اپنی جان لینے کے بارے میں سوچ رہی تھی۔۔۔ دس منٹ پہلے اس کو روحیل کی فلائٹ میں لایا گیا تھا نوف نے ہر ممکن کوشش کی تھی کہ وہ یہاں سے باہر نکل سکے مگر اس کو محسوس ہو رہا تھا شاید آج اس کی قسمت ساتھ نہیں دے گی وہ پانچ منزلہ فلیٹ کی بالکونی پر کھڑی نیچے دیکھ رہی تھی اور دل میں یہی سوچ رہی تھی کاش کے وہ بالکونی پوری طرح جالی سے کور نہیں ہوتی وہ یہاں سے چھلانگ لگاکر اگر اپنی جان نہ بھی دے سکے مگر اپنی عزت تو بچا سکتی تھی

“کیا ہوا یہاں سے بھاگنے کے بارے میں سوچ رہی ہو، تھوڑا مشکل ہے یہاں سے فرار ہونا”
وہ جو بالکنی میں کھڑی اپنی سوچوں میں گم تھی ایک دم کمرے میں سے آتی مردانہ آواز پر مڑتی ہوئی خوف کے مارے دیکھنے لگی۔۔۔ 30 سال کی عمر کے لگ بھگ سوٹ بوٹ پہنا ہوا آدمی یقیناً روحیل چختائی تھا۔۔۔ جس کے لئے آج اس کو یوں سجایا سنوارا گیا تھا، روحیل نے کمرے میں آنے کے ساتھ ہی کمرے کا دروازہ بند کردیا تو نوف اپنا کندھے سے ڈھلکا ہوا دوپٹہ جلدی سے ٹھیک کرنے لگی

“دیکھئے میں ویسی لڑکی نہیں ہوں جیسا آپ سمجھ رہے ہیں میں ایک شریف گھرانے سے تعلق رکھتی ہوں۔۔۔ روبی نے مجھے زبردستی میری مرضی کے بغیر یہاں آپ کے پاس بھیجا ہے پلیز مجھے یہاں سے جانے دیں”
نوف بالکنی سے کمرے میں آتی ہوئی روحیل کو دیکھ کر بولی۔۔۔ روحیل اسے حلیے اور لب و لہجے سے پڑھا لکھا لگ رہا تھا۔۔۔ اسے لگا روحیل اس کی مجبوری سمجھے گا اور ترس کھاکر اسے یہاں سے جانے بھی دے گا

“میں بھی ویسا آدمی نہیں ہوں جیسا تم مجھے سمجھ رہی ہو میں بھی ایک شریف گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں۔۔۔ ایک عدد خوبصورت بیوی اور دو بچے ہیں میرے، ہر قسم کی لڑکی کے ساتھ رات گزانا مجھے پسند نہیں ہے اور نہ ہی یہ سب میرا مشغلہ ہے بس مہینے دو مہینے میں ایک آدھ بار ہی۔۔۔۔ یو نو،،، روبی کو میرا مزاج اور اسٹینڈرڈ معلوم ہے اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے روبی نے تمہیں آج رات میرے لئے سلیکٹ کیا ہے اور ماننا پڑے گا اس کا منتخب کردہ آج رات کا یہ سرپرائز،، تمہارا مدھوش کرنے والا یہ حُسن واقعی اس قابل ہے کہ اس کو بہت نزدیک سے دیکھا جائے اس لیے وقت ضائع کئے بغیر یہاں میرے پاس آجاؤ،، نخرے مجھے بالکل بھی پسند نہیں ہیں اور صبح مجھے میٹنگ بھی اٹینڈ کرنا ہے”
روحیل نوف سے بات کرنے کے ساتھ ہی شراب کی بوتل اور ایک گلاس سامنے میز پر رکھتا ہوا خود صوفے پر بیٹھ چکا تھا۔۔۔ نوف آنسو بہاتی ہوئی روحیل کو دیکھنے لگی

“تم ابھی تک وہی کھڑی ہو دیکھو میں جانتا ہوں یہ سب جو آج تمہارے ساتھ ہوگا وہ تمہارا پہلا تجربہ ہوگا۔۔۔ روبی کے پاس جتنی بھی نئی لڑکیاں آتی ہیں وہ پہلی دفعہ میں ایسے ہی ڈری سہمی ہوتی ہیں پھر آہستہ آہستہ انہیں اس کام کی عادت ہوجاتی ہے تمہیں بھی ہوجائے گی۔۔۔ یوں رونا دھونا مچا کر تم کچھ ایکسڑا ہی کررہی ہو،، میں آج رات تمہارے ساتھ گزارنے کی ایک اچھی اماؤنٹ روبی کو دے چکا ہوں اس لیے میرا ٹائم ویسٹ نہیں کرو”
روحیل نوف کو روتا ہوا دیکھ کر بہت آرام سے سمجھانے لگا

“بغیر رشتے کے اس طرح کیسے،، پلیز آپ مجھ سے شادی کرلیں”
نوف اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی روحیل سے بولی جس پر وہ قہقہہ مار کر ہنسا

“شادی کرلو تم سے،، وہ کیوں بھئی۔۔۔ تم میری تعریف کو غلط انداز میں لے رہی ہو میری بیوی بھی بہت خوبصورت ہے اور میں اپنی لائف میں اس کے ساتھ بہت خوش ہوں تمہیں بتایا تو ہے یہ سب میرا مشغلہ نہیں ہے۔۔۔ کبھی کبھار روٹین لائف سے ہٹ کر یا تھوڑا سا ذائقہ بدلنے کے لیے میں روبی سے کانٹیکٹ کرلیتا ہوں اب تم میرا کافی وقت لے چکی ہو۔۔۔ جاؤ جاکر بیڈ پر لیٹ جاؤ”
روحیل شراب کا گلاس خالی کرچکا تھا۔۔۔ وہ خالی گلاس کو دوبارہ شراب سے بھرتا ہوا نوف سے بولا۔۔۔ ایک بار پھر آنکھوں سے امڈ آنے والے آنسوؤں کو صاف کرتی ہوئی نوف بیڈ کی طرف دیکھنے لگی جس کی طرف قدم بڑھانا اسے دشوار لگ رہے تھے۔۔ اس سے پہلے روحیل صوفے سے اٹھ کر نوف کر پاس آتا نہ جانے کس خیال کے تحت وہ بیڈ کے برابر میں موجود دروازہ کھول کر تیزی سے اندر چلی گئی اور دروازہ اندر سے بند کرلیا

“دروازہ کھولو دیکھو میں ابھی تک تمہارے ساتھ بہت نرمی سے پیش آرہا ہوں، میں نہیں چاہتا کہ میں روبی کو کال کرکے تمہاری کمپلین کرو اور وہ یہاں آکر تمہارے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کرے۔۔۔ میں تمہارے باہر آنے کا صرف بیس منٹ تک ویٹ کروں گا اس کے بعد میں روبی کو یہاں بلا لوں گا”
نوف کو ڈریسنگ روم کے اندر جاکر دروازہ بند کرتا ہوا دیکھ کر روحیل نوف سے بولا۔۔۔ اور صوفے پر بیٹھ کر شراب سے اپنا دل بہلانے لگا


عمیر کی باتیں سننے کے بعد وہ شاکنگ انداز میں موبائل ہاتھ میں پکڑے چند سیکنڈ تک بیٹھی رہی پھر اپنا غصہ دباتی ہوئی عون کا نمبر ڈائل کرنے لگی،، کافی دیر بیل جاتی رہی اس کے بعد دوسری طرف سے کال ریسیو کی گئی

“تو پورے دن کے 24 گھنٹے مجھے اگنور کرنے کے بعد آخر کار رات میں تمہیں میری ضرورت پڑ ہی گئی”
عون کی طرف سے بولا گیا جملہ مزاق میں یا طنز میں ہرگز نہیں تھا بیلا کو محسوس ہوا جیسے وہ خود بھی دلبرداشتہ یا پریشان ہو مگر اس کی بات کا مفہوم ایسا تھا کہ بیلا نظر انداز نہیں کر سکی

“شٹ اپ عون تمہاری فضولیات سننے کے لیے کال نہیں کی ہے میں نے تمہیں”
عون کی ڈبل میننگ بات پر بیلا اسے ٹوکتی ہوئی بولی تو عون فورا بولا

“اوکے پھر مجھے بتاؤ کہ کیا مسئلہ درپیش آگیا ہے تمہیں”
بولتے ہوئے اس نے کوشش کی تھی کہ اپنی آواز کے بھاری پن کو اعتدال میں رکھ کر بات کرسکے مگر بیلا اس کی آواز پر چونکی

“کیا ہوا ہے تمہیں تم مجھے کچھ پریشان لگ رہے ہو”
عون کے لب و لہجے پر وہ بھول چکی تھی کہ اس نے عون کو غصے میں کال ملائی تھی

“پریشان نہیں بالکل اکیلا ہوگیا ہوں میں،، تکلیف کے احساس سے محسوس ہورہا ہے سینے میں موجود یہ دل باہر آجاۓ گا میرا، مگر جانے دو تم اپنا مسلئہ بتاؤ کیا ہوا ہے”
وہ شروع دن سے اپنے مسلئے مسائل بیلا سے شئیر نہیں کرتا تھا۔۔۔ صرف بیلا کی پریشانیاں اس سے سنتا تھا، عون کی بات سن کر بیلا پل بھر کے لیے خاموش ہوئی ایک پل کے لیے اس کا دل کیا عون سے اس کی پریشانی کے بارے میں پوچھے مگر وہ عون کی نیڈ نہیں بننا چاہتی تھی وہ صرف اپنے مسلے اس سے شیئر کرتی آئی تھی اسی شرط پر وہ اس سے بات کرتی تھی

“عمیر کو تم نے کال کرکے کہا ہے کہ وہ خود میرے بھائی کے سامنے اس رشتے سے انکار کردے ورنہ سنگین نتائج کا وہ خود ذمہ دار ہوگا”
بیلا مطلب کی بات پر آئی اور عون سے پوچھنے لگی

“تم خود بھی اس رشتے کے چکر سے نجات چاہتی تھی، میں نے تمہاری مدد کی ہے”
عون آرام سے بولا

“کیا میں نے تم سے کہا تھا تم میری اسطرح سے مدد کرو”
بیلا خود بھی یہی چاہتی تھی مگر اب نہ جانے وہ کیوں عون پر غصہ کررہی تھی

“ٹھیک ہے میں دوبارہ عمیر کو کال کرکے اس سے ایکیوز کرلیتا ہوں اور کہہ دیتا ہوں کہ وہ کل پھر تمہارے گھر پر دوبارہ اپنا رشتہ لےکر آجائے”
عون کا نرم لہجہ اور انداز اس کو مزید سلگا گیا

“تم حد سے زیادہ بڑھ رہے ہو عون اگر میں تم سے اپنی پرابلمز شیئر کرتی ہوں تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ جو تمہارے دل میں آئے یا جو تمہیں صحیح لگے، تم کسی سے کچھ بھی بولتے رہو۔۔۔ تمہیں یہ حق حاصل نہیں ہے کہ تم کسی کو بھی بول دو کہ میں اور تم ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔۔۔ ویسے عمیر کے بارے میں معلومات کہاں سے حاصل کی تم نے، میں نے تو تمہیں اس کے نام کے علاوہ کچھ بھی نہیں بتایا تھا اس کا فون نمبر اور باقی دوسری معلومات کہاں سے حاصل کی تم نے،، تمہارا ارادہ کیا ہے عون، تم چاہتے کیا ہو”
بیلا سخت لہجے میں عون سے پوچھنے لگی وہ جو خاموشی سے بیلا کی بات سن رہا تھا تھوڑی دیر بعد بولا

“تم خود کیا چاہتی ہوں بیلا، یہ مجھے مت بتاؤ بلکہ اپنے کمرے میں موجود آئینے کے سامنے کھڑی ہوکر خود سے پوچھو”
عون بیلا کو بولتا ہوا کال کاٹ چکا تھا کیوکہ اس کے پاس موجود اس کے مسلے مسائل بیلا کے مسائل سے بڑے اور قابل غور تھے جبکہ دوسری طرف بیلا واقعی سوچ میں پڑگئی کہ وہ کیا چاہتی ہے اس سے پہلے کہ وہ آئینے کے سامنے کھڑی ہوکر خود سے سوال کرتی بادل کی گرج دار آواز پر وہ صوفے سے اٹھ کر کھڑکی بند کرنے لگی


“ارے بدبخت چھوڑ دے میرے لال کو، مار مار کے تو نے اس کا بھرتا بنا ڈالا ہے۔۔ اب کیا جان لے گا میرے بچے کی،، ارے احسان فراموش تیری ماں اور بہن دس سالوں تک اس چھت کے نیچے رہی ہیں یہ صلہ دے رہا ہے تو ہمارے احسانوں کا۔۔۔ میں کہتی ہو چھوڑ میرے عدی کو”
وہ شاید آج سچ میں عدنان کا گلا دبا کر اس کی جان لے لیتا غزل دہائیاں دینے کے ساتھ ازلان کو پیچھے ہٹاتی ہوئی بولی جبکہ گل سکتے کی کیفیت میں خاموش کھڑی کافی دیر سے عدنان کو بری طریقے سے ازلان کے ہاتھوں مار کھاتا ہوا دیکھ رہی تھی

“مار ڈالوں گا میں اسے۔۔۔ سچ میں جان لےلو گا میں آج اس ذلیل انسان کی اپنے ہاتھوں سے، اگر مجھے میری بہن نہیں ملی تو۔۔۔ اس گھٹیا انسان کی وجہ سے میری بہن اپنی عزت بچانے کے لئے یہاں سے بھاگ گئی تھی،، چچا جان اور میری امی اس کمینے کی کمینگی کو دیکھ کر صدمہ برداشت نہیں کر پائے اور دنیا سے چل بسے آپ کو تو خود چاہیے کہ ایسی بدکردار اولاد کو خود اپنے ہاتھوں سے مار ڈالیں”
ازلان غصے میں غزل کو بولتا ہوا ایک بار پھر عدنان کو مارنا شروع کرچکا تھا

“جو خود دوسری لڑکیوں کی عزت اچھالتے ہیں پھر انکی اپنی بہنوں کے ساتھ ایسا ہوتا ہے”
گل کی بات سن کر ازلان عدنان کو چھوڑتا ہوا تیزی سے اس کی طرف بڑھا

“ایک بھی لفظ اگر تم نے اپنے منہ سے دوبارہ نکالا تو میں بھول جاؤں گا کہ تم لڑکی ذات ہو”
ازلان غصے میں انگلی اٹھا کر گل کو وارننگ دیتا ہوا بولا اتنے میں عدنان موقع دیکھ کر گھر سے نکل کر باہر بھاگ گیا اس سے پہلے ازلان اس کے پیچھے بھاگتا غزل اس کے آگے دیوار بن کر کھڑی ہوگئی جبکہ گل ازلان کا بازو پکڑتی ہوئی بولی

“عدی کو مارنے سے کوئی فائدہ نہیں، ببلی کے بھائی نے نوف کو اس دن ریلوے اسٹیشن میں کسی چلتی ٹرین میں دیکھا تھا وہ اس شہر اس علاقے میں موجود ہو ایسا ممکن نہیں”
گل کی بات سن کر ازلان حیرت سے اسے دیکھنے لگا پھر تھکے قدموں سے چلتا ہوا پلنگ پر بیٹھ گیا

وہ خوش تھا اور بےتاب بھی پورے چار سال بعد اپنے بتاۓ ہوۓ آمد کے دن سے پہلے وہ رخشی اور نوف کو آکر سرپرائیز دے گا مگر جو حقیقت لیے رخشی اس کا انتظار کررہی تھی وہ سن کر ازلان کے پیروں تلے زمین نکل چکی تھی، اس کی بہن نہ جانے کہاں چلی گئی تھی۔۔۔ عدنان کی گری ہوئی حرکت پر نثار نے صدمہ لےکر اسی وقت اپنی جان دے دی تھی جبکہ رخشی ازلان کو عدنان کے نیچ حرکت کے بارے میں بتانے کے لیے اب تک سانسیں لے رہی تھی۔۔۔ آج صبح ہی اس نے ازلان کے سامنے دم توڑ دیا تھا، اس کی بہن کہاں تھی کس حال میں تھی ازلان کو کچھ خبر نہیں تھی۔۔۔ مگر اسے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھنا تھا اپنی بہن کو ڈھونڈنا تھا


جاری ہے