No Download Link
Rate this Novel
Episode 32
یہ اچھا ہوا تھا کہ آج صبح ہی اس کی معامون سے کال پر بات ہوگئی تھی اور دوسری بات جو اچھی ہوئی تھی وہ یہ کہ معامون تھوڑی دیر پہلے ہی اس کے پاس سے ہوکر گیا تھا اور گل کو دیکھ کر ازلان کو رشتے کے لئے اوکے کرچکا تھا۔۔۔ دراصل معامون کی وائف جو نو ماہ پہلے ایک صحت مند بیٹے کو پیدا کرکے ڈلیوری کے دوران مرچکی تھی اس چھوٹے بچے کی پرورش اور دیکھ بھال معامون کی ضعیف والدہ کی بس کی بات نہیں تھی کیونکہ وہ خود بھی بیمار رہتی تھیں، اپنے مسئلے کو لےکر پریشان ہوتے ہوئے معامون یہ بات دو ماہ پہلے ازلان سے شیئر کرچکا تھا کے اسے ایک ایسی لڑکی کی ضرورت ہے جو اس کے گھر کو اور اس کے بچے کو سنبھال لے،، تب اس نے معامون کو گل کے بارے میں بتایا اور آج رات معامون کو اپنے گھر ڈنر پر بلالیا، معامون شریف النفس اور ہر لحاظ سے گل کے لیے مناسب تھا اب صرف اس کو گل کو اس رشتے کے لئے راضی کرنا تھا۔۔۔ گھڑی میں ٹائم دیکھ کر وہ اپنے بیڈ روم میں آکر بیلا کو کال ملانے لگا یہ سوچتے ہوۓ کہ بیلا اس کی کال کا ویٹ پچھلے دو گھنٹے سے کررہی ہوگی
“کیا تم مصروف ہو اس وقت”
گل اذلان کے کمرے میں آتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی
“مصروف تو نہیں تھا مگر بیلا سے بات کرنا چاہ رہا تھا خیر تم بتاؤ کوئی کام تھا تمہیں”
ازلان موبائل کو پاکٹ رکھتا ہوا گل سے پوچھنے لگا
“مجھے بھی کوئی خاص کام نہیں تھا بس میں چارہی تھی تم سے اس وقت بات کرو مگر تمہارا تمہاری بیوی سے بات کرنا ضروری ہے تم اسے ٹائم دو”
گل ازلان سے بولتی ہوئی اس کے کمرے سے جانے لگی
“گل رکو، یہاں بیٹھ جاؤ بیلا سے میں بعد میں بات کرلوں گا تم کرو تمہیں جو بھی بات کرنا ہے”
ازلان کچھ سوچتا ہوا گل سے بولا تو گل ازلان کی بات مان کے کمرے میں موجود صوفے پر بیٹھ گئی اور ازلان کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی
“کیا وہ تمہیں بہت اچھی لگتی ہے ازلان”
ازلان گل کی بات سن کر خاموشی سے اسے دیکھنے لگا آہستہ آہستہ گل کی آنکھوں میں نمی بھرنے لگی
“گل میری بات سنو”
ازلان اس کو رنجیدہ دیکھ کر بولا تو وہ ازلان کی بات کاٹتی ہوئی بولی
“میں نے تم سے بہت پہلے یہ کہا تھا ناں ازلان کہ بات اگر دل لگی تک ہے تو ٹھیک ہے مگر اس کو اپنے دل سے مت لگانا لیکن تم نے وہی کیا اس سے سچ میں اپنا دل لگالیا تمہیں ایک بار بھی میرا خیال نہیں آیا، اس سے نکاح کرتے وقت ایک بار بھی میرے متعلق نہیں سوچا تم نے”
گل ازلان کے سامنے روتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی
“اسٹاپ اٹ گل، تم یوں میرے سامنے رو کر، مجھے سے شکوہ کرکے مجھ پر یہ ظاہر نہیں کرسکتی کہ میں نے تمہارے ساتھ دھوکا کیا ہے۔۔۔ جو میرے دل میں فیلینگز تھیں تم ان سے لاعلم نہیں تھی میں نے کب تم پر یہ ظاہر کیا کہ میں ہمارے بچپن کے رشتے پر خوش ہوں یا پھر میں نے کب تمہیں مستقبل کے سوہانے خواب دکھاۓ ان ساری باتوں کا بلیم تو مجھے نہیں دے سکتی”
ازلان گل کے رونے پر سخت لہجے نے دو ٹوک انداز میں اس سے بولا تو وہ اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کرتی ہوئی صوفے سے اٹھ کر چلتی ہوئی ازلان کے پاس آئی
“مانا کے تمہارے دل میں میرے لئے کبھی کوئی فیلیگز نہیں رہی لیکن تم میری فیلینگز سے تو انجان نہیں تھے، اس کو اپنی زندگی میں شامل کرتے وقت کیا ایک بار بھی تمہیں میری یاد نہیں آئی”
ازلان سے پوچھتے ہوئے گل کی آنکھوں سے ایک مرتبہ پھر آنسو چھلکنے لگے
“نہیں گل بیلا کو اپنی زندگی میں شامل کرتے وقت تو کیا، مجھے ان دس سالوں میں کبھی بھی تمہاری یاد نہیں آئی اور تمہاری خود کی بھی بہتری اسی میں ہے کہ تم مجھے بھول جاؤ اور نکال پھینکوں مجھے اپنے دل سے”
ازلان اس کے سامنے کھڑا سخت لہجے میں بےحسی کی انتہا کرتا ہوا گل سے بولا اس وقت ایسا کرنا ضروری بھی تھا کیونکہ اگر وہ اس وقت نرمی سے گل کو سمجھاتا تو شاید گل اس کی بات کبھی نہیں سمجھ پاتی
“نہیں بھول سکتی ناں ازلان اتنا آسان نہیں ہوتا بچپن کی محبت کو ایک دم سے بھول جانا، دل سے نکال پھینکنا”
گل اپنے آنسو صاف کرکے نفی میں سر ہلا کر بولی
“ایسے تو پھر تمہارے لیے زندگی بہت مشکل ہوجائے گی گل، کیونکہ اب کچھ نہیں ہوسکتا اور نہ ہی میں تم سے محبت کرتا ہوں نہ ہی کبھی کرسکتا ہوں”
ازلان گل کو باور کرواتا ہوا بولا
“تم میرے لئے آسانیاں پیدا کردو ناں ازلان، تم کچھ نہیں کرو بس مجھے اپنالو بےشک محبت بھی نہیں کرو مجھ سے،، وہ تو میں تمہیں کرتی ہوں، تم اس فتنہ نما لڑکی کو چھوڑ کر مجھ سے شادی کرلو، میں تمہیں اس سے زیادہ پیار دو گی، بہت خوش رکھوں گی تمہیں میرا یقین کرو”
گل کی بات سن کر ازلان غصے میں اس کو دیکھنے لگا اس سے پہلے وہ ازلان کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں تھامتی ازلان نے اس کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر زور سے جھٹکا
“شرم آنی چاہیے تمہیں گل یہ سب بکواس کرتے ہوئے مجھے یہ سوچنے پر مجبور مت کرو کہ میں نے تمہاری مدد کرکے غلطی کی ہے، معامون ایک اچھا اور شریف لڑکا ہے پرسوں اس سے تمہارا سادگی سے نکاح ہے یہی گھر پر۔۔۔۔ اگر تم اس نکاح کے لیے راضی نہیں ہوتی اور عدنان تم کو ڈھونڈتا ہوا یہاں تک پہنچ جاتا ہے تو پھر میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا اور نہ ہی میں تمہیں یہاں اپنے ساتھ زیادہ دنوں تک رکھ سکتا ہوں اب تم اچھی طرح سوچ لو جو تمہیں اپنے لئے بہتر لگے وہ تم مجھے صبح تک بتا دینا”
ازلان گل کو بولتا ہوا اپنے کمرے سے باہر چلا گیا
“کیا ہوگیا یمنہ ایسے کب تک روتی رہو گی بس چپ کر جاؤ، وہ اب کبھی بھی تمہیں دوبارہ پریشان نہیں کرے گا۔۔۔ اور میرے ہوتے ہوئے کوئی روبی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی”
کمرے میں آنے کے بعد کھڑکی کے پاس کھڑی ہوئی نوف مسلسل روئے جارہی تھی تب افراہیم نوف کو شانوں سے تھام کر اس کا رخ اپنی طرف کرتا ہوا نرمی سے بولا
“میں یمنہ نہیں ہوں افراہیم”
آنسوؤں سے تر چہرے کے ساتھ وہ افراہیم کو دیکھتی ہوئی بولی اب اس میں مزید ہمت نہیں تھی افراہیم سے اپنا اصل چھپانے کی
“معلوم ہے مجھے تم یمنہ نہیں ہو بلکہ افراہیم کی زندگی ہو”
افراہیم مسکرا کر اس کے آنسو صاف کرتا ہوا بولا، اس نے نوف کو اپنے حصار میں لینا چاہتا تو نوف نے بری طرح اس کے دونوں ہاتھ جھٹک دیئے جس پر افراہیم حیرت سے اسے دیکھنے لگا
“آخر کیوں نہیں پہچانتے آپ مجھے، دس سالوں میں کوئی اتنا نہیں بدل سکتا کہ اس کا چہرہ تک یاد نہ رکھا جاسکے یا پھر یہ کہ میری ذات اس قابل ہی نہیں تھی کہ آپ اس کو اپنی یاداشت میں محفوظ رکھ پاتے”
نوف روتی ہوئی افراہیم کو دیکھ کر بولی
“یہ کون سا انداز ہے بات کرنے کا اور ان سب باتوں کا مطلب کیا ہے آخر”
افراہیم اس کی باتوں پر الجھتا ہوا نوف کو غور سے دیکھ کر پوچھنے لگا
“میری باتیں بھی تو سمجھ میں نہیں آرہی ہیں آپ کو افراہیم”
نوف افسوس سے افراہیم کو دیکھتی ہوئی بولی
“یمنہ پہیلیاں مت بجھاؤ صاف صاف بولو جو بولنا چاہتی ہو”
افراہیم ڈانٹتا ہوا اسے دیکھ کر بولا کیونکہ اس کا یہ رویہ افراہیم کی سمجھ سے بالاتر تھا
“یمنیٰ نام نہیں ہے میرا نوف ہوں میں، پر افسوس آپ کو تو میرا اصل نام تک معلوم نہیں ہوگا۔۔۔۔ قیوم کا نام تو یاد ہوگا آپ کو وہی قیوم جو دس سال پہلے آپ کے بابا کے پاس ڈرائیوری کے فرائض انجام دے چکے ہیں ان کی بیٹی ہوں میں”
نوف بنا ہچکچاۓ افراہیم کے سامنے بولی جبکہ کہیں نہ کہیں اب اس کو اپنے انجام کا بھی اندازہ تھا۔۔۔ نوف کے انکشاف پر افراہیم نے سختی سے اس کے دونوں بازوؤں کو پکڑا
“کیا بکواس کررہی ہو تم”
وہ شاکڈ کی کیفیت میں نوف کو دیکھ کر چیخا
“بکواس نہیں کررہی ہوں یہ حقیقت ہے، میں وہی لڑکی ہوں جس پر آپ حکم چلاتے تھے، جس سے آپ اپنے سارے کام کروا کر خوش ہوتے تھے، جس کی عزت ایک بار آپ نے اسی کے کزن سے بچائی تھی وہی لڑکی جس کا چہرہ غصے میں آکر آپ نے طماچوں سے سرخ کردیا تھا۔۔۔ وہی لڑکی جس کے بھائی نے آپ کی بہن کے ساتھ”
اس سے پہلے نوف کی بات مکمل ہوتی افراہیم کا ہاتھ فضا میں بلند ہوا جس سے نوف کی زبان کو بھی ایک دم بریک لگی
“خبردار جو اب ایک بھی لفظ تمہاری زبان سے نکلا تو”
افراہیم کے چہرے کے تاثرات ایک دم اتنے سخت اور پتھریلے ہوگئے کہ نوف بناء کچھ بولے اس کے سامنے رونے لگی۔۔۔ افراہیم غصے میں آنسو بہاتی ہوئی اپنی بیوی کو دیکھنے لگا
ایک دم اسے دس سال پہلے والی ایک دبو سی لڑکی یاد آئی جو ہر وقت اس کے سامنے اسی کے حکم کے مطابق اپنا سر جھکائے رکھتی تھی، جس کی آواز مشکل سے ہی افراہیم کے سامنے نکل پاتی تھی جس کا حشر بری طرح بگاڑنے کے بعد افراہیم نے اس کے آنسوؤں کو دیکھ کر اسے بخش دیا تھا اور اپنے آپ کو بھی اس گناہ سے بچالیا تھا جس کے بعد وہ زندگی میں کبھی خود سے نظریں نہیں ملا پاتا
“تمہاری آج بھی اتنی حیثیت نہیں ہے کہ تم میرے سامنے کھڑی ہو سکو نکلو میرے کمرے سے”
افراہیم ایک دم ہوش میں آکر غصے میں نوف پر چلایا
“آپ میری حیثیت تھوڑی دیر پہلے روحیل کے سامنے خود بتاچکے ہیں بیوی ہوں میں آپ کی”
نوف افراہیم کو غصے میں دیکھنے کے باوجود ایک دم سے بولی جس پر افراہیم اس کو غصے میں بازو سے پکڑتا ہوا اپنے کمرے سے باہر نکلنے لگا
“افراہیم نہیں پلیز۔۔۔ میری بات سنیں افراہیم پلیز”
وہ غصے سے پاگل ہونے والا تھا نوف التجا کرتی ہوئی افراہیم سے بولی مگر وہ نوف کو اپنے کمرے سے باہر نکال کر کمرے کا دروازہ بند کرچکا تھا
★
شدید غصے کی وجہ سے وہ رات میں مشکل سے ہی نیند لے پایا تھا، اسے رہ رہ کر کل رات والی نوف کی باتیں یاد آرہی تھیں جو وہ افراہیم کے سامنے بول رہی تھی،، کبھی اس کو گزرے ہوئے دس سال پہلے کہ لمحات یاد آتے جب وہ اس دبو سی لڑکی کو اپنے سامنے زبان کھولنے کی بھی اجازت نہیں دیتا تھا، پھر اسے اپنے پاگل پن پر غصہ آنے لگتا کیسے وہ اسی لڑکی کو اپنی بیوی بناکر اس پر فدا ہوئے جارہا تھا وہ دبو سی لڑکی دل ہی دل میں اس پر کتنا ہنستی ہوگی، کیسے وہ اس کی محبت میں مبتلا ہوچکا تھا کہ اسے اس کو اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلا رہا تھا اور شوز پہنا رہا تھا یہ ساری بات یاد کرکے افراہیم کو نئے سرے سے غصہ آنے لگا مگر یہ غصہ اسے نوف سے زیادہ خود پر آیا تھا
دوسرے اس کے دوست اس کو تیز اور چالاک انسان سمجھتے تھے لیکن وہ ایک چھوٹی سی لڑکی کے ہاتھوں کیسے بیوقوف بن گیا تھا، اپنی عقل کے ساتھ اپنی یاداشت پر ماتم کرتا ہوا وہ حیرت زدہ بھی تھا، آخر کیسے وہ اس لڑکی کو پہچان نہیں پایا جاتا لیکن دس سال پہلے اس کا نوف سے ٹکراؤ ہی کتنی بار ہوا تھا مشکل سے چار یا پانچ پر، وہ اپنے آپ کو دل ہی دل میں بےقصوروار بھی ماننے لگا۔۔
کل رات اس پر غصے اور شاکڈ کے ملے جھلے اثرات اس قدر غالب ہوچکے تھے اگر وہ نوف کو اپنی نظروں کے سامنے سے ہٹاتا نہیں تو نہ جانے نوف کے ساتھ غصے میں کیا کر بیٹھتا لیکن اس وقت اس کی کمرے میں غیر موجودگی بھی افراہیم کو غصہ دلا رہی تھی اس لئے اپنے کمرے سے نکل تو وہ نوف کے بیڈ روم میں جانے لگا مگر سبز رنگ کا لہراتا ہوا آنچل اسے کچن کے دروازے کے پاس نظر آیا تو وہ اپنے ماتھے کے بل درست کرتا ہوا کچن میں چلا آیا جہاں نوری کے ساتھ “وہ” بھی موجود تھی جو افراہیم کو دیکھ کر اپنی نگاہیں اور سر دونوں جھکا گئی تھی اس کا معصوم چہرا دیکھ کر افراہیم کے ماتھے پر دوبارہ بل نمودار ہوۓ
“کمرے میں آکر وارڈروب سے میرے کپڑے نکالو”
افراہیم نوف کو حکم دیتا ہوا واپس کمرے میں چلا آیا لیکن تھوڑی دیر بعد جب افراہیم نے اپنے کمرے میں نوف کی بجائے نوری کو آتا ہوا دیکھا تو اس کا پارہ ایک دم ہائی ہونے لگا
“نوف کہاں ہے”
افراہیم غصے میں نوری سے پوچھنے لگا
“نوف؟؟ مگر صاحب جی وہ کون ہے جی”
نوری الجھتی ہوئی افراہیم سے پوچھنے لگی جس پر اب افراہیم کو نوری پر بھی غصہ آنے لگا
“دماغ خراب مت کرو میرا جاؤ یہاں سے اور یمنہ کو بیڈروم میں بھیجو”
افراہیم آنکھیں دکھاتا ہوا نوری سے بولا تو وہ اثبات میں سر ہلاکر کمرے سے چلی گئی، تھوڑی دیر بعد نوف اس کے کمرے میں آئی تو افراہیم غصے میں چلتا ہوا اس کے پاس آیا
“کیا سمجھتی ہو تم خود کو نوری کو کیوں بھیجا تم نے اپنی جگہ میرے پاس”
وہ آنکھیں دکھاتا ہوا سخت لہجہ میں نوف کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“کچن میں اس وقت نوری اور میں دونوں ہی موجود تھے تو مجھے سمجھ میں نہیں آیا آپ نے کس کو مخاطب کیا”
نوف افراہیم کو غصے میں دیکھ کر آئستہ آواز نے اسے بتانے لگی لیکن یہ سچ بھی تھا وہ نیچی نظریں کرنے کی وجہ سے جان نہیں پائی تھی کہ افراہیم کس سے مخاطب ہوا ہے کیونکہ کل رات وہ اسے اپنے کمرے سے نکال چکا تھا تو اس وقت یقینا اس نے نوری کو بلایا ہوگا اس لیے نوف نے نوری سے کمرے میں جانے کو بولا
“ہوشیار بننے کی ضرورت نہیں ہے میرے سامنے بیوی کون ہے میری۔۔۔ نوری یا تم”
افراہیم کے سخت لہجے میں بولنے پر نوف خاموشی سے افراہیم کو دیکھنے لگی یعنی وہ اس ڈرائیور کی بیٹی کو ابھی بھی اپنی بیوی تسلیم کرتا تھا جبکہ افراہیم اپنے بولے گئے جملے پر غور کرنے کے بعد لب بھینچ گیا
“دیکھ کیا رہی ہو میری طرف نظریں نیچی کرو اپنی”
افراہیم نوف کے دیکھنے پر اسے روعب دار لہجے میں آنکھیں دکھاتا ہوا بولا، جس پر نوف کو محسوس ہوا جیسے وقت دس سال پہلے پیچھے چلا گیا ہو وہ افسوس سے بنا کچھ بولے ابھی بھی افراہیم کو دیکھنے لگی جبکہ اپنے حکم نہ ماننے پر افراہیم کو نوف پر مزید غصہ آیا وہ نوف کے مزید قریب آکر اس کا منہ دبوچتا ہوا بولا
“بیوقوف لگ رہا ہوں میں تمہیں جو میرا کہنا ماننے کی بجائے مجھے دیکھ رہی ہو، آنکھیں نیچی کرو اپنی”
افراہیم غصے میں بولتا ہوا جھٹکے سے اس کا منہ چھوڑ کر پیچھے ہوا تو نوف کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اس نے فورا اپنا سر جھکالیا مگر افراہیم اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ چکا تھا جنہیں دیکھ کر وہ مزید مشتعل ہونے لگا
“فورا صاف کرو اپنے آنسو، اگر تمہاری آنکھ سے آنسو نکل کر نیچے گرا تو میں تمہارا حشر برا کردو گا، بیوقوف نہیں ہو میں جو تمہارے ان آنسوؤں کو دیکھ کر پگھل جاؤں۔۔۔ جاؤ جاکر وارڈروب سے کپڑے نکالو میرے”
افراہیم سخت لہجے میں اس کو حکم دیتا ہوا بولا نوف سے سخت لہجے میں بات کرنے کے باوجود اس کے اندر کوئی اسی کا مذاق اڑا رہا تھا کہ وہ ایک چھوٹی سی لڑکی کے آگے بےوقوف بن چکا تھا، وہ لڑکی جسے دس سال پہلے وہ دیکھنا تک گوارا نہیں کرتا تھا اور آج وہ اس کو اپنی بیوی بنا چکا تھا
“جا کہاں رہی ہو شوز نکالو میرے”
افراہیم کے کپڑے وارڈروب سے نکالنے کے بعد نوف کمرے سے نکلنے لگی تبھی اسے دوبارہ افراہیم کی غصے بھری آواز سنائی دی نوف خاموشی سے سر جھکاۓ بنا کچھ بولے افراہیم کی شوز نکالنے لگی۔۔۔ آنسو نوف کی آنکھوں میں ابھی بھی موجود تھے مگر اس نے انہیں اپنے گالوں پر آنے سے روکا ہوا تھا
“جاؤ اپنا چہرہ دھو کر آؤ اور بالوں کو اچھی طرح برش کرو، آئندہ اگر تم مجھے جاہلوں والے ہوئے میں نظر آئی تم مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا”
افراہیم کے شوز نکالنے کے بعد نوف سر جھکائے اپنے اگلے حکم کے لیے وہی کھڑی ہوچکی تھی وہ جان گئی تھی کہ افراہیم اسے اتنی آسانی سے کمرے سے باہر نہیں جانے دے گا، تبھی افراہیم کا حکم ملنے پر وہ واش روم میں منہ وھونے چلی گئی۔۔۔ اس کا حلیہ کیو نہ جاہلوں جیسا ہوتا جب رات میں اس کا شوہر اس کی بنا کسی قصور پر اسے کمرے سے باہر نکل چکا تھا
وہ اپنے بالوں میں برش پھیر رہی تھی تب افراہیم چلتا ہوا دوبارہ اس کے پاس آیا نوف نے آئینے میں سے افراہیم کا عکس دیکھا تو اپنی نگاہیں جھکالی
“آئندہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ میرے کام کے لیے تم اپنی جگہ نوری کو کمرے میں بھیج دو، یہ حرکت چند دنوں پہلے بھی تم کرچکی ہو، میرا ہر کام کرنا اور کہنا ماننا تم پر فرض ہے آئندہ کبھی بھی میرے سامنے نظریں اٹھانے کی کوشش مت کرنا ورنہ میں بہت برا پیش آؤں گا تمہارے ساتھ، جاؤ جاکر میرے لئے ناشتہ بناؤ اور کمرے سے باہر مجھے تمہاری روتی بسورتی شکل نہ دکھے باہر سب کے سامنے صرف اور صرف تمہارے چہرے پر مسکراہٹ ہونی چاہیے اور اگر مما یا بیلا کے سامنے تم نے کچھ بھی بولا تو پھر دیکھنا میں تمہارے ساتھ کیا کرتا ہوں”
افراہیم اس کو بولتا ہوا اپنا لباس تبدیل کرنے چلا گیا جبکہ نوف کے دل نے شدت سے دعا کی کہیں سے بھی کیسے بھی ازلان اس کو ڈھونڈ لے کیونکہ اب اس کو اپنا آنے والا وقت اور بھی برا نظر آرہا تھا
جاری ہے
