Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8


اگلے ہفتے بیلا کی برتھ ڈے تھی اور دو دن پہلے وہ اصفر کے ساتھ اپنے کیک کا آرڈر دے کر آئی تھی تبھی اس کی اور ازلان کی دوبارہ دوستی ہوگئی تھی بیلا اس بات سے بےحد خوش تھی۔۔۔ اس دن صرف ازلان نے اسے آیسکریم ہی نہیں کھلائی تھی بلکہ ایک شاپ سے اس کو پسند آیا ہوا سلور کلر کا کراؤن بھی خرید کر دیا تھا جو بیلا کے برتھڈے والے ڈریس پر کافی سوٹ کررہا تھا،، اپنے کمرے میں فراک پہنے سنہری بالوں کو کھلا چھوڑ کر ان میں کراؤن فٹ کیے، خود کو آئینے میں دیکھ کر وہ خوش ہورہی تھی

“یہ کیا بیلا تم نے برتھڈے والا فراک ابھی سے پہن لیا فورا اتارو اسے”
نازنین بیلا کے کمرے میں آکر اس کو نئے فراک میں دیکھ کر بےساختہ بولی

“نئے ڈریس میں دیکھکر آپ مجھے ہمیشہ ماشاءاللہ بولتی ہیں یا میری نظر آتارتی ہیں اور اس وقت جب میں خود کو اتنی پیاری لگ رہی ہوں آپ مجھے ماشاءاللہ بولنے کی بجاۓ مجھے ڈانٹ رہی ہیں”
بیلا نازنین کو دیکھ کر شکایتی انداز میں بولی نازنین اس کی بات پر دھیان دیئے بغیر اس کے بالوں میں سجے کراؤن کو دیکھنے لگی

“یہ کراؤن کہا سے آیا تمہارے پاس”
نازنین کراؤن دیکھ کر بیلا سے سوال کرنے لگی جس پر بیلا مسکرائی

“یہ مجھے ازلان نے دیا ہے میری برتھ ڈے کا پریزنٹ، آپ کو معلوم ہے پرسوں جب میں اصفر بھائی کے ساتھ اپنے کیک کا آرڈر دینے کے لیے گئی تھی اس دن اصفر بھائی میری اور ازلان کی دوبارہ دوستی کروا چکے ہیں”
بیلا خوش ہوکر نازنین کو بتانے لگی نازنین اپنی بیٹی کا مسکراتا ہوا معصوم چہرہ دیکھنے لگی

“تمہیں معلوم ہے ناں بیلا، بابا ازلان کو ناپسند کرتے ہیں پھر بیٹا کیوں تم نے اس سے دوبارہ دوستی کی، جب وہ تمہاری برتھڈے پر آئے گا اس کو دیکھ کر تمہارے بابا کتنا ناراض ہوگے”
نازنین نرمی سے بیلا کو سمجھاتی ہوئی بولی کیوکہ ازلان سے بیلا کی دوستی پر شروع میں تو نازنین کو اعتراض نہیں ہوا تھا مگر جس طرح بیلا ازلان کہ غصہ کرنے پر گھر آکر رو رہی تھی اور اب جس طرح وہ ازلان سے دوبارہ دوستی ہونے پر خوش تھی نازنین کچھ سوچتے ہوئے بیلا کو سمجھانے لگی

“بابا میری برتھ ڈے والے دن مجھ پر کبھی بھی غصہ نہیں کریں گے اور نہ ہی مجھ سے خفا ہوگے پلیز مما میں ازلان کو اپنا پہنا ہوا ڈریس اور اس کا دیا ہوا کراؤن دکھا کر آجاؤ” بیلا کی اچانک فرمائش پر نازنین اس کو آنکھیں دکھاتی ہوئے دوبارہ ڈپٹ کر بولی

“دماغ درست ہے تمہارا گھڑی میں ٹائم دیکھو رات کے نو بج رہے ہیں اگر تمہارے بابا کو خبر ہوگئی تو وہ تمہارے ساتھ میری بھی شامت لے کر آئیں گے”
نازنین کے ڈانٹنے پر بیلا کا منہ اترگیا

“بابا کو کیسے خبر ہوگی ہمارے گھر کی برابر والی دیوار کے ساتھ ہی تو ازلان کا گھر ہے،، میں بس فورا جاؤ گی اور جلدی سے آجاؤ گی میری پیاری مما جان پلیز مان جائیں ناں”
بیلا لاڈ کرتی ہوئی ضد کرنے لگی جس پر نازنین کو ہار ماننا پڑی

“پانچ منٹ سے بھی کم وقت میں تم واپس اپنے روم میں موجود ہوگی اور فوراً ڈریس چینج کرکے اس فراک کو وارڈروب میں ہینگ کرو گی”
نازنین اس کو اجازت دیتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی یہ جانے بغیر آج وہ بیلا کو باہر جانے کی اجازت دے کر زندگی کی کتنی سنگین غلطی کرچکی تھی جس کے لیے اب اس کو ساری عمر پچھتانا تھا


“واؤ بیوٹیفل گرل یوں تیار ہوکر کہاں جانے کی تیاری ہے” بیلا کو تیار دیکھ کر گیٹ سے اندر داخل ہوتا ہوا اصفر ایک دم ٹھٹکا اور حیرت سے بیلا سے پوچھنے لگا

“مما سے پانچ منٹ کی پرمیشن لی ہے صرف اور صرف ازلان کو اپنا ڈریس اور اس کا دیا ہوا کراؤن دکھانے کے لئے،، میں پانچ منٹ میں واپس آتی ہوں”
بیلا ایکسائٹڈ ہوکر اصفر کو بتانے لگی

“اچھا دھیان سے جاؤ”
اصفر بیلا کو دیکھتا ہوا بولا وہ گیٹ سے نکلنے لگی تو اصفر کو کچھ یاد آیا وہ دوبارہ پلٹا

“بیلا”
اس کے پکارنے پر بیلا دوبارہ اصفر کے پاس آئی تو وہ بیلا کے کان میں اپنی بات بولنے لگا

“سچ”
بیلا مسکراتی ہوئی بولی

“جلدی واپس آؤ”
اصفر اس سے بولتا ہوا گھر کے اندر چلا گیا جبکہ بیلا برابر والا گیٹ بجانے لگی


“ارے آج تو یہاں کا راستہ کیسے بھول گیا سب خیریت تو ہے ناں”
عدنان ازلان کو اپنے گھر کے دروازے پر دیکھ کر اسے اپنے کمرے میں لاتا ہوا پوچھنے لگا،، ٹی وی سے آتی ہوئی لڑکے اور لڑکی کی عجیب سی آواز پر اور عدنان کے کمرے میں موجود اس کے دوست کو دیکھ کر ازلان کے قدم وہی رکے،، ازلان سمجھ گیا کہ اندر ٹی وی کی اسکرین پر کیا شغل چل رہا ہے جس سے عدنان اور اس کا دوست لطف اندوز ہورہے تھے

“میں ٹیوشن دے کر تھوڑی دیر پہلے گھر پہنچا تھا، امی بتارہی تھی کہ چچی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے انہی کا پوچھنے آیا تھا”
ازلان اپنی آمد کی اصل وجہ بیان کرتا ہوا عدنان سے بولا

“ہونا کیا ہے اماں کے پیٹ میں مروڑ ہورہی تھی، زیادہ ہی ہاۓ ہاۓ کررہی تھی تو ابا اس کو حکیم کے پاس لےگیا۔۔۔ چل اب تو آ ہی گیا ہے تو تھوڑی دیر بیٹھ جا، یہ اسرار سالا ایسی فلم لایا ہے شرطیہ بولتا ہو پوری فلم دیکھے بغیر اٹھ کر واپس نہیں جائے گا”
عدنان آنکھ مارتا ہوا ازلان سے بولا تو ازلان کو عدنان کی گھٹیا بات پر افسوس ہونے لگا، گھر پر جوان بہن کی موجودگی میں وہ اپنے اوباش دوست کو گھر بلا کر کس قسم کی فحش فلمیں دیکھ رہا تھا

“تم انجوائے کرو فلم مجھے دوسرا ضروری کام ہے”
ازلان نے اس سے زیادہ بات کرنا ضروری نہیں سمجھا عدنان کو بولتا ہوا گھر سے باہر نکل گیا

“میسنہ ہے سالا اس افسر کی بیٹی سے خوب دوستی گاڑھی ہوئی ہے اوپر سے شریف بنتا ہے، اندر سے پورا ہوگا۔۔۔۔ اوۓ بند کر اس آ،، آوئی کو آج صرف دیکھنے کا موڈ نہیں ہو رہا”
عدنان بگڑے ہوۓ موڈ سے کمرے میں آتا ہوا اسرار سے بولا

“مطلب”
اسرار معنی خیز نگاہوں سے اس کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا

“مطلب کیا تجھے بول کر سمجھاؤں چل باہر کہیں شکار ڈھونڈتے ہیں نہیں تو چاندنی بائی کے کھوٹھے پر”
عدنان کے بولنے پر اسرار کو پلنگ سے اٹھنا پڑا وہ دونوں ہی گھر سے باہر نکل گئے


جب بیلا کو معلوم ہوا ازلان گھر پر موجود نہیں ہے تب اسے بڑی مایوسی ہوئی وہ رخشی سے ازلان کو یہاں آنے کا کہہ کر خود اپنے گھر کے پچھلے حصے کی طرف آگئی تھی جہاں ایک طرف سرونٹ کوارٹر کا دروازہ اس بنگلے کے پچھلے حصے میں کھلتا تھا۔۔۔ وہ اپنا کرؤن ٹھیک کرتی ہوئی ازلان کا انتظار کررہی تھی تب اسے اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا،، اس سے پہلے بیلا آنے والے کو پلٹ کر دیکھتی اس نے بیلا کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر اس کا منہ بند کر دیا، جس پر بیلا گھبراتی ہوئی ہاتھ پیر چلا کر اس سے اپنا آپ چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی مگر وہ بیلا کو گھر کے اس کچے حصے میں سے گھسیٹ کر وہی موجود اسٹور روم میں لے جانے لگا

“کک کون ہو تم”
جب اس نے بیلا کو اسٹوروم میں لاکر دھکا دیا تب بیلا زمین پر گرتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی کیونکہ اندھیرے میں صحیح سے وہ اس کو پہچان نہیں پائی تھی،، وہ اسٹوروم کا دروازہ بند کرکے بیلا کی طرف تیزی سے بڑھا

“نہیں”
بیلا کی خوفزدہ سی آواز نکلی، قریب آتا ہوا شخص مہلت دیئے بغیر بیلا کو اپنے شکنجے میں جکڑ چکا تھا

“کیا کر رہے ہو تم، کون ہو چھوڑ دو مجھے”
جب وہ بیلا کو زمین پر دھکیل کر اس کے اوپر جھکا تو بیلا روتی ہوئی بولی ایک بار پھر وہ بیلا کے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ کر اس کا منہ بند کر چکا تھا۔۔۔

جو عمل وہ بیلا کے ساتھ کر رہا تھا اس کا ننھا سا ذہن اس عمل کو سمجھنے سے قاصر تھا مگر وہ یہ جانتی تھی اس کے ساتھ بہت کچھ غلط ہو رہا ہے۔۔۔ بیلا روتی ہوئی اس سے اپنا چھڑوانے کی کوشش میں ہلکان ہو چلی تھی مگر وہ بیلا سے دگنی طاقت رکھتا تھا۔۔۔ بیلا خوف کے مارے نفی میں سر ہلاتی ہوئی چیخنے کی کوشش کرنے لگی مگر اس شخص کا مضبوط ہاتھ اس کی چیخوں کی آواز کو دبائے ہوئے تھا۔۔۔ وہ چاہ کر بھی اپنے منہ سے اس کا ہاتھ ہٹا نہیں پا رہی تھی،، تکلیف کی شدت ایسی تھی کہ اس کو لگ رہا تھا اس کی آنکھیں باہر ابل پڑے گی۔۔۔ یہ سب کرنے والا اس کو انسان نہیں کوئی وحشی جانور محسوس ہورہا تھا جو اس کو تکلیف دے کر خود تسکین محسوس کر رہا تھا

اس کے کمزور وجود میں اب طاقت نہیں بچی تھی کہ وہ اپنے ہاتھ پاؤں چلا سکے، پورے جسم میں اٹھنے والے درد نے اس کو پوری طرح نڈھال کردیا تھا۔۔۔ بغیر کسی مزاحمت کے وہ زمین پر لیٹی ہوئی بےجان ہوتے ہوئے وجود کے ساتھ انتظار کرنے لگی،، کب وہ انسان اس کے ساتھ جاری اس عمل کو بند کرتا ہے

موبائل کی رنگ ٹون کی آواز پر بیلا کا غشی میں جاتا ہوا ذہن ایک دم بیدار ہوا جس پر وہ شخص جلدی سے اپنی جیب سے موبائل نکالتا ہوا اس کو بند کر چکا تھا۔۔۔ منہ پر سے ہاتھ ہٹنے کی وجہ سے وہ درد بھری آواز میں زور سے چیخی، ایک بار پھر وہ بیلا کا منہ بند کر چکا تھا مگر ساتھ ہی اس کا دوسرا ہاتھ بیلا کی گردن پر تھا، شاید وہ اپنے گناہ کو چھپانے کے لئے بیلا کا منہ ہمیشہ کے لئے بند کرنا چاہتا تھا۔۔۔ ایک بار پھر بیلا تکلیف سے مچلنے لگی، اب کی بار تکلیف دوسری قسم کی تھی وہ شخص اس سے اس کی بچی ہوئی سانسیں چھین رہا تھا۔۔۔ ایک مرتبہ پھر تکلیف کی شدت سے بیلا کی آنکھیں ابل کر باہر آنے لگی

“بیلا کہاں ہو یار تم”
ازلان کی باہر سے آتی ہوئی آواز پر اس نے ایک دم بیلا کی گردن سے اپنا ہاتھ ہٹایا اور اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔۔۔ اسے اطمینان ہوگیا تھا کہ بیلا کی بچی ہوئی سانسیں اب تھوڑی دیر کی مہمان ہیں وہ کمرے میں موجود بڑی سی کھڑکی کے راستے سے باہر نکلنے کا سوچنے لگا کوئی چیز اس کے جوتے کے نیچے آکر کچلی، جسے دیکھے بنا وہ کھڑکی سے باہر نکل گیا

“یہ تم اسٹور روم میں کیا کر رہی ہو” اسٹوروم سے آتی ہوئی بیلا کی چیخ کی آواز پر ازلان چونکا،، رات کے وقت بیلا کی عجیب و غریب حرکت پر ازلان تعجب کرتا ہوا اسٹور روم کا دروازہ کھول چکا تھا،، اندھیرے کے باعث اسے کچھ دکھائی نہیں دیا دیوار پر لگے سوئچ بورڈ کو ٹٹولنے کے بعد کمرہ ایک دم روشن ہوگیا لیکن سامنے کا ہولناک منظر دیکھ کر ایک پل کے لیے ازلان کا دل کانپ اٹھا

“بیلا”
اس کا نام پکارتا ہوا وہ تیزی سے بیلا کی طرف لپکا، اس کے ہاتھ باقاعدہ کانپنے لگے بیلا کی فراک درست کرتے ہوۓ

“بیلا آنکھیں کھولو کس نے کیا یہ سب تمھارے ساتھ، مجھے بتاؤ”
بےجان وجود اور اس کی درد ناک حالت پر ازلان کی اپنی آنکھوں سے خود بھی آنسو رواں ہونے لگے تھے،،

“بیلا۔۔۔ بیلا”
اپنا دیا گیا کچلا ہوا کراؤن دیکھ کر وہ بیلا کے قریب بیٹھا اس کا گال تھپتھپاتا ہوا بیلا کا نام پکانے لگا جس پر بیلا نے ہلکی سے آنکھیں کھولی

“کون تھا وہ بیلا نام بتاؤ مجھے اس کا”
ازلان بیلا کی گردن پر انگلیوں کے سرخ نشانات دیکھتا ہوا ایک بار پھر بیلا سے اس حیوان کا نام پوچھنے لگا جس نے اس معصوم بچی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا چھوڑا تھا

“از۔۔۔لا وہ”
بیلا نے کمرے میں موجود کھڑکی کی طرف لرزتے ہوۓ ہاتھ سے اشارہ کیا پھر وہ ایک دم بےہوش ہوگئی

“بیلا”
ازلان اس کا نام پکارتا ہوا جھک کر اس کی سانسیں محسوس کرنے لگا جس کی رفتار بہت دھیمی چل رہی تھی

“اے کیا کر رہے ہو تم میری بیٹی کے ساتھ” عباد کی غصے میں آتی ہوئی آواز پر ازلان ایک دم دروازے کی طرف دیکھنے لگا

“بیلا”
نازنین چیخ مار کر بھاگ کر بیلا کے پاس آئی تو ازلان ایک دم کھڑا ہوگیا

“سر بیلا کے ساتھ کسی نے بہت غلط”
اپنی طرف تیزی سے بڑھتے ہوۓ عباد سے ازلان اس سے پہلے کچھ بولتا عباد نے ازلان کا گریبان پکڑ کر زور دار تپھڑ اس کے منہ پر مارا


“کل جب وہ اپنے آپ کو برتھ ڈے والی فراک میں دیکھ کر خوش ہورہی تھی تب میں اس کی نظر اتارنا بھول گئی۔۔۔ اس نے مجھے یاد بھی دلایا مما آپ نے ماشاللہ نہیں کہا تب بھی میں نے اس کی بات پر دھیان نہیں دیا دیکھیں کیسی نظر لگ گئی ہماری بیٹی کو عباد۔۔۔ آخر کیوں میں نے اسے رات کے وقت گھر سے نکلنے کی ازلان سے ملنے کی اجازت دے دی یہ مجھ سے کیا ہوگیا عباد۔۔۔ کیا کردیا میں نے اپنی معصوم بچی کے ساتھ”
بیلا کے بری طرح چیخنے چلانے پر ڈاکٹر ہدایت اور ماہین، عباد اور نازنین کو کمرے سے باہر نکال چکے تھے جبکہ افرائیم ہسپتال سے نہ جانے کہاں چلاگیا تھا۔۔۔ اس وقت وہ دونوں ویٹنگ روم میں چیئرز پر بیٹھے ہوئے تھے نازنین کل رات سے اسی طرح روۓ جارہی تھی اسکے برابر میں بیٹھا ہوا عباد بھی اسی کی طرح غم میں نڈھال تھا

“میں تمہیں ہمیشہ بولتا رہتا تھا ان چھوٹے لوگوں کو منہ لگانا ٹھیک نہیں ہے، نیچ اور گھٹیا ذہنیت کے حامل ہوتے ہیں یہ لوگ، موقع دیکھ کر نقصان پہنچانے والے۔۔۔ میں اس لیے غصہ کرتا تھا بیلا کی اور اس لڑکے کی دوستی پر”
عباد روتی ہوئی نازنین کو دیکھ کر بولا جس پر نازنین اور زیادہ رونے لگی اصفر ان دونوں کو ویٹینگ روم میں بیٹھا ہوا دیکھ کر ان دونوں کے پاس آیا

“ماموں کیسی ہے بیلا اب،،، کیا اس کو ہوش آگیا”
وہ اس وقت پولیس اسٹیشن سے ازلان کے خلاف ایف آئی آر کٹوا کر آرہا تھا۔۔۔ آتے کے ساتھ ہی عباد سے بیلا کے بارے میں پوچھنے لگا تو عباد کچھ بولے بغیر مایوسی سے اپنے بھانجے کو دیکھنے لگا

“ممانی خدارا آپ یوں مت روۓ، وہ ٹھیک ہوجائے گی۔۔۔ ماموں آپ ممانی کو گھر لے کر چلے جائیں میں یہاں پر سب سنبھال لوگا”
عباد کی خاموش نگاہوں کو دیکھ کر اور نازنین کے مسلسل رونے پر اصفر عباد سے بولا۔۔۔ کل رات میں ہی عباد نے ازلان کو لوک اپ میں بند کروا دیا تھا اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو افراہیم غصے میں شاید اذلان کی جان لے لیتا۔۔۔ آج صبح ازلان کے خلاف پرچہ کٹوا دیا گیا تھا،، کل رات سے ہی مکمل بھاگ دوڑ اصفر نے سنبھالی ہوئی تھی ابھی بھی اسی کو ڈاکٹر کے کمرے میں جاکر بیلا کی کنڈیشن کے ساتھ ساتھ ڈی این اے ٹیسٹ کا بھی معلوم کرنا تھا


جاری ہے