No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
“ویسے بہت افسوس کی بات ہے عباد جو آپ نے قیوم کی بیوی کے سامنے بی ہیو کیا ہے وہ بہت ہی برا تھا نہ جانے وہ کیا سوچے گی اپنے گھر جاکر”
کمرے میں آنے کے ساتھ ہی نازنین عباد سے شکوہ کرتی ہوئی بولی تو عباد کا ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتا ہوا ہاتھ رکا وہ چلتا ہوا نازنین کے پاس آیا
“تمیہں ابھی بھی قیوم کی بیوی کی فکر ہے کہ وہ کیا سوچے گی، تمہیں یہ پروا ہونا چاہیے کہ تمہارا شوہر کیا بکواس کرتا رہتا ہے۔۔۔۔ سمجھ میں کیو نہیں آتا تمہیں نازنین کہ ان چھوٹے لوگوں کو ان کی اوقات میں رکھنا چاہیے ورنہ یہ لوگ اپنی اوقات دکھانے میں دیر نہیں لگاتے”
عباد نازنین کو سمجھاتا ہوا بولا
“مجھے قیوم کی بیوی کی فکر اسی لیے ہے کیوکہ اس کا دل آپکی باتوں کی وجہ سے دکھا ہے اور اوقات کی بات بیچ میں کہاں سے آگئی عباد، اوپر والے کے نزدیک تو آپ کی، میری اور قیوم کی بیوی کی اوقات برابر ہی ہے، غریبوں کو پیدا کرنے والی ذات کوئی الگ تو نہیں ہے، انسان کو اتنا غرور بھی نہیں کرنا چاہیے”
نازنین کی بات پر عباد ایک دم تیز آواز میں بولا
“بحث مت کیا کرو نازنین میرے سامنے بلاوجہ کی تمہیں اگر اپنے اسٹینڈرڈ کا خیال نہیں ہے تو میرے اسٹینڈرڈ کا خیال کیا کرو آئندہ میں تمہیں ان چھوٹے لوگوں کو منہ لگاتا ہوا نہ دیکھو”
عباد غصے میں ٹائی صوفے پر پھینکتا ہوا واشروم میں چلاگیا نازنین کمرے سے باہر نکلنے لگی تو کمرے سے باہر ازلان کو کھڑا دیکھ کر ٹھٹھک گئی نازنین کا منگایا ہوا سامان اس کے ہاتھ میں موجود تھا وہ بالکل خاموس کھڑا نازنین کو دیکھ رہا تھا، نازنین کو ڈھیروں شرمندگی نے آگھیرا۔۔۔۔ ازلان کا خجالت سے سرخ چہرا صاف بتارہا تھا وہ عباد کی ساری باتیں سن چکا تھا وہ نازنین نے کو کچھ بولے بغیر اس کا سامان ٹیبل پر رکھ کر وہاں سے چلا گیا
وہ فائیو اسٹار ہوٹل میں بیٹھا ہوا پچھلے ایک گھنٹے سے تاشفہ کا انتظار کر رہا تھا تاشفہ سے اس کی چھ ماہ قبل معیز (دوست) کے توسط سے ملاقات ہوئی تھی بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ معیز نے خود اس کی تاشفہ سے ملاقات کروائی تھی، تاشفہ معیز کی کزن تھی جو ایک سال پہلے امریکہ سے پاکستان شفٹ ہوئی تھی۔۔۔ خوبصورت ماڈرن اور بولڈ سی تاشفہ جو کافی حد تک موڈی طبعیت رکھتی تھی مگر اس کو اچھی لگی تھی
لیکن جیسے جیسے اس کی اور تاشفہ کی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا اس کو تاشفہ کے خیالات جان کر مایوسی ہوئی تھی بقول معیز کے اس نے اپنی آدھی لائف مللب جوانی کے وہ دن جب لڑکے انجوئمینٹ میں گرل فرینڈ بناتے ہیں اس نے وہ عمر اپنی فیملی اور گھریلو مسئلوں کے نظر کردی، اب اٹھائس سال کی عمر میں اس کو اپنے متعلق سوچنا چاہیے تھا۔۔۔۔ اکثر وہ خود بھی کبھی کبھار اپنے ارد گرد جمع پریشانیوں سے گھبرا کر خواہش کرتا کہ کوئی ایک ایسا وجود ہو جس کے سامنے وہ اپنا آپ کھول دے کوئی اس کے اکیلے پن کا ساتھی ہو جس کے وجود میں کھو کر وہ تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی اپنی پریشانیوں سے جان چھڑا لے۔۔۔۔ لیکن جس طرح تاشفہ کی نیچر تھی اس سے ایسی امید لگانا بےکار تھی
“سوری ڈارلنگ تمہیں ویٹ کرنا پڑا دراصل آج جیمی کی ویکسین کروانا تھی اس کے بعد بیوٹی سلون میں میرا آپینٹمنیٹ تھا سو لیٹ ہوگئی، اینی ویز ہاؤ آر یو ہم پورے دو ماہ بعد مل رہے ہیں تم نے مجھے مس تو بہت کیا ہوگا ان دو ماہ میں”
ماڈرن سی تاشفہ بےباک سے لباس میں اس کے سامنے کرسی پر بیٹھی ہوئی اس دے کونفیڈینس سے پوچھ رہی تھی۔۔۔ جیمی تاشفہ کی پرشین بلی تھی جس نے اس کی طرح تاشفہ کی زندگی میں چند ماہ سے کافی اہمیت حاصل کرلی تھی۔۔۔ تاشفہ دو ماہ قبل پاکستان ٹور پر گئی تھی تاشفہ نے پوری کوشش کی تھی وہ بھی اسکے ہمراہ اس سفر کو انجوئے کرتا۔۔۔ مگر وہ اپنی ذمہ داریوں سے جان چھڑا کر بھاگ نہیں سکتا تھا
“ویٹ تو میں شروع سے ہی تمہارا کرتا آیا ہوں، جب بھی ہمارے ملنے کا ڈیسائیڈ ہوتا ہے مجھے نہیں یاد پڑتا کبھی تم ٹائم پر آئی ہو خیر یہ بتاؤ تمہارا ٹرپ کیسا رہا مجھے تو بالکل یاد نہیں کیا ہوگا تم نے”
آج صبح ضروری میٹینگ اٹینڈ کرنے کے چکر اس نے ناشتہ بھی ڈھنگ سے نہیں کیا تھا اس لیے مینو کارڈ اٹھا کر تاشفہ کی بات کا جواب دیتا ہوا بولا جس پر تاشفہ خوبصورتی سے مسکرائی
“سچ بتاؤ تو میں نے تمہیں بالکل مس نہیں کیا، جب میں پاکستان آئی تھی تو مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا یہاں اتنے خوبصورت اور حسین جگہیں ہوگیں یہ ٹرپ ایک خوشگوار اور یادگار ٹرپ رہے گا میرے لیے، میں امید کرو گی اگلا ایسا ہی ٹرپ ہم دونوں اکھٹے انجوۓ کریں”
تاشفہ اس کو دیکھ کر مسکراتی ہوئی ایک ادا سے بولی وہ تاشفہ کا خوبصورت چہرا دیکھنے لگا جو خوبصورت ہونے کے باوجود اسے اکثر بناوٹی اور ارٹیفشل سا محسوس ہوتا تھا اور ایسے ہی تاشفہ کی فیلگیز کا حال تھا جس میں خالص پن ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا اس نے تاشفہ کی بات کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھا بلکے اسے یہاں بلوانے کی اصل وجہ پر آیا
“تاشفہ میں نے تمہیں یہاں پر آج بہت خاص بات کرنے کے لئے بلایا ہے، یو روز روز ہوٹلنگ کرنا مجھے پسند نہیں اور نہ ہی میرے پاس اتنا ٹائم ہے کہ میں ان خرافات کے لیے وقت نکال سکوں۔۔۔ چھ ماہ سے ہم دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہیں میرے خیال میں اب ہم دونوں کو سیریس ہو کر کوئی اسٹیپ لینا چاہیے شادی کے متعلق”
وہ تاشفہ کو دیکھ کر نہایت سنجیدگی سے بولا جس طرح اس وقت اس کے گھر کی صورتحال تھی اسے لگا تھا کہ اب اس کو شادی کرلینا چاہیے مگر تاشفہ اس کی بات سن کر پہلے تو سیریس ہوکر اسے دیکھنے لگی لیکن اچانک ہی اس نے زوردار قہقہہ لگایا جیسے تاشفہ نے اس کی بات کو انجوائے کیا ہو
“اچھا سوری”
تاشفہ نے محسوس کیا جیسے اس کے ہنسنے پر اسے برا لگا ہو جبھی تاشفہ اس سے معذرت کرتی ہوئی اپنی ہنسی کو کنٹرول کرنے لگی
“مجھے نہیں معلوم تھا ڈارلنگ میرے میری دو ماہ کی جدائی تم پر اتنا اثر کرے گی یہ تم ڈائریکٹ مجھے شادی کی آفر کر دو گے”
تاشفہ سیریس ہوکر بولی مگر ایک بار پھر ہنسنے لگی تو اب اسے غصہ آنے لگا
“تاشفہ بی سیریس”
اس کے تاثرات دیکھ کر تاشفہ کو اب کی بار واقعی سیریس ہونا پڑا
“دیکھو ہمارے ریلیشن کو مشکل سے ہی 6 ماہ ہوئے ہیں پورا سال بھی نہیں گزرا جو شادی جیسا بولڈ اسٹیٹ مجھے نہیں لگتا ہمیں اس کے بارے میں ابھی سے سوچنا چاہیے لیکن اگر تم جلدی شادی شادی چاہتے ہو تو اس سے پہلے تمہیں ایسا نہیں لگتا کہ ہم دونوں کو ایک دوسرے کو بےحد قریب سے دیکھ لینا چاہیے”
تاشفہ کی بات پر وہ تھوڑا عجیب انداز میں اس کو دیکھنے لگا جس پر تاشفہ دوبارہ بولی
“میرا مطلب ہے ہمیں کم از کم ایک ماہ کے لئے کوئی گھر یا اپارٹمنٹ شئیر کرنا چاہیے جب ہم دونوں ایک دوسرے کو قریب سے دیکھیں گے ایک دوسرے کی اچھی بری عادتوں سے، مزاج سے واقف ہوگے تب ہی ہم شادی جیسا اسٹیپ لے سکتے ہیں”
تاشفہ اب کی بار سیریس ہوکر اس کو بولی۔۔۔ وہ سمجھ گیا تھا ایک دوسرے کو قریب سے دیکھنے کا کیا مطلب ہے اسے تاشفہ کے مذید خیالات کو جان کر اور بھی زیادہ مایوسی ہوئی
“اور ایک ماہ بعد تمہیں لگا کے ہمارے مزاج اور عادتیں ایک دوسرے سے نہیں ملتی تو میرا راستہ الگ اور تمہارا راستہ الگ رائٹ”
وہ تاشقہ کو دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا اچانک اس کی بھوک مر گئی تھی۔۔۔ آرڈر لینے کے لیے پاس آتے ہوئے ویٹر کو اس نے دور سے ہی اشارہ کرکے روکا
“مجھے ہی کیوں ایک ماہ بعد تمہیں بھی ایسا لگ سکتا ہے کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ زندگی بھر کے لیے ایڈجست نہیں کر سکتے”
تاشفہ کندھے اچکا کر اس سے بولی چھ ماہ کے ریلیشن میں اسے اپنے سامنے بیٹھا یہ مرد کافی ان رومانٹک روکھا پیکھا سا لگا تھا
“ایک ماہ بعد نہیں مجھے ایسا ابھی سے لگتا ہے ہم دونوں زندگی بھر واقعی ایک دوسرے کے ساتھ آگے نہیں چل سکتے، یوں چند دنوں کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ رہ کر قریب سے دیکھنے والی فارملٹی کو رہنے دینا چاہیے۔۔۔ جس دن تم نے مجھ سے یہ بات بولی تھی کہ شادی کے کم از کم چھ سال تک تمہیں کوئی بچہ نہیں چاہیے کیوکہ اس سے تمہارا فگر کا شیپ خراب ہوگا اگر تبھی تم اپارٹمنٹ شیئر کرنے والے اپنے خیالات کا بھی اظہار کرتی تو شاید ہمارا ریلیشن چھ ماہ بھی مشکل سے قائم رہتا کیونکہ میرے نزدیک کم از کم ایک لڑکی کو اتنا گیا گزرا نہیں ہونا چاہیے کہ وہ مرد کے آگے چادر کی طرح بجھ جائے”
وہ تاشفہ پر اپنے خیالات کا اظہار کرکے اٹھ کر وہاں سے چلا گیا اسے نہیں لگتا کہ اب تاشفہ اس سے دوبارہ رابطہ کرے گی اور وہ خود بھی یہی چاہتا تھا
“نفسیاتی مرد”
تاشفہ بڑبڑاتی ہوئی مینیو کارڈ اٹھا کر اپنے لئے آرڈر کرنے لگی
“تو کیا ہر وقت آئینے کے سامنے کھڑی اپنا گول مٹول سا چہرہ دیکھ کر بلاوجہ خوش ہوتی رہتی ہے جا جاکر چائے بنا کر لا میرے لئے”
نثار کے بولنے پر آئینے کے سامنے کھڑی غزل نے مڑ کر خونخوار نظروں سے اپنے شوہر کو دیکھا
“دیکھ نثار میرے حسن سے جل کر میرے منہ نہ لگ میں بتا رہی ہوں اب کی بار اگر میں تیرا گھر چھوڑ کر میکے جا بیٹھی تو تو لاکھ اپنی ناک رگڑ لے میں واپس نہیں آؤں گی بتا رہی ہوں تجھے”
غزل کے دھمکی دینے پر نثار نے اس کے بےڈول سراپے اور سانولے رنگ میں حسن جیسی چیز ڈھونڈنے کی کوشش کی اور پھر زور سے ہنستا ہوا اس کی دھمکی پر غور کرنے لگا
“بھینس جیسی جسامت رکھ کر تیری عقل بھی اپنی جسامت سے میل کھانے لگی ہے ارے بیوقوف سمجھا ہوا ہے مجھے تو نے جو میں تیرے میکے جانے کے بعد تجھے واپس اپنے گھر میں اپنا سکون برباد کرنے کے لیے لاؤ گا، اللہ بھلا کرے میرے بھائی کا جو ہر بار بیچ جھگڑے میں پڑ کر تجھے میکے سے واپس لے آتا ہے،، ہر وقت آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر اپنے منہ پر پاؤڈر ملنے کی بجائے اپنی اولادوں پر دھیان دے۔۔۔۔ بیٹے نے ماشاللہ 4 جماعتیں فیل ہونے کے بعد موالی قسم کے لڑکوں میں اٹھنا بیٹھنا شروع کر دیا ہے اور وہ گل محلے کی رکھو خالہ بن کر ہر گھر کی سن گن رکھنے لگی ہے بچیوں والی تو اس میں کوئی بات ہی نظر نہیں آتی چوٹی عمر میں ہی عورت بن گئی ہے پوری”
نثار اپنے بچوں کی طرف سے فکر مند ہوتا ہوا غزل کا دھیان بچوں کی طرف دلانے لگا
“تو جیسا باپ ویسی اولاد، تو نے کون سے تیر مار لیے دنیا میں آکر،، بوجھ کی طرح ہماری زندگیوں پر مسلط ہی رہا ہے تو ہمیشہ۔۔۔۔ اب تک کوئی پچیس نوکریوں پر تیرا بھائی تجھے لگا چکا ہے، مجال ہے جو کہیں پر بھی مستقبل مراجی سے ٹک کر کام کیا ہو تو نے،، اگر تیرا بھائی تیرے لیے فکر مند نہ ہوتا، تو نے تو ہم کو سڑکوں پر بٹھا دیا ہوتا۔۔۔۔ وہ تو شکر ہے عدی اور گل کے لیے مستقبل کے لیے مجھے ذلیل نہیں ہونا پڑے گا ارے اصل زندگی تو میری برباد ہوچکی ہے تجھ جیسے نکھٹو آدمی سے شادی کر کے، حسن برقرار ہے مگر قسمت دیکھو میری”
غزل اپنے حسن کی ناقدری پر آنسو بہاتی ہوئی کچن میں نثار کے لئے چائے بنانے چلی گئی جبکہ نثار اپنے لیے توہین آمیز گفتگو سن کر وہی سے چیخ کر بولا
“یہ سالا کونسا حسن ہے جو مجھ آندھے کو نظر نہیں آیا، دو بچے پیدا کرنے کے بعد تیرے جسم پر چربی نے تیرے حسن کو اور چار چاند لگا دیے ہیں۔۔۔ نام بھی دیکھو ماں باپ میں چن کر رکھا ہے غزل۔۔۔ ارے تو تو شاعر کی وہ غزل محسوس ہوتی ہے جو اس نے منہ سے بیان نہ کی ہو بلکہ منہ پر دے ماری ہو”
نثار زور زور سے بولتا ہوا گھر کا بجھتا ہوا دروازہ کھولنے چلا گیا
لان میں موجود جھولے پر ٹیڈی بیئر کو گود میں لیے بیٹھی بیلا کی نظریں مین گیٹ سے اندر آتے ہوئے ازلان پر گئی جو پورے ایک ہفتے بعد اس کو اپنے گھر میں آتا ہوا دکھائی دیا تھا بیلا گود میں بیٹھے ٹیڈی کو جھولے پر بٹھا کر دوڑتی ہوئی ازلان کے پاس چلی آئی
“رکو، ارے سنو۔۔۔ میں تم سے بول رہی ہوں ازلان”
اپنی پشت سے آتی بیلا کی آواز کو نظر انداز کر کے وہ گھر کے اندر نثار کے بلانے پر آیا تھا مگر جب بیلا نے اس کو نام سے پکارا تو ازلان کو رکنا پڑا
“کوئی کام تھا کیا تمہیں مجھ سے”
ازلان کے رکنے پر بھاگ کر اس کے پاس آتے ہوئی بیلا کا سانس پھول چکا تھا وہ رک کر ازلان کو دیکھنے لگی تو ازلان بیلا سے پوچھنے لگا
“اتنے دنوں سے تم کہاں غائب تھے چکر کیوں نہیں لگایا تم نے ہماری طرف”
بیلا ازلان کو دیکھتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی
“میں یہاں مسسز عباد کے کام سے آتا ہوں، ویسے تو مسسز عباد کا یا پھر اس بنگلے میں رہنے والے کسی بھی فرد کا کام کرنا میری ڈیوٹی میں شامل نہیں ہے لیکن چچا جان میرے بڑے ہیں انہیں میں کسی کام کا بھی ٹال نہیں سکتا تو مروتا مجھے وہ کام کرنا پڑتا ہے، تمہیں اگر مجھ سے کوئی کام ہو تو مجھے مخاطب کیا کرو”
ازلان عباد کی باتیں یاد کرتا ہوا روکھے لہجے میں بیلا سے بول کر وہاں سے جانے لگا
“تو تم نے اس دن والی بات پر میری سوری ابھی تک ایکسپٹ نہیں کی جبکہ اس دن تمہارے کپڑے میں نے جان بوجھ کر خراب نہیں کیے تھے”
بیلا ازلان کو جاتا ہوا دیکھ کر معصومیت سے بولی جس پر ازلان کو رکنا پڑا
“تم جیسے بڑے لوگ تو ہمارے کپڑے دس بار خراب کر کے بھی سوری نہ بولو تو ہم تمہارا کیا بگاڑ سکتے ہیں تم ایک سوری کے لئے پریشان ہو رہی ہو”
ازلان مسکرا کر سر جھٹکتا ہوا بولا
“یہ ہم دونوں کی دوستی کے بیچ میں چھوٹے بڑے لوگ کیسے آگۓ ازلان”
بیلا حیرت سے ازلان کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی
“تم سے میری دوستی کب ہوئی ایسا تو مجھے کچھ یاد نہیں پڑتا”
ازلان غور سے بیلا کا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر پوچھنے لگا
“تو اس کا مطلب ہے تم نے اس دن میری دوستی کو ایکسپیٹ نہیں کیا تھا”
بیلا افسوس کرتی ہوئی ازلان سے پوچھنے لگی تو ازلان کو بیلا کے بولے ہوئے جملے یاد آئے جب وہ نازنین کو بتا رہی تھی کہ ازلان اس کی سوری بھی ایکسیپ کرچکا ہے اور اس کا دوست بھی بن چکا ہے
“تمہیں کم ازکم دوست بنانے سے پہلے اپنے فادر سے پرمیشن لینا چاہیے شاید انہیں تمہارا مجھ سے دوستی کرنا پسند نہیں آئے گا”
ازلان اس سنہری بالوں والی سفید گڑیا کا دل نہیں توڑنا چاہتا تھا اس لیے اس کو سمجھاتا ہوا بولا دوسرا وہ ہفتے بھر پہلے عباد کے خیالات بھی جان چکا تھا
“میں نے شروع سے ہی بہت کم دوست بنائے ہیں اور میرے کسی بھی فرینڈ سے میرے بابا کو کوئی پرابلم نہیں ہوئی ہے وہ تم کو بھی پسند کریں گے جب میں ان کو بتاؤں گی کہ تم میرے فرینڈ ہو”
بیلا اعتماد سے ازلان کو دیکھ کر بولی
“مگر تم مجھ سے دوستی کرنے پر بضد کیوں ہو جب کہ میں تم سے اچھا خاصا بڑا ہو”
ازلان کنفیوز ہوکر بیلا سے سوال کرنے لگا دوسرا اس نے پہلے کبھی کسی لڑکی سے دوستی بھی نہیں کی تھی
“اچھے خاصے بڑے تو نہیں ہو زیادہ سے زیادہ بھائی کے برابر ہوگے ناں۔۔ دوستی میں یہ بات تھوڑی نہ میٹر کرتی ہے کہ ایج زیادہ ہو یا پھر کم اور میں تمہیں اپنا دوست اس لیے بنانا چاہتی ہوں کیوکہ تم ایک اچھے لڑکے ہو”
بیلا نے جواز پیش کرنے کے ساتھ ہی ازلان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا جسے دیکھ کر کچھ سوچتے ہوئے ازلان نے تھوڑا جھجھک کر تھام لیا کیونکہ وہ جس کلاس سے تعلق رکھتا ہے یہاں لڑکے لڑکیوں کی دوستی کو کسی اور معنی میں لیا جاتا تھا جبکہ اس کو اندازہ تھا بیلا کو ایجوکیشن میں پڑھتی ہوگی اس کے نزدیک ایک لڑکا اور لڑکی کی دوستی کا مطلب صرف دوستی ہی ہے
“تمہارے ہاتھ حد سے زیادہ ٹھنڈے ہیں کیا تم نے ایسا سنا ہے جن کے ہاتھ ٹھنڈے ہو ان کے خون میں وفا نہیں ہوتی”
بیلا ازلان کے سرد ہاتھ کی ٹھنڈک محسوس کرکے اس سے بولی
“یہ سب فضول کی باتیں ہیں موسم کا درجہ حرارت جب انسان کی باڈی پر اثر انداز ہوتا ہے تو اس کے مطابق انسان کی باڈی کا درجہ حرارت بھی تبدیل ہو جاتا ہے۔۔۔ لیکن اگر تم وفا کی بات کر رہی ہو تو آگے جاکر تمہیں اعتبار ہوجائے گا کہ دوستی میں آخری حد تک وفا کون نبھاتا ہے”
ازلان نے بولتے ہوۓ بیلا کا ہاتھ چھوڑا تو وہ اسمائل دے کر ازلان کو دیکھنے لگی بیلا کو اسکی بات تو سمجھ نہیں آئی تھی مگر اسے ازلان کو دوست بنانے کی خوشی تھی جبکہ ازلان گھر کے اندر نثار کے پاس چلا گیا
“ارے واہ تم سب تو بہت جلدی بڑے ہوگئے ہو لگتا ہے پانی وانی ٹائم پر مل رہا تم سب کو”
نوف سرونٹ کواٹر سے باہر نکلی تو برابر میں بنگلے کا دروازہ کھلا دیکھ کر لان میں آگئی، دو ماہ سے اس نے اس جگہ کا رخ نہیں کیا تھا لیکن آج قیوم کے لگاۓ ہوۓ پودوں کو دیکھ کر اس کا دل چاہا وہ قریب سے ان میں لگے پھولوں کو دیکھے تو انکے پاس چلی آئی۔۔۔ اس وقت وہ پودوں کے ساتھ باتیں کرنے میں مگن تھی جب اپنے کمرے کی کھڑکی سے افراہیم کی نظر ایک اجنبی لڑکی پر پڑی جو بےدھڑک اس کے گھر میں داخل ہوکر پودوں کے پاس کھڑی تھی افراہیم کمرے سے باہر نکل کر لان میں آنے لگا
“ننھی کلی تم بہت جلد ایک پیارے سے پھول کی شکل اختیار کر لوں گی، مجھے انتظار رہے گا اس دن کا”
نوف پودوں کے پاس کھڑی ہوئی ان سے باتیں کرنے میں اتنی مشخول تھی کہ اسے احساس ہی نہیں ہوا کوئی اس کے تعاقب میں اس کے پاس آ رہا ہے
“خبردار جو تم نے اس پھول کو توڑنے کی کوشش کی تو”
افراہیم اس کے پاس آتا ہوا روعب دار لہجے میں نوف سے بولا تو وہ ایک دم شاخ سے اپنا ہاتھ ہٹا کر جلدی سے مڑی جہاں افراہیم کھڑا نوف کو گھور رہا تھا
“میں اسے توڑ نہیں رہی تھی بلکہ قریب سے دیکھ رہی تھی”
نوف غصے میں بھرے اس لڑکے کو دیکھ کر آئستہ آواز میں اپنی صفائی دیتی ہوئی بولی اور اپنا سر جھکا لیا
“کیا یہ پودے تمہارے باپ نے لگائے ہیں جو تم انہیں قریب سے دیکھ رہی تھی”
افراہیم اپنے سامنے مجرموں کی طرح سر جھکائے اس لڑکی کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا تو نوف ہلکا سا سر اٹھا کر غصہ کرنے والے اس لڑکے کو دیکھنے لگی جو مغرور نقش کے ساتھ اسے طبیعت کا بھی مغرور لگا تھا
“جی یہ پودے میرے ابو جی نے ہی یہاں لگائے ہیں”
نوف آہستہ سے بولتی ہوئی وہاں سے جانے لگی
“اے رکو،، کیا بکواس کر کے جا رہی ہو تم۔۔۔ ہمت کیسے کی تم نے مجھے جواب دینے کی۔۔۔ ایک تو تم اس بنگلے میں چوری کرنے کی نیت سے اندر آئی اور جب پکڑی گئی تو الٹا زبان چلا رہی ہو میرے آگے”
افرائیم کے کرخت لہجے اور چوری کے الزام پر نوف کی آنکھیں لبالب آنسوؤں سے بھر گئیں
“نہ ہی میں نے آپ سے زبان چلائی ہے نہ ہی کوئی جھوٹ بولا ہے۔۔۔ میں سچ بول رہی ہو یہاں پودے میرے ابو جی نے ہی لگائے ہیں”
وہ زور سے اپنی ہتھیلی کو آنکھوں پر رگڑتی ہوئی بولی تب افراہیم کو سمجھ میں آیا کہ وہ لڑکی کون ہو سکتی ہے
“اچھا تو تم نثار کی بیٹی ہو۔۔۔ ایک نمبر کا کاہل، سُست، نکما، کم چور انسان ہے تمہارا باپ۔۔۔ جو ذرا ذرا سے کاموں پر بہانہ بناکر ہمہیں ٹوپی کرواتا ہوا یہاں سے فرار ہو جاتا ہے اور بدلے میں سارے کام اپنے بھتیجے سے کرواتا ہے”
کیونکہ نثار نے دو سے تین بار اس کو بھی ٹوپی کروائی تھی اس لیے افرائیم نے اپنے سامنے کھڑی اس دبو سی لڑکی کو اس کے باپ کی اصلیت بتانا ضروری سمجھا
“نثار میرے چچا جان ہیں۔۔۔ ابو جی کا نام تو قیوم ہے جو یہاں پر ڈرائیور ہیں”
وہ چچا جان کے بارے میں جو الفاظ استعمال کر رہا تھا نوف کو ذرا بھی اچھا نہیں لگا مگر ازلی بزدلی کی وجہ سے وہ افراہیم کو کچھ بھی نہیں بولی صرف صحیح رشتہ بتا کر اس کی غلط فہمی دور کی
“باپ چچا بھائی ماشاء اللہ سے پورا خاندان غلام ہے”
افراہیم کا اندازہ مذاق اڑانے والا تھا جس پر نوف سر اٹھا کر سرخ آنکھوں سے اس مغرور لڑکے کو دیکھنے لگی رونے کی وجہ سے اس کی آنکھیں بھی سرخ ہو چکی تھی
“گھور کر کیا دیکھ رہی ہو مجھے، کون سی غلط بات بولی ہے واپس جھکاؤ اپنا سر اور خبردار جو آئندہ تم نے میرے سامنے سر اٹھا کر مجھے جواب دیا تو”
افرائیم کو اب اس دبو سی لڑکی پر روعب جما کر مزہ آ رہا تھا جبھی وہ تیز لہجے میں بولا جس پر نوف نے جلدی سے واپس سر جھکا لیا
“ہمہیں تو یہاں آۓ دو ماہ ہوچکے ہیں پہلے تو کبھی نظر نہیں آئی تم”
افراہیم نوف کے جھکے ہوئے سر کو دیکھ کر تجسس سے سوال کرنے لگا کیونکہ اس نے آج سے پہلے اس لڑکی کو یہاں پر کبھی بھی نہیں دیکھا تھا
“گھر میں ہی گزرتا ہے میرا زیادہ تر وقت امی کے ساتھ گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے ہوئے”
نوف اس کو یہ نہیں بتا سکی کہ وہ روز شام کو اس کو ٹریک سوٹ میں جاگنگ کرتا ہوا اپنے کمرے کی کھڑکی سے دیکھتی تھی بس سادگی سے اپنے بارے میں بتانے لگی
“شکل ہے کہاں تمہارے پاس باہر نکلنے والی، اس شکل کو لےکر گھر سے باہر نکلنے سے بہتر ہے کہ گھر میں ہی رہو تم”
افراہیم اس کی اچھی خاصی شکل و صورت پر ٹونٹ کرتا ہوا بولا تو احساس توہین سے نوف سے ذرا سا سر اٹھا کر اس مغرور لڑکے کو دیکھا۔۔۔۔ کیوکہ بچپن سے اب تک اپنے ماں باپ کے علاوہ بھی محلے کی خواتین اور دوستوں سے اپنی صورت کو لے کر ہمیشہ تعریفیں ہی سنی تھی
“تم نے پھر اپنا سر اٹھایا میرے سامنے واپس جگاؤ اپنا سر”
نوف کے سر اٹھانے پر افراہیم اس کو ڈانٹتا ہوا بولا جس پر نوف جلدی سے اپنا سر جھگا گئی اس کی حرکت پر افراہیم کے ہونٹوں کو مسکراہٹ نے چھوا افراہیم کو نوف کو ایسے ڈرانے میں مزا آنے لگا
“میں گھر جانا چاہتی ہوں”
یوں سر جھکائے وہ اپنے سامنے اس کو نہ جانے کب تک کھڑا رکھتا اس لیے نوف آہستہ آواز میں افراہیم سے بولی
“کیوں جانا ہے تمہیں اپنے گھر”
افراہیم روعب دار لہجے میں اس کے جھکے ہوئے سر کو دیکھ کر پوچھنے لگا
“امی انتظار کر رہی ہوگیں”
نوف نے اس مغرور لڑکے کے سامنے اب بھی سر اٹھانے کی کوشش نہیں کی تھی
“اور کل میں تمہارا انتظار کروں گا کل تم اسی ٹائم پر مجھے اسی جگہ لان میں نظر آؤ گی۔۔۔۔ تمہارے چچا جان کو تو کچھ آتا نہیں ہے کل تم یہاں آکر پورے لان کی صفائی کرو گی سنا تم نے”
افراہیم نوف پر حکم صادر کرتا ہوا بولا جس پر نوف کے پاس اقرار میں اپنا جھگا ہوا سر ہلانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا
“اب یوں بے وقوفوں کی طرح کیوں کھڑی ہو جاؤ اپنے گھر”
افراہیم کے بولنے کی دیر تھی نوف وہاں سے بھاگتی ہوئی گیٹ سے باہر نکل گئی اور ساتھ ہی اس نے تہیہ کرلیا تھا کہ وہ اب یہاں کبھی بھی نہیں آئے گی
جاری ہے
