Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6


“کیا تمہیں کوئی افسوس نہیں ہوا یہ سن کر کہ عدنان نے نوف پر ہاتھ اٹھایا ہے، میری معصوم بچی نہ کسی کے برے میں نہ اچھے میں، کچھ منہ سے بولتی تک نہیں ہے وہ اس کو بلاوجہ میں مارتے ہوئے عدنان کو شرم نہیں آئی، میں کل ہی جاکر نثار اور غزل کے بات کرتی ہوں”
رخشی نوف کا سرخ گال دیکھ کر پریشان ہوئی تھی نوف نے سارا قصہ سنانے کے بجائے اسے صرف یہی بتایا تھا کہ عدنان نے اسے اس بات پر مارا ہے وہ گھر سے باہر نکلی تھی

“ارے آئستہ تو بولو ابھی ازلان کے کانوں میں یہ بات پڑگئی تو اور ذرا سی دیر میں غصے میں آجائے گا، لڑکے تو اپنی منگیتر اور گھر والی پر روعب ڈالنے کے لئے ایسی حرکتیں کرتے ہی ہیں،، لگا دیا ہوگا اس نے نوف کو ڈرانے کے لئے ہلکا پھلکا سا ہاتھ۔۔۔ میں خود سمجھاؤں گا عدنان کو تمہیں نثار یا پھر غزل سے بات کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے”
قیوم کو خود بھی عدنان کی اس حرکت پر کافی دکھ ہوا تھا لیکن وہ رخشی کے سامنے اس کا اظہار کرکے بات نہیں بڑھانا چاہتا تھا اس لیے رخشی کو سمجھاتا ہوا بولا

“ذرا سا ہاتھ لگایا ہے اس نے جاکر دیکھو اپنی بچی کا سوجھا ہوا گال”
نوف اسی کمرے میں سر تک لحاف اوڑھے سوتی ہوئی بنی لیٹی تھی مگر وہ قیوم اور رخشی کی ساری باتیں سن رہی تھی

“کیا کر رہی ہے نیک بخت کیوں بات کو بڑھا رہی ہے بول تو دیا ہے سمجھاؤ گا میں عدنان کو، اب چپ کر جا تیری آواز سن کر کہیں ازلان ہی نہ یہاں آجائے”
قیوم رخشی کو آہستہ آواز میں ڈانٹتا ہوا بولا وہ بالکل بھی نہیں چاہتا تھا اس قصے کی ذرا سی بھی بھنک ازلان کو پڑے

“میں تمہیں بتا رہی ہو قیوم، تمہیں اپنے بھائی سے محبت ہے تو وہ اپنی جگہ لیکن اس چکر میں، میں اپنے دونوں بچوں کی قربانی نہیں دے سکتی ہوں۔۔۔ نہ ہی میں اپنی نوف کی شادی عدنان جیسے مفت خورے کے ساتھ ہونے دو گی اور نہ ہی وہ چھوٹی سی بچی نما عورت میرے ازلان کی دلہن بن کر اس گھر میں آئے گی”
رخشی انگلی اٹھاکر تنبہی کرتی ہوئی بولی کیوکہ نثار اور غزل کی دونوں ہی اولاد جس راہ پر چل نکلی تھی رخشی ان کی وجہ سے اپنے دونوں بچوں کا مستقبل داؤ پر نہیں لگا سکتی تھی

“دیکھ رخشی اب تو بہت زیادہ بول رہی ہے ہمارے بچوں کے بچپن میں جو بات طے ہوچکی تھی وہ تو اب ہوکر رہے گی میں اب اپنی زبان سے ہرگز نہیں مکرو گا اور نہ ہی کوئی دوسرا ان رشتوں کو ختم کرسکتا ہے میرے جیتے جی۔۔۔ اگر تو نے بیچ میں پڑ کر ان رشتوں کو خراب کرنا چاہتا تو میں تجھے ضرور فارغ کردو گا اس لئے میں تجھے پیار سے سمجھا رہا ہوں کہ آئندہ ان کے رشتوں کو ختم کرنے والی بات اپنی زبان پر یہ مت لانا”
قیوم رخشی کو بولتا ہوا گھر سے باہر نکل گیا جبکہ رخشی چپ کرکے چارپائی پر بیٹھ گئی۔۔۔ لحاف کے اندر لیٹی ہوئی نوف کو اپنی زندگی عذاب سی لگنے لگی کیونکہ آج عدنان کی حرکت سے اسے عدنان اور اپنی زندگی سے نفرت ہو چلی تھی


“کیسے ہو ازلان”
وہ کل شام عباد کی باتیں سننے کے بعد سے اپنے کمرے کا دروازہ بند کیے ہوئے بیٹھا تھا، تھوڑی دیر پہلے رخشی اسے ناشتہ دے کر گھر کے کاموں میں مصروف ہوچکی تھی تب اسے اپنے کمرے میں بیلا کی آواز سنائی دی

“تم یہاں ہمارے کوارٹر میں کیا کر رہی ہو”
بیلا کو اپنے کمرے کے دروازے پر کھڑا دیکھ کر ازلان کرسی سے اٹھتا ہوا اس کے پاس آکر پوچھنے لگا

“تم سے سوری کرنے آئی تھی بابا نے کل غصے میں بہت غلط کیا انہیں وہ سب باتیں تم سے نہیں کہنی چاہیے تھی”
بیلا کمرے کے اندر آتی ہوئی ازلان سے بولی

“وہ سب جو تمہارے بابا نے مجھ سے کہا اس کے لیے تمہیں سوری کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس میں تمہاری غلطی نہیں ہے اب تم یہاں سے چلی جاؤ بیلا”
ازلان کا انداز بالکل سنجیدہ تھا بیلا اسے خاموشی سے دیکھنے لگی

“تم مجھے اپنے گھر سے جانے کے لیے بول رہے ہو اس کا مطلب یہ ہوا تم ابھی تک مجھ سے ناراض ہو” بیلا افسوس کرتی ہوئی ازلان کو دیکھ کر بولی تو ازلان لمبا سانس کھینچ کر بیلا کو دیکھتا ہوا بولا

“میں تم سے ناراض نہیں ہوں بیلا مگر تمہیں کسی بھی انسان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے سے پہلے اپنے فادر کی نیچر کو ذہن میں رکھنا چاہیے کیونکہ دوسرا بےشک غریب انسان ہو مگر اس کی بھی کوئی سلف رسپکٹ ہوتی ہے یہ نہیں کہ کوئی بھی اونچا بڑا آدمی اپنا روعب اور بلند مرتبہ دکھاکر اس چھوٹے انسان کی انسلٹ کرتا رہے۔۔۔۔ دیکھو بیلا میں اور میری فیملی ایک مڈل کلاس فیملی سے بھی کم حیثیت رکھتی ہے یہ دو کمروں کا کوارٹر بھی ہمارا اپنا نہیں ہمیں گورنمنٹ کی طرف سے ملا ہے میری ماں اور باپ ہم دونوں بہن بھائیوں کو بہت محنت کرکے پڑھا رہے ہیں تاکہ جو وقت ان لوگوں نے فیس کیا ہے وہ ہم دونوں بہن بھائی فیس نہیں کر سکے، جس طرح تم لوگوں کا رہن سہن اور طور طریقے ہیں وہ مجھ سے میری فیملی سے بالکل مختلف ہیں اور مسٹر عباد کا یہ کہنا ایک طرح سے مناسب ہے دوستی ہمیشہ اپنے لیول کے لوگوں میں کرنی چاہیے۔۔۔ جتنے بھی وقت ہم دونوں کی ایک ساتھ دوستی رہی بہت اچھی رہی لیکن اب اس دوستی کو یہی ختم کردو اور اپنے گھر جاؤ”
ازلان بولتا ہوا اپنے کمرے سے جانے لگا تبھی بیلا نے اس کا ہاتھ پکڑا

“تم میرے ساتھ ایسے کیسے اپنی دوستی ختم کرسکتے ہو ازلان، تمہیں یاد ہے نا میں نے تمہیں فرینڈشپ بینڈ باندھا تھا اپنا سب سے پکا والا دوست بنایا تمہیں۔۔۔ تمہاری دوستی ختم کرنے والی بات مجھے بہت بری لگی ہے پلیز مجھ سے دوستی مت ختم کرنا”
وہ کم عمر تھی اس لیے ازلان کی باتوں کو سمجھنے کی بجائے اس کے دوستی ختم کرنے والی بات پر جذباتی ہوکر ازلان سے بولی جس پر ازلان نے غصے میں بیلا کا ہاتھ زور سے جھٹکا

“کیا چاہتی ہو تم، تم سے دوستی برقرار رکھنے کے لئے آۓ دن میں اپنے آپ کو تمہارے باپ کے سامنے ذلیل کرواتا رہو تم لوگوں کی نظر میں ہماری کوئی حیثیت کوئی ویلیو کوئی عزت نہیں ہے مگر یہ سوچ غلط ہے بیلا۔۔۔ ہم لوگ بےشک غریب ہیں لیکن ہماری بھی کوئی عزت ہے اور تمہارے باپ کو یا کسی دوسرے کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ ہمیں یوں زلیل کرے”
ازلان غصے میں چیخ کر بولا جس سے بیلا رونے لگی جبکہ ازلان کے چیخنے پر رخشی ایک دم کمرے میں آگئی

“ارے بیٹا آپ رو کیوں رہی ہو اور ازلان یہ کیا طریقہ ہے اپنی دوست سے بات کرنے کا۔۔۔۔ کل عباد صاحب غصے میں ہوگے اگر انہوں نے کچھ کہہ دیا تو اس میں بیلا بیٹی کا کیا قصور ہے”
رخشی بیلا کے آنسو صاف کرتی ہوئی ازلان کو سمجھانے لگی جس پر ازلان کو مزید چڑ گیا

“امی یہ چھوٹی ہے کم عقل ہے آپ اس کو سمجھانے کی بجائے اس کا دل بہلانے کے لئے مجھے سمجھا رہی ہیں۔۔۔۔ آپ اس کو بتائیں کہ مسٹر عباد کے سامنے ہم جیسے چھوٹے اور غریب لوگوں کی حیثیت کسی کچرے کے ڈھیر اور کیڑے مکوڑوں سے کم نہیں ہے۔۔۔ سمجھ میں آرہا ہے تمہیں تمہارے باپ کے آگے میری یا میرے گھر والوں کی اوقات اس دھول مٹی جیسی ہے، جسے تمہارا باپ خود جھک کر اپنے جوتوں سے ہٹانا بھی پسند نہیں کرتا اور میں ایسے مغرور اور دولت کے نشے میں چور انسان کی بیٹی کو اپنے منہ لگانا پسند نہیں کرتا اس لیے چلی جاؤ یہاں سے”
اب کی بار ازلان پہلے سے بھی زیادہ زور سے چیخ کر بولا تو روتی ہوئی بیلا وہاں سے چلی گئی


“ابے وہاں دیکھ کیا مال ہے یار، اب بتا مجھے سالا کون الو کا پٹھا اس کے جوان ہونے کا انتظار کرے گا”
بیلا روتی ہوئی سرونٹ کوارٹر سے باہر نکل رہی تھی تب گلی کے کونے میں عدنان کے ساتھ بیٹھا ہوا اسرار عدنان سے بولا تو عدنان بھی بیلا کو گیٹ سے اندر اپنے بنگلے میں جاتا ہوا دیکھنے لگا

“یہ خوبصورت لڑکیوں کے ماں باپ ہی سالے پاگل کے بچے ہوتے ہیں، جو پہلے ان ننھی کلیوں کی حفاظت نہیں کرتے ہیں بعد میں جب ہم جیسا کوئی انہیں مسل دیتا ہے تو رونے پیٹے اور ماتم کرنے لگ جاتے ہیں”
عدنان خود بھی اسرار کے سامنے اپنے دماغ کی غلاظت کو ظاہر کرتا ہوا بولا

“ابے سالے یہ اسی افسر کی بیٹی ہے ہم جیسے تو اس پری کے حسن رکھنے والی کو دور سے ہی دیکھ سکتے ہیں یا پھر خیالوں میں ہی سوچ سکتے ہیں اس کے بارے میں، اگر کچھ الٹا سیدھا کرنے پر پکڑ ہوگئی تو واٹ لگا دے گا اس باپ ہماری”
اسرار ٹھنڈی آہ بھرتا ہوا بولا اور بعد کے نتائج عدنان کو بتانے لگا

“جب رات کے اندھیرے میں بختو کی بیٹی کو خالی پلاٹ پر لےکر گئے تھے تو کونسی پکڑ ہوگئی تھی، کام کرنے کے بعد گلا گھونٹ کر لاش کو نالے میں پھینک دینا ہے، سمجھو ہمیشہ کے لئے قصہ اور ثبوت دونوں ختم،، ابے ایسا مال ہم جیسے غریبوں کو زندگی بھر کے لئے تو نہیں مل سکتا چند گھنٹے کے لئے مزا لینے میں کیا حرج ہے پھر”
عدنان آنکھ دباتا ہوا اسرار سے بولا تو اسرار خباثت سے اس کی بات پر ہنسنے لگا

“چھوٹے صاحب جی اب باری میری ہے یہ وہ تھپڑ ہوگا تیرے گال پر جس سے تیری روح اندر تک کانپ جائے گی تڑپ اٹھے گا تو بری طرح”
عدنان دل ہی دل میں افراہیم کو مخاطب کرتا ہوا بولا


“ارے میری سوہنی تو یہاں کیا کر رہی ہے”
نوف اگلے دن اسکول کا بیگ رکھنے کے ساتھ کپڑے تبدیل کر کے بغیر کچھ کھائے بناء سرونٹ کوارٹر سے نکل کر برابر بنگلے میں چلی آئی تو نثار اس کو وہاں دیکھ کر پوچھنے لگا

“کل افراہیم صاحب نے آنے کا بولا تھا انہیں اپنے کپڑے استری کروانے تھے”
نوف اپنے چچا کو دیکھ کر بتانے لگی ساتھ ہی چاروں بیڈ رومز کو دیکھ کر سوچنے لگی ناجانے اس میں سے افراہیم کا کونسا بیڈروم ہے

“ان بڑے افسروں نے تو ہمارے پورے خاندان کو ہی غلام سمجھ لیا ہے اب ان کے آگے کچھ بولنے کی جرات کرکے ان سے بگاڑ بھی نہیں سکتے چل ٹھیک ہے تو اس نک چڑے افی بابا کے کمرے میں جاکر اس کے کپڑے استری کر دے اچھا ہے تیرے چچا جان کا ہی بوجھ ہلکا ہوگا جب تک میں بیگم صاحبہ اور بیلا بٹیا کو بازار کا چکر لگوا لاتا ہو، وہ دونوں گاڑی میں بیٹھی میرا انتظار کر رہی ہوگیں”
نثار کی کل ہی عباد نے اچھی طرح خبر لی تھی جبھی وہ آج صبح سے ہی اپنی نوکری کے صحیح طریقے سے فرائض انجام دے رہا تھا۔۔۔ آج پہلی بار ایسا ہوا تھا جب نثار نے ازلان کو نازنین اور بیلا کو بازار لے جانے کا بولا مگر اس نے نثار کے کام کو ٹال دیا لیکن اس کے بدلے نوف یہاں آگئی تھی ورنہ اس کے صاحب کا بیٹا بھی اپنے باپ سے کم نہیں تھا لازمی وہ نثار سے کام لے کر اسکی ناکارہ ہڈیاں گھیسانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا

نثار کے جانے کے بعد نوف کو افسوس ہونے لگا وہ کم ازکم اس سے افراہیم کا کمرہ ہی پوچھ لیتی اب اس کو سمجھ میں نہیں آرہا تھا وہ کون سے والے بیڈروم کا دروازہ بجاۓ،،،، تین سے چار بار دستک دینے کے بعد جب اندر کمرے سے کوئی آواز نہیں آئی تو نوف نے کوفت بھرے انداز میں روم کا دروازہ کھولا خالی کمرہ اس کو منہ چڑا رہا تھا وہ بےزار سی دوسرے بیڈروم کا بند دروازے بجانے لگی، مگر نتیجہ وہی نکلا وہ بیڈروم بھی خالی تھا۔۔۔۔ اس کے بعد نوف نے اپنی ہی دھن میں تیسرے بیڈروم کا دروازہ بنا دستک کے کھول دیا اور اندر چلی آئی

“آآآآ۔۔۔۔آآآ”
سامنے کا منظز دیکھ کر دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپائے وہ زور دار انداز میں چیخنے لگی کیوکہ سامنے ہی افراہیم کمر سے خطرناک حد تک نیچے تولیہ لپیٹے آئینہ کے سامنے کھڑا اپنے بالوں میں برش پھیر رہا تھا

“اسٹوپڈ، جاہل لڑکی اس طرح کسی کے بیڈروم میں آیا جاتا ہے ایک سیکنڈ کے اندر یہاں سے غائب ہوجاؤ ورنہ میں تمہیں اس دنیا سے غائب کردو گا” افراہیم خود بھی ایک سیکنڈ کے لئے نوف کو اپنے کمرے میں دیکھ کر ہڑبڑا اٹھا تھا کیوکہ اس کے کمرے میں بغیر ناک کیے سرونٹ تو کیا نازنین یا بیلا بھی داخل نہیں ہوتی تھی، افراہیم کی چنگاڑتی ہوئی آواز سن کر نوف جلدی سے اس کے کمرے سے نکل کر باہر کمرے کی دیوار سے کمر ٹکاۓ گہری سانسیں لینے لگی، زندگی میں پہلی بار اس نے اپنے سامنے کسی لڑکے کو بغیر شرٹ کے تولیہ لپیٹے ہوۓ دیکھا تھا شرم کے مارے اس کے کان کی لوحیں سرخ ہونے لگی

“اب کیا باہر کھڑی کھڑی فوت ہوچکی ہو کمرے میں آؤ”
ایک بار پھر کانوں کا پردہ پھاڑ کر افراہیم کی تیز آواز نوف کو سنائی دی تو وہ دھڑکتے دل کے ساتھ کمرے میں جانے لگی

ہر بار کی طرح نوف نے ویسے ہی سر جھکایا ہوا تھا، سر اٹھائے بغیر۔۔۔ اپنی انکھیں اٹھاتی ہوئی وہ صوفے پر بیٹھے افراہیم کو دیکھنے لگی جو جینز شرٹ پہنے بالوں کو جیل سے سیٹ کیے، جوگرز میں پاؤں ڈالے ایک ٹانگ پر دوسری ٹانگ رکھے غصے میں نوف کو گھور رہا تھا

“ابھی جو تم روم میں آئی ہو، آنے سے پہلے دروازہ ناک کیا تم نے”
افراہیم کے سوال کرنے پر نوف سر اٹھا کر اس کو دیکھنے لگی

“میں تو آپکی پرمیشن ملنے پر ہی کمرے کے اندر آئی ہوں”
نوف آہستہ آواز میں افراہیم کو دیکھتی ہوئی بولی جس پر صوفے پر بیٹھے ہوئے افراہیم نے مزید اپنی آنکھوں کو پھیلا کر نوف کو گھورا

“بکواس نہیں کرو میرے سامنے جو میں نے پوچھا ہے اس کا جواب دو ہاں یا نہیں میں۔۔۔ اور یہ نظریں تم نے کس خوشی میں اٹھائی ہیں واپس نیچے کرو اپنی نظریں”
وہ تو افراہیم کے بڑی بڑی آنکھیں پھیلانے پر ہی اپنی نظریں ڈر کے مارے نیچے کرچکی تھی مگر افراہیم کے بولنے پر نوف نے اپنا سر بھی غلاموں کی طرح نیچے جھکالیا،،، اس کے جھکے ہوئے سر کو دیکھ کر افراہیم کے ہونٹوں نے مسکراہٹ کو چھوا پھر ایک دم اپنا لہجہ سخت کرتا ہوا دوبارہ بولا

“کھڑی کھڑی سوگئی ہو کیا، کیا پوچھا ہے میں نے تم سے ابھی کمرے میں آنے سے پہلے تم نے دروازہ ناک کیا تھا یا نہیں”
کرخت لہجے افراہیم نے اپنے سوال دوبارہ دہرایا جس پر نوف نے شرمندہ ہوتے ہوئے نفی میں سر ہلایا

“اب دوبارہ روم سے باہر جاؤ اور ناک کرکے واپس کمرے میں آؤ”
افراہیم نوف کو سخت لہجے میں آرڈر دیتا ہوا بولا تو نوف سست قدم اٹھاتی ہوئی واپس کمرے سے باہر چلی گئی اور دروازہ ناک کرنے لگی سات سے آٹھ بار دروازے پر دستک دینے کے بعد جب نوف کو یقین ہوگیا کہ اندر کمرے میں بیٹھا ہوا شخص اب فوت ہوچکا ہے تب وہ دروازہ کا ہینڈل گھما کر خود کمرے میں آگئی

“میں نے تمہیں اندر آنے کی پرمیشن دی، واپس کمرے سے باہر جاؤ اور جب تک میں کمرے میں آنے کا نہ کہو تب تک کمرے کے اندر مت آنا”
افراہیم کی بات سن کر نوف دل چاہا کے وہ اس پر دونوں ہاتھوں سے لعنت بھیج کر اپنے گھر چلی جائے لیکن وہ ایسا کام تصور میں بھی کرنے سے ڈرتی تھی اس لیے دوبارہ افراہیم کے کمرے سے باہر نکل گئی اور دروازے پر دستک دینے لگی

“آجاؤ اندر”
15 سے 20 بار دستک دینے کے بعد جب اسے افراہیم کی آواز آئی تو نوف نے شکر کا کلمہ ادا کیا اور کمرے کے اندر آگئی

“وارڈروب میں موجود میری ساری شرٹس باہر نکالو اور ایک ایک کرکے انہیں آئرن کرو، جلدی سے شروع ہوجاؤ چلو”
افراہیم نوف کو ابھی اور زیادہ خوار کرنے کا ارادہ رکھتا تھا مگر اس کی رونے والی شکل دیکھ کر رحم کرتا ہوا اسے کام بتانے لگا۔۔۔ اور خود ٹی وی آن کرکے اسپورٹس چینل دیکھنے لگا مگر تبھی اس کے روم میں رکھا ہوا کارلیس بجا

“سنائی نہیں دے رہا تمہیں کارلیس اٹھا کر دو مجھے فٹافٹ یہاں آکر”
افراہیم ریموٹ سے ٹی وی بند کرتا ہوا کمرے میں موجود نوف سے بولا جو آئرن اسٹینڈ کے پاس کھڑی ہوئی اس کی ایک کے بعد ایک شرٹ پریس کر رہی تھی

افراہیم کی آواز سن کر نوف اسے کارلیس تھمانے لگی جو افراہیم کے پاس ہی رکھا ہوا تھا۔۔۔ نوف سے کارلیس لینے کے بعد افراہیم نے اسے اپنے جوگرز کے لیس کی طرف اشارہ کیا جو کھلی ہوئی تھی صرف ایک نظر نوف نے اس مغرور لڑکے پر ڈالی پھر نیچے جھک کر اس کے جوگر کی لیسس بند کرنے لگی

“ہاں یار اصفر بھائی آجاۓ یہاں قسم سے مزہ آجائے گا آپ کے یہاں آنے سے، نہیں یار بابا کی تو وہی ضد ہے انہیں پورا ٹینور اس جگہ پر ہی کمپلیٹ کرنا ہے، میں اور مما یہاں اچھے خاصے بور ہو چکے ہیں۔۔۔۔ ہاہاہا بیلا اس کا تو آپکو معلوم ہے شی از ڈارلنگ کہیں بھی ایڈجسٹ کر جاتی ہے۔۔۔۔ بس آپ یہاں پر آرہے ہیں اور یہ نیوز میں مما اور بابا کو ڈنر پر سنا رہا ہوں”
افراہیم ابھی کال پر بات کر رہا تھا ایک دم نوف کے فرش پر گرنے سے وہ صوفے سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا

“کیا ہوا تمہیں” افراہیم کال کاٹ کر نوف کے پاس آتا ہوا اس سے پوچھنے لگا جو نیچے فرش پر بیٹھی اپنا پیٹ دبائے رو رہی تھی

“اے لڑکی میں تم سے پوچھ رہا ہوں رو کیوں رہی ہو تم”
افرائیم کو اس کا نام نہیں معلوم تھا اس لیے نوف کو لڑکی کہہ کر مخاطب کرنے لگا ویسے بھی اس کے نزدیک اس لڑکی کی اتنی حیثیت نہیں تھی کہ وہ اس کا نام جاننے کی کوشش کرتا

“معدہ بہت دیر خالی رہے تو پیٹ میں درد شروع ہوجاتا ہے، بہت زیادہ درد ہورہا ہے اس وقت”
نوف روتی ہوئی اس بےرحم لڑکے کو بتانے لگی جس کے خوف کی وجہ سے وہ دوپہر کا کھانا کھائے بغیر یہاں آچکی تھی اور مستقل اس کی شرٹس آئرن کیے جارہی تھی

“اٹھو نیچے سے اور ڈائننگ ہال میں جاکر بیٹھو”
یہ شاید نوف کے رونے کا اثر تھا وہ لہجے میں نرمی لاتا ہوا اس سے بولا اور خود اپنے کمرے سے کچن میں چلا گیا۔۔۔ نوف کے ساتھ یہ بچپن سے مسئلہ تھا کہ وہ زیادہ دیر بھوک نہیں برداشت کرسکتی تھی جبھی رخشی اپنی دھان پان سی نوف کے کھانے کا خیال رکھتی تھی۔۔۔ وہ ڈائننگ ہال میں جاکر خاموش بیٹھی ہوئی اپنا درد برداشت کرنے کے ساتھ کچن کے اندر کھڑے افراہیم کو بھی دیکھ رہی تھی جو مسلسل کچھ بناتا ہوا بڑبڑائے جا رہا تھا

“اف یہ نثار کتنا ڈفر آدمی ہے، کس ترتیب سے اس نے برتن کیبنٹ میں کھساۓ ہوۓ ہیں، مما تو اس کو کچھ کہتی ہی نہیں ہیں،، آجائے آج یہ اس کی ساری سستی اور کاہلی دور کروں گا”
افراہیم زور سے بولتا ہوا پاستا سے بھری پلیٹ نوف کے سامنے رکھ چکا تھا، نوف ایسے شرمندہ ہوئی جیسے وہ یہ باتیں نثار کو نہیں اس کو سنا رہا تھا

“او بی بی یہ تمہیں میں اپنے ہاتھوں سے نہیں کھلاؤں گا، تمہیں خود یہ اپنے ہاتھ سے کھانا ہے چلو فٹافٹ شروع ہوجاؤ اب”
افراہیم اس کو بولتا ہوا دوسری پاستا سے بھری پلیٹ لے کر ڈائیننگ ٹیبل کی بجائے تھوڑی دور صوفے پر بیٹھ کر خود بھی پاستا سے انصاف کرنے لگا کیونکہ وہ ملازموں کو لمٹ میں رکھتا تھا ان کے ساتھ بیٹھ کر کچھ کھانا پینا اس کی عادت نہیں تھی


جاری ہے