Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 33

وہ تمام کلاسس اٹینڈ کرکے ابھی فری ہوئی تھی تو ازلان کے نمبر پر کال ملانے لگی مگر وہ ہمیشہ کی طرح اس وقت بھی اس کی کال رسیو نہیں کررہا تھا جبکہ بیلا خود بھی اچھی طرح جانتی تھی اس وقت وہ فری نہیں ہوتا اور نہ ہی گھر میں موجود ہوتا ہے پھر بھی اسے ازلان پر افسوس ہونے لگا کیونکہ ازلان نے کل رات اس کو موبائل پر کال نہیں کی تھی بیلا اس کی کال کا بہت دیر تک انتظار کرتی رہی تھی۔۔۔ اچانک ہی دوسری طرف سے اچانک اس کی کال ریسیو کرلی گئی تو بیلا ایک دم سیدھی ہوکر لان میں بنی ہوئی بینچ پر بیٹھی

“ہیلو”
مگر ازلان کی بجائے گل کی آواز ازلان کے موبائل پر سن کر اسے تعجب ہوا، یعنی ازلان اس وقت اپنے فلیٹ پر موجود تھا

“ازلان کو موبائل دو” بیلا گل سے کوئی بھی فالتو بات کئے بغیر بولی

“وہ اس وقت کسی سے بات نہیں کرسکتا بزی ہے وہ”
گل کا جواب بھی اسے سیدھا سیدھا موصول ہوا جس پر بیلا کو غصہ آیا مگر وہ اپنا غصہ ضبط کرگئی بیلا کو حیرت اس بات پر ہورہی تھی کبھی اس نے ازلان کا موبائل اس طرح نہیں اٹھایا تھا جس طرح گل اس سے ازلان کے موبائل پر بات کررہی تھی

“اسے میرا میسج دے دینا کہ میں یونیورسٹی میں اس کو ویٹ کررہی ہو وہ یونیورسٹی سے آکر مجھے فوری طور پر پک کرلے”
بیلا نے پوری کوشش کی تھی کہ وہ گل کو باور کروائے کہ ازلان پر صرف اسی کا حق ہے

“وہ تمہیں لینے نہیں آسکتا کیونکہ تھوڑی دیر بعد اسے مجھے شاپنگ کروانے کے لئے لے کر جانا ہے اور یہ کام تمہارے یہاں آنے سے زیادہ ضروری ہے”
گل کی بات پر بیلا کو اچھے خاصے پتنگے لگ چکے تھے اس نے بنا کچھ بولے رابطہ منقطع کردیا جبکہ دوسری طرف گل طنزیہ مسکراتی ہوئی اذلان کا موبائل دوبارہ اسی جگہ پر رکھ چکی تھی جہاں سے اس نے موبائل اٹھایا تھا یہ بھی شکر تھا کہ اس وقت ازلان کا موبائل سائلنٹ موڈ پر تھا اور گل نے اس کا موبائل بلنگ کرتا ہوا دیکھ لیا تھا۔۔۔ گل خاموشی سے دوسرے کمرے میں جانے لگی کیوکہ اب واش روم سے پانی گرنے کی آواز نہیں آرہی تھی لازمی ازلان شاور لے چکا تھا اور اب اپنے کمرے میں آنے والا ہوگا


بیلا چند منٹ اپنا موبائل پکڑے یونیورسٹی کی بینچ پر بیٹھی رہی پھر کچھ سوچ کر ایک دم سے اٹھی، پارکنگ ایریا میں آکر وہ اپنی گاڑی میں بیٹھ گئی اس وقت وہ گھر جانے کی بجائے ازلان کے اپارٹمنٹ جانا چاہتی تھی تاکہ جان سکے کہ گل کی باتوں میں کتنی سچائی ہے

وہاں پہنچ کر ازلان کا خالی فلیٹ اس کو منہ چڑا رہا تھا یعنی ازلان اور گل دونوں ہی اس وقت گھر باہر نکلے ہوئے تھے

“آج تو تم نے بری طرح تھکا دیا ہے مجھے بلکہ اچھا خاصا خوار بھی کیا ہے ہر شاپ پر جانے کے بعد تم وہاں سے واپس باہر آنے کا نام ہی نہیں لیتی ہو حد ہوتی ہے گل”
اس وقت بیلا ازلان کے بیڈ روم میں موجود تھی جب اسے لاؤنچ سے ازلان کی آواز آئی یعنی وہ اور گل واپس گھر آچکے تھے پورے تین گھنٹے گزارنے کے بعد

“اوہو باگڑ بلے تھک تو تم ایسے گئے ہو جیسے ابھی تھوڑی دیر بعد ہی مرجاؤ گے، تھوڑا سانس لینے دو ابھی تمہیں اسٹرونگ سی چاۓ بناکر پلاتی ہوں تاکہ تمہاری ساری تھکن اتر جائے پھر شرافت سے آج رات باہر کھانا کھلانے لےکر جانا مجھے”
گل ازلان سے بولنے لگی تبھی بیڈروم سے باہر آتی ہوئی بیلا ان دونوں کو دیکھنے لگی جن کے ہاتھ میں ڈھیر سارے شاپنگ بیگس موجود تھے

“تم کب آئی مجھے انفرام تو کردیا ہوتا اپنے آنے کا”
ازلان بیلا کو دیکھ کر ہاتھ میں موجود شاپنگ بیگز صوفے پر رکھتا ہوا بیلا کے پاس آکر بولا

“میرے انفارم کرنے سے کیا ہوتا کیا تم اپنا اور اس کا بنایا ہوا پروگرام کینسل کردیتے میرے لیے۔۔۔ اور ویسے ہی تمہارے پاس وقت ہی کہا ہے مجھے کال کرنے کا یا میری کال ریسیو کرنے کا”
بیلا طنزیہ لہجہ اختیار کرتی ہوئی ازلان کو دیکھ کر بولی تو ازلان بیلا کو دیکھنے کے بعد مڑ کر گل کو دیکھنے لگا جو ابھی تک شاپنگ بیگز ہاتھ میں پکڑی ان دونوں سے انجان بنی کھڑی تھی

“آج میرا جلدی گھر آنا ہوگیا تو گل کو شاپنگ کروانے کے لیے لے گیا تھا دراصل کل شام کو گل کا۔۔۔۔
ازلان بیلا کا طنزیہ لہجہ نظر انداز کرکے اسے بتانے لگا تو بیلا اس کی بات کاٹتی ہوئی بولی

“مجھے گل نامہ سننے میں رتی برابر بھی انٹرسٹ نہیں ہے تم اپنی گل کے ساتھ باہر جاکر ڈنر انجوائے کرو”
بیلا بدتمیزی سے بولتی ہوئی وہاں سے جانے لگی تبھی ازلان نے بیلا کا ہاتھ پکڑا

“یہ کون سا طریقہ ہے بات کرنے کا”
ازلان پیشانی پر سلوٹیں لائے بیلا سے پوچھنے لگا جبکہ گل بالکل خاموش کھڑی اب ان دونوں کو دیکھ رہی تھی

“مجھے تو اس وقت تم سے بات ہی نہیں کرنی تم گل کے ہاتھ کی بنی ہوئی اسٹرونگ سی چائے پیو اور اپنی تھکن اتارو”
بیلا ازلان کا ہاتھ جھٹکتی ہوئی بولی جس پر ازلان کو غصے کے باوجود بیلا کے غصے پر ہنسی آنے لگی

“طبیعت ٹھیک ہے تمہاری”
ازلان اپنی مسکراہٹ چھپائے بیلا کو مصنوعی گھوری سے نوازتا ہوا پوچھنے لگا جو ٹکا ٹکا کر اس پر طنز کررہی تھی مگر بیلا اس کے گھورنے کی پرواہ کیے بغیر وہاں سے جانے لگی

“ارے بیلا جانے سے پہلے وہ ڈریس تو دیکھتی جاؤ جو ازلان نے مجھے اپنی پسند سے دلایا ہے”
بیلا کو جاتا ہوا دیکھ کر گل ایک دم بولی جس پر ازلان گل کو بری طرح گھورنے لگا کیونکہ گل بھی بیلا کی جیلسی دیکھ کر اپنی عادت کے مطابق اسے تپا رہی تھی جبکہ بیلا گل کی بات پر زہر بھری نظر اس پر ڈالتی ہوئی فلیٹ سے باہر نکل گئی

“صحیح نہیں کہتی میں یہ لڑکی کم فتنہ زیادہ لگتی ہے ابھی بھی میرے بارے میں سوچ لو پورا دن موجود ہے تمہارے پاس”
گل اذلان کو بیلا کے پیچھے جاتا ہوا دیکھ کر بولی

“شٹ اپ گل”
ازلان گل کو بولتا ہوا بیلا کے پیچھے چلا گیا

“کیا فضول قسم کی باتیں کررہی تھی بیلا تم اس کے سامنے، کسی تھرڈ پرسن کے سامنے ایسے بات کی جاتی ہے”
بیلا لفٹ کی بجاۓ تیزی سے سیڑھیاں اتر رہی تھی تو ازلان بیلا کے پیچھے آتا ہوا بولا

“وہ تھرڈ پرسن کہاں ہے ازلان اسے تو تم نے اپنے گھر پر جگہ دی ہوئی ہے، اسے گھمانے پھرانے، سیر سپاٹے کروانے میں تم کس قدر مصروف ہو، تھرڈ پرسن تو اب میں خود کو فیل کررہی ہوں”
بیلا بغیر رکے سیڑھیاں اترتی ہوئی اپنے پیچھے آتے ازلان سے بولی

“پورا نہیں ہوا تمہارا ابھی تک اور کتنے طنز کرنا باقی رہ گئے ہیں سارے ابھی کر ڈالو تاکہ پھر میں آرام سے تمہیں اپنی بات بتا سکوں”
ازلان بیلا کے پیچھے آتا ہوا سنجیدگی سے بولا تو وہ سیڑھیاں اترتی ہوئی بلاک سے باہر نکلنے لگی

“مجھے تم صرف یہ بتاؤ کہ کل تم کس ٹائم مما اور بھائی سے ہمارے متعلق بات کرنے آرہے ہو”
بیلا اب رک کر ازلان سے دوٹوک لہجے میں پوچھنے لگی

“کل نہیں پرسوں۔۔۔ پرسوں آؤں گا میں افراہیم اور آنٹی سے بات کرنے کے لیے کیونکہ کل گل کا میرے دوست معاموں کے ساتھ نکاح ہے”
ازلان بیلا کو دیکھتا ہوا تحمل سے بتانے لگا تو وہ خاموشی سے ازلان کو دیکھنے لگی،، چہرے پر غصے کے تاثرات یک دم کہیں غائب ہوگئے اور ساتھ ہی ازلان کی بات سن کر اندر تک اسے اطمینان اترتا ہوا محسوس ہوا

“پہلے نہیں بتاسکتے تھے یہ بات”
بیلا ازلان کو دیکھ کر شکوہ کرتی ہوئی بولی

“تم بولنے کا موقع ہی کہاں دے رہی تھی بس لڑاکا بیویوں کی طرح شروع ہوگئی تھی، اور اب میرا شروع ہونے کا دل چاہ رہا ہے”
ازلان گھورتا ہوا بیلا سے بولا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر خود اس کے قریب آیا

“کیا کر رہے ہو”
بیلا ازلان کا ری ایکشن دیکھ کر چاروں طرف دیکھتی ہوئی ازلان سے حیرت ذدہ سی بولی

“تمہیں نہیں معلوم”
ازلان بیلا کو نروس دیکھ کر تھوڑا اور اس کے قریب آتا ہوا پوچھنے لگا وہی پیچھے سے ان دونوں کے کانوں میں نسوانی آواز ٹکرائی

“یہ سب شروع شروع کی چونچلے بازی ہے چند سالوں بعد شوہر کا منہ مشرق کی طرف ہوتا ہے اور بیوی کا منہ مغرب کی طرف”
ازلان اور بیلا دونوں ہی ان خاتون کو دیکھنے لگے جو ان دونوں کو گھورتی ہوئی بولی تھی وہ دونوں ہی ان خاتون کو پہچان چکے تھے جو پرسوں اپنے کمرے کی کھڑکی سے ان دونوں کو گھور رہی تھی جب ازلان اور بیلا اپنی بالکنی میں بےحد قریب کھڑے تھے۔۔۔ بیلا فوراً وہاں سے چلی گئی کیوکہ اس نے دور سے ہی اپنی گاڑی کو آتا ہوا دیکھ لیا تھا جبکہ ازلان ان محترمہ کو اپنی طرف گھورتا ہوا دیکھ کر سر کجاتا ہوا واپس فلیٹ کی سیڑھیاں چڑھتا ہوا اپنے فلیٹ کی طرف جانے لگا


“آج یونیورسٹی سے کافی دیر سے آنا ہوا کہاں پر موجود تھی تم یونیورسٹی کے بعد”
رات کے کھانے میں ٹیبل پر افراہیم بیلا کو دیکھ کر اس سے پوچھنے لگا تو بیلا پلیٹ سے سر اٹھا کر افراہیم کو دیکھنے لگی نازنین کھانا شروع کرچکی تھی جبکہ نوف میٹھے سے بھرا ہوا باؤل ٹیبل پر رکھ رہی تھی

“بھائی مجھے اپنی یونیورسٹی کی دوست سے فزکس کے نوٹس لینے تھے اسی وجہ سے ڈرائیور کے ساتھ اس کی طرف چلی گئی تھی”
بیلا تھوڑا سا جھجھک کر افراہیم کو بتانے لگی کیونکہ افراہیم کے پوچھنے کا انداز بالکل سنجیدہ تھا بلکہ آج صبح ناشتے کی ٹیبل پر بھی وہ بیلا کو اس طرح سنجیدہ لگا تھا اور تھوڑا ڈسٹرب بھی

“یہ کونسی نئی دوست بن گئی ہے تمہاری جس کے گھر تمہارا اچانک آنا جانا شروع ہوگیا ہے کیا اس کے پیرنٹس پرمیشن نہیں دیتے اسے یہاں تمہارے پاس آنے کی”
افراہیم بیلا کو دیکھتا ہوا ابھی بھی سنجیدگی سے سوال کررہا تھا اس کے انداز پر بیلا کے ساتھ ساتھ نازنین بھی افراہیم کو دیکھنے لگی جبکہ نوف فریج سے سیلڈ نکال رہی تھی

“ایسی بات نہیں ہے بھائی اس نے کہا ہے کہ وہ ایک دو دن میں یہاں پر چکر لگائے گی”
اب کی بار بولتے ہوئے بیلا کو گھبراہٹ ہوئی اور اس نے فورا سے پلیٹ میں سر جھکالیا تاکہ افراہیم اس سے مذید کوئی دوسرا سوال نہ کرے

“بیٹا تم کیوں نہیں بیٹھ رہی ہو سب کھانا شروع کرچکے ہیں تم بھی بیٹھ کر سب کے ساتھ کھانا کھاؤ ناں”
نازنین نوف کو دیکھتی ہوئی اس کی طرف متوجہ ہوکر بولی تو افراہیم بھی اسی کو دیکھنے لگا جو ٹیبل پر چیزیں رکھنے میں کافی دیر سے مگن تھی

“آنٹی میں تھوڑی دیر بعد کھانا کھالوں گی”
نوف آہستہ آواز میں جیسے ہی بولی ویسے ہی افراہیم نوف سے بولا

“جب مما تمہیں کھانا کھانے کے لیے بیٹھنے کا بول رہی ہے تو نخرے دکھانے کی ضرورت نہیں ہے بیٹھ جاؤ فورا اور ڈنر کرو”
افراہیم کے بولنے پر نوف نے نظریں اٹھاکر افراہیم کی آنکھوں میں دیکھا جہاں اس کے لیے حکم تھا وہ نظر جھکاکر بنا کچھ بولے خاموشی سے افراہیم کے برابر میں بیٹھ گئی

“افی اگر اس کا کھانے کا موڈ نہیں ہورہا تو اس میں نخرے دکھانے والی کیا بات ہے سب بیٹھے ہوئے تھے تو میں نے اس خیال سے بولا تھا، اسے بھوک لگے گی تو وہ بعد میں کھانا کھالے گی”
نازنین کو افراہیم کے بات کرنے کا انداز عجیب سا لگا تھا تبھی وہ افراہیم سے بولی جبکہ بیلا ایک نظر دوبارہ افراہیم پر ڈال کر دوبارہ اپنے پلیٹ کی طرف جھک گئی اس سے پہلے افراہیم کچھ بولتا نوف جلدی سے نازنین سے بولی

“نہیں آنٹی میں سب کے ساتھ ہی کھانا کھالیتی ہوں”
نوف اپنی طرف پلیٹ کھسکاکر اس میں چاول نکالنے لگی کہیں بیڈ روم میں جانے کے بعد اسے نخرے دکھانے پر افراہیم باتیں ہی نہیں سنانے لگ جاتا

“پانی دو مجھے”
ابھی پہلا نوالہ نوف کے منہ میں گیا ہی تھا اسے افراہیم کی آواز سنائی دی جبکہ پانی سے بھرا ہوا جگ بیلا کے قریب رکھا ہوا تھا مگر وہ نوف کی طرف دیکھ کر بولا رہا تھا، بیلا جگ کی طرف ہاتھ بڑھانے لگی ویسے ہی افراہیم بولا

“تم اپنے کھانے پر دھیان دو بیلا”
افراہیم کی بات پر بیلا نے اپنے ہاتھ پیچھے کرلیے تو نوف کرسی سے اٹھ کر دوسری جانب آتی ہوئی افراہیم کے لئے پانی نکالنے لگی نازنین خاموشی سے افراہیم کا رویہ دیکھنے لگی

نہ جانے اس وقت نوف کی قسمت خراب تھی یا اس کے مقدر میں کیا لکھا تھا نوف کو سمجھ میں نہیں آیا کیسے افراہیم کو پانی کا گلاس تھماتے ہوئے گلاس سے پانی افراہیم کے کپڑوں پر چھلک پڑا

“یہ کیا کیا ہے تم نے دماغ کہاں غائب ہے تمہارا”
نوف کے سوری بولنے سے پہلے افراہیم نوف کو ڈانٹتا ہوا بولا نازنین اور بیلا ایک بار پھر کھانا چھوڑ کر ان دونوں کو دیکھنے لگیں

“افی یہ کون سا طریقہ ہے بیٹا بات کرنے کا جان بوجھ کر گرایا ہے کیا اس نے تمہارے اوپر پانی،، آخر ہو کیا گیا ہے آج تمہیں وہ بیوی ہے تمہاری”
نازنین نوف کا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر افراہیم کو ٹوکتی ہوئی بولی

“بیوی ہے تو کیا کرو؟ ہر وقت بس ہنسی مذاق میں لگا رہو اس کے ساتھ، دیکھ نہیں رہی ہیں آپ پورے کپڑے گیلے کردیے ہیں اس نے میرے۔۔۔ ایک تو پہلے ہی دوسری پریشانیاں کم نہیں ہیں اوپر سے اس کو تمیز سکھاتا رہو”
افراہیم مزید بگڑتا ہوا بولا جس پر نوف کا سر شرمندگی سے مزید جھگ گیا مگر اس نے اپنی آنکھوں سے آنسو باہر نہیں آنے دئیے ورنہ افراہیم سے کوئی بعید نہیں تھی وہ سب کے سامنے اس کے رونے پر اس کو مزید ڈانٹتا

“بیٹا اس کو تمیز سکھانے سے بہتر یہی ہے کہ پہلے تم خود تمیز سیکھو کے بیوی سے کیسے بات جاتی ہے اور اپنی دوسری الجھنوں کو اپنے تک ہی محدود رکھا کرو ایک ذرا سا پانی گرنے پر تم نے پورا گھر سر پر اٹھالیا ہے یہ کوئی اچھی بات نہیں۔۔۔۔ نوری یہاں آکر میرا اور یمنہ کا کھانا میرے کمرے میں لےکر آؤ”
نازنین افراہیم کو تمیز سکھانے کے ساتھ ساتھ نوری سے بھی مخاطب ہوئی اور اپنے کمرے میں چلی گئی جبکہ افراہیم کھا جانے والی نظروں سے نوف کو دیکھنے لگا

“بھابھی مما آپ کا ویٹ کررہی ہوگیں ان کے کمرے میں جاکر آپ کھانا کھالیں”
بیلا افراہیم کے سخت اثرات دیکھ کر نوف سے جلدی سے بولی تاکہ وہ یہاں سے نازنین کے کمرے میں چلی جائے


“کون بات کررہا ہے”
رات میں افراہیم اپنے بیڈروم میں بیٹھا ہوا تھا تبھی اس کے موبائل پر کال آئی وہی نوف کے قدم بیڈروم میں داخل ہونے سے پہلے تھم گئے

“پہچانا نہیں مجھے اتنی جلدی بھول گئے میں نے تو تمہارا نمبر اپنے موبائل میں ابھی تک سیو کر رکھا ہے”
تاشفہ کی بات سن افراہیم استزائیہ ہنسا

“یاداشت کے معاملے میں کافی کند ذہن ثابت ہوا ہوں، مگر میں تمہیں پہچان چکا ہوں کہو کیسے یاد کیا تم نے مجھے تاشفہ”
افراہیم کی بات پر کمرے سے باہر کھڑی نوف کے دل پر تاشفہ کا نام سن کر گھونسا سا پڑا

“میں ایسی چیز ہوں بھی نہیں جو مجھے آسانی سے بھلا دیا جاۓ مگر مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی کہ تم مجھے پہلی بار میں میری آواز سے نہیں پہچان پاؤ گے”
تاشفہ مغرور سا انداز اپناۓ افراہیم سے شکوہ کرنے لگی

“وہ اس لیے تاشفہ کیوکہ میں تمہارا نمبر اپنے موبائل کی فون بک سے ڈیلیٹ کرچکا ہوں اور ویسے بھی ہماری آخری ملاقات کے بعد تو تمہیں مجھ سے امیدیں اور اپنی ساری خوش فہمیاں ختم کرلینا چاہیے تھی لیکن تمہاری تسلی کے لیے میں تمہیں ایک بار پھر بتا دیتا ہوں جو عورت ایک بار کسی مرد کی نظروں سے گرجائے وہ کبھی اس مرد کے دل تک رسائی نہیں کرسکتی میرا کانٹیکٹ نمبر اپنے موبائل سے ڈیلیٹ کردو یہ میرا تمہیں دوستانہ مشورہ ہے”
افراہیم کے بولے گئے لفظوں سے کمرے کے باہر کھڑی نوف کو اطمینان سا ہوا مگر افراہیم کی بات پر تاشفہ برا سا منہ بناتی ہوئی بولی

“لازمی تمہارا دل کہیں اور لگ گیا ہوگا ورنہ تم تاشفہ کو نظر انداز کرنے کی ہمت نہیں کرتے”
تاشفہ کو اپنے حسن ناز تھا اسلیے وہ دل برداشتہ ہوکر افراہیم سے بولی

“ہوسکتا ہے ایسا ہی ممکن ہو مگر میں یہ بات تمہیں بتانا ضروری نہیں سمجھتا”
افراہیم نے تاشفہ کو بولنے کے بعد کال ڈسکنیکٹ کردی تو نوف دل ہی دل میں شکر ادا کرتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی زندگی میں پہلی بار اسے اپنے شوہر کے کسی سے سیدھے منہ بات نہ کرنے پر خوشی محسوس ہوئی تھی

“کھانا لاؤ آپ کے لئے بیلا نے بنایا کے آپ نے ڈنر صحیح سے نہیں کیا تھا”
نوف پر ایک نظر ڈالنے کے بعد وہ دوبارہ اپنے موبائل کو دیکھنے لگا تھا نوف افراہیم کے پاس آکر آئستہ آواز میں اس سے پوچھنے لگی تو افراہیم نے اپنے موبائل کی اسکرین سے نظریں اٹھاکر نوف کو دیکھا

“یہ خیال بھی مما کو آیا ہوگا تمہیں خود سے کہا توفیق ہے کہ شوہر کے کھانے کی پرواہ کرلو”
افراہیم نوف سے بولتا ہوا دوبارہ موبائل کی اسکرین کو دیکھنے لگا کیونکہ وہ جانتا تھا اگر نازنین کو کبھی معلوم ہوتا کہ بیلا یا افراہیم نے رات کا ڈنر نہیں کیا تو نازنین کبھی ان دونوں کو خالی پیٹ سونے نہیں دیتی تھی

“نہیں آنٹی کا خیال تھا کہ آج رات آپ کو ڈنر کیے بغیر بھوکا ہی رہنا چاہیے صبح تک آپ کی عقل مکمل طور پر ٹھکانے آجائے گی”
نوف کے معصومیت سے نازنین کے خیالات بتانے پر افراہیم کے تن بدن میں آگ لگ گئی وہ اپنا موبائل میز پر پٹخ کر ایکدم غصے میں کھڑا ہوا

“مذاق سوجھ رہا ہے تمہیں یا بہت مزہ آرہا ہے میری حالت پر۔۔۔ بتاؤ ابھی میں تمہیں اپنے آگے زبان چلانے کا انجام”
افراہیم غصے میں نوف کا منہ دبوچتا ہوا بولا تو نوف افراہیم سے ہمت کرتی ہوئی دوبارہ بولی

“نہ ہی مجھے مذاق سوجھ رہا ہے نہ ہی میں آپ کی اس حالت پر خوش ہوں، لیکن اگر میری حقیقت جاننے کے بعد آپ کو میرا اور اپنا رشتہ بوجھ لگ رہا ہے تو آپ اپنے میرے رشتے کو ختم کرکے اس سے نجات حاصل کرلیں میری طرف سے اجازت ہے آپ کو”
دل کو کافی زیادہ مضبوط کرنے کے بعد نوف نے افراہیم سے یہ بات بولی مگر نوف کی بات افراہیم کو مزید طیش دلاگئی

“مجھے کیا کرنا ہے کیا نہیں اس کی اجازت دینے والی تم کون ہوتی ہو، مجھ سے اپنا اصل چھپاکر دھوکا دیا ہے تم نے مجھے،، اس کا بدلہ میں تم سے رشتہ ختم کرکے نہیں بلکہ تمہاری اپنے ان ہاتھوں سے جان لےکر لوں گا”
افراہیم نے غصے میں بولتے ہوئے نوف کا دبوچا ہوا منہ جھٹکے سے چھوڑا تو وہ دو قدم پیچھے ہوئی مگر اگلے ہی لمحے نوف نے آگے بڑھ کر افراہیم کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر اپنی گردن پر رکھے

“تو پھر لیتے کیوں نہیں ہیں میری جان، آج مار ڈالیں مجھے اپنے ان ہاتھوں سے مگر اس طرح روز روز مجھے مت ماریں پلیز افراہیم اپنا غصہ ختم کردیں اس طرح مت کریں میرے ساتھ”
نوف افراہیم کے سامنے زاروقطار روتی ہوئی بولی تو افراہیم نے اپنے ہاتھ سے نوف کی گردن پر دباؤ ڈال کر اسے پیچھے بیڈ پر دھکا دیا

“اب اگر مجھے تمہارے رونے کی آواز آئی ہے یا تم نے میرے آگے زبان چلائی تو پھر جو میں تمہارا حشر کرو گا اپنے انجام پر خود ہی پچھتاوگی تم”
افراہیم بیڈ پر گرے نوف کے سسکتے وجود کو دیکھ کر دھمکی دیتا ہوا بولا اور لائٹ بند کرکے خود بھی بیڈ کی دوسری سائیڈ پر لیٹ گیا


جاری ہے