Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 34

“اتنے افسرہ کیوں بیٹھے ہو باگڑ بلے، تمہیں تو بہت خوش ہونا چاہیے کہ گل نامی کانٹا آج تمہاری زندگی سے ہمیشہ کے لئے نکل جائے گا”
ازلان اپنے کمرے میں موجود صوفے پر بیٹھا ہوا تھا تب گل اس کے پاس آتی ہوئی مسکرا کر بولی تو ازلان خاموشی سے اسے دیکھنے لگا آج کی تاریخ میں چند گھنٹے بعد شام میں اس کا نکاح معاموں سے ہوجانا تھا

“افسردہ نہیں ہوں میں بلکہ تمہارے لئے فکرمند ہوں،
ازلان اپنے سامنے کھڑی گل کو دیکھتا ہوا بولا تو گل ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پر لاکر ازلان کے سامنے اس کے پیروں کے پاس بیٹھ گئی

“تم میرے لئے فکرمند ہو۔۔۔ میرے یہاں سے رخصت ہونے سے پہلے ایسی بات نہ کرو کہ میں خوشی سے آج مر ہی جاؤں”
گل اداسی سے مسکراتی ہوئی ازلان سے بولی تو اذلان دوبارہ خاموشی سے گل کا مسکراتا ہوا چہرہ دیکھنے لگا جس کے پیچھے چھپی اداسی وہ صاف محسوس کرسکتا تھا

“اپنے احساسات اور جذبات ہمیشہ اس انسان پر عیاں کرنے چاہیے جو ان کا اصل حقدار ہو جو تمہارے جذبات کی قدر کرے۔۔۔ گل تم بہت اچھی لڑکی ہو، ایک اچھی زندگی ڈیزرو کرتی ہو، معامون بیشک پہلے سے شادی شدہ تھا ابھی ایک بیٹا بھی ہے اس کا مگر میں اس کو پرسنلی جانتا ہوں وہ دل کا بہت اچھا اور نیک سیرت انسان ہے تم اس کو اور اس کے بیٹے کو سچے دل سے اپناؤ گی تو وہ تمہاری قدر کرے گا تمہیں بہت خوش رکھے گا”
ازلان گل کو سمجھاتا ہوا بولا تو گل دوبارہ اداسی سے مسکرا دی

“میں اچھی لڑکی کیسے ہوسکتی ہو باگڑ بلے اگر گل اچھی لڑکی ہوتی تو وہ ازلان کے دل پر حکومت کرتی۔۔۔ ازلان کے دل میں پھر کبھی کسی بیلا کا خیال نہیں آتا، اچھی لڑکی تو فتنہ نکلی جسے ازلان جیسا شہزادہ مل گیا”
ازلان کے سامنے بیٹھ کر بولتے ہوئے گل کی آنکھوں سے آنسو رواں ہونے لگے تو ازلان ایک پل کے لئے کچھ نہیں بول سکا چند سیکنڈ بعد اس نے گل کو سمجھانا چاہا تو گل نے ہاتھ کے اشارے سے ازلان کو کچھ بھی کہنے سے روک دیا

“میں جانتی ہوں دل کے سودے زبردستی کے نہیں ہوتے جیسے تم مجھ سے زبردستی دل نہیں لگا سکتے ویسے میں بھی کسی کو زبردستی اپنے دل میں بسا نہیں سکتی لیکن میں کوشش کروں گی معامون سے کبھی بھی تمہیں شکایت سننے کو نہ ملے میں اچھی لڑکی بننے کی کوشش کروں گی،، اچھی بیوی اور اچھی ماں بننے کی بھی کوشش کروگی تاکہ معامون کو کبھی مجھ سے شادی کے فیصلے پر پچھتاوا نہ ہو اور نہ تمہیں اس کے سامنے شرمندگی اٹھانا پڑے، گل کبھی بھی تمہیں شرمندہ نہیں ہونے دے گی لیکن اس وقت اپنے سامنے مجھے رونے دو”
گل بولتی ہوئی ازلان کے گھٹنے پر اپنا ماتھا ٹکا کر رونے لگی تو ازلان نے بھی اس کو اس لیے رونے دیا تاکہ وہ اپنا سارا غبار اور رنج یہی نکال کر اس گھر سے رخصت ہو،، گل کے سر پر اپنا ہاتھ رکھے وہ خاموشی سے صوفے پر بیٹھا تھا تبھی اس کی نظر کمرے کے دروازے پر کھڑی بیلا پر پڑی جو عجیب نظروں سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی

“وہاں کیوں کھڑی ہو اندر کمرے میں آجاؤ”
ازلان گل کے سر سے ہاتھ ہٹاتا ہوا بیلا سے بولا تو وہ گل چونک کر دروازے پر کھڑی بیلا کو دیکھنے لگی وہ جلدی سے اپنی آنسوؤں کو صاف کرتی ہوئی اٹھ کر کھڑی ہوگئی

“میں پوچھ سکتی ہوں کیا تماشا چل رہا ہے یہاں”
بیلا اندر کمرے میں آتی ہوئی گل پر زہر بھری نظر ڈال کر ازلان سے بولی

“ضرور پوچھ سکتی ہوں مگر اپنا لہجہ اور انداز درست کر کے اور ذرا تمیز سے”
اذلان خود بھی صوفے سے اٹھتا ہوا بیلا کو آنکھوں میں تنبیہ کرتا ہوا بولا کہ وہ اس وقت مزید بات کو نہ بڑھائے کیونکہ بیلا کل بھی عجیب طنز کرتی ہوں یہاں سے جاچکی تھی، نہ ہی اس کا گل کی یہاں آمد پر رویہ اچھا تھا آج گل یہاں سے رخصت ہوکر چلے جانا تھا جبھی ازلان چاہتا تھا بیلا جذباتی پن کی بجائے تھوڑا سا صبر سے کام لے

“وہ دراصل شام میں نکاح ہوجانا ہے نہ تو اپنے اماں اور ابا کی یاد آگئی تھی تبھی ازلان کے سامنے رونا آگیا”
گل بیلا کی طرف بڑھتی ہوئی بولی، وہ نہیں چاہتی تھی اس کی وجہ سے اذلان اور بیلا کے بیچ بات خراب ہو مگر بیلا نے اچانک غصے میں گل کے منہ پر تھپڑ مار دیا

“میں نے تم سے بات کی ہے یا کچھ پوچھا تم سے”
بیلا حقارت بھری نظروں سے گل کو دیکھتی ہوئی بولی تو تھپڑ پڑنے پر گل کے ساتھ ساتھ ازلان بھی ایک لمحے کے لئے بیلا کی حرکت پر شاکڈ ہوا مگر دوسرے ہی لمحے وہ غصے میں بیلا کی طرف بڑھا

“تھپڑ کیوں مارا تم نے اس کو”
ازلان غصے میں بیلا کا بازو پکڑ کر اس کا رخ اپنی طرف کرتا ہوا بیلا سے پوچھنے لگا

“کیونکہ یہ میرے ہاتھ کا تپھڑ ڈیزرو کرتی ہے اپنے محبوب کے قدموں میں بیٹھ کر ٹسوے بہاتے ہوۓ یہ یاد اپنے ماں باپ کو کررہی ہے بیوقوف نظر آتی ہوں اس کو میں شاید”
بیلا غصے میں ازلان سے بولتی ہوئی گل کو دیکھنے لگی تو گل شرمندگی سے ازلان کو دیکھنے کے بعد کمرے سے باہر جانے لگی

“ایک منٹ گل یہی رکو”
ازلان کی آواز پر کمرے سے باہر جاتی گل کو رکنا پڑا، وہ سوالیہ نظروں سے ازلان کو دیکھنے لگی مگر ازلان اس کی بجاۓ بیلا کی طرف متوجہ تھا

“بیلا معافی مانگو گل سے”
ازلان بہت آرام سے بیلا سے بولا ازلان کی بات پر بیلا کے ساتھ گل بھی حیرت سے ازلان کو دیکھنے لگی

“کیا کہا تم نے میں اور اس سے معافی مانگو”
بیلا حیرت سے آنکھیں پھیلاتی ہوئی ازلان سے پوچھنے لگی جو اس وقت بالکل سنجیدہ کھڑا بیلا کو ہی دیکھ رہا تھا

“تم نے بلاجواز ہاتھ اٹھایا ہے تو تم اس سے معافی مانگو گی ورنہ آج میں تمہیں بتاؤ گا کہ تم مجھ سے کیا ڈیزرٹ کرتی ہوں، معافی مانگو گل سے”
اب کی بار ازلان سخت لہجہ اپناتا ہوا بولا تو گل بیچ میں بول اٹھی

“رہنے دو ازلان بات کو کیوں بلاوجہ بڑھا رہے ہو جو ہوگیا سو ہوگیا تمہیں باہر کام سے جانا تھا ناں، جاؤ کام نبھٹالو، میں شام کے لیے کپڑے پریس کرلیتی ہو”
گل تمام معاملے کو نبھٹانے کی کوشش کرنے لگی آج وہ یہاں سے جارہی تھی اس لیے نہیں چاہتی تھی کہ ازلان اور بیلا کے درمیان کوئی بدمزدگی ہو

“جب تک یہ تم سے معافی نہیں مانگے گی نہ ہی میں کہیں جارہا ہوں اور نہ ہی تم اس کمرے سے جاؤگی بیلا میں کیا بول رہا ہوں معافی مانگو گل سے”
ازلان گل سے بولنے کے بعد ایک مرتبہ پھر بیلا کو دیکھ کر بولا

“میں تمہاری کزن سے معافی نہیں مانگوں گی تمہیں جو بھی کرنا ہے کرلو”
اندر سے اپنی حرکت پر نادم ہونے کے باوجود بیلا خود سری سے بولی نہ جانے کیو گل سے معافی مانگتے ہوئے اس کی انا آڑے آگئی تھی

“معلوم ہے تم مجھے اچھی کیوں لگتی تھی کیونکہ مجھے محسوس ہوتا تھا کہ تم ایک غریب انسان کو بھی انسان ہی سمجھتی ہو لیکن آج تم نے اپنے رویے سے یہ ثابت کردیا کہ میں غلط تھا تم بالکل مسٹر عباد کے جیسی ہو یعنی اپنے باپ جیسی، جو اپنے سے نیچے انسان کو کیڑے مکوڑے سمجھتے تھے اور ایک مغرور لڑکی کے لیے میری زندگی میں کوئی جگہ نہیں ہے فی الحال تو تم اس وقت میرے گھر سے نکلو”
ازلان گل کے روکنے ٹوکنے کے باوجودہ بیلا کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے فلیٹ سے باہر نکال چکا تھا


یہ وہ جانتا تھا گل لازمی ازلان کے پیچھے اسی شہر میں آئی ہوگی مگر یہ بھی حقیقت تھی کہ اتنے بڑے شہر میں گل یا ازلان کو ڈھونڈنا آسان نہیں تھا وہ پچھلے تین دن سے مسلسل ایک جگہ سے دوسری جگہ دھکے ہی کھا رہا تھا کیوکہ مزید کچھ کھانے کے لئے اس کے پاس موجود رقم ناکافی تھی جس سے عدنان اپنے پیٹ کی آگ بجھا سکے اس لیے جو تھوڑی بہت رقم بچی تھی عدنان نے اس رقم سے ایک چاقو خرید لیا تاکہ وہ لوگوں کو ڈرا کر ان سے رقم حاصل کرسکے اس وقت وہ ایک بڑے سے ہسپتال کے سامنے موجود تھا جہاں پر بڑے بڑے مگر مجبور اور پریشان حال لوگ علاج کے لیے آتے تھے تبھی عدنان کی نظر ایک چمکتی ہوئی بڑی سی گاڑی پر پڑی ہے مگر اس کو جھٹکا تب لگا جب گاڑی میں سے نکلنے والی اس لڑکی پر اس کی نظر پڑی جو چہرے سے کافی پریشان لگ رہی تھی اور ایک عمر دراز عورت کو گاڑی سے نیچے اتارتے ہوئے ڈرائیور کی مدد سے وئیل چیئر پر اس عورت کو بٹھا رہی تھی۔۔۔ عدنان نوف کو بڑی سی گاڑی سے نکلتے ہوۓ دیکھ کر حیرت زدہ ہوگیا تھا وہ نوف کے قیمتی کپڑے، جیولری اور بدلہ ہوا حلیہ دیکھ کر اس کے ٹھاٹ باٹ کا اندازہ لگا چکا تھا تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوکر وہ نوف کا پیچھا کرتا ہوا ہسپتال کے اندر پہنچ گیا

“میری رانی تو یہاں عیش کررہی ہے اپنے عدی کو چھوڑ کر اب تو میں تجھے ہرگز نہیں چھوڑوں گا”
عدنان نوف کے ہاتھوں میں چمکتی ہوئی گولڈ کی چوڑیاں اور اس کے ڈائمنڈ کے ٹاپس کو دیکھ کر للچائی ہوئی نظروں سے دور کھڑا چھپ کر نوف کو دیکھ کر بولا تبھی عدنان کو دوسرا حیرت کا جھٹکا تب لگا جب دور سے افراہیم سوٹ بوٹ میں تیزی سے چلتا ہوا نوف کے پاس آیا

“ابے یہ سالا یہاں کیا کررہا ہے، کیا چکر ہے یہ بے”
عدنان اپنی آنکھوں کے دیدے پھاڑے دل ہی دل میں افراہیم اور نوف کو ایک ساتھ کھڑا دیکھ کر بولا

افراہیم کے چہرے پر فکرمندی کے تاثرات دور سے صاف دکھ رہے تھے جبکہ نوف پریشان ہوکر افراہیم کو کمرے کی طرف اشارہ کرتی ہوئی کچھ بتارہی تھی تھوڑی دیر میں وہ دونوں ہسپتال کے اس کمرے کے اندر جاچکے تھے تب عدنان کی عقل میں آئی تھی وہ بوڑھی وہیل چئیر والی عورت افراہیم کی ماں یعنی نازنین تھی۔۔۔ افراہیم اور نوف کے اسپتال سے نکلنے سے لےکر گھر پہنچنے تک عدنان نے ان کی گاڑی کا پیچھا کیا


“معلوم نہیں آج اگر یمنہ نہیں ہوتی تو میرا کیا ہوتا”
نوف بیڈ پر بیٹھی ہوئی نازنین کے سامنے سوپ کا باؤل رکھنے لگی تو نازنین اپنے سامنے صوفے پر بیٹھے ہوئے افراہیم سے بولی

“یمنہ نہیں ہوتی تو کوئی اور آپ کو ہسپتال لے جاتا کونسا تیر مار لیا اس نے یہ کام کر کے”
افراہیم جانتا تھا نوف گھر سے باہر نکلنے سے کترانے لگی تھی مگر اس کے باوجود آج دوپہر میں جب نازنین کا باتھ روم میں پاؤں سلپ ہوا تو اس نے افراہیم کے آفس سے گھر آنے کا انتظار نہیں کیا تھا بلکہ جلدی سے ڈرائیور کی ہمراہ وہ نازنین کو اسپتال لے جاچکی تھی۔۔۔ افراہیم دل ہی دل میں نوف کا اس بات کے لیے مشکور ہونے کے باوجود زبان سے اس کے سامنے اچھی بات نہیں نکال سکا جس پر نوف نے شکوہ بھری نگاہ افراہیم پر ڈالی اور اپنی نظریں نیچے جھکالی

“اس وقت گھر پر نہ بیلا موجود تھی اور نہ ہی ڈرائیور کے علاوہ کوئی دوسرا ملازم،۔۔۔ افی آخر بات کیا ہے بیٹا میں کل سے دیکھ رہی ہوں تمہارا رویہ یمنہ سے بہت عجیب سا ہے آخری ناراضگی کی وجہ کیا ہے تمہاری اس کے ساتھ”
نازنین افراہیم کی بات پر ملامت سے اس کو دیکھتی ہوئی رسانیت سے ناراضگی کی وجہ پوچھنے لگی

“ہوسکتا ہے غلطی میری نہ ہو بلکہ آپ کی اس چہیتی بہو کی ہو جس کی وجہ سے میں اس سے ناراض ہوں،، آپ اس کے معصوم چہرے پر نہ جائیں اوپر سے یہ جتنی معصوم لگتی ہے ناں اندر سے یہ بہت گہری ہے”
افراہیم نوف کا جھکا ہوا سر دیکھ کر بولا جس کا ہاتھ پکڑ کر نازنین اسے اپنے پاس بٹھا چکی تھی

“یمنہ جاؤ بیٹا افی سے سوری بولو”
نازنین ان دونوں کے بیچ ناراضگی کی وجہ جانے بغیر اپنے پاس بیٹھی ہوئی نوف سے نرمی سے بولی۔۔۔ جس پر نوف فورا نازنین کی بات مانتی ہوئی افراہیم کے پاس آئی

“ساری غلطی میری ہے مجھے آپ ایسا کچھ نہیں بولنا چاہیے تھا جو آپ کی ناراضگی کی وجہ بنتا پلیز مجھ سے اپنی ناراضگی ختم کرلیں، اور میری سوری کو ایکسپٹ کرلیں”
نوف افراہیم کے سامنے اپنی نظریں جھکاتی ہوئی بولی اسے وہ سارے لمحات یاد آئے جب جب افراہیم کی باتوں سے اس کا نازک دل دکھا تھا جب افراہیم نے اس کا چہرہ تھپڑوں سے سرخ کر ڈالا تھا لیکن آج وہ اس کے سامنے کھڑی الٹا اسی سے معافی مانگ رہی تھی۔۔۔۔ نوف کی بات سن کر افراہیم نوف کے سامنے کھڑا ہوکر اس کے دونوں ہاتھوں کو تھامتا ہوا بولا

“قربان جاؤں میں تمہاری اس سادگی اور معصومیت پر، میں واقعی یہ بات سوچنے پر مجبور ہوگیا ہوں کہ اگر تم میری زندگی میں نہیں ہوتی تو نہ جانے میرا کیا ہوتا”
شاید افراہیم اس پر طنز کررہا تھا نوف نے پلکیں اٹھاکر افراہیم کو دیکھا جو اس کے دونوں ہاتھوں کو تھاما ہوا نوف کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا نوف کو اس کی مسکراہٹ طنزیہ یا بناوٹی نہیں لگی تھی بلکہ اجلی اور شفاف محسوس ہوئی تھی جس پر نوف بھی اس کو دیکھ کر مسکرا دی اور ان دونوں کو مسکراتا ہوا دیکھ کر نازنین مسکرادی

“بیلا کہاں ہے نظر نہیں آرہی ہے”
افراہیم نوف کے ہاتھ چھوڑتا ہوا نازنین سے بیلا کا پوچھنے لگا

“نوری بتارہی تھی کہ وہ یونیورسٹی سے آکر سیدھا اپنے کمرے میں چلی گئی تھی، نوری کو بول رہی تھی کہ اس کا ضروری ٹیسٹ ہے کوئی بھی اس کو ڈسٹرب نہ کرے اس لئے میں نے نوری کو خود ہی منع کردیا کہ بیلا کو میرے بارے میں کچھ بھی بتانے کی ضرورت نہیں ہے”
نازنین سوپ پیتی ہوئی افراہیم کو بتانے لگی


“یہ میری شرٹ تم نے آئرن کی ہے”
نوف بیلا کو ڈنر کا پوچھ کر نازنین کو میڈیسن دے کر بیڈ روم میں آئی تو افراہیم نوف سے پوچھنے لگا

“جی کل صبح آفس کے لئے”
نوف افراہیم کو دیکھتی ہوئی بولی

“کیوں؟؟؟ میں نے تم سے بولا کہ تم میرے کپڑے آئرن کرو”
افراہیم سخت لہجے میں نوف سے پوچھنے لگا نوف حیرت زدہ ہوکر اس کا بدلہ ہوا رویہ دیکھنے لگی کیونکہ تھوڑی دیر پہلے نازنین کے سامنے وہ بالکل ٹھیک تھا اور اب کمرے میں آنے کے بعد اس نے دوبارہ نوف سے بات کرتے ہوئے اپنا لہجہ اور انداز تبدیل کر ڈالا تھا

“ایسے کیا دیکھ رہی ہو مجھے، سر جھکاؤ اپنا”
افراہیم نوف کو آنکھیں دکھاتا ہوا بولا تو نوف کو رونا آنے لگا

“حشر بگاڑ کر رکھ دوں گا میں تمھارا اگر میرے سامنے روئی تو،، کیا سمجھا ہوا ہے تم نے مجھے اتنی آسانی سے معاف کردو گا میں تمہیں۔۔۔ تمہاری غلطی اس قابل ہے کہ تمہیں معاف کردیا جائے”
ڈانٹتے ہوئے افراہیم کے لہجے میں مزید سختی در آئی تھی تو نوف روتی ہوئی اچانک افراہیم کے سینے سے لگ گئی جس پر ایک لمحے کے لئے افراہیم بالکل ساکت ہوگیا

“بہت غصہ کرلیا آپ نے مجھ پر اب بس کردیں خدا کے لئے، مت کریں اپنے رویے سے ہمارے اس پیارے سے رشتے کی خوبصورتی کو ختم”
نوف کی بات سن کر افراہیم اسے خود سے الگ کرتا ہوا نوف کا آنسو سے بھرا چہرہ خاموشی سے دیکھنے لگا تبھی باہر سے شور کی آواز آنے لگی، جس کی وجہ سے افراہیم کو کمرے سے باہر جانا پڑا نوف بھی اس کے پیچھے آنسو صاف کرتی ہوئی کمرے سے باہر نکل آئی


“ابے سنگل پسلی کے چھوڑ دے مجھے سالے ورنہ میں مار ڈالوں گا تجھے” عدنان گلاب خان کی گرفت میں موجود اپنے اپنے آپ کو گلاب خان سے چھڑوانے کی کوشش کرتا ہوا بولا

“غلط نیت سے تم اس گھر میں گھسنے کی کوشش کررہے تھے رکو ذرا یہ سنگل پسلی کا گلاب خان ابھی تمہارا کچومر نکالتا ہے”
گلاب خان اپنے مضبوط شکنجے میں عدنان کو دبوچا ہوا بولا

“یہ کیا شور مچا رکھا ہے گلاب خان کون ہے یہ چھوڑو اس کو اور گیٹ پر جاؤ فوراً”
باہر آتا ہوا افراہیم گلاب خان سے بولا اس کے پیچھے نوف بھی چلی آئی مگر وہ یہاں عدنان کو دیکھ کر بری طرح چکرا گئی تھی افراہیم کے کہنے پر گلاب خان نے عدنان کو چھوڑ دیا تب افراہیم عدنان کو غور سے دیکھ کر پہچاننے کی کوشش کرنے لگا

“کیا ہوا چھوٹے صاحب جی پہچانا نہیں مجھے میں وہی کمینہ میرا مطلب عدنان عرف عدی”
عدنان افراہیم سے اپنا تعارف کرواتا ہوا بولا نوف عدنان کو خوفزدہ نظروں سے دیکھ کر ڈر لگنے لگی بہت ممکن تھا کہ اب تھوڑی ہی دیر میں یہاں کوئی بہت بڑا ہنگامہ ہوتا

“کیا کررہے ہو تم یہاں میرے گھر پر کیوں آئے ہو تم یہاں”
افراہیم عدنان کو پہچان چکا تھا وہ اس کے پاس آتا ہوا کڑے تیوروں سے عدنان کو گھورتا ہوا اس سے پوچھنے لگا

“اپنی منگیتر سے ملنے آیا ہوں چھوٹے صاحب جی، اے نوف تو ایسے کیا دیکھ رہی ہے پہچانا نہیں تو نے عدی کو، جانتی ہے کہاں کہاں نہیں تلاش کیا میں نے تجھے، کہاں کہاں مارا مارا پھرا ہوں میں تیرے لیے”
عدنان افراہیم کو جواب دینے کے ساتھ نوف کو دیکھ کر اس کی طرف بڑھتا ہوا بولا مگر اس سے پہلے عدنان نوف کے پاس آتا افراہیم بیچ راستے میں دیوار بن کر کھڑا ہوگیا

“اپنا منہ سنبھال کر ذرا تمیز سے بات کرو یہ بیوی ہے میری، میں کسی غیر کو اجازت نہیں دیتا کہ وہ اس سے بےتکلف ہوکر بات کرے”
افراہیم عدنان کو دیکھ کر ایک ایک لفظ چبا کر بولا تو عدنان بے ڈھنگا سا قہقہہ لگا کر ہنسا

“کیا چھوٹے صاحب جی، لے دے کر مجھ غریب کے پاس دل بہلانے کے لیے ایک منگیتر ہی تھی اسے بھی آپ نے دس سال پہلے لوٹا پھر اب اپنی بیوی بنا ڈالا یہ تو بڑا ظلم ہوگیا جی میرے ساتھ،، آپ تو اچھے خاصے پیسے والے ہو دوسری بھی آسانی سے مل جائے گی اور ہمارے خاندان میں تو پرانی روایت ہے بچپن میں لڑکی جس سے منسوب ہوجائے وہ ساری عمر اسی کے نام پر گزار دیتی ہے اگر اس لڑکی کا منگیتر اس سے شادی نہیں کرنا چاہے تب بھی اور میں تو اس کا بچپن سے ہی دیوانہ ہوں”
عدنان کی بکواس سن کر افراہیم نے غصے کی شدت سے اس کا گریبان پکڑ لیا

“اب کی بار میں تمہیں وارننگ نہیں دوں گا اگر اب تم نے اس کے متعلق کوئی بھی الٹی سیدھی بکواس کی تو میں تمہیں یہی شوٹ کر ڈالوں گا تمہاری اوقات نہیں ہے افراہیم عباد کی بیوی کی طرف دیکھنے کی بھی۔۔۔۔ تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ فوراً یہاں سے دفع ہوجاؤ”
افراہیم نے غصے میں عدنان کا پکڑا ہوا گریبان جھٹکنے کے ساتھ اسے گیٹ کی طرف دھکا دیا

“آپ پیسے والے بڑے صاحب لوگ ہیں جبھی اپنی طاقت کے بل بوتے پر ہمیشہ ہم غریبوں کو دبا دیتے ہیں اگر آپ کے پاس یہ مال دولت نہ ہوتی یا میں آپ کی چھت کے نیچے نہ کھڑا ہوتا تو آج میں آپ کو آپ کی اوقات ضرور بتا دیتا”
عدنان افراہیم کو بولتا ہوا نوف پر نظر ڈال کر وہاں سے جانے لگا

“اے رکو کیا بولا تم نے، مجھے میری اوقات بتاؤ گے تم، چلو بھول جاؤ کہ میں اس وقت بڑا آدمی یا تم میرے گھر پر موجود ہو، گلاب خان تم بیچ میں مت آنا ہاں تو اب بتاؤ کیا اوقات ہے میری”
افراہیم عدنان کو دیکھتا ہوا بولا

“کیا کر رہے ہیں افراہیم اگر وہ جارہا ہے تو اسے جانے دیں کیو روک رہے ہیں”
نوف ایک دم گھبراتی ہوئی بولی

“تم خاموش رہو” افراہیم نوف کو گھورتا ہوا بولا تو عدنان ایک دم افراہیم کو مارنے کے لیے سے اس کی طرف بڑھا مگر افراہیم پھرتی سے عدنان کا ہاتھ پکڑ کر اس کے منہ پر ایک کے بعد دوسرا پھر تیسرا تھپڑ رسید کرتا چلا گیا۔۔۔ افراہیم نے عدنان کو نہ سنبھلنے کا موقع دیا نہ ہی اپنے اوپر حاوی ہونے کا موقع دیا تھا جابجا منہ پر پڑنے والے تھپڑوں سے عدنان فرش پر گر پڑا

“آئندہ اگر تم نے میرے گھر کا غلطی سے بھی رخ کیا یہ اپنی گندی زبان سے میری بیوی کا نام لیا تو پھر میں تمہاری اوقات نہیں بتاؤں گا بلکہ تمہارا نام و نشان ہمیشہ کے لیے مٹادو گا”
افراہیم فرش پر گرے ہوئے عدنان کو دیکھتا ہوا بولا جو غصے میں اسی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ دس سال پہلے افراہیم نے اسکے گال پر ایک تپھڑ مارا تھا جس کا بدلا وہ اس وقت تو نہیں لے سکا تھا لیکن آج افراہیم نے اس کے منہ پر لاتعداد طماچے مارے تھے عدنان سوچ چکا تھا چاہے کچھ بھی ہوجاۓ اب وہ افراہیم کو نہیں بخشے گا جبکہ نوف ابھی تک اپنی سانس روکے سارا ماجرہ دیکھ رہی تھی

“بھائی کیا ہوا ہے”
بیلا شور کی آواز سن کر ایک دم گھر سے باہر نکل آئی تو افراہیم نوف سمیت عدنان بھی اسے دیکھنے لگا

“کچھ بھی نہیں ہوا ہے فورا اندر جاؤ تم”
افراہیم بیلا سے بولا تو وہ عدنان پر نظر ڈال کر وہ گھر کے اندر چلی گئی عدنان فرش سے اٹھ کر کپڑے جھاڑتا ہوا بیلا کو ہی دیکھ رہا تھا وہ اس لڑکی کو اچھی طرح پہچان گیا تھا

“تمہیں الگ سے کہنا پڑے گا کہ تم بھی اندر جاؤ”
افراہیم نوف کو دیکھتا ہوا بولا مگر نوف کی نظریں عدنان پر تھی جو اپنی جیب سے کچھ نکال رہا تھا

“افراہیم”
نوف عدنان کے ہاتھ میں چاقو کو دیکھ کر خوف سے آنکھیں پھیلاتی ہوئے زور سے چیخی نوف کے چیخنے پر افراہیم نے پلٹ کر عدنان کو دیکھا اس نے عدنان سے اپنا بچاؤ کرنا چاہا مگر عدنان کا وار خالی نہیں گیا تھا


جاری ہے