Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15


جب ڈریسنگ روم کے اندر نوف کو بیٹھے ہوئے دو گھنٹے گزر گئے اور باہر سے اس کو روحیل کی کوئی آواز سنائی نہیں دی تو وہ دل مضبوط کرکے، آیتوں کا ورد کرتی ہوئی ڈریسنگ روم کا دروازہ کھول کر باہر نکلی۔۔۔ سامنے صوفے پر روحیل نشے میں غرق بےسدھ پڑا ہوا تھا۔۔۔ نوف آہستہ سے بیڈروم کا دروازہ کھولنے کے بعد فلیٹ سے باہر نکل گئی اور شکر ادا کرنے لگی کہ اس کی عزت بچ گئی،، فلیٹ سے باہر نکل کر جب وہ سڑک پر آئی تو اچانک ہی بارش شروع ہوچکی ہوگئی جس کی وجہ سے اس کے سارے کپڑے اچھے خاصے بھیگ گئے۔۔۔ وہ پریشان ہونے لگی کہ کسی محفوظ جگہ پر بارش سے بچنے کے لیے ایک جگہ کھڑی ہوجاۓ، تبھی دو لڑکے آپس میں باتیں کرتے ہوئے اس کے قریب آنے لگے،، وہ دونوں ہی نوف کو دیکھ کر اس کی طرف متوجہ ہوچکے تھے کیونکہ رات کے اس پہر اکیلی لڑکی کو دیکھ کر ہر کسی کے دماغ میں بے شمار سوالات ابھرتے۔۔۔ نوف نے ان دونوں لڑکوں کو دیکھ کر گھبراتے ہوئے تیز تیز چلنا شروع کردیا وہ دونوں لڑکے بھی اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگے،، تب نوف کو سامنے ایک بنگلہ دکھائی دیا،، جہاں موجود پہرے دار نے اس کی مدد کی،، کیونکہ وہ ان دونوں لڑکوں کو نوف کا پیچھا کرتے ہوئے دیکھ چکا تھا۔۔۔ نوف کو پریشان دیکھ کر گلاب خان نے نوف کو اپنا موبائل دیا جس سے نوف نے اپنی دوست بسمہ کا نمبر ملایا مگر بسمہ کے منہ سے رخشی کی موت کی خبر سن کر وہ صدمے سے بےہوش ہوچکی تھی،، آج صبح ہی اس کی ماں اسے اکیلا اس دنیا میں چھوڑ کر جاچکی تھی

“امی”
آہستہ آواز میں بولتے ہوئے نوف نے اپنی آنکھیں کھولیں تو خود کو ایک کمرے میں موجود پایا۔۔۔ وہ جلدی سے اٹھ کر بیٹھی ویسے ہی کمرے کا دروازہ کھلا اور اندر آنے والے شخص کو دیکھ کر اس کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئی۔۔۔ یہ وہ چہرہ تھا جسے وہ دوبارہ کبھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی،، لازمی یہ گھر بھی اسی مغرور انسان کا تھا جہاں اس نے چھپنے کے لئے پناہ مانگی تھی

“دو بار چکر لگاکر دیکھ چکا ہوں کہ تمہیں ہوش آیا کہ نہیں”
افراہیم کمرے میں داخل ہوکر دروازہ بند کرتا ہوا بیڈ پر بیٹھی ہوئی اس لڑکی سے بولا جو مسلسل ٹکٹکی باندھ کر اس کو دیکھ رہی تھی، وہ خود بھی صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے پیچھے ٹیک لگاکر بیٹھتا ہوا نوف کو دیکھنے لگا

“کیا؟”
نوف کے مسلسل دیکھنے پر افراہیم اس کو دیکھ کر بولا تو نوف نفی میں سر ہلانے لگی

“اپنے بارے میں اب کچھ بتاؤں گی یا پھر یونہی آنکھیں پھاڑ کر دیکھتی رہو گی مجھے”
افراہیم نوف کے مسلسل دیکھنے پر اس کو ٹوکتا ہوا بولا جس پر نوف نے فورا اپنی نظریں نیچے کرلی تبھی اس کی نظر بیڈ پر پڑے اپنے دوپٹے پر پڑی وہ اپنی بےپرواہی پر ملامت کرتی ہوئی جلدی سے بیڈ پر پڑا ہوا اپنا دوپٹہ پھیلا کر اوڑھنے لگی

“شکر ہے تمہیں اب تم مکمل ہوش و حواس میں آچکی ہو،، تو پھر جلدی سے اپنے بارے میں بتاؤ مجھے”
نوف کے دوپٹہ لینے پر وہ طنز کرتا ہوا بولا اور دوبارہ نوف سے اس کے بارے میں پوچھنے لگا

“کیا آپ جانتے نہیں ہیں مجھے”
نوف آئستہ آواز میں ہمیشہ کی طرح سر جھکاۓ اس کے سامنے بولی

“کیو تم کسی منسٹر کی اولاد لگی ہو جو میں تمہیں پہلے سے جانتا ہوگا”
افراہیم اس کے سکون سے بولنے پر دوبارہ طنز کرتا ہوا پوچھنے لگا تو نوف پلکیں اٹھا کر اس مغرور اور بدتمیز انسان کو دیکھنے لگی۔۔۔ جو بالکل بھی عادتا اور شکلا اور مزاجا نہیں بدلا تھا مگر وہ افراہیم کی آنکھوں میں اپنے لیے اجنبیت دیکھ کر سمجھ چکی تھی وہ مغرور انسان اس کو نہیں پہچان پایا تھا۔۔۔ ویسے بھی وہ اور اس کا خاندان اس مغرور انسان کے سامنے حقیر اور فقیر ہی تھے جنھیں یہ بڑے لوگ مشکل سے اپنی یاداشت میں محفوظ رکھ سکتے تھے۔۔ مگر نوف کو اپنے منہ پر پڑنے والے تپھڑ آج بھی یاد تھے جو اس بےحس اور سنگ دل انسان نے اس کے منہ پر لگاۓ تھے،، جن کے نشانات چار دنوں تک اس کے چہرے سے نہیں مٹے تھے

“کیا جاننا چاہتے ہیں آپ میرے بارے میں پوچھیں”
نوف آئستہ آواز میں افراہیم کو دیکھتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی

“نام کیا ہے تمہارا”
افراہیم غور سے نوف کا چہرہ دیکھتا ہوا اس سے اس کا نام پوچھتا ہوا سوچنے لگا۔۔۔ یہ لڑکی بھلا کون ہوسکتی تھی جسے اس کا ذہن چاہنے کے باوجود نہ تو صحیح سے یاد کر پارہا تھا نہ ہی اس کا چہرہ بھلا پارہا تھا

“یمنہ”
نوف کو پہلے بھی اندازہ تھا کہ وہ اس کا اصلی نام بھی شاید ہی جانتا ہو کیونکہ اس نے کبھی نوف سے اس کا نام پوچھا ہی نہیں تھا،، نوف پہلے دن سے اس مغرور انسان کے لیے “اے لڑکی” رہی تھی۔۔۔ ایک عام سی حقیقر سی لڑکی

“یمنہ یمنہ یمنہ۔۔۔ نہیں ایسا تو کوئی نام یاد نہیں آرہا مجھے”
افراہیم اپنے ذہن پر زور ڈالتا ہوا اس کا بتایا ہوا نام بار بار دہراتا ہوا نوف کو یاد کرنے کی کوشش کرنے لگا اور نوف چپ چاپ افراہیم کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ وہ اس کو اپنی صحیح پہچان نہیں بتانا چاہتی تھی اچھا ہی تھا کہ یہ مغرور شخص اس کو پہچان نہیں پارہا تھا اگر جان جاتا تو شاید اب کی بار اس کی جان لے لیتا۔۔ نوف نہیں چاہتی تھی ایک بار پھر افراہیم اس کا برا حشر کرے یا اس کے بھائی کو قصور وار ٹھہرا کر ازلان کی سزا اس کو دے

“کیا ہم دونوں پہلے بھی کبھی ملے ہیں یمنہ”
افراہیم اپنی الجھن دور کرنے کے لیے نوف سے خود پوچھنے لگا

“گھسا پٹا طریقہ ہے یہ جان پہچان بڑھانے کا”
نوف بہت آرام سے افراہیم کو سلگاتی ہوئی بیڈ سے اٹھی

“اے سمجھ کیا رکھا ہے تم نے مجھے،، شکل سے میں تمہیں کوئی لوفر نظر آرہا ہوں جو تم سے جان پہچان بنانے کے لیے بہانے تلاشو گا،، بس اوپر والا اچھی شکل کیا دے دیتا ہے تم جیسی لڑکیاں خود کو حور پری تصور کرنے لگتی ہو، آسمان سے نیچے اتر آؤ اور میں تمہیں یاد دلاتا چلو تم اس وقت میرے گھر کی چھت کے نیچے کھڑی ہو، ساری ہمدردی ایک سائیڈ میں رکھ کر دھکے دے کر باہر کرو گا ابھی”
افراہیم خود بھی غصے میں بولتا ہوا صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا،، اب وہ لعنت بھیج چکا تھا اپنی یاداشت پر۔۔۔۔ نوف افسوس سے اسے دیکھنے لگی وہ ہمیشہ سے ہی اس کا نازک دل دکھاتا آیا تھا ابھی بھی افراہیم کے الفاظ اس کو تکلیف دے گئے تھے نوف چند سیکنڈ خاموش کھڑی اس کو دیکھتی رہی پھر بولی

“مجھے اپنی شکل پر غرور کبھی بھی نہیں رہا یہ اچھی شکل کا نتیجہ ہے جو میں در در بھٹک رہی ہوں، اسی شکل کی بدولت اپنے اوپر اٹھنے والی گندی نظروں سے بچنے کے لئے، اپنی عزت بچانے کی خاطر میں اس دوراہے پر کھڑی ہو کہ میرے اپنے مجھ سے بچھڑ گئے ہیں۔۔۔ آپ نے مجھے اپنے اس بڑے سے عالیشان گھر میں چند گھنٹے کے لئے پناہ دی میں آپ کی احسان مند رہوں گی اب چلتی ہوں”
نوف افراہیم سے بولتی ہوئے دروازے کی طرف بڑھنے لگی تب افراہیم کی آواز نے اس کے قدم روک لئے

“وہی رک جاؤ خبردار جو تم نے دروازہ کھولا چپ کر کے یہاں کاؤچ پر بیٹھو”
افراہیم کی روعب دار آواز پر نوف پلٹ کر حیرت سے اس کو دیکھنے لگی جو ماتھے پر بل لئے اسی کو حکم دے رہا تھا جوکہ اس کی پرانی عادت تھی اور دس سالوں میں بھی یہ عادت نہیں بدلی تھی

“کیا بکواس کررہا ہوں میں جاکر کاؤچ پر بیٹھو”
نوف کے دیکھنے پر افراہیم اس کے قریب آتا وہ دوبارہ روعب دار لہجے میں بولا تو وہ چپ چاپ صوفے پر بیٹھ گئی

“میں تمہاری پوری کہانی تمہارے منہ زبانی سننا چاہوں گا اس کے بعد تم یہاں سے جاسکتی ہو”
افراہیم صوفے پر بیٹھی ہوئی لڑکی کو دیکھ کر بولا جس کے بارے میں وہ کل رات موبائل کال والی لڑکی سے تھوڑا بہت پہلے ہی جان چکا تھا

“گھسی پٹی کہانی لگے گی آپ کو، شاید ہی یقین کریں آپ میری بات کا”
نوف سر جھکائے افراہیم سے بولی

“میں تمہارے بولنے کا انتظار کررہا ہوں شروع ہوجاؤ”
افراہیم دیوار سے ٹیک لگائے نوف کے جھکے ہوئے سر کو دیکھ کر دوبارہ بولا

“میرا چچاذاد مجھ سے بچپن سے ہی منسوب تھا، ابو جی کے انتقال کے بعد امی اور مجھے انہی کے گھر پر رہنا پڑا مگر چند دنوں پہلے اس نے مجھ سے زبردستی کرنی چاہی۔۔۔ میں اپنی عزت بچانے کی خاطر گھر چھوڑ کر بھاگ نکلی تو پیچھے میری امی یہ دنیا چھوڑ کر چلی گئی”
نوف نے ازلان کا ذکر بالکل فراموش کرتے ہوئے افراہیم کو اصل حقیقت بتائی مگر ایک بار پھر وہ رخشی کو یاد کرکے آخر میں رو پڑی تو افرائیم اس کو خاموشی سے روتا ہوا دیکھنے لگا پھر چلتا ہوا اس کے پاس آیا اور میز پر رکھے ہوئے ٹشو باکس سے ٹشو نکال کر افراہیم نے نوف کی طرف بڑھائے۔۔۔۔ نوف افراہیم سے ٹشو لیتی ہوئی نم آنکھوں سے افراہیم کو دیکھنے لگی کوئی دھندلا سا منظر ایک دم اس کے ذہن پر حملہ آور ہوا

“یخ،، اسٹوپڈ گرل،، اپنے کپڑوں سے کون نوز صاف کرتا ہے عجیب گنوار اور مینرلیس ہوتے ہو تم لوگ یہ ٹشو پکڑو”
نوف اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی اس کے بولے ہوئے جملے یاد کررہی تھی جبکہ افرائیم روتی ہوئی اس لڑکی کو آنسو صاف کرتا ہوا غور سے دیکھ رہا تھا نہ جانے کیوں وہ لڑکی پل بھر میں ہی افراہیم کے دل میں نرم گوشہ پیدا کرنے میں کامیاب ہوچکی تھی

“بھائی کہا ہوتا ہے تمہارا”
افراہیم نوف کا چہرہ دیکھتا ہو اس سے اگلا سوال کرنے لگا جس پر پہلے نوف ٹٹکی، پھر بغیر گھبراۓ بولی

“وہ پاکستان میں نہیں ہوتے ہیں اور مسئلہ یہ ہے کہ مجھے ان کا نمبر زبانی یاد نہیں ہے لیکن مجھے پورا یقین ہے بھائی مجھے کیسے بھی ہو، کسی بھی طرح ڈھونڈ لیں گے وہ جلد پتہ لگالیں گے میرا، آپ کی مہربانی ہوگی اگر آپ مجھے دارلامان بھجوا دیں میں یہاں کے راستوں سے لاعلم ہوں”
مجبوری ہی تھی جو نوف کو اس سے مدد لینا پڑی تھی نہ جانے اب وہ اس کی مزید مدد کرتا یا پھر اس کی بات کو نظرانداز کردیتا، مگر وہ اب کسی محفوظ جگہ پر پہنچنا چاہتی تھی جہاں اس کی عزت کو کوئی خطرہ نہ ہو

“جاب کرنا چاہو گی یہی اس گھر میں رہ کر”
افراہیم نوف کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا جس پر وہ کنفیوز ہوکر اسے دیکھنے لگی،، اس کی کنفیوژن دور کرنے کے لیے افراہیم دوبارہ بولا

“بابا کی ڈیتھ کے بعد اب میری مدر کافی بیمار رہنے لگی ہیں، میں ان کے لیے ایک ایسی لیڈی کا ایڈ دینے والا تھا جو میری مدر کی پراپر اور اچھے طریقے سے دیکھ بھال کرسکتی ہو۔۔۔ اگر تمہیں لگتا ہت تم مما کی اچھی طرح دیکھ بھال کرلو گی تو میں تمہیں اس کام کی اچھی سیلری بھی دونگا اور تم یہاں بغیر کسی پریشانی کے آرام سے رہ سکتی ہو لیکن اپنے کام سے لاپرواہی برتنے والوں کو میں ہرگز پسند نہیں کرتا۔۔ اگر تم اس جاب میں انٹرسٹڈ ہو تو میں تمہیں اپنی مما سے ملوا دیتا ہوں ورنہ میرا ڈرائیور تمہیں کسی دارالامان یا جہاں تم کہو گی وہی چھوڑ آئے گا”
افراہیم نے اس کے سامنے چوائس رکھی اور خاموشی سے اس کے جواب کا انتظار کرنے لگا۔۔ نوف تھوڑی دیر سوچنے کے بعد بولی

“میں آپ کی مدر سے ملنا چاہوں گی”
نوف کو نہیں معلوم تھا جو اس نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ کتنا ٹھیک ہے۔۔۔ اسے یہاں رہنا چاہیے تھا کہ نہیں مگر وہ فیصلہ لے چکی تھی،، افراہیم اس کی بات پر سر کو ہلکا سا خم کرتا ہوا کمرے سے باہر نکلنے لگا تو نوف بھی اس کے پیچھے چل دی


بیدار ہونے کے بعد وہ کافی دیر تک بیڈ پر لیٹی رہی اس کو معلوم نہیں تھا کہ کل رات عون سے بات کرتے کرتے کب اس کی آنکھ لگ گئی،،، اب وہ رات والی ساری باتوں کو یاد کر کے افسوس کررہی تھی وہ نہ جانے عون سے اپنے ڈر کی کیفیت میں کیا کچھ کہہ چکی تھی، نہ جانے عون اس کے بارے میں کیا سوچ رہا ہوگا موبائل کی رنگ ٹون بجنے پر بیلا موبائل کی طرف متوجہ ہوئی آگے ہاتھ بڑھا کر اس نے سائیڈ ٹیبل سے اپنا موبائل اٹھایا

“کل رات کو تمہیں میری ضرورت پڑی مگر تمہیں اندازہ ہی نہیں ہوا کیسے میں تمہیں اپنی ضرورت بنا گیا۔۔۔ کل رات میں خود کو بہت تنہا محسوس کررہا تھا،، تمہاری موجودگی کے احساس نے میرے اکیلے پن کو دور کردیا۔۔۔ کل رات اگر تم میری تنہائی کی ساتھی نہیں بنتی تو نہ جانے میں اپنے ساتھ کیا کر بیٹھتا۔۔۔ بیلا میں چاہتا ہوں مجھے جب تمہاری ضرورت پڑے تم بالکل کل رات کی طرح مجھ سے جڑی رہو،، مجھ سے ڈھیروں باتیں کرو۔۔۔ کیا میں بھی تمہیں اپنی ضرورت کے وقت یاد کرسکتا ہوں”
عون کی آواز اس کو موبائل میں سنائی دی بیلا کو محسوس ہوا شاید وہ اب بھی اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے بیلا سے بات کررہا تھا مگر وہ ایسا نہیں کرسکتی وہ بھلا کیسے کسی کی ضرورت بن سکتی تھی

“نہیں تمہیں ایسا کوئی حق حاصل نہیں ہے،، آج کے بعد مجھے دوبارہ کبھی کال کرنا کی یا مجھ سے کانٹیکٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ میری اور تمہاری ضرورتوں کا سفر یہی تک تھا امید ہے اب تم مجھے دوبارہ کال کرکے پریشان نہیں کرو گے”
بیلا عون سے بولتی ہوئی کال رکھ چکی تھی اس طرح باتوں کا طویل سلسلہ شروع کرکے وہ اسے آہستہ آہستہ اپنا عادی بنارہا تھا اور بیلا نہیں چاہتی کہ وہ عون کی یا پھر کسی دوسرے کی عادی بنے۔۔۔ وہ اپنے دل کے بند دروازے کسی دوسرے کے لیے نہیں کھول سکتی تھی،، نہ ہی کسی دوسرے کو اپنے اندر جھانکنے کی اجازت دے سکتی تھی وہ جس کو دل میں بساۓ بیٹھی تھی،، زندگی میں اس سے دوبارہ ملنا شاید ممکن نہیں تھا،، لیکن اس نے سوچ لیا تھا وہ اب کبھی بھی عون سے بات نہیں کرے گی چاہے کچھ بھی ہوجاۓ۔۔۔ کل تک اس کا یونیورسٹی جانے کا ارادہ تھا لیکن اس وقت اس کی طبعیت پر عجیب بےزاری کی کیفیت طاری ہوچکی تھی وہ اپنے کمرے سے باہر نکلنے کا بھی ارادہ ملتوی کرکے بیڈ پر لیٹی رہی


ہفتہ بھر گزر چکا تھا اسے افراہیم کے گھر رہ کر جاب کرتے ہوۓ۔۔۔ وہ افراہیم کو شکایت کا موقع دیے بغیر نازنین کا بہت اچھے طریقے سے خیال رکھ رہی تھی اس کے کھانے پینے سے لےکر نازنین کو مقرر وقت پر اس کی میڈیسن دینا،، ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق تھراپی کروانے سے لےکر اس کے کپڑے اپنے سامنے پریس کروانا۔۔۔ وہ ہر کام نازنین کے یا کسی دوسرے کے بولنے سے پہلے خود کرلیتی

نوف کو اچھی طرح اندازہ تھا کہ نازنین یا بیلا میں سے کوئی بھی اس کو پہچان نہیں سکتی کیونکہ ان دونوں نے نوف کو پہلے نہیں دیکھا تھا وہ الگ بات تھی جس نے دیکھا بھی تھا وہ اس کے ذہن میں بھی محفوظ نہیں تھی،، نوف کی بیلا سے اسی دن ملاقات ہوچکی تھی۔۔۔۔ وہ نوف کو اپنے آپ میں رہنے والی لڑکی لگی تھی نوف سے وہ اچھے طریقے سے ملی تھی۔۔۔ نہ جانے کیوں بیلا نے اس کے بھائی کو اپنا مجرم ٹھہرایا تھا وہ چاہ کر بھی بیلا سے یہ سوال نہیں پوچھ سکتی تھی اور نازنین کے اخلاق کی تعاریفیں تو بچپن میں وہ رخشی اور ازلان دونوں کے منہ سے سنتی آئی تھی بلکہ اس نے جتنا کچھ سنا تھا نازنین کو اس سے بڑھ کر پایا تھا وہ نوف کو بہت اچھی اور بااخلاق خاتون لگی تھی

“یمنہ بیٹا تم بھی ہمارے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کرو ناں،، میں نے کل بھی تم سے کہا تھا”
صبح ناشتے کے وقت جب نوف کارن فلیکس سے بھرا باؤل نازنین کے سامنے رکھ رہی تھی تب روز معمول کی طرح نازنین نوف سے بولی تو میز پر موجود بیلا اور افراہیم کی نظریں نوف پر گئی

“آنٹی مجھے بہت جلدی ناشتہ کرنے کی عادت نہیں ہے آپ آرام سے ناشتہ کریں میں تھوڑی دیر بعد ناشتہ کرلوں گی”
نوف ایک نظر افراہیم پر ڈال کر نازنین کو خوبصورتی سے ٹالتی ہوئی بولی وہ اپنی حیثیت اچھی طرح جانتی تھی وہ ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ وہ اچھی طرح جانتی تھی نازنین کا اسے ناشتے کا کہنا، خود اس کے بیٹے کو اپنی ماں کی یہ بات بالکل پسند نہیں آئی ہوگی جبھی وہ خاموش نظروں سے نازنین کو بنا کچھ بولے صرف دیکھ رہا تھا نوف کو وہاں سے کچن کا رخ کرنا مناسب لگا

“تم مجھے ایسے کیوں گھور رہے ہو”
نوف کے جانے کے بعد نازنین افراہیم کے گھورنے پر اس کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی تو بیلا بھی افراہیم کو دیکھنے لگی

“کیا ضرورت ہے آپ کو اس سے روز روز ناشتے اور کھانے پر دعوت دینے کی” افراہیم چڑ کر نازنین سے پوچھنے لگا یہ یمنہ نام کی لڑکی تو اس کو اچھی خاصی مغرور سی محسوس ہورہی تھی جو اس کے سامنے بہت لیے دیے انداز میں رہتی تھی، نہ ہی وہ افراہیم سے زیادہ بات کرتی تھی بلکہ افراہیم نے اس کو ہنستے مسکراتے بھی نہیں دیکھا تھا اور افراہیم نے یہ بھی محسوس کیا جہاں وہ موجود ہوتا یہ لڑکی وہاں سے غائب ہوجاتی۔۔۔ نازنین روز ہی اسے ناشتے اور کھانے کے وقت بلاتی تو وہ کوئی نہ کوئی بہانہ بناکر منع کر دیتی۔۔۔ ہفتے بھر میں اس نے خود سے افراہیم کو صرف ایک بار مخاطب کیا تھا وہ بھی نازنین کے کسی کام سے،، جب شام میں یا رات میں افراہیم نازنین کے کمرے میں جاتا تو وہ کمرے سے باہر نکل جاتی

“ایسا کیا ہوگیا اگر میں نے اس سے کھانے کا پوچھ لیا وہ بچی میرا کتنا خیال رکھتی ہے رات کو سونے سے پہلے، اپنے کمرے میں جانے سے پہلے میری سلیپرز تک اس ڈائریکشن میں رکھتی ہے کہ اگر میں صبح اٹھو تو مجھے سلیپرز پہننے کے لیے دشواری نہ ہو”
نازنین ابھی نوف کی اور بھی خصوصیات گنواتی مگر اس سے پہلے افراہیم بول اٹھا

“مفت میں نہیں کررہی ہے وہ یہ سب سیلری دوں گا میں اس کو ان سب کاموں کی”
افراہیم کو اندازہ نہیں ہوا تھا اس کی باتیں سے کچن میں کھڑی نوف کو اپنا آپ اور زیادہ چھوٹا محسوس ہورہا تھا نوف کچن کے دوسرے دروازے سے اپنے کمرے میں چلی گئی

“بھائی میں نے بھی نوٹ کیا ہے وہ مما کا خیال رکھنے کے علاوہ ان کے بہت سے چھوٹے موٹے کام بنا کسی کے بولے کردیا کرتی ہے، دیکھا جائے تو یمنہ ایک اچھی لڑکی ہے”
بیلا نے جو محسوس کیا وہ افراہیم کو بتانے لگی

“نوٹ تو میں بھی بہت کچھ کررہا ہوں تم نے یونیورسٹی جانا کیوں بند کیا ہوا ہے ایک ہفتے سے”
افراہیم الٹا بیلا کو دیکھ کر اس سے پوچھنے لگا۔۔۔ عمیر نے نہ جانے کس وجہ سے پرپوزل کے لیے منع کردیا تھا افراہیم نہیں جانتا تھا بیلا اور عمیر کی آپس میں کیا بات ہوئی تھی یا پھر عمیر نے ایسا بیلا کے کہنے پر کیا تھا

“کل سے دوبارہ جانا اسٹارٹ کرو گی بھائی”
بیلا بےدلی سے ناشتہ کرتی ہوئی افراہیم سے بولی پورا ہفتہ گزر گیا تھا بیلا کے منع کرنے کے بعد عون نے بھی اس کو کال نہیں کی تھی جو کچھ ہوا تھا شاید اچھا ہی ہوا تھا بیلا ناشتہ کرتی ہوئی سوچنے لگی، تب افراہیم اس کو دیکھ کر بولا

“بیلا مجھے کل یونیورسٹی کا دوبارہ نہ بولنا پڑے تم کل سے یونیورسٹی جارہی ہو سمجھ آرہی ہے تمہیں میری بات”
افراہیم بیلا کے جھکے ہوئے سر کو دیکھ کر بولا وہ نہیں چاہتا تھا بیلا یونیورسٹی جانا چھوڑ دے اور دوبارہ سے اپنے کمرے میں قید ہوکر رہ جائے بیلا نے افراہیم کی بات پر اثبات میں سر ہلایا او ناشتہ کرنے لگی

“اب آپ کو کیا ہو گیا ہے جو ایسے دیکھ رہی ہیں مجھے”
اپنے اوپر نازنین کی نظریں محسوس کرکے افراہیم نازنین سے پوچھنے لگا

“ایک ہفتہ ہے تمہارے پاس،، اس ایک ہفتے میں تم مجھ سے اس لڑکی سے ملواؤ گے جس سے تم شادی کرنا چاہتے ہو۔۔۔ نہیں تو ایک ہفتے بعد میں خود اپنی پسند کی لڑکی سے تمہاری شادی کروا دوں گی”
نازنین کی بات سن کر افراہیم سمیت بیلا بھی نازنین کو دیکھنے لگی


جاری ہے