Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2(Episode 29,30)

Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan

کنول کی گاڑی کے سامنے اچانک سے کوٸ عورت آگٸ۔

اور وہ اس کی گاڑی سے ٹکراٸ۔ کنول نے بمشکل گاڑی کو بریک لگایا۔ اور گاڑی سے نیچے اتری وہ عورت نیچے گری۔ اوندھے منہ پڑی تھی۔

کنول نے دہلتے دل سے اسے سیدھا کیا۔ لیکن سامنے عورت کے روپ میں مرد کو یکھ اس کے اوسان خطا ہوۓ۔

اس سے پہلے کہ کنول اپنا بچاٶ کرتی اس شخص نے کنول۔کو کلوروفارم سنگھایا۔ کنول اپنے حواس کھوتی وہیں گری تھی ۔

اس شخص نے اسے اٹھایا۔ اور ایک طرف کو نکل گیا۔

کنول کی گاڑی وہیں رہ گٸ۔

جب کہ کنول ایک بہت بڑی مصیبت میں پھنس گٸ تھی۔

⭕
⭕
⭕
⭕
⭕
⭕
⭕
⭕
⭕
⭕

وہ سب شام گۓ گھر واپس لوٹے تھے۔

اور بہت تھک چکے تھے۔

خان صاحب کھانا لگاٶں۔۔؟ ناجیہ کی آمد پے آفتاب خان نے پلٹ کے انہیں دیکھا۔

نہیں۔۔ سب کھا کے آۓ ہیں۔ آپ۔۔ بچوں کو سونے سے پہلے دودھ دیجیے گا۔۔ اور مجھے کای بجھوا دیں۔

خان نے شرٹ کے کف لنکس کھولتے مصروف انداز میں جواب دیا۔

جب کہ ناجیہ وہاں سے جانے کی بجاۓ وہیں اضطرابی کیفیت میں گھری کھڑی رہی۔

کیا ہوا۔۔؟؟ کچھ کہنا ہے آپ کو۔۔؟؟ خان نے اندازہ لگا لیا۔

جی۔۔ خان صاحب۔۔! وہ۔۔۔ کنول بی بی۔۔ ابھی تک گھر نہیں لوٹیں۔ پریشانی سے کہا۔

کیا مطلب۔۔؟؟ ابھی تک۔۔؟؟ کیوں۔۔؟؟ آفتاب ایک دم سے پریشان ہوا۔

اس کے گھر سے نکلنے۔۔ اور خان حویلی جانے اور وہاں سے نکلنے تک کی اس کے پاس ساری رپورٹ تھی۔ تو پھر وہ گھر کیسے نہیں پہنچی تھی۔۔؟

فون اٹھاتا وہ کنول کے نمبر پے کال کرنے لگا۔ کال جا رہی تھی۔ لیکن کوٸ بھی پک نہیں کر رہا تھا۔

ایک بار دو بار۔۔؟ لیکن۔۔ کسی نے بھی نہیں اٹھاٸ۔

لب بھینچے جبار کو کال ملاٸ۔ اور اسے کنول کے بارے میں پتہ کرنے کو بولا۔

آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا۔ کہ وہ گھر نہیں پہنچی۔۔؟ آفتاب ان پے بگڑا تھا۔

خان صاحب۔۔۔۔۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ جلدی آجاٸیں گیں۔ اور پھر آپ کا انتظار کرتی رہی۔۔ کہ آپ آٸیں تو۔۔؟؟ ناجیہ نے صفاٸ دینی چاہی۔

آپ مجھے فون کر سکتی تھیں۔۔۔؟؟ خان مطمین نہ ہوا۔

اسی لمحے جبار کی کال آٸ۔ جسے وہ عجلت بھرے انداز میں پک کر گیا۔

کیا ہوا۔۔؟؟ پتہ چلا۔۔؟؟

آپ کو اک لوکیشن سینڈ کر رہا ہوں۔

یہاں فوراً پہنچیں۔ جبار کی پریشان کن آواز کانوں سے ٹکراٸ۔ تو آفتاب کا دل دھڑکا۔

کال بند ہوٸ لوکیشن سینڈ ہوٸ۔

وہ فوراًسے بیشت گاڑ کی چابیاں اٹھاتا باہر بھاگنے والے انداز میں نکلا تھا۔ اور روڈ کو اس روڈ پے ڈلا تھا۔ جہاں پہنچتے ہی اے ایک بہت بڑی خبر ملنی تھی۔

⭕
⭕
⭕
⭕
⭕
⭕
⭕
⭕
⭕

مبارک ہو۔۔۔ آپریشن کامیاب ہوا۔

اب آپ اللہ سے دعا کریں۔۔ کہ وہ باقی کی مشکلیں آسان کرے۔

ڈاکٹر زبیر نے کاظم کے کاندھے پے تھکی دیتے کہا۔ تو وہ ایک پرسکون گہرا سانس خارج کر گیا۔

اے اللہ تیرا شکر ہے۔۔۔! بے اختیار اوپر کی جانب دیکھا۔

کیا میں ۔۔ کومل سے مل سکتا ہوں۔۔؟۔۔؟؟ اس نے بے چینی سے پوچھا۔ ابھی وہ انڈر ابزرویشن ہیں۔ جیسے ہی ہوش آتا ہے آپ مل لیجیے گا۔

ڈاکٹر کہتے ہوۓ جا چکا تھا۔ جب کہ کاظم نے فون کر کے شہیر کا شکریہ ادا کیا تھا۔ یہ سب اسی کی وجہ سے ممکن ہوا تھا۔ اسی نے اس کی ہیلپ کی تھی۔

اب کومل دنییا کو دیکھ سکے گی۔ اس سے یادہ کاظم کے لیے خوشی کی اور کیا بات ہو سکتی تھی ۔

⭕
⭕
⭕
⭕
⭕
⭕
⭕
⭕
⭕

تم یہاں۔۔؟؟ کیا کر رہی ہو۔۔؟؟ انا نے کوکو کو اپنے گھر دیکھا تو بری طرح اپ سیٹ ہوٸ۔

ملنے آٸ تھی شہیر سے۔۔۔! اور۔۔ تم سے بھی۔۔۔! اسکے لہجے میں شکست تھی۔

کیوں۔۔؟؟ ہم سے ایسا کیا تعلق ہے تمہرا۔ جو ہم سے ملنے آٸ ہو۔۔؟

انا آج مہمان نوازی بھی بھولی ہوٸ تھی۔

کیا ہو گیا ہے انا آپی۔۔؟ انہیں اندر تو آنے دیں۔

دروازے کے پاس کھڑے ہی عابی نے لقمہ دیا۔

عابی تم چپ رہو۔۔۔ اور اندر جاٶ۔۔ تمہارا کوٸ لینا دینا نہیں۔۔ اس سب سے۔۔۔! انابیہ نے عابی کو بھی جھڑک دیا۔ وہ انابیہ پے ایک شاکی نظر ڈالتی اندر چلی گٸ۔

اب تم بی یہاں سے چلتی پھرتی نظر آٶ۔ انابیہ نے کوکو کی جانب مڑتے اسے کھری کھری سنا دی۔ جار رہی ہوں۔۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔۔ ! اس کی آنکھوں میں آنسو آۓ تھے۔ ایک پل کو انابیہ کاا دل پسیجا۔

لیکن ۔۔ ایک بات یاد رکھنا۔۔ یہ مت سوچنا۔۔ کہ میں ہار مان کے جا رہی ہوں۔

تمہارا شوہر۔۔ میرے جانے کے بعد خود آۓ گا میرے پاس۔۔ یاد رکھنا۔۔۔ کوکو کا انداز چیلنجنگ تھا۔

اچھا۔؟ انابیہ نے اچھا کو کافی لمبا کیا۔

ھر وہ تمہارے مزار پے پھول چڑھانے ہی آۓ گا۔

انابیہ نے طنزاً کہا۔ کہ کوکو نے لب بھینچے۔

وہ میرے ساتھ نکاح کے لیے آۓ گا۔ اور مجھ سے نکاح کرے گا۔ سمجھی تم۔۔! کوکو نے بھی اسی کے انداز میں جواب دیا۔ تو انابیہ نے اسے نفرت سے دیکھتے دروازہ اسکے منہ پے بند کیا۔

اباگلا قدم ۔۔ کوکو کا تھا۔۔ جو اس نے پلان کیا تھا۔ اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کا۔

⭕
⭕
⭕
⭕
⭕
⭕

آفتاب اس لوکیشن پے پہنچ گیا تھا ۔ جس کا ایڈریس جبار نے بھیجا تھا۔

وہاں اس کی بلیک کرولا کھڑی تھی۔

لیکن وہ خالی تھی۔ کہیں بھی کنول کا نام و نشان نہ تھا۔ پوری گاڑی چھان ماری ہے۔۔ لیکن وہ کہیں نہیں اردگرد کا علاقہ بھی دیکھ لیا ۔۔۔ لیکن وہ کہیں نہیں ملیں۔ جبار کی پریشان کن آواز کانوں سے ٹکراٸ۔

ایسے کیسے۔۔؟؟ کیوں لاپرواہی کی آپ نے۔۔؟ پفتاب غصہ سے آپے سے باہر ہو رہا تھا۔ اس کا بس ہیں چل رہا تھا۔ جبار کو ہی گولی سے اڑا دے۔

خان ۔۔۔ وہ خان حویلی سے نکلیں تھیں۔ صحیح سلامت۔۔۔ ! پھر نجانے کیسے۔۔؟؟

جبار کو بھی پریشانی لاحق ہوٸ۔

کہیں۔۔ وہ اسد چیمہ۔۔؟إ

جبار کے کہنے کی دیر تھی۔ آفتاب کے اندر جیسے کسی نے لاوا انڈیل دیا ہو۔

اگر اس کی یہ حرکت ہوٸ ۔۔ تو خان اسے ایسی دنیا دکھاۓ گا۔۔۔ کہ اس کی سات نسلیں یاد رکھیں گیں۔ کہ خان کی بیوی کو دوبارہ وہ دیجھنے کی بھی جرات نہیں کرے گا۔

شیر کی طرح غراتا وہ اپنی گاڑی کی جانب بڑھا۔ جب کہ جبار نے تھوک نگل کے حلق تر کیا۔

نجنے آگے کیا ہونے والا تھا۔ لیکن وہ اتنا جانتا تھا۔ خان۔۔ اس اسد چیمہ کو نہیں چھوڑنے والا تھا۔

❤
❤
❤
⭕
⭕
⭕
⭕
⭕

کنول کو ہوش آیا تو خود کو ایک چیٸر پے رسیوں میں جکڑے ہوۓ پایا اس کا سر بری طرح چکرا رہا تھا۔

میں۔۔ کہاں ہوں۔۔؟؟ اس نے آنکھیں کھولتے اس نے یاد کرنے کی کوشش کی۔

حواس جاگے تو اسے سب یاد آنے لگا۔

آنکھوں میں پانی بھر گیا۔ ۔

میں۔۔ کڈنیپ ہوٸ ہوں۔۔؟ اس نے خود سے سوال کیا۔ جس کا جواب ہاں میں ہی تھا۔

خود پے قابو کھوتے وہ خود کو رسیوں سے چھڑوانے لگی۔ لیکن رسیوں کی پکڑ بہت ہی مضبوط تھی۔

اس کھینچا تانی میں وہ اپنی کلاٸیاں زخمی کر چکی تھی۔

میں۔۔ یہاں کیسے۔۔۔ پہنچی۔۔؟؟ اب وہ رو دینے کو تھی۔ اسے اپنے اوپر ترس سا آیا۔ اور غصہ بھی۔ وہ کیوں بنا ڈراٸیور کے گھر سے نکلی تھی۔ نجانے۔۔ کتنا وقت ہو گیا تھا۔اسے گھر سے نکلے ہوٸے۔۔؟؟ خان۔۔؟؟ کیا ۔۔خان کو پتہ چلا ہوگا۔۔؟

وہ خود سے ہی سوال کرتے بری طرح ٹوٹ رہی تھی۔

وہ تو یہی سمجھتے ہوں گے۔۔۔ میں پھر گھر سے فرار ہو گٸ۔۔۔!وہ ہچکیوں سے رو دی۔

وہ تو مجھے ڈھونڈیں گے بھی نہیں۔

اس بات کو سوچتے اس نے سختی سے آنکھیں بند کیں۔

نہیں۔۔ مجھے رونا نہیں۔۔ میں اپنی مدد خود کروں گی۔۔ اور اللہ ہے ناں۔۔ میری مدد کرنے کے لیے۔۔۔!

اس نے لرزتے ہوۓ اوپر کی جانب دیکھا۔ اللہ سے فریاد لگاٸ۔ اور ہچکیوں سے روتے ہوۓ پھر سے خود کو آزاد کرنے کی ناکام کوشش کی۔

تھک ہار کے وہ یونہی بیٹھی رہ گٸ۔

ان رسیوں کو کھولنا اس کے بس میں نہ تھا۔

اسے انتظار کرنا تھا۔ اس انسان کا جس نے اسے یہاں قید کیا تھا۔

تب تک اسے یونہی بیٹھے رہنا تھا۔

⭕
⭕
⭕
⭕
⭕
⭕
⭕
⭕

ایک فون کال ۔۔۔

کام ہو گیا۔۔ !

وہیں اس کے چہرے پے آٸ مسکان ۔۔

او گہرا سانس خارج کرتی وہ صوفے پے ڈھے سی گٸ۔

فاٸنلی۔۔ تم اب میرے اور خان کے بیچ سے نکل گٸ۔۔ مس کنول۔۔۔!

اب خان کو میرا ہونے سے کوٸ نہیں روک سکتا۔۔۔

خود خان بھی نہیں۔۔

سفیہ اپنے شیطانی دماغ کو چلاتی بنا انجام کی پرواہ کیے وہ بہت بڑی سازش کھیل چکی تھی۔

اور اس کے ساتھ آگے کیا کیا ہو سکتا تھا۔ وہ بے خبر تھی۔ اتنا بڑا خطرہ مول لے لیا تھا۔ اس نے۔ اس بات سے انجان۔۔ کہ جب خان کو پتہ چلے گا۔ تو و اس کے ساتھ کیا کرے گا۔

بھلے وہ کنول کو معاف نہیں کر پا رہا تھا۔ لیکن کنول میں اس کی جان بستی تھی۔اور اسے تکیلف دینے کا تو وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔

اور اگر کوٸ اور تکلیف دیتا تو ۔۔ اس کا کیا حال کرتا۔۔۔؟؟ سفیہ ۔۔ اپنے ساتھ اس بار بہت برا کر چکی تھی۔ اور بہت جلد وہ اپنے کھودے ہوۓ کھڈے میں گرنے والی تھی۔ اور وہ بھی بہت بری طرح۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *