Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan NovelR50506 Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 27)
Rate this Novel
Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 27)
Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan
سوچ لو۔۔۔؟؟ اگر جڑواں بچے ہوگۓ تو۔۔ پھر۔۔؟؟
شامی نے اسے پھر سے جتایا۔
کیا مطلب۔۔؟ جڑواں۔۔؟؟ عابی نے اس کی جانب دیکھتے حیرت سے اسے دیکھا تھا۔ جب کہ دل کی دھڑکن بھی بڑھی تھی۔
ہممممم۔۔۔! شامی نے اس کے دونوں ہاتھ تھامے خود سے قریب کیا۔
اور اس کے ماتھے پے بوسہ دیا۔
یس۔۔ ماٸ لو۔۔۔! منہا کے دو بہن بھاٸ آرہے ہیں۔
بہت دھیرے سے پیار سے کہا۔ کہ عابی کی آنکھیں چھلک پڑیں۔
آپ۔۔۔؟؟ سچ کہہ رہے ہیں۔۔؟ عابی کو یقین نہ آیا۔
یس۔۔۔۔!اور۔۔ بہت احتیاط کرنی ہے۔۔ عابی۔۔ ہمارے بچوں کے لیے۔۔۔! شامی اسے بہت دھیرے سے چلاتا واپس بتر پے لایا۔
ہمیں۔۔ ڈر لگ رہا ہے۔۔۔! شامی۔۔۔! عابی کی گھبراٸ ہوٸ آواز آٸ۔
کس بات کا ڈر۔۔؟؟ شامی نے اس کے پاس ہی بیٹھتے محبت سے پوچھا۔
اگر۔۔ ہماری۔۔ کسی۔۔ لاپرواہی سے۔۔ بچوں کو۔۔۔۔ کچھ۔۔؟؟ تو۔ آپ۔۔ ہمیں۔۔ مار ڈالیں گے۔۔۔! عابی کی روتیآواز سن شامی نے بمشکل اپنے آپ پے ضبط کیا۔ وہ اس پاگل لڑکی کو کیسے سمجھاتا کہ وہ سمجھ جاتی۔۔؟؟
تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے۔۔؟؟ سنجیدگی سے پوچھا۔
آپ ۔۔ آپ کے لیے بچے۔ سب سے اہم ہیں۔۔ ہم سے بھی زیادہ۔۔۔ ! آپ۔۔؟؟
وہ بولتے ہوۓ بے دھیانی میں شامی کو دیکھتی اس کے چہرے پے خطرناک حد تک سنجیدگی دیکھ چپ ہوٸ۔
عابی۔۔۔! ایک بات یاد رکھنا۔۔ بچے۔۔ صرف میرے نہیں۔۔ تمہارے بھی ہیں۔ اللہ نے ہمیس اس قابل سمجھا کہ اولاد جیسی نعمت سے پھر سے نواز رہا ہے۔ وہ بھی جڑواں بچوں کے ساتھ۔
میرا دین و ایمان ہے۔ کہ وہ پاک زات۔۔ دے کے بھی آزماتی ہے اور لے کے بھی۔۔۔! میں اپنے اللہکے ہر فیصلہ پے خوش ہوں۔ لیکن تم سے صرف اتنی امید کرتا ہوں۔ کہ تم میری گزشتہ باتوں کو بھول کے آج کی باتوں کو یاد رکھو گی۔۔۔!
یہ لو دودھ پیو ۔۔۔! شامی نے دودھ کا گلاس عابی کے لبوں سے لگایا۔ اس نے چپ چاپ دودھ پی لیا۔
سو جاٶ۔۔۔! زیادہ مت سوچو۔۔۔۔! شامی نے اس کے ماتھے پے بوسہ دیتے اسے لٹایا تھا۔
ناراض ہیں مجھ سے۔۔؟ عابی نے شامی کے اٹھنے سے پہلے ہی اس کا ہاتھ تھاما۔
نہیں۔۔ عابی۔۔ فضول سوچیں سوچنا چھوڑ دو۔
اور اچھا اچھا سوچو۔۔۔!
آپ سے بہت پیار کرتے ہیں ہم۔۔۔! اس دنیا میں سب سے زیادہ۔۔۔۔! وہ اس کی طرف کروٹ لیتے بوی تھی۔
شانی نے وہیں اس کے پاس نیم دراز ہوتے اس کا ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں تھاما تھا۔
اور اسے اپنے سینےپے لٹإیا تھا۔
شاہ میر سلطان کے لیے بھی اس کی بیوی بہت اہم ہے۔۔۔ اس ے بہت زیادہ عزیز۔۔۔! جان ہے میری۔۔۔ شامی نے دھیرے سے اس کے لبوں کو چھوا تھا۔ وہ شرما کے سر جھکا گٸ۔
شامی کے لبوں پے مسکراہٹ بکھر گٸ۔ لاٸیٹ آف کرتا وہ اس کے پاس ہی لیٹ گیا۔
وہ بہت زیادہ پوزیسو ہو رہی تھی۔ اور شامی اس کا ہر طرح سے خیلا رکھنا چاہتا تھا۔ اسے ہر قسم کی ٹینشن سے آزاد رکھنا چاہتا تھا۔
اس کے لیے۔۔ خود کے لیے۔۔ اپنے بچوں کے لیے۔۔
ہاں وہ اس کے لیے واقعی اہم تھی۔۔ وہ اس بات کو جانتا تھا۔ اور آج اسے بھی باور کرا دیا تھا۔ وہ معصوم دل سے مسرور اور خوش ہوٸ تھی۔













آج ایک ہفتہ گزر گیا تھا۔ دن ویسے ہی خاومشی سے گزر رہے تھے۔ کنول نے خود کو بچوں تک محدود کر لیا تھا۔ اب وہ آفتاب کے ساانے ہی نہیں جاتی تھی۔ اس پورے ایک ہفتے میں دونوں کا آمنہ سامنا نہ ہونے کے برابر ہوا تھا۔ دونوں ہ ایک دوسرے کو دیکھتے راستہ بدل لیتے یا جگہ بدل لیتے۔
دن بدن۔۔ کنول کی طبعیت گرتی جا رہی تھی۔ وہ اندر ہی اندر وہ آفتاب سے جداٸ کا وہ روگ جو تین سال پہلے دل میں لیے جی رہی تھی۔ اس کی جگہ اب ایک ایسا ناسور بن گیا تھا۔ جس کے درد میں بس اضافہ ہی ہوتا جا رہا تھا۔ وہ چاہ کے بھی اپنے دل و دماغ کو پرسکون نہیں کر پا رہی تھی۔
وہ اس پے ہی آفتاب کی شکر گزار تھی۔ کہ اس نے اسے گھر سے نہیں نکالا تھا۔ ورنہ ۔۔ اسے لگا تھا۔ وہ بچوں سے اسے دور کر دے گا۔۔۔ لیکن۔۔ صد شکر کہ اس نے اسے اس گھر میں رہنے کی اجازت دی ہوٸ تھی۔ تبسم بیگم دو دن بعد لوٹنے والی تھیں۔
کنول کو ان کے آنے سے کچھ امید جاگی تھی۔ شاید وہ آفتاب کو منانے میں اس کی کوٸ مدد کر سکیں۔
لیکن اس سے پہلے ابھی اس کی آزماٸشیں مزید تھیں۔
ناجیہ آنٹی۔۔۔! یہ۔۔ سالن دیکھیے گا۔ میں ابھی آٸ۔
وہ مصروف اندازمیں کہتی باہر نکلی اس کے فون پے مسز فاروقی کی کال آرہی تھی۔
جی کہیے۔۔ مسز فاروقی۔۔؟؟ کیسی ہیں آپ۔۔؟؟ سب ٹھیک ہے ناں۔۔؟
اللہ کا کرم ہے بیٹا۔ ۔آپ سناٶ۔۔ کیسی ہو۔۔؟
آپ اور ملکہ بیٹی ٹھیک ہیں۔۔ ناں۔۔؟ اور ہمارے مونس۔۔ بابا۔۔؟؟ مسز فاروقی کے لہجے میں محبت ہی محبت تھی۔
جی جی۔۔۔ سب ٹھیک ہیں۔۔ مونس اور ملکہ۔۔ ابھی سکول ہیں۔۔۔۔ واپس آتے ہیں تو شام میں آپ سے بات کرواٶں گی ان کی۔۔۔!
آپ یہ بتاٸیں وہاں سب ٹھیک ہے ناں۔۔؟؟
کنول۔۔۔؟؟
اپنی پشت پے اپنا نام سنتے وہ چونکی تھی۔
اور فون کان سے ہٹاۓ وہ پیچھے مڑی جہاں عظمی آنکھوں میں حیرت لیے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
اس کے ساتھ ارسل اور اس کا چھ سالہ بیٹا زیشان بھی تھا۔
آپ۔۔۔۔؟؟ کنول کا لہجہ ڈگمگایا۔
تم ۔۔۔تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔؟؟ عظمی کے لہجے میں حقارت تھی۔ جسے کنول نے واضح محسوس کیا تھا۔ اسکی آنکھیں نم ہوٸیں تھیں۔
ارسل تو آگے بڑھ ہی نہ سکا۔ نہ ہی اسے کچھ کہہ سکا۔ اس کا تین سال غاٸب رہنا اسے بھی کنول سے بدظن کر گیا تھا۔ جو بھی تھا۔ وہ آفتاب کی بیوی تھی۔ اور اس کا فرض تھا۔ کہ وہ اپنے شوہر کے گھر رہتی۔۔ نہ کہ فرار ہوتی۔۔۔ یہ خان کا ہی بڑا پن تھا۔ کہ وہ واپس تین سال بعد اسی کے گھر میں کھڑی تھی۔ ورنہ خان اپنی جان دے دیتے ہیں۔ کبھی بھی اپنی عزت پے حرف نہیں آنے دیتے۔
کنول نے سر جھکاۓۓ وہاں سے نکلنا چاہا کہ عظمہ نے اس کا راستہ روکتے اس کی کلاٸ تھامی تھی۔
کنول نے سر اٹھا کے اسے دیکھا۔
کیا لینے آٸ ہو اب یہاں۔۔؟؟ عظمہ کا لہجہ تیز تھا۔
میرے بھاٸ کا دل توڑا۔ ان کے دل سے کھیلا۔ ان کا گھر بکھیر کے رکھ دیا۔ اب ۔۔ واپس کیا لینے آٸ ہو۔۔؟ کس حق سے واپس آٸ ہو۔۔؟
عظمہ اس سے باز پرس کر رہی تھی۔ جب کہ وہ چپ کھڑی تھی۔ اس کی آنکھیں جھلملا گٸ تھیں۔
اور وقت ہوتا اور وہ حق پے ہوتی تو ضرور جواب دیتی۔۔ لیکن آج وہ عظمہ کے کسی سوال کا جواب نہیں دے پا رہی تھی۔
میں تو یہ سوچچ کے حیران ہوں۔۔ کہ بھاٸ نے تمہیں گھر کے اندر آنے بھی کیسے دیا۔۔؟؟ نجانے تین سال کہاں۔۔ منہ کالا کرتی۔۔؟؟
عظمہ۔۔۔۔؟؟؟ اچانک سے آفتاب شیر خان کی سرد اور کرخت آواز پے وہ تینوں چونکے تھے۔ آفتاب شیر خان کے چہرے پے انتہا درجے کی سنجیدگی اور کرختگی تھی۔
کنول جو عظمی کی باتپے اسے ششدر ہوتی دیکھ رہی تھی۔ آفتاب کے وہاں اچانک آنے پے وہ سن ہی ہوگٸ۔
ہاتھ چھوڑو کنول کا۔۔۔! قریب آتے وہ ایک نظر ارسل کو دیکھتا سختی سے عظمی سے بولا تھا۔
عظمی نے دیرے سے کنول کا ہاتھ چھوڑ دیا۔
بھاٸ۔۔یہ۔۔؟؟ یہاں۔۔؟؟؟ عظمی نے کچھ کہنا چاہا۔
عظمی۔۔۔۔!تین سلل سے کنول کہاں تھی کہاں نہیں۔۔ اس بات کا تم سے کوٸ لینا دینا نہیں۔۔ یہ میرا اور میری بیوی کے بیچ کا معاملہ ہے۔۔ اور میں ہرگز نہیں چاہوں گا۔ کہ ہمارے بیچ کوٸ بھی تیسرا بولے۔۔۔!ایک ایک لفظ پے زور دے کے کہتا وہ کنول کا مان بڑھا گیا تھا۔ وہ حیرت اور سکتے سے اپنے مجازی خدا کو دیکھتی خاموش آنسو بہ گٸ۔
عظمی نے کنول کو ایک غصہ بھری نظر سے دیکھتے سر جھٹکا تھا۔
بنا کنول کی طرف دیکھے وہ اب اندر کی جانب بڑھ گیا تھا۔ اسکی نظروں میں ایسی وارننگ تھی کہ عظمی چاہ کے بھی مزید کچھ نہ بول پاٸ۔ کونل نے ہی وہاں سے نکل جانا مناسب سمجھا تھا۔
عظمہ دبٸ مقیم تھی۔ پچھلے دو سال سے۔ اور ہر چھ ماہ بعد پاکستان آتی تھی۔ ماں کے پاس بھی رہتی تھی۔ اور آفتاب کے گھر بھی۔
پاکستان آۓ اسے ایک ہفتہ گزرا تھا۔ آج ہی آفتاب سے فون پے بات ہوٸ تھی۔ اور اس نے اسے گھر آننے کو کہا تھا۔
لیکن کنول کے بارے میں کچھ نہ بتایا تھا۔اس طرح اسے اچانک سامنے دیکھ وہ کچھ پل کو ٹھٹھکی بھی ۔ اور بہت کچھ بول بھی گٸ۔
عظمی۔۔۔ تمہیں۔۔ اتنا برا نہیں کہنا چاہیے تھا۔۔۔
ارسل نے عظمہ کا غصہ سے لال چہرہ دیکھتے پیار سے سمجھایا۔
آپ جانتے ہیں۔۔ وہ بھاٸ کو دھوکا دے کے گٸ۔۔ چھوڑ گٸ بھاٸ کو۔۔ اور آپ اس کی ساٸیڈ لے رہے ہیں۔۔؟؟
بلکہ لیں گے ہی ناں۔۔؟؟ آپ کی منہ بھولی بہن جو ہے۔۔۔!عظمہ پھر سے ماضی دہرا رہی تھی۔
ارسل نے نفی میں سر ہلایا۔ اور اندر کی جانب بڑھ گیا۔
عظمہ کا دماغ تو اس وقت خوب شراٹے سے دوڑ رہا تھا۔
تین سال پہلے کنول کا اچانک غاٸب ہوجانا اور اب تین سال بعد اس طرح اچانک سے واپس آجانا۔۔؟ آفتاب شیر خان کیسے بھول سکتا ہے۔۔؟ وہ تو۔۔ کسی کی غلطی بھی معاف کرنے والا نہیں۔۔ اتنی بڑی غلطی۔۔کنول کی کیسے معاف کر دی۔۔؟؟
عظمہ کو یہ بات ہضم نہیں ہو رہی تھی۔
جاری ہے۔
