Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan NovelR50506 Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 26)
Rate this Novel
Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 26)
Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan
کنول دھڑکتے دل سے دروازہ کھولتے اندر داخل تو ہوگٸ تھی۔ لیکن اب اس کی ہمت جواب دے گٸ تھی۔ اسے آفتاب سے بے انتہا ڈر لگ رہا تھا۔
وہ ایک ایک قدم پھونکنے والے انداز میں رکھتی آگے بڑھی۔ سامنے ہی ریولنگ چیٸر پے آنکھیں موندے ٹیک لگاۓ اس دلِ جاں پے نظر پڑی۔
کنول نے گہرا سناس خارج کرتے آفتاب کے قریب جانا چاہا۔
وہیں رک جاٶ۔۔۔۔! آفتاب نے بنا آنکھیں کھولے اسے سرد آواز میں کہا تو وہ سانس روکے وہیں تھم گٸ۔
کیوں آٸ ہو یہاں۔۔؟؟ اپنی جگہ سے اٹھتا وہ دبا دبا چلایا تھا۔
اور اس کی جانب دیکھتا وہ اسے مزید ڈرا گیا تھا۔
خاانننن۔۔۔۔۔! کنول کے لب ہلے۔
مت نام لینا میرا۔۔۔! مر چکا ہے خان۔۔۔! سخت لفاظ میں کہتا وہ کنول کے دل کے ٹکڑے کر گیا۔ پلیز۔۔ ایسا مت کہیں۔۔؟؟؟ وہ روتے ہوۓ اس کے پاس آٸ۔
ایک بار کی کہی بات تمہیں سمجھ نہیں آتی۔۔؟؟
آفتاب نے اس کی کلاٸ سختی سے دبوچے اسے اپنے مزید قریب آنے سے پہلے ہی روک دیا۔
دور رہو مجھ سے۔۔۔۔! وارننگ والے انداز میں کہا۔
نہیں رہ سکتی۔۔۔ ! کنول ے اس کا چہرہ چھونا چاہا۔ آفتاب نے زور سے اس کا ہاتھ پرے جھٹکا۔
یہ۔۔ تین سال بعد یاد آیا ہے تمہیں۔۔؟؟ ناچاہتے ہوۓ بھی آفتاب کی زبان پے شکوہ آہی گیا۔
معاف۔۔۔ کر۔۔۔؟؟؟ کنول نے سسکتے ہوۓ کہا۔
معاف کردوں۔۔؟؟ آفتاب نے اس کے ہاتھں سے اپنا چہرہ چھڑایا۔ جو وہ روتے ہوۓ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لے گٸ تھی۔
کس کس بات کے لیے معاف کروں۔۔؟؟ تمہیں۔۔ لگتا ہے۔۔ تم نے معافی والا کام کیا ہے۔۔؟؟ آفتاب کے لہجے میں دکھ درد تکلیف غصہ سب تھا۔
خان۔۔۔؟؟ وہ تڑپی تھی۔
ان تین سالوں نے مجھے مار دیا ہے۔۔ کنول۔۔۔!اب میرے اندر کے جذبات بھی مر چکے ہیں۔۔ اس لیے مجھ سے کوٸ توقع نہ رکھنا۔۔۔ غصہ اور سرد انداز میں کہتے وہ اس کا ہاتھ جھٹک کے وہاں سے جانے لگا۔
نہیں۔۔! آپ۔۔۔ مجھ سے آج بھی پیار کرتے ہیں۔۔ اور۔۔ جن سے پیار کیا جاۓ ۔۔ ان کی ہر خطا معاف کر دی جاتی ہے۔۔ آپ۔۔؟؟ وہ اس کے راستے میں حاٸل ہوٸ تھی۔
پیار بھی تین سال پہلے مر گیا جب تم منہ اندھیرے میری بیٹی کو لے کے فرار ہوٸ تھی۔
میں جانتی ہوں۔۔ میں نے غلط کیا۔۔ بہت غلط کیا۔۔۔ لیکن۔۔۔؟؟ پھر بھی۔۔؟ ایک بار۔۔ پلیز۔۔ مجھے۔۔۔معاف۔۔۔؟؟
معافی چاہیے تمہیں۔۔؟؟ آفتاب نے غصہ سے اسکی کلاٸ تھامتے اپنی طرف جھٹکا دیا تھا۔ آنکھوں میں غصہ اور چہرے پے سرد پن تھا۔ ایک پل کو کنول رونا بھی بھول گٸ اور اسے یک ٹک دیکھے گٸ۔
معافی چاہیے۔۔ناں۔۔؟؟ تو
مجھے تین سالوں کا ہجر لٹا دو۔۔۔۔؟
مجھے میری بیٹی کا بچپن لٹا دو۔۔؟؟
مجھے ان تین سالوں کا محبت بھرا وہ لمس لٹا دو۔۔۔! جسے تم نے بے اعتباری کی بھینٹ چڑھا دیا۔
مجھے وہ پل لٹا دو۔۔ جب مجھے ۔۔ میری چاہت کی ضرورت تھی۔۔۔! اور تم۔۔ مجھے میری نظروں میں گرا کے جا چی تھی۔
میرا بچہ۔۔ ماں کے لیے روتا بلکتا رہا۔۔ مجھے میرے بچے کے بچپن کی ماں لٹا دو۔۔ ؟؟
میرا مان۔۔ میرا بھروسہ۔۔۔ میری محبت۔۔؟؟ میرا اعبار۔۔۔؟؟
لوٹا۔۔۔ سکتی۔۔۔ ہو۔۔؟؟ آفتاب چلایا تھا۔ جب کہ کنول کے آنسوٶں میں متواتر اضافہ ہو رہا تھا۔ وہ نفی میں سر ہلاتی آنسو ضبط کرتے کچھ کہنے کے لیے لب وا کیے۔ لیکن آفتاب نے اسے زور سے پرے دھکیلا۔
نہیں لٹا سکتی۔۔ تم کچھ بھی۔۔۔! رخ پھیرے کہتا وہ کنول کی سسکیوں میں اضافہ کر گیا۔
لیکن۔۔ جس دن۔۔تممجھے ۔۔ یہ سب لٹا دو۔۔ اسدن۔۔ آفتاب شیر خان تمہیں۔۔ معاف کر دے گا۔۔ ! پلٹ کے کیتا وہ اسے مزید اس کی نظروں میں گراتا کمرے سے باہر نکل گیا۔ وہ اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھتی روتی چلی گٸ۔
وہ صحیح ہی تو کہہ رہا تھا۔ کتنا کچھ غلط کہا تھا اس نے۔۔ اب کیا بچا تھا جو وہ اس کے بھروسہ معفی مانگنے چلی آٸ تھی۔۔؟؟
کنول نے ہچکی لیتے اپنے گال سے آنسو پونچھے۔
میں اسی قابل ہوں۔۔ میں نے آپ پے اعتبار نہیں۔۔ کیا۔۔ انے بچے سے ۔۔ماں کو چھینا۔۔ اپنی بیٹی سے اس کے باپ کو چھینا۔۔؟؟ میں اتنی خود غرض کیسے ہوگٸ۔۔؟ وہ بے دردی سے روتی خود کو کوس رہی تھی۔
صرف ایک بے اعتباری کی سزا دینے چلی تھی۔ اس قصور کی سزا ۔۔۔۔ جو خان نے کیا ہی نہیں۔۔ تھا!
اس سب کے لیے تو میں شاید خود کو خود بی معاف نہ کر سکوں۔۔ تو خان کیسے کریں گے۔۔؟؟ وہ وہیں گھٹنوں میں سر دٸے روتی رہ گٸ۔
اب اس کے مقدر میں رونا ہی لکھا تھا۔
تیری طلب یہ میری۔۔
اب تڑپ بن گٸ ہے۔
خالی ہاتھ ہوں میں۔۔
روح تک سلگ گٸ ہے۔۔
نہ میں بے وفا تھی۔۔
نہ تو بے وفا۔۔۔
زخم میں نے دیے۔۔
نہ ہو جن کی دوا۔۔
مشکل میں یہ جان ہے۔۔








آرام سے۔۔۔! شامینے عابی کو دھیرے سے بستر پے لٹایا۔
بس ۔۔آج سے تم کوٸ کام نہیں کرو گی۔۔ صرف آرام کرو گی۔۔ سمجھی تم۔۔۔!
شامی نے اس پے کمفرٹر دیتے محبت بھری پپواز میں کہا۔
اچھا۔۔ جی۔۔۔! گھر کے کام آپ کریں گے۔۔؟ عابی نے مسکراتے ہوۓ اسے چھیڑا۔
کردوں گا۔۔ سارے کام ہوجاٸیں گے۔۔! ملازمہ بھی ہے اور امی بھی ہیں۔ وہ سب دیکھ لیں گیں۔ تم مجھے بستر سے اٹھتی دکھاٸ مت دینا۔ سمجھی۔
اب کی بار پیار سے دھمکایا۔
شامی۔۔۔! بس معمولی سا چکر آیا تھا۔ آپ خواہ مخواہ پریشان ہو رہے ہیں۔
عابی نے منہ بناتے کہا۔
جتنا کہا ہے وہ سمجھ نہیں آتا۔۔؟ شامی نے اب کی بار آنکھیں دکھاٸیں۔
تبھی جمیلہ خاتون منہا کو لیے اندر داخل ہوٸیں۔ لو اسے۔۔ کب سے تنگ کیے جا رہی ہے۔۔ماں کے پاس جانا ہے۔۔ ! آج نہ دادی چاہیے نہ بابا۔۔ بس۔۔ ماں۔۔ چاہیے۔
جمیلہ خاتون نے مسکراتے کہا۔
اسے مجھے دیں۔۔ ! عابی نے جس نے اپنی بانہیں وا کی تھیں۔ منہا کو گود میں لینے کے لیے۔ شامی کے منہا کو گود میں لے لینے پے اسے دیکھتی رہ گٸ۔
میری گڑیا بابا کے ساتھ سوۓ گی۔۔۔!ہیں ناں۔۔؟
منہا کے گال پے پیار کیا۔
تو وہ باپ کے ساتھ گھل مل گٸ۔
کیا ہوا۔۔؟؟ کیوں اداس ہو رہی ہو۔۔؟؟
جمیلہ خاتون نے عابی کی نم ہوتی آنکھیں دیکھ لی تھیں۔
نہیں تو۔۔۔! ایسی کوٸ بات نہیں۔۔۔! عابی نے منہا اور شامی سے نظریں چراتے کہا۔
اداس نہ ہوا کرو۔۔ میری بچی۔۔۔! میں تمہارے لیے دودھ لے کے آتی ہوں۔۔
ویسے بھی انابیہ اور فضا ابھی تک وپپس نہیں لوٹے۔ شاید لیٹ ہوجاٸی۔
آج فضا اور انابیہ بچوں کے شوہروں کے ساتھ لے کے جواۓ لینڈ گٸ تھے۔ عابی کی طبعیت ٹھیک نہیں تھی صبح سے۔ تو یہ نہیں جا سکے تھے۔
کیا بات ہے۔۔؟؟ منہ کیوں بنایا ہوا ہے۔؟
جمیلہ خاتون کے جانے کے بعد شامی نے عابی کا جھکا چہرہ دیکھ سنجیدہ انداز میں پوچھا۔
ایسی بات نہیں۔۔ منہا سوگٸ کیا۔۔؟ عابی نے ٹالتے ہوۓ منہا کا پوچھا۔ جو اس کے کندھے کے ساتھ سر ٹکاۓ سو رہی تھی۔
ہممم۔۔۔ شامی نے منہا کو اس کے چھوٹے بستر پے لٹایا ۔ جو شامی نے ہی الگ بنوایا تھا۔
ایک چھوٹا سا پیارا سا بیڈ۔۔
اس کا تو دل تھا۔ کہ ساتھ والے روم کو منہا کا روم بنا دیں۔ لیکن عابی کو منہا آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوتا دیکھ سکتی تھی۔ اس لیے اس کا بیڈ روم میں ہی لگا تھا۔
منہا کو بیڈ پے لٹا کے شامی باتھ روم چلا گیا۔ جمیلہ خواتون دودھ اس کے پاس ٹیبل پے رکھتی گڈ ناٸیٹ کہتیجا چکی تھیں ۔
کچھ پل گزرے کہ عابی نے موقع دیکھتے اپنے بستر سے اٹھتے منہا کے بیڈ کے پاس گٸ۔ اور اس کے چھوٹ چھوٹے ہاتھو ںکو تھامے چومنے لگی۔ اور ہھر ماں کی ممتا سے مجبور ہو تی اس کے ماتھے پے بوسہ دیتی پہچھے ہٹی تھی۔
کہ تبھی شامی باتھ روم سے نکلا۔
اور اس کے پاس چلا آیا۔
ہو گیا۔۔؟ ماں بیٹی کا پیار۔۔؟ دھیرے سے اس کے کان میں سرگوشی کی۔ کہ وہ ایک دم سے چونکی تھی۔
آپ۔۔۔؟؟ وہ گھبرا رہی تھی۔
عابی۔۔؟ کیا ہوا۔۔ ؟ کیوں اتنا گھبرا رہی ہو۔؟ شامی کو اس کا یوں گھبرانا اچھا نہ لگا۔
آپ کو برا لگا ہوگا۔۔ ہمارا منہا کو پیار کرنا۔۔؟ آپ کی بیٹی ہے ناں۔۔ ؟ اس لیے۔۔۔!
عابی کے کہے گۓ الفاظ پے شای بس شاکنگ س اسے دیکھے گیا۔
اس کے لہجے کی حسرت اور درد شامی کو اپنے دل میں اترتا محسوس ہوا۔ وہ کس قدر محبت سے منہا کو دیکھ رہی تھی۔
شای نے اسے اپنے گلے سے لگاتے سینے میں بھینچا۔
منہا۔۔ ہماری بیٹی ہے۔۔ پاگل۔۔۔! اورمجھ سے زیادہ تمہارا حق ہے اس پے۔۔ ماں ہو تم اس کی۔۔۔! شامی نے اس کے ماتھے پے لب رکھتے اس کا من بڑھایا۔
لیکن۔۔؟؟ آپ۔۔ نے۔؟؟ اس دن۔۔؟؟
عابی ابھی بھی وہیں اٹکی ہوٸ تھی۔
میں نے معافی بھی مانگی۔۔لیکن۔۔ شاید تم دل سے وہ سب باتیں نکال نہیں پاٸ۔۔؟؟
شامی نے دکھ سے کہا۔
آپ ۔۔۔اسے ہم سے دور کیوں رکھتے ہو۔۔؟؟ پھر۔۔؟ ابی بھی اسے ہمارے پاس آنا تھا۔۔ اور آپ؟
عابی نے شکوہ کیا تو شامی مسکراتا نفی میں سر ہلا گیا۔
جھلی۔۔ جانتی بھی ہو۔۔ سوتے ہوۓ کتنا ہاتھ پیر چلاتی ہے۔۔ اگر۔۔ لگ جاتی تمہیں ۔۔ تو۔۔؟ ہمارے۔۔ بچوں کا کیا ہوتا۔۔؟
شای نے مسکراہٹ دباتے کہا۔
اب اتنی بھی کیا کیٸر۔۔؟؟ منہا کا حق سب سے زیادہ رہے گا ہم پے۔۔ چاہے جتنے مرضی بچے آجاٸیں ۔۔ ! عابی شامی کی بات کو بنا سمجھے اپنی ہی کہے گٸ۔
جاری ہے
