Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 09)

Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan

گاڑی جیسے ہی خان منشن میں داخل ہوٸ۔ ملکہ نے آفتاب کی طرف دیکھا۔

where is my mom…?

ملکہ کے چہرے پے ناگواری تھی۔

سارے راستے ملکہ اس کا دماغ کھاتی آٸ تھی۔ کہ اسے مما کے پاس جانا ہے۔ جبکہ مونس تو بس بہن کی دیدہ دلیری ہی دیکھتا رہ گیا۔

اور آفتاب خاموشی سے اسے سنتا رہا۔

نیچے آٶ۔۔ بیٹا۔۔؟؟ گاڑی سے نیچے اترنے پے آفتاب نے ملکہ کو باہر آتا نہ دیکھ اسے پکارا تو وہ نروٹھے پن سے اسے دیکھنے لگی۔

you are bad dad..

مما نے کہا۔۔ آپ ان سے بہت پیار کرتے ہیں۔۔ but

you hurt my mom..

مما نے جھوٹ کہا۔۔۔! آپ واپس سپیس میں چلے جاٶ۔۔۔ !

اب کی بار ملکہ کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو جھملاٸے۔

آفتاب نے آگے بڑھ کے اسے گود میں بھرا۔ اور سینے سے بھینچا۔

آٸ لو یو۔۔ میری جان۔۔؟؟ بہت انتظار کیا ہے۔۔ آپ کے ڈیڈ نے آپ کا۔۔! آفتاب نے اس کے گال کو چھوتے محبت سے لبریز لہجے میں کہا۔ جبکہ مونس حیرانی سے یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ اسی لمحے آفتاب نے مونس کا ہاتھ تھاما۔ اور اندر کی جانب بڑھا۔

ایک جیت کی سی سرشاری کے ساتھ ۔

خان منشن کے داخل دروازہ سے انٹر ہوتے اس کے قدم رکے تھے۔

ماتھے پے دو بل پڑے تھے۔ سامنے ہی چہرے پ کرختگی اور سنجیدگی لیے وہ دشمنِ جاں کھڑی تھی۔

کنول آفتاب شیر خان۔

مما۔۔۔؟؟ کنول کو دیکھ دونوں بچے بھاگتے ہوۓ کنول سے لپٹ گۓ ۔

دونوں کو پیار کرتی وہ ان دونوں پے اپنی محبت نچھاور کر ہی تھی۔

آفتاب نے ایک گہری نظر اس پے ڈالی ۔

تین سالوں نے اس کے رنگ روپ پے زرا بھی اثر نہیں ڈالا تھا۔ بلکہ وہ مزید چھوٸ موٸ سی بن گٸ تھی۔ ٠٠ بھرا بھرا جسم اب بہت کمزور لگ رہا تھا۔ بہت سمارٹ سی ہوگٸ تھی۔ بس اس کے چہرے پے وہ پہلے والی رونق نہ رہی تھی۔ آنکھوں میں برسوں کی اداسی ڈیرا جماٸۓ بیٹھی تھی۔ اپنے نرم ملاٸم گال سے آنسو صاف کرتے وہ آفتاب کی ایک ہارٹ بیٹ مس کر گٸ۔

دل اختیار سے باہر جاتا۔ اپنی آنکھوں پے فوراً چشمہ چڑھایا۔

سیکیورٹی۔۔۔ گارڈز۔۔ کہاں ہیں سب کے سب۔۔؟؟ یہ ۔۔ خاتون۔۔ اندر کیسے آٸ۔۔۔؟؟ وہ غصہ سے چلا رہا تھا۔

فوراً نکال باہر کرو۔۔۔! آفتاب کے چہرے پے نتہا کا غصہ تھا۔

مما۔۔۔؟؟ ملکہ نے سختی سے کنول کا ہاتھ تھاما۔

ناجیہ آنٹی۔۔۔! بچوں کو لے کے اندر جاٸیں۔۔

آفتاب نے پاس کھڑی ناجیہ بیگم سے کہا۔ تو وہ سر اثبات میں ہلاتی آگے بڑھیں۔

مما۔۔؟؟ ایک امید سے ماں کو دیکھا۔

جاٸیں بیٹا۔۔۔! اندر جاٸیں۔۔ یہ آپ کا ہی گھر ہے۔۔۔

مما۔۔ آپ۔۔؟ کنول نے اسے پیار سے چمکارا۔ لیکن اسکی سوٸ کنول پے ہی اٹکی تھی۔

کنول نے تیکھی نظر آفتاب پے ڈالی اور پھر ملکہ کی طرف متوجہ ہوٸ۔

آپ کی مما بھی یہیں۔۔ ہیں۔۔ آپ جاٸیں اندر ۔۔۔! کنول نے اس کے ماتھے پے بوسہ دیا تو وہ مسکراتی ہوٸ مونس کا ہاتھ تھامے اندر بڑھ گٸ۔

اپنے آنسو پونچھتی وہ اب آفتاب کے مدمقابل تھی۔

دونوں ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے اجنبیت سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔

ابھی اسی وقت۔۔۔ میرے گھر سے نکل جاٶ۔۔ ! آفتاب ایک قدم اس کے قریب ہوا۔ سارے ملازم وہاں سے ایک منٹ میں عظیم خان نے ہٹواۓ تھے۔

اس وقت بات میاں بیوی کے بیچ کی تھی۔ اور وہ اس نوعیت کو سمجھتے تھے۔ اس لیے نہ خود بیچ میں پڑے نہ کسی اور کو مداخلت کرنے دی۔

کسی کی جرات نہیں۔۔ آفتاب شیر خان۔۔ مجھے ۔۔ میرے ہی گھر سے نکال سکے۔

وہ بھی ایک قدم غصہ سے کہتی آگے بڑھی تھی۔

اپنا۔۔ گھر تم۔۔تین سال پہلے چھوڑ کے جا چکی ہو۔۔۔! آفتاب نے اسکی دکھتی رگ پے ہاتھ رکھتے ایک قدم مزید بڑھایا۔

آپ کی وجہ سے۔۔۔! آپ نے مجھے مجبور کیا ۔۔ گھر چھوڑ کے جانے کو۔۔۔! اپنا بچہ ۔۔ آپ کو دے کے چلی گٸ میں۔۔ ! ایسی بد بخت ماں ہوں میں۔۔ وہ غصہ سے چلاتے ہوۓ سارا فاصلہ ایک منٹ میں طے کرتی آفتاب تک پہنچی تھی۔ تین سال کا غبار اندر پل رہا تھا۔ کبھی تو نکلنا تھا۔

تم۔۔۔ اپنی انا۔۔ اپنی اکڑ کی وجہ سے گٸ۔۔۔۔ آج کہاں گٸ وہ اکڑ۔۔؟؟ وہ انا۔۔؟؟ جو واپس اسی گھر میں آگٸ۔۔؟؟

مجھے کوٸ شوق نہیں۔۔ آپ کے اس محل میں رہنے کا۔۔۔! آنسو صاف کرتی وہ تڑخ کے بولی تھی۔

مجھے میرے بچے دے دیں۔۔ میں یہاں سے چلی جاٶں گی۔۔۔ اب کی بار مصلحتًا لہجہ دھیما رکھا۔

بھول ہے تمہاری۔۔۔ میں اپنے بچوں پے تم جیسی عورت کی پرچھاٸ بھی نہیں پڑنے دوں گا۔

وہ میرے بچے ہیں۔۔ میرے۔۔! آفتاب کی بات پے وہ دو انچ کا فاصلہ بھی مٹاتی اس کے کالر کو پکڑ گٸ تھی۔

آپ تو کیا۔۔ دنیا کی کوٸ طاقت ۔۔ ایک ماں کو اس کے بچوں سے الگ نہیں کر سکتی۔ سمجھے آپ۔۔۔۔! وہ بری طرح تڑپی تھی آفتاب کی بات پے اس کا نازک سراپا لرز رہا تھا۔

آفتاب نے اس کے ہاتھ اپنے کالر پے دیکھے اور ایک کاٹ دار نظر اس پے ڈالی۔

ہاتھ ہٹاٶ۔۔۔! سرد آواز میں کہتا وہ کنول کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑا گیا۔

کنول کی گرفت اس کے کالر پے نرم پڑی۔

اسکی آنکھوں کے آنسو۔۔ اس کے گالوں کی سرخی اس کے کپکپاتے لب۔۔ اور اس کا نازک سا وجود۔۔ آفتاب شیر خان کے حواسوں پے چھانے لگا۔ وہ اس سے دور ہونا چاہتا تھا۔

وہ کالر چھوڑتے پیچھے ہٹی کہ ایک دم سے لڑکھڑاٸ تھی۔ ایک سیکنڈ کے اندر آفتاب نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈالتے واپس اپنے قریب کرتے گہری نظروں سے اس کے چہرے کو دیکھا۔ کنول کا دل پسلیاں توڑ کے باہر آنے کو مچلا۔

یہ میں آخری بار چھوڑ رہا ہوں۔ ورنہ آفتاب شیر خان کے کالر کو کوٸ ہاتھ لگاۓ تو وہ ہاتھ جسم پے سلامت نہیں رہتے۔

کہتے ہوۓ اس کے لب کنول کے لبوں سے مس ہو رہے تھے۔ وہ اتنے جارحانہ انداز میں اسے وارن کرے گا۔ کنول کچھ بول ہی نہ پاٸ۔

دونوں ہی کی نظروں میں ایک دوسرے کے لیے محبت کا جہاں آباد تھا۔ اور دونوں ہی اس بات کو ماننے سے انکاری تھے۔

جھٹکے سے اسے چھوڑتا وہ وہاں سے نکلتا چلا گیا۔

کنول نے خود کو سنبھالا۔ اپنے دھڑکتے دل کو لگام ڈالنے کی ناکام کوشش کی۔ وہ بچوں کی خاطر اس منشن میں آتو گٸ تھی۔ لیکن آفتاب شیر خان کے جنون سے کیسے بچ پاتی یہ تو اس نے سوچا ہی نہ تھا۔

✨
✨
✨
✨
✨
💖
💖
💖
💖
💖
✨
✨
✨
✨
✨

آفتاب اپنے اس کمرے میں آگیا تھا۔ جو تین سال سے وہ جو کمرہ استعمال کر رہا تھا۔

کمرے میں آتے ہی زور سے دروازہ بند کیا تھا۔

اپنے ہاتھوں کو دیکھتا وہ آٸینے کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ وہ۔۔ ابھی ان ہاتھوں سے اسے تھام کے آیا تھا۔ وہ تو۔۔ اس کا وجود۔۔؟ وہ۔۔ وہ نہیں رہی تھی۔۔ اس کے سراپے میں بہت تبدیلی آگٸ تھی وہ پہلے سے بھی کم عمر لگنے لگی تھی ۔

کیا ان تین سالوں نے اس کا وجود بھی بدل ڈالا تھا۔

بیڈ پے بیٹھتا وہ خود سے سوال کر رہا تھا۔

آج تین سالوں بعد اسے چھوا تھا۔ وہ تو وہ رہی ہی نہیں تھی۔

آفتاب کہیں نہ کہیں اندر دکھی ہوا تھا۔

❤
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
❤

بیٹا۔۔۔! اللہ آپ کو ہمیشہ ایسے خوش ہی رکھے۔۔۔ ! عابی اپنے میکے میں تھی۔ اور شامی کے لیے کھانے کا بندوبست کر رہی تھی۔ وہ اتنی خوش تھی کچن میں۔۔ کام کرتے ۔۔ کہ ایک پل کو اس کے نداغ سے منہا نکل ہی گٸ۔

ماں سے باتیں کرتے خوشی اس کے ہر انداز سے ظاہر ہو رہی تھی۔ کہ تبھی منہا کے رونے کی آواز پے وہ دونوں چونکیں۔ اور باہر بھاگیں۔

اوپر جاتی سیڑھیوں کے پاس گری وہ روۓ جا رہی تھی۔ اس کے ماتھے سے خون بہہ رہا تھا۔

عابی بھاگتے ہوۓ اس تک پہنچی۔ لیکن تب تکمنہا بے ہوش ہوگٸ تھی۔

عابی کے ہاتھ پاٶں پھولنے لگے۔ اس کا دل گھبرانے لگا۔

امی۔۔۔ امی ہماری۔۔ بیٹی۔۔ ہماری منہا۔۔؟؟ اسی لمحے نواب صاحب گھر داخل ہوۓ شور سنتے اسطرف آۓ۔ آگے کا منظر دیکھ وہ دنگ رہ گۓ۔

فوراً عابی اور بیوی کو ساتھ لیے منہا کو گاڑی میں ڈالا۔ اور ہاسپٹل لے گۓ۔

ایمرجنسی میں لے جاتے عابی کو لگا اس کی بچی اس کے ہاتھ سے چھوٹ رہی ہے۔ رو رو کے اس کا برا حال تھا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

شامی کا دل بے چین ہوا تو وہ شام سے پہلے ہی گھر کے لیے نکل آیا۔ اپنا گھر تو لاک تھا۔ لیکن نواب صاحب کےگھر بھی لاک دیکھتے اس کے ماتھے پے بل پڑے تھے۔ فون ملایا۔ عابی کو ۔ کال تو جار رہی تھی۔ لیکن پک نہیں ہو رہی تھی۔

غصہ ضبط کرتے نواب صاحب کو کال کی۔ جو دوسری کال پے ہی اٹھا لیا گیا۔

السلام علیکم۔۔۔؟؟ کیسے ہیں۔۔؟ میں گھر آیا ہوں۔۔ یہاں لاک لگا ہے۔۔۔۔۔

سلام دعا کے بعد وہ فوراً مدعے پے آیا۔

بیٹا۔۔ ہم آپ کو ہاسپٹل کا ایڈرس سینڈ کر رہے ہیں۔ آپ یہاں پہنچ جاٸیں۔

شامی پوچھ نہ سکا۔ وہ ہاپسٹل کیوں ہیں۔۔؟ بس دل بہت بری طرح دھڑکا تھا۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *