Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 33,34)

Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan

کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔؟۔

مولوی صاحب نے دوسری بار اس سے وہ پوچھا اس کے لب ہلنے سے انکاری تھے جب کہ کوکو کا دل بے چین ہوا تھا۔ وہ کیوں نہیں جواب دے رہا تھا۔۔؟؟

شہیر۔۔۔؟؟ بولو۔۔۔! کوکونے ٹوکا۔

شہیر نے ایک نظر اسے دیکھا اور ایک پیاری سی معنی خیز مسکان لبوں پے سجاٸ۔

کیوں نہیں۔۔ بولوں گا ناں۔۔ ضرور بولوں گا۔۔۔! کہتے ہی شہیر نے مولوی صاحب کی جانب دیکھا

مولوی صاحب ایک بار پھر پوچھیں۔

کچھ مزہ نہیں آیا۔

مولوی صاحب دل ہی دل میں لاحول ولا قوتہ کہتے پھر سے نکاح کا پوچھنے لگے۔

کہباسی لمحے تالیوں بجاتے انابیہ وہاں داخل ہوٸ۔ اسے دیکھ شہیر کو کچھ غلط ہونے کا احسس جاگا۔ اور اپنی جگہ سے اٹھا تھا۔

اسے بلانے والی کوکو ہی تھی۔ کوکو اسے نیچا دکھانا چاہتی تھی۔ اسی لیے اسے بلوایا۔

لیکن ۔۔ وہ چاہتی تھی۔ کہ انابیہ نکاح کے بعد پہنچتی۔ لیکن۔۔۔ شہیر نجانے کیوں نکاح میں دیری کیے جا رہا تھا؟

واہ مسٹر شہیر خان۔۔۔! داد دینی چاہیے آپ کی ہمت کو۔۔؟؟

انابیہ کا لہجہ خطرناک حد تک سنجیدہ تھا۔ شہیر نے خاموش رہنا ہی مناسب سمجھا۔

کیا ہوا۔۔؟ حیران کیوں۔۔؟؟ چپ کیوں۔۔؟ بولو ناں۔۔ کرو ناں۔۔ قبول۔۔۔میں بھی دیکھوں۔۔ تیری بار نکاح قولکرنا کیسا محسوس ہوتا ہے تمہییں۔۔؟؟

آج وہ آپ جناب کی ساری حدیں کراس کر گٸ تھی۔

ہیر نے سختی سے مٹھی بھینچی تھی۔وہ کمل ضبط کا مظاہرہ کیے خاموش تھا۔

ویسے۔۔اب نکاح کے لیے قبول ہے۔۔ کہنا مشکل تو نہ لگا ہوگا۔۔۔ قریب آتے بھرپور طنز مارا تھا۔

شہیر نے ماتھےپے بل ڈالے اسے دیکھا۔ جو آج بلکل بھی کوٸ لحاظ نہیں برت رہی تھی۔

ارے۔۔۔ رک کیوں۔۔ گۓ۔۔؟؟ پڑھاٸیں ناں۔۔ ومولی صاحب نکاح۔۔؟ ہمارے مذہب میں ۔۔ تو چار چارنکاح جاٸز ہیں۔۔ ابھی تو تیسرا ہے۔۔ چوتھا بھی کریں گے۔۔۔! آپ ناں۔۔ ایک کام کیجیے گا۔۔ اپنا ایڈرس مجھے دے یجے گا۔۔ اگلی فعہ بھی آپ کو ہی بلالیں گے۔۔ اور ڈاسکاٶنٹ لازمی دیجے گا۔

وہ طنز کے بھرپور تیر چلاتی شہیر کو اندر تک زخمی کر گٸ تھی۔

ویسے بڑے افسوس کی بات ہے۔۔۔! دو بچوں کا باپ ہو کے۔۔۔ ایک ایسی لڑکی سے شادی کر رہے ہو۔۔۔ جو ۔۔۔۔۔۔ ایک نظر کوکو کو دیکھا۔ جو واقعی آپ کے لاٸق ہے یہ۔۔۔۔! کیجیے شوق سے کیجیے نکاح ۔۔۔

انابیہ نے اس کے قریب ہوتے زہر خند اناداز میں بات مکمل کی۔

شہیر نے اس کاہاتھبپکڑے اسے پنے مقابل کھڑا کیا۔

اتنا ہی بولو۔۔ جو بعد میں سہن کر پاٶ۔۔۔ ورنہ۔۔۔

ورنہ کیا۔۔؟؟ جھٹکے سے اپنا بازو چھڑایا۔

مجھے ڈرانے یا دھمکانے کی کوشش بھی مت کرنا ۔۔۔! اس نکاح کے بعد۔۔ ملاقات عدالت میں ہو گی۔۔ کیونکہ میں ۔۔ ایک ایسے شخص کے ساتھ کبھی بھی نہخود رہوں گی۔۔ نہ اپنے بچوں کو رہنے دوں گی۔۔ سمجھے تم۔؟؟

وہ پھنکارتے ہوۓ بولی تھی۔ اس بات کے بعد شہیر نے انابیہ کو نہیں بلایا۔

اور آرام سکون کے ساتھ نکاح کو آگے بڑھانے کا بولا۔

انابیہ بس خاموشی سے آنسو بہاتے جا رہی تھی۔

کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔؟؟

مولوی صاحب نے پھر وہیں سے شروع کرنےلگے۔

ایک منٹ مولوی صاحب۔۔۔!راکی کی آواز پے سبھی چوکنا ہوۓ۔

دوسری طرف کوکو کا رنگ فق ہوا۔

اب کی بار وہ اٹھی تھی۔ اپنی جگہ سے۔۔۔۔

یہ نکاح نہیں ہو سکتا۔۔۔! راحیل عرف راکی کی بات پے وہاں مجو سبھی شاک میں چلے گۓ سواۓ ایک شخص کے۔۔ اور وہ تھا شہیر خانزادہ۔

کیا مطلب۔۔؟؟ مولوی صاحب بھی اٹھے تھے۔

جی۔۔۔! یہ میرے نکاح میں ہیں۔ تو نکاحکےطاوپرتو نکاح جاٸز ہی نہیں۔۔؟؟

راحیل کی بات پے سب میں چہ مگوٸیاں شروع ہو گٸیں۔

وکیل صاحب۔۔۔؟؟ راحیل نے ساتھ کھڑے وکیل کی طرف اشارہ کیا۔

یہ لیں۔۔ یہ فاٸل میں موجود ہے۔۔ انہوں نے خلع کا کیس داٸر کیا ہوا ہے۔۔ لیکن۔۔ ابھی یہ فاٸنل نہیں ہوا۔ اس لیے یہ ابھی ان کے نکاح میں ہی ہیں۔

یہ۔۔۔ یہ کیا۔۔ بکواس۔۔ ہے۔۔؟؟ نہیں مانتیمیں اس شخص کو اپنا شوہر۔۔ میں آج ہیکروں گی نکاح۔۔ شہیر سے۔۔۔ کوٸ بیچ میں نہیں آۓ گا۔۔ سنا آپ سب نے۔۔؟ کوکو بہت طیش کے عالم میں بولی۔

کیسا نکاح۔۔؟ تم مسلمان ہو۔۔ بھی یا نہیں ۔۔۔؟ شہیر نے اسے سخت غصہ سے دیکھتے کہا۔

تم۔۔ تم نے مجھ سے کہا۔۔؟؟ تممجھ سے۔۔ نکاح کرو گے۔۔۔؟؟ کوکو نے اس کے قریب آتے اسے چھونا چاہا۔

شہیر نے اس کا ہاتھ پکڑ کے دور جھٹکا۔ انابیہ تو بس دیکھے جا رہی تھی اسی اپنی سماعت پے یقین نہیں آیا۔ کیا واقعی۔۔ یہ سب سچ تھا۔۔؟؟

اسے تو کوکو نے فون کر کے بلوایا تھا۔ کہ تمہارا شوہر مجھ سے نکاح کر رہا ہے۔ آکے دیکھو۔۔ اپنی بربادی۔۔۔!

یہ سچ ہے۔۔ ان کا نکاح نہیں ہو سکتا ۔ یہ الریڈی نکاح شدہ ہیں۔

مولوی صاحب یبات پے سبھی کو سانپ سونگھ گیا۔

نہیں۔۔ میں یہ نکاح کروں گی۔۔۔! شہیر صرف میرا ہے۔۔۔ صرف میرا ہے۔۔ کوکو پاگلوں کی طرح بی ہیو کر رہی تھی۔ راحیل کو شہیر نے اشارہ کیا تو اس نے آگے بڑھ کے کوکو کو قابو کیا اور اپنےساتھ گھسیٹتا لے جانے لگا۔

شہیر۔۔۔! تم غلط کر رہے ہو۔۔ یاد رکھنا ۔۔۔ تم۔نےقسم کھاٸ تھی۔۔۔ اپنی بیوی کی قسم۔۔۔ تم مکر نہیں سکتے۔۔۔

وہ اس کے قریب آتے چلاٸ تھی۔

تم۔جانتے ہو ناں۔۔ قسم توڑی تو۔۔ کیا ہوگا۔۔؟ مر جاۓ گی تمہاری بیوی۔۔! اس نے پراسرار انداز میں کہا۔ وہیں شہیر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا۔ اور اس کا ہاتھ اٹھا تھا۔

خبردار جو میری بیوی کا نام بھی اپنی گندی زبان سے لیا تو۔۔۔؟؟ جان سے مار دوں گا۔۔ اور قسم کی بات کررہی ہو ناں۔۔؟ میں قسم نبھاٶں گا۔۔ جس دن تمہیں طلاق ہوگی۔۔ اسی دن نکاح کروں گا۔۔ ! اب دفعہ ہو جاٶ۔۔ یہاں سے۔۔! شہیر نے اسے زور سے دھکا دیا تو وہ گرتے گرتے بچی۔ اپنے گال پے ہاتھ رکھے۔۔۔ وہ راحیل کے ساتھ گھسیٹتی چلی گٸ۔

سبھی لوگ جہنیں کوکو نے اکھٹا کیا تھا۔ سبھی باری باری تماشا دیکھتے جا چکے تھے۔

وہاں انابیہ اور شہیر ہی رہ گۓ تھے۔

انابیہ کے آنسو بہے جا رہے تھے۔ اس نے شہیر کے لیے کیا کچھ نہ بول دیا بنا سچاٸ جانے۔۔؟؟

اب کیا ہوگا۔۔؟ انابیہ کو ٹینشن ہوٸ۔

اس کے پاس گٸ۔ جو رخ پھیرے اپنا غصہ ضبط کر رہا تھا۔

شہیر۔۔؟؟ آپ۔۔۔؟؟؟ انابیہ نےکچھ کہنا چاہا کہ وہ اس کی جانب پلٹا۔

اور غصہ سے اسے دونوں بازوٶں سے جھکڑا۔

آپ نہیں۔۔ تم۔۔۔! یہی میری اوقات ہی تمہاری نظر میں۔۔ ۔۔ تو ۔۔ یہ آپ والا ڈرامہ بند کرو۔۔۔! شہیر اس وقت سخت غصہ کے عالم میں تھا۔ انابیہ کا کہا ایک ایک لفظ شہیر کے دل مں پیوست ہوا تھا۔

نہیں۔۔۔۔۔؟ وہ روتے ہوۓ نفی میں سر ہلاتے رہ گٸ۔

مجھے لگا ہمارا رشتہ۔۔ بہت مضبوط ہے۔۔ کہ دنیا کی کوٸ طاقت اسے نہیں توڑ سکتی ۔۔۔ لیکن تم نے مجھے غلط ثابت کر دیا۔۔۔ تم۔۔۔؟؟ شہیر بہت کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن وہ خود پے ضبط کرتا وہاں سے باہر نکلتا چلا گیا۔

انابیہ کو اس کی باتیں مزید دکھ دے گٸیں۔ ہوش آیا تو۔۔ فوراً اس کے پیچھے بھاگی۔

وہ روڈ کراس کرتا سامنے جا چکا تھا۔ انابیہ نے ادھر ادھر دیکھا لیکن گاڑیاں آجا رہی تھیں۔ وہ شہیر سے بہت دور تھی۔ وہ آگے آتی تو۔۔ پھر کوٸ نہ کوٸ گاڑی گزرتی وہ رک جاتی۔

شہیر۔۔۔؟؟

أاس نے کرب سے پکارا۔ وہ مڑا تھا۔ اسے نہیں پتہ تھا انابیہ اس کے پیچھے یوں بھاگتی آۓ گی۔

انابیہ اسے دیکھ کے مسکراٸ تھی۔ کہ وہاس کی ایک پکارا پے مڑا تھا۔ اتنا ناراض ہونےکے باوجود بھی اس کی پکارا سنی تھی۔

شہیر نے روڈ پے دیکھا گاڑی بہت سپیڈ سے آرہی تھی۔ اور انابیہ اسے دیکھتی روتی مسکراتی اس کیجانب بڑھ رہی تھی اردگرد کا اسے کوٸ ہوش ہی نہ تھا۔

شہیر کے دل کو کچھ ہوا۔

تم۔جانتے ہو ناں۔۔ قسم توڑی تو۔۔ کیا ہوگا۔۔؟ مر جاۓ گی تمہاری بیوی۔۔!

کوکو کے الفاظ پے وہ دل کو ڈوبتا سا محسوس کرنے لگا تھا۔

بھاگتا ہوا وہ اس کی جانب بڑھا تھا۔ انابیہ اسے بھاگتا دیکھ خود بھی بھاگی تھی اس کی طرف۔ کہ۔۔۔؟؟؟

###############

کنول کا آنکھ کھلی تو اس نے خود کو آفتاب کے حصار میں پایا۔ گزری شب کے لمحات یاد کرتے کنول کے چہرے پے ایک خوب صورت مسکراہٹ نے احاطہ کیا۔ آفتاب گہری نیند میں تھا۔ اور کنول اسے بس دیکھے جا رہی تھی۔

تین سال کی دوری۔۔ تشنگی۔۔۔ پیاس۔۔ ہجر۔۔۔ رات کو سب ختم۔کر دیں۔۔ آفتاب نے۔۔۔! اسے آج اتنے عرصے بعد اپنا آپ مکمل لگا تھا۔ وہ اپنی جنت کو چھوڑ کے نجانے کہاں گم تھی۔۔۔؟

آفتاب کے ماتھےطپے آۓ سلکی بالوں کو ہاتھ سے پیچھے کرتے وہ اس کے چہرے پے ہاتھ پھیرنے لگی۔ اس کی بڑھی بیٸرڈ میں ہاتھ چلاتے اسے ایک سکون سا محسوس ہو رہا تھا۔

پھر دھیرے سے ان پے پنے لب رکھے۔ آفتاب تو اس کے پاس آتے ہی اس کی خوشبو سے جاگ گیا تھا۔ اب اس کی تمام حرات و سکنات کو محسوس کرتا خاموشی سے لیٹا رہا ۔

کنول نے اس کے باٸیں گال پے بوسہ دیا۔

پھر آفتاب کو دیکھا جو بالکل ہی خاموشی سے لیٹا تھا۔ موقع کا فاٸدہ اٹھاتے وہ اس کی پہلے داٸیں آنکھ پھر باٸیں آنکھ پے بوسہ دیتی تھوڑا سا پیچھے ہٹی۔

لو یو ۔۔ فار ایور۔۔ ! ٹِل ماٸ لاسٹ بریتھ۔!

کنول کے لب سے ادا ہوۓ لفظ آفتاب کے دل پے پھوار بن کے برسے تھے۔

دھیرے سے آنکھیں وا کیں۔ لیکن کنول کو نہیں پتہ تھا وہ اآھ کے جانے لگی تھی۔ کہ آفتاب نے اسے کمر میں ہاتھ ڈلتے واپس اپنےحصار میں لیا۔

کہاں جا رہی ہو۔۔۔؟ آفتاب نے اسے اپنے اوپر کھینچا تھا۔

کنول ایک دم سٹپٹا گٸ۔

یہ رہ گٸ ہے جگہ۔۔۔۔۔! آفتاب نے اپنے ہونٹوں کی جانب اشارہ کرتے اسے حصار میں لیے رکھا تھا۔

آپ۔۔۔۔؟؟ آپ۔۔۔۔؟؟ آپ جاگ رہے ہیں۔۔؟؟؟ کنول کو ایک دم سے گھبراہٹ ہوٸ۔

کیوں۔۔؟؟ کیا نہیں جاگنا چاہیے تھا۔۔۔؟؟ اس کے بالوں میں منہ دیتا وہ خمار آلود لہجے میں بولا تھا۔

خأن۔۔۔۔؟؟ وہ کسمساٸ۔

کیا ہے۔۔۔؟؟ ڈسٹرب نہ کرو۔۔۔ ! آفتاب نے اس کی گردن میں منہ چھپاتے آنکھیں موندیں تھیں۔

اچھا۔۔۔ گدگدی۔۔۔ نہ نہ کریں۔۔۔! کنول نے مسکراتے ہوۓ کہا۔

کیا یار۔۔ سارے موڈ کا بیڑا غرق کر کے رکھ دیا تم۔نے۔۔۔! آفتاب اٹھا تھا۔ اور بیڈ کراٶن سے ٹیک لگاتے اسے اپنے قریب کھینچتے اس کا سر اپنے سینے پے رکھا تھا۔ آج کنول کو وہی تین سال پرانا والا خان نظر آنے لگا۔

خان۔۔۔؟؟ اس نے دھیرے سے اسے پکارا۔

ہمممم۔۔۔ وہ آنکھیں موندے بیٹھا اسے محسوس کر رہا تھا۔

آپ نے ۔۔۔ مجھے معاف کر دیا۔۔؟؟ بہت جذب کے عالم میں پوچھا۔

خان خاموش رہا۔۔۔ کنول نے سر اٹھایا۔

بتاٸیں ناں۔۔۔؟؟ کنول نے گھبراۓ ہوۓ پوچھا۔

رات کے بعد یہ پوچھنا باقی رہتا ہے۔۔؟؟ تمہیں میرے عمل سے احساس نہیں ہوا۔۔؟؟

آفتاب نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ کہا۔

آپ کے منہ سے سننا ہے۔۔ اس کا اصرار بڑھا۔

آفتاب نے اسے بیڈ پے لٹاتے اس پے حاوی ہوا۔

کنول۔۔۔! تمہارا ہونا ہی خان کو مکمل کرتا ہے۔۔ بس مجھ سے ایک وعدہ کرو۔۔ کہ کبھی۔۔ مجھے چھوڑ کے نہیں جاٶ گی۔۔۔ کبھی نہیں۔۔ وہ جنونی سا لگا۔

میرا دل سے عہد ہے خان۔۔۔ آپ کی کنول آپ کو چھوڑ کے کبھی کہیں نہیں جاۓ گی۔۔ ہمیشہ آپ کے پاس آپ کے ساتھ رہے گی۔ آپ کا سایہ بن کے۔۔! کنول نے دل سے کہتے اس کے چہرے کو اپنی ہتھیلیوں میں تھاما اور اسکے ماتھے پے بوسہ دیا۔ آفتاب نے اس کی ہتھیلی پے بوسہ دیتے اس کے قریب ہوتا اس کے لبوں پے جھکا۔

عزت احترام محبت سب کچھ تھا اس کے لمس میں۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

اس سے پہلے کہ گاڑی اسے کچلتی ہوٸ آگے بڑھ جاتی شہیر نے اسے تھامتے ہوۓ اپنی طرف کھینچا۔

وہ اس کے ساتھ کھینچی چلی گٸ۔

پاگل ہو گٸ ہو۔۔۔ ؟؟ نظر نہیں آ رہا۔۔؟؟ روڈ پے ایسے کیوں۔۔؟؟ شہیر کا بس نہیں چل رہا تھا۔ کہ اسے رکھ کے ایک دے دے۔

آپ۔ مجھے چھوڑ کے جا رہے تھے۔۔۔۔! انابیہ نے اسے دیکھتے روتے ہوۓ کہا۔

جا رہا تھا۔۔ مر نہیں رہا تھا۔۔ ! شہیر غصہ سے چلا ہی اٹھا۔ انابیہ کے آنسو مید شدت سے بہے تھے۔ بمد کرو ۔۔ یہ رونے کا ڈرامہ۔۔۔! چلو۔۔ یہاں سے۔۔۔! اسکا ہاتھ تھامے وہ جھنجھلاتے ہوۓ بولا۔

اور اپنی گاڑی کی جانب بڑھا۔

💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘

کنول آج بہت فریش سی سب کو ناشتہ کروا رہی تھی۔ اس کا کھلا کھلا روپ دیکھ عظمی تھوڑا چونکی تھی۔ روزانہ وہ سب کو ٹیبل پے ناشتہ سرو کرتی تھی۔ جب سے وہ یہاں آٸ تھی آج کنول الگ ہی روپ میں دیکھی تھی۔ جیسے واقعی وہ ہی اسی گھر کی مالکن ہو۔

آفتاب کی نظر گاہے بگاہے اسی پے جا کے ٹک رہی تھی۔ اس کے گالوں کی لالی نے عظمی کو بہت کچھ باور کروا دیا تھا۔ وہ سر جھکاۓ ناشتہ کرنے میں مصروف تھی۔

عظمی۔۔۔؟؟ کیا ہوا۔۔؟ ناشتہ کرو۔۔۔ خان نے اسے غاٸب دماغی حالت میں دیکھا تو ٹوک بیٹھا۔

جی۔۔ کر رہی ہوں۔۔ !

کنول اس کے بیٹے زیشان کو بھی وہی پرٹوکول دے رہی تھی۔ و اپنے ببچوں کو دے رہی تھی۔

زرا فرق نہیں کیا۔

اس بات سے عظمی کا دل اس کے لیے تھوڑا موم ہوا۔

چلیں مونس ملکہ۔بیٹا ۔۔ اسکول کا وقت ہوگیا ہے۔۔۔ !

کنول نے اٹھتے ہوۓ کہا۔

آج ہم اپنے بچوں کو ایک ساتھ اسکول چھوڑنے جاٸیں گے۔ آفتاب نے بچوں کو پیار سے دیکھتے کنول سے کہا۔

تو وہ دھیرے سے مسکرا دی۔

مونس اور ملکہ نے حیرانی سے باپ اور ماں کو دیکھا۔

رٸیلی۔۔۔؟ ببا۔۔۔؟ مونس کی آنکھیں چمکیں تھیں۔

یس۔۔۔ رٸیلی۔۔۔ میری جان۔۔۔! خان نےمونس اور ملکہ کو دونوں کو پیار کیا۔ اور ان کا ہاتھ تھامے باہر کی جانب بڑھا۔

کنول بھی اسی کے ساتھ دم سے قدم ملاتی باہر نکلی تھی۔ بچوں کو بیک سیٹ پے بیٹھا کے وہ آگے کی جانب بڑھی تھی۔

دونوں ہی خوش تھے۔ بے انتہا خوش ۔ جیسے قست ان پے دل و جان س مہربان ہو گٸ تھی۔ پنےشوہر کی سنگت میں وہ بیٹھتی جی اٹھی تھی۔

آفتاب نے اک بھرپور نظر کنول کو دیکھا۔ اور گاڑی اسٹارٹ کی۔

بچے بھی خوشی سے ماں باپ کو دیکھتے ایکساٸیٹڈ تھے۔

کوٸ نہیں جانتا تھا۔ یہ خوشی داٸمی نہیں۔۔ عارضی ہے۔۔ دکھ گھات لگاۓ ان پے بیٹھا تھا۔

ایک اور کڑی آزماٸش نے ان کا راستہ دیکھ لیا تھا۔

خوشیوں کو نظر لگتے دیر کہاں لگتی ہے۔۔؟؟

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

شہیر نے گھر آتے ہی گاڑی باہر روکی۔ اور انابیہ کو نیچے اتر جانے کو کہا۔

شہیر۔۔؟؟ پلیز۔۔؟؟ وہ بس روۓ جا رہی تھی۔ سارا راستہ وہ روتے ہوۓ آٸ تھی۔

انابیہ۔۔۔ چپ کر کے گاڑی سے اتر جاٶ۔۔ ! بنا اسکی جانب دیکھے وہ دبا دبا چلایا تھا۔

شہیر۔۔۔؟؟ وہ پھر ہمت کرتے بولی تھی۔

اترو۔۔ انابیہ۔۔۔؟؟؟ وہ چلایا تھا۔ انابیہ سہم کے گاڑی کے روازے کے ساتھ جا لگی تھی۔

اور ڈرتے ہوۓ اس ستم گر کو دیکھا۔ جو انتہاٸ غصہ میں تھا۔

وہ فوراً نیچے اتر گٸ۔ اسی وقت شہیر نے گاڑی کو فل سپیڈ پے آگے بڑھایا۔

انا۔۔۔؟؟ شامی کی پکار پے وہ پلٹی تھی۔

کیا ہوا۔۔؟؟ کیوں رو رہی ہو۔۔؟؟ شامی کو کچھ ٹھیک نہ لگا۔

شامی۔۔؟؟ وہ۔ ۔شہیر۔۔؟؟ سب۔۔ میری غلطی ہے۔۔۔! وہ وہیں پھوٹ پھوٹ کے رو دی تھی۔

شامی اسے سینے سے لگاۓ اندر لے کے آیا۔

وہ بس روۓ جا رہی تھی سب اس کے رونے سے پریشان ہو رہے تھے۔

پلیز۔۔ پہلے رونا تو بند کرو یار۔۔۔ اور بتاٶ۔۔ کیا ہوا۔۔؟؟ شامی نے پریشانی سے پوچھا۔

عابی نے اسے پانی پلایا تھا۔ اس نے آنسو پونچھے انہیں ساری بات بتا دی۔

یہ۔۔ وہی لڑکی ہے۔ ۔ناں۔۔؟؟ جو اس دن گھر بھی آٸ تھی۔۔۔؟؟

عابی نے جھٹ سے پوچھا۔

تم جانتی ہو۔۔؟؟ شامی اس کی جانب مڑا تھا۔

نہیں۔۔۔! لیکن۔۔ انا آپی نے۔۔ اسے باہر سے ہی چلتا کیا تھا۔ وہا ندر نہیں آٸ تھی۔ عابی نے مزید بتایا۔ ج کہ انا بس روۓ جا رہی تھی۔

بیٹا۔۔! آپ کو قپنے شوہر پے یقین رکھنا چاہیے تھا۔ نا کہ ۔۔۔ کسی کی بات پے بھی یقین کرتے اٹھ کے کہیں بھی چل پڑتے ہیں۔

جمیلہ خاتون نے سمجھایا ۔

مما۔۔۔! مجھے پتہ ہے۔۔۔ میں نے غلط کیا۔۔ وہ بہت۔۔ غصہ میں ہیں۔۔۔! اس نے پھر سے روتے ہوۓ کہا۔

اچھا۔۔۔ بس کریں۔۔ سب ٹھیک ہو جاۓ گا۔۔۔ جمیلہ خاتون نے تسلی دی تھی

لیکن وہ صرف تسلی ہی تھی۔ انابیہ مطمین نہ ہو سکی۔

جبکہ شامی لب بھینچے اسے دیکھتا رہ گیا۔ اسے سمجھ نہ آیا۔ کہ کیا بولے۔۔۔؟؟ غلطی انابیہ کی ہی تھی۔ وہ اسے کیسے صحیح کہہ دیتا۔۔؟؟

اس لیے خاموش رہنا ہی مناسب سمجھا۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

ملکہ اور مونس دونوں نے باری باری آفتاب اور کنول کا گال چھوا تھا۔ اور ن کو الله حافظ کہتے وہیں کھڑے ان کو جاتا دیکھ رہے تھے۔

بچے آج بہت خوش ہیں۔۔ ناں۔۔؟ کنول نے کسی ٹرانس کی کیفیت میں انہیں پیار سے دیکھتے کہا۔

ہمممم۔۔۔۔ خان نے گلاسز اتار کے جیب میں رکھیں تھیں۔

ایک چمک تھی ناں۔۔ ان کی آنکھوں میں۔۔ ! جو میں نے ہمیشہ دیکھنی چاہی۔

اور اللہ کا لاکھ الکھ شکر ہے۔۔ میرے بچوں کے چہرے پے مجھے وہ مسکان مل گٸ جس کی میں نے ہمیشہ خواہش کی تھی۔

اللہ ہمیشہ انہیں ایسے ہی خوش رکھے۔آمین۔۔۔! کنول نے دل سے دعا دی۔

ثم آمین۔۔۔! آفتاب نے بھی دل سے جذب کے عالم میں کہا۔

چلیں۔۔؟؟ خان نے ایک نظر اسے دیکھا جو ابھی بھی وہیں کھڑی گیٹ کو دیکھے جا رہی تھی۔

جی۔۔۔۔! کنول اس کی جانب مڑی تھی۔

بچوں کو سکول چھوڑتے وہ دونوں وہاں سے نکلے تھے۔

ایک گھڑی کی سوٸ کی ٹک ٹک ۔۔ دوسرا۔۔ بم کی ٹک ٹک ۔۔۔! جو انہی کی گاڑی میں لگا تھا۔ اور وہ اس سے بالکل انجان تھے۔

خان ہم کہاں جا رہے ہیں۔۔؟

أنجان راستہ دیکھتے وہ چونکی۔

ایک بہت خاص جگہ۔۔ جہاں صرف تم۔۔ اور میں۔۔!

کہاں۔۔؟؟؟ کنول نے اشتیاق سے پوچھا۔

سرپراٸز ہے۔

وہ جو اسے سرپراٸز دینے والا تھا۔ ہ نہیں جانتا تھا۔ کچھ لمحوں بعد اس کو ایک بہت بڑا سرپراٸز ملنے والا ہے۔

آفتاب اسے لیے آفس آیا تھا۔

ہم یہاں کیوں۔۔؟؟ کنول کو ابھی بھی حیرانی تھی۔

میری لیگل ایڈواٸزر ہو گی۔۔ آج سے تم۔۔۔!

پفتاب نے مسکراتے ہوۓ اسے بتایا تو وہ سر جھکاۓ مسکراٸ۔

خان۔۔۔! میں گھر ہی ٹھیک ہوں۔۔ میں گھر رہ کے بھی آپ کی لیگل ایڈواٸزر کا کام بخوبی سر انجام دے سکتی ہوں۔۔۔! کنول نے آفس میں اکیلے پن کا فاٸدہ اٹھاتے اس کے قریب آتے اس کے گلے میں بانہیں ڈالیں تھیں۔

آفتاب نے رسیور اٹھاتے اندر کسی کو بھی آنے سے منع کیا تھا۔

اور کنول کی کمر کے گرد حصار بنایا تھا۔

آپ مجھے بہکا رہی ہیں۔۔ پھر سے۔۔۔! اسے جھٹکے سے اپنی طرف کھینچا۔

اسی لیے کہا۔۔ گھر ہی ٹھیک ہیں۔ ہم۔۔۔ ؟؟ ورنہ نہ آپ کام کریں گے۔۔ ناں۔۔ ہم۔۔۔!

کنول نے ایک آنکھ ونک کرتے کہا۔ اور جھٹے سور ہوتی مسکراٸ۔

بالکل نہیں۔۔ آج ہم ساٸیٹ پے جا رہے ہیں۔۔ ایک ڈریم پروجیکٹ شروع کرنے والا ہوں۔ اور چاہتا ہوں۔ اسے تم ہینڈل کرو۔

آفتاب شیر خان نے قطعی انداز میں کہا۔

اور کچھ ضروری فاٸلز چیک کرنے لگا۔

لیکن ایک شرط پے۔۔! کول نے ہامی بھرتے اس کی سیٹ کے پیچھے آکے کھڑے ہوتے کہا۔

وہ اسے مسلسل ڈسٹریکٹ کر رہی تھی۔

کیا۔۔؟ بظاہر سامنے لیپٹاپ پے دیکھتا وہ مکمل اس کی جانب متوجہ تھا۔

بچوں کے اسکول سے گھر آنے کے بعد آپ مجھے گھر چھوڑ کے آٸیں گے۔۔ مطلب۔۔ چھٹی ہوجاۓ گی اس وقت۔۔۔ مجھے۔۔ کیونکہ مجھے اپنے بچوں کے ساتھ وقت بیتانا ہے۔ جو ضاٸع ہوگیا ان کا حساب دینا ہے۔۔ ان لمحوں کو حسین لحوں میں بدلنا ہے۔ اس کے گرد حصار بناۓ وہ بولتی جا رہی تھی۔

خان نے ایک ہاتھ سے اسے آگے کی طرف کھینچا۔ اور وہ اس کی گود میں آگری۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *