Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 42,43)

Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan

کیا بنا ۔۔۔؟ شہیر نے غفار سے پوچھا۔

اس نے ایک گہرا سانس خارج کیا۔ کچھ پتہ ہیں چل سکا ابھی تک سبھی انہیں ڈھونڈنے کی پوری کوشش کر رہےہیں۔ لیکن۔۔؟؟

کوشش۔۔؟؟ شہیر چلایا تھا۔ مجھے خان چاہیے۔۔ ہر حال میں۔۔ سنا۔۔ تم نے۔۔۔! اس نے قطعی انداز میں کہا۔ تو وہ غفار پرتفکر انداز میں سر ہلاتا باہر نکلا۔ کہاں ہو تم ۔۔۔؟؟ یار۔۔؟؟ آفتاب کو یاد کرتا وہجیسے بے بس ہوا تھا۔۔ بس دعا ہے کہ ۔۔۔ تم اور بھابھی ٹھیک ہو۔۔۔ ! وہ ماتھے لو مسلتا وہاں سے خود بھی باہر نکلا ۔

💭
💭
💭
💭
❤
💭
💭
💭
💭
💭

خان۔۔۔! آپ ٹھیک ہیں۔۔ ناں۔۔؟ کنول نے دھیرے سے اسے ڈرتے ہوۓ پکارا ۔

ہممم۔۔! چلو۔۔۔! آفتاب نے اسے نرم نظروں سے دیکھا اور اس کا ہاتھ تھامے وہاں سے نکلتا چلا گیا

کچھہی دیر میں وہ سڑک پے آچکے تھے۔۔ دونوں اطراف سے سڑک سنسان بیابان لگ رہی تھی۔ کوٸ بھی زی روح نہیں تھی۔

اب کیا کریں۔۔؟ کنول نے گھٹنوں پے ہاتھ رکھے خان کی جانب دیکھتے پوچھا۔

اس طرف چلتے ہیں۔۔۔! آفتاب نے ایک طرف سڑک کے اشارہ کیا۔ لمبی سنسان سڑک دیکھتے کنولنے دہل کے تھوک نگلا۔

کہاں تک چلیں۔۔ گے۔۔۔؟ آفتاب کے ساتھ قدم سے قدم ملاتے وہ ہلان ہوتے پوچھنے لگی۔

آفتاب نے دونوں اطرف نظریں دوڑاٸیں۔ کوٸ بھی کس گاڑی کا نام و نشان نہ تک نہ تھا۔

تبھی ایک گاڑی آتی دکھاٸ دی۔ لیکن وہ فل سپیڈ میں تھی۔ انہوں نے لفٹ کا اشارہ بھی کیا لیکن۔۔ گاڑی یہ جا وہ جا۔۔۔!

اوہ۔۔ خدایا۔۔۔! اتنی سخت دھوپ ہے۔۔۔! اور ہمارا کوٸ پرسان حال نہیں۔۔۔

اللہ ہے ناں۔۔! کیوں پریشان ہوتی ہو۔۔؟؟ آفتاب نے اس کی ڈھارس بڑھاٸ۔

کنول مسکراٸ تھی۔ ۔ بالکل۔۔۔! وہ آسمان کی طرف دیکھتی دل ہی دل میں اللہ سے رجوع کرنے لگی۔

اسی لمحے ایک گاڑی اور دور سے آتی دکھاٸ دی۔

جیسے ہی وہ قریب پہنچی۔۔ خان نے اس گاڑی کے پے فاٸر کیا۔ وہ لڑکھڑاٸ تھی ۔آگے جا کے رکی تھی۔ لیکن بمشکل ایکسیڈینٹ سے بچی تھی۔

خان۔۔؟؟ یہ کیا کیا آپ ۔۔نے۔۔؟؟ کنول نے لرزتے ہوۓ اسے دیکھا۔ جس کی آنکھوں میں کوٸ خوف و ملال نہ تھا۔

ہاٶ۔۔ اسٹوپڈ۔۔۔!! تمہاری جرات کیسے ہوٸ۔ اس طرح مجھ پے گولی چلانے کی وہ لڑکی نیچے اترتے چلاٸ تھی۔آفتاب نے کان کھجاتے کنول کو یکھا۔ جس نے نفی میس سر ہلایا۔

ام سوری۔۔۔! پلیز۔۔۔ غلطی سے ہوا ہے۔۔ ! کنول نے صفاٸ دینا چاہی۔

غلطی۔۔؟ ماٸ۔۔ فٹ۔۔۔! اس غلطی سے میری جان بھی جا سکتی تھی۔ وہ پھر سے چلاٸ۔

وہ۔۔۔ ہمیں۔۔ لفٹ چاہیے تھی۔۔۔! کنول نے منمناتے کہا۔

لفٹ۔۔؟؟ وہ حیرانی سے بولی۔

مطلب۔۔؟؟ لفٹ چاہیے۔۔ تو ۔۔ کیا ایسے لفٹ لیتے ہیں۔۔؟؟ گولی مار کے۔۔؟؟ وہ پھر سے تڑخی۔ سوری کہا تو ہے۔۔ پیاری۔۔! کنول نے سماٸل پاس کی۔ تو اس لڑکی نے منہ ٹیڑھا کر کے آفتاب کو دیکھا۔ دونوں کی حالت کچھ ٹھیک نہ لگی۔

آپ زخمی ہیں۔۔؟؟ اب کی بار اس کی نظر پڑی تھی۔ اور اس نے پوچھا۔

جی۔۔ ہمیں۔۔ آپ کی ہیلپ چاہیے۔۔! شہر تک پلیز۔۔؟؟ کنول نے لجاجت سے کہا۔ تو اس لڑکی نے ایک تنقیدی نظر دونوں پے ڈالی۔ کچھ سوچنے لگی۔ آپ کےپاس گن بھی ہے۔۔۔! تو کیسے لے کے جا سکتی ہوں۔۔ آپ کو۔۔؟؟ آٸ ڈونٹ ٹرسٹ سٹرینجرز۔۔۔! وہ کوٸ انیس بیس سال کی لڑکی تھی۔ کچھ معصوم اور کچھ عقل سے پیدل معلوم ہوٸ تھی۔ میرے صبر کو بہت آزما رہی ہے۔۔ لگتا ہے۔۔ دوسری زبان میں بات کرنی پڑے گی۔۔۔! آفتاب نے کنول کے کان یں سرگوشی کی۔ نو۔۔۔! میں بات کر رہی ہوں۔۔ ناں۔۔۔! کنول نے اسے تنبیہ کی۔

پلیز۔۔ ہیلپ کر دیں۔۔ یہ گن صرف سیفٹی کے لیے ہے۔۔۔! کنول نے ابھی بھی دوستانہ انداز اپنایا تھا۔

ٹھیک ہے۔۔! آجاٸیں۔۔ لیکن۔۔اس گن کو مجھے دینا ہوگا۔۔۔! اس کی شرط سن کے آفتاب کا میٹر گھوما۔ وہ کچھ بولتا کہ کنول نے اس کے ہاتھ سے گن کھینچتے ہوۓ اس لڑکی کو تھما دی۔ اور آفتاب کا باو تھامے اسے کچھ بھی کہنے سے باز رکھا۔

اب تو آگیا یقین۔۔۔؟؟ اب چل سکتےہیں۔۔؟؟ آپ کے ساتھ۔۔؟؟ کنول نے آنکھیں پھیلاۓ مسکراتے ہوۓ پوچھا۔

اس لڑکی نے انہیں او کے کا ساٸن دیا۔ اور وہ اس کے ساتھ گاڑی میں جا بیٹھے ۔ وہ دونوں یہاں سے تو بچ نکلے تھے۔۔ اللہ نے ان کی اور زندگی لکھی تھی۔ابھی۔۔ لیکن۔۔۔؟؟ آزماٸش تو اب آنے والی تھی۔۔ کہ زندہ ہوتے ہوۓ بھی زندگی کا احساس نہیں ہونا۔۔۔!

💭
💭
💭
💭
💭
💭
💭
💭
💭

مونس۔۔۔ بیٹا۔۔ کھانا کھالو۔۔۔! اسطرح بھوکے نہیں رہتے میری جان۔۔۔! انابیہ نے اس کی منت کی۔۔ نہیں کھانا مجھے۔۔۔ جب تک مما بابا نہیں آ جاتے۔۔۔! وہ غصہ ہوا تھا۔

بھیا۔۔۔! ملکہ کی روندھی آواز پے مونس چونکا۔ اور آگے بڑھ کے بہن کو حصار میں لیا۔

رونا نہیں۔۔ باربی۔۔! میں ہوں۔۔ ناں۔۔۔! وہ بہن کو رسلیاں دینے لگا۔ جو اس کے ساتھ لگی آنسو بہا رہی تھی۔ اور اناابیہ یہ سین دیکھتی خود بھی اشک بار ہوٸ تھی۔ اسی لمحے شہیر گھر داخل ہوا تھا۔ انابیہ نے بے چینی سے اس کی جانب دیکھا۔ جس کے چہرے پے پریشانی کے آثار واضح تھے۔

کچھ پتہ چلا۔۔۔؟؟ انابیہ نے مغموم امید سے پوچھا۔ اس نے تھکے ہوٸ انداز میں نفی میں سر ہلایا۔ آگےبڑھ کے مونس اور ملکہ کو سینے میں بھینچا۔ وہ بھی شہیر سے باپ کی خوشبو محسوس کرتے اس کے قریب ہوتے کچھ سکون سا محسوس لرنے لگے۔ انکل۔۔۔! ہمارے بابا مما کو واپس لے آٸیں اں۔۔۔! ملکہ نے روتے ہوۓ ہچکیوں سے کہا۔ تو شہیر کی بھی آنکھیں نم ہوٸیں۔ وہ آجاٸیں گے بیٹا۔۔۔! آپ کے بابا مما دونوں بہت بہادر ہیں۔۔ نڈر۔۔ بریو۔۔! وہ ضرور واپس لوٹیں گے۔۔! آپ اللہ سے دعا کریں گے۔۔ ناں۔۔! اللہ ضرور سنے گا۔ اللہ بچوں کی دعا جلد سنتا ہے۔۔ میری جان۔۔! شہیر نے اسے گلے سے لگایا۔ انکل۔۔! مما کہتی ہیں۔۔ میں بہت سٹرونگ گرل ہوں۔۔! ملکہ نے آنسو صاف کرتےکہا۔ یس۔۔ گڈ۔۔! آپ بہت پیاری اور بہت بہادر ہیں۔۔ شہیر نے اسے گلے سے لگاتے ماتھےپے بوسہ دیا۔ اور خود بچوں کوپاس بٹھا کے بھلا پھسلا کے کھانا کھلایا۔

تبسم آنٹی۔۔؟؟ کیسی ہیں۔۔؟ انہوں نے کچھ کھایا۔۔؟ شہیر کو ان کی فکر ہوٸ۔ مما۔۔۔ان کے پاس ہی ہیں۔۔ بہت مشکل سے کھایا۔ اور میڈیسن دے کے زبردستی سلایا۔ انابیہ کے لہجے میں فکر مندی تھی۔ ۔ہممم۔ !

انابیہ نے ناجیہ بی بیکو بچوں کو روم میں لے جانے کا کہا۔ بچے خاموشی سے ان کے ساتھ چلے گۓ۔

آپ کو پتہ ہے۔۔۔؟؟ یہ سب کس نے کروایا۔۔؟ انابیہ اس کے پاس ہی بیٹھتے بولی۔ شہیر نے اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

جاوید خان۔۔۔! انابیہ کے لبوں سے ادا ہونے والا نام سنتا ۔۔ شہیر چونکا۔

تمہیں کا نے بتایا۔۔۔؟؟ وہ حیران ہوا تھا۔ تبسم آنٹی نے۔۔۔! انابیہ جھٹ سے بولی۔ اور پھر تبام بیگم کی کہی ہوٸ ساری باتیں شہیر کو بتا دیں۔

شہیر کے دماغ کی رگیں تنیں تھیں۔ کیا۔۔ ان کی بہن ۔۔ یہیں۔ تھی۔۔؟؟ شہیر کے سوال پے انابیہ نے اس کی طرف ناسمجھی سے دیکھا۔ تبسم آنٹی یہی بتا رہی تھیں۔۔۔۔ کل ہی وہ واپس لوٹیں ہیں۔ حیدرآباد۔۔۔! اپنی میکہ۔۔۔! انابیہ نے اس کی معلومات میں اضافہ کیا۔

مجھے جانا ہو گا۔۔۔! شہیر فوراً اٹھا۔ اس کے دماغ میں کچھ جھماکہ سا ہوا تھا۔ اسے اب سب سمجھ میں آرہا تھا۔ کہاں جا رہے ہیں آپ۔۔۔؟؟ انابیہ نے روکا۔

ضروری کام ہے۔۔ جلدی ہی لوٹوں گا۔۔۔! شہیر کہتے ہوۓ باہر نلت چلا گیا۔ الہی خیر۔۔۔! نجانے یہ سب کیا ہو رہا ہے۔۔؟؟ للاہ سب پے رحم کرنا۔۔۔ انابیہ نے اپنے اللہ کو پکارا ۔

⭐
⭐
⭐
⭐
🌺
🌜
🌜
🌜
✅
✅
✅

سر۔۔ وہ فرار ہو چکے ہیں۔۔! جاوید خان کے خاص آدمی نے اسے اطلاع دی۔تو جاوید خان نے اسے زوردار طمانچہ دے مارا۔ سب ٕحرام حود ہو۔۔۔! ایک آدمی ہی نہیں پکڑا جا سکا ابھی تک۔! غصہ ساتویں پے تھا۔

نکلو۔۔۔ دفع ہو اٶ ۔۔ میری نظروں سے۔۔۔! جاوید خا چلایا تھا۔

کچھ نہیں ہو سکتا۔۔۔ ! اب ہم سب گۓ کام سے۔۔۔ وہ آفتاب شیر خان۔۔۔! اب کسی کو نہیں چھوڑے گا وہ۔۔۔! جاوید خان آواز پے پلٹا۔ وہ زہر خند لہجے میں کہا۔

تو۔۔۔؟؟ اب کیا کروں۔۔؟؟ بھنگڑا ڈالوں یا سوگ مناٶں۔۔؟ جاوید خان تڑخا ۔

نہ بھگڑا نہ سوگ۔۔۔! سیدھا سیدھا ماتم کیتیار کرو۔۔ کیونکہ وہ آنے والا ہے۔۔ شیر کی طرح۔۔ مار گا نہیں۔۔ چیر پھاڑ کے رکھ دے گا۔ وہ لڑکی دانت چبا چبا کے بولی۔ جاوید خان نے دہل کے اسکی جانب دیکھا۔

اس سے پہلے ہی اسے ایسے چکر ویو میں ڈالے گا یہ جاوید خان کہ مجھےتو وہ بھول ہی جاۓ گا۔۔۔! جاوید خان اب اپنے بچنے کی پلاننگ کررہا تھا۔

###############@

یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ چھوٹے خان۔۔؟؟ غفار شہیر کی ساری بات سنتا گھبرایا تھا۔ وہ اتنی جلدی اس ماسٹر ماٸنڈ تک پہنچ جاۓ گا۔ غفار کو آٸیڈیا نہیں تھا۔

تم نے سنا نہیں۔۔؟إ جو دبارہ پوچھ رہے ہو۔۔؟؟شہر نے تنک کے ماتھے پے بل ڈالے کہا۔

چھوٹے خان۔۔ ان کے علاقہ میں جانا۔۔ خطرے سے خالی نہیں۔۔ ! غفار نے سمجھانا چاہا۔ شہیر نے گن لوڈ کر کے اس کی جانب دیکھا۔ میں نے تم سے مشورہ نہیں۔۔۔ مانگا۔۔ میرے بھاٸ آفتاب شیر خان کو خون اتنا سستا نہیں۔۔ کہ اس کے قاتل کو معاف کردوں۔۔۔! خان۔۔ ہوں۔۔ بدلہ بھ یپوری شان سے لوں گا۔۔ کہ جاوید خان کی نسلیں بھییاد رکھیں گیں۔ اس کا قطعی انداز غفار کو بہت کچھ غلط ہونے کا احساس دلا رہا تھا۔ وہ چاہ کے بھی۔ شہیر کو روک نہیں سکتا تھا۔۔ وہ خان تھا۔ آفتاب شیر خان کا بھاٸ۔ اس پے جان چھڑکتا تھا۔ اس کے لیے جان دے بی سکتا تھا۔ تو جان لے بھی سکتا تھا۔ اور غفار۔۔ ! ایسا ہرگز نہیں چاہتا تھا۔۔ وہ آفتاب شیر خان کی واپس کا انتظار کر رہا تھا۔ تا کہ وہ خود واپس لوٹ کے۔۔۔ پنے مجرموں کو خود سزا دیں۔ لیکن ۔۔ یہاں تو۔۔ الٹی ہی گنگہ بہہ رہی تھی۔

شہیر غفار اور اپنے آدمیوں کے ہمراہ جاوید کے خان پیلس میں قدم رکھ چکا تھا۔ اب لڑاٸ آر یا پار کی تھی۔ پیلس میں آنے تک جاوید خان کٸ ایک آدمیوں کو وہ موت کے گھاٹ اتار آیا تھا۔ اس کے تمام سیکیورٹی گارڈز ایک ایک کرکے جان سے ہاتھ دھو رہےتھے ۔ وہ آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ آندھی طوفان کی طرح سب بہا کے لے جا رہا تھا۔ جاوید خانا۔۔۔۔۔! شہیر اونچی آواز میں للکارا۔ تو وہ جو اندر چھپ کے بیٹھے تھے اس للکار پے بری طرح گھبراۓ۔

شہیر جانتا تھا۔ جاوید خان جتنا نڈر بننے کی کوشش کرتا ہے۔ اتنا ہے نہیں۔۔ ! اندر سے وہ انتہاٸ ڈرپوک انسان تھا۔ وہ صرف اپنے فاٸدہ کا سوچتے ہوۓ آگے بڑھنا جانتا تھا چالیں ط

چلنا جانتا تھا۔ لڑوانا جانتا تھا۔ لیکن مردوں کی طرح آمنے سامنے بت کرنے کی س کیاتنی ہمت نہ تھی۔ سامنے آٶ۔۔ جاوید خان۔۔! ورنہ یہاں اور خون کی ندیاں بہیں گیں۔۔ جس سے تم۔۔ اور تمہارا خاندان بچ نہیں پاۓ گا۔ شہیر گن تانے اونچی آواز میں بولتا ایک بار ان سب کو سٹپٹانے پے مجبور کر گیا۔

تم نے تو کہا تھا۔۔ آفتاب شیر خان آۓ گا۔۔؟ لیکن۔۔ یہ تو۔۔؟؟ کوٸ اور ہی آن دھمکا۔۔۔ میرا سارا پلان چوپٹ ہو گیا۔ جاوید خان اپنی گھٹیا چال کو ضاٸع ہوتا دیکھ ساتھ ہی متفکر کھڑی ۔۔۔۔۔۔ سے پوچھا۔

مجھے کیا پتہ تھا۔۔۔؟؟ مجھے تو یہی اندازہ تھا۔۔ آفتاب شر خان آۓ گا۔۔ لیکن۔۔ یہ اس کا بھاٸ ہے۔۔ کزن ۔۔۔! کم یہ بھی نہیں۔۔۔! وہ زہر خند لہجے میں بولی۔

پھر اسی کا بندوبست کر لیا جاۓ۔۔؟؟ جاوید نے آنکھیں گھوما کے پوچھا۔ وہ عورت سوچ میں پڑ گٸ ۔۔ آفتاب شر خان۔۔۔ مزید پاگل ہو جاۓ گا۔۔ اگر اسے۔۔۔ یہ سب پتہ چلا تو۔ بہتر ہو گا۔۔ آفتاب شیر خان کو سیدھا موت کے گھاٹ اتارو۔۔ یہ۔۔ شہیر خانزادہ۔۔ خود ہی ٹوٹ جاۓ گا۔

اسعورت کے اندر نفرت اجاگر ہوٸ تھی ۔

کیا وہ ایسی تھی۔۔؟؟ کیوں۔۔؟؟ ایسا کیا اس نے۔۔؟؟ کیا وجہ رہی اس نفرت کی۔۔؟؟ جو اچانک سے وہ اتنی بڑی چال کھیل گٸ۔۔ ! اس بات سے انجان کے آگے اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔۔؟؟

اسے تو بعد میں دیکھ لیں گے۔۔۔۔چلو۔۔۔ پہلے اس کی خون کی ندیاں بہانے کا ارمان تو پورا کر دیں۔۔ جسے یہ لگتا ہے۔۔ کہ اس نے مجھے توڑ دیا۔۔ ورنہ۔۔ خان پیلس میں گھسنا۔۔ جاوید خان کی اجازت کے بنا۔۔؟؟ ناممکن ہے۔۔۔! آٶ۔۔ اسے بتاتے ہیں۔۔ اس لنکا میں آنا تو آسان ہے لیکن جانا۔۔؟؟ ناممکن! خباثت سے کہتا وہ اس عورت کے ہمراہ باہر نکلا تھا۔

سامنے ہی شہیر اپنے آدمیوں کے ہمراہ کھڑا انہیں آتا دیکھ رہا تھا۔ ایک پل کو شہیر کا وجود کانپا تھا۔ اس کی نظروں کا دھوکا نہیں تھا۔ حقیقت بہت ظالم تھی۔ گن کے ٹریگ پے اس کا ہاتھ لرزا تھا۔

آٶ۔۔خاناں۔۔۔! تمہارا ہی انتظار تھا۔ جاوید خن نے اونچی آواز میں شہیر کا ویلکم کیا۔

بہت دیر کر دی۔۔ مہرباں آتے آتے۔۔! جاوید خان نے مکراتے ہوۓ شعر پڑھا۔ جب کہ وہ عورت مسلسل شہیر کو دیکھے جا رہی تھی۔اس کی نظروں میں موجود نفرت۔۔ شہیر باآسانی دیکھ سکتا تاھا۔

کاش۔۔۔ کہ مجھے ۔۔ پہلے پتہ چلا جاتا۔۔۔ اس سب سازش کا حصہ ۔۔ تم ہو۔۔۔! میرے بھاٸ کی جان کے پیچھے تم ہو۔۔۔ تو آج۔۔ میرا بھاٸ۔۔ میرے ساتھ ہوتا۔۔ شہیر کے لہجے میں درد کرب۔ تکلیف غصہ کیا کچھ نہیں تھا۔

اب پتہ چل گیا ناں۔۔؟؟ وہ پھنکاری تھی۔ شہیر نے گن ابھی بھی ان پے تانی ہوٸ تھی۔ لیکن وہ زرا بھی نہ بوکھلاٸ۔ اور دھیرے دھیرے چلتے سیڑھیاں اترتی نیچے آٸ۔ شہیر بس اسے گن کے نشانے پے رکھے قہر سے دیکھ رہا تھا۔

چھی چھی۔ چھی۔۔۔۔۔۔۔! کیسے دوست۔۔ کیسے بھاٸ ہوناں ۔۔۔ تم۔۔؟ بھاٸ کا ایکسیڈینٹ ہو گیا۔۔۔ اور تمہیں پتہ ہی نہ چلا۔ تمسخرانہ انداز میں کہا۔ جب کہ جاوید خان وہیں اوپر کھڑا ان کا تماشا دیکھنے لگا۔

افسوس۔۔ تو اس بات کا ہے۔۔ جسے وہ بہن کہتا تھا۔۔ مانتا تھا۔۔ جان نچھاور کرتا تھا۔۔ وہی اس کی جان کی دشمن نکلی۔۔۔! شہیر نے بھی نفرت و حقارت سے کہا۔۔ عظمی نے لب بھینچے۔

نہیں۔۔ وہ میرا بھاٸ۔۔۔! بھاٸ ایسے ہوتے ہیں۔۔؟؟ سب کچھ خود ہڑپ کر لیا۔۔ اور ہمیں کیا ملا۔۔؟؟ کیا جاٸیداد میں سارا حق۔۔ بیٹوں کا ہوتا ہے۔؟؟ ہم بیٹیاں۔۔ کہاں ایکسزٹ کرتی ہیں۔۔؟؟ ہمارا کیا حق بنتا ہے۔۔؟؟ کچھ بھی نہیں۔۔۔؟؟ عظمی بھڑکتے ہوۓ بولی تھی۔ شہیر اور غفار س کی سنتے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ شہیر نے نفی میں سر ہلایا۔

ایک بار صرف ایک بار۔۔ خان سے کہتیں۔۔ وہ اپنا سب کچھ آپ کو دے دیتا۔۔ سب۔۔ کچھ۔۔ افسوس۔۔۔ جان ہی نہ پاٸیں۔۔۔؟ اتنی سنگدل اور سفاک نکلیں۔۔ کہ اپنے بھاٸ کو ہی مار ڈالنے کی کوشش کی۔۔؟؟ اور۔۔ یہ سوچ لیا۔۔ کہ۔۔ بچ بھی جاٸیں گیں۔۔؟؟ شہیر نے گن کے ٹریگر پے سختی سے انگلی رکھی۔ غصہ اتنا سخت تھا۔ کہ جی چاہا تھا۔ کہ وہیں زمین میں زندہ گاڑھ دے۔

یہ بس باتیں ہی کرتے رہیں گے۔۔ یا گولی بھی چلاٸیں گے۔۔؟؟ جاوید خان نے ماتھا مسلا۔

بس۔۔ ہو گیا۔۔؟؟ اب دفعہ ہو جاٶ۔۔ یہاں۔۔ سے۔۔۔! عظمی نے رخ پھیرا۔

شہیر چاہ کے بھی عظمی پے گولی نہیں چلا پا رہا تھا۔

کہ تبھی ایک گولی چلی تھی۔ جو عظمی کی کمر پے جا لگی تھی۔ ہر طرف ایک خاموشی چھاٸ تھی۔ دل چیر دینے والی خاموشی۔۔۔!

ڈرتے سہمتے سانس روکے عظمی نے بے یقینی سے شہیر کی جانب دیکھا۔ جو بنا کسی تاثر کے اسے دیکھ رہا تھا۔ اپنی کمر پے ہاتھ رکھے وہ خون کو اپنی ہتھیلی پے دیکھتے لرزی تھی۔ دل و دماغ میں اپنے بیٹے کی شبیہ ابھری تھی۔ زیشان۔۔۔؟

مما۔۔۔؟؟ اسی پل۔۔ زیشان بھاگتا وہ ماں کے پاس پہنچا۔ شہیر کا ہاتھ نیچے کی طرف ڈھلک گیا تھا۔ زیشان روتے ہوۓ کبھی ماں۔ اور کبھی شہیر کو دیکھ رہا تھا۔۔

مما۔۔۔؟ عظمی نیچے گری۔۔ اپنے بیٹے کو بس دیکھے جا رہی تھی۔۔ وہ پھوٹ پھوٹ کے رو رہا تھا۔

مار ڈالو ان سب کو۔۔۔! جاوید خان کی آواز گونجی تھی۔ اور دوسری طرف سے بی گولیاں چلنی لگیں تھیں۔ غفار نے ہوش میں رہتے شہیر کو وہاں سے ہٹایا۔ اور اسے کور کیا۔ اپنا اور اس کا بچاٶ۔۔ کرتے وہ جاوید خان کے آدمیوں کے آمنے سمانے فاٸرنگ کا تبادلہ کرتے کہیں آدمیوں کو مار گرا چکے تھے۔ ایک گولی آتی سیدھی شہیر کے سینے کے پار ہوتی کہ غفار نے وہ اپنے سینے پے کھاٸ۔

غفا۔۔۔؟؟ شہیر اسے گولی لگتے دیکھ تڑپتا اس کی طرف مڑا۔ اور اسے ایک بازو سے سہارا دیۓ اس نے ان سب پے فاٸر داغ دیۓ۔ سبھی کو اپنی گولیںوں کے نشانے پے رکھے وہ زخمی غفار کو لیے وہاں سے نکلا تھا۔ اور نکلتے نکلتے ایک گولی جاوید خان کی طرف ضرور چلاٸ تھی۔ اسے لگی یا نہیں۔۔؟إ یہ نہیں دیکھا۔ اسے اور غفار کو کور کرتے وہ وہاں سے نکلے تھے۔۔

گاڑی میں پہنچتے ہوۓ بھی سب آدمیوں نے ان کو کور کیا۔ کچھ ان کے آدمی بھی جاں بحق ہوۓ تھے۔

سر۔۔ فوراً نکلیں یہاں سے۔۔۔؟؟ ایک آدمی نے آگے بڑھ کے کہا۔ غفار کو ہاسپٹل پہنچاٶ۔۔ فوراً۔ اس ے کچھ نہیں ہونا چاہیے۔۔ سنا تم سب نے۔۔؟؟

شہیر چلایا تھا۔ غفار کو گاڑی میں ڈالتے ہاسپٹل کا رخ کیا۔

خان۔۔ چھوٹے خان۔۔! اسی لمحے ایک گاڑی آ کے رکی۔ شہیر ان کی طرف متوجہ ہوا۔

خن واپس لوٹ آۓ ہیں۔۔ جلدی چلیں۔۔۔! اس آدمی کے اطلاع دیتے ہی شہیر خان کا دل عجیب لہہ پے دھڑکا۔ ایک پل کو اوپر آسمان کی جانب دیکھتےر ب کا شکر ادا کیا۔ اور فوراً گاڑی میں بیٹھتا گاڑی خان منشن کی جانب موڑ دی۔

وہ جلد از جلد آفتاب شیر خان سے ملنا چاہتا تھا۔ اس سے پہلے کے بہت دیر ہو جاتی۔۔۔

💭
💭
💭
💭
💭
💭
💭
💭
😓

مما۔۔۔؟؟ مما۔۔؟؟ آپ ٹھیک ہیں۔۔؟ پلیز۔۔ پلیز۔۔ مما آنکھیں کھولیں۔۔؟؟ زیشان کی روتی آواز سنتے عظمی نے بمشکل آنکھیں کھولتے دیکھا۔ اور زیاشن کے چہرے پے ہاتھ پھیرتے آنکھوں میں آنسو لیے۔۔ عظمی نے مسکراتے اسے دیکھا۔ اور آخری ہچکی لی۔ وہیں اس کا دم نکلا۔ اور جاوید خان بھاگتا ہوا بھانجی تک پہنچا تھا۔

عظمی۔۔؟؟ عظمی۔۔ آنکھیں کھولو۔۔۔؟؟ انہوں نے گھبراٸۓ ہوۓ اس کی نبض چیک کی۔ اس کے دل کی دھڑن رک چکی تھی۔زیشن نے بہت آس بھری نظروں سے۔۔ جاوید صاحب کی طرف دیکھا۔ جہنوں نے آنھوں میں آنسو لیے نفی میں سر ہلاتے عظمی کی آنکھیں بند کردیں۔

زیشان پھوٹ پھوٹ کے ماں سے لپٹ کے رو دیا۔ دوسری طرف جاوید صاحب کو یہ فکر لاحق ہوٸ کہ ارسل کو وہ کیا جواب دیں گے۔۔؟؟ جو اپنا بیٹا۔۔ اور بیوی ان کے پاس امانت کے طور پےچھوڑ کے شہر سے باہر گۓ تھے۔

یہ۔۔۔ شہیر خاننے کیا ہے۔۔ شہیر خان۔۔۔!نہیں۔۔ چھوصوں گا۔۔تمہیں۔۔ جان سے مار ڈالوں گا۔۔ جاوید خان اٹھ کے کھڑے ہوتے چلایا تھا۔زیشان نے انکے چلانے پے نہیں۔۔اس نامپے فوکس کیاتھا۔ جو جاوید خان کے لبوں سے ادا ہوا تھا۔

💭
💭
💭
💭
💭
💭
💭
💭

خان۔۔۔؟؟ آفتاب شیر خان سب سے مل رہا تھا۔ تبسم بیگم اسے زندہ سلامت دیکھ رب کا شکر ادا کر رہی تھیں۔ کنول بچوں سے مل کے جی اٹھی تھی۔ انابیہ بھی کنول اور خان کو دیکھ خوش ہوٸ تھی۔

شہیر۔۔ خان کہاں ہے۔۔؟؟ آفتاب نے اپنے زخموں پے ایک نظر ڈالتے ماں سے پوچھا۔

وہ تو۔۔ غفار کے ساتھ۔۔ نکلے تھے۔؟؟ آپ کو ڈھونڈنے۔۔۔! ابھی تک لوٹے نہیں۔۔ تبسم بیگمنے دھیرج سے کہا۔ وہ بیٹے کے زخموں پے مرہم لگا رہی تھیں۔ کنول نے مڑ کے اپنے محافظ کو دیکھا۔ جس کے ہوتے اسے کوٸ ڈر کوٸ خوف نہیں تھا۔ اتنے سارے دشمنوں میں۔۔۔ موت کے منہ سے۔۔ وہ اسے نکال لایا تھا۔ اسےاپنے شوہر اپنے مجازی خدا پے فخر تھا۔ اوت اسکے دل میں اس کا مقام مزید بڑھ گیا تھا۔ سچ ہی تھا۔۔ اللہ کے نبی کا فرمان ہے۔۔ کہ اگر ۔۔ اللہ کے بعد سجدہ کسی کو جاٸز ہوتا تو میں بیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے مجازی خدا کو سجدہ کرے۔ کنول نے تشکر سے آنکھیں موند لیں۔ اپنے شوہر کو وہ جن میٹھی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔ آفتاب خان سے وہ چھپا نہیں رہ سکا۔

کنول۔۔ یہاں آٶ۔۔ بیٹا۔۔۔! آ کے زخموں پے مرہم لگا دوں۔۔ !تبسم بیگمنے اس ے پکارا تو وہ بچوں کو گلے سے پھر سے لگاتی اٹھی تھی۔ بچے بھاگتے ہوۓ خان سے جا لپٹے تھے۔ اب۔۔۔! آفتاب شیر خان نے انہیں اپنے سینے سے بھینچ لیا۔ وہ باپ کے چہرے کو چوم رہے تھے۔ آفتاب خان نے انہیں دیکھتے پرسکون ہوتے آنکھیں موندیں۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *