Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan NovelR50506 Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 39)
Rate this Novel
Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 39)
Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan
شہیر غفار سے بات کرتا اس کی بتاٸ ہوٸ جگہ پہنچ چکا تھا۔ لیکن وہاں اسے بس گاڑی کے چھتڑے ہی ملے تھے۔ کہاں ہے خان۔۔۔؟؟ شہیر چلایا تھا۔ غفار سے اس کی ملاقات ہوگٸ تھی۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ صحیح سلامت ہوں۔۔ غفار کے لہجے کی مایوسی نے شہیر کو اندر ہی اندر کچلا تھا۔ اس کا دل نہیں من رہا تھا۔کہ خان کو کچھ ہو سکتا ہے۔۔۔؟ آنکھوں میں آنسو لیے وہ اس ساری جگہ کو یاسیت سے دیکھنے لگا۔
خان۔۔۔۔ کچھ نہیں ہوگا تمہیں۔۔۔ تم۔۔ زندہ ہو گے وہ ماٸ کا لال پیدا ہی نہ کیا رب نے۔۔۔جو خان کو مار سکے۔۔۔ ! شہیر دل ہی دل میں خان سے مخاطب ہوا۔
چلو۔۔۔ ۔یہاں۔۔ سے۔۔۔! شہیر نے حکم صادر کیا۔ لیکن ۔۔ خان۔۔؟ غفار کے ماتھے پے بل پڑے۔ شہیر خن نے ایک نظر اسے دیکھا۔
وہ شیر ہے شیر۔۔۔! اتنی آسانی سے دشمن اس کا قلعہ قمع نہیں کر سکتا۔۔۔ وہ جیتا بھی شیر کی طرح ہے۔۔ اور مرے گا بھی شیر کی طرح۔۔۔ ! یہاں کچھ نہیں ملے گا۔۔ وہ یہاں نہیں ہوگا۔۔۔ شہیر نے پورے یقین سے کہا۔ اور آگے بڑھ گیا۔ غفار پھر بھی اپنے کچھ آدمیوں کو وہیں چھوڑ خود شہیر کے ساتھ آگیا۔
مجھے ساری ڈیٹیل چاہیے۔۔۔؟؟ شہیر نے اپنی گاڑی کے پاس پہنچتے غفار سے سنجیدگی سے پوچھا۔
غفار شہیر خازادہ کو جانتا تھا۔ اور کیوں نہ جانتا۔۔۔ خان کے ساتھ اس کا خاص بندہ تھا ۔ وہ جسے شہیر کے ہوتے ہی خان نے ہاٸر کیا تھا۔
سب سیکیورٹی ملی ہوٸ ہے۔۔ ؟؟ غفار کی ساری باتوں کا یہی مطلب شہیر کو سمجھ آیا۔
ساری سیکیورٹی اس سازش میں شامل تھی۔۔۔؟؟ اور اب میں خود پتہ لگواٶں گا۔۔۔ شہیر دل ہی دل میں معصم ارادہ کرتا وہاں سے نکلا تھا۔
یہ اگر سازش تھی۔ تو وہ آفتاب شیر خان کے پیچھے پیچھے ہی ہوں گے۔۔ اور اگر۔۔ آفتاب شیر خان بچ کے نکلا ہو گا۔ تو انہوں نے اسے اپنے قبضے میں لے لیا ہوگا۔ شہیر اپنی سوچوں کو بہت دور تک لے کے جا رہا تھا۔ اسے آفتاب شیر خان کی سوچ تک رساٸ حاصل کرنی تھی۔ تا کہ وہ اس تک پہنچ سکے۔
سر۔۔۔ سیکیورٹی کا ایک آدمی پکڑا گیا ہے۔ غفار نے کال بند کرتے پرجوش انداز میں کہا۔
گڈ۔۔۔۔! گاڑی اسی طرف موڑو۔۔! شہیر بھی مسکرایا تھا۔ وہ اب پوری فارم میں تھا۔











مجھے بابا چاہیے ابھی۔۔۔۔! مونس چلایا تھا۔ انابیہ اسے سنبھالے سنبھالے تھک گٸ تھی۔
بیٹا۔۔۔ آجاٸیں گے وہ۔۔ ! مت پریشان ہوں۔۔ بہت زیادہ ہی وہ انابیہ کو تنگ کرر ہا تھا۔
نہیں۔۔ نہیں۔۔۔ میں جانتا ہوں۔۔ وہاں بہت زور کی آواز آٸ تھی۔۔ میری مما نے جواب نہیں دیا۔۔ ہ ۔
نہیں۔۔ ٹھیک۔۔۔ مجھے مما چاہیں۔۔ بابا چاہیے۔۔ وہ بس روۓ جا رہا تھا۔ ملکہ بھی اسے روتا دیکھ سہمی بیٹھی ہوٸ تھی۔ انابیہ نے روتے ہوۓ انہیں خود سے لگایا۔ وہ بھی کیا کرتی۔۔؟؟ اسے کچھ خود پتہ ہوتا تو وہ کسی سے کچھ شیٸر کرتی۔ کسی بچے کوکوٸ تسلی بھرا لفظ بولتی۔ خود ا سکا دل اتنا گھبرا رہا تھا۔ کہ وہ کچھ بول ہی نہ پا رہی تھی۔
بچوں کو بھلا پھسا کے وہ بہت مشکل سے سلانے میں کامیاب تو ہو گٸ تھی۔ لیکن مونس بہت رو رہا تھا۔ اس کے دماغ سے بلاسٹ کی آواز محو نہیں ہو رہی تھی۔
کیا ملنا۔۔ ؟؟ ملانا۔۔؟؟ یہاں وہ کتنے خوشی سے سرپراٸز دینے آۓ تھے۔ خود وہ سرپراٸز ہوگۓ۔۔؟؟ خاموشی سے وہ تبسم بیگمکے کمرے کی جانب بڑھیں۔ جن کے آنسو تو اب رک چکے تھے۔
آنٹی ۔۔۔ فکر نہ کریں۔ اللہ نے چاہ تو سب ٹھیک ہو جاۓ گا۔
انابیہ نے انہیں حوصلہ دیا۔ یہ سب ۔۔۔ خن بیگم کی وجہ سے ہوا ہے۔ نہ وہ خقن کے نام سارا کچھ کرتیں نہ اس کے اپنے دشمن بنتے۔ وہ تڑخ ہی گٸ تھیں۔ انابیہ نے ناسمجھی سے انہیں دیکھا۔
آپ ۔۔ کس کی بات کر رہی ہیں۔۔؟ خان بھاٸ۔۔۔ تو۔۔ اکلوتے ہیں ناں۔۔؟؟ انابیہ نے تصدیق کرنی چاہی۔
اکلوتا وہ۔۔ ہے۔۔ لیکن۔۔ اس کے باپ نے جو دوسری شادی کی۔۔۔ پھر تیسری۔۔۔۔ ان میں سے ان کی ایک تیسری بیوی تو فوت ہوگٸیں۔ دو جڑواں بیٹیوں کی پیداٸش پے ہی۔ لیکن دوسری بیوی زندہ ہے۔ اور ان کی ایک بیٹی ہے۔ عظمی۔۔۔! جو آج اس منشن میں موجود ہے۔۔
تبسمبیگم۔نے لب بھینچتے کہا ۔
عظمیاپنے شوہر او بچے زیشان کے لیے ایمرجنسی میں حیدرآباد گٸ تھی۔ اور یہاں جو کچھ بھی ہو رہا تھا۔ اس سے قطعی لاعلم تھی۔
تو کیا خان بیگم نے ان کا حصہ نہیں دیا کیا وراثت میں سے۔۔؟؟ انابیہ اب بھی پوری بات نہیں سمجھ پا رہی تھی۔
وہ خود بہت اچھی ہیں۔۔ تبسم بیگم نے انابیہ کی طرف دیکھا۔ لیکن۔۔ ان کے بھاٸ۔۔۔؟ ان کی بری نظر تھی۔۔ پوری جاٸیداد پے۔۔۔! وہ ہی نہیں چاہتے تھے۔۔ کہ خان کو سارے کا سارا وارث بنا دیا جاۓ۔وہ خود اس جاٸیداد میں سے حصہ چاہتے تھے۔
ان کا کیا لینا دینا۔۔؟؟ انابیہ کو غصہ آیا تھا۔
یہی تو بات ہے۔ جتنا ان کا حصہ بنتا تھا۔ اس سے کہیں زیادہ خان بیگم نے انہیں دے دیا ہے۔۔ لیکن اس کے باوجود انہیں ساری جاٸیداد چاہیے۔۔ اسی لیے میں کتنے دن سے حیدرآباد تھی۔ زرگل آفتاب شیر خان کی دوسری بیوی نے بلایا تھا مجھے۔۔۔! اور اپنے بھاٸ کی ساش کا بتایا کہ وہ خان کو۔۔۔ مارنا چاہتے ہیں۔۔ تا کہ۔۔ ساری جاٸیداد ان کی بھانجھی عظمی کو مل جاۓ ۔۔ ! وہ پھر سے دکھی ہوتی رو دیں۔
کتنے ظالم لوگ ہیں۔۔ یہ دنیا والے۔۔ دنیاوی دھن دولت کے لیے اپنی آخرت خراب کر لیتے ہیں۔ اور ان معصوم بچو ںکے سر سے ان کا ساٸباں چھین لیا۔ انابیہ نے کھ سے سوچتے ہوۓ نفی میں سر ہلایا۔
بس اللہ سے دعا ہے کہ خان اور کنول۔۔ دونوں ٹھیک ہوں۔۔ اس سازش میں۔۔ ہو نہ ہو۔۔ زرگل کا بھاٸ۔۔ جاوید خان شامل ہے۔ اک بار میرا خان واپس لوٹ آۓ۔۔ اس جاوید خان کو موت کے گھاٹ اتارے گا۔ تبسم بیگم نفرت اور غصہ سے بولیں تھیں۔ انابیہ بس انہیں دیکھتی رہ گٸ۔ واقعی خانوں کی تو بیویاں بھی خان جتنا غصہ رکھتی تھیں۔










ایک اور گھونسہ پڑا تھا اس شخص کو۔۔ شہیر خانزادہ ایک لمحےکو ہی روکا تھا۔ اس نے خود ہی اس شخص پےبہاتھ صاف ککنے شروع کر دیۓ تھے۔
بولو۔۔۔ گے۔۔؟؟ یا یوہی مر جانا ہے۔۔؟ غار غصہ سے دھاڑا۔ جب کہ شہیر نے ایک او مکا جڑا تھا۔ بتاتا ہوں۔۔ بتاتا ہوں۔۔ مارو مت۔۔۔! وہ رو دیا تھا۔ اور جلد ہی زبان کھولنےکا ارادہ کیا۔
نو۔۔۔ اتنی جلدی نہیں۔۔ ابھی تو آغاز ہے۔۔۔ شہیر نے اپنا غصہ سے بھرا پنچ اس کے منہ پے مارا تو اس کا جبڑا ہی دکھنے لگا۔ اسے لگا ا سکا جبڑا ٹوٹ گیا ہے۔
خدا کے لیے رک جاٶ۔۔ میں سب بتاتا ہوں۔۔! وہ جو رسیوں سے کرسی پ بندھا ہوا تھا۔ روتےہوۓ بولا تھا۔ وہ جانتا تھا۔ خان کے کسی بھی بندے کے ہاتھ لگنا خود کو موت کے حوالے کرنا ہے۔۔ اور وہ اس سے سب کچھ نکلوا کے ہی دم لیں گے۔ اس لیے خود ہی منہ کھولنے کا فیصلہ کیا۔
وہ۔۔ وہ۔۔۔ خان۔۔ ہے۔۔۔! آپ کا دشمن۔۔۔ خان کا دشمن۔۔۔ جاو۔۔۔جاوید۔۔ خان۔۔۔۔! وہ ہکلاتے ہوۓ بولا تھا۔
غفار اور شہیر نے ایک دوسرے کا منہ دیکھا۔
خان کہاں ہے۔۔؟ پوری بات بتاٶ۔۔ ابھی اسی وقت۔۔۔ !
شہیر نے اسے کہتےمارنےکی پھر کوشش کی۔ کہ غفار نے بیچ میں روک دیا۔ اگر اسے ایک اور گھونسہ پڑ جاتا تو وہ مزید کچھ بتا نہ سکتا۔ اس لیے اشارہ کیا کہ او نہ ماریں۔
اور پھر وہ طوطے کی طرح سب بتاتا چلا گیا۔ شہیر نے مٹھیاں بھینچے وہ سب سنا۔
تمہیں کیا لگا۔۔؟؟ تم یہ سب کرو گے۔۔؟؟ تو بچ جاٶ گے۔۔؟؟ اتنی بڑی سازش کا حصہ بن کے تمہیں ہم زندہ چھوڑ دیں گے۔۔؟؟ شہیر نے اسے گریبان سے پکڑا کے جھنجھوڑ ڈالا۔
صاحب پلیز۔۔ مجھے معاف کردو۔۔ مجھ سے غلطی ہوگٸ۔۔ آپ جو کہیں گے ۔۔ میں کروں گا۔۔ لیکن۔۔ بس معاف کردو۔۔ میںرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔۔ میں لالچ میں آگیا تھا۔۔۔ وہ رو دیا۔۔
معاف۔۔؟؟ خن کے قتل کی پلاننگ کی ہے۔۔ اس کا حصہ بنے۔۔ خقن کیگاڑی میں بم فٹ کروایا۔ اور معاف کردیں۔۔؟؟ معافی کے لاٸق ہو تم۔۔؟؟ شہیر جتنے سخت غصہ میں دھاڑا تھا۔ اس ایک پل۔۔ غفار بھی سہم گیا تھا۔
شہیر نے غفار سے گن لے اسے لوڈ کیا۔
اللہ کا واسطہ ہے۔۔ چھوڑ دو۔۔ ؟؟ میں۔۔ میں۔۔ سب کچھ کروں گا۔۔ پولیس۔۔ پولیس۔۔ کو بھی بتاٶں گا۔۔ آپ کا ساتھ دوں گا۔۔ بس۔۔ مجھے چھوڑ دیں۔۔۔ وہ تڑپتے ہوۓ بولا تھا۔
اپنی عدالت بھی ہم خود ہیں۔ اور فیصلہ بھی ہم خود کرتےہیں۔۔ اور خان کا خون اتنا سستا نہیں۔۔ کہ یہ خان معاف کر دے۔
کہتے ہی شہیر نے گن اس کی کنپٹی پے رکھی۔ کہ اسیلمحے غفار نے روک دیا
ابھی نہیں۔ اسکی آنکھوں میں کچھ تھا۔ ایسا۔۔۔ کہ ایک لمحے کو شہیر ٹھٹھکا۔
چلیں۔۔ میرے ساتھ۔۔! غفار اسے لیے۔۔۔ باہر آیا ۔
جب تک خان کا پتہ نہیں چل جاتا ۔۔ اسے زندہ کھنا ہوگا۔۔ اور یہی وہ۔۔ جو ان کے اندر گھس کے ہمیں ان کے بارے میں انفارمیش دے گا۔۔ اور پتہ لگا کے بتاۓ گا۔ کہ خان کو انہوں نے کہاں رکھا ہے۔۔۔؟؟ غفار نے اپنی بات سامنے رکھی۔ ایک پل کو شہیر سوچ میں پڑ گیا۔
ٹھیک ہے۔۔ پھر اس بات کو عملی جامہپہناٶ۔۔ مجھے ہر حقل میں خان چاہیے۔۔ وہ بھی صحیح سلامت۔۔ ! شہیر نے سرد و سپاٹ انداز میں کہا۔ اور باہر نکلا۔
اس کیاپنی سیکویرٹی بھی سخت کر دی تھی۔ غفار نے۔ اسے شہیر کے لیےبھی خطرہ محسوس ہو رہا تھا۔ خان منشن کی سیکیورٹی بھی وہ ڈبل کر چکا تھا۔۔
لیکن۔۔ وہ کیا کرتا۔۔؟؟ جب سیکیورٹی میں ہی دشمن گھس گۓ تھے۔۔ اور وہاں وار کر گۓ جہاں سب سے زیادہ درد ہوا تھا۔ اب اسے بہت احتیاط سے کام کرنا تھا۔ آفتاب خان اور کنول خان کے بعد ان کا اگلا نشانہ۔۔ ان کے بچے ہو سکتے تھے۔ اور ان کو مکمل سیکیور کرنا ہی غفار کی زمہ داری تھی۔ اور اس کے لیے شہیر بھی یہاں موجود تھا۔ اب دیکھنا تھا۔ کہ کسطرح شہیر انہیں پروٹیکٹ کرتا ہے۔ اور خان کو واپس لاتا ہے۔
جاری ہے۔
