Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 01)

Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan

اندھیرے کمرے میں اس نے جیسے ہی قدم رکھا۔

پرانی یادوں نے اسے پھر سے چھیڑ دیا۔

وہ سب کچھ بھلانا چاہتی تھی۔ لیکن نہیں بھلا پا رہی تھی۔

دھیرے دھیرے چلتی اس کمرے میں آٸ۔ جہاں ۔۔ اسکی اور اسکے شوہر کی کچھ بھولی بسری یادیں جڑی تھیں۔

آنکھوں میں آنسو بھر آۓ۔

وہ جتنی باہر سے مضبوط نظر آتی تھی۔ اندر سے اتنی ہی ٹوٹ چکی تھی۔

دراز کھولا۔ اور ایک تصویر ہاتھ میں تھامے وہ ماضی کی یادوں میں کھوتی چلی گٸ۔

دل کو قرار آیا۔۔۔ پہلی پہلی بار آیا۔۔۔!

تجھ پے پیار آیا۔۔۔اوہ یارا۔۔۔۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

شہیر۔! اب بس بھی کر دیں۔ اور کتنا کام کرنا ہے آپ نے۔۔۔؟؟

انابیہ اب تنگ آگٸ تھی۔ اس لیے جھنجھلا کے بول ہی پڑی۔

بس یار۔۔ ! یہ لاسٹ میل ہے۔۔۔! جلدی جلدی لیپ ٹاپ انگلیاں چلاتا وہ مصورف انداز میں بولا تھا۔

وقت دیکھیں۔۔ آپ۔۔۔! چھ سالہ معاویہ کو گود میں اٹھاۓ وہ خفگی سے بولی تھی۔ جو مسلسل اسے تنگ کیے ہوۓ تھے۔

ڈیڈا۔۔۔۔! پلیز۔۔۔ کم ہیٸر۔۔۔۔! معاویہ کی معصوم اور شرارت بھری آواز سنتا وہ تیکھی نظر ان دووں ماں بیٹے پے ڈالتا پھر سے کام میں مصورف ہوگیا۔

معاویہ۔۔۔! پلیز۔۔ بیٹا۔۔ سو جاٶ۔۔۔! آپ کے ڈیڈا۔۔۔ ابھی نہیں ہوتے فری۔۔۔۔!

انابیہ نے منہ بنا کے معاویہ سے کہا۔ جو پھر سے ماں کے بال کھینچ رہا تھا۔

شہیر کے بے جا لاڈ پیار نے اسے بہت زیادہ ٹچی بنا دیا تھا۔ جب تک شہیر اسے گود میں لے کے نہیں سلاتا تھا۔ وہ یونہی تنگ کیے رکھتا تھا۔ ایسے میں انابیہ کی شامت آٸ رہتی تھی۔

میری بچی دیکھی ہے۔۔۔ کتنی سلجھی اور سمجھدار ہے۔۔۔ مجال ہے کہ زرا سا بھی تنگ کر جاۓ۔

دادی کی دیوانی۔۔ چپ چاپ دادی کے پاس سو جاتی ہے۔۔ اور ایک یہ آپ کا لاڈلا۔۔۔! جب تک تگنی کا ناچ نہ نچا لے۔ اسے سکون ہی نہیں آتا۔

انابیہ معاویہ کے ہاتھ سے اپنے بال چھڑاتی بولتی بھی جا رہی تھی۔جبکہ شہیر کانوں کو سیے اپنے کام میں بزی تھا۔ یہ تو روز کا معمول تھا۔

اب بس کریں گے آپ۔۔۔؟؟یا میں یہ لیپ ٹاپ توڑ دوں۔۔؟؟ معاویہ نے اسے گال پے چکی کاٹی تو وہ تڑپ کے گال پے ہاتھ رکھے شہیر سے بولی تھی۔

بس ہو گیا۔۔۔۔! لیپ ٹاپ شٹ ڈاٶن کرتا وہ معاویہ کو گود میں لے چکا تھا۔ اسکی گود میں آتے ہی وہ پرسکون سا ہوگیا تھا۔

انابیہ نے سکھ کا سانس لیا۔

یارا کیوں تنگ کرتے ہو۔۔۔؟؟ ماں کو۔۔۔؟دیکھو تو۔۔ مجھے کھا جانے والی نظروں سے گھور رہی ہے۔

معاویہ کے گالوں پے پیار کرتے وہ انابیہ کو پھر تپا گیا۔

ایک آپ۔۔۔ اور ایک آپ کا بیٹا۔۔۔! ایک جیسے ہو دونوں۔

زور سے تکیہ بیڈ پے رکھے وہ خفگی سے رخ پھیر گٸ۔

جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے۔۔۔اتنا تو میں نے بھی اپنے ماں باپ کو تنگ نہیں کیا۔۔۔ پھر۔۔یہ کس پے چلا گیا ہے۔۔۔؟؟

اب لگا دیں۔۔ میرے میکے والوں پے الزام۔۔۔! انابیہ اسکا اشارہ سمجھتی واپس اسکی طرف مڑتی تڑخ کے بولی تھی۔

شہیر کا قہقہہ گونجا تھا۔ اور معاویہ باپ کو ہنستا دیکھ خود بھی کھلکھلا کے ہنس دیا تھا۔۔

دونوں باپ بیٹا ایک دوسرے کے بنا نہیں رہتے تھے۔

دیوانے تھے ایک دوسرے کے۔

علیزہ شریف اور معصوم سی بچی تھی۔

معاویہ اور علیزہ تھے تو جڑواں۔ لیکن انکی رنگ و شباہت ایک دوسرے سے قدرے مختلف تھی۔

معاویہ اپنے ماموں شاہ میر کی کاپی تھا۔

بس آنکھیں باپ پے تھیں۔ جبکہ علیزے پوری کی پوری شہیر جیسی تھی۔ عادتیں بھی شہیر جیسی۔۔ وہ مکمل کارب کاپی تھی باپ کی۔اور انابیہ کے بہت قریب بھی وہی تھی۔

کچھ ہی دیر میں معاویہ سو چکا تھا۔

معاویہ اور علیزہ کا اٹیچ روم ان کے روم کے داٸیں جانب تھا۔ لیکن وہاں اکثر معاویہ ہی سوتا تھا۔ کیونکہ علیزہ زیادہ تر خانم کے پاس ہوتی تھی۔

دو سال پہلے ارباز خان کی ڈیتھ کے بعد۔ وہ بھی شہیر اور انابیہ کے پاس لندن آگٸ تھیں۔

باپ کی وفات کے بعد شہیر کا رویہ ماں سے قدرے بہتر ہو گیا تھا۔ وہ انہیں معاف کر چکا تھا۔۔

خانم میں بھی کافی بدلاٶ آچکا تھا۔ اپنے بیٹے بہو اور پوتے پوتی کے ساتھ وہ پرسکون تھیں۔

کیا ہوا۔۔۔؟؟

وہ جو تھکی ہاری نیند کی وادیوں میں کھونے لگی۔

شہیر کی اچانک گرفت پے جھٹ سے آنکھ کھلی تھی۔

کھینچ کے اسے خود سے قریب کیا۔

کیا کیا ہوا۔۔؟؟ بہت جلدی نیند آگٸ۔۔؟؟ شہیر نے اسکے بالوں میں چہرہ چھپایا تھا۔

آپ کے صاحبزادے نے اتنا تھکا دیا۔۔ کہ اب بس۔ ہو گٸ ہے میری۔۔۔! انابیہ نے بند ہوتی آنکھوں سے کہا۔

سوجاٶ۔۔۔ میری جان۔۔۔! شہیر نے اسکے لبوں کو دھیرے سے چھوا۔ اور پیچھے ہٹا ۔

انابیہ نے اسکے سینے پے سر رکھا۔ اور اسکے قریب ہوگٸ۔

معاویہ سو گیا۔۔۔؟ نیند میں ڈوبی آواز ۔ممتا سے چور تھی۔

ہمممم۔۔۔۔! شہیر نے پھر سے اسکی طرف کروٹ لیتے اپنی بانہوں میں سمیٹا۔

اسے اپنی فیملی دل و جان سے زیادہ عزیز ہو گٸ تھی۔

جس میں وہ رہتا نہیں جیتا تھا۔

دی جے کی وفات کے بعد دو سال ہی وہ پاکستان رکا تھا۔

اسکے بعد وہ انابیہ اور بچوں کو لیے واپس لندن شفٹ ہو گیا تھا۔

اسے لندن آۓ تین سال ہو سکے تھے۔ اور ان تین سالوں میں پیچھے چھوڑ جانے والوں کی زندگی میں کتنی ہلچل مچی تھی۔ وہ نہیں جانتا تھا۔ ورنہ کبھی چھوڑ کے نہ آتا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

مما۔۔۔! آٸ ڈونٹ وانٹ ٹو ایٹ۔۔۔دس۔۔۔! ملکہ نے منہ بنایا تھا۔

ملکہ۔۔۔! بری بات ہے۔۔۔ کھانا کے لیے ایسے نہیں کہتے۔۔۔! اللہ پاک کی زات ناراض ہوتی ہے۔

کنول اس وقت ایک چھوٹے سے ریسٹورینٹ میں بیٹھی اپنی بیٹی کو کھانا کھلانے کے جن کر رہی تھی۔

وہ چھوٹا سا ریسٹورنیٹ اسکا اپنا تھا ۔ جو اسکی تین سالہ محنت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔

بٹ۔۔ آٸ وانٹ ٹو ایٹ پیزا۔۔۔۔! چار سالہ ملکہ نے پھر سے ضدی پن اپنایا۔

ملکہ۔۔۔۔! آج کوٸ پیزا نہیں۔۔ یہ راٸس کھاٸیں۔۔ اسکے بعد آپ کو کوچنگ کے لیے جانا ہے۔

موباٸل پے آتی کال کو ڈس کونیکٹ کرتی وہ سپون کو ملکہ کے منھ کے پاس لے کے گٸ۔ تو اس نے سپون کو پیچھے دھکیلا۔

وہیں کنول کے صبر کی انتہا ہوٸ تھی۔ اور رکھ کے ایک تھپڑ اس معصوم کو جڑ دیا تھا۔۔

کنول۔۔۔۔؟؟ مسز فاروقی غصہ سے آگے بڑھیں۔

اور روتی ہوٸ ملکی کو گود میں لے لیا۔

اس معصوم پے کیوں ہاتھ اٹھایا۔۔؟؟ بچی ہے وہ۔۔پیار سے سمجھاٶ ناں۔۔؟؟

کتنی دیر سے سمجھا تو رہی ہوں۔۔ لیکن۔۔۔ یہ۔۔سنے تب ناں۔۔۔! ہر وقت کی ضد۔۔۔! کنول کا غصہ ابھی بھی ٹھنڈا نہ ہوا تھا۔ جبکہ ملکہ نے رو رو کے برا حال کر دیا تھا۔

معصوم بچی کا گال لال کر دیا۔۔۔؟؟ بہت ظالم ہو کنول تم۔۔۔! مسز فاروقی افسوس سے بولیں۔

صحیح کہہ رہی ہیں۔۔ میں ہی ظالم ہوں۔ باقی سب تو مظلوم ہیں ناں۔۔ ! غصہ سے کہتی وہ اٹھی تھی۔

ملکہ نے اسکی طرف اپنی بانہیں وا کیں۔ وہ روتے ہوۓ بھی ماں کے پاس جانے کو مچلی تھی۔

کنول نے آنکھوں کے نم گوشوں کو مہارت سے چھپایا۔ اور ملکہ کو گود میں لیا۔ اور سینے سے لگا لیا۔

کنول ۔۔۔۔! وہ ابھی بہت چھوٹی ہے۔۔ اس سے پیار سے پیش آیا کرو۔۔ ! اس طرح کا رویہ رکھ کے تم اسے خود سے دور کر دو گی۔

مسز فاروقی نے پیار سے سمجھایا۔ اور کاٶنٹر کی جانب بڑھ گٸیں

کنول نے زور سے ملکہ کو سینے میں بھینچا۔

کس قدر ۔۔۔ تکلیف دہ تھے یہ لمحات جن میں تُو میسر ہی نہ تھا۔

کنول کو اس بے وفا کی یاد آٸ۔

ٹھیس لگی اور ٹوٹا

دل کا نازک شیشہ

یہ کھیل نصیبوں والا

کوٸ ہارا کوٸ جیتا۔۔۔۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

خان اینڈ شیر گروپ آف انڈسٹر کا اکلوتا وارث

آفتاب شیر خان ۔۔!آج بھی اپنی وجاہت اور مغروری میں اپنی مثال آپ تھا۔

وہ اب صرف اپنا ہی نہیں اپنے سگھے باپ شیر خان کا بزنس بھی ہینڈ آور کر چکا تھا۔۔ اور یہ اب شیر خان کی خواہش پے ہی ہوا تھا۔ جس میں زیادہ ہاتھ خان بی کا تھا۔

ان تین سالوں نے اسے پہلے سے بھی زیادہ غصہ والا اور سنجیدہ بنا دیا تھا۔

اسکی زندگی کا مقصد صرف پیسہ کمانا تھا ۔ کوٸ بھی پروجیکٹ ہو ۔۔کوٸ بھی ڈیل ہو۔۔۔

ہر کمپنی کی کوشش ہوتی وہ آفتاب کو ہی دے۔

وہ مٹی کو سونا بنا رہا تھا۔ لیکن ان تین سالو ں نے اسکی مسکراہٹ چھین لی تھی۔ وہ بس زندگی گزار رہا تھا۔ جینا بھول گیا تھا۔

ایک حادثے نے اسکا سب کچھ چھین لیا تھا۔ وہ آج بھی آفتاب شیر خان تھا ۔ ایک دنیا اسکے نام کو جانتی تھی۔ اسکی شخصیت سب کے لیے پراسرار ہو چکی تھی۔۔

لڑکیاں آفتاب شیر خان سے بات کرنے کو ترستیں تھیں ۔ لیکن وہ ہر اک کو کہأں میسر تھا۔۔؟

وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ایک ہی تھا۔

ایک ہی دل تھا۔

ایک ہی دھڑکن تھا۔ اور اس دھڑکن میں اسکی روح میں آج بھی بس وہ ایک ہی بستی تھی۔

جس کے نقش وہ آج بھی اپنے دل سے نہ مٹا سکا تھا۔

ایک ہی نام۔۔۔

کنول آفتاب خان۔۔

جو اس سے تھی تو دور۔۔۔

لیکن۔۔ آج بھی اسکے نکاح میں تھی۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *