Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 35,36)

Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan

دھیرے دھیرے آنکھوں سے پٹی ہٹی تھی۔

سامنے ہی کاظم اپنے دل کی دھڑن کو روکے کھڑا تھا۔ کومل کی آنکھیں دھیرے دھیرے وا ہوٸیں۔

ایک دھندلا سا منظر تھا۔ آنکھوں کے سامنے۔ جو دھیرے دھیرے مکمل ہونے لگا۔

اور اپنی زندگی کی سب سے اہم اور مہربان ہستی کو دیکھا۔

کاظم علی شاہ۔ اس کا شوہر اس کا ساتھی اس کا ہمدم۔۔۔

کاظم۔۔۔م؟؟ وہ زیرِلب بولی تھی۔ اس کے چہرے کی مسکان بتا رہی تھی۔ کہ وہ کاظم کو دیک رہی تھی۔اس کی آنکھوں کی روشنی واپس لوٹ آٸ تھی۔

میں۔۔۔ میں۔۔ دیکھ سکتی ہوں۔۔؟؟ کاظم۔۔۔؟؟ میں۔۔ دیکھ۔۔ سکتی ہوں۔۔ وہ فرطِ جذبات سے بار بر ایک ہی جملہ دہرا رہی تھی۔ کاظم نے آگے بڑھ کے اسے خود سے لگایا۔

رونا نہیں۔۔۔! بس۔۔ میری جان۔۔ اب سب دکھ ختم ہوجاٸیں گے۔۔۔ !

اسے اینے سے لگاۓ اس کے ماتھے پے بوسہ دیا۔

کانگریجولشن مسٹر کاظم۔۔! ڈاکٹر ان کو مبارک باد دیتا مسکرا کے باہر نکل گیا۔

یہ تو معجزہ ہی ہے گیا۔۔۔ ہے ناں۔۔؟؟ اور تم۔۔۔؟؟ پہلے سے زیادہ ہینڈسم ہو گۓ ہو۔۔۔۔! کومل اپنی ٹون میں واپس آتے چہکی تھی۔

خوشی اس کے چہرے سے ہوا دیدیدہ تھی۔

تو کاظم بی دل سے خوش و آسودہ تھا۔

ایک اور معجزہ بھی ہوا ہے۔ کاظم نے دھیرے سے اس کے کان میں کہا۔

اچھا۔۔۔؟؟ وہ کیا۔۔؟؟؟ اشتیاق سے پوچھا۔

بتاٶں گا نہیں۔۔ دکھاٶں گا۔ چلو۔۔؟؟؟ کاظم اسے لیے ہاسٹل سے باہر آیا۔

کومل۔کو لگا وہ یہ سب پہلی بار دیکھ رہی ہو۔۔۔سب کچھ اتن اچھا اور خوبصورت لگ رہا تھا۔ کہ وہ رب کا شکر ادا کرنے لگی کہ اس نے اس کی آنکھوں کی روشنی واپس لوٹا دی۔

دلہی دل میں رب کا شکر ادا کرتی وہ کاظم کے ساتھ گاڑی کی جانب بڑھی۔

کون سا نعجزہ ہوا ہے بتاٶ ناں۔۔؟؟ کومل گاڑی سے باہر کی دنیا دیکھتی اب کاظم کی جانب مڑی تھی۔

کاظم مسکراتے ہوۓ ڈراٸیوکرتا رہا گھر پہنچتے اس نے کومل کا ہاتھ تھاما۔ اور اسے اندر لے کے آیا۔

وہ پورا گھر دیکھتی ایکساٸیٹڈ ہوٸ تھی۔

کاظم۔۔۔؟؟ وہ منہ بنا کے جھنجھلاٸ تھی۔

اچھا یار بتا دیتا ہوں۔۔ کچھ تو صبر کر لو۔۔۔! کاظم نے اسے پنےقریب بیٹھایا تھا۔ اور کسی کو کال ملاٸ تھی۔ کومل دیکھ نہ سکی۔

اس کا دھیان گھر کی جانب تھا۔ وہ ہر چیز ک بہت شوق سے دیکھ رہی تھی۔ یقین کر رہی تھی۔ کہ وہ دیکھ سکتی ہے اب۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

شہیر ننے گہرا سانس خارج کیا۔ اس وقت وہ اور شامی ایک پرفضا مقم پے بیٹھے تھے۔ شامی نے ہی شہیر کو فون کر کے ملنے کو بلایا تھا۔ وہ بھی کافی ڈسٹرب تھا۔ اس لیے شامی سے ملنے آگیا ورنہ بس غصہ کم کرنے کے لیے گاڑی سڑکوں پے دوڑاتا سڑکوں کی خاک چھان رہا تھا۔

شامی۔۔۔! میں۔۔ اس سے کیا ناراض ہوں۔۔؟؟ مجھے تو آج بھی سمجھ نہیں آٸ۔۔ کہ ہمارا رشتہ میں اتنی بے اعتباری کیوں ہے۔۔؟؟

وہ دکھی ہوا۔

آپ۔۔۔ اسے معاف کردیں۔۔ بھاٸ۔ ! وہ ایسی ہیہے شروع سے۔۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پے ری ایکٹ کر جانے والی۔ بڑی بڑی باتوں کو سہہ جاتی تھی۔

اور بے اعتباری کا نہ بولیں۔۔ جب آپ یہاں نہیں تھے۔ صرف آپ سے نکاح کا بندھن تھا۔ تب بھی ایک دن بھی وہ بے اعتباری کا شکار نہیں ہوٸ۔

ہمیشہ آپ پے یقین رکھا۔ یہاں تک کہ مجھے غلط ثابت کر دیا اس نے۔۔ لیکن آپ پے بھروسہ نہیں توڑا۔

پھر وہ بھروسہ کہاں چلا گیا شامی۔۔؟؟

شہیر کے دکھ بھرے لہجے پے شامی نے ایک نظر اسے دیکھا۔

یہ ایک نیچرلی بات ہے شہیر بھاٸ ۔۔۔!

شاید آپ بھی اس کی جگہ ہوتے تو یہی کرتے۔۔۔ یا اس سے بھی زیادہ ری ایکٹ کرتے۔۔۔؟؟ آپ کے سامنے آپ کے لاٸف پارٹنر کا نکاحٕ ہو رہا ہو تو۔۔؟ آپ ک کیا ری ایکشن ہوگا۔۔؟؟

شامی نے الٹا اس سے سوال کیا۔ وہ خاموش رہا۔

شہیر بھاٸ۔۔۔! اگر ہم مرد یہ کام کریں۔۔ تو ہم چاہتے ہیں۔ ہماری بیوی ہم پے بھروسہ کرے۔

یقین مانیں اگر بیوی یہ کام کرے۔۔ تو ہم۔۔ مرد۔۔ انہیں شوٹ کر دیں۔۔

شامینے ایک تلخ حقیقت اس کے گوش گزاری۔

شہیر بس اسے دیکھے گیا۔

مرد کو اسلاممیں چار چار نکاح کرنے کی اجازت ہے اس لیے بیویاں انسیکیور ہو جاتی ہیں ۔ لیکن بیوی کو نہیں۔۔ اور ہم مرد اس معاملے میں لکی ہیں۔۔ کیا ایسا نہیں۔۔؟؟ شامی اس کی طرف دیکھا۔

بہت بڑی بڑی باتیں کرنے لگے ہو سالے صاحب۔۔۔؟؟

شہیر نے مسکراتے ہوۓ اسے چھیڑا۔

شامی اسے ریلیکس دیکھ مطمین ہوا تھا۔

آپ مجھے شامی کہہ کے بھی پکار سکتے ہیں۔۔ یار۔۔۔!

شامی کو اس کا سالے صاحب کہنا ہمیشہ کی طرح کچھ ہضم نہ ہوا۔

شہیر زور سے ہنسا تھا۔

آپ یہں بیٹھے ہنس رہے ہیں۔ وہں آپ کی زوجہ محترمہ نے آنسوٶں کی ندیاں بہا دیں ہیں۔

شامی نے طنز مارا۔

رونے دو تھوڑا۔۔ آنکھیں صاف ہو جاٸیں گیں۔ اور پھر سب کچھ صحیح صحیح دکھاٸ دے گا اسے۔

شہہر نے پھر سے شامی کو چھیڑا۔

وہ جانتا تھا انابیہ کی آنکھوں کے آنسو شامی کو تکلیف دیتے ہیں۔ وہ ان بوجھ کے بولا تھا۔ برداشت تو اسے بھی نہیں تھے اپنی محبوب بیوی کے آنسو لیکن ابھی وہ تھوڑا اسے تنگ کر رہا تھا۔

شہیر بھاٸ۔۔۔؟؟ شامی نے ریکویسٹ کی۔

ڈونٹ وری۔۔۔! شامی۔۔۔ کل ہماری کراچی کی فلاٸیٹ ہے۔۔ ایک ہفتہ رہتا ہے۔۔ پھر واپس بھی جانا ۔ تو ۔۔۔کچھ دن۔۔ خان کے ساتھ رہنا چاہت ہوں۔۔ ! شہیر نے بہت پیار سے کہا۔ تو شامی ایک م اے اداس ہو گیا۔

ان کے آنے سے گھر بھر میں اتنی رونق ہوگٸ تھی کہ وقت گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا۔ اور اب۔۔؟ وہ اداس سا ہونے لگا۔

لیکن انہیں روک بھی نہیں سکتا تھا اب۔۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

بہت پیاری جگہ ہے۔۔۔

ساٸیٹ پے آتے کنول بہت خوش تھی۔

یہاں۔۔ ہم اپنا ڈریم پروجیکٹ بناٸیں گے۔۔۔ ! آفتاب نے سارا ایریا اسے دکھایا۔

وہ دور تلک۔۔۔ جہاں حدِ نگاہ جاتی ہے۔۔ وہ سب ہماری زمینیں ہیں۔

دوربین سے دیکھتے آفتاب شیر خان نے بہت دلکش انداز میں کنول سے کہا۔ کنول نے اس کے ہاتھ سے دوربین لی۔ اور دیکھنے لگی۔

یہ علاقہ تو بہت خوبصورت ہے۔۔۔ ! جسٹ امیزنگ۔۔۔

بے اختیار کنول کے لب سے ادا ہوا۔

ماشاءاللہ ،،،، کنول آفتاب کے خود کے قریب آنے پے تھوڑا جھجھکی۔

لیکن۔۔ پھر بھی مسکراتی رہی ۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے دونوں کو ایک عجیب سا سرور بخش رہے تھے۔ دونوں ہی ایک دوسرے کی سنگت میں ہواٶں میں اڑ رہے تھے۔

آفتاب نے کنول کا ہاتھ تھاما۔ اور اسے لیے کافی آگے نکل گیا۔

خان۔۔۔؟؟ کنول نے مڑ کے اسے پکارا۔

ہممم۔۔ وہ اس کے ہاتھ کی انگیوں پے میں اپنے ہاتھ کی انگلیاں پھساۓ کسی اور ہی دنیا میں تھا۔

اس کی پکار پے چونکا۔

ہم یہاں اپنے لیے گھر بنا لیں۔۔؟ جہاں آپ میں۔۔ اور ہمارے بچے۔۔۔! بس۔۔۔! پوری دنیا میں ہم ایک ساتھ۔۔۔

کنول نےجذب کے عالم میں کہا ۔

پھر تو ۔۔۔ بچوں میں اضافہ ہونا چاہیے ناں۔۔؟؟ تب ہی بات بنے گی۔

آفتاب نے معنی خیزی سے کہا۔ تو کنول کے گال بلش کرنے لگے۔

یہاں دیکھو۔۔۔! آفتاب نے اس کی تھوڈی سے چہرہ اوپر کی طرف کیا۔

وہ شرماتے ہوۓ رخ پھیر گٸ۔

آٸ نیڈ ون مور بے بی۔۔۔۔! جسٹ لاٸک یو۔۔۔! اس کے قریب ہوتے کہتا وہ کنول کا دل دھڑکاۓ جا رہا تھا۔

ان کے فسوں خیز لمحات کو آفتاب کے موباٸل پے آتی کال نے توڑا۔

کاظم کی کال۔۔۔؟؟؟ آفتاب نے کاظم کا نمبر دیکھتے ہوۓ ایک نظر کنول پے ڈالی۔ جسے یہی بتایا گیا تھا۔ کہ کاظم کومل کو لے کے لاہور ہاسپٹل گیا ہوا ہے۔ اس کی کاظم سے بات ہوچکی تھی۔ کنول کاظم کے کانٹیکٹ میں تھی۔ آفتاب یہ بات نہیں جانتا تھا۔

یس۔۔۔؟؟ آفتاب نے موباٸل کان کے ساتھ لگایا۔

سرکار۔۔۔؟؟ زرا ویڈیو کال پے تو آٸیں۔۔۔ ! کاظم کی چکہتی آواز کانوں سے ٹکراٸ۔ اس کی آواز کا جوش و خروش آفتاب کو بہت کچھ سمجھا گیا تھا۔ کومل کا آپریشن کامیاب رہا تھا۔

آفتاب نے مسکراتے ہوۓ کال کو ویڈیو کال پے ڈالا۔

دوسری طرف حیرت میں ڈوبی کومل دکھاٸ دی۔

تو آفتاب نے کنول کو اپنے حصار میں لیا اور موباٸل کے کیمرے کے سامنے کیا۔

دونوں بہنیں ایک دوسرے کو دیکھ کچھ دیر تو بول ہی نہ پاٸیں۔

کنول۔۔۔؟؟ کمل کے منہ ے بے اختیار ادا ہوا۔ تو دوسری طرف کنول بھی رو دی۔۔۔ ! اس نے موباٸل کی سکرین پے ہاتھ لگایا۔ جیسے کومل کو چھو رہی ہو۔۔

تم۔۔ ٹھیک ہو ناں۔۔؟؟ کنول نے بہت محبت سے پوچھا۔

بالکل۔۔۔۔! اور۔۔ میں دیکھ بھی سکتی ہوں۔۔ کومل نے خوش ہوتے کہا۔ جبکہ ساتھ بیٹھے کاظم کے سینے پے سر رکھا۔

کونل نے دل ہی دل میں ان کی نظر اتاری۔ وہ اللہ کی شکر گزار تھی۔ کہ کومل راہ راست پے آگٸ تھی۔ اور اسے بہت اچھا جیون ساتھی ملا تھا۔

جس نے اسے ہر طرح سے سنبھالا تھا۔

دونوں بہنیں کافی وقت ایک دوسرے سے دکھ سکھ کرتی رہیں۔ اردگرد کا سارا ہوش بھلا کے۔

آفتاب کو اب کوفت ہونے لگی۔ تو اس نے کنول کے گال کے ساتھ اپنا گال جوڑا۔ تو وہ سٹپٹا گٸ۔

کیا کر رہے ہیں۔۔ ؟؟ خان ۔۔ کومل ابھی لاٸیو ہے۔۔۔! دھیمے سے اسے میٹھی آنکھوں سے گھورتے کہا۔

تو کومل نے ہی جھنپتے اللہ حافظ کہتےکال کاٹ دی

وہ جانتی تھی۔ دونوں کی دیوانگی۔۔۔! وہ ایسے تو نہ ملے تھے۔ دونوں نے ہی بہت قربانییاں دی تھیں۔

اب ان کے بیچ دیوار بننا اچھا نہیں لگا۔ اور وہ تو اپنی زندگیکا محور ہی کاظم کو مانتی تھی۔

کال بند کرتےوہ اس کی طرف متوجہ ہوگٸ جو بہت ہی فرصت سے اسے نہارے جا رہا تھا۔

کومل کے چہرےکیمسکان اسے بہت بھلی لگ رہی تھی۔ اب تک وہ جب بھی ہنستی مسکراتی وہ کھوکھلی محسوس ہوتی تھی۔ لیکن آج اس کا اندر کامن بھی خوش تھا۔ اور وہ خود بھی۔

جاری ہے

کال بند کرتے ہی آفتاب اسے لیے ایک اوپن ایریا میں آیا۔ جہاں ایک ٹیبل پے کھانے بپینے کا سامان رکھا ہوا تھا۔

ان کو دیکھ کنول کیبھوک تازی ہو گٸ۔ باتوں کے دوران دونوں نے مل کے کھانا خوب انجواۓ کیا

پھر آفتاب اس کا ہاتھ تھامے مزید آگے نکل گیا ۔

وہ آفتاب شیر خان کی سنگت کو آج دل سے محسوس کر رہی تھی۔ دل سے ہواٶں میں اڑتا محسوس ہو رہا تھا۔

خوش ہو۔۔؟؟ آفتاب نے پیار سے پوچھا۔

بہت۔۔۔۔۔۔ زیادہ۔۔۔! کنول نے اس کا ہاتھ تھاما۔

جانتی ہو کنول۔۔۔۔ تین سال ۔۔۔ تین سال تم سےدور رہا ہوں۔۔ کیسے۔۔۔؟؟ خود پے بندھ باندھے ۔۔؟؟ جانتی ہو۔۔؟؟ آفتاب نے اسے اپنے قریب کیا۔

ہممم۔۔۔۔ آپ کو بہت تکلیف دی ہے ناں۔۔؟؟ بہت بری ہوں ناں۔۔؟ میں۔۔؟؟؟

کنول نے نم لہجے میں کہا۔

نہیں۔۔ ! بہت دلربہ سی ہو تم۔۔۔ ! آفتاب نے اسے گلے سے لگایا۔

ایک بات تو بتاٸیں۔۔۔؟؟ آپ تین سال بالکل ہی دور ہو گۓ۔۔۔؟ ؟ میں نےجو کیا۔۔ غصہ میں کیا۔۔ آپ نے تو۔۔ مجھے ڈھونڈنا بھی ضروری نہیں سمجھا۔۔؟؟ واپس لانا تو بہت دور کی بات۔۔۔؟؟ آخر اتنے دنوں کا شکوہ زباں پے آہی گیا۔

آفتاب نے ایک گہرا سانس خارج کیا۔

ایک دن بھی تم سے اور اپنی بچی سے لاپرواہ نہیں ہوا میں۔۔۔! جانتا تھا۔۔ تم کہاں ہو۔۔۔! میرے پاس نہیں تھی۔ لیکن۔۔ محفوظ تھی۔۔ تمہیں محفوظ کیا۔۔۔ میرے لیے یہی بہت تھا۔ ہاں۔۔ واپس نہیں بلایا۔۔۔ کیونکہ۔۔؟؟ میں چاہتا تھا۔ اس بار تم خود لوٹو۔۔۔! تم خود گٸ تھی۔۔ اسلیے۔۔۔!

مطلب۔۔؟؟ آپ کو پتہ تھا۔۔۔ ہم کہاں ہیں۔؟ کنول کی آنکھیں حیرت سے پھیلتی چلی گٸیں۔

مسز فاروقی ۔۔ مجھے ہر پل کی رپورٹ دے رہی تھیں۔

آفتاب نے ایک اور راز کھولا۔

یعنی۔۔۔؟؟ انہیں ۔۔۔ آپ نے بھیجا۔۔؟؟ کنول پوی کیپوری اس کی جانب مڑ گٸ تھی ۔

پھر تو۔۔ آپ۔۔۔؟؟ ملکہ سے بھی ملتے رہے ہو گے۔۔؟؟

کنول نے شاکی انداز میں پوچھا۔ تو وہ سر جھکاۓ مسکرا گیا تھا۔

آپ بھی ناں۔۔؟؟ کنول نے اس کے سینے پے مکا مارا۔ تو اس نے اس کی کلاٸ کو تھاما۔ اس کی خفگی بھری آنکھوں پے اپنے لبوں کو نرم لمس رکھا تو اس کی پلکیں لرزی تھیں۔

بہت کوشش کی۔۔ نہ ملوں۔۔ لیکن۔۔ نہیں رہ سکا۔۔۔ وہ تھی بھی اتنی پیاری۔۔۔! نہیں روک پایا۔

اور میرا مونس۔۔؟؟ مجھے کتنا یاد آیا ۔۔؟؟ آپپ کو پتہ ہے۔۔؟؟ کنول کی آنکھیں بھیگیں۔

ہمم۔۔۔ جانتا ہوں۔۔ ! لیکن۔۔ تم نے خود یہ فیصلہ لیا تھا۔۔ میں نے نہیں۔۔

آفتاب نے سنجیدگی سے کہا۔ تو وہ رخ پھیرے آنسو صاف کرنے لگی ۔

ادھر دیکھو میری طرف۔۔۔! اب رونا بند کرو۔۔ ! آفتاب نے اسے اپنے سینے میں بھینچا۔

چاروں طرف ہریالی ہی ہریالی تھی۔ یہ آفتاب شیر خان کی وراثت کی زمین تھی۔ ان کے علاوہ وہاں کوٸ بھی نہ تھا۔

گارڈز کو بھی وہ زمین کی باہری حدود تک چھوڑ آیا تھا۔

آپ۔۔ ناں۔۔ بہت۔۔ برے ہیں۔۔! کنول اس کے ساتھ لگی بس اتنا ہی کہہ پاٸ۔

سوچ لو۔۔۔؟ابھی کچھ کیا نہیں۔۔؟ اور برا بھی۔۔؟ آفتاب نے خفگی بھرے انداز میں کہا تو وہ مسکرا دی۔

گھر چلیں۔۔؟؟ بچے انتظار کر رہے ہوں گے۔۔۔؟؟ کافی وقت ہو گیا ہے۔۔

کنول نے موسم کا ٹھنڈا پن محسوس کرتے آفتاب سے کہا۔

شام کے ساۓ اب گہرے ہو رہے تھے۔

ہممم۔۔چلو۔۔۔! آفتاب نے کال کرتے ڈراٸیور کو لوکیشن سینڈ کی ۔

کچھ ہی فیر میں ڈراٸیور گاڑی مت وہاں موجود تھا۔ گاڑی آفتاب کے حوالے کرتا وہ جا چکا تھا۔

آفتاب نے اک بار پھر کنول کا ہاتھ تھاما۔ اور گاڑی کی جانب بڑھا۔ نجانے کیوں۔ اسے عجیب سے احساس نے گھیرا ہوا تھا۔ اسے بس یہی لگ رہا تھا۔ کہ کہیں۔۔؟؟ کنول اس سے چھن نہ جاۓ۔۔ اسے ایک عجیب سے ڈر نے گھیرا ہوا تھا۔

گاڑی اپنی منزل کی جانب گامزن تھی۔ جب کہ ٹک ٹک کیآواز ابی بھی ویسے ہی چل رہی تھی۔ جس کا اب کچھ وقت ہی رہ گیا تھا۔

💌
💌
💌
💌
💌
💌
💌
💌
💌

آج شہیر سب سے اللہ حافظ کہتا کراچی کے لیے روانہ ہو رہا تھا۔ وہ سب سے ہنس کے بات کرتا ہر کی بات کا خوشی سے جواب دیتا لیکن انابیہ کو مسلسل اگنور کیے ہوۓ تھے۔ انابیہ نے کچھ کہنا بھی چاہا تو اسکی سنی ہی نہ۔۔۔! وہ اس سے فی الحال کوٸ بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔

اسے بس ایک بات کا دکھ تھا۔ کہ کوکو کینیت بھی وہ جانتی تھی۔ اس کی باتوں میں وہ کیسے آگٸ پھر۔۔؟ اپنے شوہر پے اس کے کہنے پے شک کرتی وہ وہاں پہنچی ہی کیوں۔۔؟ باہر والا اگر کوٸ بھی کچھ آکے کہے تو وہ کیا اسی طرح یقین کر لے گی۔۔؟ اگر کوکو نے اسے بلایا تھا۔۔؟؟ تو وہ کیوں گٸ۔۔؟ مطلب شک اس کے دل میں بھی تھا۔۔؟

اور اگر۔۔ کوکو نے اسے ٹریپ کر کے کچھ غلط کر دیا ہوتا اس کے ساتھ۔۔؟إ تو۔۔؟ اتنی بڑی بے وقوف تھی وہ کہ یہ بھی نہ سوچا۔۔؟؟ اس سوچ کے آتے ہی اس کا دماغ پھر غصہ سے بھر جاتا۔ ان کچھ دنوں میں اس نے انابیہ سے فاصلہ کھا۔ جمیلہ خاتون نے انابیہ کو صبر سے کام لینے کو کہا۔

اچھا۔۔ اب رونا تو بند کرو۔۔! جمییلہخاتون نے اسے چپ کروایا جو ان کے گلے لگی تھی۔ شہیر اور شامی نے ان اک سارا سامان گاڑی میں رکھا تھا۔ شامی انہیں اٸیرپورٹ چھوڑنے جا رہا تھا۔

عابی بھی اداس ہو رہی تھی۔ اور منہا بھی۔

ڈونٹ کراٸ۔۔۔! معاویہ۔۔۔! ہم پھر جلد ہی۔۔ ملیں گے۔۔

منہا نے معاویہ کے آنسو صاف کیے۔

سبھی ان کے پیار کو دیکھتے نم آنکھوں سے مسکرا رہے تھے۔

علیزہ فضا کی گود سے اتر ہی نہیں رہی تھی۔

فضا انابیہ کے پاس آٸ۔

دیکھ لو۔۔ بہن۔۔! تم کہتی۔۔ پنکی مجھے دے دو۔۔؟؟ جب کہ تمہارا معاویہ تو۔۔ کچھ اور ہی پلان کر رہا ہے۔۔؟؟

فضا نے شرارت سے کہا ۔

تو انابیہ نم آنکھوں سے مسکاٸ تھی۔ اور کتنے دنوں بعد اس کے چہرے پے دھیمی سماٸیل دیکھنے کو ملی تھی۔

شہیر نے کن اکھیوں سے اسے دیکھا۔

وہ سب سے ملتے اب گاڑی میں بیٹھے تھے ان کی آج روانگی تھی کراچی کی جانب آفتاب کی طرف۔۔۔ ان سب نے جانا تھا۔ خان منشن۔۔!

راستے بھر شامی اور شہیر ہی بات کرتے رہے۔ انابیہ بالکل چپ ہی ہوگٸ تھی۔

اٸیر وپرٹ کی حدود میں گاڑی انٹر ہوٸ تو انابیہ کو لگا اپنا دل پیچھے ماں کے گھر ہی چھوڑ آٸ ہو۔

اس نے سختی سے آنکھیں میچٕیں۔

شامی نے آنکھوں کے اشارے سے شہیر کو اس کی طرف متوجہ کرنا چاہا۔ شہیر سب جانتا تھا۔ ایک پل کو بھی اس سے بے خبر نہ ہوا تھا۔

اچھا۔۔؟؟ جی۔۔ ! اپنا بہت خیال رکھیے گا۔۔ اناٶنسمنٹ شروع ہو چکی تھی۔ انابیہ کا ل بھی بہت سخت دھڑک رہا تھا۔

شامی نے اسے گلے سے لگایا۔

اب ۔۔ بس کردو۔۔ پورا لاہو پانی میں ڈبو کے جانا ہے کیا۔۔؟؟ شامی نے اس کے ماتھے پے بوسہ دیا۔ اور شفقت سے اس کے سر پے ہاتھ پھیرا۔

بھاٸ چھوٹے ہوں یا بڑے ۔۔ بھاٸ ہمیشہ بڑے کا ہی درجہ رھتے ہیں۔ شفقت بھرا۔۔ محفوظ ساٸیباں۔۔!

عابی کا بہت خیال رکھنا۔۔۔! اسے ہمیشہ خوش رکھنا۔۔ اس کے بالوں کو ہمیشہ کی طرح خراب کرتے وہ اسے نصیحت کر رہی تھی۔

تم ۔۔ بھی اپنا اور اپنے بچوں کا خیال رکھنا ۔۔ باقی آپ کے شوہر محترم ۔۔ تو۔۔ اپنا خیال خود ہی رکھ سکتے ہیں۔۔ شامی نے چھیڑا تو اس نے پیار بھری خفگی سے نوازا ۔

وہ انہیں الوداع کہتے آگے بڑھ گٸے تھے۔ شامی کی آنکھیں بھی نم ہوٸیں تھیں۔ رخ پھیر کے ہ بھی اپنے آنسو چھپا گیا۔ لیکن بہن اور اس کی فیملی کو دور سے ہی الله حافظ کہتا مسکرایا تھا۔

💌
💌
💌
💌
💌
💌
💌
💌
💌

کیا بنا۔۔؟؟ اسد چیمہ انتہاٸ سرد لہجے میں بولا تھا۔

سر۔۔۔!وہ زمین ہمیں نہیں ملے گی۔۔ آفتاب شیر خان نے اتنا پکا کام کیا ہے۔ ہمارے آدمی وہاں کھڑے بھی نہیں ہو پارہے۔۔۔!

جمیل نے سر جھکاۓ مودب انداز میں کہا۔

اسد چیمہ نے سب کچھ ٹیبل سے ہاتھ مار کے نیچے گرا دیا۔

نہیں چھوڑوں گا ۔ا سے۔۔۔! پہلے میرا پروجیکٹ حاصل کیا ۔ پھر یہ زمین۔۔۔ اس نے مجھے کنگال کرنے کاارادہ کر لیا ہے۔۔ ؟؟ اس سے پہلے ہی اسے۔۔ اسدنیا سے ہی ختم کر دوں گا میں۔

وہ ہمکلای میں ہی چلایا تھا۔ اس کا دماغ بری طرح جھٹپٹ رہا تھا۔

بہت کاری ضرب لگاٸ ہے اس نے مجھ پے۔۔ اب اس کے دل پے کاری ضرب میں لگاٶں گا۔

اسد چیمہ سگریٹ سلگاتے خود بھی سلگ رہا تھا۔

💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔

آنٹی۔! مما۔۔ اور بابا ابھی تک کیوں نہیں آۓ۔۔؟ ہم کب سے ویٹ کر رہے ہیں۔؟

ملکہ نے منہ بنا کے کہا۔ اب تو کافی وقت گزرگیا تھا۔ اور رات کے ساۓ بھی گہرے ہونے لگے تھے۔

بیٹا آجاٸیں گے۔۔ بس۔۔ کچھ دیر تک۔۔ ابھی فون آیا تھا۔ آپ کی مما کا۔۔ وہ راستے میں ہیں۔

ناجیہ بی بی نے انہیں ٹالنے کے لیے جھوٹ بولا تھا۔

لیکن مونس ناجیہ کا موباٸل اٹھاتا آفتاب کے نمبر پے کال ملا گیا تھا۔

آفتاب نے دوسری بیل پے ہی کال رسیو کر لی۔

کیا ہوا۔۔؟؟ سب ٹھیک ہے۔۔؟ فکرمندی سے پوچھا۔

بابا۔۔؟؟ آپ کہاں ہیں۔؟ پلیز۔۔ جلدی آجاٸیں ناں۔۔

we are missing u….

مونس کی پیار آواز کانوں سے ٹکراٸ تو آفتاب مسکرایا۔

بس رادتے میں ہیں۔ میری جان۔۔!پہنچنے والے ہیں۔ آفتاب نےکہتے ہوۓ گاڑی کا موڑ کاٹا۔

موباٸل کنول نے اپنے ہاتھ میں لیا۔ اور مونس سے بات کرنے لگی۔

ملکہ بھی اپنی شروع ہو چکی تھی۔ کہ ایک دم سے گاڑیکا بیلنس بگڑا تھا۔ آفتاب کو کچھ سمجھ نہ آیا تھا۔ کنول کے ہاتھ سے موباٸل گاڑی میں ہی گر گیا۔ وہ بمشکل گاڑی کو پکڑے خود کو سنھبالے ہوۓ تھی۔

شاید کوٸ ٹاٸر پنکچر ہوا ہے۔۔! گاڑی جو ان بیلنس ہو رہی تھی۔ آفتاب کی آواز کنول کے کانوں سے ٹکراٸ۔

گاڑی کو آفتاب نے کچھ راستے پے ڈالا۔

وہ ہاٸ وے پے کوٸ ایکسیڈینٹ افورڈ نہیں کر سکتا تھا۔

وہیں ٹک ٹک کی آواز۔۔ اپنے آخری مرحلے میں پہنچ چکی تھی۔

تبھی ایک بلاسٹ ہوا تھا ۔ بہت بڑا بم بلاسٹ۔

گاڑی ایک دھمکے سے اڑی تھی۔ اردگرد گاڑی کے چھتڑے بکھرے تھے ۔

دھوٸیں نے رات کےاندھیرے کو اپنے اندر چھپا لیا تھا۔

وہیں دوسری طرف۔۔ ان دونوں بچوںنے ماں اور باپ کی آخری چینخ سنی تھی۔ اور ایک دھماکے کی آواز۔ دونوں بچے شاکڈ تھے۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *