Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan NovelR50506 Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 14)
Rate this Novel
Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 14)
Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan
آفتاب کو اپنے سامنے پا کے وہ ایک لمحے کو ٹھٹھکی۔ اور اپنی جگہ سے اٹھتی بنا کچھ کہے اس کمرے سے باہر نکلنے لگی۔ کہ آفتاب اس کے راستے میں حاٸل ہوا۔
کس کی اجازت سے تم یہاں آٸ۔۔؟؟ غصہ سے وہ اسے گھور رہا تھا۔
وہ جو اپنے دوسرے کمرے میں جا رہا تھا۔ اس کمرے کی لاٸٹ آن دیکھ اس طرف آیا تھا۔ وہاں کنول کو دیکھ اسے غصہ آگیا۔
مجھے اپنے کمرے میں آنے کے لیے کسی کی اجازت درکار نہیں۔ کنول نے اسی کے لہجے میں جواب دیا۔تم اپنے سارے حق کھو چکی ہو۔۔ اب تمہارا کسی چیز پے کوٸ حق نہیں۔۔ اس لیے یہاں کی ہر چیز سے دور رہو۔۔۔! بچوں کی خاطر ہو۔۔ یہاں۔ تو انہی تک محدود رہو۔۔ سمجھی تم۔۔۔! آفتاب پھنکار رہا تھا۔ جبکہ کنول کو اس کا انداز بالکل بھی اچھا نہ لگا۔
اچھا۔۔۔؟؟ اور اگر میں آپ کی بات نہ مانوں تو۔۔؟ کیا کر لیں گے آپ۔۔؟؟ سینے پے بازو باندھے وہ چیلنجنگ انداز میں بولی۔
آفتاب نے ایک سخت گھوری سے اسے نوازا۔
میرے ساتھ زبان درازی کرنے کی کوشش بھی مت کرنا۔۔ میں وہ پہلے والا آفتاب نہیں۔ جو تم کچھ بھی بکواس کرو گی اور میں سن لوں گا۔ آفتاب دانت پیستا اس کے پاس ہوا۔ تو وہ ایک قدم پیچھے ہٹی۔
اسے اپنی پوزیشن کا احساس ہوا تو فوراً سر جھکاتی باہر نکلنے لگی۔ کہ ایک دم سے لاٸیٹ آف ہوٸ۔ اس کے قدم وہیں تھم گۓ۔ ایک گہرا سانس خارج کیا۔
لاٸیٹ جاتے ہی جنریٹر آن ہو جاتا تھا۔ لیکن آج نہ ہوا۔
آفتاب کو غصہ آنے لگا۔
عظیم خان۔۔؟؟ عظیم خان۔۔؟؟ وہ چلایا تھا۔ لیکن جواب ندارد۔
آہستہ بولیں۔۔ میرے کانوں کے پردے پھاڑنے ہیں۔۔؟ اپنے پاس ہی کھڑے وہ کنول کی آواز پے بھنا گیا تھا۔ اپنے موباٸل کی روشنی آن کر کے اس نے سامنے کھڑی اس لڑکی کو دیکھا۔ ایک پل کو اسے لگا سب کچھ پلٹ گیا ہے۔۔ تین سال نکال کے پیچھے صرف محبت کو بچا لے۔۔ لیکن۔۔ ان تین سالوں نے ہی تو۔۔ اس کے اندر سے ؟محبت کو ہی اکھاڑ پھینکا تھا۔ نفی میں سر ہلاتا وہ رخ پھیر گیا۔
اسی لمحے کنول کی نظر بھٹکی اور پاس سے گزرتے چوہے سے ٹکراٸ۔
وہیں چینخ مارتی وہ آفتاب کے سینے سے جا لگی۔ آفتاب اس کے نازک سراپے کو خود کے ساتھ لگے دیکھ وہ سانس روک گیا۔
پلیز۔۔۔ پلیز۔۔ اسے دور کریں۔۔ ! وہ جو ۔۔ گن سے نہیں ڈرتی تھی۔۔ ہر طرح کی مشکل اور پریشانی کو چٹکیوں میں اڑا دیتی تھی۔ لیکن۔۔ ڈرتی تھی تو ایک چوہے سے۔۔ وہ ابھی بھی آفتاب سے لپٹے لرز رہی تھی۔ اور نہیں جانتی تھی۔ کہ اپنے لیے کتنی بڑی مصیبت مول لے رہی ہے۔۔ آفتاب کے سوۓ جذبوں کو جگا کے۔
آفتاب کے دل کی دھڑکن میں ارتعاش پیدا ہوا۔ سب کچھ ایک پل کے لیے دماغ سے بلینک ہو گیا۔ بس دل تھا اور اس دل میں کنول اس کا پیار۔۔ آفتاب آنکھیں بند کیے اس کے وجود کو محسوس کرتا اس کے گرد حصار باندھنے لگا۔ کہ تبھی لاٸیٹ آگٸ۔
اور کنول آنکھیں کھولتی اردگرد دیکھتی پیچھے ہٹی۔
آفتاب نے گہرا سانس خارج کرتے خود کو کمپوز کیا۔ اور رخ پلٹا۔
اس کمرے میں میں تو بنا اجازت آگٸ۔۔ ؟؟ کیا یہ چوہے۔۔آپ کی اجازت سے یہاں رہ رہے ہیں۔۔؟؟ طنز کرتی نفی میں سر ہلاتی وہ باہر نکل گٸ۔ اسی لمحے آفتاب کی نظر اس کے ہاتھ پے پڑی جو پہلے اس نے آنچل میں چھپایا ہوا تھا۔
فوراً سے اسکا ہاتھ تھاما۔
یہ۔۔ کیا ہوا۔۔؟؟ لہجے میں فکر تھی۔ کنول تو اسکا انداز دیکھتی حیران ہوٸ۔ لیکن اگلے ہی پل اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑا لیا۔
زخم تو ابھی بہت سے ہیں۔۔
جہنیں بھرنا باقی ہے۔۔
سلگتی یادوں کےحصار سے۔۔
خود کو نکالنا۔۔ ابھی باقی ہے۔۔
ابھی تو وقت کا تقاضا ہے۔۔ کہ ساتھ ہیں۔۔
ابھی تو وقت وہ بھی آۓ گا۔۔ جب۔۔۔
دل سے اترنا باقی ہے۔۔






دکھی انداز میں کہتی وہ وہاں سے باہر نکل گٸ۔
آفتاب بس اس کی پشت دیکھتا رہ گیا۔
اپنی بے اختیاری پے اسے شدید غصہ آیا۔ اور ایک نظر اس کمرے کو دیکھتا وہاں سے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔








السام آباد اٸیر پورٹ سے وہ اب جمیلہ خاتون کے گھر کی طرف جانے کا ارادہ کر چکے تھے۔
کراچی وہ کچھ دن ٹھہر کے جانے والے تھے۔
معاویہ اور علیزہ بہت خوش تھے۔ ان کو سارے راستے شامی اور فضا آپی کے قصے سناتی آٸ تھی۔
اور انابیہ خوش اس لیے بھی تھی۔ کہ شہیر اسے سب سے پہلے اس کے ماں باپ سے ملوانے لایا تھا۔
اس کے چہرے پے خوشی دیکھتا وہ بھی مسرور ہوا تھا۔
بابا۔۔ ؟ ہم کب پہنچیں گے۔۔؟ معاویہ نے ایکساٸٹڈ ہوتے پوچھا۔
بیٹا۔۔ ابھی۔۔ ہم ہمارے فلیٹ پے جا رہے ہیں۔ ان شاء اللہ کل ہم لاہور جاٸیں گے۔۔
گاڑی کا رخ موڑتے وہ پیار سے بولا۔ اتنے لمبے سفر سے وہ سبھی تھک گۓ تھے۔
اس لیے شہیر انہیں اسلام آباد کے فلیٹ میں لے آیا تھا۔
کھانے پینے کا سب سامان بھی ساتھ ہی لایا تھا۔
بہت تھک گۓ۔۔۔! شہیر نے صوفے پے ٹانگیں سیدھی کرکے بیٹھتے کہا۔
آپ تو ایسے کہہ رہے ہیں۔۔ پیدل لندن سے لے کے آۓ ہیں۔
انابیہ نے مذاق میں کہا۔
یار ۔۔۔ ایک کپ چاۓ تو پلا دو۔۔؟؟ محبت سے بیوی کو کہا۔
جی جناب ۔ اور کوٸ حکم۔۔۔؟؟ مسکراہٹ دباتے کہا۔
ابھی کے لیے صرف چاۓ۔۔۔ باقی ۔۔ کا مینیو رات کو بتاٶں گا۔۔۔! معنی خیزی سے کہتے وہ انابیہ کا چہرہ خفت سے لال کر گیا۔ وہ اٹھ کے کچن میں جا چکی تھی۔
شہیر نے گہرا سانس خارج کیا۔ آفتب بھاٸ کو تو آنے کی اطلاع ہی نہیں دی۔ انہیں بتا دیتا ہوں۔
سوچتے ہوۓ جیب سے موباٸل نکالا۔ اور آفتاب کو کال کرنے کا سوچا کہ اسی لمحے کلثوم کی کال آتی کھاٸ دی۔
شہیر نے ایک نظر کچن میں کھڑی انابیہ کو دیکھا۔ جو مسکراتے ہوۓ خانم کے ساتھ مل کے کھانے پینے کا انتظام کر رہی تھی۔
شہیر نے کال کاٹ دی۔
لیکن کال دوبارہ سے آنے لگی۔ تو شہیر نے کل رسیو کرتے گیلری ک رخ کیا۔
شہیر خان۔۔؟؟ میری کال کیوں کاٹی تم نے۔۔؟؟ وہ زرا کا زرا بھڑکی۔
کیوں کال کر رہی تھی۔۔؟؟ کوٸ کام تھا۔۔۔؟؟ روکھے انداز میں پوچھا۔
تم نے جس مصیبت میں مجھے ڈالا۔ اس میں سے اب نکالو گے بھی تم۔۔۔! وہ تیز لہجے میں بولٕی۔
کونسی مصیبت۔۔؟؟ سرسری انداز میں پوچھتا وہ گیلیری سے نیچے روڈ پے یکھنے لگا۔
جونی نام کی مصیبت۔۔۔! وہ تڑخی۔
جونی نہیں جمشید نام ہے اس کا۔۔۔! اور شوہر ہے تمہارا وہ۔۔ عزت سے بات کرو۔
اسے میرے شوہر کے درجے پے بھی تم نے فاٸز کیا۔ ورنہ کوکو اسے اپنا ملازم بھی نہ رکھتی۔
کوکو کے لجہے میں بے انتہا غصہ تھا۔
یہ سب۔۔ تمہیں دو سال بعد یاد آیا۔۔ ؟ شہیر کے انداز میں حقارت تھی۔ جو کوکو کو طیش دلا گٸ۔
نبھانے کی کوشش کی ۔ صرف تمہاری وجہ سے۔۔ ! کیونکہ تم۔۔ اپنی زندگی میں آگے بڑھ گۓ تھے۔ مجھے چھوڑ کے۔۔۔! لیکن۔۔۔۔۔ نہیں ہو سکا کچھ بھی۔۔ ٹھیک۔۔۔! سب ختم ہو گیا۔۔۔۔ مجھے جونی کے ساتھ اب نہیں رہنا۔ مجھے اس سے ڈاٸیورس چاہیے۔
خان۔۔۔! آجاٸیں کھانا ریڈی ہے۔
انابیہ کی آواز پے شہیر چونکا۔
آیا میری جان۔۔۔! وہ بھی اسی کے انداز میں محبت سے بولا۔ کہ دوسری طرف کوکو سلگ کے رہ گٸ۔
اپن مسٸلے خود سالو کرو۔۔۔ مجھے نہیں بیچ میں گھسیٹو۔ انڈرسٹینڈ۔۔۔ ! سنجیدہ انداز میں کہتے کال کاٹ دی۔
یو۔۔۔؟؟؟ کوکو نے موباٸل بیڈ پے پھینکا۔
تمہیں تو میں نہیں چھوڑوں گی۔۔ چاہے اس کے لیے مجھے کسی بھی حد تک جانا پڑے۔
کوکو دل ہی دل میں پلاننگ کر رہی تھی۔ جبکہ شہیر اپنی فیملی کے ساتھ زندگی کے حسین لمحات کو جی رہا تھا۔








چلو۔۔ عابی۔۔؟؟ یہ کھا لو۔۔۔ تھوڑا سا ۔۔۔۔ پھر میڈیسن بھی لینی ہیں۔
شامی عابی کو گھر لے آیا تھا۔ اور اب بہت اچھے سے اس کا خیال رکھ رہا تھا۔ جب کہ وہ نہیں جانتی تھی۔ کہ وہ امید سے ہے۔
ہمیں عجیب سا فیل ہو رہا ہے۔ شامی۔۔۔ پلیز بس اور نہیں۔۔ اس نے چاول ایک طرف کر دیۓ۔
اچھا۔۔ چلو۔۔ یہ میڈیسن لے لو۔۔ پھر دودھ پی لینا۔
شامی نے فکر سے کہا۔
آپ۔۔ اتنا کیوں پوزیسسوو ہو رہے ہیں۔۔؟ ؟ہم بالکل ٹھیک ہیں آپ پاس ہیں۔ منہا پاس ہے۔۔ اب بالکل ٹھیک ہیں ہم۔۔۔۔
جانتا ہوں۔۔ لیکن۔۔ اب کٸیر بھی تو کرنی ہے ناں۔۔؟؟ آخر تمہاری خواہش جو پوری ہو رہی ہے۔۔ پھر سے ماما بننے والی ہو تم۔۔۔! شامی نے اسے واپس پہلے کی ٹون میں چھیڑا تو ایک پل کو عابی کے چہرے سے مسکان ہٹی ۔
کیا۔۔۔ کیا۔۔۔ مطلب۔۔؟؟ آپ کے کہنے کا۔۔؟؟
ایسے کیوں دیکھ رہی ہو۔۔؟؟ کیا تم نہیں جانتی۔۔؟؟ شامی نے اس کا ہاتھ تھامتے دھیمے لہجے میں پوچھا۔
جب کہ عابی کے چہرے پے اب بھی سنجیدگی تھی۔
میری بہت خواہش تھی۔۔ کہ پھر سے بابا بنوں۔۔ ! بہت۔۔ خوش ہوں میں۔۔ ! شامی نے اس کا ہاتھ سہلاتے کہا۔ جبکہ عابی نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے کھینچ لیا۔
شامی نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
اس کا۔۔ مطلب۔۔؟؟ آپ۔۔ ہمیں۔۔ اس لیے یہاں لاۓ۔۔ کہ۔۔ ہم۔۔۔ پریگننٹ ہیں۔۔۔! عابی کی آنکھیں نم ہوٸیں۔
جاری ہے۔۔۔۔
