Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 07)

Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan

اسکول میں وہ داخل ہو چکی تھی۔ اب اسے کسی بھی طرح کر کے مونس سے ملنا تھا۔ اور یہ بھی مٸلہ حل ہو گیا۔ بریک ٹاٸم تھا وہ ایک بینچ پے بیٹھا لنچ باکس کھول چکا تھا۔ اور اسے کھانے کا ارادہ کرتا ایک سینڈویچ کا باٸٹ لے چکا تھا۔

تبھی ملکہ کو اسی بینچ پے ایک طرف بٹھاتی وہ مونس کے قریب جا بیٹھی۔

مونس نے ابھی تک دھیان نہ دیا تھا۔

منھ میں باٸٸٹ رکھتے غیراادی نظر اپنی داٸیں جانب گٸ تو وہ سکتے میں ساتھ بیٹھی ہستی کو دیکھ ٹھٹھک گیا۔

اور جھٹکا کھاتا وہاں سے اٹھا تھا۔ اسے یقیین نہ آیا کہ وہ خواب ہے یا حقیقت۔۔۔؟؟

کنول نم آنکھوں سے اسے مسکراتے ہوٸے دیکھ رہی تھی۔

جب کہ وہ بار بار پلک جھپک کے خود کو یقین دلا رہا تھا۔ کہ وہ حقیقت ہے خواب نہیں۔

کنول نے آگے بڑھ کے اسے تھامنا چاہا۔ لیکن وہ اپنے پیروں پے کھڑے ہی نہ ہو پارہی تھی۔ اپنی بانہیں وا کیں۔ اور اپنے بیٹے کو اپنے پاس بلایا۔

وہ دھیرے دھیرے چلتا اس کے پاس آیا۔ بے ییقنی سے کنول کے چہرے کو چھوا۔ کنول نے اس کا ہاتھ تھام کے اپنے لبوں سے لگایا۔ آنسو متواتر بہتے چلے جا رہے تھے۔

مما۔۔۔۔؟؟ آپ۔۔ سچ میں آگٸ ہو۔۔؟؟ مونس نے حیرت اور خوشی سے پوچھا۔

ہمممممممم۔۔۔۔ آنسو کا گلہ گھوٹتے سر اثبات میں ہلاتے وہ مونس کو یقین دلا رہی تھی۔

مونس نے ایک جھٹکے سے کنول کو گلے سے لگایا۔

کنول کو لگا آج اس کی ممتا کو سکون مل گیا ہو۔

زور سے اسے خود میں بھینچا۔

مما۔۔۔۔ کہاں چی گٸ تھیں۔۔۔ آپ۔۔۔؟؟ میں نے آپ کو کتنا مس کیا۔۔۔؟؟ روز آپ کو خواب میں دیکھتا تھا۔۔۔ آپ مجھے کیوں چھوڑ کے چلی گٸیں۔۔؟؟

وہ بھی روتا جا رہا تھا۔ اور سوال کرتا جا رہا تھا ۔

ایم سوری۔۔۔۔! میری جان۔۔۔ مما کو معاف کردو۔۔۔!کنول نے روتے ہوۓ بمشکل خود کو سنبھالتے مونس کا ماتھا اسکا چہرہ اس کے ہاتھ سب چوم رہی تھی۔ اپنی ساری ممتا وہ اس پے نچھاور کیے جا رہی تھی۔

دو سال کا وہ چھوڑ کے آٸ تھی۔ آج وہ پانچ سال کا ہوگیا تھا۔ اسکی باتیں سنتی کنول خود پے اختیار کھو چکی تھی۔

مما۔۔۔! مونس بار بار اسکا چہرہ چھو کے یقین کر رہا تھا کہ وہ واقعی میں گٸ ہیں۔۔۔! اس کے ننھے ہاتھوں کو اپنے ہاتھو ں میں لیتی وہ بلک بلک کے رودی۔

مما۔۔۔ اب مجھے چھوڑ کے نہیں جانا۔ وہ کنول کے سینے سے لگا کہتا کنول کا دل چیر گیا۔

کہیں نہیں جاٶں گی۔۔۔ میری جان۔۔۔! آپ کے بنا آپ کی مما کہاں جی رہی تھیں۔۔۔؟؟ پیار سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔

ایکس کیسوزمی۔۔؟؟ کیا آپ مجھے بھول گۓ ہیں۔۔؟؟

ماتھےپے دو بل ڈالے وہ سامنے سینے پے بازو باندھے کھڑے پوچھ رہی تھی۔

مونس۔۔۔! یہ ۔۔۔ملکہ ہے۔۔ آپ کی بہنا۔۔۔! کنول نے جھٹ سے تعارف کروایا۔

اوہ۔۔ماٸ گاڈ۔۔۔؟؟ یہ ملکہ ہے۔۔۔؟؟ یہ تو ۔۔بڑی ہوگٸ۔۔۔!

ہاٶ ڈو یو نو۔۔۔؟؟ ملکہ نے اس کے پاس جاتے تجسس سے پوچھا۔

پکچر میں دیکھا تھا۔۔ اتنی سی۔۔۔! ہاتھ سے اشارہ کرتے بتایا۔۔۔ اب ۔۔۔ تو۔۔ اتنی بڑی۔۔۔؟؟ مونس کھلکھلا کے ہنسا۔ ملکہ نے منہ بنایا۔ جبکہ مونس ماں کے گلے میں بانہیں ڈال گیا۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

بس۔۔۔ بہت ہو گیا۔۔۔ دونوں چلے جاٶ یہاں سے۔۔۔۔! جمیلہ خاتون جو ابھی ابھی لوٹیں تھیں۔ اور رات بی کافی ہوگٸ تھی۔

ان کے پیچھے انکی بہو اور بیٹے کی محاذ آراٸ ہی ختم نہیں ہو رہی تھی۔ ابھی بھی دونوں ایک دوسرے کے دوبدو لڑنے مرنے کو تیار کھڑے تھے۔

ممانی جان۔۔۔ غلطی ان کی ہے۔۔ ہماری نہیں۔۔ سوں سوں کرتی وہ اپنی صفاٸ میں بولی تھی۔

چپ۔۔۔ بالکل چپ۔۔۔! غضب خدا کا۔۔ بندہ پوچھے ان سے۔۔ کوٸ جاٸیداد بانٹینی ہے ۔۔؟؟ قیک بچی کے پیچے لڑ رہے ہیں۔۔ دونوں۔۔؟؟ ماں کا بھی لحاظ نہیں۔۔۔؟؟ چلو دونوں نکلو۔۔ جاٶ اپنے کمرے میں۔۔ !کسی ایک کو بھی نہیں ملے گی بچی۔۔۔!سونے دو اسے یہیں۔۔!منہا کی طرف پیار سے دیکھتے انہیں ڈانٹ پلاٸ۔

ممانی جان آپ بھی۔۔۔؟؟ عابی کو شاک لگا۔

شامی۔۔۔!ایک منٹ سے پہلے بیوی کو لے کے جاٶ۔۔۔ یہاں سے۔۔۔ ورنہ تم دونوں کو گھر اے باہر نکال دوں گی۔۔۔ جب تک صلح نہ کرلو مجھے اپنی شکلیں مت دکھانا۔

انگلی اٹھا کے دونوں کو وارن کیا۔ شامی نے عابی کا ہاتھ دبوچا۔اور اسے لیے اپنے کمرے کی جانب بڑھا۔ وہ چلاتی رہ گٸ۔ شامی نے کمرے میں آکے درواز زور سے بند کیا۔ اور اسے صوفے پے پٹخا۔

مل گیا سکون۔۔؟ بے عزتی کروا کے۔۔؟ شامی خوب بھڑکا ہوا تھا۔ عابی سہمتی ہوٸ صوفے میں دبک گٸ جبکہ رونے کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔

شامی ادھر سے ادھر چکر لگا رہا تھا۔ اپنے غصہ کو کنٹرول کرنا اسے مشکل لگ رہا تھا۔ عابی کا بچپنا وہ مزید اب نہیں جھیل ستا تھا۔ہر چھوٹی بڑی بات جا کے وہ جمیلہ بیگم کو بتاتی تھی۔

اب اسمیں بی کوٸ بہت بڑی بات نہ تھی۔ لیکن وہ عابی ہی کیا جو زبان قابو میں رکھ لے۔

حد درجے کی عقل سے پیدل ہو تم۔۔! تم سے شادی کر کے پھس گیا ہوں۔۔ سوچا تھا۔۔ وقت کے ساتھ ساتھ میچورٹی آجاۓ گی۔۔۔ لیکن یہ نہیں پتہ تھا۔۔ مزید بچپنا بھر جاۓ گا۔

غصہ میں شامی کے منہ میں جو آیا بولتا چلا گیا۔ جب کہ عابی اب اسے یک ٹک دیکھے جا رہی تھی۔ اس کی بات پے اسے شاک ہی تو لگا تھا۔

اب یہ آنھیں پھاڑ پھاڑ کے کیا دیکھ رہی ہو۔۔ جاٶ۔۔ جا کے سو جاٶ۔۔ فضول میں دماغ خراب کر کے رکھ دیا۔ اس سے تو اچھا تھا۔ گھر ہی نہ آتا۔ ادھر آفس میں ہی مرا رہتا۔

بستر پے گررے وہ غصہ کو قابو کرتا بولتا آنکھیں موند گیا تھا۔

عابی دھیرے سے اٹھتی ہچکیوں سے روتی باہر نکلنے لگی۔ کہ۔۔۔

اب کہاں جا رہی ہو۔۔؟؟

ہمیں۔۔ نہیں رہنا یہاں۔۔۔! ہر وقت بس ڈانٹتے رہتے ہیں۔ ہچکیوں سے روے بنا مڑے کہتی وہ آگے بڑھی۔

خبردار جو ایک قدم بھی باہر رکھا تو۔۔۔ ٹانگیں تڑ دوں گا۔۔ تمہاری۔۔۔! غصہ سے اٹھتے اسے بازوسے پکڑ کے باتر پے دھکیلا۔ اور خود دوسری طرف جا لیٹا۔

بند کرو اپنا رونا۔۔۔!پتہ نہیں کتنے آنسو ہیں۔ جو ختم ہی نہیں ہوتے۔۔۔! دھیمے سے کہا لیکن تلخی ابھی بھی قاٸم تھی۔

کچھ دیر بعد عابی پھر سے اپنی جگہ سے اٹھی۔

اب کیا مسٸلہ ہے۔۔؟ زچ آتے پوچھا۔

باتھ روم جا رہے ہیں۔۔۔ ! باہر آپ جانے نہیں دیتے۔۔ یہاں آپ رونے نہیں دیتے۔۔ کم ازکم باتھ روم جا کے آرام سے رو تو لیں گے۔۔۔ ! کہتے ہوۓ وہ پھرسے رو دی۔

اب کی بار شامی سے نہ رہا گیا۔ اور اٹھ کے اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔

بس۔۔ اب چپ۔۔۔ اور نہیں رونا۔۔۔! شامی نے اس کے آنسو پونچھے۔

آپ ہر ۔۔۔ وقت مجھے ڈانٹتے رہتے ہو۔۔۔!بالکل پیار ہیں کرتے مجھ سے۔۔۔۔! سوں سوں کرتی وہ شامی کو مسکرانے پے مجبور کر گٸ۔

اچھا۔۔۔ اب نہیں ڈانٹتا بس پیار کروں گا۔۔ بشرطیکہ ۔۔ تم سہہ لو گی۔۔۔میرا پیار۔۔؟؟؟

معنی خیزی سے کہتا وہ اسکی کمر کے گرد بازو حاٸل کر گیا۔

بنا دوپٹے کے وہ اس کے قریب کھڑی اس کو بہکا رہی تھی۔

شششششاااااممممیییی۔۔۔۔! وہ منمناٸ تھی۔ توک نگلتے وہ شامی کی بات کا مطلب بخوبی سمجھ گٸ تھی۔ اور اب گھبرا رہی تھی۔

کیا شامی۔۔۔؟؟اب ۔۔بس۔۔ تم ہو گی۔۔۔ میں ہوں گا۔۔ اور ہمارا پیار ہوگا۔۔۔ گھمبیر لہجے میں کہتا وہ اس کی کان کی لو کو چھو گیا۔ عابی بری طرح لرزی تھی۔ آنکھیں میچے وہ شامی کے سینے میں منہ چھپارہی تھی۔ جب کہ شامی کے ہاتھ اس کے فراک کی زیپ کے ساتھ چھیڑ خانی کر رہے تھے۔

پلیز شامی۔۔۔!تنگ نہ کریں۔۔ اور جاٸیں۔۔ منہا کو لے کے آٸیں۔ رات کو وہ جاگ گٸ تو آپ کو ڈھونڈے گی۔

عابی نے اسے ٹالنا چاہا۔

شیییی۔۔۔امی دیکھ لیں گیں۔۔ تم بس آج کی رات مجھے سنبھالو۔۔۔ تمہارے لیے یہی بہت ہے۔

کہتے ہی اسے بانہوں میں اٹھاۓ وہ بستر پے آیا تھا۔

لاٸٸٹ آف کرتا وہ اس کے لبوں پے جھکا۔

اس سے پہلے کے وہ پھر سے کوٸ نیا ٹاپک چھیڑتی شامی نے اسے اپنے آپ میں گم کر لیا۔ اور وہ شامی کے منہ زور جذبوں کے آگے اپنا آپ ہار گٸ۔

🌟
🌟
💘
💘
💘
💖
💖
💖
🌟
🌟

مما۔۔۔؟؟ ہم کہاں جا رہے ہیں۔۔؟؟

مونس نے کیب میں بیٹھے کنول سے سوال کیا۔

اس وقت وہ مونس کو اسکول سے کسی بھی طرح نکالنے میں کامیاب ہوہی گٸ تھی۔ اب کیب کروا کے وہ۔ اٸیر پورٹ جا رہی تھی۔

ایک طرح سے اپنے ہی بچے کو وہ اغوا کےکے لے کے جا رہی تھی۔

بیٹا۔۔۔! ہم اپنے نۓ گھر جا رہے ہیں۔ ! کنول نے اسے تو تسلی سے جواب دیا جکہ اندر اس کا دل سخت ڈر رہا تھا۔ وہ بس کسی بھی طرح کر کے کراچی سے نکل جانا چاہتی تھی۔

اس کے بعد وہ اپنے دونوں بچوں کو لے کے مری چلی جاتی۔ اب گاڑی اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی۔

پیچھے بیٹھی وہ داٸیں باٸیں۔ دونوں بچوں کو بٹھاۓ ان اپنے ساتھ لگاۓ ہوۓ تھی۔ اور انکی چھوٹی موٹی باتوں کا ببی جواب دے رہی تھی۔ کہ تبھی گاڑی ایک جھٹکے سے رکی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *