Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 28)

Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan

کنول فوراً ہی آفتاب کے پیچھے آٸ تھی۔ اور وہ جانتا تھا کہ وہ آۓ گی۔ اس کے آتے ہی وہ مڑا تھا باہر کی جانب قدمبڑھاۓ کہ وہ راستے میں حاٸل ہوٸ۔ وہ رکا تھا ایک إکر اس کو دیکھا لیکن دوسری نظر نہ ڈال سکا۔ نظریں پھیر لیں۔

آپ ۔۔۔ آج بھی۔۔ مجھ سے۔۔۔ نفرت نہیں کر پاۓ ناں۔۔ خان۔۔؟؟ اس کا لہجہ دھیما لیکن اس میں یقین تھا۔ آفتاب نے جواب دینا ضروری نہ سمجھا۔

آپ بھلے مجھ سے نظریں پھیر لیں۔ لیکن۔۔ میں جانتی ہوں۔ آپ ۔۔آج بھی مجھ سے۔۔۔؟

میں تمہیں نہ نفرت کے قابل سمجھتا ہوں۔۔ نہ نفرت کے۔۔ تمہارا ہونا نہ ہونا۔۔ میرے لیے کوٸ معنی نہیں رکھتا۔۔! سمجھی تم۔

اسے بازو سے پکڑے غصہ سے کہتا اب کی بار بازو زو سے جھٹکا تھا۔

پھر کیوں ساٸیڈ لی میری۔۔؟ بولنے دیتے عظمی کو۔۔ کہنے دیتے۔۔ جو وہ بول رہی تھی۔ کیا پتہ ۔۔ وہ سچ ہی کہہ رہی ہو۔۔؟ ؟میں ہوں۔۔ کریکٹرلیس۔۔

اپنی بکواس بند کرو۔۔۔! آفتاب اس کی بات پے بری طرح بپھرا۔ جب کہ وہ جان بوجھ کے یہ سب بولتی اس کے غصہ سے خاٸف ہوٸ تھی۔

تمہاری جتنی زبان چلتی۔۔ اگر اتنا دماغ چلجاتا تو شاید۔۔آج ہمیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔

کاٹ دار لہجے میں کہتا وہ پھر سے کنول کی آنکھیں نم کر گیا۔

وہ صاف محسوس کر سکتا تھا۔ اس کا اداس چہرہ۔ اترا رنگ روپ۔۔ وہ دل سے سب محسوس کر رہا تھا۔

لیکن معاف کرنے کو تیار نہ تھا۔

جانتی ہوں۔۔ میں کیوں بولا۔۔ باہر۔۔؟؟ میں نہیں چاہتا کہ میری بہن تم سے کوٸ بات کرے۔۔ یا تم سے کوٸ تعلق رکھے۔۔۔ تم ایک دھوکا ہو۔۔ کب کہاں ساتھ جچھوڑ جاٶ۔۔ کبھی بھروسہ نہیں کر سکتا تم پے۔۔۔! کھبی نہیں۔۔۔

وہ تنفر سے کہتا اس کے آگے سے ہٹتا باہر نکلا تھا۔

وہ اپنے حواس کھوتے ہوۓ محسوس کر رہی تھی۔ اتنے دن سے وہ کچھ کھا پی بھی نہیں رہی تھی۔ آج اتنے دنوں بعد آفتاب نے اس کا مان تو رکھا۔۔ لیکن۔۔ اب پل میں ہی توڑ دیا تھا۔

وہ خود کو میٹتیآنسو پونچھتی باہر کی جانب بڑھی۔ کہ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاتے وہ وہیں زمین بوس ہوٸ۔

بہت کوشش کے باوجود بھی وہ آنکھیں نہ کھول سکی۔ وہ نہیں چاہتی تھی۔ کہ آفتاب خان اس سے ہمدردی کرے۔ یا اس پے احسان کرے اور ترس کھاۓ۔

اسے خان کی محبت چاہیے تھی۔۔ ترس نہیں۔۔ اس لیے وہ ہمیشہ خود کو خان کے سامنے مضبوط ظاہر کرتی تھی۔ لیکن اس بار چاہ کے بھی وہ اپنے حواس قاٸم نہ رکھ پاٸ ۔

⭕
⭕
⭕
⭕
⭕
⭕
⭕
⭕

عظمی کے ساتھ وقت گزارتے آفتاب خان ہشاش بشاش ہوگیا۔ زیشان اسےبہت عزیز تھا۔ اور پھر بچوں کے اسکول سے آنے کے بعد وہ سب اس طرح گھل مل گۓ تھے۔ جیسے کب سے ایک دوسرے کو جانتےہوں۔

عظمی کو ملکہ بہت پیاری لگی۔ اس کا بات کرنےکا انداز۔۔۔ اس کے اٹھنے بیٹھنے چلنے بولنے کا انداز۔۔ سب آفتب خان کے جیسا تھا۔ لیکن۔ اس کی تربیت کنول نے کی تھی۔ اور یہی بات عظمی کو ہضم نہیں ہو رہی تھی۔ دن سے شام اور پھر رات ہو گٸ۔ ناجیہ بیگم نے بچوں کوکھانا کھلا کے کمرے میں بھیج دیا ۔

ایک دو دفعہ مونس اور ملکہ نے کنول کا پوچھا۔ لیکن انہیں یہ کہہ کے ٹال دیا۔ کہ مما کی طبعیت ٹھیک نہیں وہ آرام کر رہی ہیں۔

بچے تھے۔۔ گھر آۓ مہمانوں کے ساتھ بہل گۓ۔

لیکن رات کو سوتے وقت ماں کی پھر سے یاد آگٸ۔

ملکہ۔۔ مجھےمما کو دیکھنا۔۔آپ چلو۔ گی میرے ساتھ۔۔ ان کے روم میں۔۔؟

سونے سے پہلے مونس کو ماں کو ایک نظر دیکھنا تھا۔

اوہ یس۔۔برو۔۔ لیٹس کم۔۔۔۔!ملکہ تو فٹ سے بستر سے اٹھتی مونس کے ہمراہ ہوٸ۔ دونوں آگے پیچھے کنول کے کمرے میں داخل ہوۓ۔ لیکن کمرہ پورا ہی خالی تھا۔

ساری جگہ یکھا لیکن کنول کہیں نہیں تھی۔

دونوں نے کافی آوازیں بھی دیں۔ لیکن کنول کی طرف سے کوٸ جواب نہ آیا۔

دونوں باپ کے پاس ڈراٸینگ روم کی جانب بھاگے لیکن وہاں بھی کوٸ نہ تھا۔

سبھی سوے کے لیے اپنے اپنے کمروں میں جا چکے تھے۔

بابا کےکمرے میں چلیں۔۔؟ ملکہ نے مشورہ دیا۔

نو۔۔ مجھے بابا سے ڈر لگتا ہے۔۔ واپس چلتے ہیں۔۔ صبح۔۔ ؟؟

نو۔۔بھیا۔۔۔! مجھے مما کو دیکھنا ہے۔۔ ملکہ نے ضد لگاٸ کہ اسی لمحے ناجیہ بیگم آتی دکھاٸ دیں۔

ارے بچوں آپ ابھی تک سوۓ نہیں۔۔؟؟

وہ انہیں وہاں کاریڈور میں دیکھ حیران ہوٸیں۔

ہمیں مما سے ملنا ہے۔۔ ملکہ نے سینے ہاتھ باندھے حکم صادر کیا۔

وہ سو رہی ہوں گی۔۔ آپ صبح مل لینا۔۔۔ ناجی نے بچوں کو مسکراتےکہا۔

تو ملکہ ان کا ہاتھ تھامے کنول کے روم کی جنب بڑھتی دروازہ کھول گٸ۔

کہاں ہیں مما۔۔؟؟ ماتھے پے تیوری تھی۔ ناجیہ بی بی بھی حیران و پریشان رہ گٸیں۔

وہ تو اب تک کاموں میں اتنا بزی تھیں۔ کہ اس طرف دھیان ہی نہ گیا۔

کیا ہو رہا ہے۔۔ یہاں ۔۔؟

اچانک سے آفتاب کی سخت آواز پے وہ سبھی چونکتے ہوۓ مڑے تھے۔

وہ اس وقت جم سے آیا تھا۔ جو اس نے گھر کے بیک ایریا میں بنوایا ہوا تھا۔ اکثر رات کو وہاں کافی دیر تک کثرت کرتا رہتا۔ آج بھی وہ وہیں تھا۔ سلیو لیس شرٹ پہنے وہ اس وقت بہت ہی ڈیشنگ لگ رہا تھا۔ جس میں اس کے مسلز ابھر ابھر کے باہر نظر آرہے تھے۔

ناجیہ بی بی بھی نظریں جھکا گٸیں۔ کہ ان کی ہی کہیں نظر نہ لگ جاۓ۔

جی۔۔ وہ بچے۔۔ کنول بی بی کو ڈھونڈ رہے ہیں۔ لیکن۔۔ وہ یہاں کمرے میں نہیں۔۔ ناجیی نے سر جھکاۓ وضاحت کی۔

اپنےکمرے میں جاٸیں۔ صبح بات ہوگی۔ اس نے انجیدگی سے کہتے اپنے کمرے کا رخ کیا۔

تو بچے بھی دل مسوس کے اپنے کمرے میں چلے گۓ۔

تو مس کنول۔۔۔! ایک بار تم پھر۔ دھوکا دے کے چلی گٸ۔۔ ہمیشہ کی طرح گھر سے فرار حاصل کر لی۔ تمہیں لگتا ہے ہر مسٸلہ کا حل راہِ فرار ہے۔ لیکن اس بار۔۔ تم میری نظروں سے ہی نہیں۔۔ میرے دل سے بھی گر گٸ ہو۔۔

ہمکلامی ممیں کہتا وہ اپنے کمرے میں داخل ہوا۔ تو سمنے کنول کو زمین بوس ہوا دیکھ وہیں ٹھٹھکا۔

اس کا دل کسی انہونی سےڈرا تھا۔

فوراً آگے بڑھتے کنول کا سر اپنی گود میں لیے اس کا چہرہ تھپتھپایا

لیکن وہ بےہوش تھی۔

کنول۔۔؟؟ کنول۔۔؟؟ ہوش میں آٶ۔۔۔؟؟ اس کی آواز میں فکر واضح تھی۔

دھیرے سے اسے اپنی بانہوں میں اٹھاتے بستر پے لٹایا تھا۔ اس کی نبض چیک کی۔ جو بہت دھیرے دھیرے چل رہی تھی۔

ڈیم۔۔۔ کنول۔۔؟؟ ویک اپ۔۔۔! آفتاب کی آواز اونچی ہوٸ تھی۔ لیکن کنول بے سدھ پڑی تھی۔

سختی سے اپنی آنکھیں بند کرتا دوبارہ کھولیں۔

اور پھر سے اسے اپنی بانہوں میں بھرتے اب اس کا رخ خان منشن سے باہر تھا۔ وہ اسے گاڑی میں ہاسپٹل لےکے جا رہا تھا۔

ہاسپٹل پہنچتےہی اسے آٸ سی یو میں شفٹ کیا گیا۔

وہ وہیں باہر رک گیا۔

آفتاب کوخود پے بے تحاشا غصہ آیا۔ وہ کیسے لاپرواہی کر گیا۔ وہ دن کو اس کے پاس آٸ تھی۔

اور تب سے وہ وہاں بے ہوش۔۔؟؟

آفتاب نے لب بھینچے اور آٸ سی یو کی جانب دیکھا۔

کچھ ہی دیر میں ڈاکٹر باہر آۓ۔

انہوں نے کب سے کھانا نہیں کھایا۔۔۔؟؟ ان کے پوچھے گۓ سوال پے آفتاب کو اچھنبا ہوا۔ بھلا ہو کیسے بتا سکتاتھا۔

دیکھیں۔۔ بہت کم کھانے سے ان کا بی پی لو ہوگیا تھا۔ وہ بھی خطرناک حد تک۔

انہیں۔۔ ڈریپ لگا دی گٸ ہے۔ کچھ دیر میں ان کو ہوش آجاۓ گا۔ آپ ان کا خیال رکھیں۔ وہ بہت ویک ہیں۔۔! اور اگر اسی طرح کم کھانا رہا تو۔۔

تو ان کےلیے بہت مسٸلہ ہو جاۓ گا۔

ڈاکٹر کہتے آگے بڑھ گیا۔ جب کہ آفتاب کو بس حیرت کےجھٹکے لگ رہے تھے۔

وہآٸ سی یو میں کنول کےپس چلا گیا وہ ابھی بھی بے ہوش تھی۔

ان تین سالوں نےاسے کتنا بدل دیا تھا۔ وہ اپنیعمر سے کم کیوں لگنے لگی تھی۔۔؟؟ آج ہی تو خان جان پایا تھا۔ وہ خود سے لاپرواہ ہوگٸ تھی۔ اس نے اپن خیال رکھنا چھوڑ دیا تھا۔ اس نے کھانا پینا چھوڑ دیا تھا۔

اس کی فیزیک کمزور ہو گٸ تھی۔

بے اختٕار اس کے چہرے کو دیکھتا وہ اس کے قریب ہوا۔

بھلے وہ اس سے نفرت کا دم بھرتا تھا۔ لیکن اس کے دل پے حکمرانی آج بھی اسی کی تھی۔

پہلےدن کی طرح وہ آج بھی اس کے دل کی منجدھار پے پورے وجو سے براجمان تھی۔

اس کے چہرے پے آۓ بالوں کی لٹ کو کانوں کے پیچھے اڑسا تھا۔ کہ اس کے ہاتھ میں جنبش ہوٸ۔

وہ بے ہوشی میں تھی یا نیند میں۔۔؟؟

لیکن اس حالت میں بھی آفتاب خان لمس وہ محسوس کر سکتی تھی۔

آفتاب پیچھے ہوتا چیٸر کے ساتھ ٹیک لگا کے بیٹھا اسی کو بغور دیکھے جا رہا تھا۔

پہلی بار آیا تجھ پے پیار آیا۔۔ اوہ۔۔ یارا۔ گہرا سانس خارج کرتے وہ اپنی آنکھیں موند گیا۔

⭕
⭕
⭕
⭕
⭕
⭕
⭕
⭕
⭕
⭕

پلیز۔۔۔؟؟ شہیر۔۔۔! ابھی نہیں جانا کراچی۔۔۔! ابھی مزید رہنا ہے۔۔ انانبیہ نے منت سے کہا۔

انا۔۔۔ ہم یہاں کچھ دنوں کے لیے آۓ ہیں۔ اب ۔۔ کراچی بھی تو جانا ہے۔۔ خان سے ملنا ہے۔۔ ان کو تو ابھی ہمارے آنے کا علم بھی نہیں ہوگا۔ شہیر نے پیار سے سمجھایا۔

ٹھیک ہے چلے جاٸیں گے۔۔ لیکن نیکسٹ ۔۔۔ویک۔۔ پکا۔۔۔!اس نے اٹھتے ہوۓ الٹی میٹم دیا۔ کہ شہیر نے فوراًاسے کلاٸ سے دبوچے تھاما۔

کیا کہا۔۔؟؟ پھر سے کہنا۔ اسے کھینچ کے اپنی گود میں بٹھاتا وہ انابیہ کا دل دھڑکا گیا۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *