Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 10)

Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan

گاڑی ہاسپٹل کے باہر روکتا وہ اندھا دھند اندر کی جان بڑھا تھا۔

سامنے ہی نظر روتی بلکتی ماں کے ساتھ گلے لگی عابی پے ٹھہری۔ شامی کے قدم وہیں جم گۓ ۔۔

منہا۔۔؟؟؟ دل نے بیٹی کی غیر موودگی پے تڑپ کے ادگرد دیکھا۔

بیٹا۔۔۔؟؟ منہا۔۔؟؟ نواب صاحب آگے بڑھے کچھ کہتے۔ کہ شامی ان کو نظر انداز کرتا آٸ سی یو سے باہر نکلتے ڈاکٹر پے اٹھیں۔

عابی بھی ڈاکٹر کی طرف بھاگی۔

ڈاکٹر ہماری بچی۔۔؟؟ وہ تڑپ رہی تھی۔

ڈونٹ وری۔۔ بچی اب بالکل ٹھیک ہے۔۔ گرنے کی وجہ سے ماتھے پے چوٹ لگی ہے۔۔ دو اسٹیچز لگے ہیں۔۔ گھبرانے کی بات نہیں۔۔ ڈاکٹر نے ان کی تسلی کراٸ۔ جبکہ اسٹیچز کا سن شامی کا تو دماغ گھوما تھا۔

فوراً اندر کی طرف بڑھا۔ عابی بھی منہ پے ہاتھ رکھے اندر آٸ ۔جہاں شامی بیٹی کو گود میں اٹھاۓ آنکھیں موندے اسے خود سے لگاۓ بیٹھا تھا۔

منہا۔۔۔؟؟ ابی اس کی طرف بڑھی۔ کہ شامی نے انگی اٹھا کے وہیں رکوا دیا۔ میی بچی سے دو رہنا تم۔۔۔! لہجہ خون خوار تھا۔ عابی سہی ہوٸ پیچھے ہوٸ۔ اور پلٹ کے ماں کو دیکھا۔۔

شاہ میر بیٹا۔۔؟ انہوں نے کچھ کہنا چاہا۔ لیکن شامی اپنی جگہ سے اٹھتا اپنی بیٹی کو سینے سے لگاۓ انہیں نظر انداز کرتا باہت نکل گیا۔

مما۔۔۔ ہماری منہا۔۔؟؟ پلیز۔۔ روکیں انہیں۔۔ عابی روتے ہوۓ پیچھے بھاگی تھی۔

لیکن شامی منہا کو گاڑی میں بٹھاۓ جا چکا تھا۔

کیا ہوا۔۔؟؟ نواب صاحب ڈاکٹر کی بات سننے کے بعد باہر آۓ تو انہیں روتا دیکھا۔

منہا کہاں ہے۔۔؟؟ نواب صاحب کو کچھ صحیح نہ لگا۔

شامی۔۔۔ اسے لے گیا۔۔ ! عابدہ بیگم نے روتے ہوۓ کہا۔

جب کہ عابی کا رو رو کے برا حال تھا۔

بابا۔۔۔! ہماری ۔۔منہا کو لے آٸیں۔۔ وہ۔۔ منہا۔۔ کو لے گۓ ہیں۔۔۔! وہ۔۔۔ وہ۔۔۔؟؟ عابی کہتے کہتےاپنے ہوش و حواس کھتے ہوۓ نیچے گرنے لگی۔ نواب حشمت علی نے آگے بڑھ کے بیٹی کو سنبھالا۔

ڈاکٹر۔۔۔؟؟ وہ وہیں سے چلاٸے۔

🌕
🌕
🌕
🌕
🌕
🌕
🌕
🌕

تبسم بیگم شام کو گھر آٸیں تو ان کے لیے ایک بہت بڑا سرپراٸز تھا۔ کنول کے روپ میں۔

انہوں نے کنول کو گلے سے لگایا اسے دیکھتے وہ رو دیں تھیں۔ ملکہ کو دیکھتے انہیں آفتاب کا بچپن یاد آگیا۔ وہ سیم اسکی کاپی تھی۔ کتنی یر وہ ان کی گود میں بیٹھی رہی ۔ پیار لیتی رہی۔ پھر مونس اسے اپنے روم میں لے گیا۔

آپ۔۔ کیسی ہیں۔۔؟؟ کنول نے آنسو پونچھتے ان سے پوچھا تھا۔

اچھی ہوں۔۔ بیٹا۔۔۔ بس۔۔۔ ! کچھ کہتے کہتے وہ رک گٸی تھیں۔

بابا۔۔۔؟؟ کدھر ہیں۔۔؟؟ اپنے ہی باپ کا پوچھتی وہ جھجھک رہی تھی۔

ان کی ۔۔۔ دو۔۔۔ سال پہلے ہی ۔۔۔ ڈیتھ ہوگٸ تھی۔۔۔

تسم بیگم کے بتانے پے وہ ہکا بکا رہ گٸ۔

ان تین سالوں میں اپنے غصہ میں اپنے باپ کو بھی کھو گٸ تھی۔

دو آنسو بہہ کے اس کے گال پے گرتے اس کے اندر کے درد کو بیان کر گۓ تھے۔

بیٹا۔۔۔! اچانک ہی انکو ہارٹ اٹیک ہوا تو۔۔؟؟ نہیں۔۔۔؟؟

دل پے پتھر رکھے وہ یہ بھی سہن کر گٸ۔

کومل۔۔۔؟؟ وہ۔۔ وہ کیسی ہے۔۔۔؟ بہن کا پوچھتے ہوۓ اس کا سر جھکا ہوا تھا۔

بیٹا۔۔ وہ بھی ٹھیک ہے۔۔ آپ کو بہت یاد کرتی ہے۔۔ ملنے کو تڑپتی ہے۔۔ ! اس کے کاندھے پے تھپکی دی۔ تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔

وہ۔۔۔ بابا سے ملی۔۔؟ دل کی بات زبان پے لے آٸ۔

ہمممم۔۔۔ ان کے آخری لمحات میں وہ جب آپ کو یاد کر رہے تھے۔ تب۔۔۔ اللہ نے کومل کے دل میں رحم ڈال دیا۔۔۔ اور وہ ۔۔۔ اپنے بابا سے مل لی۔

گال صاف کرتے وہ تسم بیگم کی جانب مڑی ۔

شکر ہے۔۔ بابا کو ان کی دوسری بیٹی کا بھی پتہ چل گیا۔ کہتے ہوۓ اپنی جگہ سے اٹھی۔

کنول۔۔؟ تین۔۔۔ سال۔۔۔ بیٹا۔۔؟؟ کہاں تھی آپ۔۔۔؟؟ انہوں نے وہ سوال کیا جس سے وہ اب تک بچ رہی تھی۔

گہرا سانس خارج کرتی وہ وہیں قریب بیٹھ گٸ۔

مما۔۔۔! تین سالوں سے خود کو سنبھال رہی ہوں۔۔ لیکن۔۔ آج بھی لگتا ہے۔۔ وہیں ۔۔کھڑی ہوں۔۔ جہں تین سل پہلے کھڑی تھی۔

آواز میں یاسیت تھی۔

بیٹا۔۔۔! حالات وہ واقعات کبھی ایک جیسے نہیں رہتے۔ اور۔۔ اکثر جو ہمیں دکھتا ہے۔ووہ سچ نہیں ہوتا۔۔ آپ نے فیصلہ لینے میں بہت جلد بازی کر دی۔۔۔۔! انہوں نے اسے سمجھانا چاہا۔

یہ۔۔ آپ کہہ رہی رہی ہیں۔۔؟؟ سب کچھ جانتے ہوۓ بھی ؟

اس نے تڑپ کے انہیں دیکھا تھا۔

مما۔۔۔؟؟ اس سے پہلے کہ وہ اسے کچھ کہتیں۔ اچانک سے آفتاب خان کی آمد پے وہ دونوں چونکیں۔

اس سے کہیں۔۔ یہ یہاں سے چلی جاۓ۔۔ مجھے اس کی صورت بھی نہیں دیکھنی۔ اور میں نہیں چاہتا ۔۔ کوٸ۔۔ سخت فیصلہ لوں۔۔۔! قطعی انداز میں کہتا وہ کنول کو بھڑکا گیا۔

مما کو کیوں بیچ میں گھسیٹ رہے ہیں۔۔؟؟ جو کہنا ہے مجھ سے کہیں۔۔؟؟ سامنے کھڑی ہوں۔۔ ڈرتی نہیں ہوں آپ سے۔۔۔ اور ایک بات۔۔ آپ کان کھول کے سن لیں۔۔ آپ کو میری شکل اچھی لگے یا بری۔۔۔؟؟ میں اپنے بچوں کی خاطر ۔۔ اگر آپ کو برداشت کروں گی۔۔ تو آپ بھی کریں۔۔

غصہ سے کہتی وہ اس کے قریب جا کے واپس پلٹی تھی۔ کہ آفتاب نے لب بھینچتے اس کی نازک سی کلاٸ پکڑے اسے کھینچا۔ تبسم بیگم نے دل دہل کے ان دونوں کو دیکھا۔

برداشت کرنا۔۔ کیا ہوتا۔۔؟؟ کبھی محسوس کیا ہے۔۔؟؟ اس کی آنکھوں میں دیکھتا وہ غرایا تھا۔ ایک بار پھر کنول اس کے لمس پے سٹپٹاٸ تھی۔ اس کا چھونا کنول کو اپنے آپ میں نہیں رہنے دیتا تھا۔ وہ آج اس پے مکمل اختیار رکھتا تھا۔

تین سال سے اور کیا کیا ہے۔۔؟؟ اسی کے نداز میں جواب دیا۔

خان۔۔۔؟؟ بیٹا۔۔۔؟؟ کنول کو چھوڑو۔۔۔ ! تبسم بیگم نے آفتاب کے ہاتھ سے کنول کی کلاٸ چھڑانی چاہی۔

جو آفتاب کے غصہ کا نشانہ بنہ ہوٸ اب تک لال ہو چکی تھی۔

چھوڑ تو دیا ہے۔۔ اس نے۔۔۔! پھر کیوں آٸ ہے واپس۔۔ ؟ ایک جھٹکے سے اسے پرے دھکا دیا کہ وہ گرتے گرتے بچی۔ تبسم بیگم نے اسے فوراً تھاما۔

کنول لال آنکھوں سے بس اسے دیکھتی رہ گٸ۔ وہ اس قدر ظالم ہوجاۓ گا۔ اس نے سوچا بھی نہ تھا۔

بیٹاا۔۔۔ اگر وہ جھک ہی گٸ ہے بچوں کی خاطر۔۔ تو آپ بھی قپنے اندر نرمی اور لچک لاٸیں۔ اور۔۔ کنول کو یہیں رہنے دیں۔۔ بچوں کے پاس۔

تبام بیگم نے اسے سمجھایا۔ تو وہ غصہ سے رخ موڑ گیا۔ پاس پڑا واس زور سے اٹھا کے فرش پے مارا۔ کہ تبسم بیگم اور کنول دونوں ہی سہم گٸیں۔

اسے کہیے گا۔۔ میرے سامنے مت آۓ۔

خود پے حد درجے قابو رکھتا وہ وہاں سے لمبے لمبے ڈگ بھرتا نکل گیا۔

گل خان۔۔۔! گل خان۔۔۔! گھر کے ملازم کو آواز دیتے اسے کانچ صاف کرنے کا کہا۔

اور خود ساکت کھڑی کنول کے پاس آٸیں۔

کنول۔۔۔؟؟ اسے پکارا تو وہ خالی خالی نظروں سے انہیں دیکھنے لگی۔

مما۔۔۔؟؟ اتنا غصہ۔۔۔؟؟ اس کی آنکھیں پھر چھلکنے کو تیار تھیں۔

تین سال کا غصہ اور غبار ہے۔۔ نکلنے دو۔۔ جب کل جاۓ گا۔۔ تو خود بخود ٹھیک ہوجاٸیں گے۔ آپ چلیں میرے ساتھ۔ بچوں کے کھانے پینے کا بندوبست کرتے ہیں۔ اور خود کو دیکھا ہے۔۔؟ کتنی کمزور ہوگٸ ہو۔۔؟ کچھ کھاتی پیتی نہیں کیا۔؟

تبسم بیگم کنول کو ٹال کے وہاں سے بچوں کے روم میں لے آٸیں جہاں ان دونوں بن بھاٸیں نے ایک الگ ہی دنیا بساٸ ہوٸ تھی۔

کچھ ہی دیر میں کنول ان کے ساتھ باتوں میں مشغول ہوتی سب کچھ زہن سے نکال چکی تھی ۔

ک💖💖💖💖💖💖💖💖💖

شامی منہا کو گھر لے آیا تھا۔ اسے رہ رہ کے عابی پے غصہ آرہا تھا۔ آج منہا کو چوٹ اس کی لاپرواہی کی جہ سے ہی لگی تھی۔ اور وہ اسے کسی صورت معاف نہیں کرنے والا تھا۔

اسی لیے اپنے ساتھ گھر بھی نہیں لایا۔

پپا۔۔۔ ؟ منہا کو درد پھر سے شرور ہوا تو وہ رو دی۔۔۔! شامی اسے گود میں لیے ادھر ادھر چکر لگاتا رہا۔ اور اسے پیار سے پچکارتا رہا۔

وہ باپ کے سنے سے لگی پھر سے سو گٸ۔

دھیرے سے اسے بتر پے لٹایا اور خود کچن میں آیا۔

بیٹی کے لیے دودھ گرم کیا۔ اور فیڈر بنا کے اس کے منہ میں لگایا۔ وہ سوتے میں ہی پینے لگی۔

عابی نے اس کی یہ عادت پختہکر دی تھی۔ چار سال کی ہوگٸ تھی۔ اب بی وہ فیڈر نہیں چھوڑتی تھی۔ آج اس کا فیڈر پینا شمی کے لیے فاٸدہ مند ثابت ہوگیا۔

ابی وہ فرغ ہوا تھا۔ کہ ڈور بیل بجی۔ دروازہ کھولا۔ تو سامنے نواب صاحب اکیلے ہی کھڑے تھے۔

کہاں ہے منہا۔۔؟؟ کچھ سختی سے بولے۔

اپنے باپ کے پاس۔۔ اور وہ بھی بالکل محفوظ۔

اسطرح سے منہا کو اکیلے لانے کا مقصد۔۔إإ وہاں عابی کا رو رو کے برا حال ہے۔ کوٸ احساس ہے آپ کو۔۔؟؟ نواب صاحب تھوڑا برہم ہوۓ۔

آپ کی بیٹی ہے۔۔ تو سنبھالیں اسے۔۔۔! میں اپنی بیٹی کو خود سنبھال لوں گا۔ شای کچھ روڈ ہوا تو نواب صاحب نے لب بھینچے۔

ہمیں ہماری بیٹی بھاری نہیں۔۔ شاہ میر سلطان۔۔! لیکن آپ نے جو کیا۔ وہ بہت غلط کیا ہے۔۔ ! اور اسکااحساس بہت جلد آپ کو ہوگا۔

نواب صاحب کہتے واپس پلٹ گۓ۔ شامی نے غصہ سے درعازہ لاک کر دیا۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *