Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 23)

Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha chohan

آج وہ سب چڑیا گھر گھومنے آۓ تھے۔ بچوں کے ساتھ۔

سبھی بہت خوش تھے۔ خاص کر بچے اور ان کے ساتھ انابیہ۔

بالکل بچی بنی ہوٸ تھی۔ اور اے یوں خوش دیکھ شہیر بھی دل سے مسکرا رہا تھا۔ کہ اچانک اس کی نظر کوکو پے جا ٹھہری جو تھوڑی ہی دور کھڑے بہت وارفتگی سے اسے دیکھ رہی تھی۔

شہیر نے لب بھینچتے نظریں پھیر لیں۔ لیکن وہ تو انتظار میں تھی۔ کہ شہیر اسے دیکھے اور وہ اس تک پہنچے۔

کیسے ہو شیری۔۔۔؟؟ پاس آکے سن گلاسز اتارتے ایک۔ادا سے پوچھا۔

تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔؟؟ شہیر نے ناگواری سے اسے دیکھا۔

تم سے ملنے آٸ تھی۔ کوکو نے سامنے س کی فیملی کو دیکھتے حسرت بھرے انداز میں جواب دیا۔

کلثوم۔۔! تم سیراب کے پیچھے بھاگ رہی ہو۔۔۔ مت بھاگو۔۔ کچھ ہاتھ نہیں آۓ گا۔۔۔۔! شہیر نے پھر سے اسے سمجھانا چاہا ۔

میں نے راکی کو خلع کا نوٹس دے دیا ہے۔۔۔! کلثوم نے بے ضرر انداز میں کہا تو شہیر اسے دیکھ تاسف سے سر ہلانے لگا۔

اسی لمحے انابیہ کی نظر ان پے پڑی۔ اسے لگا جیسے اس کی آنکھوں میں کسی نے مرچیں انڈیل دی ہوں۔

فوراً سے بچوں کو عابی کے حوالے کرتی وہ شہیر کے پاس پہنچی۔

شہیر۔۔۔؟؟ آٸیں اس طرف۔۔ بچے آپ کا پوچھ رہے ہیں۔

کو کو کو بالکل نظر انداز کرتی وہ شہیر کا ہاتھ تھامے وہاں سے لے جانے لگی۔

ہاۓ انابیہ کیسی ہو۔۔؟؟ کو کو نے خود اپنے آپ کو سامنے کیا۔ اس کا یوں نظر انداز کرنا کوکو کو بہت برا لگا تھا۔

اوہ۔۔ کوکو۔۔ تم۔۔۔؟؟ ایکسکیوز می۔۔ میں دیکھ نہیں پاٸ۔ کیسی ہو۔۔؟؟ انابیہ نے مصنوعی حیرت کا اظہار کیا۔

میں ٹھیک ہوں۔۔ تم۔۔ لوگ یہاں چڑیا گھر دیکھنے آۓ ہو۔۔؟؟ بات بڑھانے کی خاطر کہا۔

نہیں۔۔ جاگنگ کرنے آۓ ہیں۔ اسیانداز میں دوبدو جواب دیا کہ کوکو چپ ہی ہوگٸ۔ اور شہیر کو دیکھنے لگی۔

بھٸ چڑیا گھر میں لوگ کیوں آتے ہیں۔۔؟؟ جانور دیکھنے ہی ناں۔۔

شہیر۔۔۔ آٸیں اس طرف آپ کو ایک نیا جانور آیا ہے چڑیا گھر میں۔۔۔ وہ دکھاتی ہوں۔۔

انابیہ ہیر کا ہاتھ تھامے اسے وہاں سے لے گٸ۔

اور رنگے برنگے طوطوں کے ایک پنجرے کےپاس کھڑے ہوتے اسے دکھانے لگی۔۔۔

وہ دیکھیں۔۔ کتنے پیارے پرندے ہیں۔۔ اشارہ کر کے خوشی سے بتایا۔

یہ۔۔نیا جانور آیا ہے۔۔ یہاں۔۔؟؟ پیار بھری خفگی سے دیکھا۔

اس۔۔ سے تو آپ ابھی مل کے آرہے ہیں۔۔ ! اس کے کان میں گھسی سرگوشی کر گٸ۔

شہیر نے مسکراہٹ دباتے نفی میں سر ہلایا۔

بری بات ہے۔۔۔! ایسے نہیں کہتے۔

اچھا چلیں ناں۔۔ اس طرف۔۔۔! انابیہ نے اس کا دھیان ہٹایا۔ وہ باتیں کرتےایک دوسرے کے سنگ آگے بڑھ گۓ۔

کوکو نے دوبارہ سن گلاسز لگاٸیں۔ ماتھےپے تیوری چڑھاۓ انہیں دیکھتی وہ اب واپس کی راہ لے چکی تھی۔

کیا ہوا۔۔؟؟ تھک گٸ۔۔؟؟

عابی کو ایک طرف گرنے والے انداز میں بیٹھتے دیکھ شامی نے اس کے پاس بیٹھتے اس کا ہاتھ تھامتے پیار سے کہا۔

نہیں۔۔ زیادہ نہیں۔۔ ! بس۔۔ ایسے ہی۔۔ تھوڑی بھوک لگ رہی ہے۔۔۔ عابی نے دھیمے لہجے میں کہا۔

کھانا لے کے آتا ہوں۔۔ گاڑی میں ہی ہے۔۔۔!

وہ باقی سب تو ہوٹلنگ کرنے والے تھے۔ لیکن عابی کو شامی کی ہدایت پے گھر کا کھانا کھانا تھا۔

عابی نے اسکا ہاتھ تھاما۔

کیا ہوا۔۔؟؟ شامی نے اسکی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔

گول گپے کھانے ہیں۔۔۔۔! جھجھکتے ہوۓ کہا ۔

شامی کے چہرے پے مسکراہٹ رینگ گٸ۔

ابھی لاتا ہوں۔۔! وہ اس سے نہایت نرمی سے کہتا اٹھا تھا۔ عابی کی محبت پاش نظروں نے اس کا دور تک پیچھا کیا تھا۔

سبھی اب تھکے ہارے کھانے میں مصروف تھے۔

کہ تبھی معاویہ نے کسی بات پے غصہ کرتے پنکیبکوگال پے تھپڑ جڑ دیا۔ سبی سکتے میں معاوہ کا غصہ سے بھرا چہرہ دیکھنے لگے۔

پنکی منہ بنا کے رونے کی تیاری کرنے لگی۔

کہ اسی لمحے شہیر نے معاویہ کے گال پے تھپڑ جڑ دیا۔

یہ کیا کیا آپ نے شہیر؟؟ جمیلہ خاتون نے شہیر کی حرکت پے اسے ٹوکا تھا۔ انابیہ نے منہ پے ہاتھ رکھے یہ منظر دیکھا تھا۔ حیرت تو اسے اپنے شوہر پے ہوٸ تھی جس نے اپنے چہیتے بیٹے پے ہاتھ اٹھایا تھا۔

اب معاویہ گلا ہھاڑ کے رونے والا تھا۔ سب کو ایسا لگا لیکن وہ بالکل چپ تھا۔ سہما ہوا۔ باپ کو دیکھ رہا تھا۔

شہیر نے سخت نظروں سے اسے دیکھا۔ اور روتی ہوٸ پنکی کو گود میں اٹھاۓ وہ وہاں سے اٹھ گیا۔

جب کہ معاویہ کے خاموش آنسو بہے تھے۔ جہنیں ہاتھ بڑھا کے منہا نے پونچھا تھا۔

ڈونٹ کراٸ۔۔۔۔! یور فادر از ویری بیڈ۔۔۔.. منہا بھی رو دی تھی۔

بری بات ہے منہا۔۔۔! ایسے نہیں کہتے۔۔۔ عابی نے فوراً ٹوکا۔

ابھی کچھ پل کے لیے چپ ہوگۓ تھے۔

جمیلہخاتون نے معاویہ کو بلا کےپیار کرن چاہا لیکن وہ ان کے پاس نہ گیا۔

انا نے بے چارگیسے شامی کو دیکھا ۔ تو وہ اشارہ کر کے اسے سکون سے رہنے کا کہتے معاویہ کو بھلا پھسلا کے ساتھ لے گیا۔

باقی خواتین سب ہوٹل کے ٹیبل پے کھانا وغیرہ کھانے اور ایک دوسرے کو سرو کرنے میں مصروف تھیں۔

فضا نے ماحول میں کشیدگی محسوس کی تو اسے برا لگا۔ اس کے ہزبینڈ اور خانم نہیں آ پاۓ ۔۔

ہزبینڈ کو کچھ کام تھا۔ او خانم کی طبعیت ٹھیک نہیں تھی۔

انا۔۔۔؟؟ کیا ہوا۔؟؟ اتنی چپ کیوں ہوگٸ۔۔؟؟

فضا نے اسے جھکے سر سے دیکھا تو پوچھ لیا۔۔

نہیں۔۔ آپی۔۔۔ ! بس۔۔۔ ایسے ہی۔۔۔! وہ روندھی آواز میں بولی تھی۔

فضا اس کے پاس جا بیٹھی۔

بچی نہیں ہو تم چھوٹی سی۔۔۔ ! بڑی بن جاٶ۔۔ بچوں میں یہ چھوٹی موٹی باتیں ہوجاتی ہیں۔۔ ہمیں تحمل سے اس معاملے کو حل کرنا ہوتا۔۔ یہی تو پتہ چلتا ہے۔۔ ہم کتنے سچویشن سالور ہیں۔

فضا نے اس کا کندھا تھپکا ۔

کیا تھپڑ کے بدلے تھپڑ مارنا ہوتا ہے۔۔؟؟ انا کو ابھی بھی دکھ گھیرے ہوۓ تھا۔

نہیں۔۔۔! شہیر بھاٸ نے بہت غلط کیا۔ معاویہ کے ساتھ اسطرح کا بی ہیویر۔۔ بالکل بھی ٹھیک نہیں تھا۔ اس طرح معاملات بگڑتے ہیں۔۔ بچوں کے فماغ میں نیگیٹیو اثر پڑتا ہے۔ فضا نے گہرا سانس خارج کرتے کہا ۔

کہ تبھی شہیر پنکیکو اٹھاۓ وہاں واپس آگیا۔

پنکی مسکرا رہی تھی۔

ایکسکیوز می۔۔۔۔! شہیر کے آتے ہی انابیہ وہاں سے اٹھ گٸ۔ جسے سب نے ہی محسوس کیا۔

باہر نکلتے ہی دور اسے شامی نظر آگیا جو معاویہکوگود میں ٹھاۓ ماسک لے کے دے رہا تھا۔ ڈیفرنٹ ماسک دکھاتا وہ خو بھی ہنس رہا تھا ۔ اور معاویہ کا زہن بھی بٹا رہا تھا۔

معاویہ۔۔۔؟؟ انا دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی ان تکپہنچی اور اسے پکارا ۔

مما۔۔۔! لو ایٹ دس! معاویہ مکراتے ہوۓ سپاٸڈر مین کا ماسک دیکھا رہا تھا۔

واٶ۔۔۔ یہ تو بہت پیارا ہے۔۔۔! انا نےاس کے گال پے بوسہ فیا جہاں شہیر نے تھپڑ جڑا تھا۔

مما۔۔ ! شامی ماموں بہت اچھے ہیں۔

معاویہ نے شامی کے گال پے کس کیا ۔

سچ میں میرے پرنس۔۔۔! بس یہ بات اپنی ممانی سے کہہ دینا۔۔۔! شامی کے برجستہ کہنے پے انا بھی ہنس دی۔

💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘

وہ آج کتنے دنوں بعد ڈراٸنگ روم میں آٸ تھی۔

اس دن کے بعد سے اس نے آفتاب کے سامنے آنا چھوڑ دیا تھا۔ بس بچوں تک خود کو محدود رکھا تھا۔ جب بھی آفتاب خان کے آنے کا وقت ہوتا وہ خود کو کمرے میں قید کر لیتی۔ ابھی اس کا بلاوا آیا تھا۔ تو مجبوراً اسے جانا پڑا۔

جی۔۔۔؟؟ وہاں وکیل امجد ایک فاٸل کے ساتھ موجود تھے۔ لیکن آفتاب خان وہاں نہیں تھا۔

ہیلو۔۔ میم۔۔۔ !

میم۔۔۔ کل خان حویلی۔۔ آنا ہو گا آپ کو۔۔ خن بیگم کی وصیت کے لیے۔۔۔۔

انہوں نے نہایت مودب انداز میں کہا۔

خان حولی کے نام پے کنول کا منہ بگڑا۔

کیسی وصیت۔۔؟؟ اور میرا ان کی وصیت سے کیا کام۔۔؟؟ کھردرے لہجے میں کہا۔

میم۔۔ انہوں نے اپنی وفات سے کچھ دن پہلے وصیت بنواٸ تھی۔ اور اس کے لیے مسٹر آفتاب خان اور ان کی واٸف کو وہاں موجود ہونا ہے۔ ہر حال میں۔۔ ورنہ وصیت نہیں کھلے گی۔

اس سےپہلے مسٹر خان سے بھی کہا۔ لیکن انہوں نے کوٸ جواب نہ دیا۔۔ اب اگر کل بھی وصیت نہ کھلی تو بہت مسٸلہ ہو جاۓ گا۔

اس لیے مجھے پرسنلی یہاں آنا پڑا۔ تفصیلاً جواب آیا۔

کنول نے گہرا سانس خارج کیا۔

مسٹر آفتاب شیر خان کی ایک اور واٸف بھی ہیں۔۔ آپ ان سے رابطہ کر لیں۔۔ مجھے کسی وصیت میں کوٸ انٹرسٹ نہیں۔۔ صاف لفظوں میں اس نے منع کیا تھا۔

سوری۔۔میم۔۔۔! آفتاب شیر خن کی ایک ہی واٸف ہیں۔۔ مسز کنول آفتاب ۔۔۔! اور وہ یقیناً۔۔ آپ ہی ہیں۔

ایڈوو کیٹ امجد نے پریقین لہجے میں کہا۔

کنول نے مڑ کے سر جھٹکا۔

آپ سے بھی چھپایا۔۔۔ سب سے چھپایا۔۔۔ اس شخص نے اپنے دوسرے نکاح کو۔۔۔؟؟

میم۔۔۔ دوسرا۔۔۔ نکاح۔۔؟؟؟ امجد صحب حیران ہوۓ تھے۔

مسٹر امجد شاہ۔۔۔۔! اچانک سے خان کی آمد اور سرد آواز پے وہ دونوں چونکے تھے۔

آپ کو منع کیا تھا۔۔؟؟ شاید۔۔ آپ۔۔؟؟ خقن نے کنول کی جانب ایک نگاہ بھی ڈالنا گوارا نہیں کیا تھا۔

سر۔۔۔! آپ جانتے۔۔۔ ہیں۔۔میم کا ہونا۔۔ ضروری ہے۔۔ ورنہ وصیت نہکھلنے پے آپ کی ساری جدی پشتی جاٸیداد آپ کےہاتھ سے نکل جاۓ گی۔

امجد صاحب نے منمناتےہوۓ کہا۔

تو جانے دیں۔۔ کوٸ پرواہ نہیں۔۔ آپ۔۔۔؟؟

مسٹر امجد ۔۔۔! کنول نے ایک سخت نظر آفتاب پے ڈال امجد صاحب کی جانب دیکھا

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *