Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan NovelR50506 Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 06)
Rate this Novel
Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 06)
Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan
میم ۔۔۔ ان کو تو کچھ دیر پہلے انکے فارد لے گۓ ہیں۔۔۔!
کنول کی آنکھوں سے بار بار آنسو بہہ رہے تھے۔ ملکہ کو لی وہ کیب کروا کے واپس ہوٹل کی جانب جا رہی تھی۔ بیٹے کو نہ دیکھ پانے کی حسرت اس کے دل میں ہی رہ گٸ تھی۔
مما۔۔۔! ڈونٹ کراٸ۔۔۔! ہم کل ملیں گے بھیا سے ۔۔ ملکہ نے کنول کو حوصلہ دیا۔
یس ماٸ۔۔۔ جان۔۔۔! کل ملیں گے۔ کنول نے مسکرا کے اسے اپنے ساتھ لگایا۔
قسمت نے بھی کیا عجیب کھیل کھیلا تھا اسکے ساتھ۔ وہ اتنی قتیب ہو کے بھی اپنے بیٹے سے نہ مل پاٸ۔ آفتاب شیر خان اس سے اپنے بیٹے کو آخر دور لے ہی گیا۔
بس۔۔۔۔ اب ار چوہے بلی کا کھیل نہیں ہوگا۔۔ اب مونس کو میں لے کے جاٶں گی۔۔ تم نے جو کرنا ہوا۔۔ کر لینا۔
آنسو پونچھتے وہ کھڑکی بند کرتی بتر پے آٸ تھی۔ اب اسنے کل کی پلاننگ کرنی تھی۔ کہ مونس اسے مل جاۓ اور وہ پہلی فلاٸیٹ سے یہاں سے نکل جاۓ۔
اس کے لیے اس نے پورا پورا انتظام بھی کر رکھا تھا۔
اب کل بس موقع برابر کرنا تھا۔









شہیر۔۔۔!وہ۔۔ بہت فرینکلی آپ کا نام لے رہی تھی۔ اور یہ کارڈ بھی دیا۔۔۔
انابیہ جبسے کوکو سے ملی تھی ۔شہیر کی سختی آٸ ہوٸ تھی۔
یار۔۔۔! تم مجھ پے کیوں شک کر رہی ہو۔۔۔؟؟ شہیر نے سر پکڑا۔
شک۔۔۔۔؟؟ وہ یہ بھی کہہ رہی تھی۔ کہ ہ یہاں بی آچکی ہے۔۔۔ شہیر۔۔۔۔! ایسا کب ہوا۔۔؟؟
انابیہ کے لہجے میں شک کی آمیزش تھی۔ جو شہیر کو سخت ناگوار گزری۔
بہت دفعہ آٸ ہے۔۔ بلکہ۔۔ میرے اکیلے پن کا ساماں بھی کیا ہے اس نے۔۔۔! تم سے پہلے وہی تھی۔۔۔ جس کے ساتھ میں اپنا وقت سپینڈ کرتا تھا۔
پھر تم آگٸ۔۔۔! تو ۔۔ وہ ۔۔؟؟
شہیر۔۔۔! کہہ دیں۔۔ کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔
وہ آگے بڑھتے روتے ہوۓ اس کا کالر پکڑ چکی تھی۔
شہیر نے غصہ سے اپنا کالر چھڑایا۔
کیا فرق پڑتا ہے۔۔؟ میں کیا کہہ رہا ہوں کیا نہیں۔۔؟؟
تم نے تو اس کی بات کا یقین کر لیا۔۔ اب مزید کچھ کہنا باقی ہے کیا۔۔۔؟؟
غصہ سے کہتا وہ اندر جا چکا تھا۔
جبکہ انابیہ وہیں گارڈن میں کھڑی رہ گٸ۔ آنسو تھے کی بہتے جا رہے تھے۔
شہہیر نے اسے جھٹلایا نہیں تھا بلکہ۔۔۔ اس کی سب باتوں پے مہر لگاٸ تھی۔
انابیہ بیٹا۔۔۔! خانم کی آواز پے وہ آنسو صاف کتی پلٹی تھی۔ لیکن کچھ بول نہ پاٸ۔
بیٹا۔۔۔! مرد زات جب اپنا سب کچھ آپ پے نچھاور کر دے تو۔۔ کیا بچتا ہے۔۔ کہ پھر شک بھی کیا جاۓ۔۔۔؟؟
انہوں نے اس سے نرمی سے پوچھا۔
آپ بھی تو ملیں تھیں اس سے۔۔؟؟؟ انابیہ تلخی سے بولی۔
لیکن ۔۔مجھے اس لڑکی کی بات پے رتی بھر یقین نہیں۔۔۔ !میں جانتی ہوں۔۔ میرا بیٹا۔۔ وفا دار ہے۔۔۔ اگر ایسا نہ ہوتا۔۔ تو وہ ماں کے خلاف جا کے ۔۔ بھی تم سے شادی نہ کرتا۔۔۔! اب کی بار خانم نے سنجیدگی سے کہا۔
انابیہ چپ سی ہوگٸ۔
دیکھو انابیہ۔۔۔! شہیر تمہارا شوہر ہے۔۔ اور کوٸ کچھ کہت ہے وہ زیادہ معنی رکھتا ہے۔۔ یا شہیر جو کہتا ہے۔۔ وہ۔۔؟؟
خانم۔نے اس سے اب زرا سختی سے بات کی۔ وہ اپنے لاڈلے بیٹے کا گھر ٹوٹتا نہیں دیکھ سکتی تھیں۔
انابیہ نے انکی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
کل کو کوٸ شخص آ کے شہیر کے کان بھرے تمہیں لے کے۔۔ تو جانتی ہو۔۔ میرا بیٹا کیا کرے گا۔۔؟؟
وہ اس کے پاس آکے کھڑی ہوٸیں۔ جب کہ انابیہ کا دل زور سے دھڑکا۔
جان لے لے گا اس کی۔۔۔! پیار کے ساتھ اعتبار بھی کرتا ہے وہ تم پے۔۔۔! کسی بھی اجنبی کی خاطر۔۔ اپنی ہنستی بستی دنیا کو آگ مت لگاٶ۔۔ نابیہ۔۔۔! اس کے کندھے پے تھپکتے وہ اندر بڑھ گٸیں۔ جب کہ انابہ کو خود پے غصہ آیا۔
شہیر تو اس سے دیوانوں کی طرح چاہتا تھا۔ کسی سے کچھ بھی چھپا نہ تھا۔ پھر وہ کیسے بھول گٸ سب۔۔؟؟
آنسو پھر سے بہہ نکلے۔
اندر کمرے کی جانب آٸ تو شہیر معاویہ کو ساتھ لگاۓ سلا رہا تھا۔ اور کمرے میں چکر لگا رہا تھا۔
معاویہ نیند کی وادیوں میں کھو ررہا تھا۔ لیکن تھوڑی تھوڑی دیر بعد باپ کے چہرے کو ٹٹولتا۔۔ یہ یقین کرتا کہ کہ باپ نے اسے تھاما ہوا ہے یا نہیں۔۔ ؟؟
معاویہ کو اس کے کمرے میں لیٹا کے وہ اس کو اچھے سے ڈھکتا وہ باہر نکلے لگا تھا۔ کہ انابیہ اس کے راستے میں حاٸل ہوٸ۔
وہ کچھ نہیں بولا۔
لیکن چہرہ پے سنجدگی تھی۔ اور نظریں دوسری طرف۔
ایم سوری۔۔۔۔! آنسو روکتے وہ بس یہی بول پاٸ تھی۔
شہر نے گہرا سانس خارج کیا۔ اور اسے ساٸیڈپے کر کے باہر نکلنے لگا کہ اس نے شہیر کی بازو تھام لی۔۔
پلیز۔۔۔۔! معاف۔۔۔؟ وہ پھر سے آگے بڑھا۔ کہ انابیہ اس کی پشت سے لگ گٸ۔
ایسے تو مت کرو۔۔۔ مرجاۓ گی۔۔ آپ کی انا۔۔۔! روتے ہوۓ کہتے وہ شہیر کے ضبط کو آزما رہی تھی۔
اس کے آنسو اسے تکلیف دے رہے تھے۔
ہاتھ بڑھا کے اسے اپنے سینے سے لگایا۔ تو وہ پھوٹ پھوٹ کے رو دی۔
اچھا۔۔ اب بس۔۔۔! آنسو بہانے کی ضرورت نہیں۔۔ ! اسے خود میں بیھنچے وہ اسے چپ کروا رہا تھا جب کہ وہ بچوں کی طرح بس روۓ جا رہی تھی۔
انا۔۔۔۔ بس کر دو۔۔ ورنہ لگا دوں گا دو۔۔۔! شہیر نے پیار بھری خفگی سے کہا۔
دیکھا۔۔۔ !اب آپ مجھ پے ہاتھ بھی اٹھاٸیں گے۔۔؟
وہ وں سوں کرتی سر اٹھا کے بولتی شہیر کے دل کی دنیا ہلا کے رکھ گٸ۔
ہمممم۔۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔! اس کے لبوں کو اپنے ہونٹوں سے چھوتا وہ پیار سے بولا۔ تو انابیہ نے اس کے سینے میں منہ چھپایا۔
بہت جھلی ہو یار۔۔۔۔! شہیر اسے لیے واپس روم میں آیا۔
وہ۔۔۔ اس طرح بولی۔۔ کہ میں۔۔ اس کو کوٸ جواب ہی نہ دے پاٸ۔۔۔! انابیہ اپنے حق میں بولی تھی۔
دینا چاہیے تھا۔۔۔ کوٸ بھی تمہارے شوہر کے بارے میں کچھ بھی بول کے چلا جاۓ تم چپ چاپ سنتی رہو گی۔۔۔؟؟
شہیر نے اسے اپنے قریب کیا تھا۔
اب ایسا ہی کروں گی۔۔۔! کوٸ بولے گا کچھ تو۔۔ منہ توڑ دوں گی اس کا۔۔۔!انابیہ نے آنسو صاف کرتے جوش سے کہا۔
جب کہ شہیر اس کے بالوں میں چھپاتا اسے سمٹنے پے مجبور کر گیا۔
شہیر۔۔۔۔ !مجھے۔۔نیند آرہی ہے۔۔۔!
انابیہ شہیر کا ارادہ بھننپتی فوراً کمفرٹر میں گھسی۔
جبکہ اب شہیر کا ارادہ بدل چکا تھا۔ لاٸیٹ آف کرتا اسے اپنی گرفت میں لے چکا تھا۔












جب وہ زمین آپ کی ہے ہی نہیں۔۔ ؟؟ تو میں آپ سے خریدوں کیوں۔۔؟؟
آفتاب شیر خان کو مسٹر چیمہ کی بات پے انتہاٸ غصہ آیا لیکن ضبط کر گیا۔
دیکھیں۔۔! مسٹر خان۔۔۔! زمین بارہ سال سے بھی اوپر ہوگۓ ہیں۔۔ ہمارے قبضے میں ہے۔۔ تب کوٸ کچھ نہیں بولا۔ اب آپ ۔۔ کیسے آ کے مالک بن گۓ۔؟
مسٹر چیمہ نے سنبھل کے بات کی۔ وہ مسٹر خان کے غصہ سے خاٸف بھی تھے۔
زمین ۔۔ کے پیپرز ہیں ہمارے پاس۔۔۔ !آپ اپنا قبضہ خود وہاں سے ہٹاٸیں گے۔۔ ؟إ یا میں اپنے طریقے سے ہٹاٶں۔۔۔؟؟؟
آفتاب نے کھڑے ہوتے بات ختم کرنی چاہی۔
آپ ہمیں دھمکی دے رہے ہیں۔۔؟؟ مسٹر چیمہ بھی اٹھ کھڑے ہوۓ۔
نہیں۔۔ میں دھمکی نہیں دیا کرتا۔۔ جو کہتا ہوں۔ کر کے دکھاتا ہوں۔۔۔ آفتاب نے سرد آنکھوں سے انہیں دیکھا۔
ٹھیک ہے اب عدالت میں ہی بات ہوگی۔
مسٹر چیمہ بھی ریڈی ہوگۓ۔ جیسے اب وہ بھی سامنا کرنے کو تیار تھے۔
عدالت کس نے جانا ہے۔۔ مسٹر چیمہ۔۔۔؟؟ آفتاب کے ماتھے پے دو بل پڑے جو اسے ہمیشہ سے پرکشش بناتے تھے۔
مطلب۔۔۔؟؟؟ مسٹر چیمہ کو کچھ غلط ہونے کا احساس جاگا۔
اپنی عدالت بھی میں خود ہوں۔۔ اور ایٹ دا سپوٹ فیصلہ بھی خود لیتا ہوں۔۔ ! یقین نہ آۓ تو کل اس زمینپے آکے دیکھ لیجیٸے گا۔
سرد لہجے میں کہتے ہوۓ بہہر کی جنب قدم بڑھاۓ۔
جب کہ مسٹر چیمہ تو ایسے چپ ہوۓ کہجیسے وہاں موجود ہی نہ ہوں۔۔









بابا۔۔۔۔۔! آپ۔۔۔ بہت اچھے ہیں۔۔۔! نک چڑھی منہا نے شامی کا گال کھینچا تھا۔
میرا بچہ بھی بہت اچھا ہے۔۔۔! بدلے میں شامی نے بھی کھینچ ڈالا۔ تو وہ منہ پے ہاتھ رکھے رونے کی پوزیشن میں آتی اپنا نیچے والا ہونٹ باہر نکال چکی تھی۔
شامی نے فوراً موباٸل آن کیا۔ اور اس کے رونے کی ویڈیو بناٸ۔
کچن سے منہا کی رونے کی آواز سنتی عابی نے باہر جھانکا۔ باہر کا منظر دیکھ اسے تو آگ ہی لگ گٸ۔
حد ہے۔۔۔ یہ کیا طریقہ ہوا۔۔۔؟؟
وہ بھاگتی ہوٸ باہر آٸ اور منہا کو شامی کی گود سے لے کے چپ کرانے لگی۔
کیا یار۔۔۔ ؟؟ ساری ویڈیو کی ستیاناسی کر دی تم نے۔۔۔؟؟
کیا۔۔۔؟؟ یہاں ہماری بیٹی۔۔ رو رو کے ہلکان ہو رہی ہے۔۔ اور آپکو ویڈیو کی پڑی ہے۔۔۔
ؒنے دیں۔۔ممانی جان کو ۔۔۔ بتاتے ہیں انہیں۔۔!عابی نے خفگی سے دھمکایا۔
جبکہ شامی سر جھٹکتا موباٸل پے بزی ہوگیا۔ دوسری طرف منہا کی چینخ و پکار میں اضافہ ہوتا گیا۔ وہ بار بار باپ کی طرف بانہیں کر کے رو رہی تھی۔
بس۔۔ چپ ہو جاٸیں۔۔ ہماری جان۔۔۔؟؟ عابی اسے چپ کرانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ جب وہ اسکی گود سے اتر شامی کے پاس جا پہنچی۔
جاری ہے
