Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 11)

Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan

آج ان کی پاکستان کی فلاٸیٹ تھی۔

لندن اٸیر پورٹ پے بیٹھے وہ اپنی فلاٸیٹ کا ویٹ کر رہے تھے۔ انابیہ کے پیچھے پڑنے پے وہ سب وقت سے پہلے تیار ہو کے اٸیرپورٹ پہنچ گۓ تھے۔

کہا بھی تھا۔۔ ابھی پورا ایک گھنٹہ پڑا ہے۔ لیکن۔۔ نہیں۔۔ جی۔۔ سنتا کون ہے میری۔۔؟ لا کے بٹھا دیا۔۔!

شہیر نے منہ بنا کے کہا۔ جبکہ گود میں معاویہ اس کا موباٸل لیے ٹاٸم پاس کر رہا تھا۔

علیزہ خانم کے ساتھ لگی سو رہی تھی۔ جکہ انابیہ گن گن کے پل گزار رہی تھی۔

انجواۓ کریں۔۔ ہر لمحے کو۔۔۔ تین سال بعد جا رہے ہیں پاکستان۔۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے۔۔ صدیاں بیت گٸیں۔۔ اپنا ملک دیکھے ہوۓ۔۔۔! ایک خوشی اور اداسی سی چھلکی تھی۔

شہیر نے پیار سے اپنی من موہنی صورت لیے بیوی ک دیکھا۔

ہاۓ۔۔ شہیر۔۔۔؟؟ ہاٶ۔۔ آر یو۔۔؟إ واٹ آ پلیزنٹ سرپراٸز۔

اچانک سے کلثوم کے واہں آکے شہیر کو پکارنے پے وہ سب چونکے۔

اوہ۔۔ ہاۓ۔ ۔۔۔ کوک۔۔.. ہاٶ۔ آر یو۔۔؟؟ شہیر بھی اسے یکھ خوشگواریت سے بولا۔

می فاٸن۔۔! کچھ دن پہلے تمہاری واٸف سے ملاقات ہوٸ۔ بتایا ہوگا۔۔۔ ! کوکو نے مکسراتے ہوۓ کہا۔

انا نے شہیر کو ایک گھوری سے نوازا۔

ہممم۔۔ بتایا تھا۔ کینیڈا سے لندن کب شفٹ ہوٸ؟ شہیر نے سرسری سے انداز میں پوچھا۔ جب کہ وہ شہیر کے پاس ہی بیٹھ گٸ تھی۔ اور انابیہ کے تن بدن میں آگ سی لگی تھی۔

بس ایک ہفتہ پہلے۔۔۔ اب تو پاکستان جا رہی ہوں۔۔ اپنی گرینی سے ملنے۔۔۔ ! اینڈ۔۔یو۔۔؟؟ سب کی طف دیکھتے پوچھا۔

جبکہ پاکستان کا نام اس کے منہ سے سن کے انابیہ نے لب بھنیچتے رخ پھیرا۔

ہم بھیبپاکستان جا رہے ہیں۔ شہیر نے مکراتے ہوۓ ہی جواب دیا۔ جب کہ اب زرا دھیان اپنی شریکِ حیات کی طرف تھا۔

واٶ۔۔۔ پھر تو سفر کا خوب مزہ آنے والا ہے۔۔۔ جب مل بیٹھیں گے دو بچھڑے دوست۔۔۔! ہہہاہاہاہاہا خود ہی کہہ کے خود ہی ہنس دی۔ اس بار شہیر مسکرا بھی نہ سکا۔

باٸ دا وے۔۔ تمہاری بیوی تھوڑی روڈ سی ہیں۔۔؟ شہیر کے کان یں گھس کے بولتی اب کی بار انابیہ کو اچھا خاصا تپا گٸ۔

خان۔۔؟؟ ہمیں کافی پینی ہے۔۔ پلیز لا دیں۔

انابیہ نے سنجیفہ انداز میں آرڈر دیا۔ تو وہ سمجھتا ہوا۔ بیٹے کو گود میں ہی اٹھاۓ انا بیہ کے لیے کافی لینے چلا گیا۔

بہت آرڈر لگاتی ہو بھٸ ہزبینڈ کو۔۔۔ ! کوکو کو اس کا انداز اچھا نہ لگا۔

میرے ہزبینڈ ہیں۔ جو چاہے مرضی کروں۔ تم سے مطلب۔۔؟ انانبی بھی اب بنا کسی لحاظ کے دوبدو ہوٸ۔

اف۔۔ کتنی لڑاکا ہو تم۔۔۔ توبہ۔۔۔! کانوں کو ہاتھ لگاتی وہمنہ موڑ کے یٹھ گٸ۔

انانبیہ نے کچھ بولنا چاہا۔ کہ خانم نے اشارے سے منع کر دیا۔پ

انابیہ رخ پھیر گٸ۔

کچھ ہی دیر میں شہیر کافی لے آیا۔

اور انابیہ کی جانب بڑھاتا اسی کے پاس بیٹھ گیا۔

انابیہ نے خاموشی سے کپ تھاما۔ اور ایک گھوری مسکراتی ہوٸ کوکو پے ڈالی۔

اناوٸنسمنٹ شروع ہو چکی تھی۔ شہیر نے اپنی فیمیلی کو لیا اور آگے بڑھا۔ جب کہ کوکو بھی ان کے ہمراہ ہی تھی۔

💍
💍
💍
💍
💍
💍
💍
💍
💍
💍
💍
💍

صبح ناشتے کی ٹیبل پے کنول کو بچوں کو ناشتہ سرو کرتے دیکھ وہ ایک پل کو ٹھٹھکا۔ ایسالگ رہا تھا۔ کہ اس کا گھر آج مکمل ہو گیا ہو۔ ایک خوبصورت منظر تھا۔ جو آفتاب کی آنکھوں کو بہت بھل لگا ۔ تبسم بیگم کی نظر اس پے اٹھی۔ وہ جو واپس پلٹنے والا تھا۔ ماں کی پکار پے رک گیا۔

اور ان کی جانب بڑھ آیا۔

کنول نے رخ پھیر لیا۔

بیٹا آٶ۔۔ ناشتہ کرو۔۔۔! پیار سے کہتے ہاتھ پکڑا۔

وہ وہیں بیٹھ گیا۔

کنول یہ جوس پکڑانا۔

تبسم بیگم کے کہنے پے کنول نے ایک نظر آفتاب کو دیکھا۔ جو بچوں سے باتیں کر رہا تھا۔

آگے بڑھ کے جوس کا جگ تبسم بیگم کو تھمایا۔

اب خود بھی بیٹھ کے ناشتہ کر لو۔۔۔ کل سے کچھ نہیں کھایا۔۔۔ آپ نے۔۔

جگ لیتے ساتھ ہدایت بھی کی۔ اور جوس گلاس میں انڈیلا۔ اور آفتاب کی جانب بڑھایا۔

بابا۔۔۔؟؟ آج چھٹی ہے۔۔ پلیز۔۔ کہیں گھومنے کا پروگرام بناٸیں۔

مونس نے جوش میں آتے کہا۔ خوشی اس کے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی۔ ماں۔ اور بہن کو پا کے وہ بہت خوش تھا۔

پھر۔۔ کبھی۔۔ میری جان۔۔۔! آج بابا کی ایک اہم میٹنگ ہے۔ آفتاب کے لہجے میں محبت ہی محبت تھی۔ جوس کا آدھا گلاس پی کے ساٸیڈ پے کر دیا۔ اور اٹھ گیا۔

بیٹا۔۔ ناشتہ تو پورا کر لو۔۔؟؟ تبسم بیگم نے ٹوکا۔

دیر ہو رہی ہے۔۔ آفس میں کر لوں گا۔ نجیدگی سے کہتا آگے بڑھ کے ایک بسوہ مونس کے ماتھے پے دیا ایک ملکہ کے ماتھے پے۔

عظیم خان۔۔۔۔! وہیں سے اپنے سب سے اعتباری ملازم کو بلوایا۔ جو پورے گھر کا سیکیورٹی نظام سنبھالے ہوا تھا۔

گاڑی نکالیں۔ آفتاب نے گل خان سے گھڑی اور والٹ لیتے عظیم خان کو حکم صادر کیا۔

خان۔۔۔؟؟ اس کے قدم باہر کی جانب بڑھے کہ ماں نے پھر سے پکارا۔

جی ماں۔۔؟؟ وہ اسی محبت بھرے انداز سے بولا۔

آج ماں کو اللہ حافظ کہنا بھول گۓ ۔۔؟ محبت بھرے انداز میں جتایا۔

تو وہ آگے بڑھتا ان کا ماتھا چوم گیا۔

اللہ حافظ ماں۔۔۔! میٹھا لہجہ۔۔ کنول تو بس دیکھتی رہ گٸ۔

وہ بوسہ دے کے جا چکا تھا۔

سر جھکاۓ بیٹھے اسے ماضی یاد آیا تھا۔ وہ ہمیشہ اس کے ماتھے پے بھی بوسہ دے کے جایا کرتا تھا۔ بے اختیار ہاتھ اپنے ماتھے پے گیا۔

تو اندر سے کچھ ٹوٹا۔

ہاں۔۔ سب ٹوٹ گیا تھا۔۔۔ اب کچھ نہیں باقی بچا تھا۔

لیکن۔۔ اس دل کا کیا کرتی۔۔؟؟ جو آج بھی اسی کا دیوانہ تھا۔ اسی کو مانگ رہا تھا۔

کیسے بدل جاۓ گا۔۔

تُو دل کو دے کے دھوکا

پہلے نہ میں جانی

پہلے نہیں یہ سوچا

جھوٹی قسمیں تیری

جھوٹا وعدہ تیرا

کتنا خوش ہے صنم

توڑ کے دل میرا

اچھا یہ احسان ہے۔

💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔

اس کا ماتھے پے جاتا ہاتھ آفتاب خان دیکھ چکا تھا۔ ماضی کی یادوں سے وہ کب دور ہوا تھا۔ اس کا بھی دل آج بھی اس سے بغاوت کر رہا تھا۔ لیکن انا کی دیوار پہلے کون گراتا۔۔؟؟ یہی تو دیکھنا تھا۔

💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘

جہاز ااڑان بھر چکا تھا۔ بچے خانم کے ساتھ تھے تو شہیر اور انابیہ ساتھ تھے۔ کچھ سیٹوں کے فاصلے پے ہی کوکو بھی وہیں تھی۔ جو گاہے بگاہے ان پے نظر ڈال لیتی۔ اس کے دیکھنے پے انابیہ نے شہیر کا بازو تھاما اور اپنے قریب کرتے اس کے کان میں کچھ کہا اور مسکراٸ۔ شہیر بی مسکرایا تھا۔ جب کہ کوکو جل گٸ تھی۔

مسکرا لو۔۔۔ مسکرا لو۔۔ جتنا مسکرانا ہے۔ شہیر کو حاصل نہ کیا تو میرا نام بھی کلٹوم باسی نہیں۔۔ وہ دل ہی دل میں پلان بناتی مطمین ہو رہی تھی۔

💍
💍
💍
💍
💍
💍
💍
💍
💍

مما۔۔۔ بابا ۔۔پلیز۔۔ کوٸ تو جا کے ہماری منہا کو لا دے۔۔۔ آج سارا دن گذر گیا۔۔ ہم نے اسے ایک نظر نہیں دیکھا۔ پلیز۔۔؟ لا دیں۔۔ وہ کل سے روۓ جا رہی تھی۔ لیکن نواب صاحب نے سختی سے منع کر دیا تھا۔ نہ وہاں جانا ہے اور نہ ہی بچی کو لانا ہے۔ اس لیے منہا بس تڑپ ہی سکتی تھی۔ نواب صاحب دل پے پتھ رکھے باہر نکل گۓ۔

تو عابی ماں کی طرف مڑی۔

مما۔۔ پلیز۔۔ آپ کچھ کریں۔۔ ہمیں ۔۔ صرف۔۔ صرف ایک بار منہا کو دیکھا دیں۔ اسے۔۔ا۔ اسے دیکھ لیں گے تو۔۔ سکون آجاۓ گا۔۔ پھر بے شک۔۔ آپ اسے ۔۔ واپس ۔۔۔چھوڑ آنا۔۔۔! ہچکیوں سے کہتے وہ عابدہ بیگم کو بھی رلا گٸ۔

اچھا بس۔۔ میری جان رووٶ نہیں۔۔ میں لے کے آتی ہوں۔ منہا کو۔۔! دیکھتی ہوں کیسے نہیں آنے دیتا شاہمیر۔۔ ؟؟ لے کے آٶں گی اسے۔۔۔ ! عابی کے آنسو صاف کرتے وہ اٹھیں تھیں۔ اور منہا کو لینے چل دیں۔ دروازہ کھلا تھا۔ وہ سیدھا اندر چلی گٸیں۔

جمیلہ خاتون بھی آچکی تھیں۔

عابدہ بیگم پے نظر پڑتے ہی خوش دلی سے ملیں۔

کیسی ہیں آپ۔۔؟؟ میں ابی آپ کی طرف ہی آرہی تھی۔ عابی کہاں ہے۔۔؟

وہ ایسے بات کر رہی تھیں۔ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔۔ یا شاید انہیں پتہ ہی نہ ہو۔

جمیلہ بہن۔۔۔ منہا کو دے دیں۔ اس کی ماں مر جاۓ گی ورنہ۔۔؟؟ عابدہ بیگم رو دیں۔

ککیسی باتیں کر رہی ہیں۔ اور رو کیوں رہی ہیں۔ یہاں آٸیں۔ بیٹھیں۔ جمیلہ خاتون نے انہیں بٹھایا۔ پانی پلایا۔ کیا ہوا۔۔؟؟ بتاٸیں آپا۔۔؟؟؟

عابدہ بیگم نے انہیں ساری بات بتا دی۔ سلطان صاحب بی پاس ہی کھڑے سب کچھ سن رہے تھے۔

شاہ میر۔۔۔؟؟ شاہ میر۔۔؟؟

وہ جو صبح سے منہا کو لیے کمرے میں تھا۔ ہر چیز اس کی خود تیار کر رہا تھا۔ کسی سے بات نہ کی کوٸ جواب نہ دیا ماں باپ کے پوچھنے پے صرف اتنا بتایا کہ عابی ماں کے گھر ہے۔ اور منہا کی طبعیت ٹھیک نہیں۔ اس لیے وہ آفس بھی نہیں گیا آج۔ لیکن اصل بات نہ بتاٸ۔

باپ کی پکار پے وہ باہر آیا تو ساس کو بیٹھا دیکھ اس کا میٹر پھر گھوما۔

جی۔۔ بلایا آپ نے۔۔؟؟ شاہ میر سلطان صاحب کے پاس جا کھڑا ہوا۔

آپ۔۔ اتنے بڑے کب سے ہوگۓ۔۔؟ جو اتنے بڑے فیصلے کرنے لگے؟ وہ غصہ ضبط کرتے بولے تھے۔ شامی نے ایک کٹیلی نظر سے ساس کو دیکھا۔

جب سے باپ بنا ہوں۔۔ !

نڈر ہوتے جواب دیا۔

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *