Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan NovelR50506 Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 20)
Rate this Novel
Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 20)
Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha chohan
یہ سب کیا ہے؟؟ آفتاب نے غصہ ضبط کرتے اس سے پوچھا۔
کیا۔۔؟؟ کنول نے حیرانی سے ان سے دریافت کرنا چاہا۔
بیت معصوم مت بنو۔ میرے سر پے تم نے یہ واس مارا۔ اور اب کہتی ہو۔۔ کیا۔۔؟؟ سفیہ جارحانہ انداز میں بولی۔ پاس کھڑی اس کی پھپھو نے اسے تھامے رکھا۔
کنول کے ماتھے پے بل پڑے۔ نظر اس کے ماتھے پے گٸ۔ جہاں سے خون بہہ رہا تھا۔
تنفر سے سر جھٹکا۔
کیوں کیا ایسا۔۔؟؟ آفتاب خان اس کے مدمقابل کھڑا ہوتا سرد لہجےمیں پوچھتا کنول کو حیران کر گیا۔
لیکن وہ ۔۔ کیوں حیران ہوتی۔۔ آج تک آفتاب نے اس کا یقین کیا ہی کب تھا۔ اسے تو یقین کے لیے ہمیشہ ثبوتوں کی ضرورت پڑتی تھی۔
میں آپ کو یا کسیکو بھی یہاں جواب دہ نہیں ہوں۔۔ کنول نے خود پے کمال ضنط کے جواب دیا۔ ورنہ جس قدر اسے غصہ آرہا تھا وہی جانتی تھی۔
تمہیں جواب دینا ہو گا۔۔ میرے گھر میں کھڑے ہو کے تممجھ پے ہاتھ نہیں اٹھا سکتی۔ سفیہ چلاٸ تھی۔
کنول نے پھر بھی درگزر سے کاملیتے وہں سے باہر نکلنا چاہا۔ کہ آفتاب نے راستہ روکا۔
تم اسی لیے یہاں رکی تھی۔کہ یہ سب تماشا کر سکو۔۔۔؟
فتاب کی بات پے اس کا دماغ بری طرح جھنجھنا اٹھا۔
آفتاب شیر خا۔ن۔۔۔ ! پہلی بات۔۔ میں نے اسے نہیں مارا۔۔ کیونکہ۔۔ اگر کنول اسے مارتی تو۔۔ اس وقت یہ کچھ کہنے کے قابل نہ ہوتی۔
کنول نے سینے پے بازو باندھے نہایت تحمل کا مظاہرہ کرتے آفتاب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈلتے تیز لہجے میں کہا۔
اور دوسری بات۔۔۔ میں چاہے کچھ بھی کہہ لوں۔۔ یقین تو آپ نے میرا کرنا نہیں۔۔ تو۔۔ میں کچھ بھی کیوں بولوں۔۔۔؟؟ آپ کو جو سمجھنا ہے آپ سمجھیں۔۔۔ اسے جو کہنا ہے یہ کہے۔ سفیہ کی جانب اشارہ کیا۔
I dont care now….
اس کے پاس ہوتی وہ سرد لہجے میں کہتی وہاں سے باہر نکلنے لگی کہ
تم ایسے نہیں جا سکتی۔ تمہیں جواب دینا ہوگا۔ کتنی درندگی بھر گٸ ہے تم۔۔ ایک وحشی عورت بنگٸ ہو تم۔۔ جانور سے بھی بدتر ہو تم۔۔ اتنا بے دردی سے مجھے مارا۔ دیکھنا تمہارا کیا تمہاری اولاد۔۔؟؟
چٹاخ۔۔۔!
اس سے پہلے کے فیہ بات مکمل کرتی کنول کا ایک جھاآپڑ پڑتے ہی اس کے لب خاموش ہوۓ۔ وہ منہ پے ہاتھ رکے حیرت سے اسے دیک رہی تھی۔
آفتاب نے بھی بس ایک نظر اسے دیکھا تھا۔ اس نے جو کیاا۔ سفیہیہی ڈیزرو کرتی تھی ۔ بچے وہ صرف کنول کے نہیں آفتاب شیر خان کے بھی تھے۔
تمہاری جرات کیسے ہوٸ میرے بچوں کے بارے میں بکواس کرنے کی۔۔؟؟ کنول کا دماغ اب کی بار پوری طرح شارٹ ہوا تھا۔
ایک اور تھپڑ اسکے گال پے پڑا تھا۔ ششدر سی ہ دیکھے گٸ۔ آگے بڑھ کے اس کا بازو پکڑ کے مروڑتے کمر کے پیچھے لے گٸ۔
کسی بھول میں نہ رہنا۔۔۔ اور نہ ہی مجھے کمزور سمجھنے کی بھول کرنا۔ کنول سب برداشت کر لے گی۔ لیکن بات جہاں اس کے بچوں کی آۓ گی۔ تو وہ جان دے بی سکتی ہے۔ اور جان لے بھی سکتی ہے۔زور سے پکڑ کے اس کا بازو مروڑتے جھٹکے سے اسے دور دھیکلا۔ وہ توازن برقرار نہ رکھ سکی۔ اور اپنی پھوپھو کے اوپر جا گری۔ اس کی نظروں میں خوف تھا۔
اور کیا کہہ رہی تھی۔۔ تم۔۔۔؟؟ تین سال میں نے اپنے بچہ کو چھوڑ دیا۔۔؟؟
میة ایک سال چھوڑوں یا دس سال۔۔ تم ہوتی کون ہو۔۔ میرے معاملات میں دخل اندازی کرنے والی۔۔؟؟ اوقات کیا ہے تمہاری۔۔؟ ہاں۔۔؟؟
غصہ میں تو وہ بہت کچھ بولتی جا رہی تھی۔ لیکن نہیں جانتی تھی۔ اگر اس نے یہ کہہ دیا کہ وہ آفتاب کے نکاح میں ہے۔ تو اس کا کیا رہ جاتا۔۔؟؟
بولو ناں۔۔ جواب دو۔۔؟؟
کنول پھر سے غصہ سے آگے بڑھی۔ آفتاب شیر خان اسے بے انتہا غصہ میں دیکھ اسے دبوچ گیا۔
چھوڑیں مجھے۔۔ بتاۓ زرا آج مجھے یہ۔۔ کہ یہ گھر کس کا ہے۔۔۔؟؟ تم۔۔۔ اس گھر کی مالکن ہو۔۔؟؟ جو مجھ سے سوال جواب کر رہی ہو۔۔؟؟ کنول شرو ہو چکی تھی ااب اسے روکنا ناممکن تھا۔
یہ حویلی کس کی کتنی ہے۔۔؟؟ کس کا کتنا حق ہے۔۔ یہ تو وقت ہی طے کرے گا۔۔ لیکن صد افسوس۔۔۔ آج ہی خن بیگم کا جنازہ اٹھا اور آج ہی تمہیں۔۔ اس خان حویلی مالکن بننے کا خواب دیکھنا شروع کر دیا۔۔۔۔ تف ہے تم۔۔ لالچی عورت۔۔۔! کنول کسی کی بھی پرواہ کیے بنا سفیہ کو آج آٸینہ دکھا گٸ۔ اپنے اندر کا غبار اس پے نکال وہ اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر رہی تھی۔
آفتاب شیر خان نے اسے مزید آپے سے باہر ہوتا دیکھا تو اسے کلاٸ سے دبوچے باہر لے گیا۔ جب کہ وہ خود کو چھڑانے کی کوشش کرتی رہی۔
چھوڑیں مجھے۔۔ !بمشکل کلاٸ چھڑاتے وہ دبا دبا چلاغ تھی۔
اپنا منہ بند رکھو۔۔ اور گاڑی میں بیٹھو۔۔۔! آفتاب خان نے غصہ سے لب بھینچتے کہا۔
اچھا۔۔۔! اور و جو آپ کی ہیتی اپنا منہ کھول کے کھڑی تھی۔ اس کا کیا۔۔؟؟؟ کنول کو تو تپ ہہ چڑھ گٸ۔
کنول۔۔۔؟؟ آج کتنے عرصہ بعد آفتاب نے اسے اس کے نام سےپکارا تھا۔ ایک پل کو وہ تو چپ ہوگٸ۔ آج اپنا نام اس کے لبوں سے ادا ہوتا بہت ہی الگ بہت ہیا چھوتا سا لگا۔
پھر سے کہنا۔۔۔؟؟؟ کسی ٹرانس کی کیفیت میں دھیمے سے بولتی وہ آفتاب شیر خان کو بھی چونکا گٸ۔
آفتاب شیر خان نے اس کے چہرے سے نظریں ہٹاٸیں۔ اور گاڑی کیجانب بڑھتا اسے بھی فرنٹ سیٹ کا دروازہ ان لاک کرتے بٹھایا ۔ وہ پیچ و تاب کھاتی پھر سے سفیہ کے بارے میں سوچنے لگی۔
آفتاب نے سفیہ کی بات پے رسپانس کیوں نہیں۔ دیا۔۔؟؟ اس بات کا کنول کو شدید دکھ ہوا تھا۔ اور اپنی طٸیں وہ خان سے سخت غصہ ہو چکی تھی۔ گاڑی خان منشن کی طرف رواں دواں تھی۔ سارے راستے دونوں میں خاموشی چھاٸ رہی ایک گارڈ کی گاڑی آگے تھی۔ ایک پیچھے۔ جہنوں نے اسے پوری طرح کور کا ہوا تھا۔ جب کہ گاڑی وہ خود ڈراٸیو کر رہا تھا۔
ہر جگہ ہر وقت تماشا کھڑا کرنا ضروری ہے۔۔؟؟ آفتاب شیر خان کی غصہ بھری آواز ابھری۔
تماشا ۔۔ اس نے شروع کیا۔۔ میں نے تو ڈراپ سین کیا۔ دیکھا نہیں تھا۔۔؟؟ کنول نے فخر سے پوچھا۔
تم۔۔ واقعی اسے جنگلیوں کی طرح مار رہی تھی۔ کیا طریقہ تھا یہ۔۔؟؟
آفتاب کو اس کا انداز عجیب لگا تھا۔
آپ ۔۔ اب حد سے بڑھ رہے ہیں۔۔ مسٹر خان۔۔۔! انگلی اٹھا کے لال بھبھوکا چہرے سے اسے مخاطب کیا۔
میری کیا حد ہے۔۔؟؟ ہر حد تو تم کراس کر چکی ہو۔۔۔! اچانک سے گاڑی کی سپیڈ کو بڑھایا۔
جو جیسا ہوتا ہے اس کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا جاتا ہے۔۔۔! وہ آپ کی چہیتی لاتوں کی بوت تھی۔ باتوں سے کہاں ماننے والی تھی۔۔؟؟
کنول نے اسے تپانا چاہا۔
لاتوں کی بوت تو تم بھی تھی۔ بنا اسکی طرف دیکھے دھیمے لیکن سرد لہجے میں کہا۔ کنول نے ایک نظر اس بےحس شخص کو دیکھا۔
تو اٹھا لیتے ہاتھ۔۔۔ بلکہ اٹھایا تو تھا آپ نے۔۔ بس مارنے کی کسر رہ گٸ تھی۔ اپنے دل کی خواہش اب پوری کر لیں۔۔۔! کنول نے غصہ سے آنسو ضبط کرتے آفتاب سے کہا۔
آفتاب کا یوں بلاوجہ سفیہ کی ساٸیڈ لینا کنول کو اندر تک سلگا رہا تھا۔
میرا بس چلے۔۔ تو تمہاری ٹانگیں توڑ کے تمہیں بستر پے ڈال دوں۔۔۔ آفتاب خان نے دانت کچکچاتے کہا۔
لیکن مجبوی یہ ہے کہ تم۔۔۔؟؟ ایک قہر کی نظر اس پے ڈالی۔
میرے بچوں کی ماں ہو۔۔۔!۔ سرد لہجے میں کہتا وہ کنول کو بلاآخر آنسو دینے میں کامیاب ہو گیا۔
بھول جاٸیں۔۔ کہ میں آپ کے بچوں کی ماں ہوں۔۔ اور اپنی درندگی دکھا دیں۔۔ تا کہ آپ کے اندر کے خان کو سکون مل جاۓ۔ اس بار کنول کا لہجہ شکست خوردہ اور دکھی تھا۔
آفتاب شیر خان نے ایک سختاور کٹیلی نظر سے اے دیکھا۔ لیکن اب کی بار خاموش رہا۔ کنول نے بھی خاموش رہنا مناسب سمجھا۔ آنکھیں موندھے سر سیٹ کی پشت سے ٹکا گٸ۔
کیسے بدل جاۓ گا
تو دل کو دے کے دھوکا
پہلے نہ میں جانی
پہلے نہیں یہ سوچا۔
جھوٹی قسمیں تیری۔۔
جھوٹا وعدہ تیرا
کتنا خوش ہے صنم ۔۔۔
توڑ کے دل میرا۔
اچھا یہ احسان ہے۔۔۔







تیری طرف میں دیکھوں۔۔
دل کو سمجھا نہ پاٶں۔۔
دل میں بسی یہ محبت
دل سے نکال نہ پاٶں۔۔
تو ہی زندگی میری
تو ہی چاہت میری۔۔
میرے ہمنشیں میری دلربا یہ تیری
بے رخی لے میری جان رے۔۔۔۔










کیا تھ یہ سب۔۔؟؟ وہ تمہیں مار کے چلی گٸ ۔ اور تم دیکھتی رہ گٸ۔۔؟ پھوپھو آسیہ نے اسے غصہ سے مزید متنفر کیا۔ جوگال پے ہاتھ رھے بیٹھی رو رہی تھی۔
سوچو۔۔۔ ابھی صرف آٸ ہے تو دو تپھڑ جڑ کے چلی گٸ۔ اگر وہ ہمیشہ کےلیے یہاں آگٸ۔۔ تب۔۔۔ تب کیا کرو گی۔۔؟؟
ایسا میں کبھی نہیں ہونے دوں گی۔۔۔ اس سے پہلے ہی میں اس کا پتہ صاف کر دوں گی۔۔
فیہ غصہ سے کھڑے ہوتے پھنکاری تھی۔
آسیہ نے سر جھٹکا۔ جیسے۔۔ یہ کہنا ہی آسان ہے۔ بس۔۔ کرنا ناممکن۔
مری راہ کا سب سے بڑا کانٹا نکل گیا ہے۔۔۔۔
اب دیکھیۓ گا۔۔ میں کیاکرتی ہوں۔۔ آفتاب شیر خان کو بھی حاصل کروں گی۔ اور یہ ساری جاٸیداد بھی۔
سفیہ دل ہی دل میں شیطانی پلان بنا رہی تھی۔
جاری ہے۔
