Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan NovelR50506 Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 38)
Rate this Novel
Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 38)
Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan
اٸیرپورٹ سے وہ نکلے تو رات کافی ہوگٸ تھی۔ ان سب کا رخ اب خان منشن کی طرف تھا۔ وہ خان منشن جہاں خانم کا کبھی راج ہوا کرتا تھا۔ خانم گزرے وقت کو یاد کرتیں۔ آنکھیں نم کر گٸیں تھیں۔
کیا کیا کچھ نہیں یاد آیا انہیں ماضی کے حوالے سے۔۔۔۔! بڑی مما۔۔۔! ہم اب یہیں رہیں گے ہمیشہ کے لیے۔۔۔؟؟
معاویہ نے خانم کے گلے لگے پوچھا۔ علیزہ تو پہلے ہی ان کے سنے سے لگی۔ گود میں چڑھ کے بیٹھی تھی۔ نہیں بیٹا۔۔۔ ہمیشہ کے لیے تو۔۔ نہیں۔۔ جا رہے۔۔ لیکن۔۔ کچھ دن رہیں گے یہاں۔۔ آپ کے بڑے بابا ہیں یہاں۔۔ خانم نے آفتاب خان کا سوچتے ہوۓ یاسیت سے کہا۔ اس کے معصوم بچپن میں بھی اس کے ساتھ کافی برا سلوک کر چکی تھیں۔ اور پھر وہیں دوسری طرف کنول۔۔۔ ! نجانے وہ کیاکرے گی۔۔؟؟ جب اسے ان کے آنے کا علم ہوگا۔ اپنی ماں کے گناہ گاروں کو وہ معاف تو کر دے۔۔ لیکن بھلا نہیں پاٸ ہو گی۔
پلیز۔۔۔ شہیر۔۔۔! گاڑی روکیں۔۔ اچانک سے گھبراٸ ہوٸ آواز پے شہیر نے فرنٹ سیٹ پے بیٹھی انابیہ کو دیکھا۔ جو کافی دیر سے سیٹ کے ساتھ ٹیک لگاۓ آنکھیں موندے بیٹھی تھی۔ اچانک سے وہ سینے پے ہاتھ ملتی اٹھی تھی۔ شہیر نے فٹ سے گاڑی روکی۔ اور اسکی جانب مڑا۔
کیا ہوا۔۔؟؟ ٹھیک ہو۔۔؟؟ پرشان کن آواز آٸ۔ میرا دل۔۔۔ میرا دل ۔۔۔ گھبرا رہا ہے۔۔۔! اس نے سینے پے ہاتھ رکھے گہرا سانس لیتے ہوۓ کہا۔ شہیر گاڑی کا دروزہ کھولے خود باہر نکلا۔ اور دوسری طرف سے دروازہ کھولے انابیہ کو باہر نکالا۔ اور اس کا رخ اپنیبجانب موڑا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آگۓ تھے۔
انا۔۔۔ لمبے سانس لو۔۔۔! شہیر نے بہت نرمی سے اسے کہا۔ وہ کھلی ہوا میں گہرے اور لمبے سانس لینے لگی۔ لیکن اسے پھر بھی گھٹن کا احساس ہو رہا تھا۔ نم آنکھوں سے اس کی جانب دیکھا۔
بڑی مما۔۔؟؟ مما کو کیا ہوا۔۔؟؟ معاویہ کی پرشان کن آواز ابھری۔ کچھ نہیں بیٹا۔۔ ابھی ٹھیک ہوجاٸیں گیں۔ خانم خود فکرمند ہوٸیں تھیں۔ لیکن بچوں کو تسلی کرواٸ۔
شہیر اسے لیے تھوڑا آگے نکل گیا۔ رات کا اندھیرا کافی پھیل چکا تھا۔ اس نے کچھ خاص کھایا پیا بھی نہیں تھا۔ اور اداس بی تھی۔ شہیر جانتا تھا۔ وہ ٹیشن لے رہی ہے۔ اس لیے اس کا بی پی شوٹ کر گیا ہو گا۔۔
چاکلیٹ۔۔؟؟ شہیر نے پاکٹ سے نکال کے اس کی جانب ایک چاکلیٹ بڑھاٸ۔ تو وہ اسی کا ہاتھ تھامے اس کی جانب دیکھ گٸ۔ اسے یہی تو چاہت چاہیے تھی۔ شہیر کی زرا سی بے اعتناہی سے اس کی جان آدھی ہو چکی تھی۔ شہیر کے ہاتھ سے چاکلیٹ لی۔ لیکن اسے کھول کے کھایا نہیں۔ بس یونہی سڑک پے دیکھے جا رہی تھی۔ جو بالکل ہی سنسان تھی۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد کوٸ گاڑی وہاں آکے گزرتی۔۔۔ تو ایک شور سا
اب کیسی ہے طبعیت۔۔۔؟؟ کیسا محسوس کر رہی ہو۔۔؟؟ شہیر نے اسے خاموش پایا تو خود ہی پوچھ بیٹھا۔ ٹھیک ہوں۔۔ گہرا سانس بھرا۔ چاکلیٹ کھانے کو دی ہے۔۔۔۔ شہیر نے ٹوکا۔ انابیہ اس چاکلیٹ کو دیکھتی سوچ میں پڑگٸ۔ اسے سنبھال کے رلھنا چاہتی ہوں۔ کیا پتہ۔۔۔؟؟ دوبارہ۔۔۔ پھر کبھی۔۔ ؟ انابیہ کی بات ادھوری رہ گٸ۔ شہیر نے اسے کھینچ کے خود کے قریب کیا۔ کیوں سوچ رہی ہو۔۔؟؟ ایسا۔۔؟؟ شہیر کی نرم آواز پے انابیہ نے دھڑکتے دل سے اسے دیکھا جو بے اختیار ہی اسے ہی دیکھے جا رہا تھا۔ آپ۔ ۔ناراض ہیں ناں۔۔؟؟ انابیہ نے آنکھیں پھیلاۓ پوچھا۔ محبت میں ناراض نہیں ہوتے۔۔۔! خفا ہو جاتے ہیں۔ اور میری وفا میری خفا پے بھاری ہے۔ اس کے الفاظ نے انابیہ کے دل پے پھوار بن کے برسے تھے۔ ایک مسکراہٹ تھی۔ جس نے اس کے چہرے پے احاطہ کیا۔
تو آپ نے مجھے معاف کر دیا۔۔۔؟؟ انابیہ نے خوش ہوتے پوچھا۔ معاف نہ کرنے کیکوٸ وجہ ہی نہیں بچتی۔۔۔ مسز۔۔۔! کیونکہ ۔۔ اس بندے کا آپ کےبنا کوٸ گزارا ہی نہیں۔۔ شہیر نے کہتے اسے مزید قریب کیا۔ وہ انابیہ کے چہرے پے مزید اداسی نہیں دیکھ سکتا۔ اس لیےاسے یہ تسلی دلوا ہی دی۔ تا کہ وہ مزید اپنے اوپر ظلم نہ کرے۔
ان شاء اللہ اب کبھییہ پاگل آپ کو کسی چشکایت کا موق نہیں دے گی۔۔۔ پکا وعدہ۔۔ دل سے۔ انابیہ نے ہنس کے کہا تھا۔ شہیر نے اسے گلے سے لگایا اور اس کے ماتھے پے بوسہ دیا۔ مجھے یقین ہے اپنی جان پے۔۔ خود سے بھی زیادہ۔۔! دونوں ہی ایک دوسرے کے سنگ جب واپس لوٹے تو دونوں کے چہرے پے آسودگی تھی۔ ایک دوسرے کی محبت کے رنگ تھے۔ بچے ماں باپ کو ایک دوسرے کے سنگ خوش دیکھ خود بھی مسرور ہوۓ تھے۔ خانمنے ل ہی فل میں ان کو دعا دی تھی۔ ان کے چہرے پے ہمیشہ خوشی کی رمق کی۔۔ گاڑی واپس اپنی منزل کی جانب گامزن ہو چکی تھی۔ جہاں ایک بہت بڑی نیوز ان کا ویٹکر رہی تھی۔ جس کے سنتےہیان کے پیروں تلے سے زمین نکل جانی تھی۔ بیٹا۔۔؟؟ خان کو اطلاع کر دی تھی آنے کی۔۔؟؟ خانم نے اچانک سے پوچھا۔ نہیں۔۔ مام۔۔۔۔! سرپراٸز ہیں۔۔ ان کے لیے۔ شہیر نے مسکراتے ہوۓ جواب دیا۔ جب کہ انابیہ اب چاکلیٹ ریپر سےنکال کھانے لگی ۔ مما۔۔ مجھے بھی کھانی ہے۔۔ اٹس ماٸ فیورٹ۔۔۔۔! معاویہ بات پے انابیہ کا ہاتھ رکا تھا۔ اور شہیر کی طرف دیکھا شہیر مسکرایا تھا۔ اور جیب سے مزید دو چاکلیٹس نکال کے انہیں دیں۔ دونوں بہن بھاٸ خوش ہو گۓ۔ اب کھا بھی لو۔۔! شہیر اسے یونہی بیٹھا دیکھ لقمہ دے گیا۔ پہلے آپ۔۔۔! انابیہ نے چاکلیٹ اس کی جانب بڑھاٸ۔ تو وہ ایک باٸٹ لے گیا۔ خالف توقع انابیہ حیران ہوٸ۔ اسے چاکلیٹ پسند نہ تھیں۔ لیکن پھر بھی وہ اک باٸٹ لے چکا تھا۔ انابیہ نے اسی طرف سے خود بھی باٸٹ لیا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو محبت بھری نظر سے دیکھا۔









ایک طرف انسانی چھتڑے پڑے دکھاٸ دے رہے تھے۔ جیسے کسی انسان کی بوٹی بوٹی ہو گٸ ہو۔ غفار نے اپنے دل پے ہاتھ رکھا۔ کیا واقعی خان۔۔؟؟ انہوں نے آگے بڑھ کے یکھنا چاہا۔ لیکن پولیس نے انہیں روک دیا۔ اور وہاں سے دور کر دیا۔
یا میرے خدا۔۔ رحم کر۔۔۔ ہمارے خان کی حفاظت کر۔۔۔! غفار دل ہی دل میں دعاٸیں کر رہا تھا۔ لیکن وہاں سے ابھی تک کچھ حاصل وصول نہیں ہوا تھا۔ پولیس اپنی سی کارواٸ کر رہے تھے۔ لیکن غفار چپ کر کے نہیں بیٹھ سکتا تھا۔
دوسری طرف خان کے خاص لوگوں تک بھی یہ خبر پہنچ چکی تھی۔ لیکن نہیں پتہ چل سکا تھا تو اب تک یہ نہیں پتہ چل سکا تھا کہ اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔۔؟ سفیہ کو تو وہ خود ہاسپٹل چھوڑ کے آیا تھا۔ اور اس کی حالت ایسی نہ تھی۔۔ کہ وہ کوٸ پلان کرتی۔۔؟؟ یا بم بلاسٹ کرواتی۔۔۔؟؟ یہ خبر غفار تک بھی بہت لیٹ پہنچی۔ ورنہ وہ روک لیتا۔۔ شاید۔۔؟؟ وہ کچھ کر سکتا۔۔۔؟؟ اسے خود پے افسوس ہوا۔ اور وہاں سے نکلا۔۔ اپنی سرچ ٹیمز کو اس نے اس علاقہ میں پھیلا دیا۔ اگر آفتاب شیر خان۔۔ گاڑی سے نکلا ہو گا۔۔؟؟ تو ضرور کہیں نہ کہیں وہ زخمی حلت میں موجود ہوگا۔۔ ؟؟ اس کے لیے وہ کسی بھی طرح کا رسک نہیں لے سکتا تھا۔ سب قابلِ بھروسہ لوگوں کو ساتھ شامل کرتے وہ اس وقت فارم میں آ چکا تھا۔













جیسے ہی ان کی گاڑی خان منشن میں داخل ہوٸ گیٹ پے چوکیدار نے دروازہ کھولا تھا۔ اور شہیر کو دیکھ خوش ہوا تھا۔
وہ ان سے ملتےاب اندر بڑھ گیا تھا سب ہی اندر کی جانب بڑھے۔ جہاں تبسم بیگم بچوں کو لیے بیٹھی رو رہی تھیں۔ بچے بھی ان کے ساتھ چپکے رو رہے تھے۔ خانم بیگم کا دل دھڑکا تھا۔ تبسم۔۔؟؟ کیوں رو رہی ہو۔۔؟؟ کیا ہوا۔۔؟؟ وہ بھاگیں تھیں ان کی طرف۔ دونوں ہی ایک دوسرے کے گلے لگیں تھیں۔ بھابھی۔۔۔! میرا بچہ۔۔۔ میرا خان۔۔؟؟ تبسم۔بیگم بلک بلک کے رو دیں۔ اس وقت انہیں کسی اپنے کے کاندھے کی ہی ضرورت تھی۔
خانمنے پلٹ کے حیرت سے دیکھتے شہیر خان کو دیکھا ۔ کیا۔۔۔ کیا ہوا۔؟؟ خان کو۔۔؟؟ انہوں نے دہلتے دل سے پوچھا۔۔ اس۔۔ اس کی۔۔ گاڑی۔۔؟؟ وہ بول نہیں پا رہی تھیں۔ شہیر نے انابیہ کو اشارہ کیا۔ کہ وسب بچو ںکو یہاں سے لےجاۓ۔ انبیہ پریشن ہوتی اپنے اور خان کے بچوں کو وہاں سے لیے اندر بڑھ گٸ۔
اب بتاٶ۔۔ کیا ہوا۔۔؟ شہیر بھی ان کے پاس ہی بیٹھا تھا۔ تبسم بیگم نے روتےہوۓ انہیں ایکسیڈینٹ کےببارے میں بتا دیا۔ شہیر تو ایک دم ہی گنگ ہوا۔ ایسا کیسے ممکن ہے۔۔؟ کہاں ہوا ایکسیڈینٹ۔۔؟؟ پلیز۔۔ بتاٸیں۔ مجھے۔۔؟؟ شہیر نے تڑپ کے پوچھا تھا۔ غفار۔۔ غفار کو پوچھنا! تبسم بیگم نے موباٸل اٹھاتے کہا ۔ شہیر نے مابوٸل سے غفار کا نمبر لیا۔ اور اسے کال ملاتا گھر سے نکلا تھا۔ خانم نے تبسم بیگم کو تسلی دی تھی۔ فکر نہیں کرو۔ سب ٹھیک ہوگا۔۔ کچھ نہیں ہو گا خان کو۔۔ میرا دل کہتا ہے۔۔۔! خان اور کنول دونوں اللہ کی حفظ و امان میں ہوں گے۔ خانم نے تبسم بیگم کو گلے سے لگایا۔ جن کی تسلی بالکل نہیں ہو رہی تھی۔ ان کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔
نہیں لگ رہا تھا۔ سب کچھ ان کے ہاتھ سے پھسلتا چلا جا رہا ہے۔۔ وہ دھمکیاں۔۔ وہ سب کچھ۔۔ جو وہ اتنے دنوں سے سن رہی تھیں۔ سہہ رہی تھیں۔ اکیلے ہی۔۔ وہ سب آج سچ ہو رہا تھا۔ وہ شخص ۔۔۔جو اس نے کہا۔۔۔ سچ کر دکھایا۔۔۔؟؟ وہ بری طرح پھوٹ پھوٹ کے رو دیں۔ ان کا دل بس ایک ہی بات کہہ رہا تھا۔ کہ ان کے بیٹے کو اس ظلم شخص نے چھین لیا۔
جاری ہے۔۔
