Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan NovelR50506 Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 40,41)
Rate this Novel
Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 40,41)
Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan
انہیں کتنا وقت ہو چکا تھا۔۔ وہاں بے ہوش ہوۓ ۔۔دونوں وجود ہی نہیں جانتے تھے۔ لیکن۔۔ ابھی تک دونوں ہی ہوش و حواس میں نہیں تھے۔ زخموں سے چور۔۔۔ بے حس و حرکت پڑے وہ کوٸ اور نہیں۔۔ آفتاب شیر خان اور کنول ہی تھے۔
فلیش بیک
بیٹا۔۔۔! بس تھوڑی دیر میں ہم پہنچ جاٸیں گے۔ آپ کھانا کھا کے سوجاٸیں۔۔ میری جان۔۔۔! کنول کے الفاظ ابھی منہ میں تھے۔ کہ گاڑی بری طرح لڑکھڑاٸ۔ آفتاب کی چھٹی حس بیدار ہوٸ۔ اسے گاڑی میں کچھ گڑبڑ محسوس ہوٸ۔ وہ گڑبڑ کیا تھی وہ سمجھ نہیں پایا۔ لیکن سیکیورٹی کی سب گاڑیاں وہاں سے غاٸب تھیں۔ وہیں۔۔ آفتاب سب سمجھ گیا تھا۔
کنول۔۔۔ گاڑی سے اترو۔۔۔! آفتاب نے بریک لگانی چاہی۔ ۔لیکن۔۔ وہ بھی نہ لگی۔
کنول مے حیرت سے اسے پریشان نظروں سے دیکھا۔
ساتھ ہی ایک ہاتھ سے اسٹیرنگ سنبھالے اس نے کنول کی طرف والا دروازہ کھولتے اسے باہر کی طرف دھکا دیا۔ کنول بیلنس برقرار نہ رکھ پاٸ۔ اور موباٸل ہاتھ سے چھوٹا تھا۔ خود وہ لڑھکتی ہوٸ دور جا گری۔ اسی لمحے گاڑی بھی ان بیلنس ہوٸ۔ اور ایک بلاسٹ ہوا تھا۔
زخموں سے چور کنول نے صرف سر اٹھا کے دیکھا تھا۔
خاااااااننننننن۔۔۔۔ اس کے دل کے جیسے ہزاروں ٹکڑے ہوۓ تھے۔
اسی پل اس کا سر چکرایا۔ اور وہ وہیں سر گرا گٸ۔
دوسری طرف آفتاب شیر خن نےبھی گاڑی میں بم بلاسٹ ہونے سے پہلے گاڑی سے جمپ لگا دیا ۔ جیسے ہی وہ گاڑی سے کودا۔ گاڑی ایک زور دار بم بلاسٹ سے اڑی تھی۔ وہیں چوٹیں کھاۓ آفتاب نے اپنیگاڑی کی چھتڑے اڑتے دیکھے تھے۔
اس کے ماتےسے خون رس رہا تھا۔ چوٹوں کی وجہ سے وہ بمشکل کھڑا ہو پایا تھا۔
دھوٸیں کے بادل آسمان تک اڑتے دیکھاٸ دے رہے تھے۔
کنول۔۔۔؟؟ اچانک سے اسے کنول کی فکر ہوٸ۔ وہ اردگرد نظریں دوڑاۓ اسے ڈھونڈے لگا۔
کنول۔۔۔؟؟ وہ چلایا۔ دوسری طرف رخ کیا۔ اسے سمجھ نہیں آٸ۔ کہ وہ کسطرف گری تھی۔ سب جچھ انً فانناً ہوا تھا۔ کہ اسے کچھ یاد نہیں تھا۔
وہ خود بھی لڑھکتا ہوا۔۔ کافی دور جا گرا تھا۔ وہ واپس پلٹا۔
کنول۔۔۔؟؟ وہ اپنے زخم دیکھتا۔۔ لڑکھڑاتا آگے بڑھا تھا۔ کہ اتنے میں چار پانچ گاڑیوں کی وہاں آمد ہوٸ۔
آفتاب کے قدم وہیں تھمے تھے۔ جو کوٸ بھی تھا۔۔ وہ دوست نہیں ہو سکتا تھا۔ ایک درخت کی اوٹ میں وہ چھپا تھا۔ اور آنےوالوں کو دیکھنے لگا۔
کہاں ہیں۔۔وہ۔۔؟؟ تم نے تو کہا تھا۔۔ کہ وہ بچ گۓ ہیں۔۔ کدھر ہیں وہ۔۔؟؟
ایک آدمی غصہ سے چلایا۔
سرکار۔۔ میں نے خود انہیں گاڑی سے چھلانگ لگاتے دیکھا تھا۔ وہ شخص اپنی بات پے قاٸم تھا۔
ڈھونڈو انہیں۔۔ کدھر ہیں وہ۔۔۔؟؟
مجھے وہ ہر حال میں چاہیے۔۔۔ زندہ یا مردہ۔۔۔ ! جاوید خان کو آفتاب شیر خان ہر حال میں چاہیے۔ سنا تم نے۔۔۔! پھیل جاٶ۔۔ سب۔۔! اس سے پہلے کہ پولیس یہاں پہنچے۔۔؟؟ یا آفتاب شیر خان کے آدمی۔۔ یہاں تک پہنچ جاٸیں۔۔ انہیں ڈھونڈ نکالو۔۔۔ اور جلد از جلد یہ کام ہونا چاہیے۔
جاوید خان۔۔؟ آفتاب نے زیرِلب دہرایا۔ جاوید خان کو وہ اچھے سےجانتا تھا۔ لیکن۔۔ اس سے کھی ملاقات کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ وہ انتہاٸ سفاک اور بے حس انسان تھا۔ اس کے لیے دھن دولت ہی سب کچھ تھا۔ اس کے لیے انسان اور انسانی رشتے کوٸ معنی نہیں رکھتے تھے۔
آفتاب نے انہیں پھیلتے دیکھا۔ تو کنول کی فکر ستاٸ۔ اور آگے بڑھا۔ اگر کنول ان کے ہاتھ لگ جاتی۔۔ تو آفتاب شیر خان۔۔ بنا مقابلہ ہار جاتا۔ دل سے اس نے اپنے رب سے دعا کی تھی۔ کہ اسے کنول مل جاۓ۔ وہ اللہ کا نام لیے چھپتے چھپاتے آگے بڑھ رہا تھا۔ جاوید خان کے آدمی بھی ہر طرف پھیلے ہوۓ تھے۔ اس اندھیرے کی وجہ سے وہ کافی حد تک خود کو بچاتا آگے بڑھ چکا تھا۔
سرکار۔۔۔۔! یہاں آٸیں۔۔ ادھر۔۔ یہ لڑکی۔۔۔ ہے۔۔ ! کسی شخص کی آواز پے آفتاب کے کان کھڑے ہوۓ۔ وہ کنول ہی ہو گی۔۔۔! ا سکا دل دھڑکا تھا۔
یہ تو بے ہوش ہے۔۔۔!دوسرے شخق کی آواز سنتا وہ لب بھیچنے وہیں چھپ کے کھڑا تھا۔
وہاں اس وقت چار لوگ تھے۔
سب کے ہاتھ میں گنز تھیں۔ آفتب شیر خان زخمی حالت میں تھا۔ اور بنا کسی ہتھیار کے۔ اسے جو بھی کرنا تھا جلد از جلد کرنا تھا۔
یہ لڑکی۔۔۔ اس آفتب خان کی بیوی ہے۔۔ یہ ہمارے ہاتھ لگی۔۔ سمجھو آفتاب شیر خان کی طاقت ہمارے ہاتھ آگٸ ۔۔۔ وہ خود آۓ گا۔۔ ایک شخص قہقہہ لگا کے ہنسا تھا۔ اس سے پہلے کے وہ کنول کے بےہوش وجود کو چھوتے قریب سے ہی انہیں ایسا محسوس ہوا۔ کہ تیز ہواٶں کے جھونکے چلے ہوں۔ ہواٶں نے رخ بدلا ہو۔۔۔ وہ سب مڑے تھے۔ ان کے پیچھے ہی آفتاب شیر خان کھڑا شیر کی طرح غرا رہا تھا۔ ایک پل کو وہ سب سپمے تھے۔ آفتاب شیر خان کو کون نہیں جانتا تھا۔ اس کے قہر سے تو سبھی جانتے تھے۔
شیر کی طرح ۔۔۔ وہ دشمن پے جھپٹتا تھا۔ اور چیر پھاڑ کے رکھ دیتا تھا۔ اس وقت آفتاب شیر خان زخمی تھا۔ وہ تھوڑا نڈر ہوۓ۔ لیکن وہیہ نہیں جانتے تھے کہ زخمی شیر زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔
آفتب شیر خان۔۔ خود کو ہمارے حوالے کر دو۔۔ ورنہ تمہاری بیوی۔۔۔۔؟؟
ابھی ان کی بات پوری نہیں ہوٸ تھی۔ کہ آفتاب نے ایک قہر کی نظر ان پے ڈالی۔
میری بیوی کو ہاتھ لگا کے دکھاٶ۔۔ ؟؟ یہیں زنہ زمین میں گاڑھ دوں گا۔
ایک ایک لفظ پے زور دے کے کہتا وہ سب کو ٹٹھرانے پے مجبور کر گیا۔
فضول باتیں کیا کر رہا اہے چلا گولی۔ کام ختم کر۔۔۔! دوسرے شخص نے ڈرتے ہوۓ کہا۔ جب کہ اس کے اپنے ہاتھ میں بھی گن تھی لیکن اس میں ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ کہ وہ فاٸر کرتا۔ ساتھ والے شخص نے جلدی سے گردن ہاں میں ہلاٸ اور ایک فاٸر کیا۔ جسے بلکھاتے آفتاب نے جھکاٶ کرتے خود کو بچایا
فاٸر کی آواز پے باقی لوگ بھی جو اردگرد پھیلے ہوۓ تھے۔ وہ بھی چوکنا ہوۓ۔
کہاں سے آواز آٸ ہے۔۔؟؟ ایک دوسرے سے پوچھتے وہ اس طرف بڑھے جہاں سے آواز آٸ تھی۔
آفتاب اکیلا نہتا ان چاروں پے بھاری پڑ چکا تھا۔
اور ایک کے بعد ایک کو وہ گرا چکا تھا۔ سبھی بے حال ہوتے گرے تھے۔
پہنچنے والے ابھی راستے میں تھا کہ انہیں چار فاٸر کی آواز مزید آٸ۔
تیز چلو۔! ایک شخص چلایا تھا۔ اور جب وہ وہاں پہنچے۔ تو انہیں اپنے ہی آدمی زمین پے گرے ہوۓ ملے ۔ سبھی دم توڑ چکے تھے۔
سب کے سب نکمے ہیں۔۔ ڈھونڈو۔۔ انہیں۔۔ ورنہ ہم سب کو چن چن کے مار ڈالے گا۔۔ ان کا لیڈر ہڑبڑی میں بولتا ان سب کو سناتا پھر سے پھیلنے کا حکم دے چکا تھا۔ دوسری طرف آفتاب کنول کے بے ہوش ہوۓ وجود کو اٹھاتا وہاں سے نکل کے نجانے کس راستے کی طرف بڑھ چکا تھا۔وہ خود بھی نہیں جانتا تھا۔ لیکن اسے اپنی بیوی کو بچانا تھا۔ اس کی جان اس کی عزت۔۔ اس کی طاقت اس کی کمزروری۔ اس کا سب کچھ تھی وہ۔۔
پانی کےجھرنے کی آواز سنتا وہ اس طرف لپکا تھا۔ اور وہیں ایک طرف چھپ کے بیٹھتا وہ کنول کو بھی نیچے لٹاتا خود سیدھا ہوا ۔
کنول۔۔؟؟ کنول۔۔؟؟ آفتاب نے دھیرے سےاسے پکارا اس کا گال تھپکا۔ لیکن وہ بے سدھ ہی پڑی رہی۔
آفتاب نے پاس سے ہی جھرنے کے پانی سے کنول کے منہ پے چھینٹے مارے لیکن وہ ہوش میں پھر بھی نہ آٸ۔ اس کی نبض کی رفتار چیک ک اس کے دل کی دھڑکن کو چیک کیا۔ اور مزید پانی گرایا۔ لیکن وہ پھ بھی بے سدھ ہی رہی۔
ڈیم۔۔۔! کنول۔۔ پلیز۔۔ ویک اپ۔۔۔۔! آفتاب دبا دبا چلایا۔ آفتاب کو قریب ہی قدموں کی چاپ سناٸ دی۔ اس وقت وہ خود بھی بری طرح نڈھال ہوا ہوا تھا۔ لیکن ہمت نہیں ہار رہا تھا۔ ! کنول کو ایک بار پھر بانہوں میں بھرے وہ وہاں سے اٹھا تھا۔ اور قدرے دور ایک جھاڑی کے نیچے جا بیٹھا۔ اور خود بھی زرا کو زرا سانس لیتا وہ اب تک کے حالات کا سوچتے آگے کی پلاننگ کرنے لگا۔
جاوید خان۔۔۔ تم۔نے یہ اچھا نہیں کیا۔۔۔! وہحال کروں گا تمہارا۔۔ کہ تم موت مانگو گے لیکن۔۔ موت تمہیں نصیب نہیں ہوگی۔ یہ وعدہ ہے میرا تم سے۔
آفتاب خان کا سر چکرایا تھا وہ بھی بہت بری طرح اس کے حواس سلب ہو رہے تھے۔ اسے پانی چاہیے تھا۔ وہ بمشکل اٹھا تھا۔ کھڑا ہوا۔ لیکن لڑکھڑاتا وہیں کنول کے پاس گرا تھا۔ آفتاب کی نظروں کے سامنے کنول کا چہرہ تھا۔
وہ خود کو اور کنول کو اسوقت ایک محفوظ مقام پے کر چکا تا۔ لیکن کب تک۔۔؟؟ وہ یہ ننہیں جانتا تھا۔ لیکن اس کے آدمی ۔۔ جلد یا بدیر اس تک پہنچ جاٸیں گے۔ یہ بات وہ اچھے سے جانتا تھا۔ تب تک اسے کنول کو محفوظ رکھنا تھا۔ ہر حال میں۔۔ ! دشمن سے بچا کے۔۔ ایک بار وہ کنول کو مکمل طور پے محفوظ کر لے۔ اس کے بعد وہ ان کے آمنے سامنے آتے بات کرے گا۔
اوپر کالے آسمان کو دیکھتا اس کا دماغ اب سونے لگا تھا۔ اس کے اعصاب شل ہو رہے تھے۔ وہ ابھی کچھ بھی نہیں سوچنا چاہ رہا تھا۔ اس وقت اسے دماغ کو اپنے اعصاب کو ریلکیس کرنا تھا۔ کنول کا سر اس نے اپنے سینے پے دھرا اسے خود میں بھینچتا وہخود کو اور اپنیجان کو رب کے حوالے کرتا آنکھیں موندتا چلا گیا۔
جب کہ ان کے دشمن گھات لگاۓ جگہ جگہ انہیں ڈھونڈ رہے تھے ان کے پاس سے ہوتے وہ آگے بڑھ گۓ تھے۔ لیکن اللہ نے ان کی آنکھوں پے مہر لگا دی تھی۔ کہ وہ کچھ دیکھ ہی نہ پاۓ۔ اللہ نے ان کی حفاظت کی تھی۔ انہوں نے اللہ کے حوالے کیا تھا خود کو۔۔ تو اللہ کیسے نہ ان کی حفاظت کرتا۔۔؟
جاری ہے۔
ہر طرف دیکھ لیا۔۔ لیکن۔۔ نہیں ملا۔۔ آفتاب شیر خان۔۔! جاوید خان نے دانت کچکچاۓ۔
اسی لیے آپ کو کہا تھا۔ کہ ایک بار میں ہی کام کردیں۔ لیکن۔۔ آپ نے میری سنی ہی نہیں۔۔۔! اب بھگتیں۔۔ اور یاد رکھیں۔۔ اگر وہ بچ گیا ناں۔۔ تو۔ ۔ہم تو پھسیں گے ہیں۔۔ بچیں گے آپ بھی نہیں۔۔
سامے کھڑے نسوانی وجود نے تلخ انداز میں کہتے ان کو چونکنے پے مجبور کر دیا۔ وہ جا چکی تھی لیکن جاوید خان کے لیے کٸ ایک سوال چھوڑ گٸ تھی۔اس سے پہلے ہی جاوید خان ایسی چال چلے گا۔۔ کہ تم سب اس کی لیٹ میں آجاٶ۔۔ گے۔۔۔!نہ تم رہوگی۔ نہ آفتاب شیر خان۔۔۔! اور نہ اس کا نام و نشان ۔
جاوید خان کے لہجے میں سانپ سی پھنکار تھی۔








جو بھی ہو غفار۔۔۔! آفتاب خان وہیں ہیں۔۔! شہیررات بھر سے اس سارے سلسلے ک دیکھ رہا تھا۔ صبح صادق کا وقت ہو چلا تھا۔ لیکن ابھی تک ۔۔آفتاب شیر خن اور کنول کا کچھ پتہ نہ چلا تھا۔
لیکن۔۔ ہمارے آدمیوں نے ہر جگہ دیکھ لیا۔۔ کہیں بھی کوٸ سراغ نہیں۔۔ ملا۔۔۔! غفار گہری سوچ میں ڈوبا تھا۔
لیکن۔۔ اس سے پہلے کہ۔۔ جاوید خان کے ہاتھ لگے۔۔۔؟؟ ہمیں ان تک پہنچنا ہوگا۔۔ ہر حال میں۔۔ ایک بار خان ٹتھ لگ جاٸیں۔۔ پھر اس کے پیچھے جو جو بھی ہوں گے۔۔۔ ان سب کو موت کے گھاٹ اتاروں گا۔۔ شہیر غضبناک آواز میں بولا تو غفار سر اثبت میں ہلاتا باہر نکلا۔
وہ کیا بتاتا ۔ شہیر کو ۔۔۔خن کو لوٹنے والے کوٸ غیر نہیں۔۔ اس کے اپنے ہی ہیں۔۔ جن سے وہ بہت پیار کرتا ہے۔۔ اور شاید۔۔ خان کو پہ چلے۔۔ ساری حقیقت تو۔۔ وہ خود بھی اس کو معاف کر دیں۔۔










سورج کی پہلی کرن چہرے پے پڑنے سے آفتاب کی آنکھ کھلی تھی۔ ہلکی سی آنکھیں وا کیں تھیں۔ اور پھر اپنی آنکھوں کے آگے ہاتھ رکھتے دروشنی سے بچنا چاہا۔ لیکن۔۔ ایک دم سے دماغ جاگا تھا۔ کنول۔۔۔؟؟ دل بے اختیار دھڑکا۔ تو اپنے اردگرد نظریں دوڑاٸیں۔
اپنے پاس ہی وہ اپنے بازو پے دھرے اس کا سر دیکھتا ایک سکون کی گہری سانس خارج کر گیا۔ پر دھیرے سے اٹھتا وہ بیٹھا تھا۔ اپنے اردگرد نظریں دوڑاٸیں۔ دور دور تک کوٸ زی روح نہ تھی۔ کنول کا سر اپنے ہاتھ میں تھامے گود میں رکھا۔ اور پھر اسے کھینچ کے اپنے سینے سے لگتا اس کے چہرے کو اپنے قریب تر کر گیا۔ کنول ابھی تک ہوش میں نہیں آٸ تھی۔
کنول۔۔۔؟؟ میری جان۔۔؟؟ پلیز۔۔ اوپن یور آٸیز۔۔۔! دھیرے دھیرے وہ اس کے چہرے پے جھکے اسے اٹھانے کے لیے گھمبیر لہجے میں بولا تھا۔ لیکن وہ گردن لڑھکاۓ ہوش و حواس کھوۓ ہوۓ تھی۔
کنول۔۔۔؟؟ وہ آنکھیں بند کیے اس کے لبوں کے قریب ہوتا درد سے اسے پکار اٹھا۔ لیکن کنول کے وجد میں ہلکی سی جنبش بھی محسوس نہ کرتا وہ اس کے لبوں پے شدت سے جھکا تھا۔ اب کی بار اس کی سانسیں ہی بند کرنے کے در پے ہوا۔ کہ کنول کے ہاتھ پیر میں جیسے جان نکلنے والی ہوٸ وہ تڑپی تھی۔ اپنی سانسوں کے اکھڑنے سے۔ اور جھٹ سے آنکھیں وا کرتی آفتاب خان کو پیچھے دھکیلا ۔ آفتاب خود بھی پیچھے ہٹا تھا۔
کنول گہری سانسیں لیتی اپنا سانس بحال کرتی خفگی سے آفتاب کو دیکھا۔ اور اس کی شرٹ کو مضبوطی سے تھامے نظریں پھیریں۔
پھر اچانک سے دماغ میں سپارک ہوا۔
ہم۔۔۔ ہم۔۔ کہاں ہیں۔۔ خان۔۔؟؟ وہ ناسمجھی سے ادھر ادھر دیکھتے واپس نظریں آفتاب شیر خان پے موڑ گٸ ۔
پکنک ۔۔۔ پے۔۔۔! آفتاب نے طنزاً کہا۔
سچ میں۔۔؟؟ کنول نے دماغ پے زور دیا۔ کیا واقعی وہ پکنک ماننے آۓ تھے۔۔؟؟ آفتاب نے سر نفی میں ہلایا۔ اور اٹھ کھڑا ہوا۔ اور کونل کی جانب ہاتھ بڑھایا۔ کنول نے اس کے بڑھے ہوۓ ہاتھ کو آسودگی سے تھام لیا۔
کنول۔۔۔ میں نہیں۔۔جانتا ۔۔ ہمارے پاس اور کتنی سانسیں ہیں۔۔ لیکن۔۔۔ یں چاہتا ہوں۔۔ ہمارا ساتھ ہمیشہ رہے۔۔ آخری سانس تک۔
نجانے آفتاب اسے کیا کہنا چاہ رہا تھا۔۔؟؟ لیکن کنول نے اس کا ہاتھ مزید مضبوطی سے تھاما۔
کنول آخری سانس تک آپ کے ساتھ ہے۔ خان۔۔۔! اس کے سینے پے سر ٹکایا۔
پھر یہ بھی جانتی ہوں۔۔ گیں۔۔ کل کیا ہوا تھأ؟ آفتاب نے سنجیدگی سے پوچھا۔
کنول نے یاد کرنے کی کوشش کی۔ تو اسے کل کا گزرا واقعہ سب یاد آنے لگا۔ اس کے چہرے پے فکر کی لکیرں نمودار ہوٸیں۔ آفتاب کو مزید مضبووطی سے پکڑا۔
ہم۔۔۔ ہم۔۔ کہاں ہیں خان۔۔؟ اور ہمارے بچے۔۔۔؟؟ وہ تو ٹھیک ہی ناں۔۔؟؟ اس کے دماغ میں اپنے بچوں کو لے کے فکر جاگی۔
اللہ نے چاہا تو وہ بالکل ٹھیک ہوں گے۔۔ گھر میں سیو ہیں۔۔ وہ۔۔۔! خان نے دل سے کہا۔
شکر ہے۔۔ کل وہ ہمارے ساتھ نہیں تھے۔۔۔! کنول نے گہرا سانس خارج کرتے کہا۔
چلو۔۔۔ یہاں سے نکلنتے ہیں۔۔ ! خان نے اس کا ہاتھ تھاما اور وہاں سے قدم ان بڑی بڑی جھاڑیںوں سے باہر کی جانب بڑھاۓ ۔ جہاں کھلا میدان تھا۔ اور کہیں سے بھی دشمن گھاات لگاۓ بیٹھا ہو سکتا تھا۔
خان نے کنول کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما۔ اور اندازے سے آگے بڑھتا چلا گیا۔
کہیں بی کسی کی بھی موجودگی کا احساس نہیں ہوا تھا۔ شاید۔۔ سب جا چکے ہو۔۔؟؟ یا۔۔؟؟ پھر کوٸ۔۔ سازش پھر سے۔۔؟؟ خقن سوچتے ہوۓ آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ کہ اسے قریب ہی قدموں کی چاپ سناٸ دی۔ وہ وہیں رکا۔ اور کنول و پ رہنے کا اشارہ کیا۔ ساری توجہ آنکھیں بند کرتے آنے والے کے قدموں پے ٹکاٸیں۔ وہ کتنے لوگ ہو سکتے تھے۔ اندازہ کر رہا تھا۔ یکدم سے آنکھیں کھولتا وہ کنول کو لیے اک درخت کی اوٹ میں ہوا۔ آفتب شیر خان جنتا تھا وہ تین کے قریب آدمی تھی۔ لیک اسلحے سمیت۔
گن تو خا کے پاس بھی تھی۔ کل جن کو مارا تھا۔ انسے وہ گنز لے کے اپنے رکھ چکا تا
ھا۔ اور اب۔۔ اس گن کے استعمال کا وقت آن پہنچا تھا۔ کنول۔۔۔کچھ بھی ہو جاۓ ۔۔ باہر مت نکلنا۔۔۔!گن لوڈ کرتا وہ کنول سے مخاطب ہوا۔
آپ۔۔۔؟؟ مت جاٸیں۔۔ کنول گھبراٸ تھی۔۔
ادھر دیکھو میری طرف۔۔۔! جانا ۔۔ہے۔۔ ناں۔۔ بچوں کے پاس۔۔؟؟ تو۔۔ حوصلہ رکھنا ہوگا۔۔۔! ہمارے بچوں کو ضرورت ہے ہماری۔ اس کا چہرہ ہاتھو ںمیں تھامے وہ اس سے جذب کے عالم میں مخاطب ہوا۔ کنول اسے دیکھتے بہت بری طرح گھبرا رہی تھی۔ اس کا دل انجانے خوف میں گھر گیا تھا۔
اتنے میں وہ آدمی وہاں پہنچ چکے تھے۔ خان ایک لمحے کی دیری بھی کیے بنا۔۔ ایک طرف ہوتا ۔۔ ان پے یکے بعد دیگرے فاٸر کھول چکا چکا تھا۔
وہ ایک دم سے بوکھلاۓ تھے۔ کی کہاں سے گولیاں چلیں انہیں سمجھ نہ لگی۔ انہوں نے بھی جوابی کارواٸ کی۔ لیکن۔۔ خن خود کو بچا گیا۔ ان میں سے دو گولی کھاتے گر چکے تھےاب ایک بچا تھا۔ اور خان کی گن میں بھی ایک ہی گولی بچی تھی۔ مططلب غلطی کی کوٸ گنجاٸش باقی نہ رہی تھی۔
وہ شخص خود کو بچاتا ایک طرف چھپا تھا۔ کہ اس کی نظر کنول پے جا ٹھہری۔ اس کی آنکھیں چمکیں تھیں۔
جھٹ سے کنول کے پیچھے جاتے اسے قابو کیا۔ کنول کی چینخ نکل گٸ۔ آفتب خان کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔
درخت کی اوٹ سے چھپتا وہ کنول کو اس کی حراست میں دیکھ چکا تھا۔ مٹھیاں بھینچتا وہ اپنی گن کو دیکھنے لگا۔
خان۔۔
! اگر اپنی بیوی کی خیر چاہتے ہو تو۔۔ خود کو ہمارے حوالے کر دو۔۔ ورنہ۔۔ تمہاری بیوی جن سے جاۓ گی۔ اس آدمی نے اونچی آواز میں للکارا۔ جب کہ اس کی گن کی نال کنول کی شہ رگ پے تھی۔ کنول کا دل اتنا زور کا دھڑک رہا تھا۔ کہ اسے لگا ابھی باہر آجاۓ گا۔
میں تین تک گنوں گا۔ خان۔۔؟؟ اس کے بعد۔۔۔۔؟؟ وہ آدمی ابھی اتنا ہی بولا تھا۔ کہ خان سختی سے آنکھیں میچ کے کھولتا یکدم سامنے آیا۔
ایک پل کو خان کو سامنے دیکھ وہ آدمی کانپا تھا۔ آفتاب شیر خان کی دہشت کو کون نہیں جانتا تھا۔ لیکن اس وقت وہ ہمت کیے کھڑا رہا۔ کیونکہ آفتاب شیر خان کی جان اس کی بیوی میں تھی۔ جو اس آدمی کے قبضے میں تھی۔
کوٸ چالاکی مت کرنا۔۔ خان۔۔۔۔۔! ورنہ۔۔ گولی۔۔ تمہاری بیوی کے۔۔۔ اندر گھسا دوں گا۔ وہ آدمی ڈرتے ڈرتے بولا تھا۔
جب کہ خان بنا ڈرے اس کی طرف گن تانے بڑھا تھا۔ وہ ڈر کے مارے پیچھے ہوا۔ کنول کو بھی دھا لگا تھا پیچھے کی طرف۔ جب کہ کنول کی نظریں سامنے کھڑے آفتاب پے ہی ٹکیں تھیں۔
خان۔۔۔!دور رہو۔۔؟؟ ورنہ۔۔گولی چل جاۓ گی۔۔۔ ! وہ گھبراۓ ہوۓ بولا تھا۔
چلاٶ۔۔ گولی۔۔۔! خان نے بنا پلک جھپکے اسے کہا۔ تو ایک پل کو کنول ششدر رہ گٸ۔ جب کہ دوسری جانب وہ آدمی سخت گھبرایا تھا۔
دیکھو۔۔۔ میں سچ کہہ رہا ہوں۔۔ گولی۔۔۔ چل جاۓ۔۔ گی۔۔ وہ ہکلایا تھا۔
تو چلاٶ۔۔ ناں۔۔۔! خان زور سے دھاڑا تھا۔ کہ کنول بھی سہم گٸ تھی۔
تم۔۔۔ گولی نہیں چلا سکتے ۔۔ کیونکہ تم جانتے ہو۔ گولی چلانے کے بعد۔۔ تمہارا کیا ہوگا۔۔؟؟ خان ۔۔ تمہارا کیا حال کرے گا۔۔ تم سوچنا بھی نہیں چاہو گے۔۔۔۔! کہتے ہوۓ وہ اس کے قریب پہنچ گیا۔ لیکن وہ گولی نہ چلا سکا۔۔۔ اور تھر تھر کانپ رہا تھا۔
مجھے۔۔۔ مجھے چھوڑ دو۔۔ خان۔۔۔!وہ پیچھے کو ہٹا تھا۔ کنول کے اوپر سے اس نے ہاتھ ہٹا لیا تھا۔ وہ پیچھے ہوتا سخت گھبرایا تھا۔ لیکن خان نے دم سادھے کھڑی کنول کو سینے سے لگاتے گولی اس شخص کے شہ رگ پے چلاٸ تھی۔
کہ ایک چینخ بلند ہوٸ اور وہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔
کنول کا دل بری طرح سہا تھا۔ اور بے یقینی سے آفتاب خان کو دیکھا۔ اس وقت اس کے چہرے پے قہر تھا۔ ایسا قہر کے سامنے والا اس کے عتاب سے کبھی بچ نہ پاۓ۔
کنول کو بھی اسے فیکھتے خوف سا محسوس ہوا۔
جاری ہے۔
