Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan NovelR50506 Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 12)
Rate this Novel
Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 12)
Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan
باپ بننے کا مطلب یہ نہیں۔ کہ ایک ماں کو اس کی بچی سے دور کر دو۔ لے کے آٶ منہا کو ۔۔ اور ؟؟
منہا۔۔ کہیں نہیں جاۓ گی۔۔ وہ میرے پاس رہے گی۔ میری بیٹی ہے وہ۔۔۔!
سلطان صاحب کی بات کاٹتا وہ تیز لہجے میں بولا تھا۔
شامی بیٹا۔۔۔؟؟ آپ غلط کر رہے ہیں۔ منہا کو کوٸ جان بوجھ کےے تو عابی نے نہیں گرایا۔ جو عابی کو سزا دے رہے ہو۔؟ جمیلہ خاتون نے نرمی سے سمجھایا۔
لیکن۔۔ مما۔۔ اسکی لاپراوہی سے ہوا ہے یہ سب۔۔۔! اپنی ماں کے گھر جاتی ہے تو سب بھول جاتی ہے۔۔ اپنی بچی کو بھی۔۔۔!
ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔۔ کہ ایک ماں جان بوجھ کے اپنی اولاد کو تکلیف پہنچاۓ۔۔۔ اس لیے ختم کرو یہ سب۔۔ اور جاٶ۔ لے کے آٶ۔ اپنی بیوی کو گھر واپس۔۔۔!سلطان صاحب نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
وہ وہیں رہے زیادہ بہتر ہے۔ ایک بار جی بھر کے رہ لے۔۔ ہر وقت اسے یہی گلہ ہوتا۔۔ کہ میں اسے وہاں جانے نہیں دیتا۔۔ اب رہے وہیں۔۔ جب جی بھر جاۓ تو خود ہی آجاۓ واپس۔۔ ! شامی بھی کہتا اندر جانے لگا۔
بیٹا۔۔۔! اسے ایک بار۔۔ منہا کو دیکھا دو۔۔ پھر بے شک۔۔ نہ ملنے دینا۔ اس نے کل سے کچھ نہیں کھایا پیا۔ بس روۓ جا رہی ہے۔ اور ایسی حالت میں اس کا یوں بھوکا رہنا ٹھیک نہیں۔
عابدہ بیگم کی بات پے شامی کے قدم رکے۔ وہیں جمیلہ خاتون اور سلطان صاحب نے حیرت سے عابدہ بیگم کو دیکھا۔
کیا۔۔؟؟ کیا مطلب۔۔؟؟ کیا ہوا۔۔ عابی کو۔۔؟؟ جمیلہ خاتون نے ڈرتے ہوۓ پوچھا۔
کل۔۔۔ جب۔۔ شاہ میر بیٹا۔۔ منہا کو ہاسپٹل سے زبردستی لے گۓ تو۔۔ عابی وہیں بے ہوش ہو گٸ۔
ڈکٹر کو چیک اپپ کروایا۔ تو پتہ چلا۔ وہ امید سے ہے۔۔۔! ساریبات بتاتے وہ شامی کو بہت بڑا دھچکا دے گٸیں۔
جمیلہ خاتون اندر گٸیں۔ اور نہا کو گود میں لیے باہر آٸیں۔
چلیں میرے ساتھ دیکھتی ہوں کیسے روکتے ہیں۔۔ یہ۔۔؟؟ اپنی ماں کو۔۔۔ جمیلہ خاتون عابدہ بیگمکے ساتھ منہا کو لے کے باہر نکل گٸیں۔
بیٹا۔۔۔ بہت افسوس ہوا آج آپ کی حرکت پے۔۔۔ کل اگر ۔۔ عابی کو کچھ ہو جاتا تو۔۔؟؟ ایک اولاد کو بچاتے بچاتے دوسری اولاد جو ابھی اس دنیا میں آٸ ہی نہیں۔۔ اسے کھو دیتے ۔۔؟؟؟
باباا۔۔۔۔؟؟ وہ تڑپا تھا ان کی بات پے۔
سچ کڑوا ہوتا ہے۔ لیکن۔۔ اس بات کو مانو۔۔ دکھ تکلیفیں خوشیاں مسرتیں سب اللہ کی طرف سے ہوتی ہیں۔ لیکن انسان ہی بڑا ناشکرا ہے۔۔ خوشی کے لمحات کو اللہ سے جوڑ دیتا ہے۔۔ اور غم کے لمحات کو انسانوں سے۔۔! عابی کے پاس جاٶ۔۔ بیٹا۔۔! اس وقت اسے سب سے زیادہ آپ کی ضرورت ہے۔ سلچان صاحب نے اسے پیار سے سمجھایا۔ انہیں دیکھتا وہ گہرا سانس خارج کرتا باہر نکلا۔ اب اس کا رخ بھی نواب صاحب کے گھر کی جانب تھا۔









سارا دن آفس میں کام کرتے اور میٹنگز اٹینڈ کرتے گزر گیا۔ نہ اس نے گھر پے فون کر کے بچوں کا پوچھا۔ نہ گھر سے کوٸ فون آیا۔
اور آنا بھی کیوں۔۔؟ وہ متنفر ہوا تھا۔
بچوں کے پاس ماں ہے۔۔ اور ماں تو ایسی ہستی ہے سب بھلا دیتی ہے۔۔۔ گہرا سانس خارج کرتے اس نے سیٹ کے ساتھ ٹیک لگاٸ۔
ڈور اوپن ہوا۔
سر۔۔۔! آج آپ گھر نہیں جاٸیں گے۔۔؟؟ اس کے سیکرٹری جنی نے اندر آتے پوچھا۔
کچھ دیر تک جاٶں گا۔ تم جاٶ۔۔ ! بنا اس کی طرف دیکھے آفتاب نے کہتے آنکھیں بند کر لیں۔ تھیں۔
دعا بھی لگے نہ مجھے۔۔۔
دوا بھی لگے نہ مجھے۔۔
جب سے دل کو میرے تو لگا ہے۔۔
نیند راتوں کی میری ۔۔
چاہت باتوں کی میری۔۔
چین کو بھی میرے تو نے یوں ٹھگا ہے
جب سانسیں بھروں میں۔۔
بند آنکھیں کروں میں نظر تو یار آیا۔
دل کو قرار آیا۔
تجھ پے پیار آیا۔۔
پہلے پہلے بار آیا۔۔
بیتے ماضی نے پھر سے پنکھ پھلاۓ۔ وہ اسے جس قدر عزیز تھی اسی قدر تکلیف دے کے گٸ تھی۔ بے اعتباری کا وہ درد دیا اس نے۔۔ جو وہ آج تک نہیں بھلا پایا تھا۔
وہ ابھی مزید سوچوں میں گھرا رہتا کہ موباٸل پے ہوتی بیپ پے چونکا۔
کال پک کی۔
بابا۔۔۔؟؟ کہں ہیں۔ آپ۔۔؟؟
We are wating for u…
مونس کی چہکتی آواز کانوں سے ٹکراٸ تو اسے ایک خوشگوار احساس جاگا۔ اس کا بیٹا۔۔ اسے نہیں بھولا تھا۔ اس کا بیٹا اس کے لیے سب کچھ تھا۔
بس میری جان۔۔۔آرہا ہوں کچھ دیر میں۔ آفتاب کا بس نہیں چلا رہا تھا۔ اڑ کے بیٹے کے پاس پہنچ جاۓ۔
مجھے بھی دیں گفون میں نے بھی بات کرنی ہے۔۔ ڈیڈ سے۔۔ملکہ کی خوبصورت آواز پے آفتاب خان کا دل دھڑکا۔
ہیلو۔۔ ڈیڈ۔۔ ! آپ کب تک آٸیں گے۔۔ میرے لیے ڈھیر ساری چاکلیٹس لے کے آنا۔۔۔ ! بیٹیوں کی طرح باپ سے فرماٸش کرتی وہ آفتاب خقن کی آنکھوں میں آنسو لے آٸ۔ کب سے ترس رہا تھا۔ وہ اس میٹھی آواز کے لیے۔۔ !
اور آج ملکہ نے جس انداز سے کہا۔ وہ خود کو فنیا کا خوش نصیب باپ سمجھ رہا تھا۔
جو میری جان کا حکم۔۔۔ دل سے اسے کہا۔
بابا۔۔میرے لیے بھی ۔لاٸیۓ گا۔۔۔ پیچھے ے مونس کی آواز سنتا وہ مسکرایا تھا۔
مما۔۔۔ آپ کو کیا چاہیے۔۔؟؟ بتا دیں۔۔ جلدی سے۔۔۔! ملکہ نے پاس بیٹھی کنول کو مخاطب کیا۔ تو اس نے دھڑکتے دل سے اپنے معصوم پلس شرارتی بچوں کو دیکھا۔
دوسری طرف آفتاب بھی دل کو سماعت بنا کے ہمہ تن گوش ہوا۔
مونس نے ملکہ کے بال کھینچے اور باہر بھاگا۔ ملکہ نے فون کنول کا تھمایا۔ اور خود بھی اس کے پیچھے بھاگی۔
اب فون کنول کے ہاتھ میں تھے۔ دونوں ہی خاموش تھے۔ لیکن دونوں کی سانسوں کا ارتعاش ماحول کو عجیب سا سکون بخش رہا تھا۔
اگلے ہی پل یہ فسوں خیزی ٹوٹی تھی۔
آپ پے اعتبار کر کے میں نے زندگی کی سب سے بڑی بھول کی۔۔ مسٹر آفتب شیر خان۔۔ آپ میری محبت کے قابل ہی نہ تھے۔۔
سختی سے فون بند کرتا وہ ایک بار پھر سے اس کے ماضی میں کہے لفظوں کی بازگشت سن رہا تھا۔
تم۔۔۔۔۔ میری محبت کے قابل نہ تھی۔۔ کبھی معاف نہیں کروں گا۔۔ تمہیں۔۔ کبھی نہیں۔
سختی سے ہم کلامی میں کہتا وہ اپنا والٹ اٹھاتا او چیٸر کی پشت سے کوٹ اتارتا باہر کی جانب قدم بڑھا چکا تھا۔
دوسری طرف کنول بس فون کو دیکھے جا رہی تھی۔ جو بند ہو چکا تھا۔
آنکھیں پھر سے نم ہوگٸیں۔
شاید اب۔۔ میں کچھ باقی نہیں۔۔ بچا۔۔۔! خود کو باور کرواتی وہ اپنی جگہ سے اٹھ کے بچوں کے پاس چلی گٸ۔










کاظم۔۔ آپ مجھے اپنے ساتھ لاہور کیوں لے آۓ۔۔ ؟ سارا دن خود گھر پے نہیں ہوتے۔ میں اکیلی پریشان ہوتی رہتی ہوں۔ ہم کراچی کب جاٸیں گے واپس۔۔؟؟ مجھے منس سے ملنے کا بہت دل کر رہا ہے۔! کومل برے برے منہ بناتے بول رہی تھی۔ اور کاظم اس کے واری صدقے ہو رہا تھا۔
بس۔۔ کچھ دن اور۔۔ ٹیسٹ کروانے ہیں۔ میری جان کے۔۔ پھر واپس چلیں گے۔۔
اس کا ماتھا چومتا وہ اسے خود سے لگا گیا۔
وہ اسے اپنے دوست کے پاس ہاسپٹل لایا تھا۔ اس کی آنکھوں کے علاج کے لیے۔
کچھ ٹیسٹوں کے بعد حتمی فیصلہ ہونا تھا۔ کہ کتنا فیصد چانس تھا۔ کومل کی آنکھوں کی روشنی واپس آنے کا۔
آپ مجھے بہنے سےلے کے آٸۓ ہیں ناں۔۔ ؟؟ کومل نے خفگی سے منہ بنایا۔
اگر سچ بتاتا تو آپ کبھی نہ آتیں۔ کاظم اس کی بات پے اس سے مسکرا کے کہتا اٹھا۔
آپ کو پتہ ہے۔۔ اب یں کبھی نہیں دیکھ سکوں گی۔ پھر۔۔ کیوں۔۔؟ آپ ۔۔ خود کو اور مجھے ۔۔تکلیف دیتے ہیں۔۔ ؟ وہ دکھی ہوٸ تھی۔
یہاں ادھر آٶ۔۔۔؟؟ اسے اپنے قریب کرتا وہ اس کے بالوں میں نرمی سے ہاتھ چلانے لگا۔ کہ وہ آنکھیں موند گٸ۔
تم پیداٸشہ ایس نہیں۔۔ جو علاج ممکن نہ ہو۔۔؟؟ آج کل جدید ساٸنس کے دور میں تو کچھ بھی ناممکن نہیں رہا۔۔۔ اور مجھے پورا یقین ہے۔۔ ان شاء اللہ ایک دن تم ضرور دیکھنے لگو گی۔
اس کی آنکھوں کا خالی پن ہمیشہ ہی کاظم کو ایک درد میں مبتلا کرتا تھا۔ او کچھ کمی اولاد کی طرف سے تھی۔ وہ اولاد چاہتی تھی۔ اللہ سے۔۔ لیکن اللہ نے ابھی اس کی آماٸشیں ختم نہیں کیں تھیں۔ وہ پھر بھی اللہ سے شکوہ نہیں کرتی تھی۔
کاظم نے اسے خود سے لگایا۔
کاظم جانتا تھا۔ کوٸ کمی نہیں تھی۔ اولد وہ خو نہیں چاہتا تھا۔ جبتک کومل کی آنکھوں کی روشنی واپس نہیں آجاتی تھی۔ تب تک وہ اسے کسی امتحان میں نہیں ڈلنا چاہتا تھا۔ اور یہ بات کومل نہیں جانتی تھی۔ ورنہ کاظم سے بدظن ہو جاتی۔











جیسے ہی وہ گھر داخل ہوا۔ سامنے ہی سرخ آنچل لہراتا دکھاٸ دیا۔
وہ تو وہیں جم سا گیا۔ وہ نکھری نکھری سی اس کے سامنے بچوں کا ہاتھ تھامے چلی آرہی تھی۔ اس بات سے انجان۔ کہ سامنے ہی وہ آچکا ہے۔ بچوں کی اچانک نظر آفتاب پے پڑی تو کنول کا ہاتھ چھوڑے دونوں باپ کی طرف بھاگے تھے۔ اور باپ سے لپٹ گۓ جیسے برسوں کی بچھڑے ہوں۔ کنول ان کو دیکھتی ایک دھیمی مسکان سجی تھی۔ لبوں پے۔ جسے ایک نظر آفتاب نے دیکھا تھا۔
جاری ہے۔
